16/09/2025
آج کل زیر بحث پاکستان میں 9 سے 14 سال کی بچیوں میں لگنے والی ویکسین مہم کے حوالے سے کچھ حقائق۔
یہ ویکسین ایک وائرس سے بچاؤ کے لئے لگائی جاتی ہے جس کا نام Human Papilloma Virus ہے اور اسے مختصر کرکے HPV بھی کہا جاتا ہے۔
اس وائرس کی تقریباً 200 اقسام ہیں۔ ان میں سے چند اقسام کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔
یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان کو چھونے سے منتقل ہوتا ہے۔ اور یہ کہیں بھی انفیکشن کرسکتا ہے مثلاً جلد، ہاتھ، پاؤں، چہرہ، منہ کا اندرونی حصہ، گلہ، سانس کی نالی، جسم کا زیر ناف حصہ، پاخانے کی جگہ (اندرونی اور بیرونی) اور خواتین کے جنسی اعضاء کا اندرونی حصہ۔
اس وائرس سے انفیکشن بعض اوقات انسان کو محسوس بھی نہیں ہوتا یا پھر کچھ جگہوں پر چھوٹے چھوٹے مسے یا دانے بنتے ہیں جنہیں warts کہا جاتا ہے۔
اگر انفیکشن کرنے والا وائرس کینسر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو وہ بعد میں انفیکشن والی جگہ کی میں کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔
اس وائرس سے متاثر ہونے والے لوگ منہ، گلہ، پاخانے والی جگہ اور جنسی اعضاء کے کینسر میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ اس وائرس سے ہونے والا سب سے زیادہ کینسر cervical cancer ہے جو خواتین کے اندرونی اعضاء کا کینسر ہے۔
پاکستان میں خواتین میں چھاتی کے کینسر کے ساتھ ساتھ cervical cancer کی شرح بھی کافی زیادہ ہے۔
چونکہ اس کینسر کا زیادہ شکار خواتین ہوتی ہیں اس لئے سب سے پہلے 9 سے 14 سال کی عمر کی بچیوں کو اس کی ویکسین لگائی جاتی ہے تاکہ وہ شادی سے پہلے ہی اس سے محفوظ ہو جائیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں بڑی خواتین کو بھی اس وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جاتی لیکن اس سے پہلے ان کا ٹیسٹ کرکے دیکھا جاتا ہے کہ ان کے اندر وائرس ہے یا نہیں۔
اس ویکسین کی تین اقسام ہیں
1- Bivalent Vaccine
(*Cervarix* by GSK & *Cecolin* by Xiamen Innovax Biotech China)
یہ وائرس کی دو اقسام سے بچاتی ہے اور سب سے سستی ہے۔
2- Quadrivalent Vaccine
(*Gardasil* by Merck & Co/MSD)
یہ وائرس کی چار اقسام سے بچاتی ہے اور نسبتاً مہنگی ہے۔
3- Nonavalent / 9-valent Vaccine
(*Gardasil 9* by Merck & Co/MSD)
یہ وائرس کی نو اقسام سے بچاتی ہے اور سب سے مہنگی ہے۔
دنیا میں تقریباً ایک سو پچاس ممالک میں 2006 سے ان ویکسینز کا استعمال ہو رہا ہے۔
پاکستان میں لگنے والی ویکسین چین میں تیار کی گئی ہے اور اس کا نام Cecolin ہے اور یہ ایک Bivalent ویکسین ہے جس کا مطلب ہے کہ دو اقسام کے وائرس سے بچاؤ کے لئے۔ قسم 16 اور قسم 18۔
چین میں بچیوں کو یہی ویکسین لگی ہے۔ اس کے علاؤہ بیس سے زائد ممالک میں Cecolin منظور شدہ ہے مثلاً تھائی لینڈ، بنگلہ دیش، نیپال، مراکش، انگولا، کانگو، کمبوڈیا اور اب پاکستان۔
پاکستان سے پہلے یہ جہاں بھی استعمال ہوئی ہے ان ممالک میں اس کے کوئی مضر اثرات نہیں آئے۔ اس کا فیز تھری بھی کامیابی سے ہوا ہے اور اس کے بعد post marketing والے فیز میں بھی یہ محفوظ قرار پائی ہے۔
یہ WHO میں 2021 سے pre-qualified ہے۔
پاکستان میں یہ WHO، UNESCO اور Global Alliance for Vaccines & Immunization کے توسط سے آئی ہے۔ جو بین الاقوامی سطح پر اچھی ساکھ کے ادارے ہیں۔
اس ویکسین میں کوئی زہر نہیں ہے اور اس سے بانجھ پن ہونے کا کوئی کیس نہیں ہوا۔
اس کے سائیڈ ایفیکٹ وہی ہیں جو دیگر عام ویکسینز کے ہوتے ہیں جیسے خسرہ، چیچک، ٹی بی، تشنج، ہیپاٹائٹس بی اور پولیو وغیرہ کی ویکسینز کے ہوتے جو ہم سب نے بچپن میں لگوائی ہوئی ہیں۔
یہ ویکسین ہماری بچیوں کی حفاظت کے لئے ہے۔
یہ تحریر ایک مستند معالج کی ہے اور اس تحریر میں بیان کردہ حقائق کی تصدیق کسی بھی مستند ذریعے سے کی جا سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنا رحم فرمائے۔