31/08/2026
کچھ رخصتیاں ناقابلِ تلافی ہوتی ہیں
کچھ لوگ صرف ایک خاندان کا حصہ نہیں ہوتے، بلکہ پورے علاقے، برادری اور معاشرے کی پہچان بن جاتے ہیں۔ ان کی محبت، خلوص، شفقت اور خدمت لوگوں کے دلوں میں ایسی جگہ بنا لیتی ہے کہ ان کی جدائی کے بعد پیدا ہونے والا خلا الفاظ میں بیان کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔جنازے دراصل انسان کی زندگی کی سب سے بڑی گواہی ہوتے ہیں۔ وہاں نہ عہدہ رہتا ہے، نہ دولت، نہ اختیار اور نہ کوئی دنیاوی مرتبہ؛ صرف انسان کا کردار اور لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے محبت باقی رہ جاتی ہے۔ کسی کے جنازے میں جمع ہونے والے بے شمار لوگ، نم آنکھیں اور بے ساختہ نکلنے والی دعائیں بتاتی ہیں کہ جانے والا اپنے پیچھے کتنی محبتیں چھوڑ گیا۔
قاسم بھٹی صاحب کی رخصتی بھی ایسی ہی ایک گہری اور ناقابلِ تلافی جدائی ہے۔ ان کی ملنساری، خلوص، محبت، اپنائیت اور لوگوں کے ساتھ بے غرض تعلق ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ صرف اپنے گھر کے نہیں بلکہ سب لوگوں کے دکھ درد میں شریک رہنے والے انسان تھے۔ آج ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ بہت گہرا ہے اسے پُر ہونے میں شاید بہت وقت لگے، اور ممکن ہے کہ یہ خلا کبھی مکمل طور پر پُر ہی نہ ہو سکے۔
اس جدائی کا سب سے دردناک پہلو شاید وہ منظر ہے جو آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے۔
6 دسمبر 2020 کو بھائی جان ڈاکٹر عبدالغفار کی قرآن خوانی کے بعد اسی مسجد میں قاسم بھٹی صاحب کا گلے لگ کر رونا اور یہ کہنا کہ ہم یتیم ہو گئے ہیں آج بھی دل کو بے چین کر دیتا ہے۔ اس وقت ہم نے بھائی جان عبدالغفار کی جدائی کا غم اسی مسجد میں مل کر محسوس کیا تھا۔ لیکن وقت نے ایک عجیب منظر دوبارہ ہمارے سامنے لا کھڑا کیا۔
آج اسی مسجد میں، اسی جگہ، وہی آنکھیں اشکبار ہیں، وہی دل غم سے بوجھل ہیں، اور آج ہم سب قاسم بھٹی صاحب کی جدائی میں ایک دوسرے سے گلے لگ کر رو رہے ہیں۔ کل جن کے لیے وہ کہہ رہے تھے کہ ہم یتیم ہو گئے، آج انہی کے لیے ہم سب کے دل سے یہی احساس نکل رہا ہے کہ ہم نے اپنا ایک بہت قیمتی سہارا کھو دیا ہے۔
واقعی، زندگی کتنی مختصر اور بے اعتبار ہے۔
چل فریدا ! اتھے کوئی آج چلیا، کوئی کل چلیا
آج کوئی رخصت ہوا، کل کسی اور کی باری ہے۔ مگر کچھ رخصتیاں انسان کو اندر تک توڑ دیتی ہیں، کیونکہ جانے والا صرف ایک شخص نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ ہماری بہت سی یادیں، تعلقات اور زندگی کے خوبصورت باب بھی رخصت ہو جاتے ہیں۔
بھائی جان ڈاکٹر عبدالغفار، بھائی جان میاں عبدالعزیز اور استادِ محترم ظفر اقبال صاحب بھی ایسی ہی قابلِ احترام شخصیات ہیں جن کی محبت، خدمات، شفقت اور کردار کو ہمیشہ عقیدت سے یاد کیا جائے گاان سب شخصیات کے جنازے اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ ان کا جانا صرف ان کے خاندانوں کا نقصان نہیں، بلکہ پورے علاقے کا نقصان اور ایک ناقابلِ تلافی خسارہ ہے۔ ان کی کمی صرف آج محسوس نہیں ہوگی، بلکہ آنے والے وقت میں بھی بار بار محسوس ہوتی رہے گی۔
اللہ پاک قاسم بھٹی صاحب، بھائی جان ڈاکٹر عبدالغفار، بھائی جان میاں عبدالعزیز اور استادِ محترم ظفر اقبال صاحب سمیت تمام مرحومین کو اپنی بے پایاں رحمتوں میں جگہ عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، قبروں کو نور سے منور فرمائے اور ان کی نیکیوں، خدمات اور محبتوں کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے۔
اللہ پاک سب کو غریقِ رحمت فرمائےآمین یا رب العالمین۔
سعادت اقبال