22/03/2026
سیلڈینافل ایک جدید ادویاتی ترکیب ہے جو فاسفو ڈائی ایسٹریس ٹائپ فائیو انحیبیٹرز کی کلاس سے تعلق رکھتی ہے اور یہ بنیادی طور پر مردوں میں عضو تناسل کی ناکامی یعنی erectile dysfunction کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس کی دریافت کا سفر 1989 میں شروع ہوا جب برطانوی فارماسیوٹیکل کمپنی Pfizer کے سائنسدانوں نے اسے دل کی بیماریوں خصوصاً angina pectoris کے علاج کے لیے تیار کیا۔ ابتدائی کلینیکل ٹرائلز میں یہ دل کی حالت پر مطلوبہ اثر نہیں دکھا سکا مگر جنسی صلاحیت میں نمایاں بہتری کا مشاہدہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں کمپنی نے اسے عضو تناسل کی کمزوری کے علاج کے لیے دوبارہ پوزیشن کیا اور 1996 میں اس کا پیٹنٹ حاصل کیا۔ 27 مارچ 1998 کو امریکہ میں اس کی طبی منظوری ملی اور Vi**ra کے برانڈ نام سے مارکیٹ میں آئی۔ یہ دنیا کی پہلی زبانی دوا تھی جو اس مسئلے کا مؤثر حل فراہم کرتی تھی۔ بعد میں اسے Revatio کے نام سے پھیپھڑوں کی شریانوں میں دباؤ یعنی pulmonary arterial hypertension کے علاج کے لیے بھی منظور کیا گیا۔ آج یہ دوا دنیا بھر میں لاکھوں مریضوں کی زندگی کا معیار بہتر بنا چکی ہے اور 2023 تک امریکہ میں یہ 151 ویں سب سے زیادہ تجویز کی جانے والی دوا رہی جس کے تین ملین سے زائد نسخے لکھے گئے۔
اس کی کیمیائی ساخت پیچیدہ مگر مؤثر ہے۔ اس کا IUPAC نام 5-{2-Ethoxy-5-[(4-methylpiperazin-1-yl)sulfonyl]phenyl}-1-methyl-3-propyl-1,6-dihydro-6H-pyrazolo[4,3-d]pyrimidin-7-one ہے اور یہ sildenafil citrate کی شکل میں استعمال ہوتی ہے تاکہ استحکام برقرار رہے۔ فارماکولوجیکل طور پر یہ cGMP مخصوص phosphodiesterase type 5 کو روکتی ہے۔ جنسی تحریک کے دوران نائٹرک آکسائیڈ کی رہائی guanylate cyclase کو متحرک کرتی ہے جس سے cGMP کی سطح بڑھتی ہے۔ یہ cGMP پروٹین کائنیز کو ایکٹیویٹ کر کے ہموار پٹھوں کو آرام دیتا ہے، کیلشیم کی سطح کم کرتا ہے اور خون کی نالیاں پھیلاتا ہے۔ نتیجتاً عضو تناسل میں خون کا بہاؤ بڑھتا ہے اور er****on ممکن ہو پاتا ہے۔ یہ عمل صرف جنسی تحریک کے ساتھ کام کرتا ہے اور بغیر تحریک کے er****on نہیں لاتا۔ پھیپھڑوں کی شریانوں میں بھی یہی عمل دباؤ کم کر کے دل پر بوجھ ہلکا کرتا ہے۔ اس کا میٹابولزم جگر میں CYP3A4 اور CYP2C9 انزائم کے ذریعے ہوتا ہے اور نصف عمر تین سے چار گھنٹے ہے۔ خوراک 25، 50 یا 100 ملی گرام کی گولیوں کی شکل میں ہوتی ہے جبکہ پھیپھڑوں کے دباؤ کے لیے 20 ملی گرام تین بار روزانہ۔
اس دوا کے استعمال میں کامیابی کے ساتھ ساتھ متعدد نقصانات بھی منسلک ہیں جو مریضوں کو احتیاط برتنے پر مجبور کرتے ہیں۔ عام ضمنی اثرات میں سر درد، چہرے کی سرخی، معدے کی تکلیف، ناک بند ہونا، آنکھوں کے گرد درد، پٹھوں میں درد، ناک سے خون بہنا، اسہال، سانس لینے میں دشواری اور نیند کی خرابی شامل ہیں۔ یہ اثرات عموماً عارضی ہوتے ہیں مگر اگر مسلسل رہیں تو ڈاکٹر سے رجوع ضروری ہے۔ ان اثرات کی وجہ PDE5 کے علاوہ PDE6 انزائم پر بھی جزوی اثر ہے جو بینائی کو متاثر کر سکتا ہے۔ کچھ مریضوں میں بینائی میں عارضی تبدیلیاں جیسے دھندلا پن، رنگوں کی شناخت میں فرق یا روشنی کے سامنے حساسیت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ اثرات زیادہ تر خوراک کے بعد چند گھنٹوں میں ختم ہو جاتے ہیں مگر انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
نقصانات کی فہرست میں کم عام مگر سنگین خطرات بھی ہیں جو فوری طبی امداد کا تقاضا کرتے ہیں۔ سب سے اہم priapism ہے یعنی عضو تناسل کی چار گھنٹے سے زائد کھڑی اور درد بھری حالت۔ یہ حالت عضو کے مستقل نقصان کا باعث بن سکتی ہے اور ایمرجنسی ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اچانک بینائی کا نقصان ایک یا دونوں آنکھوں میں، جو non-arteritic anterior ischemic optic neuropathy سے منسلک ہے، سنگین مسئلہ ہے۔ 2005 میں FDA نے PDE5 انحیبیٹرز کے لیے اس خطرے کا الرٹ جاری کیا۔ اسی طرح 2007 میں سماعت کا اچانک نقصان، کانوں میں گھنٹی کی آواز یا بہرا پن کا خطرہ بھی اجاگر کیا گیا۔ یہ اثرات نایاب ہیں مگر ان کی رپورٹیں پوسٹ مارکیٹنگ نگرانی میں سامنے آئیں۔ دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی، سینے کا درد، چکر آنا، بیہوشی، بلڈ پریشر کا اچانک گرنا، سانس کی تکلیف، جسم کے مختلف حصوں میں سوجن، الٹی، شدید سر درد، تیز دھڑکن اور جلد پر دانے یا خارش بھی ممکن ہیں۔ ان علامات میں سے کوئی بھی ظاہر ہو تو فوری ڈاکٹر یا ایمرجنسی روم کا رخ کرنا چاہیے۔
سیلڈینافل کے نقصانات کا سب سے بڑا خطرہ اس کی دوسری ادویات کے ساتھ تعامل سے پیدا ہوتا ہے۔ نائٹریٹس والی دوائیں جیسے nitroglycerin، isosorbide mononitrate یا poppers یعنی amyl nitrite کے ساتھ اس کا استعمال شدید hypotension کا سبب بن سکتا ہے جو دل کا دورہ یا فالج کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ یہ تعامل زندگی کے لیے خطرناک ہے اور مطلقاً ممنوع ہے۔ ریوکوگواٹ نامی دوا کے ساتھ بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ HIV کی دوائیں جیسے ritonavir یا protease inhibitors اس کے میٹابولزم کو سست کر کے سطح بڑھا دیتی ہیں جس سے ضمنی اثرات شدید ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں خوراک 25 ملی گرام تک محدود رکھی جاتی ہے اور 48 گھنٹے کا وقفہ ضروری ہے۔ الفا بلاکرز جیسے hypertension یا prostate کی دوائیں بھی بلڈ پریشر گرا سکتی ہیں۔ CYP3A4 انحیبیٹرز جیسے erythromycin، cimetidine یا grapefruit juice اس کی نصف عمر بڑھا کر نقصانات بڑھاتے ہیں۔ الکوحل، تمباکو یا دیگر جنسی بڑھانے والی ادویات کے ساتھ بھی احتیاط برتنی چاہیے۔
دل کی بیماریوں والے مریضوں، حالیہ دل کا دورہ، فالج، شدید بلڈ پریشر کی کمی یا زیادتی، جگر یا گردوں کی شدید خرابی، آنکھوں کے امراض جیسے retinitis pigmentosa یا NAION کی تاریخ، sickle cell anemia، pe**le deformity یا bleeding disorders والوں کو یہ دوا احتیاط سے یا بالکل نہیں لینی چاہیے۔ بزرگ افراد میں خوراک کم رکھی جاتی ہے کیونکہ عمر رسیدہ اعضاء اسے سست میٹابولائز کرتے ہیں۔ خواتین میں اس کی افادیت غیر واضح ہے اور یہ ان کے لیے منظور نہیں۔ بچوں میں صرف پھیپھڑوں کے دباؤ کے لیے مخصوص خوراک استعمال ہوتی ہے۔ حمل یا دودھ پلانے والی خواتین کے لیے ڈیٹا محدود ہے اس لیے فائدہ اور نقصان کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ یہ دوا جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں سے تحفظ نہیں دیتی اس لیے محفوظ جنسی عمل ضروری ہے۔
زیادہ مقدار میں استعمال overdose کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے جس میں شدید hypotension، چکر، الٹی اور دل کی پیچیدگیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ جعلی ادویات کا بازار بھی بڑا مسئلہ ہے جہاں 80 فیصد آن لائن سیلرز جعلی پروڈکٹس بیچتے ہیں جن میں خطرناک مادے جیسے amphetamines، boric acid یا یہاں تک کہ rat poison بھی پایا جاتا ہے۔ اس لیے صرف مستند فارمیسی سے نسخہ پر ہی خریدیں۔ پوسٹ مارکیٹنگ نگرانی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض مریضوں میں یہ دوا دل کی پیچیدگیاں بڑھا سکتی ہے خاص طور پر وہ لوگ جن میں پہلے سے cardiovascular risk factors موجود ہوں۔
سیلڈینافل کے استعمال میں پیشہ ورانہ مہارت کا تقاضا یہ ہے کہ مریض ہرگز خود سے نہ لے بلکہ ڈاکٹر کی مکمل جانچ، تاریخچہ اور خون کے ٹیسٹ کے بعد ہی شروع کرے۔ باقاعدگی سے فالو اپ ضروری ہے تاکہ نقصانات کا بروقت پتہ چل سکے۔ اگر کوئی ضمنی اثر ظاہر ہو تو فوری بند کر کے طبی مشورہ لیں۔ یہ دوا زندگی کا معیار بہتر بنا سکتی ہے مگر اس کے سنگین نقصانات سے بچنے کے لیے ذمہ دارانہ استعمال ناگزیر ہے۔ مریض کو ہر طبی پیشے والے کو اپنی دوا کے بارے میں مطلع رکھنا چاہیے خاص طور پر ایمرجنسی میں۔ اس طرح احتیاط سے یہ دوا فائدہ مند ثابت ہو گی ورنہ اس کے خطرات مریض کی صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ مکمل معلومات کے لیے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے رجوع کریں کیونکہ انفرادی حالات مختلف ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر عرفان نظامی
فاطمہ کلینک روپوچک
0300 8819784