Scholarly Research Hub

Call Contact the practice

Scholarly Research Hub Our mission is to unit researchers from diverse fields under one umbrella.

We encourage you to share your insights, publications, and achievements with our community. A simple initiative from Tawab Khan Join us to bridge gaps in knowledge and communicate.

یونیورسٹی آف سوات کی UI GreenMetric ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز 2026 میں نمایاں بہتری، 1,095ویں پوزیشن حاصلیونیورسٹی آف سوات ...
26/09/2026

یونیورسٹی آف سوات کی UI GreenMetric ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز 2026 میں نمایاں بہتری، 1,095ویں پوزیشن حاصل

یونیورسٹی آف سوات نے UI GreenMetric World University Rankings 2026 میں نمایاں بہتری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا بھر میں شامل 2,016 اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 1,095ویں پوزیشن حاصل کرلی ہے۔

24 ستمبر 2026 کو جاری ہونے والی تازہ ترین رینکنگ یونیورسٹی آف سوات کی ماحولیاتی پائیداری، وسائل کے مؤثر استعمال، پائیدار کیمپس طریقہ کار اور ماحولیاتی ذمہ داری کے شعبوں میں مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔

یونیورسٹی آف سوات نے گزشتہ تین برسوں کے دوران اپنی مجموعی کارکردگی میں مسلسل بہتری حاصل کی ہے۔ یونیورسٹی نے 2024 میں 1,323ویں پوزیشن حاصل کی تھی، جو 2025 میں بہتر ہو کر 1,288ویں ہوگئی، جبکہ 2026 میں یونیورسٹی نے مزید بہتری کے ساتھ 1,095ویں پوزیشن حاصل کی

اس نمایاں کامیابی پر وائس چانسلر یونیورسٹی آف سوات، پروفیسر ڈاکٹر محمد قاسم نے QEC ٹیم اور پوری یونیورسٹی کمیونٹی کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے فیکلٹی ممبران، افسران، ملازمین، طلبہ اور متعلقہ شعبہ جات کی انتھک محنت اور مشترکہ کاوشوں کو سراہا، جن کی بدولت یونیورسٹی کی پائیداری اور ماحولیاتی کارکردگی کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملی۔

وائس چانسلر نے کہا کہ UI GreenMetric رینکنگ میں مسلسل بہتری یونیورسٹی آف سوات کے پائیدار ترقی، ماحولیاتی تحفظ، وسائل کے مؤثر استعمال اور ماحول دوست کیمپس کے عزم کی عکاس ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یونیورسٹی مستقبل میں بھی پائیداری اور ماحولیاتی ذمہ داری کے میدان میں اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائے گی۔

Congratulations to you, Sir Dr. Ishaq Ahmad, on completing your PhD. We are proud of you, Sir. May Allah always keep you...
18/09/2026

Congratulations to you, Sir Dr. Ishaq Ahmad, on completing your PhD. We are proud of you, Sir. May Allah always keep you shining like this. We are also proud of all our respected teachers in the Faculty of CBM."

12/09/2026
سوات جسے پاکستان کا سوئٹزرلینڈ بھی کہا جاتا ہے خیبر پختونخوا کے شمال میں واقع ہے۔ اپنے قدرتی حسن سرسبز و شاداب پہاڑوں، د...
21/08/2026

سوات جسے پاکستان کا سوئٹزرلینڈ بھی کہا جاتا ہے خیبر پختونخوا کے شمال میں واقع ہے۔ اپنے قدرتی حسن سرسبز و شاداب پہاڑوں، دریائے سوات کے حسین نظاروں، ٹھنڈے موسم ، برفباری اور لا تعداد تفریحی مراکز کی وجہ سے اسے سیاحوں کی جنت بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ملاکنڈ ڈویژن کا حصہ اور ہیڈکوارٹر بھی ہے ۔
سوات صوبائی دارالحکومت پشاور سے تقریبا 200 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کے مشرق میں کوہستان اور شانگلہ ، مغرب میں دیر ، شمال میں گلگت بلتستان اور چترال جنوب میں ملاکنڈ جبکہ جنوب مشرق میں بونیر کے اضلاع واقع ہیں۔ 2023 کے مردم شماری کے مطابق سوات کی آبادی تقریبا 27 لاکھ ریکارڈ کی گئی ۔ سوات کو انتظامی طور پر 7
تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
تحصیل بابوزئ (ضلعی ہیڈ کوارٹر )
تحصیل بحرین
تحصیل خوازہ خیلہ
تحصیل چارباغ
تحصیل مٹہ
تحصیل کبل
تحصیل بریکوٹ
ضروری نوٹ
(اطلاعات کے مطابق حال ہی میں ضلع سوات کے دو حصوں میں تقسیم کا اعلامیہ جاری ہوا ہے جس میں بحرین، خوازہ خیلہ اور مٹہ کی تحصیلوں پر مشتمل ضلع اپر سوات جبکہ بابوزئ، کبل ، چارباغ اور بریکوٹ کی تحصیلوں پر مشتمل ضلع لوئر سوات ہوگا)
تاریخ
قدیم تاریخوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا پرانا نام ایودھیا یا اُدھیانہ" تھا جس کے معنی باغ ہے۔ وادی سوات گندھارا دور میں بدھ مت کا ایک انتہائی مقدس اور مرکزی گڑھ رہی ہے۔ سکندر اعظم نے 327 قبل مسیح میں سوات پر حملہ کرکے بازیرہ (بریکوٹ) اور اوڈیگرام کو فتح کیا۔ اور اخر پیر سر (شانگلہ) کی جنگ میں فتح حاصل کرکے پورے سوات پر کنٹرول حاصل کرلیا ۔اس کے بعد اشوک اعظم نے یہاں بدھ مت کی تبلیغ کا آغاز کیا یہاں تک کہ کشان تک یہ علاقہ بدھ مت کا گڑھ اور مذہبی و روحانی مرکز بن گیا۔ کنشک کے دور کو کشان سلطنت کا سنہرا دور کہا جاتا ہے اس دور میں سوات نے بھی بہت ترقی کی۔ پورے ہندوستان سے بدھ مبلغ اور بھکشو تبلیغ کیلئے یہاں آئے۔ اس دور میں سوات میں بدھ عبادت گاہیں ، خانقاہیں اور سٹوپے بنائے گئے ۔ آٹھویں صدی عیسوی تک یہاں بدھ مت کے عروج کا دور رہا، جس کے آثار اور نشانات آج بھی پوری وادی سوات میں جگہ جگہ بکھرے نظر آتے ہیں۔ جھان اباد مین بلند پہاڑ پر تراشا گیا بدھا کا مجسمہ، املوک درہ کا سٹوپا اور خانقاہ ، ٹوکر درہ کے کھنڈرات ، بریکوٹ میں دریافت کیے گئے آثار اور سوات میوزیم میں محفوظ اس دور کے سکھے ، مجسمے اور دیگر اشیاء سوات میں گندھارا دور کی یادگاریں ہیں۔
مسلم فاتحین کا دور
گیارہویں صدی عیسوی میں مسلم فاتحین نے برصغیر کا رخ کیا تو سوات بھی ان کے حملوں سے محفوظ نہ رہ سکا محمود غزنوی کے دور میں سوات میں ہندوشاہی حمایت یافتہ راجہ گیرا کی حکومت تھی جو کہ محمود غزنوی کیخلاف راجہ جے پال کی مدد اور انندپال کی مدد کرتا رہا چنانچہ سلطان محمود نے راجہ گیرا کیخلاف لشکرکشی کی۔ گیرا کا قلعہ اوڈیگرام کی ایک بلند اور دشوار گزار پہاڑی پر واقع تھا۔ سلطان محمود نے ایک خونریز جنگ کے بعد قلعہ فتح کیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں سوات میں ہندوشاہی دور کا خاتمہ ہوا۔ اس پہاڑ پر موجود اس شاندار فتح کی یاد میں ایک مسجد (غزنوی مسجد) کے اثار اسی دور کی یادگار ہیں۔
یوسفزئیوں کی آمد
16 ویں صدی عیسوی کے آغاز میں افغانستان سے یوسفزئی قبائل ملک احمد خان یوسفزئی کی قیادت میں درہ خیبر عبور کرکے اس علاقے میں وارد ہوئے اور مردان میں دلہ زاک کو شکست دینے کے بعد سوات کا رخ کیا ۔اس زمانے میں سوات پر سلطان اویس کی حکومت تھی۔ اس نے بھرپور مقابلہ کیا مگر یوسفزئیوں کی گوریلا حکمت عملی اور پے درپے حملوں کی تاب نہ لا کر شکست کھائی اور یوں پورا سوات یوسفزئیوں کے زیر نگیں آگیا۔ جب بابر 1519 میں سوات پہنچا تو یہاں یوسفزئیوں مکمل کنٹرول حاصل کرچکے تھے لہذا بابر نے جنگ لڑنے کے بجائے بی بی مبارکہ سے شادی کرکے یوسفزئیوں کیساتھ اتحاد قائم کیا جو آگے چل کر اس کے بہت کام آیا۔
مغل سلطنت نے اپنے عروج کے دوران کئی بار سوات کو فتح کرنیکی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ اکبر کے دور میں ملندری اور کڑاکڑ کے معرکوں میں یوسفزئیوں نے مغلوں کو پے درپے شکستیں دیں۔ یوں ہندوستان میں مغلوں کے وسیع دور میں سوات ان کی دست برد سے محفوظ رہا۔
19 ویں صدی کے آغاز میں سکھوں نے پشاور، مردان اور نوشہرہ وغیرہ پر قبضہ کیا لیکن سوات پر قبضہ مغلوں کی طرح سکھوں کیلئے بھی ایک خواب رہا۔ جب سید احمد شہید نے سکھوں کیخلاف تحریک جہاد شروع کیا تو مردان بونیر اور سوات کے عوام نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور شیدو ، اکوڑہ اور مایار کی جنگوں میں بھرپور شرکت کی ۔ یون سوات سکھ مخالف سرگرمیوں کا بڑا مرکز رہا۔
ریاست سوات (1915 تا 1969)
بیسویں صدی کے شروعات میں سوات میں افراتفری کا دور دورہ تھا چھوٹے چھوٹے علاقوں پر خوانین اور ملکان کی حکومت تھی جن کی آپس کی لڑائیاں ختم ہونے کانام نہیں لے رہی تھیں اوپر سے انگریزوں کا بھی دباؤ تھا۔لہذا سوات اور بونیر کے تمام مشران نے مل کر 1915 میں متفقہ طور پر سید عبدالجبار شاہ کو سوات کا پہلا بادشاہ منتخب کیا۔جو 2 سال تک حکمران رہے۔ لیکن ریاست سوات کا اصل دور تب شروع ہوا جب میاں گل عبدالودود 1917 میں بادشاہ بنے ۔میاں گل عبدالودود سیدو بابا کے پوتے تھے۔ انہوں نے پورے علاقے میں خوانین کی لڑائیاں ختم کیں ۔ سرکشوں کو طاقت سے کچلا۔ اور یوں پورے سوات کو افراتفری سے نکال کر امن اور ترقی کی راہ پر ڈال دیا ۔ 1926 میں برطانوی راج نے بھی باچا صاحب کو سوات کا جائز حکمران تسلیم کرلیا اور انہیں والئ سوات کا خطاب دیا۔ میاں گل عبدالودود نے 1949 تک حکومت کی اس کے بعد ان کے بیٹے میاں گل عبدا لحق جہانزیب والئ سوات بنے۔ ان کے دور کو ریاست سوات کا سنہرا دور کہا جاتا ہے میان گل جہانزیب کے زمانے میں ریاست سوات اپنی معراج پر تھی۔ انہوں نے سوات میں تعلیم ،صحت ، مواصلات اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا ۔ 1969 میں جب ریاست سوات کو پاکستان میں ضم کیا گیا تو انہوں نے پرامن طریقے سے اقتدار نئے انتظامیہ کے سپرد کیا
ریاست سوات کی خوبی یہ تھی کہ والیوں نے نہ صرف تعلیم صحت اور تیز ترین انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا بلکہ شاندار ، پائیدار عمارتیں اور یادگاریں بھی چھوڑیں۔ مرغزار کا وائٹ ہاوس، جہانزیب کالج ، سوات میوزیم ، سیدو شریف کا شاہی مہمان خانہ اور ودودیہ ہال ریاست سوات کے دور کی شاندار یادگاریں ہیں۔
پاکستان میں انضمام کے بعد اسے( صوبائی زیر انتظام قبائلی علاقہ ) کی حیثیت دی گئی بعد میں اسے تین اضلاع(شانگلہ، بونیر اور سوات) میں تقسیم کیا گیا۔
تفریحی مقامات
سوات سارا ہی تفریح ہے دریائے سوات جو اس کے بیچوں بیچ بہتا ہے جس نے اس کے حسن کو چار چاند لگادئے ہیں۔ وادئ کالام کے بلند والا پہاڑ اور آبشار، مالم جبہ، میاندم ، گبین جبہ ،اتروڑ اور گبرال کی وادیاں، جاروگو آبشار ، شینگرئ آبشار، مرغزار سپین محل ، مہوڈنڈ جھیل ، مدین ، دریائے سوات اور دارال کا سنگم کے ساتھ ساتھ پوری وادئ سوات اپنے حسین اور پرسکون علاقے ، قدرتی خوبصورتی، گھنے جنگلات، نیلگوں جھیلوں اور برف پوش پہاڑوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔
مشہور شخصیات
وادی سوات نے علم و ادب، سیاسی و سماجی خدمات تاریخ اور تہذیب کے میدان میں نامور شخصیات پیدا کی ہیں۔ جن میں سوات کے عظیم روحانی اور مذہبی پیشوا اخوند عبدالغفور عرف سیدو بابا ، شیخ القرآن مولانا افضل خان اور مفتی نظام الدین شامزئ میاں گل عبدالودود باچا صاحب، میاں گل جہانزیب باچا صاحب، افضل خان لالا ، شہرہ آفاق شعراء رحمت شاہ سائل اور لائق زادہ لائق ، معروف گلوکار رحیم شاہ ،سابق چیف جسٹس و نگران وزیر اعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک اور دنیا کی کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی شامل ہیں۔

Researchers have reported promising early results from a Phase 1 clinical trial testing a next-generation CAR-T cell the...
20/08/2026

Researchers have reported promising early results from a Phase 1 clinical trial testing a next-generation CAR-T cell therapy for recurrent glioblastoma, one of the deadliest forms of brain cancer.

One patient, a 74-year-old man, experienced rapid tumor shrinkage shortly after receiving the treatment. Although the tumor eventually returned, blood and cerebrospinal fluid tests showed that levels of EGFRvIII and EGFR gene copies steadily declined until they became undetectable, suggesting the therapy successfully targeted the cancer cells even though the clinical response did not last.

Another patient, a 72-year-old man, had a longer-lasting response. MRI scans showed his tumor had shrunk by 18.5% just two days after treatment and by 60.7% after 69 days. More than six months after a single infusion, the tumor remained significantly smaller.

The most striking result came from a 57-year-old woman. Just five days after treatment, MRI scans showed her tumor had almost completely disappeared, demonstrating the remarkable—though still variable—potential of CAR-TEAM cell therapy against glioblastoma.

Common culture media
13/06/2026

Common culture media

Proudly sharing the successful PhD thesis defense of Dr. Naseer Ullah, PhD student of Prof. Dr. Suleman.This achievement...
11/06/2026

Proudly sharing the successful PhD thesis defense of Dr. Naseer Ullah, PhD student of Prof. Dr. Suleman.

This achievement reflects years of dedication, hard work, and scientific excellence. Prof. Dr. Suleman is a highly respected scientist whose valuable contributions to research and unwavering support for his students continue to inspire academic growth and innovation.

Congratulations to Dr. Naseer Ullah on this remarkable milestone, and sincere appreciation to Prof. Dr. Suleman for his outstanding mentorship and commitment to developing future researchers.

Wishing both of them continued success in their academic and scientific endeavors.

Address

Swat
19200

Telephone

+923409894287

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Scholarly Research Hub posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Scholarly Research Hub:

Shortcuts

Share