SpeechtherapyinUrdu

SpeechtherapyinUrdu SpeechTherapyForUrduSpeakingPopulation

09/02/2026

کیا (آٹسٹک) بچے کو اشارے سکھائیں جائیں تو وہ بولنے کی طرف نہیں آتے ؟
غلط!
سپیچ تھراپی میں بچے اشاروں کے ساتھ ساتھ بولنا بھی سیکھ جاتے ہیں۔ ایک بچہ جو بول نہیں پاتا تو اسکو اشارے بھی سکھائے جاتے ہیں تاکہ جب تک وہ بول نا سکے تو کم از کم اشاروں کے ذریعے اپنی ضرورت بتا سکے۔
رابعہ ممتاز
کنسلٹنٹ سپیچ اینڈ لینگوئج پتھالوجسٹ
سیالکوٹ
کلینک یا آن لائن سیشن اپائنٹمنٹ کےلئے انباکس میں رابطہ کریں۔ شکریہ 📥
Eng version 👇🏻
If an (autistic) child is taught gestures/signs, will they never speak?
Wrong!

In speech therapy, children learn to speak along with using gestures/signs. If a child is unable to produce speech, they are also taught gestures/signs so that until they are able to talk, they can at least communicate their needs through signs.
Rabia Mumtaz
Consultant Speech and language pathologist
Sialkot
To book an appointment in person or online plz leave a msg in inbox 📥

07/02/2026

کیا آٹسٹک بچے بھی بولنا سیکھ جاتے ہیں ؟
جواب جی بلکل!
لیکن ہر بچے کا دورانیہ مختلف ہوتا ہے۔ کسی کا تین ماہ یا اس سے بھی کم اور کسی کا تین سال یا اس سے بھی زیادہ۔
بس بچے کو باقاعدگی چاہیے ہوتی ہے تھراپی کی۔
اگر آپ غور سے سنیں تو اس میں بچی پیچھے پیچھے الفاظ دوہرا رہی ہے۔
اگر آپکے بچے یا بچی کو بھی آٹیزم ہے تو پریشان ہونے بھی بجائے اسکی فوراً سپیچ تھراپی شروع کروائیں۔

آنلائن یا کلینک میں رابطے کے لیے انباکس کریں۔ 📥
شکریہ
✍🏻 رابعہ ممتاز
کنسلٹنٹ سپیچ اینڈ لینگوئج پتھالوجسٹ، سیالکوٹ

Eng 👇🏻

Can autistic children also learn to speak?
Answer: Yes, absolutely!

However, every child’s timeline is different. For some, it may take three months or even less, while for others it may take three years or even more.

What a child really needs is regular and consistent therapy.
If you listen carefully, you will notice that the child in this video is repeating the words quietly after them.

If your son or daughter also has autism, instead of worrying, start speech therapy immediately.

For online sessions or clinic appointments, please leave a msg in my inbox 📥

Thank you.

✍🏻 Rabia Mumtaz
Consultant Speech & Language Pathologist, Sialkot

10/01/2026

کا کلئیر اپملانٹ والے بچے کو اردو ڈیفتھانگ سکھاتے ہوئے سپیچ تھراپی کی ایک جھلک

اگر آپکے بچے کو بھی ہیرنگ ایڈ یا کاکلئیر اپملانٹ لگا ہوا ہے تو اس کی سپیچ تھراپی کے لیے انباکس میں میسج کریں ۔

✍🏻 رابعہ ممتاز
سپیچ اینڈ لینگوئج پتھالوجسٹ، سیالکوٹ

سکول جانے والے بچوں کو پڑھائی (لکھنے یا پڑھنے) میں مسئلہ آرہا ہو تو کس کے پاس جانا چاہیے ؟سپیچ اینڈ لینگوئج پتھالوجسٹ کے...
08/01/2026

سکول جانے والے بچوں کو پڑھائی (لکھنے یا پڑھنے) میں مسئلہ آرہا ہو تو کس کے پاس جانا چاہیے ؟

سپیچ اینڈ لینگوئج پتھالوجسٹ کے پاس

جی ہاں، ایک سپیچ تھراپسٹ بچوں کے لکھنے پڑھنے والے مسائل پر بھی کام کرتا/تی ہے۔

اگر آپکے بچے کو بھی پڑھائی میں کوئی مسئلہ آ رہا ہے جیسے املا کی غلطیاں، جملوں کی بناوٹ، سبق یاد نا رکھ پانا، لکھنے میں دشواری وغیرہ تو اپنے بچے کو فوراً ہی قریبی کسی اچھے سپیچ تھراپسٹ سے چیک کروائیں تاکہ بچے کا بروقت علاج بذریعہ سپیچ تھراپی شروع ہو سکے اور اسکا سال ضائع ہونے سے بچ سکے۔

آپ آن لائن اپائنٹمنٹ کے لیے مجھے انباکس بھی کر سکتے ہیں۔

✍🏻 رابعہ ممتاز
سپیچ اینڈ لینگوئج پتھالوجسٹ، سیالکوٹ

ہماری سوسائٹی میں اکثر ہم توتلا بولنے والے یا ہکلانے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور اگر انکے سامنے نا اڑائیں تو انکی پیٹ پی...
07/12/2025

ہماری سوسائٹی میں اکثر ہم توتلا بولنے والے یا ہکلانے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور اگر انکے سامنے نا اڑائیں تو انکی پیٹ پیچھے ضرور اس طرح سے بات کرتے ہیں جو طنزیہ یا مذاق اڑانے جیسی ہو۔

اور بچے پھر اس رویے کو کاپی کرتے ہیں اور وہ اپنے ہم جماعت یا آس پاس اس طرح کے بچوں کا مذاق اڑاتے ہیں یا تھوڑے بڑے لیول جیسے کالج یونیورسٹی وغیرہ میں ہکلاہٹ یا توتلا بولنے والے بچوں کو الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے۔

جس کی وجہ سے ان بچوں کا ذاتی اعتماد مجروح ہوتا ہے، جو بچے پہلے ہی اپنے بولنے کے انداز کی وجہ سے کم گو ہوتے ہیں وہ پھر سکول کالج کی باقی سرگرمیوں میں بھی پیچھے پیچھے رہتے ہیں اور بعض اوقات تو سرے سے ہی سکول کالج جانا چھوڑ دیتے ہیں۔

کیونکہ انکو لگتا ہے وہ باقیوں سے مختلف ہیں اور کبھی ٹھیک نہیں ہو سکیں گے۔
گھر میں الگ غصے اور چڑچڑی طبیعت کے ساتھ رہتے ہیں

ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟
ہمیں چاہیے کہ ان بچوں کا مذاق نا اڑایا جائے نا ہی انکو طنز کیا جائے اور نا ہی پیٹھ پیچھے انکے بولنے کے انداز کو زیر تبصرہ لایا جائے۔

دوسرا اگر آپ کا بچہ یا آپکے اردگرد کوئی بچہ ایسے مسئلے سے دوچار ہے تو اسکو فوراً کسی اچھے سپیچ تھراپسٹ سے رجوع کر کے اسکی سپیچ تھراپی شروع کروائی جائے تا کہ وہ بچہ بھی عملی زندگی کی دوڑ میں مکمل ذات کے اعتماد کے ساتھ شامل ہو سکے۔

Eng version 👇🏻

In our society, we often make fun of people who stutter or lisp. Even if we don’t mock them in front of them, we still tend to talk about them behind their backs in a sarcastic or humorous way.

Children then copy this behavior, and they start making fun of their classmates or other kids who speak this way. At higher levels, like in college or university, students who stutter or lisp are often isolated.

This damages their personal confidence. Children who are already quiet because of the way they speak fall further behind in school and college activities — and sometimes they stop attending altogether.

They begin to feel that they are different from others and that they will never improve. At home, they may develop anger, irritability, and frustration.

What should we do?
We should neither make fun of these children nor mock them, and we should not discuss their way of speaking behind their backs.

Secondly, if your child or any child around you is facing such a problem, you should immediately consult a good speech therapist and start speech therapy, so the child can participate in practical life with full confidence.

To book an in-person or online appointment, please leave a message in the inbox 📥

✍🏻 رابعہ ممتاز
سپیچ اینڈ لینگوئج پتھالوجسٹ، سیالکوٹ

Address

Sialkot

Opening Hours

Monday 11:00 - 17:00
Tuesday 11:00 - 17:00
Wednesday 11:00 - 17:00
Thursday 11:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SpeechtherapyinUrdu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share