19/07/2026
ٹائیفائیڈ بخار (Typhoid Fever) کیا ہے؟
ٹائیفائیڈ ایک شدید اور خطرناک بخار ہے جو ایک خاص بیکٹیریا سالمونیلا ٹائفی (Salmonella Typhi) کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر آلودہ پانی اور آلودہ غذا کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔
1۔ ٹائیفائیڈ کی وجوہات اور پھیلاؤ (Causes & Transmission):
آلودہ پانی اور غذا کا استعمال: اگر پینے کا پانی یا کھانے پینے کی اشیاء میں ٹائیفائیڈ کے بیکٹیریا موجود ہوں، تو یہ جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔
متاثرہ مریض سے رابطہ: ٹائیفائیڈ کے مریض کے رفع حاجت کے بعد اچھے طریقے سے ہاتھ نہ دھونے سے اور اس کے بعد کھانا پکانے یا برتنوں کو چھونے سے یہ بیماری دوسروں تک پھیلتی ہے۔
مکھیوں اور صفائی کی کمی: گندگی اور مکھیوں کی کثرت اس بیکٹیریا کو کھانے پینے کی چیزوں تک پہنچانے کا بڑا سبب بنتی ہے۔
2۔ ٹائیفائیڈ کی علامات (Symptoms):
ٹائیفائیڈ کے جراثیم جسم میں داخل ہونے کے 1 سے 2 ہفتوں بعد علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
شدید اور مسلسل بخار: بخار آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور 103 سے 104 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ سکتا ہے۔ اکثر یہ بخار شام یا رات کے وقت تیز ہو جاتا ہے۔
پیٹ میں درد اور خرابی: شدید پیٹ درد، کچھ مریضوں کو قبض (Constipation) اور کچھ کو اسہال (Diarrhea) کی شکایت ہو سکتی ہے۔
شدید سر درد اور جسمانی درد: مریض کو مستقل سر درد اور پٹھوں میں شدید تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔
بھوک کا غائب ہونا: کچھ بھی کھانے کا دل نہیں کرتا جس کی وجہ سے وزن کم ہونے لگتا ہے۔
جسم پر گلابی دھبے (Rose Spots): کچھ مریضوں کے پیٹ یا سینے پر ہلکے گلابی رنگ کے چھوٹے چھوٹے دھبے نمودار ہو سکتے ہیں۔
3۔ ٹائیفائیڈ کی تشخیص (Diagnosis & Lab Tests):
ٹائیفائیڈ کی درست تشخیص کے لیے ڈاکٹر درج ذیل لیبارٹری ٹیسٹ کرواتے ہیں:
بلڈ کلچر (Blood Culture): یہ ٹائیفائیڈ کی تشخیص کا سب سے مستند اور سو فیصد درست طریقہ ہے، خاص طور پر بخار کے پہلے ہفتے میں۔
ٹائیفی ڈاٹ ٹیسٹ (Typhidot Test): یہ خون کا ایک فوری ٹیسٹ ہے جو جسم میں ٹائیفائیڈ کے خلاف بننے والی اینٹی باڈیز (IgM اور IgG) کا پتہ لگاتا ہے۔
اسٹول اور یورین کلچر (Stool & Urine Culture): بخار کے دوسرے یا تیسرے ہفتے میں جراثیم کا پتہ لگانے کے لیے پاخانے یا پیشاب کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
(نوٹ: پرانا "وائیڈال ٹیسٹ" (Widal Test) اب زیادہ مستند نہیں مانا جاتا کیونکہ یہ اکثر غلط نتائج بھی دے دیتا ہے)۔
4۔ ٹائیفائیڈ کا علاج (Treatment):
اینٹی بائیوٹک ادویات (Antibiotics): چونکہ یہ ایک بیکٹیریل انفیکشن ہے، اس لیے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اینٹی بائیوٹکس کا کورس (جیسے Ceftriaxone, Azithromycin وغیرہ) مکمل کرنا بے حد ضروری ہے۔
پانی اور او آر ایس (Hydration): بخار اور اسہال کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ ابلا ہوا پانی، جوسز اور او آر ایس (ORS) کا استعمال کریں۔
ہلکی اور زود ہضم غذا: آنتوں پر بوجھ نہ ڈالنے کے لیے نرم غذا جیسے کھچڑی، دلیہ، ابلے ہوئے آلو اور دہی کا استعمال کریں۔ تیز مرچ مصالحے دار کھانوں سے مکمل پرہیز کریں۔
مکمل آرام: جسمانی کمزوری کو دور کرنے کے لیے مریض کا بستر پر مکمل آرام کرنا ضروری ہے۔
5۔ بچاؤ کی تدابیر (Prevention):
ہمیشہ پانی ابال کر یا فلٹر شدہ پیئیں۔
کھانے سے پہلے اور بیت الخلا کے استعمال کے بعد ہاتھوں کو 20 سیکنڈ تک صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔
باہر کے کھلے کھانوں، کچی سبزیوں اور کھلے کٹے ہوئے پھلوں سے پرہیز کریں۔
ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کی ویکسین (Typhoid Vaccine) لازمی لگوائیں۔