13/10/2025
اللہ تبارک وتعالیٰ جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے آمین یارب العالمین 🤲 🥲
رحیم اللہ جن کو لوگ پیار سے ملک کے نام سے بھی پکارتے تھے، کوئٹہ پریس کلب کے ساتھ اپنے تین دیگر بھائیوں کے ساتھ ایک چھوٹا سا چائنکی ہوٹل چلاتے تھے، ملک چونکہ سب سے چھوٹا بھائی تھا، لاڈلا تھا ہوٹل پر کام سے زیادہ منیجمنٹ دیکھتا تھا۔
ہر وقت ہاتھ میں کنگی لے کر اپنے بالوں کو ہمیشہ سنوارنا تھا۔ ملک نے ایک دن مشہور جرمن ٹیلی ویژن ڈی ڈبلیو کو انٹرویو دیا جسمیں انکا کا کہنا تھا کہ پشتون معاشرے کو جہیز جیسے لعنت سے پاک کیا جائے، اپنے مثال دیتے ہوا کہا کہہ میں ایک غریب آدمی ہو، ہوٹل پر مزدور کر کے اپنا جہیز پوری کرنے کی
کوشش کر رہا ہوں۔
آج خبر آئی کہ دو دن پہلے اپنے شادی کے دن ملک کے اپنے ہی دوست کے بندوق سے گولی چلی جسمیں وہ شدید زخمی ہوئے اور دو دن ہسپتال میں زیر علاج رے، آج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔ ملک اپنے شادی کے لیے کتنا خوش تھا، اس نے کتنے محنت سے شادی کی پیسے پوری کئ، مگر بندوق کے شوقین پشتون نوجوان نے چند ہی سکینڈ میں شادی کے دن انکو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔
خوشی کے دن بھی اپنے کندھے پر بندوق رکھ کر فائرنگ کرنے والے معاشرے میں ایسے مزید رحیم اللہ اپنے زندگئ سے ہاتھ دھو بیٹھے گے، جن معاشرے میں خوشی کا اظہار فائرنگ سے کی جائے وہاں سے بہتری کی امید لگانا نہ صرف بے وقوفی ہیں بلکہ تباہی ایسے معاشرے کی مقدر ہیں۔