23/07/2026
آج ٹراما سینٹر میں میڈیا پرسن اور انتظامی ڈاکٹر کے درمیان ہونی والی تلخ کلامی اور بعد ازاں پیدا ہونے والی بدنظمی نہایت ہی افسوسناک ہے۔ لیکن جذبات سے ہٹ کر اگر دیکھا جائے، تو یہ واقعہ ان بنیادی مسائل کا نتیجہ ہے جن کی نشاندہی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) پچھلے دو ماہ سے مسلسل کر رہی ہے۔
1. ہسپتالوں میں سیکیورٹی کا شدید فقدان:
اگر ہسپتال میں ایک پیشہ ورانہ اور مضبوط سیکیورٹی نظام موجود ہوتا، تو نوبت کبھی ہاتھاپائی یا تلخ کلامی تک پہنچتی ہی نہیں۔موثر سیکیورٹی نظام نہ ہونے کی وجہ سے ہی ڈاکٹرز اور میڈیا پرسنز آپس میں الجھ پڑے، حالانکہ دونوں کا مقصد اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی تھا۔
2. واضح SOPs کی عدم موجودگی:
ہسپتالوں میں انٹری، میڈیا کوریج اور وزٹ کے لیے واضح اور نمایاں (Advertised) ایس او پیز کا ہونا ناگزیر ہے۔ اگر میڈیا ہاؤسز اور عام عوام کے لیے ہسپتال میں داخلے اور کام کرنے کے قواعد و ضوابط طے ہوتے، تو آج یہ بدنظمی کبھی پیدا نہ ہوتی۔
سیکیورٹی ایکٹ کیوں ضروری ہے؟
ہم پچھلے دو مہینوں سے جس "سیکیورٹی ایکٹ" کی منظوری کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ انہی تمام پہلوؤں کو احاطہ کرتا ہے۔ ایک جامع سیکیورٹی ایکٹ اور پیشہ ورانہ سیکیورٹی کا مقصد صرف ڈاکٹروں کو تحفظ دینا نہیں، بلکہ:
ہسپتال آنے والے میڈیا پرسنز اور دیگر آفیشلز کو طے شدہ ایس او پیز کے تحت عزّت اور نظم و ضبط کے ساتھ ڈیل کرنا ہے۔
کسی بھی غیر متعلقہ شخص کے بلاجواز داخلے کو روکنا ہے تاکہ معالجین بغیر کسی ذہنی دباؤ کے مریضوں کی جان بچا سکیں۔
اگر حکومت اور محکمہ صحت نے اب بھی ہسپتالوں میں سیکیورٹی ایکٹ نافذ نہ کیا اور ایس او پیز تشکیل نہ دیے، تو ایسے واقعات بار بار دہرائے جائیں گے۔
ہم میڈیا اور انتظامیہ دونوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اصل مسئلے یعنی ہسپتالوں کے ناقص سیکیورٹی سسٹم پر توجہ مرکوز کریں، تاکہ آئندہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔