Talha Umer

Talha Umer Author | ماہرِ نفسیات
Master's in Psychology (MPhil)

پاکستان میں جب بھی کوئی سانحہ ہوتا ہے، عموماً عورتوں کے ساتھ، تو آپ کو دو طرح کے لوگ ملیں گے۔ ایک تو وہ جو واقعی میں ہمد...
09/06/2026

پاکستان میں جب بھی کوئی سانحہ ہوتا ہے، عموماً عورتوں کے ساتھ، تو آپ کو دو طرح کے لوگ ملیں گے۔ ایک تو وہ جو واقعی میں ہمدرد اور فکرمند دکھائی دیں گے، جن کے دلوں میں اپنے معاشرے اور آنے والی نسلوں کی فکر اور غصہ صاف نظر آ رہا ہو گا، اور دوسری طرف کچھ ایسے لوگ جو صرف ٹرینڈ میں آنے کے لیے پوسٹس کرتے ہیں۔ نفسیات میں اسے 'ورچو سگنلنگ' (Virtue Signaling) کہا جاتا ہے، جہاں مقصد کسی مہم کا حصہ بننا نہیں بلکہ صرف اپنی فرینڈ لسٹ میں موجود خواتین کی توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص ان کو سوشل میڈیا سے باہر کی اصل زندگی میں جانتا ہو، تو وہ یقین نہیں کر پائے گا کہ یہ وہی صاحب ہیں جو دن رات عورت کے حقوق کے گیت گاتے ہیں، کیونکہ ان کی حقیقی زندگی اور ورچوئل پہچان میں شدید تضاد ہوتا ہے جسے 'کوگنیٹو ڈیسونینس' (Cognitive Dissonance) کہا جاتا ہے۔ یہاں دو طرح کی دنیا ہے؛ ایک وہ جہاں ہماری اصلیت قریبی دوست احباب کو پتہ ہوتی ہے اور دوسری وہ جو ہم سوشل میڈیا پر صرف اپنی 'سوشل آئیڈنٹٹی' (Social Identity) کو برقرار رکھنے کے لیے ظاہر کرتے ہیں تاکہ ٹرینڈز کے ساتھ جڑے رہیں اور کوئی چیز مس نہ ہو جائے۔ ان لوگوں کے ساتھ اگر آپ بحث کریں تو ان کے پاس صرف سوشل میڈیا کی دی ہوئی سطحی معلومات ہوتی ہیں، یہ آپ کو کوئی منطقی جواب کبھی نہیں دیں گے، البتہ ان کی ہر بات میں جذبات بھرپور ہوں گے۔
مجھے مسئلہ اس چیز سے ہے کہ ہم ایک تماشائی قوم بن چکے ہیں، جیسا کہ میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں۔ جھنگ میں 17 سالہ معصوم لڑکی کے ساتھ درندگی کا واقعہ ہو یا کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب گردی کا حالیہ اندوہناک سانحہ، ہمارے سامنے ہر روز ایک نیا تماشا لگتا ہے اور لگتا رہے گا۔ نفسیات میں اسے 'بائی سٹینڈر افیکٹ' (Bystander Effect) کہتے ہیں جہاں ہر شخص یہ سوچتا ہے کہ آواز اٹھانا یا قدم اٹھانا کسی دوسرے کا کام ہے، میرا نہیں۔ اس کے بعد ہماری ذہنی توانائی ختم ہو جاتی ہے جسے 'کمپیشن فٹیگ' (Compassion Fatigue) کہا جاتا ہے، اور ہم اس واقعے کو بھول کر اگلے ٹرینڈ کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ مجھے لوگوں کے اسی رویے سے گلہ ہے کہ ہم کسی بھی معاشرتی مسئلے کو اس کی جڑ سے سمجھنا ہی نہیں چاہتے، بلکہ ہمارا سارا فوکس صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ کتنی دیر تک نیوز میں رہ سکتا ہے اور ہم اس پر کتنی دیر تک بحث کر سکتے ہیں۔
یاد رکھیے گا، یہ اس معاشرے میں ایک نفسیاتی جنگ ہے جو آپ اور ہم سب لڑ رہے ہیں، لیکن کسی بیرونی دشمن کے خلاف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف۔ یہ دراصل زاویہ ہائے نظر (Perspectives) کی جنگ ہے۔ یہاں آپ کو مختلف لوگ، مختلف نظریات، عقائد اور فلسفے کے ساتھ ملیں گے جو صنفین (Both Genders) کو لے کر بالکل الگ رائے رکھتے ہیں اور ہر کوئی اپنا نظریہ دوسرے پر زبردستی مسلط کرنا چاہتا ہے۔ لیکن سامنے والا بھی اپنے نظریے سے ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ ہر ایک شخص کا اپنا قانون اور آئین ہے اور وہ ریاست کو اپنی مرضی کا تابع کرنا چاہتا ہے۔ یہ وہ قوم ہے جو شدید ذہنی انتشار (Confusion) کا شکار ہے، جو مختلف متضاد نظریات کا ایک ایسا آمیزہ ہے جہاں کوئی ایک نظریہ بھی پوری طرح واضح اور رائج نہیں ہے۔ جب تک اس قوم کے لوگوں کے ذہنوں سے یہ بگاڑ کا شکار خاکے (Distorted Schemas) اور بیمار سوچ نہیں نکالی جاتی، یہ قوم ایسے ہی دل دہلا دینے والے واقعات آنے والے وقتوں میں بھی، بدقسمتی سے، دیکھتی رہے گی۔

تحریر: طلحہٰ عمر


Talha Umer Khan

ہم جس معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں، وہاں تحقیق اور علم کا ایک ایسا سطحی کلچر پروان چڑھ چکا ہے جہاں ایم فل (M.Phil) او...
02/06/2026

ہم جس معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں، وہاں تحقیق اور علم کا ایک ایسا سطحی کلچر پروان چڑھ چکا ہے جہاں ایم فل (M.Phil) اور پی ایچ ڈی (PhD) جیسی اعلیٰ ترین اسناد کو علم و دانش کی مہم جوئی کے بجائے محض سماجی مرتبے (Social Status) کے حصول کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کا اصل مقصد معاشرے میں تنقیدی سوچ (Critical Thinking)، فکری گہرائی اور مثبت تبدیلی لانا ہوتا ہے، مگر ہمارے ہاں یہ ڈگریاں "واہ واہ" سمیٹنے اور نام کے ساتھ "ڈاکٹر" کا لاحقہ لگانے کی نمائش تک محدود ہو چکی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم ایک ایسی تماشائی قوم میں تبدیل ہو چکے ہیں جو خود اپنے زوال کا تماشہ دیکھنے کی خوگر ہے۔ دورِ حاضر میں تعلیم، جو کہ شعور کی بیداری کا نام تھا، اب محض ایک دکھاوا اور نمائش بن کر رہ گئی ہے۔
تاہم، اس تمام تر صورتحال کا ذمہ دار صرف عوام یا طلبہ کو ٹھہرانا ناانصافی ہوگی۔ اس فکری دیوالیہ پن میں ان مقتدر اداروں کا کردار برابر کا ہے جن کے پاس ملک کے تعلیمی نظام کی باگ ڈور ہے۔ حال ہی میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور یونیورسٹیوں کے مابین کھینچ تان کی خبریں میڈیا کی زینت بنیں۔ ایچ ای سی کی جانب سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لیے ایک مرکزی داخلہ ٹیسٹ کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، جس کا مقصد تعلیمی معیار کو بہتر بنانا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے، یہ ادارہ سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کے سامنے اس حد تک بے بس نظر آیا کہ اس نے نہ صرف اپنا نوٹیفکیشن واپس لے لیا بلکہ اس فیصلے کو 2027 تک مؤخر کر دیا۔ جس معاشرے میں نگران ادارے اس درجہ کمزور ہوں کہ وہ جامعات کے ہاتھوں مجبور ہو جائے، وہاں تعلیمی ساکھ اور شفافیت کا جنازہ نکلنا حیران کن نہیں۔
اس دوران عوامی اور علمی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر مختلف زاویوں سے تنقید کی گئی۔ ایک طبقے کا موقف یہ تھا کہ یہ نگران ادارہ محض فنڈز اور امتحانی فیسوں کی مد میں پیسے بٹورنے کے لیے خود ٹیسٹ منعقد کروانا چاہتا ہے۔ اگرچہ یہ تنقید کسی حد تک مالیاتی شفافیت کے زمرے میں درست ہو سکتی ہے، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یونیورسٹیاں خود بھی یہ ٹیسٹ مفت میں منعقد نہیں کرتیں۔
دوسری بڑی تنقید اس طریقۂ کار پر کی گئی کہ ایک سبجیکٹ سپیشلسٹ (مضمون کے ماہر) سے ریاضی یا مقداری تجزیے (Quantitative Portion) کا ٹیسٹ کیوں لیا جائے؟ یہ اعتراض دراصل اس پورشن کی علمی اہمیت سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ مقداری تجزیہ محض ریاضی کا امتحان نہیں ہوتا، بلکہ یہ انسان کی ادراکی مہارتوں (Cognitive Skills) کو جانچنے کا پیمانہ ہے۔ اس کے ذریعے درج ذیل ذہنی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے:
ورکنگ میموری (Working Memory): معلومات کو عارضی طور پر ذہن میں رکھ کر ان پر کام کرنا۔
سیال ذہانت (Fluid Intelligence / Fluid Reasoning): نئے اور غیر مانوس مسائل کو منطقی طور پر حل کرنے کی صلاحیت۔
انتظامی افعال (Executive Functioning): جس میں ذہنی لچک، منصوبہ بندی اور مسائل کے حل کی صلاحیت شامل ہے۔
کسی بھی مضمون کا مواد دماغ کے "ہپوکیمپس" (Hippocampus) حصے میں رٹا لگا کر محفوظ کر لینا الگ بات ہے، لیکن ایک محقق کے اندر حقیقی فکری اور تجسسی صلاحیتیں کتنی ہیں، اسے جاننا بالکل الگ بات ہے۔
مگر ہمارے سماجی چلن کو ان سائنسی باریکیوں سے کوئی سروکار نہیں۔ یہاں ایک اوسط سرکاری یا نجی ملازم کا ہدف صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح ایم فل یا پی ایچ ڈی کی ڈگری ہاتھ آ جائے تاکہ ان کا بی پی ایس (BPS) اسکیل بڑھ جائے، تنخواہ میں الاؤنسز کا اضافہ ہو جائے اور مراعات مل جائیں۔ اس مائنڈ سیٹ کے تحت ڈگری محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے جس کا مقصد اسٹیٹس کو مضبوط کرنا ہے۔ معاشرے کو اس تحقیق سے کیا فائدہ پہنچ رہا ہے، اس سے کسی کو غرض نہیں۔ برسوں سے رٹے رٹائے نظام کا حصہ بنے رہنے والے اس طبقے کو کسی نئی جدت (Innovation) سے کوئی لگاؤ نہیں ہوتا۔ ان کا فلسفہ یہ بن چکا ہے کہ "جدت اور ریسرچ کا کام مغرب کا کوئی گورا کر ہی لے گا، ہم بعد میں اس کے تحقیقی مقالے (Research Papers) کاپی پیسٹ کر لیں گے"۔ بدقسمتی سے، پاکستانی جامعات میں ادبی سرقہ (Plagiarism) اور کٹ اینڈ پیسٹ کا یہ کلچر بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی کا باعث بھی بن رہا ہے۔
مگر اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے، جہاں ان مخلص اور محنتی طلبہ پر ترس آتا ہے جن کا واقعی کوئی قصور نہیں ہے۔ اگر کوئی نوجوان پاکستان میں رہ کر حقیقی تحقیق کرنا بھی چاہے، تو ہمارے پاس بین الاقوامی معیار کی جدید تحقیقی تجربہ گاہیں (Research Labs) سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ دوسری بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہمارا کارپوریٹ اور انڈسٹریل سیکٹر (Corporate Sector) اتنا پسماندہ اور روایتی ہے کہ وہ جدید محققین کو جذب کرنے اور انہیں تحقیق کے نئے مواقع فراہم کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ جب صنعت اور جامعات کا آپسی ربط (Academia-Industry Linkage) ہی مفقود ہو، تو ہر پی ایچ ڈی ہولڈر کے پاس تدریس (Academia) کی طرف جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا۔ یوں، وہی گھسا پٹا روایتی چکر (Cycle) دوبارہ شروع ہو جاتا ہے اور پسماندگی کا یہ سفر نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔

تحریر: طلحہٰ عمر


Talha Umer Khan

ہم بحیثیت قوم تو کبھی ایک نہ تھے اور شاید نہ کبھی ہوں گے، لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ ہم تماشائی ضرور ہیں۔ یہی وہ واحد...
26/05/2026

ہم بحیثیت قوم تو کبھی ایک نہ تھے اور شاید نہ کبھی ہوں گے، لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ ہم تماشائی ضرور ہیں۔ یہی وہ واحد چیز ہے جو اس ہجوم کو ایک جگہ اکٹھا کر کے رکھتی ہے۔ آئیے اس تماش بین نفسیات پر تھوڑی گہری بات کرتے ہیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ جب بھی سڑک پر کوئی حادثہ ہوتا ہے، کوئی لڑائی جھگڑا ہوتا ہے، یا خدانخواستہ کہیں آگ لگتی ہے، تو ہم ایک ہجوم کی طرح وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں جانے کا مقصد مظلوم کی مدد کرنا یا احساس دلانا نہیں ہوتا، بلکہ اپنے اندر کا تجسس مٹانا ہوتا ہے۔ ان وقتوں میں لوگ زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کے بجائے موبائل نکال کر ویڈیوز بنانا شروع کر دیتے ہیں تاکہ سوشل میڈیا پر چند ویوز حاصل کر سکیں، یعنی صرف اپنی ذاتی تسکین اور فائدے کے لیے وہ دوسروں کی تکلیف کا تماشا دیکھتے ہیں۔
اس رویے کو اگر ہم اپنے گھریلو اور قریبی معاملات میں دیکھیں، تو یہ مزید بھیانک نظر آتا ہے۔ اگر کسی شخص پر کوئی مشکل وقت آ جائے، جیسے نوکری کا جانا، کاروبار میں نقصان یا طلاق جیسے نجی معاملات، تو ارد گرد کے لوگ ہمت یا ساتھ دینے کے بجائے سب سے پہلے یہ کریدنے پہنچ جاتے ہیں کہ آخر ہوا کیا تھا اور آپ کی کتنی حیثیت ہے اس مشکل سے نکلنے کی۔ اگر آپ انہیں یہ بتا دیں کہ میں مینیج کر لوں گا اور اس مشکل سے نکل جاؤں گا، تو گویا آپ نے ان کے تجسس کا مزہ پھیکا کر دیا۔ وہ تو اس تماشے کو مہینوں تک کھینچنا چاہتے تھے تاکہ روز آپ کی بے بسی کا تماشا دیکھ سکیں، لیکن آپ کے حوصلے نے ان کی تفریح خراب کر دی۔
ایسے کٹھن وقتوں میں آپ کو سچے غمخواروں کے بجائے اکثر سودے باز اور موقع پرست لوگ ملیں گے۔ اگر آپ کسی سخت معاشی صورتحال یا مالی تنگی سے دوچار ہوں گے، تو سب سے پہلے یہی قریبی لوگ آپ کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کا سوچیں گے۔ وہ کوشش کریں گے کہ کسی طرح کم سے کم قیمت پر آپ کی جائیداد، گاڑی یا کوئی بھی ملکیتی چیز اوندھے منہ داموں خرید لیں۔ یہی وہ تجسس اور لالچ ہے جو انہیں آپ کے قریب لاتا ہے کہ شاید اس گرتے ہوئے انسان سے ہمارا کوئی ذاتی فائدہ نکل آئے۔ ہمارے معاشرے میں کسی کی زندگی کا تماشا، دوسروں کے لیے اپنے اثاثے سمیٹنے اور خود کو مضبوط کرنے کا بہترین موقع بن جاتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ سوچ بنتی کیوں ہے؟ سائنسی اور ارتقائی نقطہ نظر کے مطابق، انسان فطرتی طور پر ہمیشہ اپنے بقا کی جنگ میں رہتا ہے۔ اسے کسی دوسرے انسان کے ہونے یا نہ ہونے سے، یا اس کے مٹنے سے تب تک کوئی فرق نہیں پڑتا جب تک وہ خود محفوظ ہے اور اس کا اپنا گھر چل رہا ہے۔ اس تماشائی کو فرق صرف تب پڑے گا جب یہی آگ اس کے اپنے دالان تک آئے گی، تب یہ چیخے گا اور چلائے گا۔ لیکن المیہ دیکھیے کہ اس وقت پھر یہی دائرہ دہرایا جائے گا۔ جب یہ چیخ رہا ہوگا، تو کوئی دوسرا تماشائی کھڑا ہو کر اس کا تماشا دیکھ رہا ہوگا اور سوچ رہا ہوگا کہ میں تو محفوظ ہوں، میں کیوں فکر کروں اور میں اس کے زوال سے اپنے لیے کیا حاصل کر سکتا ہوں۔ بس یہی وہ خود غرضی ہے جو ہمیں ایک زندہ قوم کے بجائے محض تماش بین بناتی ہے، اور یہ سائیکل ایسے ہی چلتا رہے گا جس کی ہزاروں مثالیں ہمیں روزمرہ کی زندگی میں ملتی ہیں۔

تحریر: طلحہٰ عمر


Talha Umer Khan

پاکستان کے موجودہ معاشی حالات جیسے بھی ہوں، لیکن اس وقت جو سب سے خوفناک صورتحال پیدا ہو چکی ہے، وہ ہمارا سماجی اور اخلاق...
21/05/2026

پاکستان کے موجودہ معاشی حالات جیسے بھی ہوں، لیکن اس وقت جو سب سے خوفناک صورتحال پیدا ہو چکی ہے، وہ ہمارا سماجی اور اخلاقی زوال ہے۔ ایک وقت تھا جب ہم کہتے تھے کہ ہم مغربی معاشرے سے سماجی طور پر بہت آگے ہیں، اور ہمارے خاندانی نظام کا دنیا میں کوئی جوڑ نہیں ہے۔ لیکن افسوس! وقت کے ساتھ ساتھ یہ دعوے غلط ثابت ہو رہے ہیں اور آج ہم معیشت اور معاشرت، دونوں محاذوں پر بدترین زوال کا شکار ہیں۔

اخلاقی طور پر تو اب بات نہ ہی کی جائے تو بہتر ہے۔ ہم وہ قوم بن چکے ہیں جو بے ایمانی اور منافقت کو "ہوشیاری" کا نام دے کر فخر سے کرتے ہیں۔ سماجی صورتحال یہ ہے کہ ہر دوسرا شخص اپنے ہی ارد گرد کے قریبی لوگوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے موقع کی تلاش میں رہتا ہے۔ حسد کا یہ عالم ہے کہ لوگ دوسروں کو نقصان پہنچا کر اپنی انا کو تسکین دیتے ہیں، جسے نفسیات کی زبان میں "Sadistic Pleasure" یعنی دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر خوش ہونا کہا جاتا ہے۔ ہم خود محنت کرنا نہیں چاہتے، اور جو محنت کر رہا ہو، اسے اس کی محنت کا صلہ دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا بحران معاشی نہیں، بلکہ معاشرتی اور اخلاقی ہے، جسے ہم یا تو دیکھ نہیں پا رہے یا پھر جان بوجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں۔

دوسری طرف، جس شخص میں اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ ہو، وہی اپنی اصلاح کر سکتا ہے۔ ایسا انسان زندگی کے ہر پہلو سے کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا ہے، اور یہی سیکھنے کا عمل انسان کو زندگی کی ہر آزمائش سے لڑنے کی طاقت دیتا ہے۔ مگر افسوس، ہمارے معاشرے میں یہ صفت اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں ہر شخص اپنے نظریات اور غلطیوں پر اتنا کٹر ہو چکا ہے کہ اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کا مطلب اس کی انا کو چیلنج کرنا ہے۔ بحیثیت معاشرہ ہم اتنے انا پرست ہو چکے ہیں کہ خود کو بدلنا یا اپنی غلطی ماننا ہمیں اپنی توہین لگتا ہے۔

بحیثیت معاشرہ ہم کس سمت میں جا رہے ہیں؟ ہماری منزل کیا ہے؟ اور ہمارے ان رویوں کا انجام کیا ہونے والا ہے؟ یہ تو اب آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔

تحریر: طلحہٰ عمر


Talha Umer Khan

ہر چیز غلط تب تک لگتی ہے جب تک خود کی پہنچ سے دور ہو، ورنہ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی خواہش پوری قوم کو ہے۔ 🙏~ طلحہٰ...
16/05/2026

ہر چیز غلط تب تک لگتی ہے جب تک خود کی پہنچ سے دور ہو، ورنہ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی خواہش پوری قوم کو ہے۔ 🙏
~ طلحہٰ عمر

Talha Umer Khan

ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی جانب سے یہ ایک انتہائی مثبت قدم ہے جس کی جتنی بھی پذیرائی کی جائے کم ہے۔ اگرچہ یہ فیصلہ کچھ...
14/05/2026

ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی جانب سے یہ ایک انتہائی مثبت قدم ہے جس کی جتنی بھی پذیرائی کی جائے کم ہے۔ اگرچہ یہ فیصلہ کچھ تاخیر سے سامنے آیا، تاہم تعلیمی معیار کے لیے نہایت خوش آئند ہے۔ اس ضمن میں ایک گزارش یہ ہے کہ یونیورسٹیوں کو مخصوص نشستوں کو کم کر کے ایم فل اور ایم ایس پروگرام شروع کرنے کا پابند بنایا جائے، تاکہ صرف اس خاص میرٹ پر پورا اترنے والے مستحق طلبہ کو ہی ان نشستوں پر جگہ مل سکے۔
مشاہدے میں آیا ہے کہ صرف ایک یونیورسٹی کے ایک شعبے سے سالانہ بنیادوں پر (فال اور اسپرنگ دونوں سمسٹرز ملا کر) فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کی تعداد 60 سے تجاوز کر جاتی ہے، جس نے جاب مارکیٹ کو بری طرح سیر (Saturate) کر دیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ رہی ہے کہ یونیورسٹیاں اپنے سالانہ مالی اہداف کو پورا کرنے کے لیے داخلہ ٹیسٹ خود مرتب کرتی ہیں اور فیسوں کی مد میں مالی فائدے کے حصول کے لیے بڑی تعداد میں داخلے دیتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز ایک خاص معیار اور حد تک ہی بہتر لگتی ہے؛ جب تعداد توازن سے بڑھ جائے تو اس کا نقصان محض ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام اور معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔

~ طلحہ عمر
Talha Umer Khan

خودکشی کے پیچھے بے شمار پیچیدہ وجوہات ہو سکتی ہیں اور ان کو سمجھے بنا کوئی بھی رائے قائم کرنا سراسر غلط ہے۔ ہمیں یہ حقیق...
09/05/2026

خودکشی کے پیچھے بے شمار پیچیدہ وجوہات ہو سکتی ہیں اور ان کو سمجھے بنا کوئی بھی رائے قائم کرنا سراسر غلط ہے۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ جس طرح معمولی بخار کی صورت میں ہم ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں، اسی طرح جب انسان پر شدید ذہنی دباؤ، بے چینی اور بیزاری کی کیفیت طاری ہو تو اسے کسی ماہرِ نفسیات (Therapist) سے مدد لینی چاہیے۔ یاد رکھیں کہ ڈپریشن کوئی اچانک پیدا ہونے والی حالت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بتدریج عمل ہے جو دیمک کی طرح انسان کو اندر سے کھوکھلا کرتا رہتا ہے، اور اس کی علامات ہمارے روزمرہ کے معمولات سے واضح ظاہر ہوتی ہیں۔
ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ ذہنی صحت کے حوالے سے شعور کی کمی ہے؛ یہاں لوگ اسے بیماری ہی نہیں سمجھتے۔ اکثر مردوں کو "مرد بنو، ہمت نہ ہارو" جیسے طعنے دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں انسان اپنی کیفیات چھپانے لگتا ہے تاکہ وہ لوگوں کی نظر میں کمزور نہ پڑ جائے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر انسان کی ذہنی قوتِ برداشت مختلف ہوتی ہے؛ جو بات آپ کے لیے عام سی ہے، ہو سکتا ہے وہ کسی دوسرے کے لیے شدید تکلیف دہ ہو۔ ہر شخص زندگی کے حادثات کو اپنے منفرد تجربات کی روشنی میں دیکھتا اور ان پر ردعمل دیتا ہے۔
پاکستان میں پڑھے لکھے لوگ بھی اکثر ماہرینِ نفسیات کا یہ کہہ کر مذاق اڑاتے ہیں کہ وہ "صرف باتوں کے پیسے لیتے ہیں"، حالانکہ ایک پیشہ ور تھراپسٹ ایک خاص سائنسی فریم ورک کے تحت جانتا ہے کہ کس وقت کون سی بات کرنی ہے اور اس کا مریض پر کیا اثر ہوگا۔ میرا یہ ذاتی خیال ہے کہ اگر برصغیر میں ذہنی امراض کے کیسز مغرب کی طرح دیانتداری سے رپورٹ ہونا شروع ہو جائیں، تو یہ خطہ ذہنی امراض کی شرح میں تمام عالمی ریکارڈ توڑ دے گا۔

تحریر: طلحہٰ عمر
Talha Umer Khan

اپنے بچوں کو خدارا احساسِ کمتری کا شکار نہ بنائیں؛ اکثر والدین اپنی ادھوری لاشعوری خواہشات (Unconscious Desires) اپنے بچ...
04/05/2026

اپنے بچوں کو خدارا احساسِ کمتری کا شکار نہ بنائیں؛ اکثر والدین اپنی ادھوری لاشعوری خواہشات (Unconscious Desires) اپنے بچوں سے جوڑ لیتے ہیں کہ "میرا پتر تے افسر بن سی" یا "میرا پتر ڈاکٹر بن سی"۔ حالانکہ آج کل ان مخصوص پیشوں کا، خصوصاً باہر سے ایم بی بی ایس کر کے آنے والوں کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ہر ماہرِ نفسیات یہ بات بخوبی سمجھتا ہے کہ ہر انسان کی ذہنی صلاحیت اور رجحان الگ ہے اور ہر کوئی ڈاکٹر یا بیوروکریٹ نہیں بن سکتا۔ آپ کو اپنی اولاد بہت عزیز ہے اور ان کے مستقبل کی فکر بھی ہے، لیکن کیا ان کے کوگنیٹو اسکلز (Cognitive Skills) اس مخصوص پروفیشن کے لیے بنے بھی ہیں یا نہیں؟ اس کے لیے کسی ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے جو مختلف سائیکو میٹرک ٹیسٹس سے اس بات کا خلاصہ کرے۔ لیکن چونکہ ہم نے معاشرے میں دوسروں کو دکھانا ہے اور مقابلہ کرنا ہے کہ "فلاں دا پتر افسر/ڈاکٹر بنیا تے ساڈا کیوں نہیں"، اسی سماجی موازنے نے آج لاکھوں نوجوانوں کو ذہنی مریض اور ڈپریشن میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرِ نفسیات ایرک ایرکسن اسے 'Identity Foreclosure' کہتا ہے، جہاں بچہ اپنی شناخت خود چننے کے بجائے والدین کے خوف سے کوئی راستہ چن لیتا ہے اور ساری زندگی ایک کنفیوزڈ شخصیت بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ بات ہی بنیادی طور پر غلط ہے کہ جو میں نہ بن سکا وہ میری اولاد بنے گی۔ آپ نے بچے میں کون سا ایسا ہنر یا جذبہ دیکھ لیا جس نے آپ کو یہ خواہش پالنے پر مجبور کر دیا؟ ہر بچہ پیدائشی طور پر مختلف مہارتیں رکھتا ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں دوسرے پیشوں کو حقارت سے دیکھنا دراصل ہمارے اپنے مسخ شدہ ادراک (Distorted Perceptions) کا نتیجہ ہے۔ یہ سب کچھ معاشرتی دباؤ کا شاخسانہ ہے جس میں میں اور آپ، ہم سب شامل ہیں، اور اس کے نتائج آنے والے وقتوں میں بہت خوفناک ہونے والے ہیں۔

تحریر: طلحہٰ عمر
Talha Umer Khan

عموماً دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی شخص ایک طویل عرصے تک کسی بڑے عہدے پر فائز رہنے کے بعد ریٹائر ہوتا ہے، تو وہ اچانک بیماریو...
02/05/2026

عموماً دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی شخص ایک طویل عرصے تک کسی بڑے عہدے پر فائز رہنے کے بعد ریٹائر ہوتا ہے، تو وہ اچانک بیماریوں اور شدید ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ یہ دنیا کی ایک بہت بڑی اور تکلیف دہ حقیقت ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ انسان کی قدر اس کے کام سے ہےـ ہمارے معاشرے میں مرد کا مقام اس کے خاندان یا نام سے زیادہ اس بات سے جڑا ہوتا ہے کہ وہ کس کے کتنا کام آ سکتا ہے۔ آپ خواہ کتنے ہی اعلیٰ خاندان میں پیدا ہوئے ہوں، اگر آپ کسی کے لیے "فائدہ مند" نہیں ہیں، تو لوگ آپ سے دور بھاگیں گے اور آپ کے ساتھ وقت گزارنا فضول سمجھیں گے۔

نفسیات کی زبان میں سوشل ایکسچینج تھیوری (Social Exchange Theory) کیا ہے؟ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ انسانی تعلقات دراصل ایک غیر محسوس "نفع و نقصان" کے ترازو پر قائم ہیں۔ ہم کسی بھی رشتے کو تب تک برقرار رکھتے ہیں جب تک ہمیں وہاں سے ملنے والا فائدہ (Reward) اس پر لگنے والی محنت یا وقت (Cost) سے زیادہ ہو۔

ظاہری مفاد: براہِ راست کام آنا یا مدد کرنا۔
پسِ پردہ مفاد: لاشعوری طور پر یہ امید رکھنا کہ اس شخص کا عہدہ، پاور اور اختیارات کبھی نہ کبھی ہمارے کام آئیں گے۔ ہم اسے شعوری طور پر تسلیم نہیں کرتے، لیکن ہمارے لاشعور میں یہ سودا طے ہوتا ہے۔

جب ایک طاقتور انسان ریٹائر ہوتا ہے، تو وہ صرف اپنی نوکری نہیں بلکہ اپنی وہ طاقت، پہچان اور اختیارات بھی کھو دیتا ہے جس کی وجہ سے دنیا اس کے گرد طواف کرتی تھی۔ لوگ بھانپ لیتے ہیں کہ اب یہ "ضعیف" شخص ان کے کسی کام کا نہیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ: وہ فون جو دن میں بیس بار بجتا تھا، خاموش ہو جاتا ہے۔ دوست، رشتے دار اور کولیگز آہستہ آہستہ کنارہ کشی کر لیتے ہیں۔ وہ انسان جو کبھی "مرکزِ نگاہ" تھا، اب خود کو بالکل بے وقعت (Valueless) محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں سے ڈپریشن جنم لیتا ہے۔ وہ اپنے ماضی کے احسانات یاد کر کے کڑھتا ہے اور بعض اوقات ذہنی تکلیف کی شدت سے تڑپ اٹھتا ہے۔

دنیا جذبات سے نہیں بلکہ حقائق سے چلتی ہے۔ یا تو خود کو آخری سانس تک لوگوں کے لیے کسی نہ کسی صورت میں "قیمتی" (Valuable) بنائے رکھیں، یا پھر دنیا داری سے ایسی کنارہ کشی اختیار کریں کہ نہ آپ کو کسی سے امید رہے اور نہ لوگ آپ سے کوئی توقع رکھیں۔

تحریر: طلحہٰ عمر
Talha Umer Khan

گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر ایک اشتہار نظر سے گزرا جس میں ایک نجی یونیورسٹی کو ریسرچ اسسٹنٹ کی ضرورت تھی، اور اس کا معاوضہ ...
29/04/2026

گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر ایک اشتہار نظر سے گزرا جس میں ایک نجی یونیورسٹی کو ریسرچ اسسٹنٹ کی ضرورت تھی، اور اس کا معاوضہ محض 750 روپے روزانا مقرر کیا گیا تھا۔ اس مضحکہ خیز معاوضے پر عوامی سطح پر شدید تنقید اور بحث و مباحثہ تو ہوا، لیکن ایک نہایت افسوسناک پہلو جسے سب نے نظر انداز کر دیا، وہ یہ ہے کہ یہ پوسٹ لگانے والے بھی وہی لوگ ہیں جو خود اس تعلیمی نظام کا حصہ ہیں۔ یہ وہ اساتذہ یا انتظامی عہدیدار ہیں جو بخوبی جانتے ہیں کہ ایک طالبِ علم کن کٹھن مراحل، مالی مشکلات اور ذہنی اذیت سے گزر کر اپنی تعلیم مکمل کرتا ہے۔
ان تمام حقائق سے واقف ہونے کے باوجود، ایک محقق (Researcher) کے لیے ایسی پست سوچ رکھنا اور اسے کم از کم اجرت سے بھی کم معاوضہ دینا نہ صرف حیران کن ہے بلکہ شرمناک بھی ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ معاشرے میں ہمیں سب سے زیادہ زک وہی لوگ پہنچاتے ہیں جو ہمارے اپنے حلقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والے باہر سے نہیں آتے، بلکہ یہ وہ 'تجربہ کار' افراد ہوتے ہیں جو خود بھی انہی تلخ حالات سے گزر چکے ہوتے ہیں، مگر وہ آسانی پیدا کرنے کے بجائے آنے والی نسل کے لیے حالات کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔
یہی بنیادی وجہ ہے کہ ہماری جامعات میں تحقیق کو محض ایک رسمی خانہ پُری تصور کیا جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جس قوم میں سائنسی اور تحقیقی ذہن سازی نہیں ہوتی، وہ قوم ہمیشہ دوسروں کی دستِ نگر رہتی ہے اور صرف معجزوں یا کسی 'مسیحا' کے انتظار میں وقت ضائع کرتی ہے۔ ہمیں یہ ادراک ہی نہیں کہ قوموں کی تقدیر لیبارٹریوں اور لائبریریوں میں بیٹھے ان محققین کے ہاتھوں میں ہوتی ہے جنہیں ہم آج کوڑیوں کے عوض نیلام کر رہے ہیں۔
مگر شاید میں بھی یہ فریاد غلط جگہ کر رہا ہوں؛ کیونکہ ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں انسان کے علم اور وقار کا معیار اس کی قابلیت نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر فالوورز کی تعداد بن چکی ہے۔ اگر سطحی شہرت ہی مستقبل کے نمائندوں کا معیار ٹھہری، تو پھر علم و تحقیق کی زبوں حالی پر ماتم کرنا عبث ہے۔

~ طلحہ عمر

Talha Umer Khan

Address

Gibbons Close
Leicester
LE46BH

Telephone

+447576454556

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Talha Umer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Talha Umer:

Share

Category