09/10/2026
ہسپتال میں ڈاکٹرز اور مریضوں کے لواحقین کے درمیان لڑائی جھگڑوں کی کچھ وجوہات — میرا ذاتی مشاہدہ!
کچھ چیزیں جو میں نے ہسپتال میں اپنی ڈیوٹی کے دوران خود محسوس کی ہے، وہ آپ سب کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
جب کوئی مریض ہسپتال میں داخل ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایک فیملی ممبر کا ہونا ضروری ہوتا ہے، لیکن مریض کے ساتھ موجود اٹینڈنٹ کا سمجھ دار، صابر اور ذمہ دار ہونا بھی بہت اہم ہے۔تنازعے کے وجوہات کیا ہے؟
1️⃣ ڈاکٹر کی ذمہ داریوں کو نہ سمجھنا:
اکثر مریضوں کے ساتھ ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جنہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وارڈ میں ڈاکٹر کی بنیادی ذمہ داریاں کیا ہیں, وہ ہر کام کے لیے ڈاکٹر کے پیچھے پڑ جاتے ہیں،
جب ڈاکٹر انہیں متعلقہ عملے سے رجوع کرنے کا کہتا ہے ,
پھر وہ غصے میں آ جاتے ہیں اور ڈاکٹر کے ساتھ لڑائی شروع کر دیتے ہیں۔
2️⃣ مریض کے ساتھ مناسب اٹینڈنٹ کا ہونا:
مریض کے ساتھ ایسے شخص کو ہونا چاہیے جو سمجھ دار، صبر و تحمل کا حامل اور مشکل حالات میں حوصلہ رکھنے والا ہو۔ ہسپتال میں بعض اوقات مریض کی حالت بگڑ سکتی ہے، ایسے حالات میں لواحقین کا پریشان ہونا فطری بات ہے، لیکن اگر وہ اپنی پریشانی پر قابو نہ رکھ سکیں اور غصے میں ڈاکٹرز سے بحث شروع کر دیں تو صورتِ حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹرز کو بھی مریض کی حالت کا جائزہ لینے، ضروری فیصلے کرنے اور مناسب علاج فراہم کرنے کے لیے وقت اور پُرسکون ماحول درکار ہوتا ہے۔
3️⃣ ہر کام فوراً ہونے کی توقع رکھنا:
ہسپتال میں ہر مریض کو فوری توجہ دینا اہم ہے، لیکن تمام مریضوں کا علاج ایک ہی وقت میں مکمل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایمرجنسی میں زیادہ تشویش ناک مریض کو پہلے دیکھنا پڑ سکتا ہے، جبکہ بعض ٹیسٹوں، رپورٹس، مشوروں اور دیگر طبی اقدامات میں وقت لگتا ہے۔
تو لہذا لواحقین ہر تاخیر کو غفلت یا جان بوجھ کر نظرانداز کرنا نہیں سمجھنا چاہیے۔
4️⃣ڈاکٹر کو ہر کام کا ذمہ دار سمجھنا:
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ہسپتال میں علاج ایک ٹیم کی صورت میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر، نرسنگ اسٹاف، لیبارٹری، فارمیسی اور دیگر شعبے اپنے اپنے دائرۂ کار میں کام کرتے ہیں۔ ہر مسئلے کا ذمہ دار صرف ڈاکٹر کو ٹھہرانا درست نہیں۔
اگر کسی کام میں مسئلہ ہو تو متعلقہ عملے سے مناسب انداز میں بات کی جائے یا وارڈ کے انچارج سے رہنمائی لی جائے، بجائے اس کے کہ فوراً ڈاکٹر کے ساتھ بحث یا بدتمیزی شروع کر دی جائے۔
5️⃣ بدتمیزی، دھمکیاں اور ویڈیو بنانے کا رویہ:
بعض اوقات معمولی اختلاف کے دوران اونچی آواز میں بات کرنا، ذاتی حملے کرنا، دھمکیاں دینا یا بغیر اجازت ویڈیو بنا کر دباؤ ڈالنا صورتِ حال کو مزید خراب کر دیتا ہے۔ شکایت کرنا مریض اور اس کے لواحقین کا حق ہے، لیکن شکایت کا طریقہ بھی مہذب اور مناسب ہونا چاہیے۔
اگر ڈاکٹر سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس کی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہییں، اور اگر کسی ڈاکٹر کے ساتھ بدتمیزی یا تشدد ہوا ہے تو اس پر بھی مناسب کارروائی ہونی چاہیے۔
6️⃣ ڈاکٹرز کے رویے اور رابطے کی اہمیت:
اس معاملے میں ہم ڈاکٹرز کو بھی چاھیے کہ ہم مریض اور اس کے خاندان سے احترام کے ساتھ بات کریں، ان کی پریشانی سنیں اور ممکن حد تک آسان زبان میں بیماری اور علاج کے بارے میں سمجھائے ۔
بعض اوقات چند تسلی بخش الفاظ، واضح وضاحت اور مناسب رہنمائی ایک بڑے تنازعے کو پیدا ہونے سے روک سکتی ہے۔ مریض اور اس کے لواحقین کے ساتھ عزت سے پیش آنا بھی طبی خدمات کا اہم حصہ ہے۔
اخر میں ایک اہم بات!
ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ میری ان باتوں سے اختلاف کریں، لیکن یہ میرے ذاتی مشاہدے اور ہسپتال میں کام کرنے کے تجربے پر مبنی ہیں۔
اس مسئلے پر بات کرنا ضروری تھا تاکہ عوام اور ڈاکٹروں کے درمیان موجود غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے، ایک دوسرے کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے اور ہسپتال میں باہمی احترام، محبت اور تعاون کی فضا قائم ہو، تاکہ ڈاکٹر اطمینان سے مریض کا علاج کر سکیں۔
ڈاکٹر عطاء الرحمان🩺