Pak Drugs Rehabilitation and Psychiatry Center

Pak Drugs Rehabilitation and Psychiatry Center PDRPC_Drug Addiction & Psychological Care Center, Peshawar بحالی مرکز برائے منشیات و ذہنی امراض

22/05/2026

نشہ ایک ایسی بیماری ہے جو پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے نفسیات میں خاندان کو ایک "سسٹم" یعنی نظام سمجھا جاتا ہے اور یہ نظام جسم کے مانند ہوتا ہے اگر جسم کا ایک حصہ تکلیف میں ہوتا ہے تو پورے جسم میں وہ تکلیف محسوس ہوتی ہے اس طرح اگر خاندان کا کوئی فرد نشے سے متاثر ہو جائے تو اس کے اثرات پورے خاندانی نظام میں پھیل جاتے ہیں جس کی وجہ سے گھر کا سکون، اعتماد اور جذباتی توازن سب متاثر ہو جاتا ہے!
شروع میں گھر والے ہمدردی اور امید کے ساتھ صورتحال کو دیکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ وقتی مسئلہ ہے اور جلد ختم ہو جائے گا مگر جیسے جیسے نشہ بڑھتا ہے گھر کے اندر فکر، غصہ، مایوسی اور بے بسی کے جذبات پیدا ہونے لگتے ہیں والدین خود کو قصوروار سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید تربیت میں کمی رہ گئی شریک حیات کو دھوکہ اور عدم تحفظ محسوس ہوتا ہے جبکہ بچے خوف اور الجھن میں مبتلا ہو جاتے ہیں گھر کا ماحول جو کبھی محبت اور اعتماد سے بھرا ہوتا تھا آہستہ آہستہ تناؤ اور اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے!
نشہ کرنے والا فرد اکثر اپنی بیماری کو تسلیم نہیں کرتا وہ انکار کرتا ہے کہ اسے کوئی مسئلہ ہے اور بار بار وعدے کر کے توڑ دیتا ہے اس مسلسل انکار اور جھوٹ کی وجہ سے خاندان میں بداعتمادی بڑھتی ہے گفتگو کم ہو جاتی ہے یا صرف الزام اور بحث کی شکل اختیار کر لیتی ہے رشتوں میں قربت کی جگہ فاصلہ آ جاتا ہے خاندان کے لوگ جذباتی طور پر تھکنے لگتے ہیں کچھ لوگ ہر بات برداشت کر کے مسئلہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ سخت اور کنٹرول کرنے والے بن جاتے ہیں اس طرح پورا خاندانی نظام غیر متوازن ہو جاتا ہے!
بچوں پر اس کے اثرات اور بھی گہرے ہوتے ہیں وہ یا تو وقت سے پہلے ذمہ دار بن جاتے ہیں اور گھر کی فضا کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر خود میں سمٹ جاتے ہیں کچھ بچوں میں غصہ اور جارحیت پیدا ہو جاتی ہے جبکہ کچھ میں احساسِ کمتری وہ اکثر یہ سوچتے ہیں کہ شاید وہی اس مسئلے کی وجہ ہیں اس طرح ان کی خود اعتمادی اور جذباتی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور بعض اوقات بڑے ہو کر وہ خود بھی منفی رویوں یا نشے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں!
نشہ مالی اور سماجی مسائل بھی پیدا کرتا ہے آمدنی متاثر ہوتی ہے قرض بڑھتا ہے اور گھریلو اخراجات کا توازن بگڑ جاتا ہے مالی دباؤ مزید جھگڑوں کو جنم دیتا ہے سماجی طور پر خاندان تنہائی اختیار کرنے لگتا ہے کیونکہ شرمندگی اور لوگوں کی باتوں کا خوف انہیں دوسروں سے دور کر دیتا ہے اس تنہائی سے ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں اضافہ ہو سکتا ہے!
وقت گزرنے کے ساتھ اگر علاج نہ ہو تو صورتحال شدید ہو سکتی ہے رشتے ٹوٹ سکتے ہیں علیحدگی یا طلاق کی نوبت آ سکتی ہے اور بعض گھروں میں تشدد بھی پیدا ہو جاتا ہے سب سے زیادہ نقصان اعتماد کا ہو جاتا ہے کیونکہ بار بار جھوٹ اور وعدہ خلافی رشتوں کی بنیاد کو کمزور کر دیتی ہے خاندان کے لوگ اندر ہی اندر ٹوٹنے لگتے ہیں اور جذباتی طور پر بے حس یا انتہائی حساس ہو جاتے ہیں!
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نشہ اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ ایک قابلِ علاج بیماری ہے مگر اس بیماری کا علاج صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ پورے خاندان کو شامل کرنا ضروری ہے جب خاندان والے شعور اور پیشہ ورانہ مدد کے ذریعے اس مسئلے کو سمجھتے ہیں تو بحالی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں محبت کے ساتھ حدود قائم کرنا سچائی کو تسلیم کرنا اور مشترکہ طور پر علاج کے عمل میں شامل ہونا ہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف مریض بلکہ پورے خاندان کو دوبارہ ایک صحت مند اور متوازن زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے!

21/05/2026

ایڈیکشن(نشے کی لت) کے بہت سارے وجوہات ہوتے ہیں اور بہت ساری ایسی باتیں ہوتی ہے جو لوگوں سے پوشیدہ ہوتی ہے ان وجوہات میں سے ایک "تنہائی" یعنی اکیلاپن بھی ہے جو ایڈیکشن کی وجہ بن سکتی ہے!
ہر انسان اکیلا پن ایک جیسا محسوس نہیں کرتا کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو پر سکون محسوس کرنے کیلئے تھوڑی دیر تنہائی میں وقت گزارنا چاہتے ہیں جبکہ کچھ لوگ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ اپنی تنہائی سے بے حد تنگ ہوتے ہیں اور لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اندر سے خالی اور تنہا محسوس کرتے ہیں!
نفسیات کے مطابق یہ اکیلا پن بعض لوگوں کیلئے ایڈیکشن کی وجہ بن سکتی ہے!
اصل میں انسان صرف جسمانی طور پر نہیں بلکہ جذباتی طور پر بھی تعلق چاہتا ہے ہر انسان یہ محسوس کرنا چاہتا ہے کہ کوئی اُسے سمجھے، اُس کی بات سنے اوراسے اُس کی موجودگی کا احساس دلائے جب یہ احساس کم ہونے لگتا ہے تو انسان کے اندر ایک خالی پن پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے یہ خالی پن بعض لوگوں کو ایسی چیزوں کی طرف لے جاتا ہے جو وقتی طور پر مصروف رکھیں اور سکون دے سکیں!
لیکن ہر اکیلا انسان نشے کی طرف نہیں جاتا!
کچھ لوگ اکیلے پن سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اکیلے پن کو ذیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں خاص طور پر وہ لوگ جو جذباتی طور پر زیادہ حساس ہو، جلد اوورتھنک کرتے ہوں یا اپنے احساسات دوسروں سے شیئر نہ کر پاتے ہوں!
مثال کے طور پر
(وہ لوگ جنہیں بچپن میں زیادہ توجہ، محبت یا جذباتی سہارا نہ ملا ہو!
وہ لوگ جو ریجیکشن یا دھوکے کا تجربہ کر چکے ہو!
وہ لوگ جو اپنی بات دل میں رکھتے ہو!
یا وہ لوگ جو خود کو دوسروں سے الگ اور مس انڈرسٹُوڈ محسوس کرتے ہوں!)
اس طرح کچھ لوگ باہر سے بہت مضبوط، ہنسنے بولنے والے اور سوشل نظر آتے ہیں لیکن اندر سے وہ شدید جذباتی تنہائی محسوس کر رہے ہوتے ہیں وہ اپنے اصل جذبات کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتے اس لیے اُن کا اندرونی دباؤ بڑھتا رہتا ہے اور جب انسان مسلسل تنہائی محسوس کرتا ہے تو اُس کا ذہن کسی ایسے ذریعے کی تلاش شروع کرتا ہے جو اُسے کچھ دیر کیلئے بہتر محسوس کروا سکے!
کچھ لوگ موبائل گیمنگ یا سوشل میڈیا میں کھو جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ سگریٹ یا دوسری نشہ آور چیزوں کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں!
اکیلا انسان چونکہ پہلے ہی اندر سے خالی یا بےسکون ہوتا ہے اس لیے اُسے یہ وقتی سکون زیادہ پاورفل محسوس ہوتا ہے پھر اُس کا دماغ آہستہ آہستہ یہ سیکھنے لگتا ہے کہ!
"جب اکیلا محسوس ہو تو یہ چیز استعمال کرو کچھ دیر بہتر محسوس ہوگا"
اس وجہ سے بعض لوگ اپنی تنہائی میں نشے کو "ساتھی" سمجھنے لگتے اور اُن کے روزمرہ جذبات کا حصہ بن جاتا ہے وہ ہر اسٹریس، بورڈم یا لونلینیس میں اُس چیز کی طرف جانے لگتے ہیں!
وقت کے ساتھ یہ عارض سکون dependency میں بدلنے لگتا ہے پھر انسان کو لگتا ہے کہ وہ اُس چیز کے بغیر خود کو پرسکون یا جذباتی طور پر مستحکم محسوس نہیں کر سکتا اور یہاں سے ایڈیکشن کا آغاز ہو جاتا ہے!
نفسیات یہ بھی کہتی ہے کہ جن لوگوں کے پاس
مضبوط جذباتی سہارا!
اچھے تعلقات!
اپنے جذبات بیان کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے!
وہ اکیلے پن کے باوجود نسبتاً محفوظ رہتے ہیں جبکہ جو لوگ ہر درد خاموشی سے برداشت کرتے ہیں یا خود کو دنیا سے جذباتی طور پر تنہا محسوس کرتے ہیں اُن میں Unhealthy Coping Mechanisms پیدا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں!
اس لیے اکیلا پن بعض اوقات ایک ایسی ذہنی کیفیت بن جاتا ہے جہاں انسان وقتی سکون کیلئے اُن چیزوں کی طرف مائل ہونے لگتا ہے جو بعد میں اُس کی جذباتی ضرورت بن جاتی ہیں!

20/05/2026

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ کچھ لوگ غصے کی حالت میں فوراً سگریٹ، نشہ یا دوسری نقصان دہ چیزوں کی طرف کیوں جاتے ہیں؟
کیوں بعض لوگ جب شدید غصہ، بےبسی یا ذہنی دباؤ محسوس کرتے ہیں تو اُن کا ذہن خود بخود نشے کی طرف جانے لگتا ہے؟
غصہ ایک جذباتی کیفیت جس میں شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ ہوتا ہے جب انسان غصے میں ہوتا ہے تو اُس کے دماغ اور جسم کے اندر بہت تیزی سے تبدیلیاں آتی ہیں جیسے
دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے،
جسم میں تناؤ آ جاتا ہے،
ذہن بےچین ہو جاتا ہے
انسان اندر سے ایک عجیب بےسکونی محسوس کرتا ہے ایسے وقت میں دماغ فوری سکون یا "ریلیف" تلاش کرنے لگتا ہے!
اب یہاں بہت سے لوگ نشے کی طرف مائل ہوتے ہیں کیونکہ نشہ آور چیزیں وقتی طور پر دماغ کو سست، پرسکون یا سن کر دیتی ہیں انسان کو چند لمحوں کیلئے محسوس ہوتا ہے کہ اُس کا غصہ کم ہو گیا، ذہن ہلکا ہو گیا یا اندر کی بےچینی ختم ہو گئی!
جب کوئی شخص غصے میں ہوتا ہے تو دماغ دباؤ کی حالت میں چلا جاتا ہے ایسے وقت میں اگر انسان سگریٹ، چرس، آئس یا کوئی دوسری نشہ آور چیز استعمال کرے تو دماغ میں ایسے کیمیکل خارج ہوتے ہیں جو وقتی سکون یا خوشی کا احساس دیتے ہیں دماغ اس احساس کو یاد رکھ لیتا ہے پھر آہستہ آہستہ دماغ ایک تعلق بنا لیتا ہے!
"غصہ آئے → نشہ کرو → کچھ دیر سکون ملے گا"
یہ تعلق جتنی بار دہرایا جاتا ہے اتنا ہی مضبوط ہوتا جاتا ہے پھر انسان ہر غصے، ذہنی دباؤ یا چڑچڑے پن کے وقت خود بخود اس چیز کی طرف جانے لگتا ہے جس سے پہلے وقتی سکون ملا تھا!
نفسیات کے مطابق کچھ لوگ اپنے غصے کو صحیح طریقے سے ظاہر نہیں کر پاتے وہ اپنے غصے کا اظہار کرنا نہیں جانتے رو نہیں سکتے، بات نہیں کر سکتے یا اپنے جذبات کسی کے سامنے بیان نہیں کر پاتے ایسے لوگ اپنے غصے کو اندر ہی اندر دباتے رہتے ہیں اور وقت کے ساتھ یہ دبا ہوا غصہ ذہنی بوجھ بن جاتا ہے!
پھر انسان کوئی ایسا راستہ ڈھونڈتا ہے جو اُسے چند لمحوں کیلئے اس دباؤ سے دور لے جائے نشہ اکثر وہی عارضی فرار بن جاتا ہے!
بعض اوقات انسان کو خود بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ نشہ سکون کیلئے نہیں بلکہ اپنے غصے سے بچنے کیلئے کر رہا ہے کیونکہ غصہ انسان کو اندر سے بےقابو، بےسکون اور تھکا ہوا محسوس کرواتا ہے جبکہ نشہ وقتی طور پر اُس کیفیت کو دبا دیتا ہے!
لیکن حقیقت یہ ہے کہ نشہ غصے کو ختم نہیں کرتا وہ صرف کچھ وقت کیلئے انسان کے احساسات کو سُن کر دیتا ہے اور جب اثر ختم ہوتا ہے تو غصہ دوبارہ واپس آ جاتا ہے اور اکثر پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ محسوس ہوتا ہے
پھر انسان دوبارہ اُسی چیز کی طرف جاتا ہے یہ سلسلہ آہستہ آہستہ ایڈیکشن یعنی نشے کی عادت بن جاتی ہے!
اس لئے بہت سے لوگوں کا مسئلہ صرف “"نشہ" نہیں ہوتا بلکہ اصل مسئلہ وہ غصہ ہوتا ہے جسے وہ سمجھ نہیں پاتے، سنبھال نہیں پاتے، یا صحت مند طریقے سے ظاہر نہیں کر پاتے اور جب انسان اپنے جذبات کو سنبھالنے کے بجائے اُن سے بھاگنے لگے تو وہ وقتی سکون کیلئے اُن چیزوں کی طرف مائل ہو سکتا ہے جو بعد میں اُس کی کمزوری بن جاتی ہیں!

18/05/2026

اکثر لوگ کسی نشے، نقصان دہ عادت یا خطرناک رویے کی شروعات شوق سے نہیں بلکہ صرف "تجسس" سے کرتے ہیں ابتداء میں یہ سب بہت معمولی محسوس ہوتا ہے!
ایک خیال ذہن میں آتا ہے
"صرف ایک بار آزما کر دیکھتے ہیں"
سب لوگ کرتے ہیں، آخر اس میں ایسا کیا ہے؟"
"میں صرف experience کر رہا ہوں مجھے عادت نہیں پڑے گی"
نفسیات کے مطابق Curiosity یعنی تجسس انسانی ذہن کی ایک فطری ضرورت ہے انسان ہمیشہ نئی چیزوں کو جاننا، محسوس کرنا اور تجربہ کرنا چاہتا ہے خاص طور پر نوجوانی میں یہ تجسس زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے کیونکہ اس عمر میں انسان اپنی شناخت، آزادی، جذبات اور سماجی قبولیت تلاش کر رہا ہوتا ہے!
اس دوران انسان اپنے دوستوں، ماحول اور سوشل سرکل سے بہت زیادہ متاثر بھی ہوتا ہے بعض اوقات انسان کسی چیز کو اس لیے نہیں آزماتا کہ وہ اسے پسند کرتا ہے بلکہ صرف اس لیے کہ وہ خود کو دوسروں سے الگ محسوس نہیں کرنا چاہتا اور خود کو دوسروں کے ساتھ برابر محسوس کرنا چاہتا ہے!
روزمرہ زندگی میں ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ صرف دوستوں کے کہنے پر!
کچھ ذہنی دباؤ سے بچنے کیلئے!
کچھ تنہائی یا جذباتی خالی پن کی وجہ سے!
اور کچھ صرف boredom ختم کرنے کیلئے نئی چیزیں آزمانا شروع کرتے ہیں!
شروع میں یہ سب وقتی اور قابو میں محسوس ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ یہی "صرف ایک بار" انسان کے ذہن میں ایک نفسیاتی راستہ بنا دیتا ہے!
دماغ ہر اس چیز کو یاد رکھتا ہے جو وقتی سکون، فرار، خوشی یا راحت دے پھر انسان لاشعوری طور پر دوبارہ اس احساس کی طرف کھنچنے لگتا ہے اس وجہ سے بعض لوگ addiction کا شکار خوشی کی تلاش میں نہیں بلکہ درد، تھکن، خالی پن یا اندرونی بےچینی سے بچنے کیلئے بنتے ہیں!
نفسیات یہ بھی کہتی ہے کہ انسان اکثر خطرناک چیزوں کے نتائج کو اس وقت تک سنجیدگی سے نہیں لیتا جب تک وہ نقصان کو خود محسوس نہ کرے اس لئے experimentation یعنی "صرف آزمانا”" بعض اوقات انسان کو اس راستے پر لے جاتا ہے جہاں واپسی آسان نہیں ہوتی کیونکہ ہر عادت ابتدا میں ایک choice لگتی ہے لیکن وقت کے ساتھ وہ انسان کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے!
ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے ہر فیصلے کے پیچھے موجود وجہ کو سمجھے!
کیا وہ واقعی تجسس ہے؟
یا اندر کا کوئی خالی پن؟
کوئی دباؤ؟
کوئی تنہائی؟
یا خود کو وقتی طور پر بہتر محسوس کرنے کی کوشش؟
کیونکہ بعض اوقات صرف ایک غلط فیصلہ اور ایک غلط تجربہ پوری ذندگی کا رخ بدل دیتا ہے اور ساری ذندگی کا پچھتاوا ہوتا ہے!

Address

Peshawar

Telephone

+923425610550

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pak Drugs Rehabilitation and Psychiatry Center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Pak Drugs Rehabilitation and Psychiatry Center:

Shortcuts

Share