14/04/2025
میڈورھینم ۔۔۔۔۔۔۔
MEDORRHINUM AN .....ANTISYCOTIC REMEDY....... Part- 1
تحریر و ترتیب : ڈاکٹر سید حفیظ الرحمان
میڈورہینم سوزاکی مادے سے تیار کی جاتی ہے . یہ خالص سائکوٹک ریمیڈی ہے . اسکی دریافت کا سہرا ڈاکٹر سوان کے سر ہے.
سائکوسس کی تمام علامات اس میں ہمیں نکھری دھوپ کی مانند صاف اور واضح نظر آتی ہیں .
اگر بنظر غائر اسکا مطالعہ کیا جائے تو ہم دیگر انٹی سائکوٹک ادویات کو بھی بخوبی سمحھ سکتے ہیں اور سائکوٹک میازم کو بھی .
بحیثیت انٹی میازم اور بحیثیت ایک ریمیڈی یہ بہت سی بیماریوں کی بہترین دوا ہے جن میں سے چند نمایاں بیماریاں حسب ذیل ہیں ;
سوزاک اور سوزاک کے بد اثرات
خواتین میں رحم اور متعلقات رحم کے عوار ضات
(ovaritis, salpingitis, pelvic cellulitis, fibroids, cysts and other morbid growths of the uterus and o***y)
امراض مفاصل , گٹھیا , نقرس وغیرہ
ریڑھ کی ہڈی اور حرام مغز کے عوارضات
بچوں میں خون کی کمی , بونا پن , نشوو نما کی کمی , کند ذھنی .
رویوں کے مسائل اور بہت سے نفسیاتی اور ذھنی امراض.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوزاک کو اگر دبا دیا جائے یعنی غلط علاج سے اسکے زہر کو ختم کیے بغیر اسکے اخراج کو روک دیا جائے تو تو یہ ڈی این اے میں گھس جاتا ہے اور یکسر مختلف شکل اختیار کرلیتا ہے . جسے ہم سائکو ٹک میازم کہتے ہیں . پھر اسکے اثرات نسلوں تک چلتے ہیں .
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ ایک متعدی عارضہ ہے . اسکے کیرئیر اسے پھیلانے کا موجب بنتے ہیں . سوزاک میں مبتلا مریض سے یہ اسکی بیوی اور اسکی اولاد میں منتقل ہوتا ہے .
اگلی جنریشن میں سوزاک کی مخصوص علامات از قسم پیشاب میں جلن , یوریتھرا میں انفیکشن اور پیپ کا اخراج وغیرہ بلکل نہیں ملتیں بلکہ اسکا اظہار مخصوص قسم کی ذہنی , نفسیاتی اور عضویاتی خرابیوں کی شکل میں ہوتا ہے . جنکا ذکر آئندہ سطور میں تفصیل سے آئے گا.
آج کل نسل انسانی میں سائکو ٹک میازم کثرت سے ملتا ہے . جسکا اظہار انسانی شخصیت کے رویوں اور کردار سے ہوتا ہے . ضروری نہیں کہ سب کو سوزاک ہوا ہو یا انکے والدین کیرئیر ہوں . یہ اثرات نسل در نسل بھی منتقل ہوتے ہیں .
سائکوٹک میازم ایکسٹرا انرجی پیدا کرتا ہے جو اخراج کے راستے ڈھونڈتی رہتی ہے , ابنارمل کی قسم کی یہ انرجی ہی فتور کا باعث بنتی ہے .
میڈو رھینم کے لیے آپ صرف تین الفاظ یاد رکھیے . ایک " بہتات , کثرت , فراوانی یا زیادتی " دوسرا " انتہا پسندی "
اور تیسرا " کٹڑ پن " .
زیادتی :
سوزاکی مادے کا بکثرت اخراج , نارمل سے زیادہ خلیات کی پیدائش جیسے گلٹیاں , رسولیاں , کینسر , ہڈیوں کے سروں کا موٹا ہوجانا , گٹھیا , آرتھرائیٹس اسی طرح ذھنی علامات جنکا آگے ذکر آئے گا .
انتہا پسندی :
مریض اپنے کردار اور رویے کے حوالے سے , جھولے یا پنڈولم کی مانند ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف طرف جاتا ہے . اسمیں توازن اور میانہ روی نہیں ہوتی . وہ ھمیشہ دو انتہاوں میں سے کسی ایک انتہا پہ ہوتا ہے .
ایک مرحلے میں مریض اندروں بیں نظر آتا ہے تو دوسرے مرحلے میں بیروں بیں , ایک مرحلے میں بہت ایکٹو , متحرک ,پر جوش , دوسرے مرحلے میں سست ,ہر کام سے بے اعتنائی , کام کاج کو آج کل پہ ٹالنے والا .
ایک مرحلے میں صاحب عقل و دانش , بصیرت مند , بہترین اندازہ داں ,غضب کی توجہ, اسکی ججمنٹ اور ذھنی اپروچ کمال کی ہوتی ہے تو دوسرے مرحلے میں کند ذھنی , بھلکڑ , قریبی لوگوں کے نام تک بھول جاتا ہے , بات کرتے کرتے لفظ بھول جاتا ہے , لکھتے وقت لفظوں کے ہجوں اور جملوں میں لفظوں کی غلطیاں کرتا ہے ۔
ایک مرحلے میں ھشاش بشاش دوسرے مرحلے میں غم ویاس کی تصویر ...... وغیرہ وغیرہ ...
کٹڑ پن :
عقائد و نظریات اور خیالات کا جمود سائکوسس کا خاصہ ہے . مخصوص سوچ ذہن سے وہم کی طرح چپک جاتی ہے .
اس جمود کو کوئی عقلی دلیل , انکشاف حقیت توڑ نہیں پاتی . کیونکہ ان خیالات , تصورات اور توہمات میں کٹڑ پن پایا جاتا ہے .اسی طرح جوڑوں میں سختی , آلات تنفس میں جکڑن , رسولیوں اور دیگر جسمانی ابھاروں اور ساختوں میں جمود اور سختی .
(جاری ہے)
( نوٹ : میرا المیہ یہ ہے کہ میں جب موڈ بنے اپنی یاد داشت کو مجتمع کرکے پوسٹ فی البدیہہ لکھتا ہوں . اس لیے میری پوسٹوں میں لفظی غلطیاں اور تکرار آجاتی ہے . اس کوفت کو برداشت کیجئیے .
بسا اوقات موقع محل کے مطابق وضاحت کے لیے کسی بات کی تکرار ضروری بھی ہو جاتی ہے . اور ایک ہی بات مختلف پیرائے میں بھی بیان کرنی پڑتی ہے . کئ اھم نکات بعد میں یاد آتے ہیں . بعض قارئین کے لیے یہ بوریت کا باعث ہوتا ہے . لیکن اسکا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بات بہت اچھی طرح ذھن نشین ہو جاتی ہے اور پھر بھولتی نہیں .)
#سوزاک
#شیزوفرینیا