20/04/2026
نوجوانوں میں دل کے دورے کی بڑھتی ہوئی شرح: سائنسی حقائق، وجوہات اور احتیاطی تدابیر
مصنف: ڈاکٹر سید راشد علی، چیئرمین روشن ہیلتھ ریسرچ اینڈ ویلفیئر سوسائٹی پاکستان
آج کا نوجوان بظاہر توانائی، رفتار اور جدت کی علامت ہے، مگر اسی کے ساتھ ایک خاموش خطرہ بھی پروان چڑھ رہا ہے—دل کے دورے کی بڑھتی ہوئی شرح۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ جدید طرزِ زندگی، خوراک اور ذہنی دباؤ کا ایک سائنسی نتیجہ ہے۔ مختلف طبی تحقیقات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ دل کے امراض اب صرف عمر رسیدہ افراد تک محدود نہیں رہے بلکہ 25 سے 40 سال کی عمر کے افراد بھی تیزی سے اس کا شکار ہو رہے ہیں۔
خوراک اور سائنسی حقیقت
ڈبہ بند (Processed) اور فاسٹ فوڈ میں عام طور پر سیر شدہ چکنائی (Saturated fats)، ٹرانس فیٹس (Trans fats) اور زیادہ مقدار میں نمکیات (Sodium) شامل ہوتے ہیں۔ سائنسی طور پر یہ ثابت ہے کہ:
Trans fats خون میں خراب کولیسٹرول (LDL) کو بڑھاتے اور اچھے کولیسٹرول (HDL) کو کم کرتے ہیں، جس سے شریانوں میں چکنائی جمنا (Atherosclerosis) شروع ہو جاتا ہے۔
زیادہ Sodium بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے، جس سے دل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔
مسلسل ایسی خوراک لینے سے شریانوں کی اندرونی تہہ (Endothelium) متاثر ہوتی ہے، جو دل کی بیماریوں کی ابتدا ہے۔
یہ تمام عوامل مل کر دل کی شریانوں کو تنگ یا بند کر دیتے ہیں، جو بالآخر دل کے دورے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
طرزِ زندگی اور حیاتیاتی اثرات
جدید طرزِ زندگی میں جسمانی سرگرمی کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سائنسی تحقیقات کے مطابق روزانہ 30 منٹ کی ورزش نہ کرنے والے افراد میں دل کے امراض کا خطرہ دوگنا تک بڑھ جاتا ہے۔ مسلسل بیٹھے رہنے سے:
میٹابولزم سست ہو جاتا ہے
وزن اور چربی میں اضافہ ہوتا ہے
انسولین ریزسٹنس پیدا ہوتی ہے، جو ذیابیطس کا پیش خیمہ بنتی ہے
تمباکو نوشی: ایک خاموش قاتل
سگریٹ میں موجود نکوٹین اور کاربن مونو آکسائیڈ خون کی نالیوں کو تنگ کرتے ہیں اور خون گاڑھا کر دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خون کے لوتھڑے بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو دل کی شریان کو اچانک بند کر سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق سگریٹ نوش افراد میں دل کے دورے کا خطرہ غیر سگریٹ نوش افراد کے مقابلے میں 2 سے 4 گنا زیادہ ہوتا ہے۔
ذہنی دباؤ اور ہارمونل تبدیلیاں
ذہنی دباؤ (Stress) کے دوران جسم میں کارٹیسول (Cortisol) اور ایڈرینالین (Adrenaline) جیسے ہارمونز بڑھ جاتے ہیں، جو:
دل کی دھڑکن تیز کرتے ہیں
بلڈ پریشر میں اضافہ کرتے ہیں
خون کی نالیوں پر دباؤ ڈالتے ہیں
یہ مسلسل کیفیت دل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ دل کے دورے کا خطرہ بڑھاتی ہے۔
طبی عوامل (Medical Risk Factors)
نوجوانوں میں درج ذیل بیماریاں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں:
ہائی بلڈ پریشر
ذیابیطس
موٹاپا
یہ تمام عوامل مل کر دل کی شریانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور دل کے دورے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
دل کا دورہ: کتنی خطرناک حقیقت؟
دل کا دورہ اس وقت ہوتا ہے جب دل کو خون فراہم کرنے والی شریان مکمل یا جزوی طور پر بند ہو جائے۔ اس کے نتیجے میں دل کے پٹھے کو آکسیجن نہیں ملتی اور وہ متاثر یا تباہ ہو سکتا ہے۔
سائنسی طور پر:
دل کے پٹھے کو 20–30 منٹ تک آکسیجن نہ ملے تو مستقل نقصان شروع ہو جاتا ہے
ایک گھنٹے کے اندر علاج نہ ہونے کی صورت میں موت کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے
احتیاطی تدابیر: سائنسی بنیادوں پر
روزانہ کم از کم 30–45 منٹ ایروبک ورزش (واک، جاگنگ)
متوازن غذا: کم چکنائی، کم نمک، زیادہ فائبر
تمباکو نوشی سے مکمل اجتناب
ذہنی دباؤ کو کم کرنے کیلئے meditation اور نیند کی بہتری
باقاعدہ میڈیکل چیک اپ (بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول)
نتیجہ
دل کے امراض کا بڑھتا ہوا رجحان ایک سادہ مسئلہ نہیں بلکہ ایک سائنسی اور معاشرتی چیلنج ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی خوراک، عادات اور طرزِ زندگی پر سنجیدگی سے غور کریں۔ صحت مند زندگی کے اصول اپنانا ہی اس خطرناک بیماری سے بچاؤ کا واحد مؤثر راستہ ہے۔
ایک باشعور نوجوان ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے—اور یہ فیصلہ آج ہی کرنا ہوگا۔