الاحمد کلینک قدرتی ادویات اورعلاج بالتدبیرحجامہ

  • Home
  • Pakistan
  • Bahawalpur
  • الاحمد کلینک قدرتی ادویات اورعلاج بالتدبیرحجامہ

الاحمد کلینک  قدرتی ادویات اورعلاج بالتدبیرحجامہ الاحمد کلینک! تمام امراض کی طبی علاج گاہ بالتدبیر (حجامہ) اور قدرتی ادویات کا با اعتماد مرکز

22/07/2026

جس طرح بلوغت میں جسم ایک فیز سے دوسرے فیز میں داخل ہوتا ہے اور ہر چیز بدل جاتی ہے ۔ بالکل اسی طرح مینوپاز میں جسم دوسرے فیز سے تیسرے فیز میں داخل ہوتا ہے اور پھر بہت سی تبدلیاں آ جاتی ہیں ۔

اہم بات یہ ہے کہ اس فیز میں درپیش مشکلات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ صرف ہڈیوں کی پرواہ کر جائے اور یادداشت کی خرابی کو نظر انداز کر دیا جائے ۔ جلد کو دیکھا جائے اور شوگر کا دھیان نہ کیا جائے ۔ چہرے پہ دھبے تو پریشان کریں مگر بڑھے ہوا پیٹ اور موٹاپے پہ دھیان نہ دیا جائے ۔

یاد رکھیے ہر سسٹم ڈھلان پہ کھڑا ہے ۔ ایک ہلکا سا دھکا اور بس …

تو جناب آپ نے اپنے جسم کو سر سے پیر تک مانیٹر کرنا ہے ۔

موٹاپا کم کرنا ہے ۔

خوراک میں روٹی چاول اور میٹھے کی بجائے سلاد اور دال سے پیٹ بھرنا ہے ۔ سالن میں تری کم سے کم ۔

مشروبات چھوڑنے ہیں ۔ چائے بغیر چینی کے پینی ہے ۔

روزانہ تین سے چار کلومیٹر واک کرنی ہے دونوں ہاتھوں میں ایک لیٹر کی بوتل پکڑ کے ۔

جگر ، گردے کولیسٹرول ، وٹامن ڈی اور شوگر کا ٹیسٹ ہر چھ ماہ کے بعد ۔

میموگرافی سالانہ ۔

کیلشیم اور آئرن کی گولی روزانہ ۔

کوئی نہ کوئی مشغلہ شروع کرنا ہے جیسے گارڈننگ ، کروشیا ، سویٹر بننا ۔

یہ سب کرنے کے بعد اگر آپ ایچ آر ٹی شروع کرنا چاہتی ہیں تو اس کے لیے کچھ ضروری باتیں :

بچے دانی اگر موجود ہے تو مائیرینا رکھوائی جائے گی

ایچ آرٹی گولیوں کی صورت میں ہر گز نہیں لینی ، صرف جیل یا پیچز ۔

مانیٹرنگ کے بغیر ایچ آر ٹی نہیں لینی ۔

ہڈیوں کو بھربھرے پن سے بچانے کے لیے کولاجن کی گولیاں کھانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ کولاجن وہی اچھی جو جسم خود تیار کرے ۔
بائیو ایچ آر ٹی ابھی تک ایف ڈی اے سے اپرووو نہیں اس لیے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ۔
اگر آپ کی مالی حالت کمزور ہے تو کوشش کیجیے کہ ہر وہ خرچ چھوڑ دیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ۔
خوراک انتہائی سادہ ۔ پائے ، نہاری ، سری ، پکوڑے سموسے سمیت سب کچھ چھوڑ دیں ۔
وزن ڈائیٹنگ سے نہیں ، ورزش سے کم کریں ۔
A1C چھ سے کم رکھیں

19/07/2026

تیل کے مختلف استعمال اور طبی فواٸد

انسان زمانہ قدیم کا ہو یا جدید ترقی یافتہ دور میں زندگی گزارنے والا، اسے اپنی صحت کے قیام اور بحالی کے بہت سے طریقے اپنانے پڑتے ہیں۔
انسانی صحت و تن درستی کا دارومدارعمدہ ماحول، بہترین آب وہوا، فطری طرز بود وباش، متوازن ومعیاری خوراک اور تعمیری معمولات پر ہوتاہے۔ متوازن خوراک میں اناج، پھل، سبزیاں ترکاریاں اور بیج یا بیجوں کے تیل شامل ہیں۔
تیل انسانی بدن کی خوبصورتی ملائمت اور تراوت کالازمی حصہ ہیں۔ مختلف اقسام کے تیل ہماری روز مرہ خوراک کا حصہ بھی ہوتے ہیں۔
ہمارے گھروں میں کھانا بناتے وقت کوکنگ آئل، بناسپتی یا دیسی گھی، سرسوں کا تیل یا زیتون کے تیل میں سے کوئی ایک لازمی استعمال کیا جاتا ہے۔
زمانہ قدیم میں سمجھدار معالجین مختلف امراض سے چھٹکارا پانے کے لیے مختلف تیلوں سے بدن پر مالش کرواتے تھے۔ جسمانی و اعصابی دردوں کمر درد، چوٹ، موچ اور گھنٹیا سے نجات دلانے کے لیے تلوں کا تیل، روغن زیتون اور کئی دوسرے تیل بڑے اعتماد سے استعمال کرائے جاتے تھے۔
موجودہ دور میں خون گاڑھا ہونے سے پیدا ہونے والی بیماریاں جیسے امراض قلب، کولیسٹرول، یورک ایسڈ، ذیابیطس، امراض گردہ، جگر کی بیماریوں اور فالج، برین ہیمریج وغیرہ مسلط ہونے کے ڈر سے معالجین قدرتی تیل کے استعمال کا مشورہ دینے لگے ہیں۔
تیلوں میں چکنائی پائی جاتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق چکنائیاں دوقسم کی ہوتی ہیں۔ ایک مفید چکنائی دوسری مضر چکنائی۔ مفید چکنائی انسانی بدن کی حرارت سے پگھل جاتی ہے جسے ’انسیچوریٹیڈ فیٹس‘ کہاجاتا ہے۔
دوسری مضر صحت چکنائی کو ’سیچوریٹیڈ فیٹ‘ کہا جاتا ہے۔ دیسی گھی، سرسوں، زیتون، مونگ پھلی، بادام اورسویابین وغیرہ کا تیل انسانی صحت کے لیے مفید خوردنی تیل سمجھے جاتے ہیں۔ جبکہ ناریل اور سورج مکھی وغیرہ کے تیل سیچوریٹیڈ فیٹس ہونے کے سبب کسی حد تک مضر صحت خیال کیے جاتے ہیں۔
دیسی گھی سے متعلق ایک تو جدید طب سے وابستہ معالجین نے غلط فہمیاں بہت زیادہ پھیلا دی ہیں، دوسرے دیسی گھی خاصا مہنگا بھی ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید سے ہی دور ہے۔ دیسی گھی دماغی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے، بدن کو فربہ اور خوبصورت بنانے اور قوت مدافعت بڑھانے کا بہترین قدرتی ذریعہ ہے۔
دیسی گھی وٹامن ڈی کا بہترین قدرتی ماخذ بھی ہے۔ ایسے بچے جن کی جسامت کمزور ہو، مناسب نشوونما نہ ہو رہی ہو تو بچے کے بدن پر دیسی گھی کی مالش کرکے تھوڑی دیر ’سن باتھ‘ یعنی دھوپ میں لٹانے سے بچے کی نشوونما میں بہتری اور جسامت میں مضبوطی آنے لگتی ہے۔
اسی طرح زیتون کا تیل بھی ہمارے ملک کی پیداوار نہ ہونے کے باعث مہنگا پڑتا ہے اور اس کے خالص ہونے پر بھی سوالیہ نشان اپنی جگہ ہے۔ منافع خور تاجر مبینہ طور پر عام کوکنگ آئل کو ہی زیتون کی خوشبو اور رنگ دے کر فروخت کرنے میں مصروف ہیں۔
بدنصیبی ہے کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہماری مقامی اجناس جیسے سرسوں، مونگ پھلی، مکئی، سورج مکھی وغیرہ کی کاشت اپنی ضرورت سے بہت کم ہے۔
حالیہ شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ہم اپنی ضرورت کا 75 فیصد خوردنی تیل بیرون ممالک سے درآمد اور صرف 25 فیصد تک مقامی تیل استعمال کرپاتے ہیں۔ حالانکہ ایک زرعی ملک ہونے کے ساتھ ساتھ سرسوں، سویابین، مکئی، سورج مکھی اور مونگ پھلی وغیرہ کی کاشت کے لیے ہماری زمینیں اور آب وہوا بھی موزوں ہے۔
لاپرواہی اور بے دھیانی کی وجہ سے ملک کے قیمتی زرمبادلہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ حکومتی اور محکمانہ ذمے داران سے ہماری گزارش ہے کہ سرسوں، سویابین، مکئی، سورج مکھی اور مونگ پھلی وغیرہ کی کاشت پر بھرپور توجہ دے کر نہ صرف ہم اپنی ملکی خوردنی ضروریات پوری کرسکتے ہیں بلکہ برآمد کر کے ملکی زرمبادلہ میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
یوں تو تلوں کی کاشت بھی ہمارے ہاں وسیع بنیادوں پر ہو سکتی ہے اور ہو بھی رہی ہے لیکن طبی ماہرین تلوں کا تیل پکانے کے لیے تجویز نہیں کرتے۔ تلوں کے تیل کا زیادہ استعمال بیرونی طور پر بدن کو گرمانے، جسمانی واعصابی دردیں بھگانے، چوٹ، موچ، کمر اور جوڑوں کے درد سے پیچھا چھڑانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے خیال میں تلوں کا تیل ثقیل ہوتا ہے جو نظام ہضم کی کارکردگی کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
اگر سرکاری سطح پر مقامی طور سرسوں، سورج مکھی، مکئی، بنولہ، مونگ پھلی اور سویابین کی کاشت پر توجہ دی جائے تو ملکی زر مبادلہ بچانے کے ساتھ عوام الناس کو جان لیوا اور موذی امراض سے بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
سرسوں کے تیل کے حوالے سے ایک وضاحت ضروری ہے کہ سرسوں کی کئی اقسام ہیں، جن میں رایا دیسی سرسوں، توریا تارامیرا اور گوبھی سرسوں کینولا آئل شامل ہیں۔
دیسی عام سرسوں جسے رایا بھی کہا جاتا ہے کے تیل میں 50 فیصد تک تیزابی مادے ہونے کی وجہ سے یہ تیل کھانے کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔ اس سے کھانا بدمزہ اور تلخ سا ہو جاتا ہے، جسے کھانے میں دقت پیش آ تی ہے۔کینولا آئل جسے گوبھی سرسوں کا نام دیا جاتا ہے اس کا تیل کھانے کیلیے بہترین سمجھاجاتا ہے۔ گوبھی سرسوں کینولا آئل میں تیزابی مادوں کی مقدار بھی کم ہوتی ہے، یوں اس میں پکایا ہوا کھانا ذائقے اور لذت سے بھرپور ہوتا ہے۔
کینولا آئل تندرستی برقرار رکھنے کے لیے بھی بہترین مانا جاتا ہے۔ یہ نہ جمنے والی چکنائی ہے اور خون کی نالیوں میں جمتا نہیں اور نہ ہی خون گاڑھا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
سورج مکھی کے تیل میں اگر چہ جمنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے تاہم کیمیائی پروسس سے گزار کر اسے بھی خوردنی معیار کے لائق بنایا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں صابن سازی کی صنعت میں سورج مکھی کے تیل کا استعمال کرکے ہم ملکی زرمبادلہ بچاسکتے ہیں۔
زیتون کے تیل کو کھانوں میں شامل کرنا صحت کے لیے بے حد مفید ہے۔ زیتون کا مزاج گرم خشک ہے اور یہ دل ودماغ، اعصاب اور جگر و معدے کو تقویت دیتا ہے۔ لیکن پاکستان کی مقامی فصل نہ ہونے کے سبب کافی مہنگا پڑتا ہے۔
تاہم صاحب استطاعت زیتون کے تیل کو اپنی خوراک میں شامل کرکے لاتعداد مہلک اور جان لیوا امراض سے محفوظ ہوسکتے ہیں۔ زیتون کے تیل اور روغن بادام کے استعمال سے متعلق دھیان رہے کہ انہیں آگ پر پکانے سے ان کے مفید صحت مند اجزا جل جاتے ہیں اور یہ خاطر خواہ صحت بخش ثابت نہیں ہوتے۔ زیتون کے تیل اور روغن بادام کو سبزیاں ابال کر شامل کرنے سے ہی ان کے صحت بخش اجزا سے مکمل استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
اسی طرح دودھ، پھلوں کے جوسز یا شوربے والے سالن میں حسب ضرورت وگنجائش شامل کرکے ان کے بھرپور فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
روغن بادم بدن ودماغ کی خشکی ختم کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ جسم پر مالش کرنے سے بدن کے مسام کھلتے ہیں اور جلدی خلیات میں آکسیجن کی جاذبیت بڑھ کر صحت وتوانائی کا سبب بنتی ہے۔ بادام روغن نیم گرم دودھ میں ملاکر پینے سے قبض سے نجات ملتی ہے اور بے خوابی کے مرض کاخاتمہ ہوجاتا ہے۔
مونگ پھلی کا تیل بھی انسیچوریٹیڈ خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ ملکی غذائی ضروریات کے تحت تجارتی طور پر مونگ پھلی کی کاشت بھی بڑھانی چاہیے، اس سے صحت افزا خوردنی تیل بھی عام دستیاب ہوسکتا ہے اور ملکی زر مبادلہ کی بچت بھی کی جاسکتی ہے۔
مونگ پھلی کے تیل کو طبی ماہرین صحت بخش اور قلب دوست خیال کرتے ہیں۔ یہ دل کی حفاظت کرتا ہے اور مجموعی صحت برقرار رکھنے میں بھی کلیدی کردار کا حامل ہے۔ ناریل کا تیل جمنے والا اور خون کو گاڑھا کرنے والا ہوتا ہے۔
ناریل کے تیل کو کھانے میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔ یہ جلد کی خوبصورتی اور بالوں کی نشوونما کے لوازمات میں بھاری مقدار میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔کدو کا تیل دماغی خشکی، دماغی کمزوری، ذہنی امراض میں بے حد مفید ثابت ہوتا ہے۔ نیند نہ آنے کی صورت میں روغن کدو شیریں کے چند قطروں سے سر کی چوٹی پر مساج کریں تو بھرپور نیند آتی ہے۔
ہمارے گھروں میں السی اور السی کاتیل بھی موسم سرما میں وافر استعمال کیاجاتا ہے۔ السی کولیسٹرول، یورک ایسڈ اور جسمانی واعصابی کمزوری دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ آملے دھنیا اور سیکاکائی کے تیل بالوں کی حفاظت، مضبوطی اور نشوونما کے لیے عام استعمال کیے جاتے ہیں۔ روغن ارنڈ یاکیسٹر آئل کا استعمال بھی ہمارے ہاں عام کیا جاتا ہے۔
کیسٹر آ ئل عام طور پر قبض دور کرنے کے لیے مائیں بچوں کو دودھ میں ملاکر پلاتی ہیں۔ طبی ماہرین کے نزدیک کیسٹر آئل ایک بے ضرر اور مفید دوا ہے جو بچوں، بزرگوں اور جوانوں کے لیے یکساں مفید ہے۔
قارئین کو یاد رکھنا چاہیے کہ بہترین اور فوری نتائج کے حصول کے لیے جملہ تیلوں سمیت کسی بھی نباتاتی دوائی کا استعمال کسی ماہر کے مشورے سے کریں۔ سیلف میڈیکیشن اور سنے سنائے ٹوٹکے صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں

19/07/2026

تاریخی سلاطین، مغل بادشاہوں اور خلفاء کی طویل عمر، بے پناہ جسمانی قوت اور ہمہ جہت جوانی کا راز کیا تھا؟ کیا وہ ہماری طرح ہر وقت کیمیکلز سے بھرپور ادویات کے استعمال پر انحصار کرتے تھے؟ ہرگز نہیں، ان کی زندگی کا پورا نظام اور خوراک کا شیڈول طب یونانی، اور طب اسلامی کے سنہری اصولوں پر مبنی تھا۔ ہر شاہی دربار میں ایک ماہر اور دوراندیش حکیم موجود ہوتا تھا جو بادشاہ کی صحت کا ضامن ہوتا تھا۔ حکمت کے خزانے سے ایک خوبصورت طبی شعر پیش خدمت ہے: "تندرستی ہے تو دنیا میں ہے سب کچھ ورنہ، بے حقیقت ہے ہر اک جاہ و جلال شاہی"۔ شاہی خوراک کا بنیادی اصول، جسے قواعد شاہی اغذیہ کہا جاتا ہے، دراصل انسانی مزاج کی اعتدال پسندی کا نام ہے۔ نظریہ مفرد اعضاء کے مطابق، انسانی جسم تین بنیادی اعضاء یعنی دل، دماغ اور جگر کے تحت کام کرتا ہے۔ جب تک ان اعضاء کے مزاج اور تحریک میں اعتدال قائم رہتا ہے، انسان تندرست رہتا ہے۔ آیورویدک سنسکرت فلسفہ بھی اسے تین دوش یعنی بات، پت اور کف کے توازن سے تعبیر کرتا ہے۔ طب یونانی میں خون، بلغم، صفراء اور سودا کا توازن ہی صحت کی اصل بنیاد ہے۔ منطق اور فلسفہ طب کے مطابق، بیماری کچھ اور نہیں بلکہ جسم میں عناصر کے توازن کا بگڑ جانا ہے۔ بادشاہوں کا یونانی طریقہ خوراک اور اس کے چار بنیادی اصول: پہلا اصول: مزاج کے مطابق غذا، دوسرا اصول: وقت کی پابندی اور اعتدال، تیسرا اصول: ترتیب اغذیہ، چوتھا اصول: دوا اور غذا کا حسین امتزاج۔ شاہی دن کا معمول اور اوقات کار: نہار منہ، ناشتہ، دوپہر کا کھانا، عصر کے وقت، رات کا کھانا۔ ان کی 5 خاص مقوی غذائیں: 1۔ معجون آرد خرما، 2۔ زعفران، دودھ اور بادام کا مرکب، 3۔ کشتہ جات کا متوازن استعمال، 4۔ گوشت بریاں، 5۔ خاص شربتات۔ سخت پرہیز کے قوانین: باسی اور ٹھنڈا کھانا ممنوع، غصے اور فکر کی حالت میں کھانا کھانے کی ممانعت، رات کو دیر تک جاگنا منع۔ حکیم کا تاریخی فرمان: جو معدے کا غلام بن گیا، وہ کبھی بادشاہ نہیں رہ سکتا۔ خلاصہ کلام: بادشاہوں کی طویل عمر، طاقت اور تندرستی کا راز صرف اس سنہری اصول میں ہے: کم کھاؤ، اچھا کھاؤ، وقت پر کھاؤ اور کھانے کو بطور دوا استعمال کرو۔

دماغی کمزوری و کمی خون کے لیےھوالشافی۔۔،،۔۔پندرہ دانہ مویز منقہ کے بیج دور کر کے رات کو آدھ پاوّ دودھ میں بھگو دیں۔صبح ن...
17/07/2026

دماغی کمزوری و کمی خون کے لیے
ھوالشافی۔۔،،۔۔
پندرہ دانہ مویز منقہ کے بیج دور کر کے رات کو آدھ پاوّ دودھ میں بھگو دیں۔صبح نہار منہ منقہ چبا کر کھا لیں اوپر سے دودھ پی لیں۔گھنٹہ بعد ناشتہ کر لیں۔۔۔۔
فوائد"
اعلی درجہ کا مقوی ٹانک ہے۔دل دماغ کو طاقت دے کر کھوئی ہوئی قوت بحال کرتا ہے ۔خون کی کمی کے لیے لاجواب چیز ہے۔دماغی کمزوری و کمی خون کے لیے
ھوالشافی۔۔،،۔۔
پندرہ دانہ مویز منقہ کے بیج دور کر کے رات کو آدھ پاوّ دودھ میں بھگو دیں۔صبح نہار منہ منقہ چبا کر کھا لیں اوپر سے دودھ پی لیں۔گھنٹہ بعد ناشتہ کر لیں۔۔۔۔
فوائد"
اعلی درجہ کا مقوی ٹانک ہے۔دل دماغ کو طاقت دے کر کھوئی ہوئی قوت بحال کرتا ہے ۔خون کی کمی کے لیے لاجواب چیز ہے۔

قبض کی لاجواب دوا دائمی قبضاس دوا کے فوائد بازاری قبض کی ادویات سے بہت بہتر ہے۔  اس  کے استعمال سے قبض ختم ہو کر پیٹ صاف...
13/07/2026

قبض کی لاجواب دوا
دائمی قبض
اس دوا کے فوائد بازاری قبض کی ادویات سے بہت بہتر ہے۔ اس کے استعمال سے قبض ختم ہو کر پیٹ صاف ہو جاتا ہے نہ کوئی گھبراہٹ نہ کوئی مروڑ اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی بےچینی ہوتی ہے۔ اگر قبض کی وجہ سے وزن یا پیٹ بڑھ رہا ہو تو وہ بھی کم ہونا شروع ہو جاتا ہے یہ ایک لاجواب نسخہ ہے اس نسخہ کو بہت سارے حکماء حضرات اجزاء کے وزن میں کمی بیشی کے ساتھ استعمال کروا رہے ہیں۔ اس کے اجزاء نوٹ فرما لیں اور یہ نسخہ میرا مجرب اور معمول مطب ہے
ھو الشافی
سونٹھ 40 بچگرام
ریوند خطائی 25 گرام
نوشادر ٹھیکری 25 گرام
کالی مرچ 10 گرام
ریوند عصارہ 20 گرام
مصبر 30 گرام
سناءمکی صاف بغیر تنکے 100 گرام
تمام ادویات لیکر کوٹ پیس کر پاوڈر بنالیں۔
طریقہ استعمال شدید قبض کی صورت میں 1000ملی گرام والا ایک کیپسول شام کو کھانا کھانے کے بعد پانی کے ساتھ کھائیں اور ہلکی قبض کی صورت میں 500 ملی گرام والا ایک کیپسول استعمال کرسکتے ہیں۔ (نوٹ اگر نسخہ کے اجزاء 💯 خالص ہونگے تو پہلی ہی خوراک میں رزلٹ ملنا شروع ہو جائے گا )

بلا وجہ ہر وقت ٹینشن رہتی ہے؟ اپنی گٹ ہیلتھ پر توجہ دیں۔روزانہ سونف کا قہوہ پئیں، دہی میں السی ملا کر کھائیں، اور پیٹ پر...
12/07/2026

بلا وجہ ہر وقت ٹینشن رہتی ہے؟
اپنی گٹ ہیلتھ پر توجہ دیں۔

روزانہ سونف کا قہوہ پئیں، دہی میں السی ملا کر کھائیں، اور پیٹ پر ناریل کے تیل کی مالش کریں۔ فرق خود محسوس کریں

12/07/2026

"طبِ یونانی اور طبِ صابر میں وٹامنز (حیاتین) اور منرلز(معدنیات)"
وٹامن A:
وٹامن A جسم کی نشوونما، جلد اور بینائی کی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس کی کمی سے جلد خشک ہونے لگتی ہے، کم روشنی میں دیکھنے میں دشواری پیش آتی ہے، حتیٰ کہ موبائل کی برائٹنس کم ہونے یا ہلکی روشنی میں بھی نظر واضح نہیں آتی۔ اس وٹامن کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گاجر، شکرقندی، پیٹھا، ساگ، پالک، خربوزہ، شملہ مرچ، بند گوبھی، گوشت، انڈے اور آڑو کا استعمال مفید رہتا ہے۔

وٹامن B1:
وٹامن B1 اعصاب اور توانائی پیدا کرنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی کمی کی صورت میں پاؤں میں جلن، جسمانی کمزوری، دل کی دھڑکن تیز ہونا، چکر آنا اور گیس کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کی مناسب مقدار سورج مکھی کے بیج، سلاد، کھمبی، دالیں، پالک، مٹر، گندم اور سویا بین سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

وٹامن B2:
وٹامن B2 کی کمی سے منہ کے چھالے، زبان پر دراڑیں یا زخم، جلد پر سرخ دھبے یا کھرنڈ، بھوک میں کمی اور تھکاوٹ محسوس ہو سکتی ہے۔ اس کی زیادہ مقدار لینے سے بعض اوقات پیشاب کا رنگ گہرا پیلا ہو جاتا ہے اور بعض افراد کو پیشاب کے دوران ہلکی جلن بھی محسوس ہو سکتی ہے۔ بادام، سویابین، کھمبی، پالک، گندم، دہی اور انڈے اس وٹامن کے اچھے ذرائع ہیں۔

وٹامن B3:
وٹامن B3 جسم کے کئی اہم افعال کے لیے ضروری ہے۔ اس کی کمی سے جلد پر سرخ نشانات، پیچش، یادداشت کی کمزوری اور منہ کے چھالے پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کی فراہمی کے لیے کھمبی، اسپراگوس، مونگ پھلی، براؤن چاول، مکئی، پالک، ساگ، شکرقندی، دالیں، گاجر، بادام، شلجم، آڑو، دیسی مرغی اور سامن مچھلی مفید غذائیں ہیں۔

وٹامن B5:
وٹامن B5 کی کمی نسبتاً کم دیکھی جاتی ہے، لیکن اس کی کمی ہونے پر پاؤں میں بخوڑ یا جلن جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ دالیں، اواکاڈو، گندم، کھمبی، شکرقندی، سورج مکھی کے بیج، گوبھی، ساگ، پالک، انڈے، پیٹھا اور اسٹرابری اس وٹامن کے مناسب ذرائع ہیں۔

وٹامن B6:
وٹامن B6 اعصابی نظام کی کارکردگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی کمی سے بے چینی، گھبراہٹ، نیند کی خرابی، چڑچڑاپن اور معمولی بات پر غصہ یا تپش محسوس ہو سکتی ہے۔ گندم، ساگ، پالک، براؤن چاول، چھولے، کیلا، ٹماٹر، اخروٹ، اواکاڈو، مچھلی، شملہ مرچ اور دیسی مرغ اس وٹامن کے بہترین ذرائع ہیں۔

وٹامن B9 (Folic Acid):
وٹامن B9 یا فولک ایسڈ خون کے خلیات کی تشکیل اور جسمانی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ اس کی کمی سے نیند میں کمی، پیچش، وزن گھٹنا اور منہ میں چھالے بن سکتے ہیں۔ ساگ، پالک، سلاد، اسپراگوس، گرگل، لوبیا، مٹر، دالیں، اواکاڈو، ٹماٹر، کیلا اور پپیتا اس کی کمی پوری کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

وٹامن B12:
وٹامن B12 اعصابی نظام اور خون کے سرخ خلیات کی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کی کمی سے نیند کے مسائل اور بعض ذہنی و اعصابی عوارض پیدا ہو سکتے ہیں۔ دیسی مرغی کی کلیجی، مچھلی اور انڈے اس وٹامن کے اہم غذائی ذرائع ہیں۔

وٹامن C:
وٹامن C مدافعتی نظام، جلد، مسوڑھوں اور زخم بھرنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی کمی سے منہ کے چھالے، مسوڑھوں کی سوجن، خون آنا، جلد اور بالوں میں خشکی، جوڑوں کا درد، بالوں کا جھڑنا، ہڈیوں کی کمزوری اور زخم دیر سے بھرنے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ امرود، شملہ مرچ، مالٹا، کیوی، اسٹرابری، خربوزہ، آملہ، شکرقندی، انناس، گوبھی اور شکنجوی اس وٹامن کے بہترین ذرائع شمار ہوتے ہیں۔

وٹامن D:
وٹامن D ہڈیوں، دانتوں اور جسم میں کیلشیم کے مناسب استعمال کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کی کمی سے بچوں میں ہڈیوں کی ساخت متاثر ہو سکتی ہے، ہڈیاں ٹیڑھی ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، قد کی نشوونما غیر معمولی ہو سکتی ہے، جبکہ دانت کمزور ہو کر جلد خراب ہونے لگتے ہیں۔ اس وٹامن کا بہترین ذریعہ دھوپ ہے، جبکہ کھمبی، مچھلی اور انڈے بھی اس کی اچھی غذائی ذرائع ہیں۔

وٹامن E:
وٹامن E ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو جسم کے خلیات کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی کمی شاذونادر ہی ہوتی ہے، تاہم اگر کمی پیدا ہو جائے تو بینائی متاثر ہو سکتی ہے، جسم میں تھکاوٹ محسوس ہونے لگتی ہے اور ذہنی الجھن بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ ساگ، پالک، بادام، زیتون، مختلف ڈرائی فروٹس، ٹماٹر اور اواکاڈو اس وٹامن سے بھرپور غذائیں ہیں۔

وٹامن H (Biotin):
وٹامن H، جسے بایوٹن بھی کہا جاتا ہے، جلد، بالوں اور اعصابی صحت کے لیے اہم ہے۔ اس کی کمی بہت کم دیکھنے میں آتی ہے، البتہ اگر کوئی شخص طویل عرصے تک مسلسل کچے انڈے کی سفیدی استعمال کرے تو اس کی کمی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ اس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ساگ، پالک، ڈرائی فروٹس، اواکاڈو، شہتوت، گوبھی، گاجر، پپیتا، کیلا اور انڈے مفید غذائیں ہیں۔

وٹامن K:
وٹامن K خون کے جمنے اور ہڈیوں کی صحت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی کمی سے خون بہنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور بعض افراد میں نیند سے متعلق مسائل بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ اس وٹامن کے حصول کے لیے ساگ، پالک، مٹر، پیٹھا اور گاجر کا استعمال مفید رہتا ہے۔

منرلز:
وٹامنز کی طرح منرلز بھی جسم کی درست نشوونما، مضبوطی اور مختلف حیاتیاتی افعال کے لیے ناگزیر ہیں۔ ماہرینِ غذائیت نے انہیں دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا ہے: Macro Minerals اور Micro Minerals۔

Macro Minerals

کیلشیم (Calcium):
کیلشیم ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے بنیادی منرل ہے۔ اس کی کمی سے ہڈیاں کمزور ہو سکتی ہیں اور ان کی ساخت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ دودھ، دہی، پنیر، مکھن، لسی، ساگ، پالک، بھنڈی اور تل کیلشیم کے بہترین ذرائع ہیں۔

فاسفورس (Phosphorus):
فاسفورس ہڈیوں، دانتوں اور پٹھوں کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی کمی سے پٹھوں اور ریڑھ کی ہڈی میں درد، مہروں کی تکلیف اور بعض اوقات حمل ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ عموماً وٹامن D کی کمی بھی فاسفورس کی کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ دالیں، انڈے، مچھلی، مکئی اور دیسی مرغ اس کے اچھے ذرائع ہیں۔

پوٹاشیم (Potassium):
پوٹاشیم اعصاب، پٹھوں اور دل کی کارکردگی کے لیے ضروری ہے۔ خون میں اس کی کمی دل کی دھڑکن اور دیگر قلبی مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ شکرقندی، ٹماٹر، ساگ، گاجر، آلوبخارا، دالیں، پیٹھا، مچھلی، کھجور، کشمش اور کھمبی اس منرل سے بھرپور غذائیں ہیں۔

میگنیشیم (Magnesium):
میگنیشیم نظامِ ہضم، اعصاب اور عضلات کی کارکردگی کے لیے اہم ہے۔ اس کی کمی سے نظامِ ہضم متاثر ہو سکتا ہے، گردے کی پتھری بننے کا امکان بڑھ جاتا ہے، جبکہ شراب نوش افراد میں اس کی کمی کے نقصانات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ سبزیاں، ڈرائی فروٹس، مختلف پھل اور اواکاڈو اس کے اچھے ذرائع ہیں۔

سالٹ (سوڈیم کلورائیڈ):
سوڈیم کلورائیڈ جسم میں پانی کے توازن اور خون کی گردش برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی کمی سے چکر آنا، سردرد اور دورانِ خون میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔ سبزیاں، دالیں اور ڈرائی فروٹس اس کی مناسب مقدار فراہم کرتے ہیں۔

Micro Minerals

آئرن (Iron):
آئرن خون میں ہیموگلوبن بنانے کے لیے ضروری ہے۔ اس کی کمی سے خون کی کمی (انیمیا)، جلد کی زردی، بالوں کا جھڑنا، بچوں کے رویے میں تبدیلی اور خواتین، خصوصاً حاملہ خواتین، میں مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بادام، خوبانی، بھنے چنے، کھجور، دالیں، کشمش، پالک، ساگ، براؤن چاول، پیٹھا، مچھلی اور دیسی مرغی آئرن کے اچھے ذرائع ہیں۔

زنک (Zinc):
زنک مدافعتی نظام کو مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی کمی سے جسم بیماریوں کے خلاف مؤثر دفاع نہیں کر پاتا۔ کھمبی، پالک، تل، مٹر، کاجو اور دیسی مرغی اس منرل کے بہترین ذرائع ہیں۔

کاپر (Copper):
کاپر خون کے خلیات کی تشکیل اور توانائی پیدا کرنے میں معاون ہے۔ اس کی کمی سے تھکاوٹ محسوس ہو سکتی ہے، جبکہ ایسے بچوں میں جنہیں ماں کے دودھ کی بجائے صرف گائے کا دودھ پلایا جائے، اس کی کمی نسبتاً جلد پیدا ہو سکتی ہے۔ کھمبی، پالک، ساگ، جو، دالیں، کاجو اور دیسی مرغی کی کلیجی کاپر سے بھرپور غذائیں ہیں۔

کرومیم (Chromium):
کرومیم جسم میں انسولین کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی کمی سے میٹھی چیزیں کھانے کی خواہش بڑھ سکتی ہے اور کمزوری محسوس ہو سکتی ہے۔ سلاد، پیاز، ٹماٹر، آلو، کھمبی، آلوبخارا اور خشک میوہ جات اس کے مناسب ذرائع ہیں۔

فلورائڈ (Fluoride):
فلورائڈ دانتوں کی مضبوطی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی کمی دانتوں کی مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔ پینے کا پانی، چائے اور مچھلی فلورائڈ کے اہم ذرائع ہیں۔

آیوڈین (Iodine):
آیوڈین تھائرائیڈ غدود کی درست کارکردگی اور دماغی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ اس کی کمی خصوصاً بچوں میں ذہنی اور جسمانی نشوونما کو متاثر کر سکتی ہے۔ انڈے، آیوڈائزڈ نمک، اسٹرابری، ساگ اور پالک اس کے اچھے ذرائع ہیں۔

سیلینیم (Selenium):
سیلینیم جسم کو آکسیڈیٹو نقصان سے بچانے اور مدافعتی نظام کو بہتر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی کمی سے تھکاوٹ، ذہنی کمزوری اور بعض حالات میں حمل ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ کھمبی، جو، مچھلی، اخروٹ اور انڈے اس منرل سے بھرپور غذائیں ہیں۔

مینگنیز (Manganese):
مینگنیز ہڈیوں کی نشوونما، میٹابولزم اور جسم کے مختلف خامروں کی کارکردگی کے لیے ضروری ہے۔ اس کی کمی سے جسمانی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔ پالک، سلاد، ساگ، شہتوت، انناس، جو کا دلیہ اور دالیں اس کے اچھے ذرائع ہیں۔

مولی بڈینیم (Molybdenum):
مولی بڈینیم جسم میں مختلف خامروں کی فعالیت کے لیے ضروری منرل ہے۔ اس کی کمی اعصابی نظام اور گردوں کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔

09/07/2026

پیشاب میں پروٹینوریا (++) Proteinuria (++) in Urine
اس کا مطلب ہے کہ گردے دباؤ میں ہیں، لیکن جلد دیکھ بھال ایک بڑا فرق ڈالتی ہے۔

پیشاب میں پروٹینوریا (++) کو کیسے کم کیا جائے۔

میرے ساتھ آؤ 👇
بلڈ پریشر کو کنٹرول کریں۔

ہائی بلڈ پریشر گردوں کے ذریعے پروٹین کو مجبور کرتا ہے۔

نمک کی مقدار کم کریں۔

بی پی کی تجویز کردہ دوائیں اگر دی جائیں تو مستقل طور پر لیں۔

بلڈ شوگر کو کنٹرول کریں (بہت ضروری)

زیادہ شوگر گردے کے فلٹرز کو نقصان پہنچاتی ہے۔

مستحکم بلڈ شوگر کا مقصد، بڑے اتار چڑھاو نہیں۔

اپنے ذیابیطس پلان پر عمل کریں اور باقاعدگی سے لیول چیک کریں۔

گردے کے لیے غیر دوستانہ مادوں کو روکیں۔

غیر منظم جڑی بوٹیوں کے مرکب اور "ڈیٹاکس" مصنوعات سے پرہیز کریں۔

غیر ضروری درد کش ادویات جیسے ibuprofen یا diclofenac سے پرہیز کریں۔

طبی مشورے کے بغیر سپلیمنٹس نہ ملائیں۔

معتدل پروٹین کی مقدار (اسے زیادہ نہ کریں)

آپ کو زیادہ پروٹین والی غذا کی ضرورت نہیں ہے۔

اعتدال پسند حصے کا انتخاب کریں:

مچھلی
انڈے
پھلیاں (مناسب مقدار میں)

ضرورت سے زیادہ پروٹین پاؤڈر سے پرہیز کریں۔

اچھی طرح سے ہائیڈریٹ رہیں (لیکن ضرورت سے زیادہ نہیں)

پانی باقاعدگی سے پیئے۔

پانی کی کمی سے بچیں، جو پروٹین کے رساو کو خراب کرتا ہے۔

گردے دوستانہ طرز زندگی کی عادات

زیادہ تر دنوں میں آہستہ سے چہل قدمی کریں یا ورزش کریں۔

صحت مند وزن کو برقرار رکھیں

تمباکو نوشی اور شراب سے پرہیز کریں۔

آخر میں
ادرک 🫚 لہسن اور لیموں کو ایک ساتھ ابال کر گرم پی لیں۔

♦️✿ ہمیں کتنے پروٹین کی ضرورت ہے؟ 👇👇👇👇

پروٹین کی کمی جسم کے تمام اعضاء اور نظاموں کے لیے نقصان دہ ہے، بشمول دماغ کے کام کو متاثر کرنے والے (خاص طور پر شیرخوار اور چھوٹے بچوں میں)، مدافعتی نظام، آنتوں میں رکاوٹ، اور گردے۔ پروٹین کی کمی کی جسمانی علامات میں ورم (سوجن)، کمزور پٹھوں، خستہ جلد، پتلے اور نازک بال، اور نوزائیدہ بچوں اور بچوں میں پنپنے میں ناکامی شامل ہیں۔

Accepted Macronutrient Distribution Ranges (AMDR) انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسن کے فوڈ اینڈ نیوٹریشن بورڈ نے وبائی امراض کے شواہد کی حمایت کے ساتھ مداخلتی آزمائشوں کے شواہد کا استعمال کرتے ہوئے قائم کیا تھا جو دائمی بیماریوں کی روک تھام یا بڑھتے ہوئے خطرے میں کردار کی تجویز کرتے ہیں، اور ضروری غذائی اجزاء کی کافی مقدار کو یقینی بنانے کی بنیاد پر۔ پروٹین کے لیے AMDR پروٹین سے 10% سے 35% کیلوریز ہے۔

پروٹین کا تجویز کردہ یومیہ الاؤنس 0.36 گرام فی پاؤنڈ جسمانی وزن (0.8 گرام فی کلوگرام جسمانی وزن) ہے۔ یہ 150 پاؤنڈ والے شخص کے لئے 56 گرام کے برابر ہے۔
تاہم، اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ اس نمبر کو کم از کم یومیہ الاٹمنٹ سمجھا جاتا ہے، اور کوئی اوپری حد مقرر نہیں ہے۔ درحقیقت، بہت سے مطالعات نے اس کم سے کم سے تین سے چار گنا زیادہ پروٹین والی غذاوں کا جائزہ لیا ہے اور وزن کے انتظام، جسمانی ساخت، ہارمون ریگولیشن، اور قلبی صحت کے لیے ثابت شدہ فوائد ہیں۔
ان مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر لوگوں کے لیے پروٹین کی زیادہ سے زیادہ مقدار ممکنہ طور پر 1.2 سے 1.8 گرام فی کلوگرام جسمانی وزن میں ہوتی ہے (اسی 150 پاؤنڈ والے شخص کے لیے 82 سے 122 گرام)، اور یہ کہ جو لوگ بہت متحرک ہیں وہ اس سے بھی زیادہ کھانے پر بہترین نتائج دیکھ سکت

26/06/2026

سانس پھولنے کیلئے مجرب
ھوالشافی
۔تخم السی تخم اسپند ہموزن لیکر سفوف بنالیں ڈیڑھ گرام کی دو خوراک دو دن کھلا دو تیسرے دن سانس نہیں پھولے گا. ان شاءاللہ
جن کو رات میں سانس لینا مشکل ہوتا ہے

05/06/2026

👌کالی مرچ کے فائدے 👌
کالی مرچ سے کریں معدے کے مسائل دور
کالی مرچ کا نام کس نے نہیں سنا ہوگا ۔ یہ دنیا بھر میں عام استعمال کی جانے والی اور باآسانی دستیاب مرچ ہے ۔ کالی مرچ کو مصالحوں کی ملکہ بھی کہا جاتا ہے ۔ کالی مرچ دراصل ایک پھل دار بیل ہوتی ہے جسے کاشت کرنے کا مقصد اس کا پھل حاصل کرنا ہوتا ہے ۔ اسے خشک کرنے کے بعد مصالحے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ، کالی مرچ کا کھانوں میں استعمال صدیوں سے جاری ہے ۔ یہ نہ صرف کھانے کا ذائقہ (Taste) بڑھاتی ہے بلکہ جسم کو کئی اقسام کی بیماریوں اور نقصان پہنچانے والے جراثیم سے بھی محفوظ رکھتی ہے ۔ قبل از مسیح سے اسے ادویاتی طور پر استعمال کیا جارہا ہے ، یوں تو کالی مرچ سے جسم کو لاتعداد فوائد حاصل ہوتے ہیں لیکن یہ معدے کے لیے خاص طور سے بے حد مفید ہے ۔ کالی مرچ معدے کو تحریک دے کر ہائیڈروکلورک نامی ایسڈ میں اضافہ کا باعث بنتی ہے اور یہ ایسڈ پروٹین اور دیگر غذاؤں کو ہضم کرنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ غذائیں مناسب طریقہ سے ہضم ہونے کے باعث آپ کبھی بھی ڈائریا یا قبض کا شکار نہیں ہوں گے۔
کالی مرچ میں اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی سیپٹک، اینٹی فنگل اور اینٹی ٹیومر خصوصیات ہوتی ہیں ۔ یہ معدے میں کسی بھی قسم کے انفیکشن کو ہونے سے روکتا ہے ۔ پیٹ کی گرمی ، بھوک نہ لگنے اور جگر کو صاف کرنے کے لیے بے حد مفید ہے ۔ کالی مرچ میں موجود پائپ رائن لبلبہ اور آنتوں میں موجود ہضم کرنے میں معاون انزائمز کی گردش کو تیز کردیتاہے ۔ اس کے علاوہ سیاہ مرچ جگر میں پت اور اس سے بننے والے ایسڈ کو بھی بڑھاتی ہے جو آنتوں کو کھانا ہضم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے ۔ کالی مرچ مختلف تیل اور کیمیکلز کی وجہ سے جسم میں بننے والے اسحال یا ڈائریا کے اثرات کو بھی کم کرتی ہے ۔ اس سے اعصابی نظام تیز ہوتا ہے اور پیٹ کے کیڑے مرتے ہیں ۔ کالی مرچ کھانے سے جسم میں پسینہ بنتا ہے جس سے جسم کادرجہ حرارت کم ہو جاتا ہے ۔کالی مرچ کو معدے کے مختلف مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کرنے کے چند آسان طریقے مندرجہ ذیل ہیں :
*گیسٹرک کے مرض کے لیے ایک کپ پانی میں آدھا لیمبو نچوڑ لیں ۔ اب اس میں ایک چٹکی کالی مرچ پاؤڈر ڈال دیں ۔ اس پانی کو کھانے کے بعد دن میں دو بار پئیں ۔ معدے کو کافی آرام ملے گا ۔
*اگر کھانا ہضم کرنے میں دیر لگتی ہو تو پسی ہوئی کالی مرچ، سونٹھ کا پاؤڈر، پسا ہوا زیرہ اور نمک برابر کی مقدار میں مکس کر لیں ۔ اس چورن کو دن میں دو بار کھانے کے بعد گرم پانی کے ساتھ استعمال کریں ۔ معدہ کھانا جلدی ہضم کرے گا ۔
*اگر پیٹ میں گیس بن جاتی ہو تو لسی کی ملائی ہٹا کر اس میں ایک چٹکی کالی مرچ اور ایک چٹکی پسا ہوا زیرہ ملا کر پی لیں ۔ اس کے علاوہ کھانا پکانے میں بھی اگر لال مرچ کی جگہ کالی مرچ کا استعمال کیا جائے تو یہ مسئلہ کافی حد تک حل ہو سکتا ہے ۔ کالی مرچ نہ صرف پیٹ سے گیس ختم کرتی ہے بلکہ مزید گیس بننے سے بھی روکتی ہے ۔
*بھوک کم لگتی ہو تو آدھا چھوٹا چمچ کالی مرچ اور ایک بڑا چمچ شہد ملا کر کھالیں۔ روزانہ اس نسخے پر عمل کرنے سے بھوک لگنے لگے گی۔ بھوک بڑھانے کے لیے کھانے میں کالی مرچ کا استعمال مفید ہے ۔
*پیٹ میں کیڑے ہوجانا ایک عام اصطلاح ہے جسے معدے کی بیماریوں میں ایک بیماری تصور کیا جاتا ہے ۔ اکثر بچوں کو یہ تکلیف ہو جاتی ہے ۔ یہ بڑی آنت میں ہونا والا ایک ایسا انفیکشن ہوتا ہے جس سے کھانا سہی طرح ہضم نہیں ہوپاتا جس کے باعث پیٹ میں درد رہنے لگتا ہے ۔ یہ درد رات کے وقت زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔ کالی مرچ پیٹ کے کیڑے مارنے میں کا رآمد ہے ۔ ایک گلاس لسی (ملائی ہٹا کر)لیں۔ اس میں تھوڑی سی پسی کالی مرچ شامل کرلیں۔ اسے نہار منہ پینے سے پیٹ کی یہ تکلیف دور ہوجائے گی ۔
*فوڈ پوائزننگ یا الٹی کی شکایت ہو توچٹکی بھر پسی کالی مرچ ایک چھوٹے چمچ مکھن میں ملا کر رکھ لیں ۔ اس کی تھوڑی تھوڑی مقدار وقفے وقفے سے استعمال کریں ۔ یہ نسخہ اسحال یا ڈائریا کے مرض میں بھی فائدہ کرتا ہے ۔
*کالی مرچ قبض کے مریضوں کے لیے بھی فائدے مند ہے ۔ قبض سے نجات حاصل کرنے کے لیے کھانوں میں کالی مرچ کا استعمال بڑھائیں ۔

Address

Bahawalpur
63100

Telephone

+923009685129

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when الاحمد کلینک قدرتی ادویات اورعلاج بالتدبیرحجامہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to الاحمد کلینک قدرتی ادویات اورعلاج بالتدبیرحجامہ:

Shortcuts

Share