22/09/2026
پاکستان بھر میں ہیپاٹائٹس C بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، ایسا کیوں؟
ایک عام سی حجام کی دکان، ایک استعمال شدہ بلیڈ، اور ایک زندگی بھر کا روگ۔
جی ہاں، یہی وہ چھوٹی سی غلطی ہے جس نے پاکستان کو ہیپاٹائٹس C کا دنیا کا سب سے بڑا مرکز بنا دیا ہے۔
ادارہ WHO کی 2026 کی تازہ رپورٹ کیا کہتی ہے؟
👈 پاکستان میں 1 کروڑ 38 لاکھ لوگ ہیپاٹائٹس B اور C کے ساتھ جی رہے ہیں۔
👈 ہر سال 37,000 سے زیادہ لوگ صرف اس وجہ سے جان سے جا رہے ہیں۔
👈 دنیا میں ہر 3 میں سے 1 نیا کیس پاکستان سے ہے۔
سب سے خوفناک بات: 44% کیسز کی وجہ صرف ایک چیز ہے - غیر محفوظ انجیکشن اور سرنج کا دوبارہ استعمال۔
یہ جگر کا کینسر بناتا ہے، یہ جگر کو ناکارہ کر دیتا ہے، اور مریض کو پتہ تب چلتا ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس کا کوئی ویکسین نہیں، لیکن بچاؤ 100% ممکن ہے۔
💡 ہم کیسے بچ سکتے ہیں؟ یہ 6 عادتیں آپ کی جان بچا سکتی ہیں۔
1️⃣ سرنج پر کبھی سمجھوتہ نہیں: ہمیشہ نئی پیک سرنج کھلوائیں۔ عطائی ڈاکٹروں سے لگنے والے غیر ضروری انجیکشن اور ڈرپس سے بچیں۔ WHO کے مطابق 70% انجیکشن غیر ضروری لگائے جاتے ہیں۔
2️⃣ حجام سے اپنا بلیڈ لے کر جائیں: یہ سب سے بڑی وجہ ہے۔ نائی کا ایک بلیڈ کئی لوگوں پر استعمال ہوتا ہے۔ اپنا ذاتی بلیڈ، استرا اور نیل کٹر استعمال کریں۔
3️⃣ خون لگنے سے پہلے تسلی کریں: خون یا تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے خون لگوانے سے پہلے اسکریننگ کی رپورٹ ضرور دیکھیں۔
4️⃣ دانتوں کے ڈاکٹر اور سرجری: دانت نکلواتے وقت یا کوئی چھوٹا آپریشن کرواتے وقت یقینی بنائیں کہ آلات Sterilize ہیں۔
5️⃣ ٹیٹو، کان / ناک چھدوانا: گلی محلے میں سستے ٹیٹو اور کان چھدوانے والی سوئی سے یہ وائرس براہ راست خون میں جاتا ہے۔
6️⃣ اپنا ٹیسٹ کرائیں: اگر کبھی آپریشن ہوا ہے، خون لگا ہے، یا یرقان ہوا ہے تو ایک بار Hepatitis B & C کا ٹیسٹ (Anti-HCV) ضرور کرائیں۔ یہ ٹیسٹ ہر بڑی لیب میں صرف 1000 روپے میں ہوتا ہے۔ بروقت تشخیص سے یہ 98% قابلِ علاج ہے۔
⚠️ یہ بیماری غریب کی بیماری ہے، یہ لاپرواہی کی بیماری ہے۔
آج ایک شیئر کسی کی زندگی بچا سکتا ہے۔ اس پوسٹ کو اپنی فیملی تک ضرور پہنچائیں۔