09/06/2026
پاکستان میں جب بھی کوئی سانحہ ہوتا ہے، عموماً عورتوں کے ساتھ، تو آپ کو دو طرح کے لوگ ملیں گے۔ ایک تو وہ جو واقعی میں ہمدرد اور فکرمند دکھائی دیں گے، جن کے دلوں میں اپنے معاشرے اور آنے والی نسلوں کی فکر اور غصہ صاف نظر آ رہا ہو گا، اور دوسری طرف کچھ ایسے لوگ جو صرف ٹرینڈ میں آنے کے لیے پوسٹس کرتے ہیں۔ نفسیات میں اسے 'ورچو سگنلنگ' (Virtue Signaling) کہا جاتا ہے، جہاں مقصد کسی مہم کا حصہ بننا نہیں بلکہ صرف اپنی فرینڈ لسٹ میں موجود خواتین کی توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص ان کو سوشل میڈیا سے باہر کی اصل زندگی میں جانتا ہو، تو وہ یقین نہیں کر پائے گا کہ یہ وہی صاحب ہیں جو دن رات عورت کے حقوق کے گیت گاتے ہیں، کیونکہ ان کی حقیقی زندگی اور ورچوئل پہچان میں شدید تضاد ہوتا ہے جسے 'کوگنیٹو ڈیسونینس' (Cognitive Dissonance) کہا جاتا ہے۔ یہاں دو طرح کی دنیا ہے؛ ایک وہ جہاں ہماری اصلیت قریبی دوست احباب کو پتہ ہوتی ہے اور دوسری وہ جو ہم سوشل میڈیا پر صرف اپنی 'سوشل آئیڈنٹٹی' (Social Identity) کو برقرار رکھنے کے لیے ظاہر کرتے ہیں تاکہ ٹرینڈز کے ساتھ جڑے رہیں اور کوئی چیز مس نہ ہو جائے۔ ان لوگوں کے ساتھ اگر آپ بحث کریں تو ان کے پاس صرف سوشل میڈیا کی دی ہوئی سطحی معلومات ہوتی ہیں، یہ آپ کو کوئی منطقی جواب کبھی نہیں دیں گے، البتہ ان کی ہر بات میں جذبات بھرپور ہوں گے۔
مجھے مسئلہ اس چیز سے ہے کہ ہم ایک تماشائی قوم بن چکے ہیں، جیسا کہ میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں۔ جھنگ میں 17 سالہ معصوم لڑکی کے ساتھ درندگی کا واقعہ ہو یا کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب گردی کا حالیہ اندوہناک سانحہ، ہمارے سامنے ہر روز ایک نیا تماشا لگتا ہے اور لگتا رہے گا۔ نفسیات میں اسے 'بائی سٹینڈر افیکٹ' (Bystander Effect) کہتے ہیں جہاں ہر شخص یہ سوچتا ہے کہ آواز اٹھانا یا قدم اٹھانا کسی دوسرے کا کام ہے، میرا نہیں۔ اس کے بعد ہماری ذہنی توانائی ختم ہو جاتی ہے جسے 'کمپیشن فٹیگ' (Compassion Fatigue) کہا جاتا ہے، اور ہم اس واقعے کو بھول کر اگلے ٹرینڈ کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ مجھے لوگوں کے اسی رویے سے گلہ ہے کہ ہم کسی بھی معاشرتی مسئلے کو اس کی جڑ سے سمجھنا ہی نہیں چاہتے، بلکہ ہمارا سارا فوکس صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ کتنی دیر تک نیوز میں رہ سکتا ہے اور ہم اس پر کتنی دیر تک بحث کر سکتے ہیں۔
یاد رکھیے گا، یہ اس معاشرے میں ایک نفسیاتی جنگ ہے جو آپ اور ہم سب لڑ رہے ہیں، لیکن کسی بیرونی دشمن کے خلاف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف۔ یہ دراصل زاویہ ہائے نظر (Perspectives) کی جنگ ہے۔ یہاں آپ کو مختلف لوگ، مختلف نظریات، عقائد اور فلسفے کے ساتھ ملیں گے جو صنفین (Both Genders) کو لے کر بالکل الگ رائے رکھتے ہیں اور ہر کوئی اپنا نظریہ دوسرے پر زبردستی مسلط کرنا چاہتا ہے۔ لیکن سامنے والا بھی اپنے نظریے سے ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ ہر ایک شخص کا اپنا قانون اور آئین ہے اور وہ ریاست کو اپنی مرضی کا تابع کرنا چاہتا ہے۔ یہ وہ قوم ہے جو شدید ذہنی انتشار (Confusion) کا شکار ہے، جو مختلف متضاد نظریات کا ایک ایسا آمیزہ ہے جہاں کوئی ایک نظریہ بھی پوری طرح واضح اور رائج نہیں ہے۔ جب تک اس قوم کے لوگوں کے ذہنوں سے یہ بگاڑ کا شکار خاکے (Distorted Schemas) اور بیمار سوچ نہیں نکالی جاتی، یہ قوم ایسے ہی دل دہلا دینے والے واقعات آنے والے وقتوں میں بھی، بدقسمتی سے، دیکھتی رہے گی۔
تحریر: طلحہٰ عمر
Talha Umer Khan