SMILE AGAIN

Call Website

SMILE AGAIN For treatment of Depression,Anxiety,headach and drug dependance

A well established and International known Psychiatric Care and Drug Addict Detoxification centre....providing Mental \health Care to the western Punjab,Afghanistan,FATA , KPK and UAE

عالمی سیاست، مفادات کے پجاری اور فکرِ فردا: ایک فکری مکالمہجدید دور کی سیاست، عالمی طاقتوں کے کھیل اور اقتدار کے ایوانوں...
03/10/2026

عالمی سیاست، مفادات کے پجاری اور فکرِ فردا: ایک فکری مکالمہ

جدید دور کی سیاست، عالمی طاقتوں کے کھیل اور اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والے فیصلے ہر باشعور انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ دنیا آخر کس سمت جا رہی ہے۔ آج کے اس پرفتن دور میں جب انسان ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی، مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے اثرات اور دنیا بھر میں جاری تنازعات کا جائزہ لیتا ہے تو کئی بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں۔

اقتدار، مفادات اور عالمی سیاست

جب ہم ڈونلڈ ٹرمپ، بنیامین نیتن یاہو یا مشرقِ وسطیٰ کے حکمران طبقے کی سیاست پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ تمام کردار ذاتی اور قومی مفادات کے اسیر بن چکے ہیں۔ اقتدار کا نشہ جب عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے تو انسان امنِ عالم، انسانی جانوں اور اخلاقی اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر صرف اپنی بقا اور توسیعِ اقتدار کی جنگ لڑنے لگتا ہے۔ ایسی صورت میں عام انسانوں کی زندگیاں اور پورے خطے کا امن داؤ پر لگ جاتا ہے۔

تاریخ کا سبق اور سوویت یونین کا زوال

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی ظلم اور طاقت کا غرور حد سے بڑھ جاتا ہے تو فطری اور تاریخی عمل کے تحت اندرونی تضادات خود ہی ایسا توازن پیدا کر دیتے ہیں جو جابرانہ ڈھانچے کو زمین بوس کر دیتا ہے۔ بیسویں صدی کے آخر میں سوویت یونین کا اچانک زوال اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جہاں دنیا کی ایک بڑی سپر پاور اندرونی کمزوریوں اور معاشی دباؤ کے باعث لمحوں میں بکھر گئی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کا کوئی بھی نظام ہمیشہ کے لیے اٹل نہیں۔

سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ اور کائنات کا فکری مشاہدہ

قرآنِ مجید کا بنیادی حکم ہے: زمین میں چلو پھرو اور گزشتہ قوموں کے انجام پر غور کرو۔ جب انسان جدید دنیا کی مصنوعی چکاچوند اور ڈیجیٹل شور سے نکل کر پہاڑوں کی خاموشی اور مختلف معاشروں کے مشاہدے کی طرف آتا ہے تو حقائق ایک بالکل نئے زاویے سے سامنے آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام "اَلصَّمَدُ" اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اپنی بقا کے لیے اسی بے نیاز ذات کا محتاج ہے، جبکہ دنیا کے فرعون صفت حکمرانوں کا غرور عارضی اور فانی ہے۔

نتیجہ

آج کے حالات میں جب مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کو بھی ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان وقتی شور و ہنگامے سے نکل کر تاریخ اور الہامی سچائیوں کی روشنی میں مستقبل کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ بڑی طاقتوں اور مفاد پرست حکمرانوں سے خیر کی توقع رکھنے کے بجائے، عقل اور قانونِ قدرت پر بھروسہ ہی اصل اطمینان اور نجات کا راستہ ہے۔

تحریر: ڈاکٹر محمد عرفان اللہ، سمائل اگین ہسپتال بڈھ بیر پشاور

سوچئے اور جواب دیجئے
30/09/2026

سوچئے اور جواب دیجئے

*یمن کا بلیک ہول: مشرق وسطیٰ، عالمی طاقتیں اور بقا کا خطرناک کھیل**تحریر: ڈاکٹر محمد عرفان اللہ - سمائل اگین ہاسپٹل بڈھ ...
30/09/2026

*یمن کا بلیک ہول: مشرق وسطیٰ، عالمی طاقتیں اور بقا کا خطرناک کھیل*
*تحریر: ڈاکٹر محمد عرفان اللہ - سمائل اگین ہاسپٹل بڈھ بیر پشاور*

خطے کا موجودہ سیاسی و عسکری منظرنامہ اس وقت ایک ایسے انتہائی نازک اور خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں سے آگے کی راہ دھند، آتش فکانی اور بے یقینی کے گہرے کھڈوں کی طرف جاتی ہے۔ امریکہ، ایران، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور یمن کے درمیان طاقت کا یہ توازن اب محض علاقائی کشیدگی تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کے تانے بانے عالمی نظام کی تبدیلی، اقتصادی بقا اور بڑی طاقتوں کی رسہ کشی سے جڑ چکے ہیں۔

*امریکہ، اسرائیل اور ایران: طاقت کا کچا توازن اور دائمی تعطل*
امریکہ کا بنیادی مقصد خطے میں اپنی اور اسرائیل کی برتری کو برقرار رکھنا، بحر ہند اور خلیج میں بحری راستوں کو کھلا رکھنا اور ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔ لیکن اس پالیسی کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ امریکہ اب عراق یا ویت نام جیسی طویل المدتی اور مہنگی زمینی جنگوں میں براہ راست کودنے سے گریزاں ہے۔

دوسری طرف، اسرائیل اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کی کوشش میں اندرونی طور پر سخت ترین بحران کا شکار ہے۔ طویل جنگی کیفیت نے اس کی معیشت، سیاحت اور سماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران تمام تر عسکری، اقتصادی اور پابندیوں کے دباؤ کے باوجود "مزاحمت کے محور" کے ذریعے اپنے اثاثوں کا دفاع کر رہا ہے۔

*عالمی کھلاڑی اور پاکستان کا کڑا امتحان*
اس کشیدگی کا دائرہ اب عالمی طاقتوں تک پھیل چکا ہے۔ چین براہ راست عسکری تصادم میں الجھنے سے گریزاں ہے کیونکہ اس کی اولین ترجیح معاشی غلبہ ہے، لیکن وہ امریکہ کو مشرق وسطیٰ کے دلدل میں الجھا دیکھنا چاہتا ہے۔ روس یوکرین جنگ میں مصروف ہونے کے باوجود مشرق وسطیٰ میں اپنے انٹیلی جنس اور عسکری تعاون کے ذریعے مغربی دنیا پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔
اس طوفان کے درمیان پاکستان جیسے ملک کے لیے بقا کا واحد راستہ انتہائی محتاط غیر جانبدارانہ توازن، معاشی خود کفالت اور داخلی استحکام ہے۔

*خلیج کے اندرونی تضادت اور یو اے ای کا خطرہ*
متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے مفادات کئی مقامات پر ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اگر یو اے ای سعودی عرب کے خلاف جا کر کوئی قدم اٹھاتا ہے، تو اس کا انجام انتہائی خطرناک ہوگا۔ چونکہ امریکہ سوائے اسرائیل کے کسی بھی دوسرے ملک کے دفاع کے لیے براہ راست میدان میں نہیں آتا، اس لیے سعودی مخالفت کی صورت میں یو اے ای کی معاشی شہ رگ کٹ جائے گی۔

*یمن کا بلیک ہول: آخری نتیجہ*
اور اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس تمام بحث کا آخری نتیجہ کیا نکلے گا؟ اس کا سب سے تلخ اور حتمی جواب "یمن کا بلیک ہول" ہے۔ یمن، جو پہلے ہی دہائیوں کی خانہ جنگی کا شکار ہے، اس بڑی عالمی رسہ کشی میں ایک ایسا فریق بن چکا ہے جہاں سے اٹھنے والی لہریں بحیرہ سرخ اور باب المندب کے راستوں کو مفلوج کر دیتی ہیں۔

یہ عالمی رسہ کشی دنیا کو ایک ایسے بلیک ہول کی طرف دھکیل رہی ہے جہاں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے کھیل کھیلتی رہیں گی، لیکن اس کی اصل قیمت عام انسانوں کی تباہی کی صورت میں چکانی پڑے گی۔ یک قطعی دنیا کا سورج غروب ہو چکا ہے، اور اب دنیا کثیر قطعی نظام کی اس کٹی پتنگ کی طرح ہے جس کی ڈور کسی کے ہاتھ میں نہیں۔

29/09/2026

4 اکتوبر کو کیلینڈر سے خذف کر دیا گیا جو ان کبھی نہیں ائے گا۔
ڈاکٹر عرفان

یک قطبی تسلط کا زوال اور تہذیبی اتحادموجودہ دور عالمی سیاست کے ایک فیصلہ کن تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ صدیوں پرانا امریکی او...
24/09/2026

یک قطبی تسلط کا زوال اور تہذیبی اتحاد

موجودہ دور عالمی سیاست کے ایک فیصلہ کن تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ صدیوں پرانا امریکی اور مغربی یک قطبی (Unipolar) تسلط اپنے زوال کی آخری سیڑھیوں پر ہے۔ طویل عرصے سے دنیا ایک ایسی سپر پاور کے حصار میں رہی جو اکیلے سیاسی، معاشی اور عسکری نظام کو اپنے ضابطوں پر چلاتی رہی، لیکن اب یہ یک طرفہ عمارت اندر سے ہل چکی ہے۔

*کٹھ پتلیوں کا کھیل اور اصل ہدف*
عالمی میڈیا اکثر اس کشمکش کو محض علاقائی تنازع یا پراکسی جنگ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ تصادم صرف ظاہری کرداروں تک محدود ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس پورے کھیل میں کئی فریق محض فرنٹ لائن یا ڈھال کا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ اصل امتحان اس عالمی نظام کا ہے جو اس ڈھانچے کو ایندھن فراہم کر رہا ہے۔ حکمت عملی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کسی بڑے تسلط کو گرانے کے لیے پہلے اس کے سہاروں کو کمزور کیا جائے۔

*بڑے حریفوں کا متحرک حصار*
چین، روس، ایران اور شمالی کوریا اب مغربی دباؤ اور پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے معاشی، دفاعی اور تکنیکی میدان میں ایک مضبوط حصار بنا چکے ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یک قطبی نظام کو توڑے بغیر عالمی توازن تبدیل نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ امریکہ کی اجارہ داری کو کھلے عام چیلنج کر رہے ہیں۔

*تہذیبی اتحاد: نیا فکری غلبہ*
اس کشمکش کا سب سے گہرا رخ تہذیبی غلبہ (Civilizational Dominance) ہے۔ مستقبل کی دنیا صرف طاقت کے زور پر نہیں، بلکہ تہذیبوں کے اشتراک پر چلے گی۔
جب مسلم، چینی اور روسی تہذیبیں اپنے تاریخی، فکری اور معاشی وسائل کے ساتھ ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا ہوں گی، تو ایک متبادل عالمی نظام ابھرے گا۔ یہ اتحاد صرف عسکری یا تجارتی معاہدوں تک محدود نہیں، بلکہ ایک مکمل تہذیبی متبادل ہوگا۔

دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ امریکہ کا مسلط کردہ یک قطبی دور ختم ہو رہا ہے۔ آنے والا دور بڑی تہذیبوں کے اشتراک اور کثیر الجہتی (Multipolar) نظام کا دور ہے، جہاں کسی ایک سپر پاور کی اجارہ داری کا خاتمہ ہو جائے گا۔

*تحریر و تحقیق: ڈاکٹر محمد عرفان اللہ*

*ہیش ٹیگز:*
#تجزیہ

23/09/2026

جھوٹستان کے دینی سیاسی پارٹیوں کے رہبران اعلی۔۔۔سب ایسے ہی ہیں

23/09/2026

پٹھانوں سے ڈر انکی خون میں انہی کی ماووں نے ڈالاہے۔
ویسے پلاسٹک سرجری والوں کو ڈرنا نہیں چاہیے۔ پختون خواتین انکی گزشتہ اور قیامت تک انے والی نسلوں سے خوبصورت اور مرد موت کو گلے لگانے والے ہیں

یہ کونسی جگہ ہے؟
23/09/2026

یہ کونسی جگہ ہے؟

Watch, follow, and discover more trending content.

23/09/2026

انتہائی ایم پیغام۔۔۔۔ نیازی کی زبانی

خوفناک مستقبل؟
23/09/2026

خوفناک مستقبل؟

Address

Habi BAbad Near Police Station Badaber, NWFP
Peshawar
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SMILE AGAIN posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category