24/06/2026
پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) بلوچستان
پریس بیان
پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) بلوچستان حکومتِ بلوچستان کی جانب سے صوبے بھر میں ملازمین کی تنخواہوں سے کی جانے والی ناجائز کٹوتیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ اے آئی (Attendance Initiative/System) میں حاضری کی عدم دستیابی یا تکنیکی مسائل کی بنیاد پر ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ بلوچستان کے تقریباً 60 فیصد علاقوں میں آج بھی انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ کئی دور دراز اضلاع میں موبائل نیٹ ورک بھی انتہائی ناقص یا مکمل طور پر غیر فعال رہتا ہے۔ ایسے حالات میں ملازمین کو ایک ایسے نظام کا ذمہ دار ٹھہرانا جس کے لیے بنیادی سہولیات ہی میسر نہ ہوں، سراسر ناانصافی ہے۔
صحت کے شعبے سے وابستہ پیرامیڈیکل اسٹاف انتہائی مشکل اور دور افتادہ علاقوں میں عوام کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔ اگر نیٹ ورک یا سسٹم کی خرابی کے باعث حاضری درج نہ ہو سکے تو اس کی سزا ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی صورت میں دینا کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں۔
پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) بلوچستان حکومتِ بلوچستان، محکمہ صحت اور متعلقہ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ:
1. اے آئی سسٹم کی بنیاد پر کی جانے والی تمام ناجائز تنخواہی کٹوتیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔
2. جن ملازمین کی تنخواہوں سے بلاجواز کٹوتی کی گئی ہے، انہیں فوری طور پر مکمل ادائیگی کی جائے۔
3. جب تک بلوچستان کے تمام علاقوں میں انٹرنیٹ اور سسٹم کی سہولیات یکساں طور پر دستیاب نہیں ہوتیں، اس نظام کو سزا کے بجائے سہولت کے طور پر استعمال کیا جائے۔
4. دور دراز علاقوں کے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا قابلِ عمل اور منصفانہ طریقہ کار وضع کیا جائے جس سے ملازمین کے حقوق متاثر نہ ہوں۔
پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن واضح کرتی ہے کہ اگر اس ناانصافی کا فوری ازالہ نہ کیا گیا تو تنظیم اپنے آئینی اور قانونی حق کے تحت احتجاج اور دیگر جمہوری اقدامات کرنے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن 2076(رجسٹرڈ) بلوچستان