Asif Hameed Shah Cancer Herbalist

Asif Hameed Shah Cancer Herbalist 0300-5637506 سید آصف حمید شاہ.
پاکستان میں تقرری کے لیے کال کریں۔
0302-4999786
https://asifhameedshah.com/

31/07/2026

اگر جگر (Liver) کا کینسر صرف جگر تک محدود ہو تو بعض مریضوں میں لیور ٹرانسپلانٹ ایک مؤثر علاج ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر کینسر جگر سے نکل کر جسم کے دوسرے اعضاء، جیسے پھیپھڑوں، ہڈیوں، دماغ یا دور کے لمف نوڈز تک پھیل جائے (Metastasis)، تو عموماً لیور ٹرانسپلانٹ نہیں کیا جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹرانسپلانٹ صرف بیمار جگر کو تبدیل کرتا ہے، جبکہ جسم کے دوسرے حصوں میں موجود کینسر ختم نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ ٹرانسپلانٹ کے بعد مریض کو ایسی ادویات دینی پڑتی ہیں جو مدافعتی نظام کو کمزور کرتی ہیں، جس سے پھیلا ہوا کینسر مزید تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے ایسے مریضوں میں علاج کا مقصد عموماً کینسر کو قابو میں رکھنا، علامات کم کرنا اور زندگی کے معیار کو بہتر بنانا ہوتا ہے، جس کے لیے ڈاکٹر مریض کی حالت کے مطابق ادویات، امیونوتھراپی، ٹارگٹڈ تھراپی یا دیگر مناسب علاج تجویز کرتے ہیں۔
https://asifhameedshah.com/

30/07/2026

کیموتھراپی کے بعد جسم پر الرجی کیوں ہوتی ہے؟ کیموتھراپی کی دوائیں کینسر کے خلیات کے ساتھ ساتھ جسم کے صحت مند خلیات اور مدافعتی نظام پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں، جس کی وجہ سے بعض مریضوں میں جلد پر سرخ دانے، خارش، چھپاکی، سوجن، خشکی یا جلن جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ بعض اوقات یہ دوا سے حساسیت (الرجک ردِعمل) ہوتی ہے جبکہ بعض صورتوں میں یہ کیموتھراپی کا عام ضمنی اثر یا جلد کا انفیکشن بھی ہو سکتا ہے۔ اگر الرجی ہلکی ہو تو عام طور پر قابلِ علاج ہوتی ہے، لیکن شدید الرجی کی صورت میں سانس لینے میں دشواری، چہرے یا گلے کی سوجن، بلڈ پریشر میں کمی اور جان لیوا ردِعمل بھی ہو سکتا ہے، جس کے لیے فوری طبی امداد ضروری ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ شدید خارش کی وجہ سے جلد پر زخم بن سکتے ہیں، انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور بعض اوقات کیموتھراپی عارضی طور پر روکنا یا دوا تبدیل کرنا پڑ سکتی ہے۔ اس لیے کیموتھراپی کے بعد جسم پر کسی بھی قسم کی الرجی یا غیر معمولی علامات ظاہر ہوں تو خود علاج کرنے کے بجائے فوراً اپنے آنکولوجسٹ سے رابطہ کریں تاکہ بروقت تشخیص اور مناسب علاج کیا جا سکے۔
https://asifhameedshah.com/

25/07/2026

شفا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، علاج ایک ذریعہ ہے۔ ہر مریض کی
کیفیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے نتائج بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔
https://asifhameedshah.com/

11/07/2026

پھیپھڑوں کے کینسر کے بارے میں ایک ایسی حقیقت جو بہت کم لوگ جانتے ہیں
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ پھیپھڑوں کا کینسر صرف سگریٹ نوشی کرنے والوں کو ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے افراد بھی اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں جنہوں نے زندگی میں کبھی سگریٹ نہ پی ہو۔

اس کی دیگر ممکنہ وجوہات میں فضائی آلودگی، بعض نقصان دہ گیسوں یا کیمیکلز سے طویل عرصے تک واسطہ، خاندانی رجحان، اور دیگر عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ پھیپھڑوں کا کینسر ابتدائی مرحلے میں اکثر واضح علامات پیدا نہیں کرتا۔ اسی لیے بعض مریضوں میں تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب بیماری کافی آگے بڑھ چکی ہوتی ہے۔

اگر کھانسی تین ہفتوں سے زیادہ رہے، کھانسی میں خون آئے، سانس پھولنے لگے، سینے میں مسلسل درد ہو، یا بغیر وجہ کے وزن کم ہونے لگے تو فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔

یاد رکھیں: بروقت تشخیص سے علاج کے بہتر مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اپنی صحت کو نظر انداز نہ کریں۔

اللہ تعالیٰ تمام مریضوں کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے۔ آمین۔
https://asifhameedshah.com/

10/07/2026

ہڈی میں پیدا ہونے والا رسولی نما ابھار ہڈیوں کا کینسر نہیں ہوتا۔ اکثر لوگوں کو لگتا ہے کہ ہڈی میں درد یا سوجن کا مطلب لازمی کینسر ہے، جبکہ حقیقت میں اس کی بہت سی دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں، جیسے انفیکشن، چوٹ یا غیر سرطانی رسولیاں۔

اسی طرح ایک اور کم معلوم بات یہ ہے کہ ہڈیوں میں پایا جانے والا زیادہ تر کینسر دراصل جسم کے کسی اور عضو (جیسے چھاتی، پھیپھڑے، پروسٹیٹ یا گردے) سے پھیل کر آتا ہے۔ جبکہ ہڈی سے شروع ہونے والا اصل (Primary) ہڈیوں کا کینسر نسبتاً نایاب ہوتا ہے۔
بروقت تشخیص ہی بہتر علاج کی بنیاد ہے، اس لیے علامات کو نظر انداز نہ کریں۔

اللہ تعالیٰ تمام مریضوں کو کامل شفا عطا فرمائے۔ آمین۔
https://asifhameedshah.com/

19/06/2026

Leiomyosarcoma ایک نایاب لیکن سنجیدہ قسم کا کینسر ہے جو جسم کے ہموار پٹھوں (smooth muscles) سے پیدا ہوتا ہے، جیسے رحم، آنتوں، معدے، مثانے یا خون کی نالیوں کی دیواروں میں موجود پٹھے۔ یہ بیماری عموماً ایک رسولی یا گلٹی کی صورت میں شروع ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ بڑھ سکتی ہے اور بعض مریضوں میں جسم کے دوسرے حصوں، خصوصاً پھیپھڑوں، جگر اور ہڈیوں تک پھیل سکتی ہے۔ اس کی علامات رسولی کے مقام پر منحصر ہوتی ہیں اور ان میں درد، سوجن، پیٹ میں بھاری پن، غیر معمولی خون آنا، وزن کم ہونا، کمزوری اور تھکاوٹ شامل ہو سکتے ہیں۔ تشخیص کے لیے عموماً CT Scan، MRI اور بایوپسی کی جاتی ہے، جبکہ علاج میں سرجری سب سے اہم ہوتی ہے اور ضرورت کے مطابق کیموتھراپی یا ریڈیوتھراپی بھی دی جا سکتی ہے۔ بیماری کا نتیجہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ کینسر کتنا بڑا ہے، کس مقام پر ہے، کتنی جلد تشخیص ہوئی ہے اور آیا یہ جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلا ہے یا نہیں؛ ابتدائی مرحلے میں تشخیص اور مناسب علاج سے نتائج نسبتاً بہتر ہو سکتے ہیں۔
https://asifhameedshah.com/

06/06/2026

کینسر عام طور پر اچانک ہڈیوں تک نہیں پھیلتا بلکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ چند کینسر خلیات پہلے ہی خون یا لمف کے ذریعے ہڈیوں تک پہنچ چکے ہوتے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہونے کی وجہ سے وہ اسکین میں نظر نہیں آتے، پھر وقت کے ساتھ جب یہ خلیات بڑھنے لگتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کینسر اچانک ہڈیوں میں پھیل گیا ہو، حالانکہ حقیقت میں یہ ایک بتدریج عمل ہوتا ہے جو پہلے سے جاری ہوتا ہے؛ بعض اوقات کینسر کی جارحانہ نوعیت، علاج کے باوجود کچھ خلیات کا زندہ رہ جانا یا علاج کے خلاف مزاحمت پیدا ہو جانا بھی اس پھیلاؤ کی وجہ بن سکتا ہے۔
https://asifhameedshah.com/

15/05/2026

کینسر میں گریڈ (Grade) اور اسٹیج (Stage) دو الگ چیزیں ہوتی ہیں۔
1۔ گریڈ (Grade)
گریڈ یہ بتاتا ہے کہ کینسر کے خلیے (Cells) مائیکروسکوپ میں کتنے غیر معمولی نظر آتے ہیں اور وہ کتنی تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔
لو گریڈ (Grade 1)
خلیے کافی حد تک نارمل جیسے لگتے ہیں اور عموماً آہستہ بڑھتے ہیں۔
ہائی گریڈ (Grade 3 یا 4)
خلیے بہت غیر معمولی ہوتے ہیں اور تیزی سے بڑھنے یا پھیلنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
یعنی:
گریڈ = کینسر کتنا aggressive یا تیز ہے۔
2۔ اسٹیج (Stage)
اسٹیج یہ بتاتی ہے کہ کینسر جسم میں کتنی دور تک پھیل چکا ہے۔
عام طور پر:
اسٹیج 1 → کینسر چھوٹا ہے اور ایک ہی جگہ تک محدود ہے۔
اسٹیج 2 یا 3 → کینسر بڑا ہو گیا یا قریبی lymph nodes تک پہنچ گیا۔
اسٹیج 4 → کینسر جسم کے دوسرے اعضاء تک پھیل گیا۔
یعنی:
اسٹیج = کینسر جسم میں کتنا پھیلا ہے۔
https://asifhameedshah.com/

09/05/2026

Esophageal Cancer میں کھانا یا پانی نگلنے کے وقت درد محسوس ہونا بہت عام علامت ہو سکتی ہے، جسے میڈیکل زبان میں Odynophagia کہا جاتا ہے یعنی نگلنے پر درد محسوس ہونا۔ یہ درد اس لیے ہوتا ہے کیونکہ غذائی نالی (Food Pipe) کے اندر رسولی یا سوجن بن جاتی ہے، اور جب کھانا یا پانی نیچے جاتا ہے تو وہ اس جگہ سے رگڑ کھاتا ہے، جس کی وجہ سے جلن، دباؤ، چبھن یا درد محسوس ہوتا ہے۔ شروع میں عموماً صرف سخت چیزیں جیسے روٹی یا گوشت نگلنے میں مشکل ہوتی ہے، لیکن بعد میں نرم غذا اور پانی تک نگلنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اکثر مریض یہ علامات بتاتے ہیں کہ کھانا گلے یا سینے میں اٹکتا محسوس ہوتا ہے، نگلنے کے وقت جلن یا سینے کے درمیان درد ہوتا ہے، کھانا نیچے جاتے وقت دباؤ محسوس ہوتا ہے، بعض اوقات کھانسی، گھٹن یا کھانا واپس آنے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے، جبکہ وزن میں کمی اور کمزوری بھی ظاہر ہو سکتی ہے۔ یہ درد جلنے جیسا، چاقو یا چبھن جیسا، دباؤ یا سختی جیسا ہو سکتا ہے، اور بعض اوقات سینے سے پیٹھ تک محسوس ہوتا ہے یا ہر نوالے کے ساتھ درد پیدا ہوتا ہے۔
https://asifhameedshah.com/

16/04/2026

سینے پر زخم میں پیپ (pus) آنا اور کینسر کا تعلق ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی—یہ مکمل طور پر زخم کی وجہ پر depend کرتا ہے۔
عام طور پر پیپ کیوں بنتی ہے؟
پیپ زیادہ تر infection (جراثیمی انفیکشن) کی وجہ سے بنتی ہے، جیسے:
بیکٹیریا کا زخم میں داخل ہونا
صفائی نہ ہونا
زخم کا دیر سے بھرنا
یہ ایک عام حالت ہے اور ہرگز لازمی نہیں کہ اس کا تعلق کینسر سے ہو۔
کب کینسر کا شک ہوتا ہے؟
کچھ خاص situations میں پیپ والے زخم کا تعلق کینسر سے ہو سکتا ہے، جیسے:
زخم لمبے عرصے تک ٹھیک نہ ہو (chronic wound)
زخم بار بار کھل جائے یا خراب ہوتا جائے
زخم کے کنارے سخت (hard) یا بے ترتیب ہوں
زخم سے بدبو آئے یا خون بھی نکلے
جلد کے نیچے گلٹی (lump) محسوس ہو
ایسی حالت میں خاص طور پر Breast Cancer یا جلد کے کینسر کا شک کیا جا سکتا ہے۔
https://asifhameedshah.com/

Address

Pakistan
Uae

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asif Hameed Shah Cancer Herbalist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Asif Hameed Shah Cancer Herbalist:

Shortcuts

Share