Siraj Education and Welfare Society, Nepal جمعية السراج بنيبال

  • Home
  • Nepal
  • Siraha
  • Siraj Education and Welfare Society, Nepal جمعية السراج بنيبال

Siraj Education and Welfare Society, Nepal جمعية السراج بنيبال Education, Health, Information and Social Services.

اردو / हिन्दी حافظ ذاکر انور سلفی رحمہ اللہ نم آنکھوں کے ساتھ سپردِ خاک، ان کی وفات ہمارے لیے ایک عظیم خسارہ   إن العين ...
29/08/2026

اردو / हिन्दी

حافظ ذاکر انور سلفی رحمہ اللہ نم آنکھوں کے ساتھ سپردِ خاک، ان کی وفات ہمارے لیے ایک عظیم خسارہ

إن العين تدمع، والقلب يحزن، ولا نقول إلا ما يرضى ربنا، وإنا بفراقك لمحزونون.

إنا لله وإنا إليه راجعون۔

بے شک آنکھ آنسو بہا رہی ہے، دل غمگین ہے، لیکن ہم وہی بات کہہ رہے ہیں جس سے ہمارا رب راضی ہو۔ اور ہم حافظ صاحب کی جدائی سے بہت مغموم ہیں۔ بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

حافظ ذاکر انور سلفی رحمہ اللہ (رَمَول، سرہا، نیپال) کی وفات آج 29 اگست 2026ء، رات ڈھائی بجے ہوئی، اور آج ہی بعد نمازِ ظہر نمناک آنکھوں اور سوگوار دلوں کے ساتھ انہیں آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

اللهم اغفر له وارحمه، وعافه واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله، واجعل قبره روضة من رياض الجنة، وارزقه الفردوس الأعلى، وأعذه من عذاب القبر ومن عذاب النار، وألهم أهله وذويه الصبر والسلوان.

اے اللہ! ان کی مغفرت فرما، ان پر رحم فرما، انہیں عافیت عطا فرما اور ان سے درگزر فرما، ان کی بہترین مہمانی فرما، ان کی قبر کو کشادہ فرما، اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما، انہیں عذابِ قبر اور عذابِ جہنم سے محفوظ فرما، اور ان کے اہل و عیال اور متعلقین کو صبر و تسلی عطا فرما۔

یقیناً رَمَول، بالخصوص جنوبی محلہ، ان کے اہل و عیال، خاندان اور تمام متعلقین کے لیے یہ ایک عظیم سانحہ ہے، لیکن میرے لیے بھی یہ ایک ذاتی اور عظیم نقصان ہے۔

حافظ صاحب رحمہ اللہ نے اللہ کے فضل و توفیق سے میری زندگی کے تقریباً تمام اہم موڑ پر میرا بھرپور ساتھ دیا اور ہمیشہ میرے لیے مخلص خیرخواہ اور مضبوط سہارا بنے رہے۔ اللہ رب العالمین کے فضل و کرم اور میرے والدین کی محنت و تربیت کے بعد، میری شخصیت کی تعمیر اور مختلف تعلیمی، سماجی وغیرہ خدمات کی ادائیگی میں حافظ صاحب رحمہ اللہ کا بہت بڑا اور نمایاں کردار رہا ہے۔

چاہے 2005ء میں سراج ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے قیام، رجسٹریشن اور اس کی ترقی کا معاملہ ہو، جس کے وہ شریکِ بانی اور ناظمِ اعلیٰ تھے، یا 2008ء میں مدرسہ محمدیہ سلفیہ کے قیام اور اس کی ترقی کا معاملہ ہو، جس کے وہ شریکِ بانی و صدر تھے؛ ہر مرحلے پر ان کی سرپرستی، رہنمائی اور معاونت میرے ساتھ رہی۔

2008ء میں میری سخت بیماری کے ایام میں انہوں نے بارہا میری عیادت کی اور مجھے حوصلہ دیا۔ 2009ء میں جب میں حائل میں داعی کی حیثیت سے خدمات انجام دینے جا رہا تھا، اس وقت بھی انہوں نے میرے ساتھ اٹھارہ دن ممبئی میں قیام کیا اور میرے سفر، ویزا اور میڈیکل سے متعلق معاملات میں بھرپور تعاون کیا اور ہر ممکن آسانی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ حائل سے واپسی پر میرا استقبال کرنے کاٹھمنڈو پہنچے۔ میرے رشتے اور شادی کے معاملات ہوں، بہت سارے گھریلو معاملات ہوں یا دیگر سماجی و فلاحی معاملات— زندگی کے ہر بڑے موڑ پر انہوں نے میرا ساتھ دیا، مشکل گھڑیوں میں بھی وہ ہمیشہ میرے دفاع اور بچاؤ میں پیش پیش رہے اور میرے لیے ایک مخلص خیرخواہ اور مضبوط سہارا بنے۔

وہ مجھ سے تقریباً بیس سال سے زیادہ بڑے ہوں گے، لیکن اس قدر عزت اور احترام دیتے تھے کہ عمر کے اس طویل فاصلے کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ فجزاه الله عني خير الجزاء۔

وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے؛ دینی، تعلیمی اور دعوتی میدان میں بھی سرگرم تھے، سماجی و فلاحی میدان میں بھی نمایاں تھے اور سیاست میں بھی فعال تھے۔
چنانچہ تعلیم و تدریس اور دعوت و تبلیغ میں زندگی کا اہم حصہ گزارا۔ ایک طویل عرصے تک راجستھان میں سابق نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانا عبدالحی اصلاحی رحمہ اللہ کی تربیت اور رفاقت میں تدریسی و دعوتی خدمات انجام دیتے رہے۔ المعهد العلمي السلفي، رَمَول کی تعمیر و ترقی میں استاد کی حیثیت سے بھی اپنی تعلیمی و دعوتی ذمہ داری ادا کی، اور مختلف اوقات میں مختلف انتظامی ذمہ داریاں بھی انجام دیتے رہے۔ یقیناً اس ادارے کے لیے ان کی خدمات اہم، نمایاں اور ناقابلِ فراموش ہیں۔

سماجی مسائل کو سلجھانے میں بھی وہ ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے، اور چھوٹے بڑے ہر طبقے کے سیاست دانوں سے ان کے تعلقات تھے۔ مجھے ان کے ساتھ رہتے ہوئے مختلف اہم اور بڑی سیاسی شخصیات سے ملاقات کرنے کا موقع ملا۔ 2008ء میں سابق وزیر اعظم مادھو کمار نیپال کے ساتھ بیرات نگر میں اسٹیج شیئر کرنے کا موقع ملا، 2011ء میں رضوان انصاری صاحب کی دعوت پر ان ہی کے ساتھ پارلیمنٹ جانے کا موقع ملا، اور اس کے چند سال بعد سابق وزیر اعظم کے۔ پی۔ شرما اولی کے گھر پر ملاقات کا موقع ملا۔ ان مواقع سے مجھے بہت کچھ سیکھنے اور استفادہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔
جمعیت و جماعت سے بھی ان کا گہرا رشتہ تھا۔ وہ مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کی مجلسِ شوریٰ کے رکن بھی رہے۔

یقیناً وہ ایک دردمند اور حساس دل رکھتے تھے۔ وہ صرف میرے خیرخواہ نہیں تھے، بلکہ اپنے گاؤں، محلے اور پورے معاشرے کی بھلائی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے۔ ان کی دینی، تعلیمی، دعوتی، سماجی اور فلاحی خدمات ایسی ہیں جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

عجلت اور غم میں لکھے گئے میرے یہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ ان کی گراں قدر اور ہمہ جہت خدمات کے بیان سے قاصر ہیں۔ ان شاء اللہ، ان کی حیات و خدمات پر ایک کتاب تیار کی جائے گی، تاکہ ہم جیسے اور بھی موجودہ اور بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے مختلف خیر کے میدانوں میں شہسواری کے لیے، اللہ کی توفیق سے، مہمیز ثابت ہو۔

آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں رہے، لیکن ان کی یادیں، ان کی خدمات اور ان کے چھوڑے ہوئے خیر کے کام ان شاء اللہ باقی رہیں گے۔ انہوں نے اپنے پیچھے جو صدقۂ جاریہ چھوڑا ہے، ان شاء اللہ اسے قائم و دائم رکھنے اور آگے بڑھانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی، تاکہ ان کے لیے اجر و ثواب کا یہ سلسلہ جاری رہے۔

ہم اللہ رب العالمین سے دعا کرتے ہیں کہ وہ حافظ ذاکر انور سلفی رحمہ اللہ کی تمام دینی، تعلیمی، دعوتی، سماجی اور فلاحی خدمات کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے، ان کی تمام لغزشوں اور گناہوں کو معاف فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، انہیں عذابِ قبر سے محفوظ فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ ان کے اہل و عیال، خاندان، متعلقین اور تمام احباب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ہمیں ان کے چھوڑے ہوئے خیر کے کاموں کو آگے بڑھانے کی توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین۔

غمزدہ و دعا گو:
رحمت اللہ عبد القدوس مدنی
(پی ایچ ڈی اسکالر)
صدر، سراج ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، نیپال...

हाफ़िज़ ज़ाकिर अनवर सलफ़ी रहिमहुल्लाह नम आँखों के साथ सुपुर्द-ए-ख़ाक, उनकी वफ़ात हमारे लिए एक बड़ा नुकसान

إن العين تدمع، والقلب يحزن، ولا نقول إلا ما يرضى ربنا، وإنا بفراقك لمحزونون.

إنا لله وإنا إليه راجعون।

बेशक आँख आँसू बहा रही है, दिल ग़मगीन है, लेकिन हम वही बात कह रहे हैं जिससे हमारा रब राज़ी हो। और हम हाफ़िज़ साहब की जुदाई से बहुत ग़मगीन हैं। बेशक हम अल्लाह ही के हैं और उसी की तरफ़ लौटकर जाने वाले हैं।

हाफ़िज़ ज़ाकिर अनवर सलफ़ी रहिमहुल्लाह (रमौल, सिरहा, नेपाल) का इंतिक़ाल आज 29 अगस्त 2026, रात ढाई बजे हुआ, और आज ही ज़ुहर की नमाज़ के बाद नम आँखों और ग़मगीन दिलों के साथ उन्हें पुश्तैनी क़ब्रिस्तान में सुपुर्द-ए-ख़ाक कर दिया गया।

اللهم اغفر له وارحمه، وعافه واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله، واجعل قبره روضة من رياض الجنة، وارزقه الفردوس الأعلى، وأعذه من عذاب القبر ومن عذاب النار، وألهم أهله وذويه الصبر والسلوان.

ऐ अल्लाह! उनकी मग़फ़िरत फ़रमा, उन पर रहम फ़रमा, उन्हें आफ़ियत अता फ़रमा और उनसे दरगुज़र फ़रमा, उनकी बेहतरीन मेहमाननवाज़ी फ़रमा, उनकी क़ब्र को कुशादा फ़रमा, उसे जन्नत के बाग़ों में से एक बाग़ बना दे, उन्हें जन्नतुल-फ़िरदौस में आला मुक़ाम अता फ़रमा, उन्हें क़ब्र के अज़ाब और जहन्नम के अज़ाब से महफ़ूज़ फ़रमा और उनके घरवालों तथा संबंधित लोगों को सब्र और तसल्ली अता फ़रमा।

यक़ीनन रमौल, ख़ास तौर पर दक्षिणी मोहल्ला, उनके घरवालों, परिवार और सभी संबंधित लोगों के लिए यह एक बड़ा सदमा है, लेकिन मेरे लिए भी यह एक निजी और बहुत बड़ा नुकसान है।

हाफ़िज़ साहब रहिमहुल्लाह ने अल्लाह के फ़ज़्ल और तौफ़ीक़ से मेरी ज़िंदगी के लगभग सभी अहम मोड़ों पर मेरा भरपूर साथ दिया और हमेशा मेरे लिए एक सच्चे ख़ैरख़्वाह और मज़बूत सहारे बने रहे। अल्लाह रब्बुल-आलमीन के फ़ज़्ल व करम और मेरे माता-पिता की मेहनत व परवरिश के बाद, मेरी शख़्सियत की तामीर और विभिन्न शैक्षिक, सामाजिक आदि सेवाओं को अंजाम देने में हाफ़िज़ साहब रहिमहुल्लाह का बहुत बड़ा और अहम किरदार रहा है।

चाहे 2005 में सिराज एजुकेशन एंड वेलफ़ेयर सोसाइटी की स्थापना, रजिस्ट्रेशन और उसकी तरक़्क़ी का मामला हो, जिसके वह सह-संस्थापक और महासचिव थे, या 2008 में मदरसा मुहम्मदिया सलफ़िया की स्थापना और उसकी तरक़्क़ी का मामला हो, जिसके वह सह-संस्थापक और अध्यक्ष थे; हर चरण में उनकी सरपरस्ती, मार्गदर्शन और सहयोग मेरे साथ रहा।

2008 में मेरी गंभीर बीमारी के दिनों में उन्होंने कई बार मेरी अयादत की और मुझे हौसला दिया। 2009 में जब मैं हाइल में दाई के रूप में सेवाएँ देने जा रहा था, उस समय भी उन्होंने मेरे साथ अठारह दिन मुंबई में रहकर मेरे सफ़र, वीज़ा और मेडिकल से संबंधित मामलों में भरपूर सहयोग किया और हर संभव आसानी पैदा करने की कोशिश की। हाइल से वापस आने पर मेरा स्वागत करने के लिए काठमांडू पहुँचे। मेरे रिश्ते और शादी के मामले हों, बहुत सारे घरेलू मामले हों या दूसरे सामाजिक और कल्याणकारी मामले—ज़िंदगी के हर बड़े मोड़ पर उन्होंने मेरा साथ दिया, मुश्किल घड़ियों में भी वह हमेशा मेरे बचाव और समर्थन में आगे रहे, और मेरे लिए एक सच्चे ख़ैरख़्वाह और मज़बूत सहारा बने रहे।

वह मुझसे लगभग बीस साल से अधिक बड़े होंगे, लेकिन मुझे इतना सम्मान और आदर देते थे कि उम्र के इस लंबे फ़ासले का एहसास ही नहीं होता था। फ़जज़ाहुल्लाहु अन्नी ख़ैरल-जज़ा।

वह एक बहुआयामी व्यक्तित्व के मालिक थे; दीन, शिक्षा और दावत के क्षेत्र में भी सक्रिय थे, सामाजिक और कल्याणकारी क्षेत्र में भी उनका प्रमुख योगदान था और राजनीति में भी सक्रिय थे।

उन्होंने शिक्षा और अध्यापन तथा दावत और प्रचार के क्षेत्र में अपनी ज़िंदगी का एक महत्वपूर्ण हिस्सा गुज़ारा। लंबे समय तक राजस्थान में केंद्रीय जमीयत अहल-ए-हदीस हिंद के पूर्व उप-अमीर मौलाना अब्दुल-हय्यी इस्लाही रहिमहुल्लाह की सरपरस्ती और संगति में शिक्षण और दावती सेवाएँ अंजाम देते रहे। अल-मअहद अल-इल्मी अस-सलफ़ी, रमौल की तामीर और तरक़्क़ी में शिक्षक के रूप में भी अपनी शैक्षिक और दावती ज़िम्मेदारी निभाई और अलग-अलग समय में विभिन्न प्रशासनिक ज़िम्मेदारियाँ भी निभाते रहे। यक़ीनन इस संस्था के लिए उनकी सेवाएँ महत्वपूर्ण, उल्लेखनीय और कभी न भुलाई जाने वाली हैं।

सामाजिक समस्याओं को सुलझाने में भी वह हमेशा आगे रहते थे और छोटे-बड़े हर वर्ग के राजनेताओं से उनके संबंध थे। मुझे उनके साथ रहते हुए विभिन्न राजनीतिक महत्वपूर्ण और बड़ी हस्तियों से मिलने का अवसर मिला। 2008 में पूर्व प्रधानमंत्री माधव कुमार नेपाल के साथ बिराटनगर में मंच साझा करने का अवसर मिला, 2011 में रिज़वान अंसारी साहब के निमंत्रण पर उन्हीं के साथ संसद जाने का अवसर मिला और उसके कुछ साल बाद पूर्व प्रधानमंत्री के. पी. शर्मा ओली के घर पर उनसे मिलने का अवसर मिला। इन अवसरों से मुझे बहुत कुछ सीखने और लाभ उठाने का अवसर मिला।

जमीयत और जमाअत से भी उनका गहरा संबंध था। वह केंद्रीय जमीयत अहल-ए-हदीस नेपाल की मजलिस-ए-शूरा के सदस्य भी रहे।

यक़ीनन वह एक दर्दमंद और संवेदनशील दिल रखते थे। वह केवल मेरे ख़ैरख़्वाह नहीं थे, बल्कि अपने गाँव, मोहल्ले और पूरे समाज की भलाई के लिए हमेशा प्रयासरत रहते थे। उनकी दीन, शिक्षा, दावत, सामाजिक और कल्याणकारी सेवाएँ ऐसी हैं जिन्हें भुलाया नहीं जा सकता।

जल्दबाज़ी और ग़म की हालत में लिखे गए मेरे ये टूटे-फूटे शब्द उनकी क़ीमती और बहुआयामी सेवाओं का पूरा वर्णन करने से क़ासिर हैं। इंशाअल्लाह, उनकी ज़िंदगी और सेवाओं पर एक किताब तैयार की जाएगी, ताकि हमारे जैसे वर्तमान और आने वाली पीढ़ियों के लोगों के लिए विभिन्न भलाई के क्षेत्रों में आगे बढ़ने के लिए, अल्लाह की तौफ़ीक़ से, यह एक प्रेरणा और प्रोत्साहन का माध्यम बन सके।

आज वह हमारे बीच मौजूद नहीं रहे, लेकिन उनकी यादें, उनकी सेवाएँ और उनके छोड़े हुए भलाई के काम इंशाअल्लाह बाक़ी रहेंगे। उन्होंने अपने पीछे जो सदक़ा-ए-जारीया छोड़ा है, इंशाअल्लाह उसे क़ायम रखने और आगे बढ़ाने की भरपूर कोशिश की जाएगी, ताकि उनके लिए सवाब और अज्र का यह सिलसिला जारी रहे।

हम अल्लाह रब्बुल-आलमीन से दुआ करते हैं कि वह हाफ़िज़ ज़ाकिर अनवर सलफ़ी रहिमहुल्लाह की तमाम दीन, शैक्षिक, दावती, सामाजिक और कल्याणकारी सेवाओं को उनके लिए सदक़ा-ए-जारीया बनाए, उनकी तमाम ग़लतियों और गुनाहों को माफ़ फ़रमाए, उनकी क़ब्र को नूर से भर दे, उन्हें क़ब्र के अज़ाब से महफ़ूज़ फ़रमाए, उनके दर्जे बुलंद फ़रमाए और जन्नतुल-फ़िरदौस में आला मुक़ाम अता फ़रमाए।

अल्लाह तआला उनके घरवालों, परिवार, संबंधित लोगों और तमाम दोस्तों को सब्र-ए-जमील अता फ़रमाए और हमें उनके छोड़े हुए भलाई के कामों को आगे बढ़ाने की तौफ़ीक़ अता फ़रमाए। आमीन या रब्बल-आलमीन।

ग़मज़दा व दुआगो:
रहमतुल्लाह अब्दुल क़ुद्दूस मदनी
(पीएचडी स्कॉलर)
अध्यक्ष, सिराज एजुकेशन एंड वेलफ़ेयर सोसाइटी, नेपाल
29 अगस्त 2026

🏆 اعلانِ نتائجِ مسابقۂ اذان و اقامت 2026ء(مرحلۂ اول – بنیادی)الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الأمين، و...
28/07/2026

🏆 اعلانِ نتائجِ مسابقۂ اذان و اقامت 2026ء

(مرحلۂ اول – بنیادی)

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الأمين، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:

سراج ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، نیپال کے زیرِ اہتمام اور ٹیم مقصدِ حیات کے زیرِ اشراف منعقدہ مسابقۂ اذان و اقامت 2026ء (مرحلۂ اول – بنیادی) کے نتائج کا اعلان پیشِ خدمت ہے:

📅 تاریخِ انعقاد: جمعہ، 24 جولائی 2026ء 09 صفر 1448ھ

🥇 اول پوزیشن محمد راشد (روتہٹ) 99 نمبر

🥈 دوم پوزیشن شیخ فرحان بن شیخ منصور (روتہٹ) 98 نمبر

🥉 سوم پوزیشن

تیسری پوزیشن کے لیے درج ذیل تین متسابقین کے درمیان 97، 97، 97 نمبروں کے ساتھ برابری پائی گئی:

محمد یحییٰ (روتہٹ)

محمد زیاد (روتہٹ)

شیخ فیضان بن شیخ منصور (روتہٹ)

مسابقہ کمیٹی کی نگرانی میں قرعہ اندازی کے بعد:

🏅 سوم پوزیشن

محمد زیاد (روتہٹ)

قرار پائے۔

🌹 مسابقہ کمیٹی تمام کامیاب متسابقین کو دلی مبارک باد پیش کرتی ہے اور دیگر تمام شرکاء کی علمی و عملی ترقی کے لیے دعا گو ہے۔

📅 تاریخِ اعلانِ نتائج: 29-07-2026

والسلام علیکم ورحمة الله وبرکاته

المعلن:
مسابقہ کمیٹی مسابقۂ اذان و اقامت 2026ء (مرحلۂ اول – بنیادی)

باہتمام:
سراج ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، نیپال

زیرِ اشراف:
ٹیم مقصدِ حیات

🌷💐.......... 🌹🌷

24/07/2026

🌹 کلماتِ تشکر و امتنان 🌹

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الأمين، وعلى آله وصحبه أجمعين۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اس کی توفیق و نصرت سے آج بروز جمعہ، 24 جولائی 2026ء (09 صفر 1448ھ)، نیپال کے مقامی وقت کے مطابق بعد نمازِ عصر شروع ہونے والا "مسابقۂ اذان و اقامت 2026 (مرحلۂ اوّل: بنیادی)" تا نمازِ عشاء بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ اس کامیابی پر سب سے پہلے ہم اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہیں، جس نے ہمیں اپنے عظیم شعائرِ اسلام میں سے دو عظیم شعائر، یعنی اذان اور اقامت، کی خدمت اور ان کے علم کے فروغ کی توفیق عطا فرمائی۔

اس موقع پر ہم ان تمام حضرات کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جنہوں نے کسی نہ کسی شکل میں اس پروگرام کی کامیابی میں حصہ لیا۔ خواہ وہ ذمہ داران و منتظمین ہوں، محترم صدرِ مجلس، ناظمِ مکرم، کنوینرِ محترم، معزز حکم حضرات، تلاوتِ قرآنِ کریم، نعتِ رسول ﷺ، افتتاحی اور تأثراتی کلمات پیش کرنے والے معززین، تکنیکی معاونین اور انتظامی امور سے وابستہ احباب ہوں، یا وہ حضرات جنہوں نے تشہیر، رابطہ کاری، دعوتِ عام، طلبہ کی رہنمائی اور مختلف علاقوں سے متسابقین کی شرکت کو یقینی بنانے میں تعاون کیا؛ اللہ تعالیٰ آپ سب کی محنتوں کو قبول فرمائے اور انہیں اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔

خصوصی طور پر ہم مالی تعاون کرنے والے اپنے دونوں رفقا جناب مہر عالم ضیاء صدیقی صاحب اور محترم حافظ عبد الغفار مدنی صاحب کے بھی ممنون و شکر گزار ہیں، جنہوں نے مالی تعاون کے ذریعے اس پروگرام کی سرپرستی کی اور اس کے انعقاد کو ممکن بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے مال، وقت، صحت، اولاد اور نیک کوششوں میں برکت عطا فرمائے اور اسے ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔

اسی طرح ہم تمام متسابقین کو مبارک باد پیش کرتے ہیں جنہوں نے شوق، محنت اور اخلاص کے ساتھ اس مسابقے میں شرکت کی۔ درحقیقت اس مسابقے کا مقصد صرف پوزیشن حاصل کرنا نہیں، بلکہ اذان و اقامت کے مسائل، فضائل، احکام اور سنتوں کا علم حاصل کرنا، انہیں سمجھنا اور معاشرے میں عام کرنا ہے۔ الحمد للہ! اس اعتبار سے ہر شریکِ مسابقہ قابلِ تحسین اور مبارک باد کا مستحق ہے۔

نتائج کا اعلان ان شاء اللہ چند دنوں میں کیا جائے گا۔ اوّل، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے متسابقین کو خصوصی انعامات دیے جائیں گے، جبکہ تمام متسابقین کو نقدی اعزاز اور سندِ شرکت سے بھی نوازا جائے گا۔

ان شاء اللہ یہ مبارک سلسلہ آئندہ مزید وسعت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔ مختلف مراحل اور نئی صورتوں میں ایسے علمی و تربیتی مسابقات کا انعقاد ہوتا رہے گا، اور متسابقین کی تعداد کے ساتھ ساتھ انعامات کے دائرے کو بھی بڑھانے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ اذان و اقامت کے علم، شعور اور سنتوں کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جا سکے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس مسابقے کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اس میں شریک، معاون اور تعاون کرنے والے تمام احباب کو بہترین جزائے خیر عطا فرمائے، اور اس کوشش کو شعائرِ اسلام کی تعظیم، سنتِ نبوی ﷺ کے احیاء اور علمِ نافع کے فروغ کا ذریعہ بنائے۔

جزاكم الله خيرًا، وبارك الله في جهودكم، وتقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال۔

🌹 والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته 🌹

منجانب:
مسابقہ کمیٹی
مسابقۂ اذان و اقامت 2026
(مرحلۂ اوّل: بنیادی)

زیرِ اہتمام:
سراج ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، نیپال

زیرِ اشراف:
ٹیم مقصدِ حیات

مسابقۂ اذان و اقامت 2026ء(مرحلۂ اول: بنیادی)Adhan and Iqamah Competition 2026(Level 1: Basic)🌐 آن لائن (Online)📅 تاریخ...
18/07/2026

مسابقۂ اذان و اقامت 2026ء

(مرحلۂ اول: بنیادی)

Adhan and Iqamah Competition 2026

(Level 1: Basic)

🌐 آن لائن (Online)

📅 تاریخ / Date

جمعہ، 24 جولائی 2026ء 09 صفر 1448ھ

🕒 وقت / Time

🇳🇵 Nepal: 4:30 PM – 6:30 PM

🇸🇦 🇶🇦 Saudi Arabia / Qatar: 1:45 PM – 3:45 PM

📌 اہم ہدایات / Important Instructions

🔹 مسابقہ تین مرحلوں (Levels) پر مشتمل ہے، اور یہ مرحلۂ اول (Level 1) کا مسابقہ ہے۔ اس میں کامیابی کے بعد، ان شاء اللہ تعالیٰ، Level 2 اور Level 3 کے مسابقے بھی منعقد کیے جائیں گے۔

🔹 اس مرحلے کے سوالات و جوابات پر مشتمل فائل تیار ہے، جو اس اعلان کے ساتھ نشر کی جا رہی ہے۔ اسے اعلان میں درج رابطہ نمبر سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

🔹 ہر متسابق کے لیے واٹس ایپ گروپ میں جاری کردہ ہدایات کے مطابق اپنی مکمل معلومات، عمر کے ثبوت کے لیے Birth Certificate مقررہ نمبر یا Google Form پر 22 July 2026 تک ارسال کرنا لازمی ہے۔ یہی رجسٹریشن کی آخری تاریخ ہے۔

🔹 ان شاء اللہ تعالیٰ مسابقے سے ایک روز قبل متسابقین کی حتمی فہرست، مقررہ اوقات، اور Live Stream / Zoom Meeting کا لنک واٹس ایپ گروپ، جمعیۃ السراج اور ٹیم مقصدِ حیات کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نشر کر دیا جائے گا۔

🏆 انعامات / Prizes

اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے کامیاب متسابقین کو بالترتيب 1500 روپیے، 1200 روپیے اور 1000 روپیے اسناد کے ساتھ عطا کیے جائیں گے۔

مزید برآں، ہر شریکِ مسابقہ کو Certificate of Participation اور تشجیعی انعام عطا کیا جائے گا۔

📲 رجسٹریشن / Registration
رجسٹریشن کے لیے گوگل فارم fill up کریں:
https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSfquB0oovzk9RNVFRJD42DcfffII_x09_dDPN_83fbMxsnKjA/viewform?usp=dialog
مزید تفصیلات کے لیے واٹس ایپ گروپ جوائن کریں۔

https://chat.whatsapp.com/LrPYBaYvRkLK5PY3JkbeGl?s=cl&p=a&mlu=3

📞 رابطہ نمبر / Contact Number

+977 982-3305585

🏢 اہتمام / Organized By

Siraj Education and Welfare Society, Nepal

🤝 اشراف / Supervision

Team Maqsad-e-Hayat

دو لسانی آن لائناصلاحِ معاشرہ کانفرنسद्विभाषी ऑनलाइनसमाज सुधार सम्मेलनOnline Meeting No.: 209Date: Friday, 3 July 2026🇳🇵...
02/07/2026

دو لسانی آن لائن
اصلاحِ معاشرہ کانفرنس
द्विभाषी ऑनलाइन
समाज सुधार सम्मेलन
Online Meeting No.: 209
Date: Friday, 3 July 2026
🇳🇵 Nepal: 4:15 PM – 5:15 PM
🇸🇦 🇶🇦 KSA / Qatar: 1:30 PM – 2:30 PM
صدارت
رحمت اللہ ثاقب مدنی
(صدر: سراج ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، نیپال)
نظامت
مولانا قاسم عالیاوی
(جامعہ سلفیہ، جنکپور دھام، نیپال)
ڈائریکٹر
جناب ابو الکلام
(دوحہ، قطر)
تلاوتِ قرآنِ کریم
عبد اللہ رائد آل سراج
(مدینہ منورہ)
نعتِ رسول ﷺ
محمد شکیل راعین
(دوحہ، قطر)
خطیب
فضیلۃ الشیخ عبد الغفار عبد الصمد مدنی
(داعی، جمعیت دعوت و ارشاد، سعودی عرب)
موضوع
والدین اور اولاد کے باہمی حقوق اور ہمارا معاشرہ
नेपाली वक्ता
शैख रहमतुल्लाह साकिब मदनी
विषय
आमा-बुवा र सन्तानका आपसी अधिकार तथा हाम्रो समाज
For Contact
+977 982-3305585
زیرِ اہتمام: ٹیم مقصدِ حیات
आयोजकः टीम मक्सद-ए-हयात
Meeting Link:
https://streamyard.com/6avnrxyg5v⁠
Live on Facebook:
https://www.facebook.com/share/1Gefi6YBE3/⁠
E-mail:
[email protected]
Website:
www.maqsadehayat.com

14/02/2026

रमजान र रोजाबाट प्राप्त हुने शिक्षा
रह्मतुल्लाह मदनी
13-02-2026

08/02/2026
*دعوتِ اسلام: نیپال کے تناظر میں*(اداریہ ہفت روزہ صدائے عام جنکپور، نیپال، 13 نومبر 2025)اسلام وہ دینِ فطرت ہے جو انسان ...
13/11/2025

*دعوتِ اسلام: نیپال کے تناظر میں*

(اداریہ ہفت روزہ صدائے عام جنکپور، نیپال، 13 نومبر 2025)

اسلام وہ دینِ فطرت ہے جو انسان کو خیر، عدل، علم اور امن کی راہوں پر گامزن کرتا ہے۔
دعوتِ اسلام دراصل انسان کو اس کے خالق و مالک اللہ عز وجل کی بندگی اور مخلوق کے لیے رحمت بننے کی تعلیم دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ} (النحل: ۱۲۵)
ترجمہ: "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دو۔"
دعوت کا مقصد جبر نہیں، بلکہ خیرخواہی، علم اور فہمِ حقیقت ہے۔
اسی لیے اسلام اور بہت حد تک دستورِ نیپال بھی مذہبی آزادی، انسانی وقار، اور پُرامن بقائے باہمی کے اصول پر قائم ہیں۔

*۱. دستورِ نیپال اور مذہبی آزادی: دعوت کا محفوظ دائرہ*
دستورِ نیپال (२०७२/۲۰۱۵) کا مضمون ۲۶ (धार्मिक स्वतन्त्रताको हक) مذہبی آزادی کو بنیادی حق قرار دیتا ہے:
شق 1:
“धर्ममा आस्था राख्ने प्रत्येक व्यक्तिलाई आफ्नो आस्था अनुसार धर्मको अवलम्बन, अभ्यास र संरक्षण गर्ने स्वतन्त्रता हुनेछ।”
ترجمہ: "ہر شخص کو اپنے عقیدے کے مطابق اپنے مذہب کو اپنانے، اس پر عمل کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کی آزادی ہوگی۔"
اسلام کا یہی اصول قرآن میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا:
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرہ: ۲۵۶)
ترجمہ: "دین میں کوئی جبر نہیں۔"
یہ آیت اور مذکورہ قانونی شق ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اسلام کی دعوت دلائل، کردار اور حسنِ اخلاق سے کی جائے؛ کسی فرد یا برادری پر دباؤ یا نفرت کی فضا پیدا نہ کی جائے، بلکہ تعلیم، خدمت اور مکالمے کے ذریعے پیغامِ اسلام پہنچایا جائے۔

*۲. دعوت کا منہج: انبیاء کی سنت اور شریعت کا اسلوب*
دعوت کا حقیقی منہج وہی ہے جو قرآن و سنت میں آیا: {قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي} (یوسف: ۱۰۸)
ترجمہ: "کہہ دو: یہی میرا راستہ ہے، میں اور میرے پیروکار بصیرت پر اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔"
یہی طریقہ انبیاء اور سلفِ صالحین کا رہا: علم، عدل، حلم اور صبر کے ساتھ۔
دعوت کا مطلب ہے لوگوں کو خیر کی طرف بلانا، نہ کہ کسی پر جبر کر کے حکم چلانا۔
اسی منہج پر چلتے ہوئے داعیِ اسلام کو چاہیے کہ وہ نیپالی معاشرے میں علم و حکمت کے ساتھ گفتگو کرے، نیپال کی مختلف زبانوں کے ساتھ نیپالی زبان میں بات کرنے کی مہارت حاصل کرے، مقامی ثقافت کو سمجھے، اور اسلام کا پیغام علمی و قانونی احترام کے ساتھ پیش کرے۔

*۳. دعوت، قانون، اور احترامِ دستور*
دستورِ نیپال کی بنیاد عدل، مساوات اور ثقافتی ہم آہنگی پر رکھی گئی ہے۔
مضمون ۴ میں کہا گیا ہے: “नेपाल संघीय, समावेशी, धर्मनिरपेक्ष र बहुसांस्कृतिक गणराज्य हो।”
ترجمہ: "نیپال ایک وفاقی، جامع، مذہبی طور پر غیرجانبدار اور کثیر الثقافتی جمہوریہ ہے۔"
یہ "کثیرالثقافتی" پہلو دعوت کے لیے ایک مثبت فضا فراہم کرتا ہے، جہاں ہر مذہب اپنے اصول کے مطابق پُرامن انداز میں اپنی تعلیمات پیش کر سکتا ہے۔
اسلام کا پیغام کسی قوم یا نسل کے خلاف نہیں بلکہ تمام انسانیت کے لیے ہے،
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ} (الأنبياء: ۱۰۷)
ترجمہ: "ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔"
یہ آیت دعوتِ اسلامی کی روح ہے: رحمت، علم، عدل، اور خیرخواہی۔

*۴. دعوت اور زبان: فہم و رسائی کی ضرورت*
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ} (إبراهيم: ۴)
ترجمہ:" ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان کے ساتھ، تاکہ وہ ان کے لیے بات واضح کرے۔"
یہ آیت داعیانِ اسلام کے لیے ایک بنیادی رہنما اصول بیان کرتی ہے کہ وہ نیپال کی مختلف زبانوں کے ساتھ نیپالی زبان میں بھی بات کریں،
تاکہ دعوت عام فہم ہو، دلوں تک پہنچے، اور غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔
دستورِ نیپال نے بھی مضمون ۳۱(۵) میں زبان کے حق کو تسلیم کیا ہے: “नेपालमा बसोबास गर्ने प्रत्येक नेपाली समुदायलाई कानून बमोजिम आफ्नो मातृभाषामा शिक्षा पाउने ... हक हुनेछ।”
ترجمہ: "ہر شہری کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے اور تعلیمی ادارے قائم کرنے کا حق حاصل ہوگا۔"
لہٰذا دعوتِ اسلام کے لیے مختلف مقامی زبانوں کے ساتھ نیپالی زبان میں دینی مواد تیار کرنا اور تعلیم و تربیت کے مواقع فراہم کرنا نہ صرف شرعاً مطلوب ہے بلکہ قانوناً بھی درست اور مفید ہے۔

*۵. دعوت کا ادب و اخلاق: امن، علم اور خیرخواہی کا امتزاج*
دعوت کے لیے سب سے مؤثر زبان اخلاق اور خدمت کی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ} (الأنعام: ۱۰۸)
ترجمہ: "ان کو گالی نہ دو جنہیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔"
یہ آیت داعی کو عدل، احترام اور حلم کی تربیت دیتی ہے۔
دعوت وہاں کامیاب ہوتی ہے جہاں لوگ محبت، خدمت اور حسنِ عمل سے اسلام کا چہرہ دیکھیں۔
نبی ﷺ نے فرمایا: "إن الرفق لا يكون في شيء إلا زانه."
(صحیح مسلم، حدیث: 2594)
ترجمہ: “نرمی جس چیز میں ہو، اسے زینت بخش دیتی ہے۔”
نبی ﷺ کی سیرت گواہ ہے کہ نرم کلام اور خدمت کے رویّے نے دلوں کو فتح کیا، اور یہی آج بھی دعوت کی کامیابی کی کنجی ہے۔

*نتیجہ: دعوتِ اسلام: قانون کے احترام کے ساتھ خیر کی طرف پکار*
نیپال میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے رہنمائی یہ ہے کہ وہ:
دعوت کو اپنا اصل فریضہ سمجھیں اور اسے قانونی، پُرامن، اور علمی بنیادوں پر انجام دیں۔
زبان و ثقافت کو ذریعہ بنائیں، رکاوٹ نہیں۔
اور معاشرے میں رحمت، صدق، اور خدمت کے ذریعے اسلام کا تعارف کرائیں۔
یوں دعوتِ اسلام نہ صرف دین کی خدمت ہوگی بلکہ دستورِ نیپال میں درج عدل، آزادی اور باہمی احترام کے اصولوں کی عملی تفسیر بھی بنے گی۔

(رحمت اللہ آل سراج)

05/11/2025

मुसलमानहरूको राजनीतिः एकता, दूरदर्शिता र वास्तविक सोच

(सम्पादकीय साप्ताहिक "नयॉं उपदेश" जनकपुर, नेपाल, 06-11-2025)

दक्षिण एशियाको क्षेत्रभित्र मुसलमानहरू एक महत्वपूर्ण अल्पसंख्यक समुदाय हुन्। नेपालमा तिनीहरूको जनसंख्या करिब ५ देखि ६ प्रतिशत छ, भने हाम्रो छिमेकी देश भारतमा करिब १४ प्रतिशत मुसलमानहरू छन्। भारतका केही राज्यहरूमा — जस्तै बिहारमा — मुसलमानहरूको संख्या सत्र प्रतिशतसम्म पुगेकी छ।
यो अनुपातले यो कुराको स्मरण गराउँछ कि यदि मुसलमानहरूले आफ्नी सामूहिक बुद्धिमत्ता र राजनीतिक सूझबूझ प्रयोग गरे भने, उनीहरूले आफ्ना हकमा सकारात्मक र प्रभावकारी राजनीतिक प्रभाव सिर्जना गर्न सक्छन्।
तर दुर्भाग्यवश, कहिलेकाहीँ भावनामा आएर मुसलमानहरूले आफ्नै नाममा अलग राजनीतिक दलहरू बनाउँछन्। देख्दा यो प्रतिनिधित्वको बाटो जस्तो लाग्छ, तर वस्तुतः यसको हानि बढी हुन्छ।
जब मुसलमानको भोट साना–साना पार्टीहरूमा विभाजित हुन्छ, तब उनीहरूको शक्ति हराउँछ। परिणामस्वरूप ती पार्टीहरू सफल हुन्छन् जुन मुसलमानहरूको संवैधानिक र सामाजिक अधिकारको विरोध गर्छन् र समाजमा साम्प्रदायिकता फैलाउँछन्।
कहिलेकाहीँ भावनात्मक मानिसहरू यो पनि तर्क गर्छन् कि यदि कुनै राज्यमा मुसलमानहरूको जनसंख्या यादव वा अरू कुनै जातभन्दा बढी छ — जस्तै बिहारमा मुसलमान १७% र यादव १४% छन् — भने मुख्यमन्त्री यदि यादव बन्न सक्छ भने मुसलमान किन हुइन?
यो सोच अंकको हिसाबले ठीक लागे पनि वास्तविकता फरक छ।
ध्यान दिनु आवश्यक छ कि “यादव” एउटा जाति हो, तर धर्मका हिसाबले उनीहरू हिन्दू बहुमतकै हिस्सा हुन्।
जब कुनै यादव उम्मेदवारलाई अघि सारिन्छ, तब उसको समर्थनमा केवल यादव मतदाताहरू मात्र होइन, अन्य हिन्दू समुदाय पनि धार्मिक र सामाजिक नाताका आधारमा एकजुट हुन्छन्।
यसरी १४% जातका उम्मेदवारले व्यवहारमा ५०–६०% मत समर्थन पाउँछन्।
तर मुसलमानहरू, यद्यपि १७% भए पनि, धार्मिक दृष्टिले अल्पसंख्यक हुन्, र प्रायः आन्तरिक मतभेद र बाह्य दबाबका कारण एकतामा रहन सक्दैनन्।
यसैले जनसंख्यात्मक बहुमत राजनीतिक शक्ति बन्न सक्दैन।
त्यसैले मुसलमानहरूले केवल जनसंख्या वा भावनाका आधारमा राजनीतिक नेतृत्त्वका सपना देख्नु हुँदैन।
सफल राजनीति जनसंख्याको अनुपातले होइन, एकता, संगठन, सूझबूझ र विश्वासले प्राप्त हुन्छ।
नेपाल होस् वा भारत, मुसलमानहरूको लागि सबैभन्दा उपयुक्त बाटो यो हो कि उनीहरूले अलग धार्मिक नामका पार्टीहरू बनाउनुभन्दा
न्याय, समानता र संविधानिक सिद्धान्तमा आधारित धर्मनिरपेक्ष र निष्पक्ष दलहरूसँग सहकार्य गर्नु पर्छ।
यसरी सहकार्य गर्दा मुसलमानहरूको भोट अर्थपूर्ण बन्छ, र देशको लोकतन्त्र तथा सामाजिक सद्भाव पनि मजबुत हुन्छ।
कुरआनले हामीलाई न्याय, परामर्श र एकताको शिक्षा दिन्छ।
त्यही आधारमा मुसलमानहरूको राजनीतिक रणनीति पनि मिल्लतको एकता, सामूहिक हित र राष्ट्रिय भलाइमा आधारित हुनुपर्छ।
यदि मुसलमानहरूले भावना होइन, बुद्धिमत्ता र दूरदर्शिताबाट निर्णय गरे भने, उनीहरू आफ्ना अधिकारका उत्तम संरक्षक बन्न सक्छन् र नेपाल र भारत दुबैमा
शान्तिपूर्ण, विकसित र न्यायपूर्ण समाज निर्माणमा अग्रणी भूमिका खेल्न सक्छन्।

(रह्मतुल्लाह आले सिराज)

#जनकपुर #चुनाव #भारत #बिहार #नयॉं_उपदेश
#रह्मतुल्लाह #आले_सिराज

05/11/2025

मुसलमानों की राजनीति का सही रास्ता: एकता, दूरदर्शिता और यथार्थवाद

(सम्पादकीय साप्ताहिक "जनता की आवाज़" जनकपुर, नेपाल, 06-11-2025)

दक्षिण एशिया के क्षेत्र में मुसलमान एक महत्वपूर्ण अल्पसंख्यक समुदाय हैं। नेपाल में उनकी आबादी लगभग पाँच से छह प्रतिशत है, जबकि हमारे पड़ोसी देश भारत में लगभग चौदह प्रतिशत मुसलमान रहते हैं। भारत के कुछ राज्यों — जैसे बिहार — में मुसलमानों की संख्या सत्रह प्रतिशत तक पहुँचती है।
यह अनुपात हमें यह याद दिलाता है कि यदि मुसलमान सामूहिक समझ-बूझ और राजनीतिक दूरदर्शिता से काम लें, तो वे अपने अधिकारों के लिए एक सकारात्मक और प्रभावशाली राजनीतिक शक्ति बन सकते हैं।
लेकिन अफसोस की बात है कि कभी-कभी भावनाओं में आकर मुसलमान अपने नाम से अलग राजनीतिक पार्टियाँ बना लेते हैं। देखने में यह प्रतिनिधित्व का रास्ता लगता है, लेकिन असल में इसका नुकसान अधिक होता है। जब मुसलमानों का वोट कई छोटी पार्टियों में बँट जाता है, तो उनकी राजनीतिक ताकत कमज़ोर पड़ जाती है। नतीजतन, वे पार्टियाँ सफल हो जाती हैं जो मुसलमानों के संवैधानिक और सामाजिक अधिकारों का विरोध करती हैं और समाज में सांप्रदायिकता को बढ़ावा देती हैं।
कई बार कुछ भावनात्मक लोग यह दलील देते हैं कि अगर किसी राज्य में मुसलमानों की जनसंख्या यादव या किसी अन्य जाति से ज़्यादा है — जैसे बिहार में मुसलमान 17% और यादव 14% हैं — तो मुख्यमंत्री यादव ही क्यों, मुसलमान क्यों न हो?
यह सोच देखने में संख्यात्मक न्याय पर आधारित लगती है, लेकिन हकीकत इसके उलट है।
याद रखना चाहिए कि “यादव” एक जाति है, लेकिन धर्म के लिहाज़ से वे हिन्दू बहुसंख्यक समुदाय का हिस्सा हैं।
जब किसी यादव उम्मीदवार को आगे बढ़ाया जाता है, तो उसके साथ सिर्फ़ यादव वोटर ही नहीं बल्कि अन्य हिन्दू समुदाय भी धार्मिक और सामाजिक नातों के आधार पर एकजुट हो जाते हैं।
इस तरह 14% जाति का उम्मीदवार व्यवहार में 50 या 60 प्रतिशत वोट बैंक का समर्थन पा लेता है।
वहीं मुसलमान, भले ही 17% हों, लेकिन वे धार्मिक रूप से अल्पसंख्यक हैं और अक्सर बाहरी दबावों तथा आपसी मतभेदों के कारण एकजुट नहीं रह पाते।
इस तरह उनकी संख्यात्मक बढ़त राजनीतिक शक्ति में तब्दील नहीं हो पाती।
इसलिए ज़रूरी है कि मुसलमान केवल जनसंख्या या भावनाओं के आधार पर राजनीतिक नेतृत्व के सपने न देखें, बल्कि हकीकत और समझदारी के साथ अपनी राह तय करें।
राजनीतिक सफलता जनसंख्या के अनुपात से नहीं, बल्कि एकता, संगठन, दूरदर्शिता और आत्मविश्वास से मिलती है।
नेपाल हो या भारत, मुसलमानों के लिए सबसे सही रास्ता यह है कि वे अलग धार्मिक नाम वाली पार्टियाँ बनाने के बजाय
ऐसी धर्मनिरपेक्ष, न्यायप्रिय और संवैधानिक मूल्यों पर आधारित पार्टियों के साथ सहयोग करें,
जो देश में न्याय, समानता और राष्ट्रीय एकता की पक्षधर हों।
ऐसा सहयोग न सिर्फ मुसलमानों के वोट को सार्थक बनाता है, बल्कि देश की लोकतांत्रिक व्यवस्था और सामाजिक सौहार्द को भी मज़बूत करता है।
क़ुरआन मजीद हमें न्याय, परामर्श और एकता की शिक्षा देता है।
इसी आधार पर मुसलमानों की राजनीतिक नीति भी सामूहिक भलाई, राष्ट्रीय हित और एकजुटता पर आधारित होनी चाहिए।
यदि मुसलमान भावनाओं के बजाय बुद्धिमत्ता और दूरदर्शिता से फैसले लें,
तो वे न केवल अपने अधिकारों के सच्चे रक्षक बन सकते हैं, बल्कि नेपाल और भारत दोनों में
एक शांतिपूर्ण, विकसित और न्यायपूर्ण समाज की स्थापना में प्रमुख भूमिका निभा सकते हैं।

(रहमतुल्लाह आले सिराज)

#जनता_की_आवाज़ #सम्पादकीय #जनकपुर #हिन्दी #बिहार #भारत
#चुनाव

Address

Central Office: Municipality Siraha_4 (Siraj Nagar, Ramaul) Siraha
Siraha

Telephone

+9779863874224

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Siraj Education and Welfare Society, Nepal جمعية السراج بنيبال posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share