Doctor Zainab Malik

Doctor Zainab Malik Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Doctor Zainab Malik, Women's Health Clinic, Medical Colony, Lane no;3, House , Bahawalpur Punjab, Bahawalpur.
(2)

Consultant Gynecologist | Fertility Expert | PCOS Specialist | IUI Expert | Digital Doctor | Call for online consultation 👉+923076456060

🏡
Zainab Fertility Center,
Medical Colony,Line #3,House No.7B Bahawalpur
5:00 PM – 9:00 PM

WhatsApp: +923297858208

🇵🇰 جشنِ آزادی مبارک! 🇵🇰آزادی صرف ایک دن منانے کا نام نہیں، بلکہ اپنے وطن کی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کے لیے اپنا کردار ا...
14/08/2026

🇵🇰 جشنِ آزادی مبارک! 🇵🇰

آزادی صرف ایک دن منانے کا نام نہیں، بلکہ اپنے وطن کی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد ہے۔

آئیے اس یومِ آزادی پر عہد کریں کہ ہم اپنے وطن سے محبت کو اپنے عمل سے ثابت کریں گے، ایک دوسرے کا احترام کریں گے اور پاکستان کو ایک صحت مند، پُرامن اور خوشحال ملک بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو ہمیشہ سلامت، مضبوط اور خوشحال رکھے۔ آمین۔ 🇵🇰💚

پاکستان زندہ باد!

ہر ماہ پیریڈز میں اتنا درد کہ روزمرہ کے کام مشکل ہو جائیں؟یہ ہمیشہ نارمل نہیں ہوتا۔شدید ماہواری کے درد کی وجہ ہو سکتی ہے...
11/08/2026

ہر ماہ پیریڈز میں اتنا درد کہ روزمرہ کے کام مشکل ہو جائیں؟
یہ ہمیشہ نارمل نہیں ہوتا۔

شدید ماہواری کے درد کی وجہ ہو سکتی ہے:

🔸 Endometriosis
🔸 Adenomyosis
🔸 Fibroids
🔸 Pelvic Infection
🔸 دیگر گائناکولوجیکل مسائل

🚨 کب ڈاکٹر سے ضرور ملیں؟

اگر درد اتنا شدید ہو کہ آپ کو بار بار painkillers لینی پڑیں، کام/پڑھائی متاثر ہو، یا درد وقت کے ساتھ بڑھ رہا ہو۔

💗 یاد رکھیں:

"ہر ماہ درد برداشت کرنا ضروری نہیں—وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔"

Dr. Zainab Malik
Consultant Gynecologist & Infertility Specialist

💬
آپ کو ماہواری کے دوران سب سے زیادہ کس مسئلے کا سامنا ہوتا ہے؟

🅰️ شدید درد
🅱️ بہت زیادہ خون آنا
🅲️ بے قاعدہ ماہواری
🅳️ موڈ میں تبدیلی

اکثر میاں بیوی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر حمل نہ ٹھہرے تو فوراً IVF ہی واحد حل ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔بہت سے جوڑوں میں ...
09/08/2026

اکثر میاں بیوی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر حمل نہ ٹھہرے تو فوراً IVF ہی واحد حل ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
بہت سے جوڑوں میں صرف درست تشخیص، مناسب ادویات، اوویولیشن مانیٹرنگ یا IUI سے ہی کامیاب حمل ٹھہر جاتا ہے۔ IVF صرف ان مریضوں کے لیے تجویز کیا جاتا ہے جنہیں واقعی اس کی ضرورت ہو۔
جلد بازی میں فیصلہ کرنے کے بجائے پہلے مکمل معائنہ اور ماہر سے مشورہ ضرور کریں۔
💬
اگر آپ کو ایک سال سے حمل نہیں ٹھہر رہا، تو آپ کے خیال میں پہلا قدم کیا ہونا چاہیے؟
🅰️ IVF کروانا
🅱️ مکمل معائنہ اور ٹیسٹ
🅲️ دیسی نسخے آزمانا
🅳️ انتظار کرنا

08/08/2026

Alhamdulillah! A Patient Blessed With a Baby After 10 Years of Marriage ❤️ With the Help of Dr. Zainab Malik’s Treatment

حاملہ خواتین کی ذہنی صحت کو نظرانداز نہ کریں — ایک حقیقی واقعہ، ایک بڑا سبقآج میں آپ سے ایک ایسا حقیقی واقعہ شیئر کرنا چ...
06/08/2026

حاملہ خواتین کی ذہنی صحت کو نظرانداز نہ کریں — ایک حقیقی واقعہ، ایک بڑا سبق

آج میں آپ سے ایک ایسا حقیقی واقعہ شیئر کرنا چاہتی ہوں جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔

یہ ایک صرف 24 سالہ حاملہ خاتون کی کہانی ہے، جس کی حمل کو پانچ ماہ ہو چکے تھے۔ اس کی شادی اپنے رشتہ داروں میں ہوئی تھی اور وہ مشترکہ خاندان میں رہتی تھی۔ اس کا شوہر ملازمت کے سلسلے میں دوسرے شہر میں تھا۔

کچھ دنوں سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔ اس نے اپنی والدہ کو فون کر کے کہا:

"میری طبیعت ٹھیک نہیں، مجھے یہاں سے لے جائیں۔"

والدہ نے یہی سمجھا کہ شاید کوئی لڑائی جھگڑا ہوا ہو یا معمول کی ناراضگی ہوگی، اس لیے اسے صبر اور سمجھوتے کا مشورہ دے دیا۔

اس نے اپنے بھائی کو بھی پیغام بھیجا کہ وہ بہت پریشان ہے، لیکن وہ بھی چھٹی نہ ملنے کی وجہ سے نہ آ سکا۔

کسی نے اس کی تکلیف کی شدت کو نہیں سمجھا۔

اسی ذہنی کیفیت میں اس نے تیزاب پی لیا۔

بدقسمتی سے اس کے بعد بھی ایک بڑی غلطی ہوئی۔ اسے فوراً اسپتال لے جانے کے بجائے یہ کہا گیا کہ دودھ پینے سے تیزاب کا اثر ختم ہو جائے گا، تو اس نے دودھ پی لیا حالانکہ یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔

پھر اسے ایک پرائیویٹ اسپتال لے جایا گیا، جہاں سے جواب مل گیا۔ بعد میں دوسرے اسپتال اور آخرکار تقریباً 24 گھنٹے بعد شہر کے بڑے ہسپتال لایا گیا۔

تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

تیزاب اس کی خوراک کی نالی اور سانس کی نالی کو شدید نقصان پہنچا چکا تھا۔ ڈاکٹرز نے بھرپور کوشش کی، وہ 21 دن آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر رہی، لیکن آخرکار وہ اور اس کے پیٹ میں پلنے والا بچہ دونوں دنیا سے رخصت ہو گئے۔

بعد میں سب افسوس کرتے رہے، ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہراتے رہے، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

میں نے اپنے وارڈ میں اس کے برعکس ایک اور کیس بھی دیکھا۔ ایک حاملہ خاتون نے تیزاب پیا، لیکن گھر والوں نے اسے کچھ کھلانے پلانے کے بجائے فوراً ایمرجنسی پہنچایا۔ بروقت علاج کی وجہ سے نہ صرف اس کی جان بچ گئی بلکہ بعد میں اس کے بچے کی بھی محفوظ نارمل ڈلیوری ہوئی۔

اس واقعے سے ہمیں دو بہت اہم سبق ملتے ہیں:

1. تیزاب یا کسی بھی زہریلی چیز کے استعمال کی صورت میں گھر کے ٹوٹکے نہ آزمائیں۔ مریض کو فوراً ایمرجنسی میں لے جائیں۔ بروقت علاج جان بچا سکتا ہے۔

2. حمل صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی ایک نہایت حساس دور ہوتا ہے۔ ہارمونل تبدیلیاں، ڈپریشن، اینگزائٹی اور شدید ذہنی دباؤ اس دوران پیدا ہو سکتے ہیں۔

اگر کوئی حاملہ خاتون بار بار کہہ رہی ہو کہ وہ پریشان ہے، گھبرا رہی ہے، یا مدد چاہتی ہے، تو اس کی بات کو معمولی نہ سمجھیں۔

اسے سنیں، اس کا ساتھ دیں، اسے اکیلا نہ چھوڑیں، اور ضرورت ہو تو فوری طور پر ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

کبھی کبھی صرف وقت پر سنی گئی ایک بات، ایک فون کال، یا ایک قدم، دو زندگیاں بچا سکتا ہے۔

حاملہ عورت کو صرف طبی دیکھ بھال ہی نہیں، بلکہ محبت، توجہ اور جذباتی سہارا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
ڈاکٹر زینب ملک

05/08/2026

"آپ نے میرے بیٹے کو مار دیا ہے۔"
یہ وہ پہلے الفاظ تھے جو اُس نے مجھ سے کہے۔
عجیب بات؟
اُس کا بیٹا ابھی زندہ تھا۔
وہ میرے آپریشن ٹیبل پر لیٹا ہوا تھا۔
اینستھیٹسٹ (بے ہوشی کے ڈاکٹر) اسے زندہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔
اور مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ آیا وہ اگلے چند منٹ بھی زندہ رہ سکے گا یا نہیں۔..
چند دن پہلے میں نے اس واقعے کا صرف ساٹھ سیکنڈ کا حصہ وجے وکرم سنگھ (بگ باس کی مشہور آواز) کے پوڈکاسٹ میں بیان کیا تھا۔
اس کے بعد لاکھوں لوگوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر اس کی ویڈیوز دیکھیں۔
ہزاروں لوگوں نے تبصرے کیے۔
اور بہت سے لوگوں نے مجھ سے ایک ہی سوال پوچھا۔
"اصل میں ہوا کیا تھا؟"
یہ اسی سوال کا جواب ہے۔
یہ نوجوان کئی سال پہلے ایک خوفناک موٹر سائیکل حادثے میں بچ گیا تھا۔
اس نے ہیلمٹ نہیں پہنا ہوا تھا۔
اس کی موٹر سائیکل ایک ڈمپر ٹرک سے ٹکرا گئی۔
اس کا چہرہ بری طرح کچلا جا چکا تھا۔
اس کے کئی آپریشن ہو چکے تھے۔
وہ زندہ تو بچ گیا تھا۔
لیکن زندہ بچ جانا اور مکمل صحت یاب ہونا ایک جیسی بات نہیں ہوتی۔
وہ میرے پاس اس لیے آیا کیونکہ وہ اپنا چہرہ دوبارہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔
کوئی کامل خوبصورتی نہیں۔
صرف ایک عام زندگی۔
یہ چہرے کی دوبارہ تعمیر (Reconstructive Surgery) کا منصوبہ بند آپریشن تھا۔
کوئی ہنگامی صورتحال نہیں تھی۔
یہ جان بچانے والا آپریشن بھی نہیں تھا۔
آپریشن سے ایک شام پہلے میری ٹیم نے اسے وہی ہدایات دیں جو جنرل اینستھیزیا سے پہلے ہر مریض کو دی جاتی ہیں۔
کچھ نہ کھائیں۔
کچھ نہ پئیں۔
یہاں تک کہ پانی بھی نہیں۔
اس نے یہ ہدایات سمجھ لیں۔
اس کے اہلِ خانہ نے بھی سمجھ لیں۔
اگلی صبح آپریشن تھیٹر میں جانے سے پہلے اس نے ایک تحریری اقرار نامے پر دستخط کیے کہ اس نے تمام ہدایات پر عمل کیا ہے۔
صبح آٹھ بجے آپریشن شروع ہوا۔
پہلا چیرا لگایا گیا۔
سر کی جلد کو احتیاط سے اٹھایا گیا۔
چہرے کی ہڈیوں تک رسائی حاصل کی گئی۔
سب کچھ منصوبے کے مطابق چل رہا تھا۔
پھر...
اینستھیٹسٹ نے میری طرف دیکھا۔
وہ نظر...
ہر سرجن اس نظر کو پہچانتا ہے۔
کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
"آکسیجن سیچوریشن تیزی سے گر رہی ہے۔"
ہم نے فوراً سب کچھ روک دیا۔
جب مریض جنرل اینستھیزیا میں ہوتا ہے تو صرف ایک چیز اہم ہوتی ہے۔
اس کی جان بچانا۔
باقی سب کچھ غیر اہم ہو جاتا ہے۔
نہ آپریشن۔
نہ شیڈول۔
نہ باہر انتظار کرتے مریض۔
کچھ بھی نہیں۔
ہم نے بار بار اس کے سانس کی نالی صاف کی۔
پھر ہمیں وہ چیز نظر آئی۔
دودھ۔
اس نے آپریشن سے پہلے دودھ پی لیا تھا۔
بے ہوشی کے بعد وہ دودھ اس کی سانس کی نالی میں چلا گیا تھا۔
چند لمحوں میں چہرہ بنانے کا آپریشن جان بچانے کی جنگ میں بدل گیا۔
ہمیں آپریشن روکنا پڑا۔
کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔
میں باہر آیا تاکہ اہلِ خانہ کو صورتحال بتا سکوں۔
لیکن میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی...
"آپ نے میرے بیٹے کو مار دیا ہے۔"
مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے۔
اس لیے نہیں کہ مجھ پر الزام لگایا گیا تھا۔
بلکہ اس لیے کہ میں خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا۔
ڈاکٹر ش*ذ و نادر ہی اپنی بے بسی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ سرجن ہمیشہ پُرسکون ہوتے ہیں۔
پراعتماد ہوتے ہیں۔
اور ہر وقت حالات پر مکمل قابو رکھتے ہیں۔
حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔
ایسے لمحے آتے ہیں جب طب آپ کو اس قدر عاجز کر دیتی ہے کہ آپ کو احساس ہوتا ہے کہ درحقیقت ہم میں سے کسی کے ہاتھ میں مکمل اختیار نہیں۔
مجھے یاد ہے کہ میں نے صرف ایک جملہ کہا تھا۔
**"مجھے ابھی نہیں معلوم کہ کیا ہوگا۔
لیکن وہ ابھی زندہ ہے۔
براہِ کرم ہمیں اسے زندہ رکھنے کی کوشش کرنے دیں۔"**
ہم نے اسے فوراً ایک بڑے تخصصی اسپتال منتقل کیا۔
میں خود ایمبولینس میں اس کے ساتھ گیا۔
اینستھیزیا کی پوری ٹیم بھی ہمارے ساتھ تھی۔
اگلے سات دن وہ انتہائی نگہداشت (ICU) میں رہا۔
ہر صبح اپنا پہلا مریض دیکھنے سے پہلے...
میں آئی سی یو جاتا تھا۔
کسی نے مجھ سے ایسا کرنے کو نہیں کہا تھا۔
میں صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا وہ ایک اور رات گزارنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر آپریشن کے بعد اسپتال چھوڑ دیتے ہیں۔
کبھی ایسا ہوتا ہے۔
لیکن کبھی مریض جسمانی طور پر نہیں، بلکہ ذہنی اور جذباتی طور پر ڈاکٹر کے ساتھ گھر چلا جاتا ہے۔
خاموشی سے۔
سات دن تک وہ میرے ذہن سے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں نکلا۔
خوش قسمتی سے...
وہ بچ گیا۔
ایک ہفتے بعد ہم دوبارہ آپریشن تھیٹر میں گئے۔
ہم نے اس کے چہرے کی تعمیر مکمل کی۔
اس کا چہرہ صحت یاب ہو گیا۔
زندگی آگے بڑھ گئی۔
میری بھی۔
تقریباً۔
کیونکہ ایک سوال آج بھی میرے ساتھ ہے۔
کیوں؟
جو لوگ آپ کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہوں، اُن سے سچ کیوں چھپایا جائے؟
یہ تحریر مریضوں کو قصوروار ٹھہرانے کے لیے نہیں ہے۔
یہ اس سے کہیں بڑی بات کے بارے میں ہے۔
صحت ایک لین دین نہیں۔
یہ ایک شراکت داری ہے۔
سرجری بھی کوئی سودا نہیں۔
یہ بھی ایک شراکت داری ہے۔
ہر شراکت داری میں حقوق ہوتے ہیں۔
اور ہر شراکت داری میں ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں۔
سرجن اپنی برسوں کی تربیت لاتا ہے۔
اینستھیٹسٹ اپنی مسلسل نگرانی لاتا ہے۔
نرسیں نظم و ضبط لاتی ہیں۔
اسپتال اپنا نظام لاتا ہے۔
اور مریض صرف ایک چیز لاتا ہے۔
سچ۔
اگر سچ نہ ہو...
تو باقی سب کچھ کمزور ہو جاتا ہے۔
ہم مریضوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔
اور ضرور کرنی چاہیے۔
ہم طبی غفلت کی بات کرتے ہیں۔
اور ضرور کرنی چاہیے۔
ہم احتساب کی بات کرتے ہیں۔
اور یقیناً کرنی چاہیے۔
لیکن کیا کوئی شراکت داری اس وقت قائم رہ سکتی ہے جب ذمہ داری صرف ایک فریق پر ہو؟
اگر آپ اپنی دوائیں لینا بھول گئے ہوں...
ہمیں بتائیں۔
اگر آپ نے کچھ کھایا ہو...
ہمیں بتائیں۔
اگر آپ نے پانی بھی پیا ہو...
ہمیں بتائیں۔
اگر آپ ہدایات پر مکمل عمل نہ کر سکے ہوں...
ہمیں بتائیں۔
سچ بولنے پر کبھی آپ کو برا نہیں سمجھا جائے گا۔
لیکن یہی سچ آپ کی جان بچا سکتا ہے۔
اور آخر میں، اُس ہفتے میں نے ایک اور سبق سیکھا۔
"شکریہ ڈاکٹر"
اور
"آپ نے میرے بیٹے کو مار دیا ہے"
ان دو جملوں کے درمیان کبھی کبھی صرف ساٹھ سیکنڈ کا فاصلہ ہوتا ہے۔
طب معجزوں پر نہیں، اعتماد پر قائم ہے۔
اور اعتماد صرف اسی وقت قائم رہتا ہے جب وہ دونوں طرف سے یکساں طور پر نبھایا جائے۔
— ڈاکٹر دیبراج شوم
مصنف: Doctors Are Not Murderers اور Dear People, With Love and Care, Your Doctors

ڈاکٹر قاتل نہیں ہوتے۔

کئی خواتین معمول کے سفید پانی کو بھی انفیکشن سمجھ کر خود سے دوائیں استعمال کرنا شروع کر دیتی ہیں، جبکہ بعض اوقات یہ جسم ...
04/08/2026

کئی خواتین معمول کے سفید پانی کو بھی انفیکشن سمجھ کر خود سے دوائیں استعمال کرنا شروع کر دیتی ہیں، جبکہ بعض اوقات یہ جسم کا ایک نارمل عمل ہوتا ہے۔ لیکن اگر سفید پانی کے ساتھ بدبو، خارش، جلن، سبز یا پیلا رنگ، یا درد بھی ہو تو یہ انفیکشن کی علامت ہو سکتی ہے اور بروقت معائنہ ضروری ہے۔
یاد رکھیں: صحیح تشخیص کے بغیر علاج شروع کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
💬
آپ کے خیال میں سفید پانی کب نارمل ہوتا ہے اور کب خطرناک؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔

04/08/2026

Varicocele Explained: Is It a Cause of Male Infertility? Should You Get Surgery? | Complete Guide by Dr Ejaz Anjum





بہت سی خواتین سمجھتی ہیں کہ اگر ماہواری بے قاعدہ ہو جائے تو لازماً PCOS ہے، حالانکہ ایسا ضروری نہیں۔ اس کے پیچھے کئی مخت...
02/08/2026

بہت سی خواتین سمجھتی ہیں کہ اگر ماہواری بے قاعدہ ہو جائے تو لازماً PCOS ہے، حالانکہ ایسا ضروری نہیں۔ اس کے پیچھے کئی مختلف طبی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ خود علاج کرنے کے بجائے درست تشخیص اور بروقت علاج کروانا ضروری ہے۔
❓ کیا آپ کی ماہواری کبھی بے قاعدہ رہی ہے؟ اگر ہاں، تو اس کی وجہ کیا معلوم ہوئی تھی؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں۔ ؟

🏥 ایک ماں کی جان... اور اس کی امید بھی بچ گئی | ٹیم ورک کی ایک حقیقی کہانیالحمدللہ! چند روز قبل ہفتہ کی رات ہماری ایمرجن...
29/07/2026

🏥 ایک ماں کی جان... اور اس کی امید بھی بچ گئی | ٹیم ورک کی ایک حقیقی کہانی

الحمدللہ! چند روز قبل ہفتہ کی رات ہماری ایمرجنسی میں ایک ایسا کیس آیا جس نے پوری ٹیم کو فوری اور مسلسل جدوجہد پر مجبور کر دیا۔

ایک حاملہ خاتون انتہائی تشویشناک حالت میں ہمارے پاس لائی گئیں۔ ان کے پہلے دو سیزیرین آپریشن ہو چکے تھے۔ ایک بچی زندہ ہے جبکہ ایک بچے کو وہ پہلے ہی کھو چکی تھیں۔ اس بار حمل کے آٹھویں مہینے کے آغاز میں اچانک شدید درد شروع ہوا، اور معائنے سے معلوم ہوا کہ ان کی بچہ دانی (Uterus) پھٹ چکی تھی۔

یہ زچگی کی سب سے خطرناک ایمرجنسیوں میں سے ایک ہوتی ہے، جہاں ہر گزرتا لمحہ ماں کی زندگی کے لیے قیمتی ہوتا ہے۔

ہم نے فوری طور پر بلڈ بینک سے خون کا انتظام کیا۔ مریضہ کو خون اور خون کے دیگر ضروری اجزاء (Blood Components) کی متعدد بوتلیں لگائی گئیں اور بغیر کسی تاخیر کے آپریشن تھیٹر منتقل کیا گیا۔

ایسے کیس میں، جب کسی خاتون کی صرف ایک ہی زندہ اولاد ہو، تو ہماری پوری کوشش یہی ہوتی ہے کہ صرف جان ہی نہیں بلکہ بچہ دانی بھی محفوظ رہے تاکہ مستقبل میں اس کی امید برقرار رہے۔

آپریشن کے دوران معلوم ہوا کہ بچہ دانی بری طرح پھٹ چکی تھی۔ اوپر، نیچے اور اطراف سے شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس کے ساتھ مثانہ (Bladder) بھی متاثر ہو چکا تھا۔

تقریباً دو سے تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس پیچیدہ سرجری میں متعدد ٹانکے لگا کر بچہ دانی کو احتیاط سے ریپیئر کیا گیا، مثانے کی چوٹ کا بھی علاج کیا گیا، اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مریضہ کی جان بھی بچ گئی اور اس کی بچہ دانی بھی محفوظ رہی۔

یہ کسی ایک ڈاکٹر کی کامیابی نہیں تھی۔

یہ ہماری پوری ٹیم کی بروقت منصوبہ بندی، باہمی تعاون، اینستھیزیا ٹیم، آپریشن تھیٹر اسٹاف، بلڈ بینک اور تمام طبی عملے کی مشترکہ محنت کا نتیجہ تھا۔ ایسے مشکل کیسز میں جان بچانے کے لیے پوری ٹیم ایک جسم کی طرح کام کرتی ہے۔

آپریشن کے بعد مریضہ کے شوہر اور اہلِ خانہ کو تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔ انہیں واضح ہدایت دی گئی کہ کم از کم 4 سے 5 سال تک دوبارہ حمل نہ ٹھہرنے دیں تاکہ بچہ دانی مکمل طور پر مضبوط ہو سکے۔ اگر بہت جلد دوبارہ حمل ٹھہر جائے تو دوبارہ بچہ دانی پھٹنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ آئندہ حمل کی صورت میں آٹھویں مہینے سے پہلے ہی ہسپتال میں داخل ہو کر مسلسل نگرانی کروانا ضروری ہوگا۔

تمام خواتین کے لیے ایک اہم پیغام

اگر پہلے سیزیرین ہو چکا ہو اور حمل کے دوران معمول سے ہٹ کر درد، خون آنا یا کوئی بھی غیر معمولی علامت محسوس ہو تو گھر میں انتظار نہ کریں۔ فوراً کسی مستند ہسپتال اور ماہر گائناکولوجسٹ سے رجوع کریں۔

اسی طرح سیزیرین جیسے اہم آپریشن ہمیشہ رجسٹرڈ MBBS ماہر گائناکولوجسٹ سے اور مناسب سہولیات والے ہسپتال میں کروائیں، کیونکہ بروقت اور درست فیصلہ ماں اور بچے دونوں کی زندگی بچا سکتا ہے۔

الحمدللہ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور پوری ٹیم کی مشترکہ کوشش سے ہم ایک اور ماں کی جان اور اس کی امید دونوں محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ 🤲💙
ڈاکٹر زینب ملک
گائناکالوجسٹ

Address

Medical Colony, Lane No;3, House #7B, Bahawalpur Punjab
Bahawalpur
63100

Opening Hours

Monday 17:00 - 21:00
Tuesday 17:00 - 21:00
Wednesday 17:00 - 21:00
Thursday 17:00 - 21:00
Friday 17:00 - 21:00
Saturday 17:00 - 21:00

Telephone

+923076456060

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Doctor Zainab Malik posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Doctor Zainab Malik:

Shortcuts

Share