Dr Syed Ahmer - Psychiatrist

Dr Syed Ahmer - Psychiatrist نفسیاتی بیماریوں اور ان کے علاج کے بارے میں مستند معلومات۔
Authentic iformation about mental illnesses and their treatments

Dr Syed Ahmer MRCPsych

2011 to date - Consultant Psychiatrist, MidCentral District - Te What Ora - Health New Zealand, Palmerston North, New Zealand

2014 to 2017 - Clinical Director, Mental health & Addictions Service, MidCentral District Health Board, Palmerston North, New Zealand

2006 to 2011 - Assitant Professor & Consultant Psychiatrist, Aga Khan University, Karachi, Pakistan

November 200

2 to November 2005 - Specialist Training in General Adult Psychiatry leading to Certificate of Completion of Training (CCT), UK

June 2002 - passed MRCPsych exam - Membership of Royal College of Psychiatrists, UK

October 1998 to June 2002 - Basic Training in psychiatry, UK

1994 to 1997 - Resident Medical Officer in Psychiatry, Aga Khan University, karachi, Pakistan

12/08/2026

ہر وقت کی تھکن کا کیسے مقابلہ کریں؟ - آٹھواں حصہ

۔ اپنی توانائی بہتر کرنے کے لیے اپنا ذہنی دباؤ (اسٹریس) کم کریں

جب انسان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو اس کے جسم میں کئی ایسے ہارمون اور کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں جو تھوڑے وقت کے لیے تو اسے کسی بڑی مشکل کا سامنا کرنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن اگر یہ ہارمون طویل عرصے کے لیے خارج ہوتے رہیں تو ان کی وجہ سے انسان شدید تھکن کا شکار ہونے لگتا ہے اور اسے ایسا لگتا ہے کہ اس کے ذہن اور بدن میں طاقت اور توانائی ہی نہیں ہے۔اس کی بھی بہت تفصیل پہلے آ چکی ہے اور اس ویب پیج پہ یہ مکمل تحریر "ہم سب اپنے ذہنی دباؤ کو خود کیسے کم کر سکتے ہیں"موجود ہے۔

https://sites.google.com/view/mentalhealthmadeeasy/اپنی-مدد-آپ-self-help .u3sti1ok3yi0

مختصراً یہ کہ اس کی عادت ڈالیں کہ روزانہ کچھ نہ کچھ ایسے مشاغل اختیار کریں جن سے آپ پر سکون ہوتے ہیں، مثلاً ورزش کرنا، یوگا کرنا، ایسی کتابیں پڑھنا جن کو پڑھنے میں آپ کو مزا آتا ہو، اچھے دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا، وغیرہ۔

بہت سی ایسی مشقیں ہیں مثلاً اپنے عضلات کو پرسکون کرنے کی مشقیں، سانس کی مشقیں، جن سے انسان اپنے آپ کو پر سکون کر سکتا ہے، اور ان کو سیکھنا کافی آسان ہوتا ہے۔ ان کی تفصیل بھی اسی صفحے پہ پہلے آ چکی ہے۔

کوئی بھی ایسا کام جس کے کرنے سے انسان کو سکون ملتا ہو، اس سے انسان کی توانائی بہتر ہوتی ہے۔

10/08/2026

ہر وقت کی تھکن کا کیسے مقابلہ کریں؟ - ساتواں حصہ

۴۔ اپنی نیند کا بہت خیال رکھیں

بہت سارے لوگ روزانہ اتنی دیر نہیں سوتے جتنا سونا ان کے لیے دن میں چاق و چوبند رہنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

ان عادتوں کو اپنانے سے انسان کی نیند بہتر ہوتی ہے:

ا۔ ہفتے میں ساتوں دن رات میں ایک ہی مخصوص وقت پہ بستر میں جانا، اور صبح ایک ہی وقت پہ بستر سے نکلنا

ب۔ دن میں سونے سے گریز کرنا۔ (یہ ہدایت ٹھنڈے ملکوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے زیادہ اہم ہے۔ گرم ملکوں میں رہنے میں رہنے والے بہت سے لوگ دن میں ایک آدھ گھنٹے کے لیے سوتے ہیں اور اس سے ان کی رات کی نیند پہ برا اثر نہیں پڑتا)

بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اگر انسان کو کسی رات کسی وجہ سے صحیح نیند آئے تو چونکہ اسے اگلے دن تھکن ہوتی ہے اس لیے وہ سوچتا ہے کہ اگلے دن دوپہر میں تھوڑی دیر کے لیے سو لوں تا کہ تھکن دور ہو جائے۔ لیکن اس سے ہوتا ہے کہ اگلی رات کی نیند بھی خراب ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر آپ کو روزانہ دن میں سونے کی عادت نہ ہو تو ایک آدھ رات نیند خراب ہونے کی وجہ سے دن میں نہ سوئیں، بلکہ اگلی رات کا انتظار کریں۔ اس سے آپ کی نیند کا معمول واپس نارمل ہونے میں مدد ملے گی۔

پ۔ رات کو سونے سے پہلے اپنے آپ کو پر سکون کرنے کے لیے کچھ مخصوص عادات اپنائیں جن سے آپ کے ذہن کو سوئچ آف ہونے میں مدد ملے مثلاً بتیاں بند کر دینا، دانت صاف کرنا، سونے کے کپڑے پہننا، کوئی ہلکی پھلکی کتاب پڑھنا، وغیرہ۔ یہ عادات ہر ایک کے لیے الگ ہوتی ہیں۔

08/08/2026

ہر وقت کی تھکن کا کیسے مقابلہ کریں؟ - چھٹا حصہ

ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ

بہت سے لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جی وزن کم یا زیادہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فلاں کو ہم نے دیکھا تھا کہ ا سکا وزن اتنا کم تھا اور وہ اتنی ورزش بھی کرتا تھا، پھر بھی اس کو دل کا دورہ پڑ گیا، اور فلاں تو اتنا موٹا ہے سب کچھ کھاتا ہے اور پھر بھی اتنی عمر تک زندہ ہے۔ اس اعتراض کی وجہ یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ خطرات پاپولیشن یعنی پوری قوم کے حساب سے ہوتے ہیں، کسی ایک فرد کے حساب سے نہیں۔ اس کو ایک مثال سے سمجھنا زیادہ آسان ہو گا وہ یہ کہ فرض کریں سو لوگوں کا باڈی ماس انڈیکس تیس ہے، اور سو اور لوگوں کا باڈی ماس انڈیکس اکیس ہے، تو اگر پہلے سو لوگوں میں سے ستر کو دل کا دورہ پچاس سال کی عمر میں ہونے کا خطرہ ہو گا، تو اکیس باڈی ماس انڈیکس والے سو لوگوں میں صرف پندرہ لوگوں کو اسی عمر میں دل کا دورہ ہونے کا امکان ہو گا۔

ریسرچ کہتی ہے کہ جو لوگ اپنا وزن دس فیصد تک بھی کم کر لیتے ہیں ان کو اپنی ذہنی اور جسمانی توانائی میں واضح اضافہ محسوس ہوتا ہے، ان کے لیے مزید ورزش کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے، اور مزید وزن کم کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔

صحت مند، یعنی زیادہ شکر اور چکنائی سے محفوظ، غذا کھانے کے علاوہ وزن کم کرنے، اور کم کیے ہوئے وزن کو دوبارہ بڑھنے سے روکنے، کا بہترین طریقہ جسمانی طور پہ زیادہ متحرک ہو جانا اور باقاعدگی سے ورزش کرناہے۔

06/08/2026

ہر وقت کی تھکن کا کیسے مقابلہ کریں؟ - پانچواں حصہ

ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ

۳۔ بدن کی توانائی بڑھانے کے لیے اپنا وزن کم کریں

یہ جاننے کے لیے کہ انسان کا وزن صحتمندانہ حد کے اندر ہے یا زیادہ ہے، ایک آسان طریقہ باڈی ماس انڈیکس (Body Mass Index) معلوم کرنا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اپنا وزن کلوگرام میں معلوم کریں۔ پھر اپنا قد میٹر (meters) میں ناپیں۔ باڈی ماس انڈیکس کا فارمولا یہ ہے۔

Weight in kilograms divided by height in meter squared

مثلاً ایک شخص کا وزن ستر کلو گرام ہے اور اس کا قد پانچ فٹ نو انچ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کا قد میٹرز میں ایک اعشاریہ سات دو میٹر ہے جس کا اسکوائر دو اعشاریہ نو سات میٹرز ہوا۔ اس لیے اس کا باڈی ماس انڈیکس ۲۳ اعشاریہ ۵۷ ہوا۔

ریسرچ کہتی ہے کہ باڈی ماس انڈیکس کی صحت مندانہ رینج ۲۰ سے ۲۵ تک ہے، یعنی اگر باڈی ماس انڈیکس بیس سے کم ہو یا پچیس سے زیادہ ہو تو بیماری کا خطرہ بڑھنے لگتا ہے۔ بعض ریسرچ یہ بھی کہتی ہے کہ ایشیائی ممالک کے لوگوں میں باڈی ماس انڈیکس کی صحت مندانہ اوپری حد تئیس ہے، یعنی اس سے زیادہ وزن ہونے سے بیماریوں کا خطرہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے ہماری غذاؤں میں چکنائی اور شکر کا استعمال عموماً زیادہ ہوتا ہے، اور ہمارے لوگوں میں باقاعدگی سے ورزش کرنے کا رجحان عموماً کم ہوتا ہے۔

04/08/2026

ہر وقت کی تھکن کا کیسے مقابلہ کریں؟ - چوتھا حصہ

ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ

جو لوگ بالکل بھی ورزش نہ کرتے ہوں ان کو ہم یہ کہتے ہیں کہ پہلا ٹارگیٹ یہ رکھیں کہ ہفتے میں صرف دو یا تین دن، دس سے پندرہ منٹ روزانہ کے لیے چلنا ہے۔ جب ایسا کرتے ہوئے کم از کم ڈیڑھ دو مہینے گزر جائیں، اور ایک بھی ہفتہ ایسا نہ گزرے کہ ٹارگیٹ پورا نہ ہوا ہو تو اب اس کو ذرا سا بڑھا کے یا تو ہفتے میں ایک دن بڑھا دیں، یا دن اتنے ہی رکھیں لیکن پانچ منٹ بڑھا دیں۔ حتمی ٹارگیٹ یہ ہونا چاہیے کہ بہت آہستہ آہستہ بڑھاتے بڑھاتے چاہے اس میں کئی مہینے لگیں، ہفتے میں کم از کم ڈیڑھ سو منٹ (ڈھائی گھنٹے) درمیانی شدت کی ورزش کرنے کی عادت ڈالیں۔ شدت کا پتہ تو دل دھڑکنے کی رفتار سے چلتا ہے جو اسمارٹ گھڑی سے بھی پتہ چل سکتا ہے اور اسمارٹ فون سے بھی۔ لیکن جن لوگوں کے پاس یہ دونوں نہ ہوں وہ اس سے اندازہ کر سکتے ہیں مثال کے طور پہ چلنے کی رفتار اتنی ہو کہ پسینہ آئے اور تھوڑا سا سانس پھولے۔ اب اس ڈیڑھ سو منٹ فی ہفتہ درمیانی درجے کی شدت کی ورزش کو ساری عمر جاری رکھیں جب تک زندگی اور صحت اجازت دے۔

02/08/2026

برومازیپام
(Bromazepam, Lexotanil, Lexilium, Bromalex, Sedonil, Sambro, etc.)

(ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ)

(ایک جملہٴ معترضہ: یہ تحریر عمومی آگہی بڑھانے کے لیے ہے، علاج کرنے کے لیے نہیں۔ علاج کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں)

برومازیپام کن بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کی جاتی ہے؟
- اینگزائٹی کے مختصر مدت کے علاج کے لئے

ان کے علاوہ ڈاکٹرز بعض اور علامات کے لئے بھی آپ کو برومازیپام تجویز کر سکتے ہیں۔

برومازیپام بنیزوڈایازیپین (Benzodiazepine) گروپ میں آتی ہے۔ اس گروپ کی دوائیں صرف مختصر مدّت کے لئے استعمال کی جانی چاہیئیں، مثلاً دو سے چار ہفتے کے لئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دوائیں اس مدّت سے زیادہ کے لئے روزانہ استعمال کی جائیں تو ان سے عادت پڑنے (addiction) کا ڈر ہوتا ہے۔ ان سے ذہنی طور پہ بھی عادت پڑ سکتی ہے اور جسمانی طور پہ بھی۔

یہ دوا ہرگز نہ لیں اگر
- آپ کو پہلے برومازیپام سے الرجی کا ری ایکشن ہو چکا ہو
- آپ کو طویل عرصے کی پھیپھڑوں کی شدید درجے کی بیماری ہو
- آپ کو جگر کی شدید درجے کی بیماری ہو
- رات کو سونے کے دوران وقتاً فوقتاً آپ کا سانس رک جاتا ہو
- آپ کو عضلات کی شدید کمزوری ہو

اپنے ڈاکٹر کو برومازیپام شروع کرنے سے پہلے بتا دیں اگر آپ کو کوئی بھی جسمانی یا ذہنی بیماری ہو، اور خصوصاً ان میں سے کوئی بیماری ہو؛
- جگر، گردوں یا پھیپھڑوں کی بیماری
- بلڈ پریشر کم یا زیادہ ہونے کی بیماری ہو
- ڈپریشن، سائیکوسس، شیزوفرینیا
- کالا موتیا
- مرگی کی بیماری
- نشہ آور چیزیں لینے کی بیماری

اگر آپ حاملہ ہوں یا اپنے شیر خوار بچے کو دودھ پلا رہی ہوں
- جو خواتین حاملہ ہوں انہیں برومازیپام نہیں استعمال کرنی چاہیے۔ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں کہ اس صورت میں آپ کے اور آپ کے بچے کے لئے دوا لینے کے فائدے اور نقصانات کیا ہو سکتے ہیں۔برومازیپام نال (placenta) کے ذریعے بچے کے جسم میں منتقل ہو جاتی ہے، اور اس کی وجہ سے نوزائیدہ بچے کو یہ علامات ہو سکتی ہیں؛ عضلات کا بہت زیادہ نرم ہونا، سانس لینے میں دشواری، بدن کے درجہٴ حرارت کا اچانک گر جانا۔
- جو مائیں حمل کے دوران باقاعدگی سے برومازیپام لیتی رہی ہوں ان کے بچوں میں پیدائش کے فوراً بعد دوا بند کرنے کی علامات (withdrawal symptoms) ہو سکتی ہیں۔
- برومازیپام ماں کے دودھ کے ذریعے بچے کے جسم میں منتقل ہو جاتی ہے، اور اس کی وجہ سے بچے میں کچھ اثرات ہو سکتے ہیں۔ جو مائیں بچوں کو دودھ پلا رہی ہوں انہیں برومازیپام نہیں استعمال کرنی چاہیے۔

اگر آپ اور دوائیاں لے رہے ہوں تو
اگر برومازیپام بعض مخصوص دواؤں کے ساتھ لی جائے تو دونوں دوائیں ساتھ لینے سے ری ایکشن ہوسکتا ہے ۔ اگر آپ کوئی بھی دوا لے رہے ہوں، اور خصوصاً مندرجہ ذیل دوائیوں میں سے کوئی بھی دوا لے رہے ہوں، تو برومازیپام شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتا دیں؛
- نیند لانے والی یا گھبراہٹ کم کرنے والی کوئی بھی دوا
- اینٹی ڈپریسنٹ دوائیں
- مرگی کے علاج کی دوائیں
- الرجی کے علاج کی بعض دوائیں مثلاً اینٹی ہسٹامین ادویات (antihistamines)
- درد کی بعض دوائیں مثلاً کوڈین یا مورفین
- عضلات کو ریلیکس کرنے والی دوائیں (muscle relaxants)
- سیمیٹیڈین (cimetidine)
- ڈائی سلفیرام (disulfiram)

ان دوائیوں کے علاوہ بعض اور دوائیوں سے بھی برومازیپام کے ساتھ ری ایکشن ہو سکتا ہے، اس لئے آپ کے ڈاکٹر کو ان تمام دوائیوں کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے جو آپ لے رہے ہوں

برومازیپام کس وقت اور کس ڈوز میں لینی چاہیے؟
یہ آپ کے ڈاکٹر آپ کو بتائیں گے کہ برومازیپام کس وقت، کتنے ڈوز میں، اور کتنے دن کے لئے لینی چاہیے۔

دوسری تمام بینزوڈایازیپین دوائیوں کی طرح برومازیپام کو بھی دو سے چار ہفتوں سے زیادہ کے لیے نہیں لینا چاہیے ورنہ عادت پڑنے یعنی ایڈکشن کا خطرہ ہوتا ہے۔

جب آپ برومازیپام لینا شروع کریں توگاڑی اور مشینری چلانے سے احتیاط کریں جب تک کہ آپ کو اندازہ نہ ہو جائے کہ آپ کو اس ے کتنی غنودگی ہوتی ہے اور آپ کی کارکردگی اور ری ایکشن ٹائم پہ کتنا اثر پڑتا ہے۔

اگر آپ برومازیپام طویل عرصے سے لے رہے ہوں تو اسے ہر گز اچانک بند نہ کریں کیونکہ اس سے مندرجہ ذیل مضر اثرات ہو سکتے ہیں؛
- شدید گھبراہٹ
- رعشہ
- نیند اڑ جانا
- ہوش و حواس صحیح نہ رہنا
- عضلات میں اکڑن
- ٹینشن، بے چینی، چڑچڑاپن
- پیٹ خراب ہو جانا، متلی سی محسوس ہونا
- پسینہ زیادہ آنا

بعض مریضوں کو برومازیپام اچانک بند کرنے پہ یہ شدید مضر اثرات ہوسکتے ہیں؛
- غیبی آوازیں آنے لگنا، غیر مرئی چیزیں نظر آنے لگنا
- مرگی کے دورے
- ہوش وحواس برقرار نہ رہنا، ہذیان کی سی کیفیت ہو جانا

جب اس طرح کے شدید مضر اثرات نظر آنے لگیں تو عام طور سے مریض کو ہسپتال میں داخلے اور علاج کی ضرورت پڑ جاتی ہے، اس لئے اگر آپ طویل عرصے سے برومازیپام لے رہے ہوں تو اسے کبھی بھی اچانک خود سے بند نہ کریں، بلکہ ڈاکٹر کے زیرِ نگرانی بہت آہستہ آہستہ بند کریں!

برومازیپام کے ممکنہ مضر اثرات (سائیڈ ایفیکٹس)
تمام دوائیوں کے کچھ نہ کچھ مضر اثرات ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثر مضر اثرات کم شدّت کے ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ کم یا ختم ہو جاتے ہیں۔ ان کی وجہ سے دوا بند کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن بعض مضر اثرات زیادہ شدید نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے فوراً دوا بند کرنا ضروری ہوتا ہے۔ دوا کےمعلوماتی کتابچے میں بے شمار مضر اثرات لکھے ہوئے ہوتے ہیں جو دنیا میں کبھی بھی کسی بھی مریض کو ہوئے ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کو ان میں سے بیشتر یا کوئی بھی مضر اثر نہ ہو۔

کم شدّت کے مضر اثرات (اپنے ڈاکٹر کو بتائیں اگر یہ آپ کے لئے تکلیف دہ ہوں)
- غنودگی، تھکن
- چکر آنا،
- یادداشت کمزور ہو جانا، توجہ برقرار رکھنے میں مشکل ہونا، ہوش و حواس مکمل برقرار نہ رہنا
- الفاظ منہ سے واضح نہ نکلنا
- ڈراؤنے خواب آنا

شدید مضر اثرات (اگر یہ نمودار ہوں تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں یا ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ جائیں)
- دھندلا نظر آنے لگنا
- جلد پہ ریش پڑ جانا
- رعشہ
- بھوک اڑ جانا، منہ میں خشکی محسوس ہونا
- بولنے میں زبان کا لڑکھڑانا
- ہوش و حواس خراب ہو نے لگنا، ارد گرد کا مکمل ادراک نہ رہنا
- اچانک شدید گھبراہٹ یا بے چینی
- غیبی آوازیں آنے لگنا، غیر مرئی چیزیں نظر آنے لگنا
- ڈراؤنے خواب آنا
- سانس لینے میں تکلیف یا دشواری ہونے لگنا
- دل کی دھڑکن بہت تیز اور بے قاعدہ ہو جانا، دل کا رک جانا
- شدید الرجی کا ری ایکشن: جس میں سانس لینے میں مشکل ہو سکتی ہے، چہرے، ہونٹوں، زبان، گلے یاجسم کے دوسرے حصوں کی سوجن ہو سکتی ہے جس سے سانس لینے میں نگلنے میں مشکل ہو سکتی ہے، یا جلد میں الرجی کی علامات نمودار ہو سکتی ہیں۔

ان کے علاوہ بھی کچھ مضر اثرات ہوسکتے ہیں ا سلئے بہتر ہوتا ہے کہ اگر آپ کو دوا شروع کرنے کے بعد کچھ نئی تکلیف دہ علامات شروع ہوں تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں۔

اینگزائٹی کی کسی بھی دوا کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیراچانک ہرگز بند نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا خطرناک ہو سکتا ہے!

31/07/2026

ہر وقت کی تھکن کا کیسے مقابلہ کریں؟ - تیسرا حصہ

ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ

۲۔ باقاعدگی سے ورزش کرنے کی عادت ڈالیں۔

ہمارے پاس بہت سے مریض آتے ہیں جو آ کر کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب! مجھے ہر وقت بہت کمزوری رہتی ہے۔ اگر ان کا بنیادی جسمانی چیک اپ نارمل ہو، مثلاً ہیموگلوبن کی کمی یا تھائی روائڈ کی بیماری نہ ہو، تو ہم انہیں یہ کہتے ہیں کہ طویل عرصے کی کمزوری کا بہترین اور سب سے آزمودہ علاج باقاعدگی سے ورزش کرنا ہے۔ ان کا پہلا ردِّ عمل یہ ہوتا کہ ڈاکٹر صاحب! آپ کیسی بات کر رہے ہیں؟ ہم سے تو روز مرہ کے ضروری کام بھی نہیں ہوتے، اور آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روز ورزش کیا کرو۔ ہم انہیں یہ سمجھاتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کل سے جم جانا شروع کر دیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ورزش کو بہت معمولی سطح سے شروع کریں اور پھر بہت بہت آہستہ بڑھائیں کیونکہ طویل عرصے کی کمزوری کا اور اپنی ذہنی اور جسمانی توانائی بڑھانے کا اس سے بہتر کوئی اور طریقہ آج تک دریافت نہیں ہوا۔ ریسرچ یہ کہتی ہے کہ جو لوگ صرف پندرہ منٹ کی واک بھی کریں اس سے ان کی جسمانی اور ذہنی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے، اور وہ جتنی زیادہ دفعہ ورزش کریں گے اتنا ہی ان کی توانائی اور بڑھتی جائے گی۔

29/07/2026

ہر وقت کی تھکن کا کیسے مقابلہ کریں؟ - دوسرا حصہ

ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ

۱۔ متناسب غذا کھائیں

پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ انسان دن میں صرف تین دفعہ پیٹ بھر کے کھانا کھائے، اور درمیان میں کچھ نہ کھائے۔ اب کہا جاتا ہے کہاپنے جسم و دماغ کی توانائی برقرار رکھنے کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ انسان بہت زیادہ مقدار میں کھانا ایک ساتھ نہ کھائے، بلکہ باقاعدگی سے جس وقت اسے زیادہ بھوک لگتی ہو، مثلاً ناشتہ، ہلکا پھلکا لنچ اور رات کا کھانا مناسب مقدار میں کھائے، اور درمیان میں ہر تین سے چار گھنٹے پہ کوئی صحتمند اسنیک یعنی ہلکی پھلکی غذا کھائے۔ صحتمند اسنیک سے مراد یہ ہے کہ کوئی پھل وغیرہ کھائے ، لیکن کوئی ایسا چیز نہ کھائے جس میں بہت زیادہ چکنائی یا شکر ہو۔

دن میں دو تین دفعہ بہت زیادہ کھانے کے بجائے ہر تھوڑی دیر پہ تھوڑا تھوڑا کھانے کی وجہ یہ ہے کہ انسان جب بہت دیر تک بھوکا رہتا ہے تو اس کے خون میں گلوکوز یعنی شکر کم ہونے لگتا ہے، اس لیے اس کی توجہ گرنے لگتی ہے اور وہ تھکا تھکا محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس جب وہ تھوڑا تھوڑا کھاتا رہتا ہے تو اس کے خون میں گلوکوز کی مقدار ایک سطح پہ رہتی ہے۔ اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ جب انسان بہت زیادہ بھوکا ہونے کے بعد کھانا کھائے تو عموماً وہ بہت زیادہ مقدار میں کھانا کھاتا ہے۔ اس سے وزن بڑھنے کا زیادہ خدشہ ہوتا ہے۔

27/07/2026

ہر وقت کی تھکن کا کیسے مقابلہ کریں؟ - ۱

ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ

بعض لوگوں کو ہر وقت تھکن سی محسوس ہوتی ہے۔ وہ چاہیں آرام بھی کر لیں، سو بھی لیں، لیکن اس کے باوجود ان کا جسم اور ذہن تھکتے ہوئے ہی رہتے ہیں اور تازہ دم نہیں ہوتے۔ ان کو ایسا لگتا ہے کہ بدن میں طاقت و توانائی ہی نہیں ہے۔

جن لوگوں کو ہر وقت ہی تھکن رہتی ہے اس کی عام وجوہات ہیں ذہنی دباؤ کا شکا رہنا، نیند پوری نہ ہونا، متناسب غذا نہ کھانا، اور زندگی گزارنے کے معمول میں بے اعتدالیاں ہونا۔

بعض لوگوں کو بہت شدید درجے کی تھکن رہتی ہے اور ان کو ایسا لگتا ہے کہ ان کے جسم اور ذہن میں بالکل طاقت ہی نہیں ہے۔ یہ تھکن آرام اور نیند سے بھی دور یا کم نہیں ہوتی۔ معمولی سا ذہنی کام یا جسمانی حرکات کر کے انسان اتنی شدید تھکن کا شکار ہو جاتا ہے کہ گھنٹوں یا دنوں کے لیے بالکل بستر پہ پڑ جاتا ہے۔ اس بے انتہا شدید تھکن کو فٹیگ (fatigue) کہتے ہیں۔ اتنی شدید تھکن جسمانی بیماریوں کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے اس لیے بہتر ہو گا کہ ایک دفعہ اپنے ڈاکٹر کو دکھا لیں۔

طویل عرصے کی تھکن کو کم کرنے اور اپنے جسم و ذہن کی طاقت و توانائی کو بڑھانے کے کچھ طریقے یہ ہیں:

26/07/2026

ایمی ٹرپٹیلین
(Amitriptyline, Tryptanol)

(ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ)

(ایک جملہٴ معترضہ: یہ تحریر عمومی آگہی بڑھانے کے لیے ہے، علاج کرنے کے لیے نہیں۔ علاج کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں)

ایمیٹرپٹیلین کن بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کی جاتی ہے؟
- ڈپریشن
- جن بچوں کو تھوڑے بڑے ہونے کے بعد بھی رات کو کپڑوں میں پیشاب نکل جانے کی شکایت ہو ایمی ٹرپٹیلین ان کے علاج کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے۔

ان کے علاوہ ڈاکٹرز بعض اور علامات کے لئے بھی آپ کو ایمی ٹرپٹیلین تجویز کر سکتے ہیں۔

ان صورتوں میں ایمی ٹرپٹیلین ہرگز نہ لیں
- اگر آپ کو ایمی ٹرپٹیلین سے پہلے الرجی ہو چکی ہو۔
- اگر آپ کوئی ایم اے او آئی اینٹی ڈپریسنٹ لے رہے ہوں۔
- اگر آپ کو حال میں دل کا دورہ پڑا ہو۔
- اگر آپ سیساپرائڈ لے رہے ہوں کیونکہ ان دونوں دوائیوں کو ایک ساتھ لینے سے دل کی دھڑکن بے قائدہ ہو سکتی ہے۔ (Cisapride)

اگر آپ کو ان بیماریوں میں سے کوئی بھی بیماری ہو تو ایمی ٹرپٹیلین لینے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے چیک کر لیں
- دل کی بیماری بشمول دل کی دھڑکن کا بے قاعدہ ہو جانا
- رگوں کی بیماری
- آنکھوں میں پریشر کا بڑھا ہوا ہونا (glaucoma)
- پیشاب کرنے میں مشکل ہونا
- مرگی کی بیماری
- جگر کی یا گردوں کی کی بیماری
- تھائی رائڈ گلینڈ کی بیماری
- طویل عرصے سے قبض کا ہونا
- پارکنسن کی بیماری

اگر آپ کو ان بیماریوں کے علاوہ بھی کوئی اور شدید جسمانی یا ذہنی بیماری ہو تو اپنے ڈاکٹر کو ایمی ٹرپٹیلین شروع کرنے سے پہلے بتا دیں

زچگی اور بچے کو دودھ پلانا
- اگر آپ حاملہ ہوں اور ڈاکٹر آپ کو کوئی اینٹی ڈپریسنٹ شروع کرنا چاہیں، یا آپ ایمی ٹرپٹیلین یا کوئی بھی اور اینٹی ڈپریسنٹ لے رہی ہوں اور لینے کے دوران حمل شروع ہو جائے ، تو اپنے ڈاکٹر کو ضرور فوراً بتا دیں کیونکہ زچگی میں ایمی ٹرپٹیلین لینے سے بچے کو پیدائش کے فوراً بعد کچھ مضر اثرات ہو سکتے ہیں ۔ وہ آپ سے تفصیل سے ڈسکس کریں گے کہ ان صورتوں میں دوا لینے کے فائدے کیا ہیں اور ممکنہ نقصانات کیا ہیں، یا دوا کو بدلنے کے امکانات کیا ہیں، تا کہ آپ فیصلہ کر سکیں کہ آپ دوا لینا چاہتی ہیں یا نہیں۔
- اگر آپ اپنے شیر خوار بچے کو دودھ پلا رہی ہوں تو ایمی ٹرپٹیلین نہ لیں کیونکہ یہ یہ ماں کے دودھ کے ذریعے بچے میں منتقل ہو جاتی ہے اور اس سے بچے کو مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔

اگر آپ اور دوائیاں لے رہے ہوں تو
اگر ایمی ٹرپٹیلین بعض اور دواؤں کے ساتھ لی جائے تو دونوں دوائیں ساتھ لینے سے ری ایکشن ہوسکتا ہے۔اس لئے اگر ڈاکٹر آپ کو ایمی ٹرپٹیلین شروع کرے تو اسے ہمیشہ یہ بتا دیں کہ آپ کون کون سی دوائیں لے رہے ہیں، تا کہ وہ چیک کر سکیں کہ ان دوائیوں کو ایمیٹرپٹیلین کے ساتھ لینے سے کوئی ری ایکشن تو نہیں ہو گا۔ اسی طرح اگر آپ ڈاکٹر کو کسی اور مرض کے لئے دکھائیں اور وہ کوئی نئی دوا تجویز کرنا چاہیں، تو انہیں پہلے سے بتا دیں کہ آپ ایمی ٹرپٹیلین لے رہے ہیں۔
خاص طور سے اگر آپ ان میں سے کوئی بھی دوائی لے رہے ہوں تو ایمی ٹرپٹیلین شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتا دیں؛
- بلڈ پریشر زیادہ ہونے کی بیماری یا دل کی بیماری کی دوائیاں
- نیند لانے والی دوائیاں
- ڈپریشن کے علاج کی دوسری دوائیاں جس میں ایس ایس آر آئی اور ایس این آر آئی اینٹی ڈپریسنٹس شامل ہیں، مثلاً فلوآکسیٹین، پاروکسیٹین، سرٹرالین، وینلافیکسین، وغیرہ۔
- مرگی کی بیماری کی دوائیاں
- اینٹی کولینرجک دوائیاں (پیٹ کی تکلیف کو کم کرنے والی دوائیاں)
- تھائی رائڈ کے علاج کی دوائیاں
- سیمیٹیڈین (معدے کے السر کے علاج کی دوائی)
- پارکنسن کی بیماری کی دوائیاں

ان دوائیوں کے علاوہ بعض اور دوائیوں سے بھی ایمی ٹرپٹیلین کے ساتھ لینے سے ری ایکشن ہو سکتا ہے ا سلئے آپ کے ڈاکٹر کو ان تمام دوائیوں کا علم ہونا چاہیے جوآپ لے رہے ہیں، چاہے وہ کسی بھی بیماری کی ہوں۔

ایمی ٹرپٹیلین کب اور کس ڈوز میں لی جانی چاہیے
- ایمی ٹرپٹیلین دن میں ۲ سے۳ دفعہ بھی لی جا سکتی ہے، اور رات میں ایک دفعہ بھی، جیسے آپ کا ڈاکٹر ہدایت کرے۔
- ایمی ٹریپٹیلین کو کم ڈوز سے شروع کیا جاتا ہے کیونکہ اگر اس کو شروع سے تھیراپیوٹک یعنی موثر ڈوز میں لیا جائے تو اس سے شدید مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔ پھر اس کو آہستہ آہستہ بڑھایا جاتا ہے۔ آپ کے ڈاکٹر آپ کو بتائیں گے کہ اس کو کس ڈوز میں شروع کریں اور کس طرح بڑھائیں۔

ایمی ٹرپٹیلین کا فائدہ کتنے دنوں کے بعد شروع ہوتا ہے؟
- ڈپریشن میں دوا کا فائدہ شروع ہونے میں ایک سے دو ہفتے لگ سکتے ہیں، اور واضح فائدہ نظر آنے میں دو سے چار ہفتے لگ سکتے ہیں۔ جس شخص کو ڈپریشن کا اٹیک پہلی دفعہ ہوا ہو، اسے بالکل ٹھیک ہو جانے کے بعد بھی دوا کم از کم چھ سے نو مہینے تک جاری رکھنی پڑتی ہے، ورنہ ڈپریشن کے واپس آنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کو ڈپریشن کا اٹیک ایک سے زیادہ دفعہ ہو چکا ہو تو آپ کا ڈاکٹر آپ کو بتائے گا کہ آپ کو ڈپریشن کی دوا کتنے عرصے جاری رکھنی چاہیے۔

ایمی ٹرپٹیلین کے مضر اثرات (سائیڈ ایفیکٹس)
تمام دوائیوں کے کچھ نہ کچھ مضر اثرات ہوتے ہیں۔ دوا شروع کرنے کے فوراً بعد عموماً اینٹی ڈپریسنٹ دوائیوں کے مضر اثرات زیادہ نظر آتے ہیں، اور دوا کا فائدہ کم نظر آتا ہے۔ لیکن انسان باقاعدگی سے دوا لیتا رہے تو دو تین ہفتوں کے بعد عام طور سے مضر اثرات کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور فائدہ بڑھنے لگتا ہے۔

بعض مضر اثرات کم شدّت کے ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ کم یا ختم ہو جاتے ہیں۔ ان کی وجہ سے دوا بند کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن بعض مضر اثرات زیادہ سنجیدہ نوعیت کے ہوتے ہیں، مثلاً الرجک ری ایکشن ہو جانا، اور ان کی وجہ سے فوراً دوا بند کرنا ضروری ہوتا ہے۔

دوا کےمعلوماتی کتابچے میں بے شمار مضر اثرات لکھے ہوئے ہوتے ہیں جو دنیا میں کبھی بھی کسی بھی مریض کو ہوئے ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کو ان میں سے بیشتر اثرات یا کوئی بھی مضر اثر نہ ہو۔

کم شدّت کے مضر اثرات (اپنے ڈاکٹر کو بتائیں اگر یہ آپ کے لئے تکلیف دہ ہوں)
- منہ کی خشکی
- متلی محسوس ہونا، الٹی ہو جانا
- پیچش، قبض
- دھندلا نظر آنا
- غنودگی، چکر آنا، تھکن، محسوس ہونا، سر درد
- لیٹے یا بیٹھے سے اچانک کھڑے ہونے کی صورت میں چکر محسوس ہونا
- پیشاب کرنے میں مشکل ہونا
- آنکھوں میں خشکی محسوس ہونا
- پسینہ زیادہ آنا، ایسے لگنا کہ جیسے بہت گرمی لگ رہی ہو
- بھوک اور وزن کا بڑھنا
- بعض لوگوں میں بھوک اور وزن کم ہو جانا
- نیند کا خراب ہوجانا، ڈراؤنے خواب آنا
- جنسی خواہش کم ہو جانا یا آرگیزم ہونے میں مشکل ہونا
- مردوں میں فارغ ہونے میں دیر ہونا یا فارغ ہی نہ ہو پانا

شدید مضر اثرات (اگر یہ نمودار ہوں تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں)
- دل کی دھڑکن بہت تیز یا بے قاعدہ ہو جانا
- ہاتھوں پیروں میں چبھن سی محسوس ہونا یا ان کا سن ہو جانا
- بدن کے اعضا میں غیر ارادی حرکات شروع ہو جانا
- پیشاب کرنے میں رکاوٹ پیدا ہونا
- بار بار انفیکشن ہونے کی علامات ہونا مثلاً بخار، گلا خراب ہونا، سردی لگنا، تھکن اور کمزوری محسوس ہونا، منہ میں چھالے ہو جانا
- جلد کا یا آنکھوں کا پیلا ہو جانا
- بلاوجہ یا ذرا سی چوٹ پہ خون بہنے لگنا یا نیل پڑ جانا
- مینیاکی علامات شروع ہو جانا مثلاً بلا وجہ بے انتہا خوش رہنے لگنا، بدن میں نارمل سے بہت زیادہ طاقت توانائی محسوس ہونا، نیند اڑ جانا، بہت زیادہ بولنے لگنا، اپنے بارے میں بڑے بڑے خیالات آنا، وغیرہ
- ہوش و حواس قائم نہ رہنا، غیبی آوازیں آنے لگنا، غیر مرئی چیزیں نظر آنے لگنا

اگر یہ علامات نمودار ہوں تو فوراً اپنے ڈاکٹر کو دکھائیں یا ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ جائیں
- شدید الرجی کا ری ایکشن: جس میں سانس لینے میں مشکل ہو سکتی ہے، چہرے، ہونٹوں، زبان یاجسم کے دوسرے حصوں کی سوجن ہو سکتی ہے، یا جلد میں الرجی کی علامات نمودار ہو سکتی ہیں۔
- بے ہوش ہو جانا، گر جانا
- سینے میں درد
- مرگی کا دورہ

ان کے علاوہ بھی کچھ مضر اثرات ہوسکتے ہیں ا سلئے بہتر ہوتا ہے کہ اگر آپ کو دوا شروع کرنے کے بعد کچھ نئی تکلیف دہ علامات شروع ہوں تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں۔

Address

Palmerston North

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Syed Ahmer - Psychiatrist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Featured

Share

Category