14/07/2026
"مذاق" کی آڑ میں گھٹیا کردار کشی: بیمار ذہنیت کا پوسٹ مارٹم!
سوشل میڈیا پر اکثر اوقات جب کسی کا جھوٹ رنگے ہاتھوں پکڑا جائے، تو فورا ایک ڈھال تیار کر لی جاتی ہے کہ: "جناب! یہ تو صرف ایک مذاق تھا، دل پر کیوں لے لیا؟"
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس "مذاق" کے پیچھے چھپی نیت انتہائی غلیظ اور زہریلی ہوتی ہے اس پوسٹ کا اصل مقصد مفتی تقی عثمانی صاحب کی ذاتِ گرامی پر یہ گھٹیا تہمت لگانا ہے کہ (معاذ اللہ) علمائے کرام بکاؤ ہیں اور دنیاوی لالچ میں آ کر اپنے فتوے تبدیل کر لیتے ہیں۔
طنز اور مذاق کرنے والے بیمار ذہنوں کو دوٹوک جواب:
1. علمی دیانت پر حملہ ناڈیڈ (Unacceptable): مفتی تقی عثمانی صاحب صرف پاکستان کے نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کے مایہ ناز فقیہ اور اسلامک فنانس (Islamic Finance) کے سب سے بڑے ماہر مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے پوری زندگی سود اور غیر شرعی مالیاتی نظام کے خلاف علمی جنگ لڑی ہے۔ ان کی علمی دیانت پر "بکاؤ" ہونے کا اشارہ بھی کرنا تمہاری اپنی اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے۔
2. تحقیق کے بغیر فتویٰ نہیں: انہوں نے حال ہی میں کرپٹو کرنسی کو جو غیر شرعی قرار دیا ہے، وہ کوئی راتوں رات لیا گیا جذباتی فیصلہ نہیں، بلکہ ماہرینِ معیشت اور ٹیکنالوجی کے طویل مشوروں کے بعد جاری کردہ فتویٰ ہے۔ کسی کی زندگی بھر کی علمی خدمات کا موازنہ تم دو بٹ کوائن کے سکے دکھا کر اپنے سستے انٹرنیٹ کے مذاق سے نہیں کر سکتے۔
3. کردار کشی کی آزادی نہیں: آزادیِ اظہارِ رائے یا طنز و مزاح کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ کسی کی عزت اور کردار پر کیچڑ اچھالیں۔ جب تمہارے پاس علمی دلائل کا جواب نہیں ہوتا، تو تم گھٹیا میمز (Memes) اور من گھڑت کہانیوں کے پیچھے چھپ کر جید علمائے کرام پر مادی مفادات کے الزامات لگانے لگتے ہو۔
تمہارا یہ پروپیگنڈا نہ تو مفتی صاحب کے بین الاقوامی علمی مقام کو کم کر سکتا ہے اور نہ ہی ان کے فتوے کی شرعی حیثیت کو بدل سکتا ہے۔ اپنی بیمار سوچ کا علاج کرو، کیونکہ دین اور اہلِ دین کا مذاق اڑانے والوں کا انجام دنیا اور آخرت دونوں میں رسوائی کے سوا کچھ نہیں!
تحریر: Abdtn K