01/09/2024
افسانہ:
قیدی سردار (اسیر)
ڈاکٹر حامد حسن
وہ لمحہ قاتل تھا جس نے ایک ساتھ دو خون کر کے مجھے اپنا اسیر بنا لیا۔ لیکن بات اسی پل کی کہاں تھی، بہت پہلے کی تھی۔ شاید کئی ماہ پہلے یا کئی سال پرانی۔ اب تو اس کا احساس ہی نہیں رہا تھا۔
بڑے سر کا حامل میں عام بچہ نہیں تھا۔ اماں کے بقول پیدائش کے وقت میں بالکل ٹھیک تھا۔ مگر چھے ماہ میں ہی میرا سر پھیلنے لگا تو عورتوں نے اماں کو ڈرانا اور ہَولانا شروع کر دیا۔
”سر بڑا ہو گیا تو جِن آنے لگیں گے۔۔۔“
”جنات اسے اٹھا لے جائیں گے۔۔“
”پانی پڑ جائے گا سر میں اگر اسی طرح بڑھتا رہا۔۔“
”سر پر دھاگا بندھواؤ۔۔۔“ کسی نے کہا اور اماں مجھے لے کر دھاگا بندھوانے نہر پار چل دی۔ پیر سائیں نے دھاگے کے نام پر کھجور کا بُنا ہوا چارپائی والا بان سر پر لپیٹ دیا کہ ”اسے مت کھولنا ورنہ سر بڑھتا بڑھتا جنات کا گھر بن جائے گا۔“
دو دن تک میں تنکوں کی چبھن برداشت کرتا اور روتا رہا۔ تیسرے دن اماں نے میکے کے لیے رختِ سفر باندھا اور گھر سے نکلتے ہی میرے سر کو جنات کے محافظ ’دھاگے‘ سے آزاد کر دیا۔
ایک ماہ تک سر کی بڑھوتری معمولی رہی تو سکھ کا سانس لیا۔ لیکن میرا سر معمول جیسا نہیں تھا بلکہ اس عمر کے دوسرے بچوں سے کچھ بڑا تھا۔ لہٰذا میرا نام ’دارا‘ سے سردار کر دیا گیا اور پھر یہ سردار واقعی بڑے سر والا بنتا چلا گیا۔
دھاگا پیر نے دوبارہ دھاگا باندھنے سے انکار کر دیا کہ دھاگا باندھنے کا وقت گزر چکا۔ میرا باپ اس دھاگے کے خلاف یوں ہوا کہ اس نے پیر سائیں کے آستانے پر دولے شاہ کے چوہے (چھوٹے سر والے بچے) دیکھ لیے تھے۔ شاید یہ اچھا ہی ہوا ورنہ میں بھی دولے شاہ کا چوہا ہی بن کہ رہ جاتا۔
سردار نام کی بھی عجب بات تھی۔ چار سال کی عمر میں کسی عورت نے ہی اماں کو بتایا کہ ’دارے کا سر بہت بڑا ہے۔۔۔‘ لیکن ماں نے جواب میں ’بڑے سر سرداروں کے ہوتے ہیں‘ کہہ کر اس عورت کو تو خاموش کرا دیا لیکن میں سردار ہو کر رہ گیا۔ اب سوچتا ہوں کہ میں سردار کہاں اور کب بن سکا ہوں۔ میں تو لمحے کا اسیر ہو کر رہ گیا تھا۔
وہ لمحہ پھر آ وارد ہوا ہے جو میرے بچپن کا ہی قاتل ہو گیا تھا۔ خاور اور سبطین میرے یار تھے اور انھی کے ساتھ کھیلتے ہوئے میں مٹی میں دفن ہو گیا۔ کھیل کھیل کی بات تھی، پہلے سبطین اور میں نے خاور کو مٹی میں دبایا اور پھر ان دونوں نے مجھے۔ مٹی پاٹنے والی کسّی سبطین کے ہاتھ میں تھی۔ مٹی اٹھا کر میرے جسم پر ڈالتے ڈالتے اچانک کسّی میرے پیر میں گھس گئی اور میرے پاؤں کا انگوٹھا جڑ سے کٹ گیا۔ وہ دونوں میری چیخوں سے ڈر کر بھاگ گئے اور میں درد میں لوٹ پوٹ ہوتا رہا۔
بچپن میں ہی میرے پیر کا انگوٹھا میرا ساتھ چھوڑ گیا۔ وہ
دونوں دوست میری خاموشی سے ایسے خوفزدہ ہوئے کہ دوستی ہی چھوڑ گئے۔ لیکن میں آدھا اسی انگوٹھے میں پھنسا پیچھے رہ گیا۔
جوانی آئی تو بڑے سر نے مجھے عجوبہ بنا دیا۔ خاور کا جنرل اسٹور چل پڑا، سبطین مشہور درزی ہو گیا اور میں، نام کا تو ’سردار‘ تھا مگر خواہشات و جذبات سے یکسر عاری ایک مشین نما مزدور۔ جوانی مجھ پر بھی ٹوٹ کر برسی اور میں اس حسینہ کی زلفوں کا اسیر بن بیٹھا جو نہ جانے کتنوں کے دلوں میں دھڑکتی تھی۔ اس سے پہلے کہ میں رانی سے اپنے جذبات کا اظہار کرتا، سبطین نے نہ صرف اس کے جسم کا ناپ لے لیا بلکہ اس کے جسم پر اپنے نام کا جوڑا تک سجا دیا۔ خاور بھی پیچھے نہ رہا اور رانی کی بہن کو اپنے جنرل اسٹور کی مالکن بنا کر مجھے اپنے خوابوں کا ’قیدی‘ بنا چھوڑ گئے۔
لیکن اب زمانے کا چلن مختلف ہو گیا تھا۔ میرا بڑا سر مجھے کچھ نہ کچھ کر دینے پر اکسانے لگا تھا۔ میں، جو سب کے دکھوں کا مداوا بن چکا تھا، سب کے کام کیا کرتا تھا، سب کا وزن ڈھویا کرتا تھا، سب کا مزدور تھا، ’سردار‘ بننے کا سوچ چکا تھا۔ باپ کا سایہ سر سے اٹھ چکا تھا، ماں گھر میں ایک بستر کی قیدی تھی اور میں سرداری کا سودا سر میں سمائے رانی اور مہارانی سے بھی اونچی ڈار تک اڑان بھرنے کو تیار تھا۔ لیکن وہی لمحہ ایک بار پھر میری راہ کا کانٹا بن گیا۔
رانی، سبطین کے کپڑوں کے نیچے کسی اور کے کپڑوں میں ملبوس نکلی تو سبطین نے میری نظروں کے سامنے اس کا گلا کاٹ دیا اور خاور کے ساتھ مل کر مجھے رانی کا قاتل قرار دے دیا۔ عدالت نے مجھے ’بےسَر‘ کا سردار ثابت کیا اور عقل سے پیدل کہہ کر فارغ کر دیا۔ نہ تو رانی دنیا میں رہی اور نہ ہی میری ماں۔ وہی سبطین اور خاور مجھے پھر لمحے کا اسیر کر گئے اور یوں میری جوانی بھی اسی لمحے کی قید میں چلی گئی۔
میں اب کیا ہوں، کون ہوں میں نہیں جانتا۔ میرے باپ نے میرا نام ’دارا‘ رکھا تھا، ماں نے مجھے ’سردار‘ بنا دیا اور میرے دوستوں نے مجھے بچپن سے ہی ”دولے شاہ کا کتا“ بنا کر رکھ دیا۔ میں آخر ہوں کیا؟ کہاں ہوں اور کیوں؟
وہ دیکھو وہ رہا سبطین جو اپنی دکان میں کپڑے کاٹنے اور سینے میں مصروف ہے۔ اور وہ رہا خاور۔۔۔ جو ایک کرسی پر سردار بنا ملازموں کی فوج سے اپنا سامان فروخت کرا رہا ہے۔ جبکہ میں ۔۔۔ میں میلے کچیلے، پھٹے ہوئے کپڑوں میں ملبوس سڑک پر کھڑا رال ٹپکا رہا ہوں۔ میرا بڑا سا سر سبطین کی پشت پر موجود رانی کی تصویر کی جانب ہے۔۔ نہیں وہ تصویر تو نہیں ہے۔۔۔ وہ تو رانی کا سر ہے، حسین و جمیل چہرے والا اور رانی کے لمبے سیاہ بال اس کی گردن سے بھی نیچے، سبطین کے سر کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں بلکہ اس سے بھی نیچے، سبطین کی گردن کی طرف۔۔۔ نہ جانے کب رانی اپنے قتل کا بدلہ لے گی۔
وہ ۔۔۔ وہ خاور اپنی دکان سے باہر نکلا ہے۔۔۔
سبطین کو آواز دے رہا ہے۔۔۔
وہ دونوں اکٹھے کہیں جا رہے ہیں۔۔
رانی کا سر سبطین کے جسم کے ساتھ ساتھ پرواز کر رہا ہے اور اس کے بال گردن کی طرف لپک رہے ہیں۔۔
سبطین کی گردن کی طرف۔۔۔
نہیں۔۔۔ صرف سبطین کی گردن نہیں۔۔۔
اب خاور کی گردن بھی ان بالوں کی گرفت سے دور نہیں رہی۔۔۔
وہ۔۔۔ بال لمبے ہوئے۔۔۔ اور لمبے ہوئے۔۔۔
وہ دیکھو۔۔ دونوں گردنیں جکڑی گئیں ۔۔۔ اور وہ دونوں ۔۔۔۔
وہ دونوں اب دیوار کی اوٹ میں، بہت سارے پتوں کے نیچے دبے پڑے ہیں۔۔۔
رانی کے بال میرے ہاتھوں میں ہیں اور اس کا سر میری گود میں۔۔۔
اور میں ۔۔۔ میں اب بھی بازار میں بیٹھا ہوں۔۔۔
سبطین اور خاور کی دکانوں کے درمیان میں۔۔
ہاں۔۔ میں دارا ہوں۔۔۔ سردار۔۔ اور رانی میری گود میں ہے۔۔ اور میں اسی رانی کی قید میں ہوں۔۔ میں دارا ہوں۔۔۔ رانی کا بڑے سر والا سردار!
******
06-02-2024
11:11pm
برقی اشاعت: عالمی اردو فکشن فورم
افسانہ نمبر: 39
تاریخ: 24 فروری 2024