Bazme Islam

Call Directions Contact the practice

Bazme Islam Assalamualikum

23/07/2026
"مذاق" کی آڑ میں گھٹیا کردار کشی: بیمار ذہنیت کا پوسٹ مارٹم!سوشل میڈیا پر اکثر اوقات جب کسی کا جھوٹ رنگے ہاتھوں پکڑا جائ...
14/07/2026

"مذاق" کی آڑ میں گھٹیا کردار کشی: بیمار ذہنیت کا پوسٹ مارٹم!

سوشل میڈیا پر اکثر اوقات جب کسی کا جھوٹ رنگے ہاتھوں پکڑا جائے، تو فورا ایک ڈھال تیار کر لی جاتی ہے کہ: "جناب! یہ تو صرف ایک مذاق تھا، دل پر کیوں لے لیا؟"

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس "مذاق" کے پیچھے چھپی نیت انتہائی غلیظ اور زہریلی ہوتی ہے اس پوسٹ کا اصل مقصد مفتی تقی عثمانی صاحب کی ذاتِ گرامی پر یہ گھٹیا تہمت لگانا ہے کہ (معاذ اللہ) علمائے کرام بکاؤ ہیں اور دنیاوی لالچ میں آ کر اپنے فتوے تبدیل کر لیتے ہیں۔

طنز اور مذاق کرنے والے بیمار ذہنوں کو دوٹوک جواب:

1. علمی دیانت پر حملہ ناڈیڈ (Unacceptable): مفتی تقی عثمانی صاحب صرف پاکستان کے نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کے مایہ ناز فقیہ اور اسلامک فنانس (Islamic Finance) کے سب سے بڑے ماہر مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے پوری زندگی سود اور غیر شرعی مالیاتی نظام کے خلاف علمی جنگ لڑی ہے۔ ان کی علمی دیانت پر "بکاؤ" ہونے کا اشارہ بھی کرنا تمہاری اپنی اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے۔

2. تحقیق کے بغیر فتویٰ نہیں: انہوں نے حال ہی میں کرپٹو کرنسی کو جو غیر شرعی قرار دیا ہے، وہ کوئی راتوں رات لیا گیا جذباتی فیصلہ نہیں، بلکہ ماہرینِ معیشت اور ٹیکنالوجی کے طویل مشوروں کے بعد جاری کردہ فتویٰ ہے۔ کسی کی زندگی بھر کی علمی خدمات کا موازنہ تم دو بٹ کوائن کے سکے دکھا کر اپنے سستے انٹرنیٹ کے مذاق سے نہیں کر سکتے۔

3. کردار کشی کی آزادی نہیں: آزادیِ اظہارِ رائے یا طنز و مزاح کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ کسی کی عزت اور کردار پر کیچڑ اچھالیں۔ جب تمہارے پاس علمی دلائل کا جواب نہیں ہوتا، تو تم گھٹیا میمز (Memes) اور من گھڑت کہانیوں کے پیچھے چھپ کر جید علمائے کرام پر مادی مفادات کے الزامات لگانے لگتے ہو۔

تمہارا یہ پروپیگنڈا نہ تو مفتی صاحب کے بین الاقوامی علمی مقام کو کم کر سکتا ہے اور نہ ہی ان کے فتوے کی شرعی حیثیت کو بدل سکتا ہے۔ اپنی بیمار سوچ کا علاج کرو، کیونکہ دین اور اہلِ دین کا مذاق اڑانے والوں کا انجام دنیا اور آخرت دونوں میں رسوائی کے سوا کچھ نہیں!

تحریر: Abdtn K



12/07/2026

تھکا ہوا دنگل

از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری
26 محرم الحرام 1448ھ
12 جولائی 2026ء

ایران جنگ ٹرمپ کی تعبیرات میں اور نیتن یاہو کے سیاسی عزائم میں بے شک گرم ہے؛ مگر زمین پر وہ خانہ پری کی مد میں ڈھوئی جارہی ہے، دونوں پہلوان بادل ناخواستہ میدان میں ہیں یا میدان کی طرف نکل آتے ہیں، تیسرا فریق نیتن یاہو ہر حال میں جنگ چاہتا ہے؛ لیکن وہ امریکی رسی کے بغیر مائنس ہے، ٹرمپ سگنل نہیں دے سکتا کہ عالمی معیشت زیر وزبر ہوتی ہے، اسرائیلی شہری بھی فیصلہ کن جنگ چاہتے ہیں مگر ان کا بیانیہ یہ ہے کہ ایران مہم مابعد نیتن یاہو انجام پذیر ہو، اسرائیلی، نیتن یاہو پر بھروسہ نہیں کرتے، ان کے نزدیک نیتن یاہو مخلص نہیں، سیاسی منصوبوں کی تکمیل، ذاتی مفادات کی تحصیل اور کرپشن مقدمات سے بچنے کے لیے اسرائیل کے دفاع کو استعمال کر رہا ہے۔

صہیونی اجماع ہے کہ ایران کو ایٹم، میزائل اور نیٹ ورک مکت کیا جائے، قیمت کچھ بھی ہو؛ تاہم یہ کام دوسرا لیڈر کرے، یہاں بتانے کی ضرورت نہیں کہ پوری دنیا کے برخلاف اسرائیل میں بایاں بازو نہیں ہوتا، فلسطینیوں کی بے دخلی، فلسطینی حقوق کی پامالی، فلسطینی ریاست کی مخالفت اور فلسطینیوں پر ہر نوع کا ظلم روا رکھنے میں صہیون کے دونوں بازو دائیں ہی ہیں، زبان اور تعبیر کا فرق ممکن ہے، عمل کی تاریخ یکساں ہے؛ لہذا آئندہ انتخابات کے نتائج نیتن یاہو کے لیے اہم ہو سکتے ہیں، فلسطینیوں یا امت مسلمہ کے لیے نہیں۔

نیتن یاہو اکتوبر الیکشن میں شکست اور اس کے خوف ناک عواقب سے بچنے کے لیے ایران کے خلاف بڑی جنگ چھیڑنا چاہتا ہے، حال ہی میں اس نے وائٹ ہاوس کو آگاہ کیا تھا کہ ایران نے ٹرمپ کے قتل کا پلان بنایا ہے، ترکی دورہ رسکی ہو سکتا ہے؛ لیکن امریکی اہل کاروں سمیت دنیا نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا، اس کے برعکس اسرائیل پر شک کیا گیا کہ وہ ٹرمپ کی نفسیات سے کھیل رہا تھا، قدیم دور میں دہلی کی لوکل بس کا کنڈیکٹر جب کسی مسافر کی جیب کاٹنے کا پلان بنا لیتا تو بس میں جیب کتروں کی موجودگی پر انتباہ دیتا، اس پسِ منظر میں لوگ کنڈیکٹر کو معصوم گردانتے اور نظریں اس سے درگذر کرتیں، واقعی ایک وقت دہلی میں بہت چور تھے، جامع مسجد علاقے میں "چوری سلامتی" ایک کرامت تھی، میری سامنے والی جیب سے علانیہ موبائل چوری ہو رہا تھا، مجھے کہنا پڑا کہ بہت پیوست رکھا گیا ہے، ہوائی حرکت سے برآمد نہیں ہوگا، چور مسکرا کر چلا گیا۔

موجودہ جنگ مستقل تعطل کی صورت اختیار کر گئی ہے، امریکہ اور ایران بات بڑھانا نہیں چاہتے اور باہر آنے کے لیے بھی بیتاب ہیں؛ لیکن دونوں ہی یہ نہیں جانتے کہ بات پہلے ہی آگے بڑھ چکی ہے، حتی کہ قطر اور پاکستان سمیت ثالثوں کو بھی اس پہلو کا ادراک نہیں، اسی لیے امن مساعی کے پاؤں چلنے کی قوت سے عاری ہیں، ناتواں ثالث اونٹنی کو ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں اور وہ موقع پا کر دو قدم پیچھے آجاتی ہے، ایران کو جنگی نقصانات نے جاں بلب کر دیا ہے، ایران صرف اس لیے مارکیٹ میں ہے کہ بیرونی طاقت حملہ آور ہے، اس تناظر میں ملک متحد رہتا ہے، جنگ اگر حتمی طور پر ختم ہو گئی تو ایران زخموں سے ہار جائے گا۔

ایران کو زخموں کے بارے میں معلوم ہے، اس کے لیے بقا کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے، وہ مذاکرات میں وجود کی ضمانتیں تلاش کر رہا ہے، وہ ہرمز ٹیکس سے دست بردار نہیں ہو سکتا، یہ ٹیکس راست، حقیقی اور نقد انکم ہے، فلاں اور فلاں ملکوں کا تین سو ارب ڈالر انویسٹ منٹ گارنٹی نہیں، پھر وہ پر پیچ اور تہہ دار ہوتا ہے، ملکی معیشت جاں بلب ہے، جنگی بادل چھٹ گئے تو پاسداران انقلاب سوالوں کے گھیرے میں ہوں گے، ملک چلانا ممکن نہیں ہوگا، میزائلوں کا زیر زمین ذخیرہ ملک نہیں چلا سکتا۔

ٹرمپ بڑی جنگ کے بغیر ایران کو گھٹنوں پر لانا چاہتا ہے، ایران دستخط سے قبل بے پناہ معاشی فوائد یقینی بنانا چاہتا ہے، لڑائی میں دونوں چور چور اور پسینہ پسینہ ہیں، اس ہانپتی ہوئی صورت میں امریکہ کے پاس بحری ناکہ بندی ہے اور ایران کے پاس ہرمز بندی، شطرنج میں امریکی پتہ بھاری ہے، ایران بحری ناکہ بندی کا متحمل نہیں، تیل اور گیس کنویں مردہ، نظام معطل اور ذخیرہ اندوزی کی گنجائش جواب دے سکتی ہے، ادھر ہرمز بندی سے امریکہ راست متاثر نہیں ہوتا، یا یہ کہ ساری دنیا متاثر ہوتی ہے، اس میں امریکہ بھی ایک ملک ہے، چوں کہ ٹرمپ معاملات کو اپنے رنگ سے چلاتا ہے؛ اس لیے باقی دنیا اب تک لاتعلق اور محتاط ہے، تاہم اگر ہرمز بندی طویل ہوئی تو دوسری طاقتیں مداخلت کریں گی اور فرانس و برطانیہ جیسے بحری بیڑے ہرمز پانی میں تعینات اور فضائی دستے ہرمز ہواؤں میں منڈلانے پر مجبور ہوں گے، ایران کے لیے امریکی پتہ جان لیوا ہے، بحری ناکہ بندی مار ڈالے گی؛ جب کہ امریکہ کے لیے ہرمز بندی کے معانی اس درجے کے نہیں۔

جنگ بندی کے بعد ایران کی فتح کا تاثر دیا گیا، یہ قابل رحم ایرانی عوام کے ساتھ سستا مذاق تھا، حملہ آوروں نے ملک کو فوجی اور مذہبی قیادت سے محروم کر دیا، دفاعی اور اقتصادی ڈھانچہ تباہ کر دیا، ملک کے تمام اعضا مفلوج کر دیے، پھر بھی کہا جا رہا ہے کہ ایران جیت گیا؛ صرف اس لیے کہ ایران نامی ملک ہنوز باقی ہے، یا اس لیے کہ تہران اور اصفہان کو ہیرو شیما اور ناگا ساکی نہیں بنایا گیا، عیار حملہ آور دانستہ طور پر اہداف بڑے رکھتے ہیں؛ تاکہ جنگ کے طول کو جواز فراہم رہے، نظام کی تبدیلی آسان نہیں تھی؛ مگر وہ بھی ہو گئی ہے، ایک بار ﴿حَتّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا﴾ہو جائے، نظام کے پتھر ایک ایک کرکے گرتے چلے جائیں گے، خالی جیب ایران کے لیے زیر زمین میزائل ذخیرہ معاشی بوجھ بن جائے گا۔

جنگ کے بعد ایرانیوں کو معاشی صدمے کے ساتھ سیاسی بے یقینی بھی جھیلنی ہے؛ کیوں کہ ان کا نیا رہنما سامنے نہیں آیا ہے، آئندہ کے تعلق سے بھی قیاس آرائیاں متضاد ہیں، سو فیصد مہنگائی برداشت کرنے والی قوم کو فیصلہ ساز شخصیت کے بارے میں ابہام بھی برداشت کرنا ہے، یہ المضاعف ہے؛ کیوں کہ ایرانی رہبر دراصل مہدی غائب کا نائب مانا گیا ہے، وہ بھی منظر سے غائب ہوگا تو نائب النائب کا قضیہ ہو جائے گا، مابعد جنگ سسٹم چلانے والوں کو سخت فیصلے لینے ہوں گے، وہاں رہبر کی غیبوبت مسائل پیدا کرے گی۔

ایران نے اقصی کاز کی تشہیر خوب کی؛ مگر واقعات نے ثابت کیا کہ وہ شیعہ عزائم کا عہد بند تھا، وقت آیا تو ہونٹ بھی سی لیے، اقصی کے بیٹوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا، حزب اللہ ہنوز ایران کی شرط ہے؛ مگر غزہ پر اجتماعی فاتحہ میں وہ بھی شریک ہو گیا، دوسروں سے گلہ نہیں کہ وہ اول سے لاتعلق تھے؛ مگر تم ذمے دار ہو کہ عہد و پیمان تھے، تم سات اکتوبر کا حصہ تھے اور پھر ذبح ہونے کے لیے تنہا چھوڑ دیا، یہ میزائل اس وقت جلوہ دکھاتے تو سنی دنیا تمھاری باج گزار ہوتی۔

مگر اللہ کو یہ منظور نہیں، اقصی آزادی شیعہ ہاتھوں نہیں ہوگی، ماضی میں بھی ایسا نہیں ہوا، اس کے پہلے فاتح حضرت عمر ہیں، دوسرا نام صلاح الدین ایوبی کا ہے اور تیسرا فاتح بھی امامِ اہل حق اہل سنت والجماعت ہوگا، صلاح الدین ایوبی کے دور میں بھی خدا نے نہیں چاہا کہ اقصی آزادی کی فضیلت فاطمی اسماعیلی شیعہ حکومت سے منسوب ہو؛ پہلے شیعہ حکومت کا سقوط ہوا اور پھر فرزندان اسلام نے اقصی کو آزاد کرایا، آج پھر ہم اسی موڑ پر کھڑے ہیں، آزادی کا علم بردار آنے والا ہے، شیعہ قوت زوال پذیر ہے اور اسلام کی طاقت بحال ہونے والی ہے، اقصی سمیت ساری دنیا آزاد ہوگی، ظلم ختم ہوگا اور عدل سے زمین بھر جائے گی۔

12/07/2026

نماز بدنی عبادت ہے

بدنی عمل کے معنی یہ ہیں کہ جسم متاثر ہو، جسم پر زور پڑتا ہو، جس طرح مالی عمل میں مال صرف ہوتا ہے، بدنی عبادت میں بھی صرفِ بدن درکار ہے، اگر مالی عبادت مال دیے بغیر ممکن نہیں تو بدنی عبادت بھی جسم و جوانی کی قربانی کے بغیر کامل نہیں، اگر آپ نماز پڑھتے ہیں اور جسم پر اس کا ظاہری اثر نہیں آتا تو یہ ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ کے آس پاس ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں پر ورم آگیا تھا تو ہمارے پاؤں کیوں سلامت ہیں؟ مثال کے طور پر ورزش بدنی امر ہے، وہ ورزش مفید نہیں جو اعضائے جسم پر دباؤ ڈالنے میں ناکام ہو؛ جب کہ ورزش کی ہر وہ صورت موثر ہے جو موجبِ مشقت ہو، نماز بھی بدنی عبادت ہے اور اس معراج کی معراج اس کے طول میں ہے، یہاں تک کہ جسم تھک جائے، اعضا درد محسوس کریں، بدن ٹوٹ جائے، اب ہم نے نماز کا مزہ چکھا، معراج پر آئے، ہمارے لیے دروازہ کھلا اور ملاقات ہوئی، اسی لیے جوانی کی عبادت پسندیدہ ہے اور اسی لیے نماز کو دشوار کہا گیا، گویا ہم نے وہ نماز پڑھی ہی نہیں جو دشوار گزار ہوتی ہے اور جس کی حسی تکلیف کو خشوع و خضوع لطف میں تبدیل کر دیتا ہے۔

از قلم: مفتی فہیم الدین بجنوری صاحب

08/07/2026

ہندو راشٹر میں مسلم شب و روز

از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری
17 محرم الحرام 1448ھ
3 جولائی 2026ء

فرقہ پرست جماعت کے اقتدار میں ہندوستان کے مسائل تنوع، کثرت اور سنگینی کے باوجود "مسئلۂ مسلم" کے حق میں دست بردار ہو گئے ہیں، اب ہمارے یہاں بھک مری ہے نہ غربت، ناخواندگی ہے نہ جہالت، بیماری ہے نہ علاج کی قلت، بے روزگاری ہے نہ مہنگائی، سڑکوں میں گڈھے ہیں نہ تنگی، علاج میں اخراجات نہیں، افراط زر کی رسائی سے والا ہیں، دولت بہہ رہی ہے، بہبودی اسکیموں کا ہجوم ہے، فلاحی ریاست میں دان لینے والا میسر نہیں، خوش حالی کا دور دورہ ہے، اچھے دن آگئے ہیں، رشکِ یورپ و امریکہ بن گئے ہیں، تحریکِ چین و جاپان کہلاتے ہیں، ملک ہر مسئلے سے فارغ فقط مسئلۂ مسلم سے دوچار ہے اور اب اسے بہ ہر صورت اس مسئلے سے نمٹنا ہے۔

ہمارے دشمن اس وقت "مسلم مکت بھارت" کے فیصلے کن نعرے تک پہنچ گئے ہیں، اس سنگ میل نے مراحل دیکھے ہیں، یہ خطرناک صورت حال راتوں رات پیدا نہیں ہوئی، بابری مسجد نزاع کے وقت ہندو یہ باور کراتے تھے کہ بس ایک مسجد کا مطالبہ ہے، دوسری کوئی مسجد زد میں نہیں آئے گی، ہمارے بکاؤ مفکرین، عاجل الفکر بہی خواہ اور کوتاہ بین افراد ہاں میں ہاں ملاتے؛ مگر ملت کے دور اندیش رہنماؤں نے متنبہ کر دیا تھا کہ بابری مسجد بڑا بند ہے، اگر یہ بند ٹوٹ گیا تو مساجد پر انہدام کا سیلاب آئے گا، اس وقت یہ تنبیہ زائد سمجھی گئی؛ مگر وقت نے خطرے اور اندیشے کو صحیح ثابت کیا، بابری مسجد طاق نسیان ہوئی اور اب ہر دن نئی مسجد زیر دعوی ہے۔

اس وقت ہندو لیڈر کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ہمیں مسجد اور مدرسہ مکت بھارت چاہیے، یہ باتیں آن ریکارڈ، آن کیمرہ اور ٹیلی ویژن ہر کہی جا رہی ہیں، ہمارے سادہ لوح مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ یہ باتیں بعض دیوانوں کی بڑ ہیں؛ وقت ثابت کر دے گا کہ ہندو لیڈروں کے یہ جارح بیانات معانی بھی رکھتے تھے، نیز وہ ان کی ذاتی بکواس نہیں تھی، مقتدرہ کے اشارے پر منظم مہم تھی، آنے والے وقت کی تمہید قائم کی جا رہی تھی، اگر آج میں یہ بات کہوں کہ بھارت میں تمام مساجد توڑنے کی بات کرنے والے ہندو وادی لیڈر سنجیدہ ہیں تو خود ہمارا طبقہ اسے مبالغہ اور توہم قرار دے گا؛ لیکن یہ وہی خود فریبی ہے جس میں بابری مسجد کے وقت امت مبتلا کی گئی تھی، وقت کا آئینہ دکھا رہا ہے کہ بات بابری تک محدود نہیں تھی۔

اس وقت ہندوستان میں یومیہ بنیاد پر مساجد منہدم کی جا رہی ہیں، ان میں صدیوں پرانی مساجد شامل ہیں، سرحدوں پر سیکیورٹی کا بہانہ ہے، سڑکوں پر تنگی کا، ہندو آبادی میں مذہبی ساخت کی تبدیلی کا، مسلم آبادی میں کاغذات کا، ہندوستان میں کاغذات کا اہتمام قدیم دور میں بالکل نہیں تھا، قبضہ اور استعمال ہی سب کچھ تھا، آج وہ صدیوں پرانی مساجد سے دستاویزات کا مطالبہ کرتے ہیں اور نہ ملنے کی صورت میں بلڈوزر حاضر سروس ہو جاتا ہے، پرانی زمینوں کے کاغذات درست نہیں کیے جا سکتے؛ لہذا ہر مسجد انہدام کی فہرست کا حصہ ہے، جسے اس میں کوئی بھی شبہ ہے وہ مزید زہریلی فضا کا انتظار کرے، ممکن ہے ہماری حیات میں یہ نہ ہو؛ مگر منصوبہ غیر حقیقی ہے یہ ہم تسلیم نہیں کرتے، وہ ایسا چاہتے ہیں، اس کے لیے پرعزم ہیں اور سرگرم عمل بھی۔

انھوں نے گہرے غور وفکر کے بعد مساجد و مدارس کو دستاویزات کی کسوٹی پر رکھا ہے؛ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ مسلمان بچاؤ کے لیے عدالتوں میں جائیں گے، جہاں کاغذات ہی حق نطق رکھتے ہیں، یوں وہ مساجد بدست خود سپرد کرنے پر مجبور ہوں گے، ہندوستان میں قدیم مذہبی عبادت گاہیں فقط استعمال پر قائم ہیں، مندروں، گردواروں اور گرجوں کی صورت حال مساجد سے مختلف نہیں، مندروں کا تو خیر اس وقت ذکر ہی کیا، ان کو مقدس استثنا حاصل ہے، پرانے چھوڑیے نئے مندر بھی غیر قانونی ہوتے ہیں؛ بل کہ آج کے ہندوستان میں صرف وہی مندر مقبول ہیں جو عوامی، سرکاری زمین پر زبردستی بنائے جاتے ہیں، قدیم مندر عملا غیر آباد ہیں۔

نئے ہندوستان میں صرف مساجد نشانے پر ہیں، مندر تو سرکاری عبادت گاہ کا درجہ اختیار کر گئے ہیں؛ مگر گردواروں کے ساتھ کوئی تعرض نہیں، کسی ہندو لیڈر کی ہمت نہیں کہ سکھوں کی عبادت گاہ سے کاغذات طلب کر سکے، امت شاہ نے سی اے اے اور این آر سی میں مذہبی امتیاز اور تفریق کی ایسی بنیاد رکھ دی ہے جو ہندوستان کی مذہبی زندگی کے ہر پہلو میں سرایت کرے گی، لوگ اسے شہریت کی محدود عینک سے دیکھ رہے تھے؛ مگر یہ بہت گہری اسکیم تھی، اس کے اثرات بتدریج سامنے آ رہے ہیں اور آتے ہی رہیں گے، مذہبی امتیاز کو باقاعدہ قانون بنانے کے اثرات دور رس نہ ہوں یہ ممکن ہی نہیں، کہاں سی اے اے اور کہاں عبادت گاہوں سے دستاویزات طلبی میں امتیاز؟ مگر یہ ہو رہا ہے اور سب کے سامنے ہو رہا ہے۔

اب شتر مرغ والی گنجائش بھی باقی نہیں؛ کیوں کہ ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف مار کاٹ کی باتیں کھلے عام کہہ رہے ہیں، ویڈیوز موجود ہیں، انتظامیہ کے علم میں ہیں، ہتھیار لہرا کر دھمکیاں دی جاتی ہیں، قتل عام کے عزائم علانیہ ظاہر کیے جاتے ہیں، میرا تجزیہ یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل عام صرف اس لیے رکا ہوا ہے کہ جب وہ فساد کرتے ہیں تو مسلم نوجوانوں کی طرف سے جواب دیا جاتا ہے، گو کہ بعد کی پولیس کارروائیوں میں زندگیاں تباہ ہوتی ہیں؛ مگر وقت کے مردانہ سینے زعفرانی خاکوں سے رنگ چھین لیتے ہیں، یہاں فساد کو روکنے کا سہرا پولیس کے سر نہیں ہے، پولیس تو ان کی دھمکیوں پر خاموش رہتی ہے، یہ امن مسلم جوانوں کی بدولت ہے، جنھوں نے ثابت کیا ہے کہ ان کے ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں ہے، مجبور ہو کر ہندو فسادیوں نے یہ راستہ نکالا کہ دس بیس کا گروپ بنا کر کسی تنہا مسلمان کو گھیر لیتے ہیں اور جے شری رام بول کر اس کا قتل کر دیتے ہیں، یہ ایک کام وہ بخوبی اور بہ آسانی کر رہے ہیں۔

ہم نو عمری میں ہندو راشٹر کے نعرے سنتے تو خدو خال کا تجسس ہوتا، تازہ ہندوستان نے خدو خال دکھا دیے، جن ریاستوں میں بی جے پی حکومت ہے وہ سب ہندو راشٹر ہیں، وہاں ہندو مذہبی حکومت قائم ہے، ہندو مذہب کا فروغ ان کا نصف کام ہے، باقی نصف وقت وہ اسلام کے تعاقب میں گزارتے ہیں، بی جے پی ریاستوں میں مسلم مخالف چہرے کے لیے مقابلہ جاری ہے، مسجدوں کو گرانے کا مسابقہ ہو رہا ہے، ان حکومتوں کے پاس کوئی کام نہیں ہے، وہ مسجد، مدرسہ، مسلمان اور اسلام تک محدود ہیں۔

مسلمانوں پر شکنجہ سخت ہے، قوانین صرف مسلمانوں سے مخاطب ہیں، ہندو سے زیادتی خاص سرخ لکیر ہے، مسلمان ملزم کا فوری طور پر انکاؤنٹر ہوتا ہے، عدالتی کارروائی کو موقع نہیں دیا جاتا، تمام اہل خانہ گرفتار ہوتے ہیں، گھر منہدم کر دیا جاتا ہے، اس علاقے کی مساجد اور مدارس گرادیے جاتے ہیں، پورے مسلم محلے کو ٹارچر کیا جاتا ہے، جمعہ روکنے کی دھمکی دی جاتی ہے، باہر سے ہندو تنظیمیں آکر احتجاج کرتی ہیں، مسلمانوں کو علانیہ دھمکی دیتی ہیں، پولیس کے سامنے قتل عام کی باتیں دہراتی ہیں، ہتھیاروں کے ساتھ مارچ کرتی ہیں، پورے علاقے کو میدان جنگ بنادیتی ہیں، کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔

جاری

افقِ تحقیق پر قاسمی فضلاء کا علمی تسلط: متعصبانہ سوال کا مسکت جوابعلمی میدان میں اعتراض کا حق صرف اسے ہوتا ہے جو وسعتِ م...
06/07/2026

افقِ تحقیق پر قاسمی فضلاء کا علمی تسلط:
متعصبانہ سوال کا مسکت جواب

علمی میدان میں اعتراض کا حق صرف اسے ہوتا ہے جو وسعتِ مطالعہ اور علمی دیانت سے لیس ہو۔ سوشل میڈیا پر سستی شہرت اور فکری تعصب کے زیرِ اثر دارالعلوم دیوبند (قاسمی مکتبہ فکر) پر یہ اعتراض کرنا کہ ان کی خدمات صرف حدیث و فقہ کی روایتی شروحات تک محدود ہیں، خود معترض کی اپنی جہالت اور کتب خانوں سے دوری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

عربی زبان کا مشہور مقولہ ہے: "المَرْءُ مَخْبُوئٌ تَحْتَ لِسَانِہٖ" (انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوتا ہے)۔ جب معترض نے اپنی کم علمی کا پردہ چاک کر ہی دیا ہے، تو ذیل میں علمائے دیوبند (خاص طور پر قاسمی فضلاء) کی وہ 5 اصل تحقیقی (Original Research) تصانیف پیش خدمت ہیں، جن کا لوہا عرب و عجم اور مغرب کی بین الاقوامی جامعات (International Universities) نے مانا ہے اور جو فقہ و حدیث کی روایتی شروحات سے بالکل جدا گانہ موضوعات پر ہیں:

1۔ "الإسلام والخلفية الحضارية للقوانين الغربية" — مفتی محمد تقی عثمانی (فاضلِ دیوبند)
یہ کتاب روایتی فقہ کی کتاب نہیں، بلکہ فلسفۂ قانون (Jurisprudence) اور عالمی تہذیبوں کے تقابلی مطالعے پر ایک مایہ ناز اصل تحقیق ہے۔ اس میں مفتی صاحب نے مغربی قوانین کے تاریخی و تہذیبی پس منظر کا اسلامی قوانین کے اصولوں کے ساتھ ایسا گہرا فکری موازنہ کیا ہے جس نے مسلم اور غیر مسلم قانون دانوں کو حیران کر دیا۔

* عالمی جامعات میں مقام: یہ کتاب اور اس کے مباحث ہارورڈ لا اسکول (Harvard Law School)، آکسفورڈ یونیورسٹی اور ملائیشیا کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ قانون (Faculty of Law) میں مسلم لیگل فینامنا اور جدید قانون سازی پر ریسرچ کرنے والے اسکالرز کے لیے ایک ناگزیر مرجع ہیں۔

2۔ "نظامِ تعلیم و تربیت" — مولانا مناظر احسن گیلانی (فاضلِ دیوبند)
علومِ قرآن و حدیث سے ہٹ کر، یہ کتاب تعلیمی نفسیات، تاریخِ تعلیم اور مسلم عمرانیات (Sociology of Education) پر برصغیر کی سب سے بڑی اصل تحقیقی دستاویز ہے۔ مولانا گیلانی نے اس دو جلدوں پر مشتمل شاہکار میں قرونِ وسطیٰ کے مسلم نظامِ تعلیم، اس کے نصاب، تدریسی نفسیات اور زوالِ بغداد و ہند کے بعد تعلیمی نفسیات میں آنے والی تبدیلیوں کا ایسا خاکہ کھینچا ہے جس کی نظیر پوری اسلامی دنیا میں نہیں ملتی۔

* عالمی جامعات میں مقام: یہ کتاب برصغیر کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ کے علاوہ، مغرب کی کئی جامعات (جیسے شکاگو یونیورسٹی کے سینٹر فار مڈل ایسٹرن اسٹڈیز) میں مسلم تعلیمی تاریخ پر ریسرچ کے لیے بنیادی ماخذ (Primary Source) کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے۔

3۔ "عبقریاتِ امام ربانی" — مولانا پروفیسر محمد انوار الحسن شیرکوٹی (فاضلِ دیوبند)
یہ کتاب مروجہ نصابی علوم سے ہٹ کر خالص اسلامی تصوف، الٰہیات (Theology) اور فکری ارتقاء پر ایک عدیم المثال تحقیقی و فلسفیانہ کام ہے۔ اس میں مجدد الف ثانی کے فکری نظریات، وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی علمی گتھیوں کو فلسفیانہ انداز میں سلجھایا گیا ہے۔

* عالمی جامعات میں مقام: تصوف اور مسلم فکر پر کام کرنے والی تمام بین الاقوامی جامعات، بالخصوص کیمبرج یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں فکری ارتقاء اور تصوف کے مابین تعلق کو سمجھنے کے لیے اس کتاب کو ایک مستند ریسرچ گائیڈ مانا جاتا ہے۔

4۔ "الإسلام والطاغوت" (اسلام اور سرمایہ دارانہ نظام/طاغوت) — مولانا عبید اللہ سندھی (فاضلِ دیوبند)
مولانا عبید اللہ سندھی کا یہ فکری اثاثہ سیاسیات (Political Science)، بین الاقوامی تعلقات (International Relations) اور معاشی فلسفے پر ایک انقلابی اور اصل تحقیق ہے۔ انہوں نے سرمایہ داری (Capitalism) اور اشتراکیت (Communism) کے عروج کے دور میں اسلام کے سیاسی و معاشی نظام کا عالمی منظر نامے میں ایک تقابلی اور محققانہ متبادل پیش کیا۔

* عالمی جامعات میں مقام: روس، ترکی اور عرب دنیا کی جامعات (جیسے جامعہ انقرہ اور جامعہ قاہرہ) میں مسلم پولیٹیکل تھاٹ (Islamic Political Thought) اور استعمار دشمن تحریکوں کے مطالعے کے لیے مولانا سندھی کے اس تحقیقی کام کو سلیبس اور ریسرچ تھیسز کا حصہ بنایا گیا ہے۔

5۔ "مقدمہ تدوینِ حدیث" — مولانا مناظر احسن گیلانی (فاضلِ دیوبند)
اگرچہ یہ حدیث کے عنوان پر ہے، لیکن یہ حدیث کی شرح یا روایتی دفاع نہیں ہے، بلکہ یہ فنِ تاریخ نگاری (Historiography)، اصولِ تحقیق اور کتابتِ تاریخ کے سائنسی طریقوں پر لکھی گئی ایک بے مثال تصنیف ہے۔ مولانا گیلانی نے اس میں ثابت کیا کہ مسلمانوں نے حفاظتِ حدیث کے لیے جو اصولِ جرح و تعدیل وضع کیے، وہ دنیا کی تاریخ میں ریسرچ میتھڈولوجی (Research Methodology) کی سب سے پہلی اور مضبوط ترین سائنسی شکل تھی۔

* عالمی جامعات میں مقام: مستشرقین (Orientalists) کے علمی حملوں کا منہ توڑ جواب دینے والی یہ کتاب جامعہ ازہر (مصر) اور مغرب کی لیڈن یونیورسٹی (نیدرلینڈز) میں علمِ حدیث کے تاریخی ارتقاء اور مسلم اصولِ تحقیق کے شعبے میں بطورِ خاص پڑھائی اور ریفر کی جاتی ہے۔

فیصلہ کن بات
اعتراض کرنے والے متعصب ذہن کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ "قاسمی" فکری مکتبہ فکر نے صرف مدرسے کے چند اسباق نہیں پڑھائے، بلکہ دنیا کو وہ محققین دیے ہیں جنہوں نے مروجہ علوم کی حدود کو توڑ کر نئے فکری راستے متعین کیے ہیں۔ فیس بک پر سستی واہ واہ سمیٹنے کے بجائے اگر معترض ان کتب کا صرف مقدمہ ہی پڑھ لیں، تو انہیں اپنے سوال کی لایعنیت اور اپنی علمی پسماندگی کا خود ہی اندازہ ہو جائے گا۔

تحریر: Abdtn k

علمی دیوالیہ پن کا نوحہ: جب علم کے نام پر بازاری زبان استعمال ہو​سوشل میڈیا پر یہ ایک تصویر گردش کر رہی ہے جس میں "سلمان...
05/07/2026

علمی دیوالیہ پن کا نوحہ: جب علم کے نام پر بازاری زبان استعمال ہو

​سوشل میڈیا پر یہ ایک تصویر گردش کر رہی ہے جس میں "سلمان ندوی" صاحب کے ایک فکری جانشین کی طرف سے دیوبند کے خلاف ایک انتہائی پست درجے کی تشبیہ استعمال کی گئی ہے۔ دیوبند کو "ختم شدہ نوکیا" اور خود کو "آئی فون پرو میکس" قرار دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ علم، تحقیق اور منزلت کا معیار اب بدل چکا ہے۔
​یہ موازنہ نہ صرف علمی جہالت ہے، بلکہ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ جب دلیل ختم ہو جائے، تو انسان تشبیہات کے سہارے اپنی انا کی تسکین ڈھونڈتا ہے۔

​1. دیوبند ایک "موبائل" نہیں، ایک فکرِ اسلامی ہے

​دیوبند کو کسی "مارکیٹ شیئر" والے موبائل سے تشبیہ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ موصوف کی نظر میں دین بھی صرف ایک "پروڈکٹ" (Product) ہے، جسے مارکیٹ کی طلب کے مطابق بیچنا ہے۔ دیوبند نے گزشتہ ڈیڑھ سو سال میں قرآن و سنت کی جو خدمت کی ہے، وہ موبائل فون کے ماڈلز کی طرح نہیں، بلکہ پہاڑوں کی طرح اٹل اور قائم ہے۔ نوکیا کے مارکیٹ شیئر ختم ہو سکتے ہیں، لیکن دیوبند کا "مارکیٹ شیئر" آج بھی پوری دنیا میں پھیلی ہوئی وہ لاکھوں مدارس اور مساجد ہیں، جہاں سے قرآن و حدیث کی روشنی پھیل رہی ہے۔

​2. "آئی فون" بننے کا خبطِ عظیم

​اپنے آپ کو "آئی فون پرو میکس" کہنے والے یہ بھول گئے ہیں کہ آئی فون کی زندگی صرف چند سال ہوتی ہے، اور وہ بھی صرف اپ ڈیٹس (Updates) پر زندہ رہتا ہے۔ دیوبند کی بنیاد وحیِ الٰہی کی ابدی تعلیمات پر ہے۔ آپ جس جدیدیت (Modernism) کے خمار میں ڈوب کر خود کو "لٹیسٹ ورژن" سمجھ رہے ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح کی "ماڈرنیت" ہر دور میں آئی اور وقت کے کوڑے دان میں جا گری، جبکہ دیوبند کی فکر آج بھی اپنے معیار پر کھڑی ہے۔

​3. جلن کسے ہو رہی ہے؟

​صاحب نے لکھا ہے کہ "نوکیا کو جلنے کا حق ہے"۔ ہم پوچھتے ہیں، جل کون رہا ہے؟ وہ جو اپنی مستند علمی حیثیت پر قائم ہے، یا وہ جو دوسروں کو گالیاں دے کر اور توہین آمیز تشبیہات استعمال کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش کر رہا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ ایسی زبان استعمال کرنا اس بات کی علامت ہے کہ آپ اندر سے خالی ہو چکے ہیں۔ جب انسان کے پاس پیش کرنے کے لیے کوئی علمی سرمایہ نہیں ہوتا، تو وہ ایسی بازاری زبان بول کر اپنی تسلی کرتا ہے۔

​آخری بات

​موصوف کو چاہیے کہ وہ اپنی اصلاح کریں، کیونکہ یہ "فون" تو اپ گریڈ ہو جائے گا، لیکن اس کے اندر کا "آپریٹنگ سسٹم" جو بغض اور تعصب سے بھرا ہوا ہے، وہ کسی بھی "آئی فون" میں نہیں چل سکتا۔ دیوبند کی مثال تو اس مضبوط دیوار کی ہے جسے آپ جیسی ہواؤں کے جھونکے نہ ہلا سکے، نہ ہلا سکیں گے۔
​اپنی اس "ٹیکنالوجی" کو سنبھال کر رکھیں، کیونکہ کل قیامت کے دن جب "مارکیٹ" لگے گی، تو نوکیا اور آئی فون نہیں، بلکہ عملِ صالح اور مسلکِ حق ہی کام آئے گا۔

​تحریر: Abdtn k

​ #دفاعِ_حق

02/07/2026

شخصیت پرستی ۔

بھائی دیکھو معاملہ ایسا ہے کہ آج کے زمانے میں ہم میں سے ہر کوئی ہے شخصیت پرست۔ اگر نیازمند ی کسی سے لگ جایے تو پھر اس شخص کے لیے ہر طرح کی تاویل اور مدح سرائی کا راستہ کھلا ہے اور اگر کسی سے دوری ہوجایے تو اس کے لئے تاویل کی کوئی گنجائش نہیں اور اس پر ہر طرح کی علمی و غیر علمی تنقید کی جائے گی۔

اب یہ دونوں ہی رویہ کو جسٹیفائی کرنے لئے دونوں طرف سے پیش کی جاتی ہے قرآن و حدیث سے دلیل۔

کسی شخص کے متعلق بہترین اور معتدل بات وہ ہوتی ہے جو نیازمندی اور مذمتی رجحان سے پاک ہو اور اپنے ذوق کو حتی الامکان اپنے تجزیہ سے دور رکھا ہو۔

اب اس تناظر میں مختلف حلقہ ہیں ایک حلقہ تحریکی جماعتوں کا ہے جن کے لئے عقیدہ کا کوئی خاص معیار موجود نہیں، ایسی ہی ایک حلقہ حکمران نواز ہے جو عقیدہ کی بحث کو بطور ہتھیار سیاسی ہدف کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ایسے ہی ایک حلقہ ہے ایسے مناظرین و محققین کا جس نے مدح و تعریف کو اپنے حلقہ کے لئے مخصوص کررکھا ہے اور ان کے علاوہ باقی سب کے مذمت کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے۔

مرحوم مولانا سلمان ندوی صاحب کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے، (اللہ مرحوم کی کوتاہیوں کو درگزر فرمائے اور مغفرت فرمائے) دعاء مغفرت اور ایصال ثواب ہر مسلمان کے لئے ہے اور اگر کسی کے کوتاہی کا اندیشہ زیادہ ہو تو زیادہ دعاءہمغفرت کی جائے۔ لیکن یہ لمبی لمبی مدح سرائی کی تحریریں جبکہ ان کے عقائدہ فاسدہ کی شہرت تواتر تک پہونچی ہوئی ہو شخصیت پرستی نہیں تو اور کیا ہے؟ اور یہ وہی حلقہ کررہا ہے جو دن رات دوسروں کو شخصیت پرستی کے طعنہ دیتا ہے۔

از قلم : عاصم افتخار

Address

Thane
400612

Telephone

+919892165902

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bazme Islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Bazme Islam:

Shortcuts

Share