22/07/2026
جس طرح بلوغت میں جسم ایک فیز سے دوسرے فیز میں داخل ہوتا ہے اور ہر چیز بدل جاتی ہے ۔ بالکل اسی طرح مینوپاز میں جسم دوسرے فیز سے تیسرے فیز میں داخل ہوتا ہے اور پھر بہت سی تبدلیاں آ جاتی ہیں ۔
اہم بات یہ ہے کہ اس فیز میں درپیش مشکلات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ صرف ہڈیوں کی پرواہ کر جائے اور یادداشت کی خرابی کو نظر انداز کر دیا جائے ۔ جلد کو دیکھا جائے اور شوگر کا دھیان نہ کیا جائے ۔ چہرے پہ دھبے تو پریشان کریں مگر بڑھے ہوا پیٹ اور موٹاپے پہ دھیان نہ دیا جائے ۔
یاد رکھیے ہر سسٹم ڈھلان پہ کھڑا ہے ۔ ایک ہلکا سا دھکا اور بس …
تو جناب آپ نے اپنے جسم کو سر سے پیر تک مانیٹر کرنا ہے ۔
موٹاپا کم کرنا ہے ۔
خوراک میں روٹی چاول اور میٹھے کی بجائے سلاد اور دال سے پیٹ بھرنا ہے ۔ سالن میں تری کم سے کم ۔
مشروبات چھوڑنے ہیں ۔ چائے بغیر چینی کے پینی ہے ۔
روزانہ تین سے چار کلومیٹر واک کرنی ہے دونوں ہاتھوں میں ایک لیٹر کی بوتل پکڑ کے ۔
جگر ، گردے کولیسٹرول ، وٹامن ڈی اور شوگر کا ٹیسٹ ہر چھ ماہ کے بعد ۔
میموگرافی سالانہ ۔
کیلشیم اور آئرن کی گولی روزانہ ۔
کوئی نہ کوئی مشغلہ شروع کرنا ہے جیسے گارڈننگ ، کروشیا ، سویٹر بننا ۔
یہ سب کرنے کے بعد اگر آپ ایچ آر ٹی شروع کرنا چاہتی ہیں تو اس کے لیے کچھ ضروری باتیں :
بچے دانی اگر موجود ہے تو مائیرینا رکھوائی جائے گی
ایچ آرٹی گولیوں کی صورت میں ہر گز نہیں لینی ، صرف جیل یا پیچز ۔
مانیٹرنگ کے بغیر ایچ آر ٹی نہیں لینی ۔
ہڈیوں کو بھربھرے پن سے بچانے کے لیے کولاجن کی گولیاں کھانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ کولاجن وہی اچھی جو جسم خود تیار کرے ۔
بائیو ایچ آر ٹی ابھی تک ایف ڈی اے سے اپرووو نہیں اس لیے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ۔
اگر آپ کی مالی حالت کمزور ہے تو کوشش کیجیے کہ ہر وہ خرچ چھوڑ دیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ۔
خوراک انتہائی سادہ ۔ پائے ، نہاری ، سری ، پکوڑے سموسے سمیت سب کچھ چھوڑ دیں ۔
وزن ڈائیٹنگ سے نہیں ، ورزش سے کم کریں ۔
A1C چھ سے کم رکھیں