03/10/2026
عالمی سیاست، مفادات کے پجاری اور فکرِ فردا: ایک فکری مکالمہ
جدید دور کی سیاست، عالمی طاقتوں کے کھیل اور اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والے فیصلے ہر باشعور انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ دنیا آخر کس سمت جا رہی ہے۔ آج کے اس پرفتن دور میں جب انسان ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی، مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے اثرات اور دنیا بھر میں جاری تنازعات کا جائزہ لیتا ہے تو کئی بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں۔
اقتدار، مفادات اور عالمی سیاست
جب ہم ڈونلڈ ٹرمپ، بنیامین نیتن یاہو یا مشرقِ وسطیٰ کے حکمران طبقے کی سیاست پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ تمام کردار ذاتی اور قومی مفادات کے اسیر بن چکے ہیں۔ اقتدار کا نشہ جب عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے تو انسان امنِ عالم، انسانی جانوں اور اخلاقی اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر صرف اپنی بقا اور توسیعِ اقتدار کی جنگ لڑنے لگتا ہے۔ ایسی صورت میں عام انسانوں کی زندگیاں اور پورے خطے کا امن داؤ پر لگ جاتا ہے۔
تاریخ کا سبق اور سوویت یونین کا زوال
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی ظلم اور طاقت کا غرور حد سے بڑھ جاتا ہے تو فطری اور تاریخی عمل کے تحت اندرونی تضادات خود ہی ایسا توازن پیدا کر دیتے ہیں جو جابرانہ ڈھانچے کو زمین بوس کر دیتا ہے۔ بیسویں صدی کے آخر میں سوویت یونین کا اچانک زوال اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جہاں دنیا کی ایک بڑی سپر پاور اندرونی کمزوریوں اور معاشی دباؤ کے باعث لمحوں میں بکھر گئی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کا کوئی بھی نظام ہمیشہ کے لیے اٹل نہیں۔
سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ اور کائنات کا فکری مشاہدہ
قرآنِ مجید کا بنیادی حکم ہے: زمین میں چلو پھرو اور گزشتہ قوموں کے انجام پر غور کرو۔ جب انسان جدید دنیا کی مصنوعی چکاچوند اور ڈیجیٹل شور سے نکل کر پہاڑوں کی خاموشی اور مختلف معاشروں کے مشاہدے کی طرف آتا ہے تو حقائق ایک بالکل نئے زاویے سے سامنے آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام "اَلصَّمَدُ" اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اپنی بقا کے لیے اسی بے نیاز ذات کا محتاج ہے، جبکہ دنیا کے فرعون صفت حکمرانوں کا غرور عارضی اور فانی ہے۔
نتیجہ
آج کے حالات میں جب مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کو بھی ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان وقتی شور و ہنگامے سے نکل کر تاریخ اور الہامی سچائیوں کی روشنی میں مستقبل کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ بڑی طاقتوں اور مفاد پرست حکمرانوں سے خیر کی توقع رکھنے کے بجائے، عقل اور قانونِ قدرت پر بھروسہ ہی اصل اطمینان اور نجات کا راستہ ہے۔
تحریر: ڈاکٹر محمد عرفان اللہ، سمائل اگین ہسپتال بڈھ بیر پشاور