12/05/2026
قرآن مجید کی سورۃ المومنون (آیات 12 تا 14) میں ان مراحل کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:
"اور البتہ ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ (رحمِ مادر) میں نطفہ بنا کر رکھا۔ پھر ہم نے اس نطفہ کو علقہ (خون کا لوتھڑا جو جونک کی طرح چمٹ جاتا ہے) بنایا، پھر ہم نے اس علقہ کو مضغہ (گوشت کی بوٹی جس پر دانتوں کے نشان ہوں) بنا دیا، پھر ہم نے اس مضغہ سے ہڈیاں بنائیں، پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر ہم نے اسے ایک دوسری ہی صورت میں پروان چڑھایا۔ پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔"
قرآنی اصطلاحات اور تصویر کے مراحل
تصویر میں دکھائے گئے ہفتوں کے حساب سے قرآنی مراحل کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے:
نطفہ (Sperm/Zygote): یہ آغاز ہے جب زندگی کی بنیاد پڑتی ہے (تصویر میں ہفتہ 1 سے 3 کے قریب)۔
علقہ (Leech-like Clot): ہفتہ 5 اور 6 کے گرد جب جنین رحم کی دیوار سے چمٹ جاتا ہے اور اس کی شکل ایک جونک جیسی ہوتی ہے۔
مضغہ (Chewed-like lump): ہفتہ 8 سے 12 کے درمیان، جب اعضاء کی ابتدائی شکل بننا شروع ہوتی ہے اور یہ گوشت کے ایک ٹکڑے کی مانند لگتا ہے۔
عظام (Bones): ہڈیوں کا ڈھانچہ بننا شروع ہوتا ہے۔
لحم (Flesh/Muscles): ہڈیوں پر پٹھے اور گوشت چڑھنا (ہفتہ 13 سے 20 تک کے مراحل)۔
خلقاً آخر (Another Creation): جب اس میں روح پھونکی جاتی ہے اور وہ مکمل انسانی شکل اختیار کر لیتا ہے (تصویر کے آخری مراحل)۔
ایک اہم نکتہ:
قرآن پاک میں ایک اور جگہ سورۃ الحج (آیت 5) میں گوشت کی بوٹی (مضغہ) کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ "مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ" (کچھ بنی ہوئی اور کچھ ادھوری) ہوتی ہے، جو بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ تصویر میں ابتدائی ہفتوں میں اعضاء کی غیر واضح شکل نظر آتی ہے۔
یہ آیات 1400 سال پہلے نازل ہوئیں جب مائیکروسکوپ یا الٹرا ساؤنڈ جیسی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی، اسی لیے بہت سے لوگ اسے ایک عظیم معجزہ قرار دیتے ہیں۔
゚