18/06/2026
# # ابراہیم ہربلز کا پیغام آپ کے نام
# # # باب: سنتِ نبویؐ اور اسوۂ حسنہ کے مطابق تغذیہ اور کھانے پینے کے آداب
# # # ۱. اعتدال اور میانہ روی (بھوک رکھ کر کھانا)
اسلام زندگی کے ہر معاملے میں میانہ روی کا درس دیتا ہے، اور کھانے پینے میں یہ اصول سب سے اہم ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ پیٹ بھر کر کھانے سے منع فرمایا ہے۔
* **طریقہ:** جب ابھی تھوڑی بھوک باقی ہو، تب ہی کھانے سے ہاتھ روک لیں۔
* **نبویؐ حکمت:** آپ ﷺ کا فرمان ہے: *"ابنِ آدم نے اپنے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھ سکیں، اور اگر زیادہ ہی کھانا ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے، ایک تہائی پانی کے لیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے رکھے۔"* (جامع ترمذی)
# # # ۲. کھانے پینے کے بنیادی آداب
نبی کریم ﷺ نے کھانے اور پانی پینے کے واضح طریقے سکھائے ہیں جو ہماری جسمانی صحت کے لیے بہترین ہیں:
* **ہاتھ دھونا اور بسم اللہ پڑھنا:** کھانے سے پہلے دونوں ہاتھ دھونا اور اللہ کا نام لے کر شروع کرنا برکت اور صفائی کا باعث ہے۔
* **دائیں ہاتھ سے کھانا:** ہمیشہ دائیں ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے کھائیں۔
* **بیٹھ کر پانی پینا:** پانی ہمیشہ بیٹھ کر اور تین سانسوں میں پینا سنت ہے۔ برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا گیا ہے۔
* **کھانے کے بعد شکر گزاری:** کھانا ختم کرنے کے بعد اللہ کا شکر ادا کریں اور الحمد للہ کہیں۔
# # # ۳. سادہ غذا کا استعمال
حضور پاک ﷺ کی زندگی سادگی کا بہترین نمونہ تھی۔ آپ ﷺ نے کبھی غذا میں اسراف یا نمائش کو پسند نہیں فرمایا۔
* **طریقہ:** جو میسر ہو اسے خوشی سے کھائیں، کھانے میں عیب نہ نکالیں، اور زیادہ مصالحے دار یا ثقیل (بھاری) غذاؤں کے بجائے سادہ اور قدرتی چیزوں کو ترجیح دیں۔
**خلاصہ:** اگر ہم اپنی زندگیوں میں ان نبوی اصولوں کو اپنا لیں، تو ہم موٹاپے، بدہضمی اور دل کی بیماریوں جیسی جدید دور کی آفتوں سے باآسانی محفوظ رہ سکتے ہیں۔