Enkidu Reborn

Enkidu Reborn I will provide Here Information About My Country & special Establishment . This is My Opinion ��

15/08/2026
15/08/2026

مارکیٹ میں نئی آنے والی تھیوری کے مطابق فوج یعنی کہ عاصم منیر کوشش کررہا ہے کہ کسی طرح تحریک انصاف اٹھائیسویں آئینی ترمیم پر ووٹنگ کے لئے رضا مند ہوجائے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف اس ووٹنگ کے لیے رضا مند ہے؟ اس کا جواب ہے ہاں۔ تحریک انصاف عاصم منیر کو فیلڈ مارشل تسلیم کرتی ہے۔ گنڈاپور سے لیکر سہیل آفریدی تک اور بیرسٹر گوہر وغیرہ بھی ملاقاتیں و میٹنگز کرتے رہتے ہیں۔

اسمبلیوں میں موجود تحریک انصاف کے اراکین بھی اس سسٹم کو تسلیم کرتے ہیں۔ جیسا جنید اکبر نے بتایا کہ ہمیں جعلی انتخابات ، محسن نقوی ، ڈرون حملوں ، فوجی آپریشن اور وغیرہ وغیرہ پر اسمبلی میں بات کرنے کی اجازت نہیں۔ تو یہ لوگ حکم مانتے ہوئے ایسی کوئی بھی ریڈ لائن عبور نہیں کرتے۔ یعنی تحریک انصاف تو اس آئینی ترمیم کے لیے بھی تیار ہے اور اس پر ووٹنگ کے لیے بھی تیار ہے۔

لیکن یہاں ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔ ایک تو یہ تحریک انصاف ہے۔ ایک ساتھ اصلی تحریک انصاف بھی ہے۔ یعنی عمران خان اور اس کے حمایتی عوام و سوشل میڈیا و وغیرہ وغیرہ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ والی تحریک انصاف اس سسٹم یا اس عاصم منیر کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے؟ یعنی عمران خان کو عاصم منیر چھ آٹھ مہینے کی قید تنہائی کے بعد آئینی ترمیم کو ووٹ دینے کے لیے رضا مند کروا لے گا؟ اس کا مختصر سا جواب ہے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

یہاں ایک اور قابل توجہ امر یہ ہے کہ فوج کو یہ آئینی ترمیم منظور کروانے کے لیے تحریک انصاف کے ووٹوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ فوج مختلف ڈکیتیوں اور وارداتوں کی مدد سے تمام ایوانوں میں اپنی کٹھ پتلیوں کو دو تہائی اکثریت دلوا چکی ہے۔ لیکن فوج یعنی عاصم منیر چاہتا ہے کہ اس کی آئینی ترمیم پر ، اس کے اقتدار پر ، اسکی ان جعلی اسمبلیوں پر تصدیق کی مہر عمران خان لگائے۔ عمران خان اسے شرف قبولیت بخشے۔

یہی بات ذہنی مریض کی آمد سے لیکر بلکہ اس سے بھی پہلے سے دوہرائی جارہی ہے کہ بندوق کی نوک پر ڈکیتی توہوسکتی ہے لیکن بندوق کی نوک پر کوئی نظام چلایا نہیں جاسکتا۔ ہم اسی لیے کہتے ہیں کہ اس نظام کی ساری طاقت عمران خان کے پاس ہے۔ یہ نظام تب تک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک عمران خان اس کے پلڑے میں اپنا بوجھ نا ڈالے۔یہی فوج چاہتی ہے لیکن اسکا عزم ان پاگل کتوں کو روز شکست دیتا ہے۔

عمران خان ایسی کسی آئینی ترمیم پر ، ایسے کسے دباؤ پر ، ایسی کسی وحشت کے سامنے ہرگز بلیک میل ہوکر اس نظام کو درست تسلیم نہیں کرے گا۔ عمران خان کو ڈرا ہوا دیکھنا ذہنی مریض کا خواب رہ جائے گا۔ یہ ذہنی مریض ہمیشہ ملازم رہے گا اور عمران خان ہمیشہ مالک رہے گا۔ اور آخر میں عرض ہے کہ ہاں جی

ڈٹ بے غیرتا ڈٹ

16/07/2026

یار جو بھی ہے مولانا نے پٹواریوں اور آرمی کو صحیح آگ لگایا ہے ۔ 😂

اج تک سب کو لگا تھا کہ زبیر غلط ادمی تھا اس نے ریپ کیا تھا۔۔۔ اس پوسٹ کو پڑھنے کے بعد مجھے بھی پتہ چلا کہ اصل میں تو زبی...
11/07/2026

اج تک سب کو لگا تھا کہ زبیر غلط ادمی تھا اس نے ریپ کیا تھا۔۔۔ اس پوسٹ کو پڑھنے کے بعد مجھے بھی پتہ چلا کہ اصل میں تو زبیر ہیرو تھا اور ہیرو ہے۔۔۔

تصویر میں ، بڈہ بیری زبیر" کے مشہور تاریخی کیس کا ذکر ہے۔ یہ پشاور کے علاقے بڈہ بیر سے تعلق رکھنے والے ایک پختون مجاہد کا واقعہ ہے۔ بڈہ بیر کے یہ غیرت مند پختون انگریز راج کے خلاف کھل کر بولتے تھے اور انگریزوں کے مقامی نمائندوں کے خلاف بھی ان کا موقف بہت سخت تھا۔ اسی وجہ سے برطانوی حکومت ان سے بہت تنگ تھی اور انہیں خاموش کرانے کے لیے ایک منصوبہ بنایا گیا۔ ایک طوائف کمار گلا ،کو آگے لایا گیا اور اس پر الزام لگایا گیا کہ زبیر نے اس کے ساتھ زنا بالجبر کیا ہے۔ 21 ستمبر 1935ء کو تھانہ بڈھ بیر میں FIR نمبر 34، علت نمبر 109 کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ پھر 10 جنوری 1936ء کو عدالت نے زبیر کو ڈھائی سال قید اور 15 روپے جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ کمار گلا کو صرف 15 روپے انعام نہیں دیا گیا بلکہ برطانوی تاج نے اسے آفیشل طوائف کا درجہ بھی دے دیا۔ انگریزوں کا خیال تھا کہ اس سے زبیر بدنام ہو جائے گا، لیکن ہوا اس کے برعکس۔ پختون قوم اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی اور اس واقعے نے انگریزوں کے خلاف نفرت کو مزید بڑھا دیا۔ اسی کیس کے بعد پختونوں میں ایک محاورہ بہت مشہور ہوا ۔غم بے دا بڈہ بیرے زبیر کئ
یعنی غم نہ کرو، بڈہ بیر کا زبیر ابھی زندہ ہے، جو ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کی علامت بن گیا۔

اگر اس کی تاریخی حیثیت دیکھی جائے تو یہ کیس عوامی سطح پر ایک لوک تاریخ اور استعمار مخالف مزاحمت کی علامت کے طور پر زندہ ہے۔ اس کے نام سے 1935-1936 کا کوئی مصدقہ برطانوی سرکاری دستاویز یا عدالتی فیصلہ ڈیجیٹل آرکائیو میں ابھی تک نہیں ملا۔ ہو سکتا ہے وہ ریکارڈ پشاور ہائی کورٹ کے پرانے رجسٹر یا برطانیہ کی India Office Records میں بند فائلوں میں موجود ہو جو ابھی ڈیجیٹائز نہیں ہوئیں۔ لیکن بڈہ بیر، اور پشاور کے بزرگوں میں یہ واقعہ نسل در نسل سنا جاتا ہے اور کمار گلا کا نام اور 15 روپے کا ذکر اسی لوک روایت کا حصہ ہے۔ انگریز دور میں سرحدی علاقوں کے کئی مجاہدین پر زنا، چوری یا غداری کے جھوٹے مقدمے بنائے گئے تاکہ انہیں بدنام کر کے خاموش کرایا جائے، اس لیے یہ کہانی مقامی لوگوں کے اجتماعی حافظے میں سچ کے قریب محسوس ہوتی ہے۔

تحقیق بذریعہ اے آئی
ریاض صدیقی

19/05/2026

‏غیر مقبول عمران خان

رجیم چینج سے پہلے عمران خان غیر مقبول نہیں تھا، عمران خان کا کور ووٹر خاموش تھا ۔ جس قدر تیز رفتار تبدیلی کی انہیں امید تھی وہ ہو نہ سکی تو لوگ مایوس ہوئے ، پھر انہی لوگوں کو رجیم چینج کے بعد سے اب تک یہی سمجھ آرہی ہے کہ وہ تیز رفتار تبدیلی آکیوں نہ سکی۔ عمران خان غیر مقبول نہیں تھا عمران خان کا کچھ ڈس کنیکٹ ہوگیا تھا۔ عمران خان 2008 سے لیکر آج تک پاپولر پالیٹکس کا کھلاڑی ہے ۔ حکومت میں آنے کے بعد دو اڑھائی سال تک عمران خان کے روایتی جلسے جلوسوں کو بریک لگ گئی۔ اس کی وجہ سے لوگ اوجھل بھی ہوئے لیکن جیسے ہی عمران خان نے جلسوں کا سلسلہ شروع کیا گیج وہیں پر جاپہنچی۔

نو اپریل کو عمران خان کی حکومت ختم ہوئی۔ دس اپریل کو سارا پاکستان بغیر کسی کال کے سڑکوں پر تھا۔ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا۔ عمران خان غیر مقبول نہیں تھا۔ عمران خان کو غیر مقبول دکھایا جارہا تھا۔ دکھانے والے کون تھے؟ جی ہاں یہی میڈیا ہاوسز جو آجکل برہنہ ہوئے پھرتے ہیں۔ وہی صحافی جو جون 2021 سے بتا رہے تھے کہ گل ہوگئی ہے ، “ تجربہ کار “ آرہے ہیں۔ یہ وہی لوگ تھے جو سندھ ہاوس میں ہونے والی سودے بازیوں میں بھی بروکر تھے ، جو سیاستدانوں کے جہازوں کے بھی ہمسفر تھے۔

یہ وہی لوگ ہیں جن کا خیال تھا کہ نشان چھین لینے سے ، کیمپین نہ کرنے سے ، عمران خان کو جیل میں ڈال دینے سے تحریک انصاف تیس چالیس تیس چالیس تیس چالیس۔ یہ وہی ہیں جن کا خیال تھا کہ اسحاق ڈار آئے گا معیشت چلائے گا۔ یہ وہی ہیں جن میں سے کسی کا پٹرول پمپ نکلتا ہے ، کسی کے لیے کسی ادارے کی چئیرمینی نکلتی ہے ، کسی کے لیے مراعات اور لاکھوں تنخواہ کی نوکری۔

یہ مری ہوئی لکیریں ہیں اب انہیں پیٹنے سے حاصل کچھ نہیں ، لیکن تاریخ کی درستی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا تب بھی ان سے طاقتور تھا لیکن اس میڈیا کی سانسیں چلتی تھیں۔ رجیم چینج اور اسکے بعد انکے زوال کو گئیر لگ گیا۔ رجیم چینج نا ہوتا تو یہ میڈیا پانچ سات سال مزید نکال جاتا۔

اب واپس پلٹتے ہیں ، دس اپریل ، یہ وہ دن تھا جب ابھی نااہلوں کے اس ٹولے نے ایک دن بھی اقتدار میں نہیں گزارا تھا ، ابھی انکے تباہ کن فیصلے بہت آگے تھے ، ابھی تو نئی حکومت آئی سٹاک مارکیٹ مستحکم ہوئی روپیہ اوپر گیا والی سوچ تھی اس کے باوجود لوگ عمران خان کے لیے بغیر کسی کال کے سڑکوں پر نکل آئے اور یہ سلسلہ پورا رمضان چلتا رہا۔ ہر روز لوگ مختلف شہروں میں نکلتے اور عمران خان سے اظہار یکجہتی کرتے۔

کچھ غلطیاں بھی ہوئیں ، کچھ کوتاہیاں بھی اور غلط سیاسی فیصلے بھی ، جن کو ماپنے کا ہر کسی کا پیمانہ اپنا اپنا جدا جدا ، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان کے سیاسی و معاشی فیصلے بھی بہترین تھے اور عمران خان کی سفارتی پالیسی بھی۔ عمران خان پونے چار سال اقتدار میں رہا۔ نااہلوں کے اس ٹولے کو اقتدار سنبھالے چار سال ہوچکے ہیں۔ وہ پونے چار سال کہاں اور یہ چار سال کی ذلت و رسوائی کہاں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ جب مریم نواز کیپٹن صفدر کے ساتھ گیراج میں پکڑی گئی تھی تب اسکی عمر 19 سال تھی، مریم نواز 28 اکتوبر 1...
18/05/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ جب مریم نواز کیپٹن صفدر کے ساتھ گیراج میں پکڑی گئی تھی تب اسکی عمر 19 سال تھی، مریم نواز 28 اکتوبر 1973 کو پیدا ہوئی تھی اور کیپٹن صفدر کے ساتھ اسکا نکاح دسمبر 1992 میں ہوا تھا

یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جب آپ 19 سال کی عمر میں گیراج یاترا کرسکتے ہیں تو پھر ووٹ ڈالنے کی عمر 25 سال کیوں کررہے ہیں

(نوٹ: ماچی کی 1992 والی تصویر لگائی ہے جو چھپکے سے دیکھ رہا ہے)

‏فیلڈمارشل بھی میرے گاہک ہیں ہر نیا سٹاک وہی چیک کرتے تھے تو سپلائی کے لیے جاتا تھا : ملزمہ انمول پنکی کا انکشاف😆
17/05/2026

‏فیلڈمارشل بھی میرے گاہک ہیں ہر نیا سٹاک وہی چیک کرتے تھے تو سپلائی کے لیے جاتا تھا : ملزمہ انمول پنکی کا انکشاف😆

انمول پنکی سے ملاقات کے بعد اس کے اثاثوں کی لمبائی چوڑائی چیک کر رہا ہوں 😁
15/05/2026

انمول پنکی سے ملاقات کے بعد اس کے اثاثوں کی لمبائی چوڑائی چیک کر رہا ہوں 😁

‏ویسے تو ایک طویل فہرست ہے مگر تین ایسے کارنامے ہیں اگر وہ تحریک ا نصاف کی حکومت  نہ کرتی تو عوام کی ہڈیاں اب تک نچوڑ ی ...
15/05/2026

‏ویسے تو ایک طویل فہرست ہے مگر تین ایسے کارنامے ہیں اگر وہ تحریک ا نصاف کی حکومت نہ کرتی تو عوام کی ہڈیاں اب تک نچوڑ ی جاچکی ہوتی اور ملک کا دوالیہ نکل چکا ہوتا ۔ اور افسوس یہ کہ ا نکی زیادہ تشہر بھی نہیں کی جاتی ۔ اعدادوشمار سے ا ن تین عظیم کاموں کی تفصیل دیکھتے ہیں ۔
1)
سال 2009 میں جب لوڈشیڈ نگ کا بحرا ن شدید تھا تو پیپلزپارٹی حکومت نے ترک کمپنی کارکے سے رینٹل پاور پلا نٹ کا معاہدہ کیا۔ جسے 2012 میں معطل کر دیا گیا ۔ کارکے کمپنی اس فیصلے کے خلاف عالمی عدالت چلی گئی اور 2017 میں عالمی عدالت نے اسکے حق میں فیصلہ دے دیا اور حکومت پاکستان پر 800 ملین ڈالر جرمانہ کردیا جس پر ماہانہ 59 کروڑ سود تھا۔ سال 2019 تک یہ جرمانہ 1.2 ارب ڈالر ہو چکا تھا۔ اس وقت وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے خصوصی درخواست کی اور یہ جرمانہ معاف کروا کر اس مصیبت سے نجات دلوائی ۔ اب اندازہ کریں کہ ایک ڈیڑھ ارب ڈالر کی قسط لینے کے لیے ائی ایم ایف کی کیسی کیسی شرائط ماننی پڑتی ہیں اور عوام پر بھاری ٹیکس لگانے پڑتے ہیں ۔ اگر یہ جرمانہ معاف نہ ہوتا تو یہ پیسے سرکاری خزانے سے جانے تھے اور بوجھ عوام پر ہی پڑنا تھا
2)
سال 1993 میں حکومت نے ایک اسٹریلین کمپنی کے ساتھ بلوچستان مین سونے کے زخائر نکالنے کا معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ 75 فیصد اور حکومت کا حصہ 25 فیصد تھا۔ سال 2011 میں بلوچستان کی حکومت نے اس کمپنی کی لیز منسوخ کردی جس پر کمپبی ورلڈ بنک عدالت چلی گئی ۔ سال 2017 میں عدالت نے حکومت پاکستان کا موقف مسترد کرتے ہوئے اربوں ڈالر کا جرمانہ کردیا جو بڑھتے بڑھتے 12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ۔ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت نے کامیابی سے مزاکرت کیے اور وہ جرمانہ معاف کروا کر اس کمپنی کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ کم کر کے 50 فیصد کروایا گیا جبکہ بقیہ میں سے 25 فیصد بلوچستان حکومت اور 25 فیصد وفاق کا حصہ کروایا ۔
یہ یقینا بہت بڑی کامیابی تھی جسے اس لیول کی پزیرائی نہیں مل سکی ۔ پاکستان میں جعلی دانشوروں کے نزدیک پندرہ بیس ارب کے پل سڑکیں بہت بڑا پراجیکٹ تصور ہوتا ہے جبکہ پرانی حکومتوں کی نااہلی کا دس بارہ ارب ڈالر کا جرمانہ معاف کروانا کوئی بات ہی نہیں ۔ تصور کریں اگر حکومت یہ جرمانے ادا کرنے پر مجبورہو جاتی تو مہنگائی کا کیا لیول ہوتا ۔ ڈیفالٹ تو کب کا ہو چکا ہوتا۔ مگر حکومت کو داد دینے کی بجائے اسکے خلاف پراپیگنڈہ کیا گیا۔
3)
تحریک انصاف کی حکومت میں جب ہر چند ماہ بعد بجلی کی قیمتیں بڑھانی پڑتی تو وزیر اعظم عمران خان نے اسکا نوٹس لیا اور ایک اعلی سطح کمیٹی بنائی ۔ پتا چلا کہ پچھلی حکومتیں ائی پی پیز سے ایسے خوفناک معاہدے کر کے گئی ہیں جس کے تحت بجلی مہیا ہو یا نہ ہو انکو ڈالروں میں ادائیگی ہوتی رہے گی ۔ اب یہ معاہدے کینسل تو کر نہیں سکتے تھے کیونکہ پہلے ہی کارکے اور ریکودیک معاہدے منسوخ کرنے پر اربوں ڈالر کے جرمانوں کا سامنا تھا ۔ عمران خان حکومت نے کامیابی کے ساتھ کئی ائی پی پیز کو معاہدوں میں ردوبدل پر راضی کیا اور ادائیگیوں کے لیے ڈالر ریٹ کو 148 پر فکس کروا دیا ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سے حکومت کو سالانہ 120 ارب روپے کا فائدہ ہوا اور ائندہ چند سالوں تک مجموعی 836 ارب روپے کے فائدہ کا تمخینہ ہے۔ اب اندازہ لگائیں 836 ارب میں کتنے پل سڑکیں بن سکتی ہیں۔ مگر افسوس متعصب میڈیا اس عظیم کامیابی کو وہ پزیرائی نہ دے سکا جو اسکا حق تھا۔ افسوس ہماری عوام کو سکھایا گیا کہ صرب پل سڑکیں ہی کامیاب پراجیکٹ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ نظر اجاتے ہیں چاہے ان میں کرپشن ہو ، یا وہ غیر ضروری ہوں۔ کامیاب سفارتکاری اور حکومتی مداخلت سے جو اربوں ڈالر کا فائدہ کروایا گیا وہ کسی کھاتے میں ہی نہیں اتا۔ اس لیے جعلی دانشور دھڑلے سے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت کا کوئی پراجیکٹ ہی نہیں۔
سڑکیں بھی بنی ، پل بھی ، یونیورسٹیاں بھی اور ہسپتال بھی سب تفصیل موجود ہے ۔ لنگر خانے بھی چلے اور پناہ گاہیں بھی کھلیں ۔ ہر پاکستانی کے پاس دس لاکھ روپے کا صحت کارڈ بھی تھا اور نوکریاں بھی اتنی ملی کہ فیصل اباد جیسے شہر میں مزدور ملنا مشکل ہو گیا تھا۔ کئی نئے ڈیموں پر کام شروع ہوا اور اس دھائی کو ڈیموں کی دھائی کہا گیا اگر وہ منصوبے وقت پر مکمل ہو جائیں تو عوام کو سستی بجلی مل سکے گی ۔ کسان نے اتنی ترقی کی کہ تین سال میں وہ سب بنا لیا جو دہایوں میں نہیں بنا سکے تھے ۔ تعمیرات کے شعبے میں انقلاب اگیا تھا غرض یہ کہ ہر شعبہ ترقی پر تھا۔ تھوڑی بہت مہنگائی تھی مگر معشیت بہترین 6 فصد گروتھ پر تھی ۔ 1/2
‏‎تحریک انصاف کے مزید احسانات اور بہتر مستقبل کے اقدامات
1، ایک قوم ایک نصاب
(عجب تھا کہ مذہبی اور لبرل دونوں ہی کو اس سے تکلیف تھی)
2، شوگر ملز کے خلاف تحقیقات
3، پٹرولیم کمپنیز کے خلاف تحقیقات
4، راوی اربن منوبہ
5، بنڈل آئی لینڈ منصوبہ
6، افغان امن پالیسی
نوٹ
میرے خیال سے یہ کارنامے نہیں بلکہ وہ "جرائم" ہیں جن کی سزا
عمران خان اور عوام کو دی جا رہی ہے۔

وسیم وزیر

Address

London
50823

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Enkidu Reborn posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Featured

Share

Category