Dr.Asmat Ullah Marwat Eye Specialist & Vitreoretinal Surgeon

Dr.Asmat Ullah Marwat Eye Specialist & Vitreoretinal Surgeon MBBS (Pak),
FCPS (Ophth) ,
FCPS Vitreoretina ,
MRCS (Glasgow UK),
ICO (UK)

Clinic No. 305 Said Anwar Medical Centre Near BRT Station Dabgari Garden Peshawar.

Apoint No: 03196692493

19/08/2026
13/08/2026

ایک اہم پیغام تمام ماہرینِ امراضِ چشم کے لیے “This video is intended for medical education and ophthalmic surgical training.”

یہ ایک تعلیمی کیس ہے، جس سے ہم سب ایک اہم سبق حاصل کر سکتے ہیں۔

ایک خاتون کی آنکھ میں تقریباً دو سال قبل دو مصنوعی عدسے لگائے گئے تھے۔ بعد میں ایک PMMA عدسہ آنکھ کے اندرونی حصے (Vitreous cavity) میں جا کر آزادانہ طور پر حرکت کر رہا تھا، جبکہ دوسرا Posterior Chamber IOL اپنی معمول کی جگہ پر ہونے کے بجائے آئرس کی اگلی سطح پر موجود تھا۔

مریضہ کو کافی عرصے سے آنکھ کے اگلے حصے میں سوزش اور مسلسل درد بھی تھا۔

کل اس مریضہ کی سرجری میں دونوں غیر معمولی پوزیشن میں موجود عدسے نکالے گئے، مکمل وٹریکٹومی کی گئی اور ریٹینا کا مکمل معائنہ کیا گیا۔ ریٹینا بالکل ٹھیک اور اپنی جگہ پر تھی۔

اس مرحلے پر ہم نے فوری طور پر دوبارہ عدسہ لگانے کے بجائے آنکھ کو عارضی طور پر بغیر عدسے کے (Aphakia) چھوڑنے کا فیصلہ کیا، تاکہ آنکھ کو مکمل طور پر ٹھیک ہونے، سوزش ختم ہونے اور آنکھ کی اندرونی ساخت کو مستحکم ہونے کا وقت مل سکے۔

بعد میں، جب آنکھ مکمل طور پر پرسکون اور مستحکم ہو جائے گی، تو مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ فولڈیبل سیکنڈری آئی او ایل کو یامانے ٹیکنیک کے ذریعے اسکلیرل فکسیشن کیا جائے گا۔

اہم پیغام

اگر کسی مریض میں آئی او ایل کی پیچیدگی پیدا ہو جائے تو سب سے اہم اصول یہ ہونا چاہیے:

پیچیدگی کو مزید پیچیدہ نہ کریں۔

صرف اس وجہ سے کہ مریض کو فوری طور پر عدسے کے بغیر نہ چھوڑا جائے، ایک غیر مستحکم یا غیر موزوں پوزیشن میں دوسرا عدسہ لگانا ضروری نہیں۔

بعض پیچیدہ کیسز میں:

پہلے مسئلہ حل کریں → غیر موزوں عدسہ نکالیں → وٹریکٹومی مکمل کریں → ریٹینا اور آنکھ کی اندرونی ساخت کا جائزہ لیں → آنکھ کو پرسکون ہونے دیں → پھر مناسب وقت پر سیکنڈری آئی او ایل کی منصوبہ بندی کریں۔

یاد رکھیں:

ہر Aphakic آنکھ کو اسی وقت IOL دینا ضروری نہیں ہوتا۔

کبھی کبھی مریض کو عارضی طور پر Aphakic چھوڑ دینا، ایک اور غیر موزوں یا غیر مستحکم عدسہ لگانے سے کہیں زیادہ محفوظ فیصلہ ہوتا ہے۔

پہلی ترجیح: آنکھ کی حفاظت اور اندرونی ساخت کو مستحکم کرنا۔

دوسری ترجیح: بینائی کی بحالی۔

یہ کیس کسی ایک فرد یا سرجن پر تنقید کے لیے نہیں، بلکہ تعلیم، تجربات کے تبادلے اور بہتر patient care کے مقصد سے شیئر کیا جا رہا ہے۔

ہر پیچیدہ کیس ہمیں کچھ نیا سکھاتا ہے۔

کاسمیٹک کنٹیکٹ لینسز اور قرنیہ کا ناسور (Corneal Ulcer): اسباب، علامات اور احتیاطی تدابیرخوبصورتی اور فیشن کے دور میں رن...
11/08/2026

کاسمیٹک کنٹیکٹ لینسز اور قرنیہ کا ناسور (Corneal Ulcer): اسباب، علامات اور احتیاطی تدابیر

خوبصورتی اور فیشن کے دور میں رنگین یا کاسمیٹک کنٹیکٹ لینسز (Cosmetic Contact Lenses) کا استعمال بہت عام ہو چکا ہے۔ شادی بیاہ، تقریبات یا عام دنوں میں آنکھوں کی رنگت بدلنے کے لیے لوگ بغیر کسی طبی مشورے کے لوکل بازاروں اور عام دکانوں سے یہ لینسز خرید لیتے ہیں۔ بظاہر چند گھنٹوں کی خوبصورتی کے لیے استعمال کیے جانے والے یہ سستے لینسز آنکھوں کی بینائی کے لیے ایک شدید خطرہ بن سکتے ہیں، جن کا سب سے خطرناک نتیجہ قرنیہ کا ناسور (Corneal Ulcer) ہے۔

قرنیہ کا ناسور (Corneal Ulcer) کیا ہے؟

قرنیہ (Cornea) آنکھ کی سب سے بیرونی اور شفاف پردہ ہوتا ہے جو روشنی کو آنکھ کے اندر داخل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب اس شفاف پردے پر کوئی انفیکشن یا زخم ہو جائے تو اسے کورنیل السر یا قرنیہ کا ناسور کہا جاتا ہے۔ یہ ایک انتہائی سنجیدہ اور عاجلانہ طبی صورتحال ہے جس میں معمولی غفلت سے بینائی ہمیشہ کے لیے متاثر ہو سکتی ہے یا آنکھ کی پتلی پر مستقل داغ (Corneal Opacity) بن سکتا ہے۔

لوکل کاسمیٹک لینسز السر کا سبب کیوں بنتے ہیں؟

لوکل بازاروں سے خریدے گئے غیر معیاری کاسمیٹک لینسز مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر قرنیہ کے السر کا باعث بنتے ہیں:

آکسیجن کی کمی: غیر معیاری مٹیریل سے بنے لینسز آنکھ کے قرنیہ تک آکسیجن نہیں پہنچنے دیتے، جس سے قرنیہ کے خلیات کمزور ہو جاتے ہیں۔

آنکھ پر خارش اور زخم (Micro-abrasions): ایسے لینسز کا سائز اور ڈیزائن ہر آنکھ کے حساب سے نہیں ہوتا۔ یہ آنکھ کی سطح سے رگڑ کھاتے ہیں اور باریک زخم بنا دیتے ہیں، جہاں جراثیم آسانی سے داخل ہو جاتے ہیں۔

جراثیم سے آلودگی: لوکل لینسز اکثر غیر سیال اور غیر سٹریلائیزڈ (Sterilized) ماحول میں بنتے یا پیک ہوتے ہیں۔

لینس سلوشن کی خرابی: عام طور پر لوگ لینسز کو صاف کرنے کے لیے معیاری سلوشن کے بجائے عام پانی، نلکے کا پانی یا پرانا سلوشن استعمال کرتے ہیں، جس میں Acanthamoeba اور Pseudomonas جیسے خطرناک بیکٹیریا اور پیراسائٹس موجود ہوتے ہیں۔

قرنیہ کے السر کی نمایاں علامات

اگر لینس استعمال کرنے کے بعد درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو یہ کورنیل السر کی نشاندہی کرتی ہیں:

آنکھ کا شدید سرخ ہونا (Redness)

آنکھ میں شدید درد اور چبھن کا احساس

آنکھ سے مسلسل پانی یا پیپ (Discharge) کا بہنا

روشنی برداشت نہ ہونا (Photophobia)

دھندلا دکھائی دینا یا بینائی کا کم ہونا

آنکھ کے سیاہ ڈیلے (قرنیہ) پر سفید یا پیلا دھبہ نظر آنا

آنکھ میں بار بار کچھ چبھنے کا احساس ہونا

علاج اور آئندہ کی دیکھ بھال

اگر بروقت طبی امداد مل جائے تو انٹی بائیوٹک یا انٹی فنگل قطرے (Eye Drops) کے ذریعے انفیکشن کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ آپ کے کیس میں ہوا والدائیگرام کے تحت انفیکشن تو ختم ہو گیا، لیکن انفیکشن کے بعد قرنیہ پر مستقل نشان (Scar) رہ جانے کا خطرہ ہوتا ہے جو بینائی کو متاثر کر سکتا ہے۔

ضروری احتیاطی تدابیر (Preventive Measures)

عوام الناس اور بالخصوص خواتین کو کاسمیٹک لینسز کے استعمال کے حوالہ سے درج ذیل تدابیر پر سختی سے عمل کرنا چاہیے:

غیر معیاری لینسز سے پرہیز: کبھی بھی لوکل بازار، بیوٹی پارلر، یا عام دکانوں سے بغیر رجسٹریشن والے سستے لینسز نہ خریدیں۔

ماہرِ چشم کا مشورہ: کنٹیکٹ لینس ہمیشہ کسی مستند ماہرِ چشم (Optometrist / Ophthalmologist) کے مشورے اور آنکھ کے معائنے کے بعد ہی استعمال کریں۔

پانی کے استعمال سے گریز: لینسز کو کبھی بھی نلکے کے پانی، ابالے بغیر پانی یا تھوک سے صاف نہ کریں۔ صرف اور صرف معیاری مٹی پرپز لینس سلوشن (Multi-purpose Lens Solution) استعمال کریں۔

ہاتھوں کی صفائی: لینس پہننے یا اتارنے سے پہلے ہاتھوں کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھو کر خشک کریں۔

استعمال کی مدت: لینس پہن کر کبھی نہ سوئیں۔ روزانہ 6 سے 8 گھنٹے سے زیادہ لینس کا استعمال نہ کریں۔

لینس کیس کی صفائی: لینس رکھنے والے کیس کو باقاعدگی سے نئے سلوشن سے صاف کریں اور ہر 1 سے 3 ماہ بعد کیس تبدیل کریں۔

علامات ظاہر ہونے پر اقدام: اگر آنکھ میں معمولی سی بھی سرخی، درد یا چبھن محسوس ہو تو فوری طور پر لینس اتار دیں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

نتیجہ:خوبصورتی اور فیشن ضرور کریں لیکن اپنی بینائی کی قیمت پر نہیں۔ لوکل کاسمیٹک لینسز کا چند گھنٹوں کا استعمال زندگی بھر کی معذوری یا دھندلاہٹ کا باعث بن سکتا ہے۔ آنکھوں کی صحت اور حفاظت کو ہمیشہ ترجیح دینی چاہیے۔

سستے فیشن لینسز کے استعمال سے متعلق اگر آپ کا کوئی مخصوص سوال ہے یا مریض کی موجودہ بینائی کی صورتحال کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتے ہیں؟

18/07/2026

موتیے کا آپریشن (Cataract Surgery) دورِ حاضر کی جدید ترین اور محفوظ ترین سرجریز میں سے ایک ہے، لیکن سرجری خواہ کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو، اس میں بعض اوقات ایسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتیں۔ انہی میں سے ایک انتہائی حساس اور چیلنجنگ صورتحال "نکلس یا آئی او ایل ڈراپ" (Nucleus or IOL Drop) ہے، جس میں آپریشن کے دوران آنکھ کا قدرتی یا مصنوعی لینز خدانخواستہ پھسل کر آنکھ کے پچھلے حصے یعنی ویٹرس کیوٹی (Vitreous Cavity) میں گر جاتا ہے۔
​یہ مضمون جہاں عام عوام کو شعور دینے کے لیے ہے، وہاں انٹیریئر سیگمنٹ سرجنز کے لیے بھی ایک اہم طبی یاد دہانی ہے۔
​عوام کے لیے پیغام: مایوسی نہیں، بروقت علاج ضروری ہے!
​عام طور پر مریض یا ان کے لواحقین یہ سمجھتے ہیں کہ اگر آپریشن کے دوران لینز نیچے گر گیا ہے تو اب بینائی مستقل طور پر چلی گئی ہے، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ جدید سائنس اور ویٹریو ریٹینل سرجری (Vitreoretinal Surgery) کی بدولت اب اس کا بہترین حل موجود ہے۔
​اگر گرے ہوئے لینز کو آنکھ کے پچھلے حصے میں ہی چھوڑ دیا جائے، تو یہ مستقبل میں درج ذیل سنگین مسائل کا سبب بن سکتا ہے:
​آنکھ کے اندر شدید اور دائمی سوزش (Uveitis)
​آنکھ کے دباؤ کا بڑھ جانا یعنی کالا موتیا (Secondary Glaucoma)
​آنکھ کے پردے کا اکھڑ جانا (Retinal Detachment) جو مستقل اندھے پن کا باعث بن سکتا ہے۔
​اس لیے، گھبرانے کے بجائے فوری طور پر ایک ماہرِ پردہ چشم (Vitreoretinal Specialist) سے رجوع کرنا چاہیے جو اپنی خاص مہارت سے اس لینز کو نکال کر نظر بحال کر سکتا ہے۔
​انٹیریئر سیگمنٹ سرجنز کے لیے پیغام: بروقت ریفرل (Referral) مریض کی نجات
​ایک انٹیریئر سیگمنٹ سرجن کے لیے سرجری کے دوران ایسی پیچیدگی کا سامنا کرنا ذہنی دباؤ کا باعث ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایسی صورتحال میں آنکھ کے اندر زیادہ چھیڑ چھاڑ کرنے یا زبردستی لینز کو پچھلے حصے سے کھینچنے کی کوشش کرنے کے بجائے، سرجری کو وہیں محفوظ طریقے سے کلوز (Close) کر دینا چاہیے اور مریض کو جلد از جلد ایک ویٹریو ریٹینل سرجن کے پاس ریفر کر دینا چاہیے۔ یہ بروقت فیصلہ مریض کے قرنیہ (Cornea) اور پردے (Retina) کو مزید نقصان سے بچا لیتا ہے۔
​اس ویڈیو کیس کی کلینیکل تفصیلات (Case Highlights)
​زیرِ نظر ویڈیو اسی باہمی تعاون اور ماہرانہ علاج کی ایک شاندار مثال ہے جس میں درج ذیل مراحل کو کامیابی سے سرانجام دیا گیا:
​پارس پلانا ویٹریکٹومی (Pars Plana Vitrectomy): سب سے پہلے وی آر سرجن نے انتہائی احتیاط کے ساتھ آنکھ کے پچھلے حصے سے ویٹرس جیل کو صاف کیا تاکہ گرے ہوئے لینز تک محفوظ اور واضح رسائی حاصل کی جا سکے۔
​گرے ہوئے لینز کی بحفاظت واپسی (IOL Retrieval): پردہ چشم (Retina) کو کسی بھی قسم کے ٹروما یا نقصان سے محفوظ رکھتے ہوئے، نیچے گرے ہوئے لینز کو اٹھایا گیا اور کارنیل انسیجن (Corneal Incision) کے ذریعے آنکھ سے بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔
​ثانوی لینز امپلانٹیشن (Secondary PMMA IOL): مریض کی نظر کو دوبارہ مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے، سرجن نے کمال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیا PMMA IOL آنکھ کے محفوظ حصے، یعنی سیلیری سلکس (Ciliary Sulcus) میں امپلانٹ کر دیا۔
​حاصلِ کلام (Conclusion)
​یہ کیس ثابت کرتا ہے کہ سرجری میں پیچیدگی آنا ایک فطری امر ہے، لیکن اگر انٹیریئر سرجن کا بروقت ریفرل اور پوسٹیریئر سیگمنٹ (VR) سرجن کی ماہرانہ انگلیاں ایک ساتھ مل جائیں، تو گرتی ہوئی بینائی کو نہ صرف بچایا جا سکتا ہے بلکہ مریض کو ایک بار پھر روشن دنیا دکھائی جا سکتی ہے۔
​"آگاہی ہی بینائی کی حفاظت ہے۔ پیچیدگی کا حل موجود ہے، بس صحیح وقت پر صحیح ماہر کا انتخاب شرط ہے!"

انسانی آنکھ کی بناوٹ اور اس کی تہیںاللہ تعالیٰ نے انسانی آنکھ کو نہایت پیچیدہ، حسین اور حیرت انگیز انداز میں تخلیق کیا ہ...
14/07/2026

انسانی آنکھ کی بناوٹ اور اس کی تہیں

اللہ تعالیٰ نے انسانی آنکھ کو نہایت پیچیدہ، حسین اور حیرت انگیز انداز میں تخلیق کیا ہے۔ یہ ایک ایسا حساس عضو ہے جو روشنی کو محسوس کرکے اسے دماغ تک پہنچاتا ہے، جہاں تصویری معلومات کو سمجھا جاتا ہے۔ آنکھ کے ہر حصے کا ایک مخصوص کردار ہے، اور تمام حصے مل کر ہمیں واضح اور رنگین دنیا دیکھنے کے قابل بناتے ہیں۔

سب سے سامنے
Cornea (قرنیہ)
موجود ہوتی ہے، جو ایک شفاف اور گول ساخت ہے۔ یہ آنکھ میں داخل ہونے والی روشنی کو سب سے پہلے ریفریکٹ
(Refraction)
کرتی ہے اور آنکھ کو بیرونی جراثیم، گرد و غبار اور چوٹ سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہے۔

قرنیہ کے پیچھے Iris (عنبیہ)
واقع ہوتی ہے،
جو آنکھ کا رنگ دار حصہ ہے۔ Iris کے درمیان موجود سوراخ کو Pupil (مردمک) کہتے ہیں۔ Pupillary aperture روشنی کی مقدار کو کنٹرول کرتی ہے؛ تیز روشنی میں سکڑ جاتی ہے جبکہ اندھیرے میں پھیل جاتی ہے تاکہ مناسب مقدار میں روشنی آنکھ کے اندر داخل ہو سکے۔

اس کے بعد Lens (عدسہ) موجود ہوتا ہے، جو شفاف اور لچکدار ہوتا ہے۔ Ciliary body کی مدد سے Lens اپنی شکل تبدیل کرتا ہے تاکہ دور اور نزدیک دونوں فاصلے کی اشیاء پر فوکس کیا جا سکے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ اس کی شفافیت کم ہونے پر Cataract (موتیا) پیدا ہو جاتا ہے۔

Lens کے گرد Ciliary Body (سیلیری باڈی) موجود ہوتی ہے، جو نہ صرف Accommodation میں کردار ادا کرتی ہے بلکہ Aqueous Humor بھی بناتی ہے، جو آنکھ کے اندرونی دباؤ (Intraocular Pressure) کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

Lens کے پیچھے آنکھ کا بڑا حصہ Vitreous Humor (زجاجیہ مادہ) سے بھرا ہوتا ہے۔ یہ ایک شفاف جیلی نما مادہ ہے جو آنکھ کی گولائی برقرار رکھتا ہے اور Retina کو سہارا فراہم کرتا ہے۔

آنکھ کی اندرونی روشنی محسوس کرنے والی تہہ Retina (شبکیہ) کہلاتی ہے۔ Retina میں موجود Rods اور Cones روشنی کو برقی سگنلز میں تبدیل کرتے ہیں۔ Retina کا مرکزی حصہ Macula اور اس کا سب سے حساس مقام Fovea ہے، جہاں سب سے زیادہ واضح اور باریک بینائی حاصل ہوتی ہے۔

Retina کے نیچے Choroid (مشیمیہ) واقع ہوتی ہے، جو خون کی نالیوں سے بھرپور تہہ ہے۔ یہ Retina کو آکسیجن اور غذائی اجزاء فراہم کرتی ہے اور اضافی روشنی کو جذب کرکے تصویر کے معیار کو بہتر بناتی ہے۔

سب سے بیرونی مضبوط سفید تہہ Sclera (صلبیہ) ہے، جو آنکھ کو مضبوطی، حفاظت اور شکل فراہم کرتی ہے۔ آنکھ کو حرکت دینے والے عضلات بھی اسی سے جڑے ہوتے ہیں۔

آخر میں Optic Nerve (بصری عصب) Retina سے پیدا ہونے والے برقی سگنلز کو دماغ تک پہنچاتی ہے، جہاں ان سگنلز کو تصاویر میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اگر Optic Nerve کو نقصان پہنچ جائے، جیسا کہ Glaucoma میں ہوتا ہے، تو بینائی مستقل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔

مختصراً، انسانی آنکھ ایک نہایت پیچیدہ اور منظم عضو ہے جس کے تمام حصے باہمی تعاون سے کام کرتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک حصے میں خرابی بھی بینائی پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے، اس لیے آنکھوں کی باقاعدہ جانچ، حفاظتی اقدامات اور بروقت علاج صحت مند بینائی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

10/07/2026

# انٹیریئر سیگمنٹ ٹراما سرجری میں انٹرا اوکولر فارن باڈی (IOFB) کی تشخیص اور آئی او ایل (IOL) کے انتخاب کی اہمیت
# # پس منظر (Introduction)
آنکھ کا ٹراما، خصوصاً ہیمرنگ (Hammering) یا لوہے کا کام کرنے والوں میں، اکثر انٹرا اوکولر فارن باڈی (IOFB)
کا باعث بنتا ہے۔ ایسے کیسز جب کسی انٹیریئر سیگمنٹ سرجن کے پاس پہنچتے ہیں، تو محض انٹیریئر سیگمنٹ کی مینجمنٹ (جیسے کیٹیریکٹ یا لینز میٹر اسپائریشن) کافی نہیں ہوتی۔ پوسٹیریئر سیگمنٹ (Retina) کو نظر انداز کرنا یا فارن باڈی کو مس کر دینا مریض کو مستقل اندھے پن اور ریٹینل ڈیٹیچمنٹ (Retinal Detachment) کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
یہ مضمون ایک ایسے ہی کیس کی روشنی میں لکھا گیا ہے جہاں انٹیریئر سیگمنٹ سرجن کی جانب سے فارن باڈی کے مس ہونے اور غلط آئی او ایل
(IOL) کے انتخاب نے پیچیدگیاں پیدا کیں، اور بعد میں ایک وٹریو-ریٹینل (VR)
سرجن کو ان مسائل کو حل کرنا پڑا۔
# # # 1۔ انٹرا اوکولر فارن باڈی (IOFB)
کو رول آؤٹ کرنے کی لازمی اہمیت
جب بھی کوئی مریض ہیمرنگ یا میٹل آن میٹل
(Metal on Metal)
ٹراما کی ہسٹری کے ساتھ آئے
، تو سرجن پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ **Intraocular Foreign Body**
کو لازمی رول آؤٹ کرے۔
* **غفلت کے نقصانات:** اگر انٹرا ریٹینل فارن باڈی (IRFB) کو تشخیص نہ کیا جائے، تو یہ نہ صرف ریٹینل ٹیئر اور سیکنڈری ریٹینل ڈیٹیچمنٹ (RD)
کا باعث بنتی ہے، بلکہ لوہے کا ذرہ ہونے کی وجہ سے **Siderosis Bulbi**
(ٹاکسیسیٹی) پیدا کر کے فوٹو ریسیپٹرز کو مستقل تباہ کر سکتا ہے۔
* **سرجنز کے لیے ہدایت:** کسی بھی ٹراما کیس میں صرف سامنے کے زخم یا کیٹیریکٹ کو دیکھ کر سرجری کا فیصلہ نہ کریں۔ سرجری سے پہلے B-Scan Ultrasonography، اور ضرورت پڑنے پر CT-Scan (Orbit)
لازمی کروائیں تاکہ پوسٹیریئر سیگمنٹ محفوظ ہونے کی تصدیق ہو سکے۔ اگر شک ہو، تو مریض کو فوری طور پر وٹریو-ریٹینل سرجن کے پاس ریفر کریں۔
# # # 2۔ ٹراما کیسز میں آئی او ایل (IOL)
کا درست انتخاب اور سلکس پلیسمنٹ
مذکورہ کیس میں سرجن نے فولڈ ایبل (Single-piece Foldable) آئی او ایل سلکس (Sulcus) میں رکھ دیا۔ کلینیکل اصولوں کے مطابق یہ ایک سنگین تکنیکی غلطی ہے۔

* **سنگل پیس فولڈ ایبل IOL
سلکس میں کیوں نہیں ہونا چاہیے؟**
سنگل پیس فولڈ ایبل لینز کے ہیپٹکس (Haptics) موٹے اور نرم ہوتے ہیں اور یہ صرف کیپسولر بیگ (Capsular Bag) کے لیے بنے ہوتے ہیں۔ اگر انہیں سلکس میں رکھا جائے تو یہ اسٹیبل نہیں رہتے، "Uveitis-Glaucoma-Hyphema (UGH) Syndrome"
کا باعث بن سکتے ہیں، اور ان کا سینٹریشن خراب ہو جاتا ہے۔
* **سفارشات (Recommendations):**
اگر سرجری کے دوران پوسٹیریئر کیپسول
(PC)
رپچر ہو یا بیگ کی سپورٹ کمزور ہو، اور سرجن سلکس میں لینز رکھنا چاہے تو:
. اگر بیگ ٹھیک ہے، تو لینز کو ہمیشہ **
Capsular Bag
کے اندر ہی ہونا چاہیے
۔
. اگر بیگ میں نہیں رکھ سکتے، تو سلکس کے لیے ہمیشہ
**Multi-piece (3-piece) IOL**
یا پھر ہار
*Hard PMMA IOL**
استعمال کریں۔ ان کے ہیپٹکس سخت ہوتے ہیں جو سلکس میں بہترین فکسیشن فراہم کرتے ہیں۔
# # # ۔ وٹریو-ریٹینل سرجری
(Pars Plana Vitrectomy)
کے دوران پیچیدگی
مذکورہ کیس میں جب مریض کو 15 دن بعد ریٹینل ڈیٹیچمنٹ اور مسڈ فارن باڈی کے ساتھ وی آر (VR) سرجن کے پاس لایا گیا، تو دورانِ سرجری ایک اور بڑا مسئلہ سامنے آیا۔
* **فلوئڈ گیس ایکسچینج
(Fluid-Air Exchange)
کا چیلنج:**
جب وی آر سرجن نے وٹریکٹمی کے دوران فلوئڈ کو ایئر (Air)
سے ایکسچینج کیا، تو ہوا کے پریشر
(Air Pressure)
کی وجہ سے سلکس میں موجود وہ سنگل پیس فولڈ ایبل آئی او ایل ڈسپلیس ہو کر انٹیریئر چیمبر
(AC)
میں آگیا
۔
* **وجہ اور حل:** کیونکہ وہ لینز وہاں کے لیے موزوں ہی نہیں تھا اور اس کی فکسیشن صفر تھی، اس لیے ایئر پریشر کو برداشت نہ کر سکا۔ سرجن کو مجبورا اس لینز کو آنکھ سے نکالنا پڑا۔ اگر وہاں تھری-پیس (3-piece) یا پی ایم ایم اے (PMMA) لینز ہوتا، تو وہ اپنی جگہ پر قائم رہتا اور وی آر سرجن آسانی سے ریٹینا کو سیٹ کر سکتا۔
# حاصلِ کلام (Conclusion & Message for Anterior Segment Surgeons)
یہ کیس تمام آفسیلمولوجسٹس (Ophthalmologists) کے لیے ایک اہم سبق ہے:
. **ٹراما ہسٹری کو ہلکا نہ لیں:** ہیمرنگ کے ہر کیس میں پوسٹیریئر سیگمنٹ اور فارن باڈی کی تفتیش لازمی کریں۔
**صلاحیت کی حد کا تعین:** اگر کیس پیچیدہ ہو یا انٹرا اوکولر فارن باڈی کا شک ہو، تو پرائمری سرجری سے پہلے یا فوری بعد وی آر سرجن سے مشاورت کریں۔
**آئی او ایل کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں:** سلکس (Sulcus)
میں کبھی بھی سنگل پیس فولڈ ایبل لینز نہ لگائیں۔ ہمیشہ ملٹی پیس یا ہارڈ پی ایم ایم اے لینز کا انتخاب کریں، تاکہ اگر مستقبل میں مریض کو وٹریکٹمی کی ضرورت پڑے، تو اگلا سرجن کسی نئی پیچیدگی کا شکار نہ ہو۔
باکمال سرجری وہی ہے جو مریض کے مستقبل اور اگلی ممکنہ سرجری کو مدنظر رکھ کر کی جائے!

Asmat Ullah Marwat

05/07/2026

جب موتیا کے آپریشن میں نیوکلیئس گر جائے: وٹریوریٹائنل سرجن کا کردار
​موتیا کا آپریشن (Cataract Surgery) دنیا بھر میں سب سے زیادہ کیے جانے والے اور کامیاب ترین آپریشنز میں سے ایک ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت یہ سرجری اب بہت محفوظ ہو چکی ہے، لیکن کسی بھی دوسرے جراحی عمل کی طرح، اس میں بھی بعض اوقات کچھ پچیدگیاں (Complications) پیدا ہو سکتی ہیں۔ انھی نایاب پچیدگیوں میں سے ایک "نیوکلیئس ڈراپ" (Nucleus Drop) یا موتیا کے ٹکڑے کا آنکھ کے پچھلے حصے میں گر جانا ہے۔
​جب ایسی صورتحال پیش آتی ہے، تو ایک عام آئی سرجن (Cataract Surgeon) کے بجائے وٹریوریٹائنل سرجن (Vitreoretinal Surgeon) کی مہارت کی ضرورت پڑتی ہے۔
​نیوکلیئس ڈراپ (Nucleus Drop) کیا ہے؟
​آنکھ کے اندر قدرتی لینس ایک باریک اور شفاف جھلی کے اندر ہوتا ہے جسے کپسول (Capsule) کہتے ہیں۔ موتیا کے آپریشن کے دوران، سرجن اس لینس کے سخت حصے (جسے نیوکلیئس کہتے ہیں) کو مشین کے ذریعے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑ کر باہر نکالتا ہے۔
​اگر آپریشن کے دوران کسی وجہ سے یہ جھلی (Capsule) پیچھے سے پھٹ جائے، تو لینس کا وہ سخت ٹکڑا یا پورا نیوکلیئس آنکھ کے پچھلے حصے یعنی وٹریس کیویٹی (Vitrous Cavity) اور پردۂ بصارت (Retina) کی طرف گر جاتا ہے۔ اسی کیفیت کو "Dropped Nucleus" کہا جاتا ہے۔
​وٹریوریٹائنل سرجن کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
​آنکھ کا اگلا حصہ (جہاں موتیا ہوتا ہے) اور پچھلا حصہ (جہاں پردہ اور جیلی نما مادہ ہوتا ہے) بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ عام کیٹاریکٹ سرجن آنکھ کے اگلے حصے کے ماہر ہوتے ہیں۔ جب نیوکلیئس پیچھے گر جاتا ہے، تو اسے نکالنے کے لیے خاص قسم کے آلات اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے جو صرف ایک وٹریوریٹائنل سرجن (پردے کے ماہر ڈاکٹر) کے پاس ہوتی ہے۔
​اگر اس گرے ہوئے ٹکڑے کو وقت پر نہ نکالا جائے تو درج ذیل مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
​آنکھ کے اندر شدید سوزش اور انفیکشن۔
​آنکھ کے دباؤ کا بڑھ جانا (کالا موتیا یا Glaucoma)۔
​آنکھ کے پردے کا اکھڑ جانا (Retinal Detachment)۔
​بصارت کا مستقل طور پر متاثر ہونا۔
​وٹریوریٹائنل سرجن اس ٹکڑے کو کیسے نکالتا ہے؟
​اس پچیدگی کو حل کرنے کے لیے جو آپریشن کیا جاتا ہے اسے پارس پلانا وٹریکٹومی (Pars Plana Vitrectomy - PPV) کہتے ہیں۔ وٹریوریٹائنل سرجن یہ عمل درج ذیل مراحل میں مکمل کرتا ہے:
​وٹریس جیلی کی صفائی: سب سے پہلے سرجن آنکھ کے پچھلے حصے میں موجود جیلی نما مادے (Vitrous) کو صاف کرتا ہے تاکہ گرے ہوئے نیوکلیئس تک راستہ صاف ہو سکے۔
​پردے کی حفاظت: سرجن پردۂ بصارت (Retina) کو نقصان سے بچانے کے لیے ایک خاص مائع (Perfluorocarbon liquid) کا استعمال کر سکتا ہے جو پردے کے اوپر ایک حفاظتی تہہ بنا دیتا ہے۔
​ٹکڑے کو توڑنا اور نکالنا: اگر نیوکلیئس بہت سخت ہو، تو سرجن آنکھ کے پچھلے حصے میں ہی ایک خاص الٹراساؤنڈ مشین (Fragmatome) کے ذریعے اس کے مزید چھوٹے ٹکڑے کر کے اسے محفوظ طریقے سے کھینچ لیتا ہے۔
​نیا لینس لگانا: اگر ممکن ہو اور آنکھ کی حالت اجازت دے، تو اسی وقت یا کچھ ہفتوں بعد آنکھ میں ایک نیا مصنوعی لینس (IOL) موزوں جگہ پر فٹ کر دیا جاتا ہے۔
​مریضوں کے لیے اہم پیغام
​گھبرانے کی ضرورت نہیں: اگرچہ نیوکلیئس کا گرنا ایک تشویشناک بات لگتی ہے، لیکن جدید طب اور وٹریوریٹائنل سرجری کی بدولت اس کا علاج اب انتہائی کامیاب اور محفوظ ہے۔
​اگر آپ کے سرجن کے ساتھ ایسا معاملہ پیش آتا ہے، تو وہ فوری طور پر آپ کو ایک اچھے پردے کے ماہر (Retina Specialist) کے پاس ریفر کر دیتے ہیں۔ زیادہ تر مریض اس دوسرے آپریشن کے بعد اپنی بینائی دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کیا جائے اور علاج میں تاخیر نہ کی جائے۔

05/07/2026

‎"صرف 9 سیکنڈ کے وعدے کی قیمت"

مریض نے ہر جگہ ایک ہی اشتہار دیکھا:

"صرف 9 سیکنڈ میں عینک سے ہمیشہ کے لیے نجات!"

یہ سن کر اسے لگا کہ شاید یہی اس کی زندگی کا بہترین فیصلہ ہوگا۔

بغیر مکمل معائنے اور یہ جانے کہ آیا وہ اس طریقۂ علاج کے لیے موزوں امیدوار ہے یا نہیں، اس نے صرف اشتہار کے متاثر کن دعوے پر بھروسہ کرتے ہوئے علاج کروا لیا۔

عمل تو چند لمحوں میں مکمل ہو گیا، لیکن اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوا۔

کچھ ہفتوں بعد بھی اس کی بینائی ویسی نہ تھی جیسی اس نے امید کی تھی۔ دھندلا پن، چکاچوند اور رات کے وقت دیکھنے میں دشواری نے اس کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔

تب اسے احساس ہوا کہ کامیاب علاج کا راز صرف چند سیکنڈ میں نہیں، بلکہ مکمل معائنہ، درست مریض کا انتخاب، ڈاکٹر کا تجربہ اور حقیقت پسندانہ توقعات میں ہوتا ہے۔

یاد رکھیں! لیزر کا وقت نہیں، بلکہ آپ کی آنکھوں کے لیے صحیح طریقۂ علاج سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔اگر آپ اسے سوشل میڈیا اشتہار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں تو بہتر ہے کہ کسی مخصوص لیزر یا برانڈ کے بارے میں یہ تاثر نہ دیں کہ وہ عام طور پر بینائی کے نقصان کا باعث بنتا ہے، کیونکہ ایسا دعویٰ مضبوط سائنسی ثبوت کے بغیر گمراہ کن ہو سکتا ہے۔

Address

Https://share. Google/FImoCGPtyRqWRl9vu
Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 14:00 - 20:00
Tuesday 14:00 - 20:00
Wednesday 14:00 - 20:00
Thursday 14:00 - 20:00
Friday 14:00 - 20:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Asmat Ullah Marwat Eye Specialist & Vitreoretinal Surgeon posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share