22/05/2026
نشہ ایک ایسی بیماری ہے جو پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے نفسیات میں خاندان کو ایک "سسٹم" یعنی نظام سمجھا جاتا ہے اور یہ نظام جسم کے مانند ہوتا ہے اگر جسم کا ایک حصہ تکلیف میں ہوتا ہے تو پورے جسم میں وہ تکلیف محسوس ہوتی ہے اس طرح اگر خاندان کا کوئی فرد نشے سے متاثر ہو جائے تو اس کے اثرات پورے خاندانی نظام میں پھیل جاتے ہیں جس کی وجہ سے گھر کا سکون، اعتماد اور جذباتی توازن سب متاثر ہو جاتا ہے!
شروع میں گھر والے ہمدردی اور امید کے ساتھ صورتحال کو دیکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ وقتی مسئلہ ہے اور جلد ختم ہو جائے گا مگر جیسے جیسے نشہ بڑھتا ہے گھر کے اندر فکر، غصہ، مایوسی اور بے بسی کے جذبات پیدا ہونے لگتے ہیں والدین خود کو قصوروار سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید تربیت میں کمی رہ گئی شریک حیات کو دھوکہ اور عدم تحفظ محسوس ہوتا ہے جبکہ بچے خوف اور الجھن میں مبتلا ہو جاتے ہیں گھر کا ماحول جو کبھی محبت اور اعتماد سے بھرا ہوتا تھا آہستہ آہستہ تناؤ اور اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے!
نشہ کرنے والا فرد اکثر اپنی بیماری کو تسلیم نہیں کرتا وہ انکار کرتا ہے کہ اسے کوئی مسئلہ ہے اور بار بار وعدے کر کے توڑ دیتا ہے اس مسلسل انکار اور جھوٹ کی وجہ سے خاندان میں بداعتمادی بڑھتی ہے گفتگو کم ہو جاتی ہے یا صرف الزام اور بحث کی شکل اختیار کر لیتی ہے رشتوں میں قربت کی جگہ فاصلہ آ جاتا ہے خاندان کے لوگ جذباتی طور پر تھکنے لگتے ہیں کچھ لوگ ہر بات برداشت کر کے مسئلہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ سخت اور کنٹرول کرنے والے بن جاتے ہیں اس طرح پورا خاندانی نظام غیر متوازن ہو جاتا ہے!
بچوں پر اس کے اثرات اور بھی گہرے ہوتے ہیں وہ یا تو وقت سے پہلے ذمہ دار بن جاتے ہیں اور گھر کی فضا کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر خود میں سمٹ جاتے ہیں کچھ بچوں میں غصہ اور جارحیت پیدا ہو جاتی ہے جبکہ کچھ میں احساسِ کمتری وہ اکثر یہ سوچتے ہیں کہ شاید وہی اس مسئلے کی وجہ ہیں اس طرح ان کی خود اعتمادی اور جذباتی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور بعض اوقات بڑے ہو کر وہ خود بھی منفی رویوں یا نشے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں!
نشہ مالی اور سماجی مسائل بھی پیدا کرتا ہے آمدنی متاثر ہوتی ہے قرض بڑھتا ہے اور گھریلو اخراجات کا توازن بگڑ جاتا ہے مالی دباؤ مزید جھگڑوں کو جنم دیتا ہے سماجی طور پر خاندان تنہائی اختیار کرنے لگتا ہے کیونکہ شرمندگی اور لوگوں کی باتوں کا خوف انہیں دوسروں سے دور کر دیتا ہے اس تنہائی سے ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں اضافہ ہو سکتا ہے!
وقت گزرنے کے ساتھ اگر علاج نہ ہو تو صورتحال شدید ہو سکتی ہے رشتے ٹوٹ سکتے ہیں علیحدگی یا طلاق کی نوبت آ سکتی ہے اور بعض گھروں میں تشدد بھی پیدا ہو جاتا ہے سب سے زیادہ نقصان اعتماد کا ہو جاتا ہے کیونکہ بار بار جھوٹ اور وعدہ خلافی رشتوں کی بنیاد کو کمزور کر دیتی ہے خاندان کے لوگ اندر ہی اندر ٹوٹنے لگتے ہیں اور جذباتی طور پر بے حس یا انتہائی حساس ہو جاتے ہیں!
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نشہ اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ ایک قابلِ علاج بیماری ہے مگر اس بیماری کا علاج صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ پورے خاندان کو شامل کرنا ضروری ہے جب خاندان والے شعور اور پیشہ ورانہ مدد کے ذریعے اس مسئلے کو سمجھتے ہیں تو بحالی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں محبت کے ساتھ حدود قائم کرنا سچائی کو تسلیم کرنا اور مشترکہ طور پر علاج کے عمل میں شامل ہونا ہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف مریض بلکہ پورے خاندان کو دوبارہ ایک صحت مند اور متوازن زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے!