VOICE of YDA SINDH

  • Home
  • VOICE of YDA SINDH

VOICE of YDA SINDH YDA SINDH IS NAME OF RESISTANCE

13/07/2025

چوندا آھن ته ڪم پوي ته ڪل پوي ،
پرائيويٽ اسپتال ۽ سرڪاري اسپتال ۾ ڪيترو فرق آهي.
1 ، سرڪاري اسپتال مفت ۾ چڪاس ،
پرائيويٽ اسپتال ۾ پيسن سان چڪاس ،
2 سرڪاري اسپتال ۾ ڊاڪٽرن تي داٻا ڪيون
پرائيويٽ اسپتال ۾ ڊاڪٽرن کي سائين ميان ڪيون ،
3 سرڪاري اسپتال ۾ ٽي ٽي ماڻهو مريض سان گڏ ،
پرائيويٽ اسپتال ۾ مريض اڪيلو ،
4 سرڪاري اسپتال ۾ مريض سان ملن لاء گارڊ سان جيھڙو
پرائيويٽ اسپتال ۾ مريض سان ملڻ لاءِ گارڊ کي منٿون ،
5 سرڪاري اسپتال ۾ لفٽ تي پنهنجي مرضي سان لھ چڙھ
پرائيويٽ اسپتال ۾ لفٽ ۾چڙھڻ لاءِ گارڊ کي منٿون ،
6 سرڪاري اسپتال ۾ مريض کڻي وڃڻ ۽ مفت ۾ داخل ،
پرائيويٽ اسپتال ۾ 50 ھزار يا لک ايڊوانس جمع ڪرڻ ،
7 سرڪاري اسپتال ۾ مريض مري وڃي روڄ راڙو اسٽاپ کي پادر ،
پرائيويٽ اسپتال ۾ مريض مري وڃي روڄ راڙو بند ڪاغذن ٺاهڻ ۽ بل ٽي ٽي ڏھ ڏھ لک جي ڪري لاش کڻڻ جي رڪاوٽ ،
انھيءَ ڪري سرڪاري اسپتالن جو قدر ڪيو ، اسان وٽ ڊاڪٽرن تي ماڻھن جي ڪاوڙ اجائي آهي ،

Dr waris Ali Jakhrani
President YDA -SINDH

24/04/2025
20/04/2025

ظلم کی انتہا ۔
جناح ہسپتال میں حال ہی میں ہونے والے مسئلے میں حکومت سندھ کا کردار غیر سنجیدہ رہا ۔
ڈاکٹرز کو تحفظ دینے والے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر یاسین کو عہدے سے ہٹانے کے ساتھ ساتھ سیاسی تنظیم کے لوگوں کو جو تشدد میں ملوث تھے انکو بچایا گیا ، لہٰذا حکومت وقت ہوش کے ناخن لے اور منصفانہ طریقے سے مسئلے کہ حل نکالے ، بصورت دیگر ینگ ڈاکٹرز ایسوسیشن احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے ۔

منجانب
*ڈاکٹر عثمان ظفر آرائیں*
فاؤنڈر ممبر، پیٹرن وائے ڈی اے سندھ

https://www.facebook.com/61553012507013/posts/122167957394100416/
22/09/2024

https://www.facebook.com/61553012507013/posts/122167957394100416/

پریس ریلیز: ڈاکٹر شاہنواز کمبھار کے ماورائے عدالت قتل پر عدالتی تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ کی جانب سے جاری کردہ

کراچی، 22 ستمبر 2024–
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ ڈاکٹر شاہنواز کمبھار کے بنا تحقیق وحشیانہ قتل پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے، اس سفاک ماورائے عدالت قتل کی فوری عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ واقعہ انصاف اور قانون کی حکمرانی کی سنگین خلاف ورزی ہے اور ہمارے معاشرے میں انسانی جان کی حرمت پر گہرے سوالات اٹھاتا ہے۔

ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ ہر مسلمان کے لیے سب سے زیادہ مقدس چیز ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ کی عزت، احترام اور محبت ہے۔ ان کی عزت اور حرمت ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی حصہ ہے، اور ان کی شان میں گستاخی کا کوئی بھی تصور ناقابلِ برداشت ہے۔ جیسا کہ علامہ اقبال نے نبی کریم ﷺ کی شان میں کہا:

"کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں،
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں"

حضور اکرم ﷺ کی محبت اور وفا مسلمانوں کے ایمان کی بنیاد ہے۔ تاہم، اسلام انصاف، رحم اور انسانی جان کی حفاظت پر زور دیتا ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے: "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد کے سوا قتل کیا، گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا" (سورۃ المائدہ، 5:32). مزید برآں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "یقیناً تمہاری جان، تمہارا مال، اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جس طرح اس دن کی حرمت، اس شہر کی حرمت، اور اس مہینے کی حرمت ہے" (صحیح بخاری)۔ یہ تعلیمات قانون کی بالادستی اور انسانی جان کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔

ڈاکٹر شاہنواز کمبھار ایک طویل عرصے سے ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھے، جو ان کے اہل خانہ اور قریبی دوستوں کو بخوبی معلوم تھا۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق، ذہنی معذوری کا شکار افراد پر حدود کے قوانین لاگو نہیں کیے جا سکتے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: سونے والا جب تک وہ جاگ نہ جائے، بچہ جب تک بالغ نہ ہو جائے، اور دیوانہ جب تک ہوش میں نہ آ جائے" (سنن ابن ماجہ، حدیث 2041)۔ لہٰذا، یہ ضروری تھا کہ ڈاکٹر شاہنواز کی ذہنی حالت کا مکمل جائزہ لیا جاتا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا وہ اُس وقت ذہنی طور پر درست حالت میں تھے۔

اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کمبھار نے اپنی پروفائل پر ان گستاخانہ پوسٹس سے خود کو علٰیحدہ کر لیا تھا اور واضح طور پر کہا تھا کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک کیا گیا تھا، اور وہ کبھی بھی نبی کریم ﷺ کی بے حرمتی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
قرآن پاک ہمیں اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ جب کوئی فاسق شخص کوئی خبر لائے تو اس کی تصدیق کرنی چاہیے:
"اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو" (سورۃ الحجرات، 49:6).
ڈاکٹر شاہنواز کے تردیدی بیان کے باوجود، انہیں قانون کے دائرے میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا حق نہیں دیا گیا۔ اگر وہ کسی جرم کے مرتکب پائے جاتے، تو صرف عدالت کو ان کے خلاف فیصلہ دینے کا اختیار تھا۔

مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کے ماورائے عدالت قتل میں پولیس اہلکار شامل ہیں، جو کہ وہ ادارہ ہے جس کے پاس لوگ اپنی حفاظت کے لیے جاتے ہیں۔ یہ بات ناقابلِ قبول ہے کہ وہی ادارہ جو شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے، ایک ایسے ڈاکٹر کے قتل میں ملوث پایا گیا جو پہلے ہی اپنی فیس بک پوسٹس سے علٰیحدہ ہو چکے تھے اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا حق مانگ رہے تھے۔ اسلام میں خود ساختہ انصاف اور ماورائے عدالت قتل کی سختی سے ممانعت ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے آخری خطبہ میں فرمایا: "خبردار! جس نے کسی پر ظلم کیا، اس کی سزا قیامت کے دن اٹھائی جائے گی۔"

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ درج ذیل فوری اقدامات کا مطالبہ کرتی ہے:
1. ڈاکٹر شاہنواز کمبھار کے ماورائے عدالت قتل کی عدالتی تحقیقات کی جائیں تاکہ اس ظلم میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
2. پولیس اہلکاروں کی شمولیت کا خاص طور پر جائزہ لیا جائے، اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
3. اس بات کی مکمل تحقیقات کی جائیں کہ آیا ان کا اکاؤنٹ ہیک ہوا تھا اور ان پوسٹس کی حقیقت کیا تھی۔
4. ڈاکٹر شاہنواز کی ذہنی حالت کا جائزہ لیا جائے تاکہ معلوم ہو کہ آیا وہ اُس وقت ذہنی طور پر درست تھے۔
5. مستقبل میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بغیر تحقیق کسی شہری کو ماورائے عدالت قتل یا ہجوم کے انصاف کا نشانہ نہ بننا پڑے۔

ہم حکومت، عدلیہ، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس سانحے کی فوری اور منصفانہ تحقیقات کریں، تاکہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے اور دوبارہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو۔

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when VOICE of YDA SINDH posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your practice to be the top-listed Clinic?

Share