Fatima Clinic, Rupo-Chak.

Fatima Clinic, Rupo-Chak. Fatima Clinic Rupo-Chak provides all basic health services.

کسی بھی شدید ذہنی صدمے یا جذباتی اضطراب کی کیفیت میں، جسے طبّی اصطلاح میں Emotional Turmoil یا Emotional Trauma کہا جاتا...
19/10/2025

کسی بھی شدید ذہنی صدمے یا جذباتی اضطراب کی کیفیت میں، جسے طبّی اصطلاح میں Emotional Turmoil یا Emotional Trauma کہا جاتا ہے، انسان کی داخلی کیفیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں اعصاب، نیند، بھوک اور عمومی سکون سب متاثر ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں Ignatia Amara ایک ایسی ہومیوپیتھک دوا ہے جو گویا جادوئی اثر رکھتی ہے۔ یہ دوا اُن افراد کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتی ہے جو کسی صدمے، غم، جدائی یا جذباتی دباؤ کے بعد اندرونی انتشار اور بے چینی کا شکار ہوں۔

Ignatia 1M
کی صرف چند بوندیں — دو سے تین قطرے — روزانہ چند دن کے لیے براہِ راست زبان پر ڈالیں یا تھوڑے سے صاف پانی میں ملا کر پی لیں۔ اس کے اثرات رفتہ رفتہ نمایاں ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ نیند میں بہتری، بھوک کی بحالی، دل کی گھبراہٹ اور ذہنی بے قراری کا خاتمہ اس کے نمایاں فوائد میں شامل ہیں۔

یہ دوا جسم کے اعصابی نظام کو متوازن کرتی ہے، دل و دماغ کے درمیان ہم آہنگی بحال کرتی ہے، اور جذباتی زخموں کو بھرنے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم، اگر صدمہ شدید ہو یا علامات طویل عرصے تک برقرار رہیں تو رجسٹرڈ ہومیو پیتھک میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ دوا کی طاقت، مقدار اور مدت کا درست تعین کیا جا سکے۔

اگنیشیا امارا ایک قدرتی، محفوظ اور موثر علاج ہے جو انسان کو جذباتی صدمات کے اندھیروں سے نکال کر ذہنی سکون اور جسمانی توازن کی طرف واپس لے آتی ہے۔

ڈاکٹر عرفان نظامی
فاطمہ کلینک ظفروال۔
0300 8819784

انسانی پاپیلوما وائرس (HPV) دنیا بھر میں ایک ایسا وائرس سمجھا جاتا ہے جو نہ صرف عام طور پر ہونے والے انفیکشنز بلکہ کئی م...
18/09/2025

انسانی پاپیلوما وائرس (HPV) دنیا بھر میں ایک ایسا وائرس سمجھا جاتا ہے جو نہ صرف عام طور پر ہونے والے انفیکشنز بلکہ کئی مہلک بیماریوں کا بھی باعث بنتا ہے۔ اس وائرس کی مختلف اقسام ہیں جن میں سے کچھ جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ چند خاص اقسام سرطان پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ خاص طور پر خواتین میں سروائیکل کینسر یعنی رحمِ مادر کے منہ کا کینسر زیادہ تر HPV وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں لاکھوں خواتین ہر سال اس بیماری کا شکار ہوتی ہیں اور ان میں ایک بڑی تعداد ترقی پذیر ممالک کی ہے جہاں آگاہی اور ویکسینیشن کی سہولت کم ہے۔ اسی پس منظر میں HPV ویکسین ایک نہایت اہم پیش رفت سمجھی جاتی ہے جو اس مہلک مرض سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہے۔

HPV ویکسین بنیادی طور پر ایک حفاظتی ویکسین ہے، اس کا مقصد انسانی جسم کو وائرس کے خلاف مدافعتی نظام تیار کرنے میں مدد دینا ہے۔ یہ ویکسین زیادہ تر ان اقسام کے خلاف تحفظ فراہم کرتی ہے جو کینسر پیدا کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہیں، خاص طور پر HPV 16 اور HPV 18۔ جدید ترین ویکسین جیسے گارڈاسل 9 (Gardasil 9) نو مختلف اقسام کے خلاف دفاع مہیا کرتی ہے، جن میں وہ اقسام بھی شامل ہیں جو مردوں اور عورتوں دونوں میں گلے، مقعد، اندام نہانی اور عضوِ تناسل کے کینسر کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ویکسین جنسی اعضا پر نکلنے والے زخم یا مسوں (ge***al warts) سے بھی بچاؤ فراہم کرتی ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق یہ ویکسین زیادہ مؤثر تب ہوتی ہے جب اسے کم عمری میں لگایا جائے، اس لیے عالمی سطح پر تجویز کیا گیا ہے کہ لڑکیوں اور لڑکوں کو 9 سے 14 برس کی عمر میں یہ ویکسین دی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عمر تک عام طور پر بچے جنسی تعلقات میں ملوث نہیں ہوتے، اس لیے وائرس کے خلاف مدافعتی نظام زیادہ مضبوط طریقے سے تیار ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص 15 سال یا اس سے زیادہ عمر میں ویکسین لگواتا ہے تو اس کو تین خوراکیں درکار ہوتی ہیں، جبکہ کم عمر بچوں کے لیے صرف دو خوراکیں کافی ہوتی ہیں۔

پاکستان جیسے ممالک میں جہاں صحت کی سہولیات محدود ہیں اور سرطان کی تشخیص اکثر دیر سے ہوتی ہے، وہاں HPV ویکسین کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے اس حوالے سے آگاہی بہت کم ہے۔ کئی والدین اپنے بچوں کو یہ ویکسین نہیں لگواتے کیونکہ انہیں اس کی ضرورت اور فوائد کا علم نہیں ہوتا۔ بعض لوگ سماجی یا مذہبی غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ ویکسین غیر ضروری ہے، حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں HPV ویکسینیشن پروگرام شروع ہونے کے بعد سروائیکل کینسر کے کیسز میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

HPV ویکسین کے چند عام سائیڈ ایفیکٹس بھی ہیں لیکن وہ معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں، جیسے بازو پر درد یا سوجن، ہلکا بخار، یا تھکن کا احساس۔ یہ علامات چند دن میں ختم ہو جاتی ہیں اور کسی قسم کے مستقل نقصان کا خطرہ نہیں ہوتا۔ عالمی ادارہ صحت اور بڑے ریسرچ ادارے بارہا یہ ثابت کر چکے ہیں کہ یہ ویکسین محفوظ ہے اور انسانی جانوں کو بچانے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

سماجی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو HPV ویکسین نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کے لیے بھی ضروری ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف خواتین کے کینسر سے بچاؤ کے لیے ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مردوں کو بھی ایسے کینسر اور بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے جو HPV وائرس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اگر مرد حضرات بھی یہ ویکسین لگوائیں تو معاشرے میں اس وائرس کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں آبادی بہت زیادہ ہے اور صحت پر وسائل محدود ہیں، وہاں حفاظتی ویکسینیشن پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔ حکومت اور نجی اداروں کو مل کر HPV ویکسین کو عام کرنا چاہیے، سکولوں اور کالجوں کی سطح پر آگاہی مہم چلانی چاہیے، اور والدین کو اعتماد میں لے کر یہ باور کرانا چاہیے کہ یہ ویکسین ان کے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کا ذریعہ ہے۔

ایچ پی وی ویکسین جدید طب کی ایک اہم کامیابی ہے۔ یہ نہ صرف ایک مہلک کینسر سے بچاؤ کا ذریعہ ہے بلکہ معاشرے کو ایک بڑے بوجھ سے نجات دلا سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر ممالک میں اس ویکسین کو عام کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ایک صحت مند اور محفوظ زندگی گزار سکیں۔

ڈاکٹر عرفان نظامی
فاطمہ کلینک روپوچک
فاطمہ کلینک ظفروال
Dr-Nixami Irfan
0300 8819784

Terry Schiavo Caseیہ ایک نہایت حساس اور تاریخی مقدمہ ہے جس نے نہ صرف امریکی سماج بلکہ دنیا بھر میں طبی اخلاقیات، انسانی ...
23/08/2025

Terry Schiavo Case

یہ ایک نہایت حساس اور تاریخی مقدمہ ہے جس نے نہ صرف امریکی سماج بلکہ دنیا بھر میں طبی اخلاقیات، انسانی حقوق، مذہبی اقدار اور ریاستی کردار کے بارے میں گہری بحث کو جنم دیا۔ "ٹری شائیوو کیس" دراصل اس سوال کے گرد گھومتا ہے کہ زندگی اور موت کا فیصلہ کس کے ہاتھ میں ہونا چاہیے، اور ایک انسان کی مرضی، اس کے اہل خانہ کے جذبات اور ریاستی قوانین کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتے ہیں۔ اس مقدمے کو سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر، عدالتی کارروائیوں، سیاسی مداخلت، عوامی ردعمل اور اس کے بعد پیدا ہونے والے اثرات پر تفصیل سے غور کرنا ضروری ہے۔

تھریسا میری شائیوو، جنہیں عام طور پر "ٹری" کہا جاتا ہے، ایک عام امریکی لڑکی تھیں جن کی زندگی اچانک ایک ایسے موڑ پر رک گئی جس نے آنے والے پندرہ برسوں تک ان کے خاندان اور پوری قوم کو ایک نہ ختم ہونے والی کشمکش میں مبتلا کر دیا۔ 1990 میں محض چھبیس سال کی عمر میں انہیں اچانک دل کا دورہ پڑا جس سے دماغ کو خون کی فراہمی رک گئی اور وہ شدید دماغی نقصان کا شکار ہو گئیں۔ ڈاکٹروں نے انہیں "پرسیسٹنٹ ویجیٹیٹو اسٹیٹ" یعنی مستقل بے ہوشی کی کیفیت میں قرار دیا۔ اس حالت میں ان کا دماغ صرف بنیادی حیاتیاتی افعال انجام دے رہا تھا، جیسے سانس لینا اور سونے جاگنے کے معمولات، مگر سوچنے، سمجھنے، دیکھنے اور جذبات ظاہر کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی۔ ان کی زندگی کا دارومدار ایک فیڈنگ ٹیوب پر تھا جو انہیں خوراک اور پانی مہیا کرتی تھی۔

یہاں سے ان کی کہانی قانونی اور اخلاقی معرکے میں داخل ہوتی ہے۔ ان کے شوہر مائیکل شائیوو کا کہنا تھا کہ ٹری نے زندگی میں کئی بار یہ بات کہی تھی کہ اگر وہ کبھی اس حالت میں آئیں جس میں کوئی بہتری ممکن نہ ہو تو وہ مشینی سہولتوں کے ذریعے زندہ نہیں رہنا چاہیں گی۔ اس کے برعکس ان کے والدین رابرٹ اور میری شینڈلر کا موقف تھا کہ ان کی بیٹی اب بھی کسی نہ کسی درجے میں باشعور ہے، وہ ان کے لمس اور آواز پر ردعمل دیتی ہے، اور اگر علاج جاری رکھا جائے تو اس میں بہتری کے امکانات موجود ہیں۔ یوں ایک گھر کا ذاتی مسئلہ عدالتوں تک پہنچ گیا اور رفتہ رفتہ ایک قومی بحث کا موضوع بن گیا۔

عدالتوں میں کئی برس تک یہ مقدمہ چلتا رہا۔ 1998 میں مائیکل نے باضابطہ طور پر عدالت سے درخواست کی کہ ٹری کی فیڈنگ ٹیوب ہٹا دی جائے کیونکہ یہ ان کی خواہش کے خلاف ہے۔ والدین نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور کہا کہ یہ اقدام قتل کے مترادف ہوگا۔ عدالت نے شواہد اور گواہیوں کی بنیاد پر مائیکل کے حق میں فیصلہ دیا، مگر اس فیصلے کے بعد ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس میں فیڈنگ ٹیوب بار بار ہٹائی گئی اور والدین کی اپیلوں پر دوبارہ لگائی گئی۔ تقریباً پندرہ برس تک یہ قانونی جنگ جاری رہی۔

اس دوران میڈیا نے اس معاملے کو بڑے پیمانے پر اجاگر کیا۔ امریکی معاشرہ دو حصوں میں بٹ گیا۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جو انسانی وقار کے احترام میں یہ مانتے تھے کہ مصنوعی طور پر کسی کو زندہ رکھنا اس کی خواہش کے خلاف اور غیر انسانی ہے، دوسری طرف وہ لوگ تھے جو اسے خدا کی عطا کردہ زندگی سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ انسان کو کسی بھی حالت میں مرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ مذہبی حلقوں نے اس مسئلے کو "زندگی اور موت" کے فیصلے کے طور پر بیان کیا، جبکہ سیکولر اور قانونی ماہرین نے اسے ذاتی آزادی اور خودمختاری کا سوال قرار دیا۔

اس کیس میں ریاستی اور وفاقی سطح پر سیاسی مداخلت بھی نمایاں رہی۔ 2003 میں فلوریڈا کی مقننہ نے ایک قانون پاس کیا جسے عام طور پر "ٹریز لا" کہا گیا، جس کے تحت گورنر جیب بش کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ ٹری کی فیڈنگ ٹیوب دوبارہ لگوانے کا حکم دیں۔ یہ فیصلہ وقتی طور پر والدین کے حق میں گیا مگر سپریم کورٹ نے بعد میں اس قانون کو آئین کے خلاف قرار دے کر کالعدم کر دیا۔ 2005 میں تو معاملہ امریکی کانگریس تک جا پہنچا جہاں ایک خصوصی بل منظور کیا گیا تاکہ وفاقی عدالتیں اس مقدمے کا دوبارہ جائزہ لے سکیں۔ صدر جارج بش نے اس بل پر دستخط بھی کیے، مگر وفاقی عدالتوں نے مداخلت کرنے سے انکار کر دیا اور ریاستی عدالت کے فیصلوں کو برقرار رکھا۔

آخرکار 18 مارچ 2005 کو ٹری کی فیڈنگ ٹیوب ہمیشہ کے لیے ہٹا دی گئی۔ اس کے بعد وہ تقریباً تیرہ دن تک بغیر خوراک اور پانی کے زندہ رہیں اور 31 مارچ کو 41 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد جب ان کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تو پتہ چلا کہ ان کا دماغ تقریباً آدھا سکڑ چکا تھا، وہ مکمل طور پر نابینا تھیں اور ان کی حالت میں کسی قسم کی بہتری ممکن ہی نہیں تھی۔ یہ نتیجہ اس بات کی توثیق کرتا تھا کہ ڈاکٹرز کا تشخیص درست تھا اور مائیکل شائیوو کا مؤقف حقیقت پر مبنی تھا۔

اس مقدمے کے اثرات صرف ٹری کی زندگی تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے پورے امریکی معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ لوگوں نے اپنی زندگی اور موت کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا۔ "لیونگ ولز" یعنی پیشگی تحریری وصیتیں عام ہو گئیں جن میں لوگ یہ لکھنے لگے کہ اگر وہ کبھی ایسی حالت میں پہنچیں تو ان کے لیے کون سے طبی فیصلے کیے جائیں۔ یہ مقدمہ طب، قانون اور مذہب کے درمیان توازن کے سوالات کو مزید نمایاں کر گیا۔

یہ کیس کئی پہلوؤں سے قابلِ غور ہے۔ اخلاقی لحاظ سے یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ کیا کسی انسان کی زندگی کو مصنوعی ذرائع سے جاری رکھنا ضروری ہے جب کہ اس کی ذہنی اور شعوری صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہو؟ قانونی نقطۂ نظر سے یہ مقدمہ "ذاتی خودمختاری" اور "خاندانی اختیار" کے درمیان تصادم کی بہترین مثال ہے۔ مذہبی اعتبار سے یہ بحث کھڑی ہوئی کہ زندگی اور موت کے فیصلے انسان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہیں، لہٰذا انسان کو اس میں مداخلت کا حق نہیں۔

ٹری شائیوو کیس ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی کی قدر و قیمت کا اندازہ صرف بیماری یا موت کے وقت ہی نہیں بلکہ صحت مند زندگی میں بھی لگانا چاہیے۔ ہمیں اپنی خواہشات اور فیصلے تحریری طور پر درج کر دینے چاہئیں تاکہ بعد میں ہمارے اہلِ خانہ کسی مشکل فیصلے میں نہ پڑیں۔ یہ مقدمہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ریاست کو بعض اوقات نجی زندگی میں مداخلت کرنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ایسے فیصلے اکثر سیاسی رنگ اختیار کر لیتے ہیں اور ذاتی المیے کو عوامی تماشے میں بدل دیتے ہیں۔

یوں یہ مقدمہ صرف ایک خاتون کی زندگی اور موت کی کہانی نہیں بلکہ ایک عہد کی اخلاقی، قانونی اور سیاسی کشمکش کی علامت ہے۔ اس نے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ جدید طب نے جہاں انسان کو زندگی بچانے کے بے شمار مواقع دیے ہیں وہاں اس نے موت کو پیچیدہ اور غیر یقینی بھی بنا دیا ہے۔

ڈاکٹر عرفان نظامی
فاطمہ کلینک ظفروال
فاطمہ کلینک روپوچک
0300 8819784

ہر سال کتوں کے کاٹنے سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد مختلف طبی مسائل کا شکار ہوتے ہیں جن میں سب سے خطرناک اور جان لیوا بیما...
24/05/2025

ہر سال کتوں کے کاٹنے سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد مختلف طبی مسائل کا شکار ہوتے ہیں جن میں سب سے خطرناک اور جان لیوا بیماری ریبیز ہے۔ یہ بیماری وائرل نوعیت کی ہوتی ہے جو کہ عام طور پر متاثرہ جانور، خاص طور پر کتوں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ ریبیز کا وائرس مرکزی اعصابی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے اور اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو تقریباً ہمیشہ موت کا سبب بنتا ہے۔ اس مرض کی سنگینی، اس کی علامات، روک تھام اور علاج کے طریقے ہر فرد کو جاننے چاہییں تاکہ اس جان لیوا وائرس سے خود کو اور دوسروں کو بچایا جا سکے۔

ریبیز کا وائرس Lyssavirus خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور یہ دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کو متاثر کرتا ہے۔ انسانوں میں ریبیز کی منتقلی کا سب سے عام ذریعہ متاثرہ کتے کا کاٹنا ہے۔ وائرس اس جانور کے تھوک میں موجود ہوتا ہے اور جب وہ کسی انسان کو کاٹتا ہے یا اس کی جلد یا آنکھ، ناک یا منہ کی جھلیوں کے ذریعے اس کا لعاب داخل ہوتا ہے تو انسان اس وائرس سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، بلیوں، چمگادڑوں، لومڑیوں اور دیگر گوشت خور جانوروں کے ذریعے بھی یہ وائرس پھیل سکتا ہے، لیکن ترقی پذیر ممالک میں تقریباً 99 فیصد کیسز میں ذریعہ پالتو یا آوارہ کتے ہوتے ہیں۔

ریبیز کی ابتدائی علامات عام بخار، تھکاوٹ، سر درد، بے چینی، اور کاٹے جانے والی جگہ پر درد، جلن یا جھنجھناہٹ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ علامات عام طور پر وائرس کے داخل ہونے کے 20 سے 60 دن بعد ظاہر ہوتی ہیں، تاہم بعض اوقات علامات کی ظاہری مدت کم یا زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ جیسے ہی وائرس دماغ میں پہنچتا ہے، علامات تیزی سے سنگین ہو جاتی ہیں جن میں بے خوابی، الجھن، شدید بے چینی، ہائیڈروفوبیا (پانی کا خوف)، فالج، اور دورے شامل ہو سکتے ہیں۔ اس مرحلے پر پہنچنے کے بعد مریض کا بچنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، اور چند دنوں کے اندر موت واقع ہو جاتی ہے۔

ریبیز کی سب سے اہم اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ یہ بیماری مکمل طور پر قابلِ روک تھام ہے۔ اگر کسی شخص کو کتے یا کسی دیگر مشتبہ جانور نے کاٹا ہو تو فوری طور پر زخم کو صابن اور پانی سے دھونا نہایت ضروری ہے۔ اس کے بعد قریبی اسپتال یا صحت کے مرکز سے رجوع کر کے پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسیس (PEP) کا کورس شروع کرنا چاہیے جو ویکسینز اور بعض صورتوں میں rabies immunoglobulin پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر یہ علاج وقت پر شروع کر دیا جائے تو تقریباً ہر کیس میں مریض کو ریبیز سے بچایا جا سکتا ہے۔

پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسیس کا پہلا قدم زخم کی صفائی ہوتا ہے۔ صابن اور پانی سے کم از کم 15 منٹ تک زخم کو دھونا وائرس کے اثر کو کم کر سکتا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر زخم کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرتا ہے کہ آیا صرف ویکسین کافی ہے یا rabies immunoglobulin بھی لگانے کی ضرورت ہے۔ ویکسین کا کورس عام طور پر چار سے پانچ خوراکوں پر مشتمل ہوتا ہے جو مخصوص دنوں میں لگائی جاتی ہیں۔ اگر یہ پروسیجر مکمل کر لیا جائے تو مریض کے ریبیز سے متاثر ہونے کے امکانات تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔

ریبیز سے بچاؤ کے لیے ایک اور اہم قدم قبل از وقت ویکسینیشن (pre-exposure prophylaxis) ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں جیسے کہ جانوروں کے ڈاکٹروں، لیبارٹری میں کام کرنے والوں، جنگلاتی عملے یا ان افراد کے لیے جو ریبیز کے زیادہ پھیلاؤ والے علاقوں میں سفر کرتے ہیں۔ یہ ویکسینیشن بھی مخصوص خوراکوں پر مشتمل ہوتی ہے جو جسم میں اینٹی باڈیز پیدا کرتی ہیں جو وائرس کے حملے سے پہلے ہی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

ترقی پذیر ممالک میں ریبیز کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور عام افراد میں اس بیماری کے حوالے سے شعور کی کمی ہے۔ بہت سے لوگ کتے کے کاٹنے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور بروقت طبی امداد حاصل نہیں کرتے جس کا نتیجہ اکثر اوقات موت کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومتیں آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں، جن میں ان کی نس بندی، ویکسینیشن، اور جانوروں کی نگرانی شامل ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ عوامی سطح پر آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ لوگ کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری اور درست اقدام کر سکیں۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر بین الاقوامی ادارے دنیا کو ریبیز سے پاک بنانے کے لیے 2030 تک کے ہدف پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے لیے عالمی سطح پر "Zero by 30" مہم جاری ہے جس میں کتے کے کاٹنے سے ہونے والی انسانی اموات کو صفر تک لانے کا عزم کیا گیا ہے۔ اس مہم کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ اگر ہر کتے کو ویکسین دی جائے، ہر کاٹے جانے والے شخص کو بروقت علاج فراہم کیا جائے، اور عوام کو بیماری کے بارے میں آگاہی ہو، تو ریبیز کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔

ریبیز کے بارے میں ایک اور اہم پہلو سماجی اور معاشی اثرات ہیں۔ جب کسی خاندان کا فرد اس بیماری سے متاثر ہوتا ہے تو نہ صرف جانی نقصان ہوتا ہے بلکہ مالی بوجھ بھی بڑھ جاتا ہے۔ علاج کی لاگت، سفر کے اخراجات، اور وقت پر علاج نہ ہونے کی صورت میں ہونے والے نقصانات خاندانوں کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل سکتے ہیں۔ اس لیے اس بیماری کا تدارک نہ صرف صحت کا مسئلہ ہے بلکہ معاشرتی ترقی کا بھی اہم پہلو ہے۔

تعلیم کے شعبے میں بھی ریبیز کے بارے میں آگاہی کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی سکھایا جانا چاہیے کہ آوارہ یا مشتبہ جانوروں سے دور رہیں، کاٹنے کی صورت میں کیا کرنا ہے، اور بیماری کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کریں۔ اسکولوں میں اس حوالے سے خصوصی کلاسز اور آگاہی مہمات کا انعقاد اس شعور کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

مذہبی، ثقافتی اور علاقائی رویے بھی ریبیز کی روک تھام میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ بعض علاقوں میں جانوروں کو مارنے یا ویکسینیشن کے عمل کو برا سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مقامی رہنماؤں، مذہبی شخصیات، اور سماجی کارکنوں کو بھی اس مہم کا حصہ بنایا جائے تاکہ وہ اپنی کمیونٹیز میں صحیح پیغام پہنچا سکیں اور لوگوں کو سائنسی بنیادوں پر قائل کر سکیں۔

یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ریبیز ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا حل ہمارے پاس موجود ہے لیکن اس کے لیے اجتماعی شعور، حکومتی عزم، اور طبی نظام کی فعالیت نہایت ضروری ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ارد گرد کے ماحول کو محفوظ بنائیں، آوارہ جانوروں سے محتاط رہیں، اور کسی بھی کاٹنے کے واقعے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری علاج کروائیں۔ اگر ہم ان بنیادی اقدامات کو اپنائیں تو وہ دن دور نہیں جب ریبیز صرف ایک تاریخ کا حصہ بن جائے گا اور انسانیت اس موذی مرض سے ہمیشہ کے لیے نجات پا لے گی۔

ڈاکٹر عرفان نظامی
فاطمہ کلینک ظفروال
Dr-Nixami Irfan
Fatima Clinic, Rupo-Chak.
Rupo-Chak
0300 8819784

جے این ون وائرس انفلوئنزا اے کا ایک نیا ویرینٹ ہے، جو سانس کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ بخار، نزلہ، کھانسی، جسم میں درد اور کم...
26/03/2025

جے این ون وائرس انفلوئنزا اے کا ایک نیا ویرینٹ ہے، جو سانس کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ بخار، نزلہ، کھانسی، جسم میں درد اور کمزوری کا سبب بن سکتا ہے۔ کمزور قوت مدافعت والے افراد، بچے اور بزرگ زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ بعض کیسز میں یہ نمونیا یا سانس کی شدید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

بچاؤ کے لیے ہاتھ دھونا، ماسک پہننا اور بیمار افراد سے فاصلہ رکھنا ضروری ہے۔ قوت مدافعت بڑھانے کے لیے متوازن غذا، وٹامن سی اور مناسب آرام اہم ہیں۔ فلو کی ویکسین بھی تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔

ڈاکٹر عرفان نظامی
فاطمہ کلینک روپوچک
Dr-Nixami Irfan
Fatima Clinic, Rupo-Chak.
0300 8819784

انسان کرہ ارض کی سب سے منفرد اور حیرت انگیز مخلوق ہے۔ ہر خطے، ہر موسم اور ہر ماحول میں اپنی موجودگی ثابت کرنے والا، زمین...
03/03/2025

انسان کرہ ارض کی سب سے منفرد اور حیرت انگیز مخلوق ہے۔ ہر خطے، ہر موسم اور ہر ماحول میں اپنی موجودگی ثابت کرنے والا، زمین کے ہر کونے میں اپنا اثر چھوڑنے والا، اور باقی تمام مخلوقات پر علمی، سماجی اور تہذیبی برتری قائم کرنے والا صرف اور صرف انسان ہے۔ یہ کامیابی نہ کسی اتفاق کا نتیجہ ہے اور نہ ہی محض فطری قوتوں کا عطیہ بلکہ انسانی جسم، ذہن، سماجی رویے اور تخلیقی صلاحیتوں کا مشترکہ ثمر ہے، جس نے انسان کو ایک عام حیاتیاتی وجود سے ایک بااختیار اور فیصلہ ساز مخلوق بنا دیا۔ اس مضمون میں انہی انسانی خصوصیات کو گہرائی، تاریخی تسلسل، سائنسی تشریحات اور عملی مثالوں کے ذریعے پیش کیا جا رہا ہے تاکہ واضح ہو سکے کہ وہ کون سی صفات ہیں جو انسان کو دیگر جانداروں سے ممتاز اور نمایاں کرتی ہیں۔

سب سے پہلے انسانی دماغ کو لیجیے، جو انسان کی تمام کامیابیوں کی بنیاد ہے۔ ایک عام انسانی دماغ تقریباً تیرہ سو سے پندرہ سو گرام وزنی ہوتا ہے، مگر اس محدود وزن میں چھپی صلاحیتیں لامحدود ہیں۔ انسانی دماغ کا فرنٹل لوب منصوبہ بندی، فیصلہ سازی اور تجزیاتی سوچ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ صلاحیت جانوروں میں یا تو سرے سے موجود نہیں یا انتہائی محدود ہے۔ انسان نے نہ صرف اپنے ارد گرد کے ماحول کو سمجھا بلکہ مستقبل کے بارے میں سوچا، اس کے لیے منصوبہ بندی کی اور اپنے تجربات کو شعوری طور پر اگلی نسلوں تک منتقل کیا۔ یہی وہ ذہنی صلاحیت ہے جو انسان کو محض حال میں جینے کے بجائے مستقبل کا خواب دیکھنے، اس کے لیے محنت کرنے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

انسانی زبان اور ابلاغ بھی انسان کی ایک غیرمعمولی خصوصیت ہے۔ اگرچہ کچھ جانور محدود آوازوں یا جسمانی حرکات کے ذریعے اپنے پیغام دوسروں تک پہنچاتے ہیں، لیکن وہ ابلاغ کبھی زبان کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ زبان میں الفاظ کے ساتھ ساتھ معانی، جذبات اور خیالات شامل ہوتے ہیں۔ انسان نے نہ صرف زبان تخلیق کی بلکہ اس میں وقت کے ساتھ ساتھ ارتقا بھی کیا۔ زبان کے ذریعے علم، تاریخ، کہانیاں، روایات اور سائنسی حقائق نسل در نسل منتقل ہوئے۔ یہ زبان ہی ہے جس نے انسان کو ایک دوسرے سے جوڑا، اجتماعی سوچ کو پروان چڑھایا اور باہمی تعاون کی مضبوط بنیاد رکھی۔ یہی زبان تحریر میں ڈھلی، کتابیں لکھی گئیں اور علم کا ایسا ذخیرہ جمع ہوا جس کا تصور بھی کسی اور جاندار کے لیے ممکن نہیں۔

انسانی جسمانی ساخت بھی اپنی مثال آپ ہے۔ انسان بظاہر طاقت میں بہت سے جانوروں سے کمزور ہے، نہ شیر کی طرح پنجے، نہ ہاتھی کی طرح طاقتور جسم، نہ چیتے کی رفتار، مگر اس کے باوجود انسان نے اپنے جسمانی اوصاف سے غیرمعمولی کارنامے سرانجام دیے۔ سب سے نمایاں خصوصیت دو ٹانگوں پر چلنے کی صلاحیت ہے، جس نے انسان کے ہاتھوں کو آزاد کر دیا۔ یہی آزاد ہاتھ اوزار بنانے، استعمال کرنے اور بہتر سے بہتر آلات تخلیق کرنے میں استعمال ہوئے۔ انسانی ہاتھ کی انگلیوں میں لچک، گرفت اور باریک سے باریک کام کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہی ہاتھ پتھر کے اوزار سے لے کر کمپیوٹر، روبوٹ اور خلائی جہاز تک تخلیق کر چکے ہیں۔

دوڑنے اور جسمانی برداشت میں بھی انسان منفرد ہے۔ بیشتر شکاری جانور مختصر فاصلے تک بہت تیزی سے دوڑ سکتے ہیں مگر جلد تھک جاتے ہیں۔ انسان پسینے کے نظام، پٹھوں کی ساخت اور جسمانی مطابقت کے باعث طویل فاصلے تک دوڑ سکتا ہے۔ یہ صلاحیت ابتدائی انسان کے لیے شکار اور خوراک کے حصول میں نہایت اہم تھی۔ یہی صلاحیت آج بھی میراتھن دوڑ جیسے مقابلوں میں اپنی جھلک دکھاتی ہے، جہاں انسان مسلسل گھنٹوں دوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سماجی زندگی اور معاشرتی ڈھانچہ انسانی ترقی کا ایک اور سنگ بنیاد ہے۔ انسان فطری طور پر سماجی مخلوق ہے۔ جانور بھی گروہوں میں رہتے ہیں، مگر ان کا سماجی نظام فطری جبلتوں پر قائم ہوتا ہے۔ انسان نے شعوری طور پر سماجی نظام تشکیل دیا، قوانین اور اصول بنائے، رسم و رواج تخلیق کیے، اور ان سب کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔ یہی معاشرتی ڈھانچہ انسان کو مشترکہ منصوبہ بندی، اجتماعی جدوجہد اور باہمی تعاون کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انسان کا یہ سماجی نظام قبائلی زندگی سے لے کر جدید ریاستی نظام تک مسلسل ارتقائی عمل سے گزرا ہے، اور آج بھی انسان اپنی سماجی صلاحیتوں کو نئی نئی شکلیں دے رہا ہے۔

تخیل اور تجریدی سوچ انسانی دماغ کی سب سے منفرد اور غیرمعمولی خوبیوں میں شامل ہے۔ یہ انسان ہی ہے جو نہ صرف موجود چیزوں کو سمجھتا ہے بلکہ ایسی چیزوں کا تصور بھی کر سکتا ہے جو کبھی موجود نہیں رہیں۔ یہ تخیل ادب، فنون لطیفہ، مذہب، فلسفہ اور سائنس میں نظر آتا ہے۔ دیومالائی کہانیاں، خوابوں میں بستیاں، نئے جہانوں کی تلاش — یہ سب انسانی تخیل کی پرواز ہے۔ یہی تخیل انسان کو محض فطری ضروریات سے آگے لے جا کر ایک تہذیبی مخلوق بناتا ہے۔

انسانی مطابقت اور حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت بھی بے مثال ہے۔ دنیا کے ہر خطے میں انسان کا موجود ہونا اس کی مطابقت پذیری کا واضح ثبوت ہے۔ برفانی علاقوں میں رہنے والے انسانوں نے خود کو سردی کے مطابق ڈھالا، گرم صحراؤں میں رہنے والوں نے پانی کے وسائل کو محفوظ کرنے کے طریقے سیکھے، پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں نے مخصوص طرز زندگی اختیار کیا، اور ساحلی علاقوں کے انسانوں نے سمندر سے جینا سیکھا۔ یہی صلاحیت انسان کو غیرمعمولی حالات میں بھی زندہ رہنے اور ترقی کرنے کے قابل بناتی ہے۔

سیکھنے اور اختراع کرنے کی انسانی صلاحیت نے اسے حیوانی دنیا سے الگ کر کے تہذیبی بلندیوں تک پہنچایا۔ ابتدائی انسان نے پتھر کے اوزار بنائے، آگ جلانا سیکھی، شکار کے طریقے ایجاد کیے، اور پھر زرعی انقلاب کے ذریعے مستقل بستیاں بسا کر تہذیب کی بنیاد رکھی۔ صنعتی انقلاب نے مشینوں کی طاقت دی اور انفارمیشن انقلاب نے علم اور رابطے کے نئے دروازے کھولے۔ یہ تمام ترقی انسانی ذہانت، اختراع اور اجتماعی تعاون کا نتیجہ ہے۔

انسانی تاریخ ان خصوصیات کے عملی مظاہر سے بھری پڑی ہے۔ مصر کے اہرام ہوں یا چین کی دیوار، موئن جو دڑو کی منصوبہ بندی ہو یا یونانی فلسفے کی گہرائی، اسلامی تہذیب کی علمی میراث ہو یا جدید سائنسی ایجادات، سب انسانی دماغ، تخیل اور اجتماعی تعاون کی اعلیٰ مثالیں ہیں۔ انسان نے خلا میں قدم رکھا، سمندروں کی تہہ میں جھانکا، ایٹمی توانائی کو قابو کیا اور مصنوعی ذہانت کو حقیقت میں بدلا۔ یہ سب انسانی خصوصیات اور صلاحیتوں کا تسلسل ہے۔

ان تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انسانی ذہانت، زبان و ابلاغ، جسمانی مطابقت، سماجی تعاون، تخیل، تجریدی سوچ، سیکھنے اور اختراع کرنے کی صلاحیتیں انسان کو کرہ ارض کی سب سے منفرد، سب سے بااثر اور سب سے کامیاب مخلوق بناتی ہیں۔ یہی وہ صفات ہیں جنہوں نے انسان کو حیوان سے انسان اور انسان سے تہذیب ساز مخلوق بنایا۔ یہی خصوصیات انسان کا اصل سرمایہ ہیں اور یہی سرمایہ اسے مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے اور نئے جہانوں کو دریافت کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

ڈاکٹر عرفان نظامی
فاطمہ کلینک روپوچک
Dr-Nixami Irfan
Fatima Clinic, Rupo-Chak.
0300 8819784

Address

Rupo-Chak, Tehsil Zafarwal, District Narowal
Punjab
51670

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00
Sunday 09:00 - 21:00

Telephone

+923008819784

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fatima Clinic, Rupo-Chak. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Fatima Clinic, Rupo-Chak.:

Shortcuts

Share

Category