Dr Syed Faiz ur Rehman Shah

Call Directions

Dr Syed Faiz ur Rehman Shah As friend list is Full so new friends like my page plz

12/10/2026
25/09/2026

بزرگوں کی دعائیں

زندگی میں کچھ ملاقاتیں صرف ملاقاتیں نہیں ہوتیں، بلکہ نعمت بن جاتی ہیں۔ بزرگوں کی صحبت بھی ایسی ہی ایک نعمت ہے۔

ان کے چہروں پر تجربے کی روشنی، گفتگو میں حکمت اور دعاؤں میں ایسی تاثیر ہوتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

دنیا کی بہت سی کامیابیاں انسان اپنی محنت سے حاصل کر لیتا ہے، مگر کسی بزرگ کی دل سے نکلی ہوئی دعا زندگی میں ایسی برکت پیدا کر سکتی ہے جو برسوں انسان کے ساتھ چلتی ہے۔

بزرگوں کی موجودگی کو غنیمت جانیں، ان کا ادب کریں، ان کی خدمت کریں، ان کی صحبت میں بیٹھیں اور ان کی دعائیں لیں۔
کیونکہ جب یہ سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ ہم کتنی بڑی نعمت کے قریب رہ کر بھی اس کی قدر نہ کر سکے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بزرگوں کی قدر، ان کا ادب اور ان کی دعاؤں کی برکت نصیب فرمائے۔ آمین۔

23/09/2026

خفیفُ الروح

کچھ لوگ دوسروں کے لیے محض انسان نہیں، سکون کی پناہ گاہ ہوتے ہیں۔

ان کے سامنے نہ الفاظ تولنے پڑتے ہیں، نہ نیتیں سمجھانی پڑتی ہیں۔ آدمی بے خوف ہو کر دل کی بات کہہ دیتا ہے اور اپنا بوجھ ہلکا کر لیتا ہے۔

خفیفُ الروح ہونا شاید یہی ہے کہ تمہاری قربت کسی کے دل پر بوجھ نہ بنے، بلکہ اس کے تھکے ہوئے دل پر سکون کی ہلکی سی چھاؤں رکھ جائے۔

20/09/2026

🌿 مستجاب دعائیں

دعا، امید اور یقین

دعا بندے اور اس کے رب کے درمیان وہ خوبصورت تعلق ہے، جہاں بندہ اپنی بے بسی، اپنے دکھ اور اپنی امیدیں لے کر اپنے رب کے حضور جھک جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾

دعا صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ اخلاص، یقین، توبہ، حلال رزق، صبر اور اللہ پر کامل بھروسے کا نام ہے۔

کبھی دعا کا جواب فوراً مل جاتا ہے، کبھی اسے آخرت کے لیے محفوظ کر دیا جاتا ہے، اور کبھی اسی دعا کے ذریعے کوئی آنے والی مصیبت ٹال دی جاتی ہے۔ اس لیے دعا میں تاخیر ہو تو امید میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

🌿 حضرت یونسؑ کی دعا

لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ

🌿 اسمِ اعظم کے ساتھ دعا

اللَّهُمَّ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، الْمَنَّانُ، بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، إِنِّي أَسْأَلُكَ

🌿 حاجت اور پریشانی کے وقت

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ

🌿 حلال رزق اور بے نیازی

اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ

🌿 اللہ کی عطا پر یقین

اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ

🌿 گناہ اور قرض سے پناہ

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ، وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ

🌿 دنیا و آخرت کی بھلائی

اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَلَا تَحْرِمْنِي فَضْلَكَ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ

اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رِزْقِكَ، وَلَا تَجْعَلْنِي مِنَ الْقَانِطِينَ

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْحَيَاةِ وَخَيْرَ الْمَمَاتِ، فَارْحَمْنِي فِي الدُّنْيَا وَارْحَمْنِي إِذَا صِرْتُ إِلَيْكَ، يَا رَحْمَنُ يَا رَحِيمُ

اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي رِزْقًا وَاسِعًا عَظِيمًا يَتَعَجَّبُ لَهُ أَهْلُ الْأَرْضِ، يَا رَزَّاقُ يَا كَرِيمُ

🌿 بادشاہی کے مالک

اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ

🌿 اپنے رب کے سامنے عاجزی

اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ

🌿 استغفار

أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ

🌙 قبولیت کے قیمتی لمحات

رات کا آخری پہر، سجدہ، اذان و اقامت کے درمیان، نماز کے آخری حصے میں سلام سے پہلے، جمعہ کی قبولیت کی گھڑی، عرفہ کا دن اور روزہ دار کا وقتِ افطار—یہ وہ مبارک اوقات ہیں جن میں دعا کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔

اور یاد رکھیے:

دعا میں دیر ہو سکتی ہے، رب کی رحمت میں نہیں۔

اس لیے مانگتے رہیے، جھکتے رہیے، امید رکھتے رہیے۔ حرام رزق، گناہ، قطع رحمی، جلد بازی اور مایوسی سے بچتے ہوئے اپنے رب کے دروازے کو کبھی نہ چھوڑیں۔

اے اللہ! ہماری دعاؤں کو شرفِ قبولیت عطا فرما، ہمارے دلوں کو سکون دے، ہماری پریشانیاں دور فرما، ہمارے گناہ بخش دے، ہمارے رزق میں برکت عطا فرما اور ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائیاں نصیب فرما۔

آمین ثم آمین۔

19/09/2026

`

*چراغ کی روشنی* ✍🏻

ایک شخص رات کے وقت ایک سنسان راستے سے گزر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا چراغ تھا۔
راستے میں ایک آدمی نے طنز کرتے ہوئے کہا:
"تمہارے اس چھوٹے سے چراغ سے کتنی دور تک روشنی ہوگی؟"
مسافر مسکرایا اور بولا:
"مجھے پورے راستے کو روشن کرنے کی ضرورت نہیں، مجھے صرف اتنی روشنی چاہیے کہ اگلا قدم نظر آتا رہے۔"
وہ شخص خاموش ہوگیا۔
زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
ہم اکثر پوری زندگی کا راستہ ایک ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں؛ مستقبل کی فکر، آنے والے مسائل، لوگوں کے رویے اور اپنے انجام کے بارے میں سوچتے سوچتے آج کا قدم بھی بھول جاتے ہیں۔
حالانکہ ضرورت صرف اتنی ہے کہ اگلا درست قدم دکھائی دے۔
🌸 آج کا اچھا فیصلہ،
🌸 آج کی ایک نیکی،
🌸 آج کی ایک مثبت کوشش،
🌸 اور آج کا ایک صبر...
کل کے راستے کو خود روشن کر سکتا ہے۔
یاد رکھیے:
آپ کو پوری زندگی کا نقشہ نہیں چاہیے،
بس اگلا قدم درست ہونا چاہیے۔
✨ سبق:
جو شخص ہر آنے والے کل کی فکر میں آج کا سکون کھو دیتا ہے، وہ زندگی کے خوبصورت لمحے ضائع کر دیتا ہے۔

ایک معصوم پھول، ایک افسوسناک واقعہ اور سوشل میڈیا کی عدالتایک معصوم پھول کا یوں مرجھا جانا، ایک ننھی سی جان کا دنیا سے چ...
18/09/2026

ایک معصوم پھول، ایک افسوسناک واقعہ اور سوشل میڈیا کی عدالت

ایک معصوم پھول کا یوں مرجھا جانا، ایک ننھی سی جان کا دنیا سے چلے جانا، ایک ماں کی گود کا اجڑ جانا اور ایک خاندان کی امیدوں کا یوں اچانک ختم ہو جانا یقیناً ایسا سانحہ ہے جس کا درد الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس ننھی جان کے بچھڑنے پر جتنا افسوس کیا جائے، جتنے الفاظ میں دکھ، غم اور ہمدردی کا اظہار کیا جائے، شاید سب کم ہیں۔

ہم اس غمزدہ خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ والدین کے لیے اپنی اولاد کو کھونا دنیا کے مشکل ترین صدمات میں سے ایک ہے۔ ان کے غم، آنسو اور بے بسی کو سمجھنا اور ان کے ساتھ ہمدردی کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

یقیناً اگر کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہوئی ہے تو اس کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں، اور اگر کسی کی غلطی ثابت ہو تو ذمہ دار کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی بھی ہونی چاہیے۔

لیکن ایک بات ہمیں ضرور ذہن میں رکھنی چاہیے: ہر چیز ہمارے اختیار میں نہیں ہوتی۔

طب ایک ایسا شعبہ ہے جہاں پوری کوشش، بہترین نیت اور مکمل احتیاط کے باوجود بعض اوقات ایسی پیچیدگیاں اور ادویات کے ایسے ردِعمل سامنے آ سکتے ہیں جن پر نہ ڈاکٹر کا اختیار ہوتا ہے، نہ نرسنگ اسٹاف کا، نہ پیرا میڈیکل اسٹاف کا اور نہ ہی ہسپتال کے کسی دوسرے فرد کا۔

بعض اوقات آپریشن کے بعد بھی ایسی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں جو طبی کتب اور میڈیکل لٹریچر میں باقاعدہ درج ہیں۔ ڈاکٹر اپنی پوری مہارت، تجربے اور احتیاط کے ساتھ آپریشن کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود بعض پیچیدگیاں واقع ہو سکتی ہیں۔ ایسی ہر پیچیدگی کو فوراً ڈاکٹر کی غفلت یا غلط علاج قرار دینا درست نہیں۔

دنیا کے بہترین اور جدید ترین طبی مراکز میں بھی علاج اور آپریشن کے دوران غیر متوقع پیچیدگیاں اور اموات واقع ہو سکتی ہیں۔ ہر ناخوشگوار نتیجہ لازماً غفلت یا غلط علاج کی دلیل نہیں ہوتا۔

ہمارے معاشرے میں ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ کسی ناخوشگوار واقعے کے فوراً بعد ہم خود جج بھی بن جاتے ہیں، خود وکیل بھی، خود پولیس بھی، اور خود ہی فیصلہ بھی سنا دیتے ہیں۔

تحقیقات شروع بھی نہیں ہوتیں، شواہد سامنے بھی نہیں آتے، متعلقہ فریقین کا مؤقف بھی نہیں سنا جاتا، لیکن ہم پہلے ہی یہ طے کر لیتے ہیں کہ غلطی کس کی ہے اور ذمہ دار کون ہے۔

یہ طرزِ عمل انصاف نہیں، بلکہ جذبات کی بنیاد پر فیصلہ ہے۔

ڈاکٹر بھی انسان ہے۔ اس سے غلطی ہو سکتی ہے، اور اگر غلطی یا غفلت ثابت ہو تو احتساب بھی ہونا چاہیے۔ لیکن ہر ڈاکٹر کو صرف اس لیے قصوروار سمجھ لینا کہ کسی مریض کا نتیجہ ہماری توقع کے مطابق نہیں آیا، بھی درست رویہ نہیں۔

حقیقت جاننے کے لیے تحقیق ضروری ہے، الزام نہیں۔

کچھ عرصہ پہلے ہمارے ایک انتہائی قابل اور مخلص ڈاکٹر دوست کے گھر میں بھی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ وہ اپنے ہی گھر کے ایک بیمار عزیز کی دیکھ بھال کر رہے تھے اور انجکشن بھی خود لگا رہے تھے، لیکن اس کے باوجود ایک غیر متوقع واقعہ پیش آیا اور مریض جانبر نہ ہو سکا۔ ایسے واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہر طبی پیچیدگی کو فوراً کسی ایک فرد کی غفلت قرار دینا درست نہیں۔

ایک اور انتہائی اہم پہلو ہے: ہر واقعے کو تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے میڈیا اور سوشل میڈیا پر اچھال دینا بھی مناسب نہیں۔

جب کسی ڈاکٹر یا ہسپتال کے خلاف تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے سوشل میڈیا پر شدید مہم چلائی جاتی ہے، تو وہاں کام کرنے والے ڈاکٹر، نرسنگ اسٹاف اور پیرا میڈیکل اسٹاف صرف بدنامی کا شکار نہیں ہوتے بلکہ شدید ذہنی دباؤ، خوف اور ذہنی اذیت میں بھی مبتلا ہو سکتے ہیں۔

ایک ڈاکٹر کے ذہن میں یہ خوف پیدا ہو جاتا ہے:

“اگر میرے مریض کے ساتھ خدانخواستہ کوئی پیچیدگی ہو گئی تو کیا ہوگا؟”

نتیجتاً بعض ڈاکٹر پیچیدہ مریضوں کو بڑے مراکز کی طرف ریفر کرنے میں جلدی کرنے لگتے ہیں، تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے کے بعد انہیں سوشل میڈیا کی تنقید اور بدنامی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کا نقصان کبھی کبھی خود مریض اور اس کے خاندان کو بھی ہو سکتا ہے۔

اور سب سے بڑھ کر، ایک مخلص ڈاکٹر کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے:

“میں نے اتنے اخلاص اور محنت سے خدمت کی، پھر ایک ناخوشگوار واقعے کی وجہ سے میری پوری ساکھ کیوں ختم کر دی گئی؟”

یہ احساس کسی بھی خدمت کرنے والے انسان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔

میرے ایک دوست نے بنوں جیسے علاقے میں نوزائیدہ بچوں کے علاج کے لیے ایک خصوصی ہسپتال قائم کیا ہے۔ نوزائیدہ بچوں کا شعبہ دنیا بھر میں انتہائی حساس اور پیچیدہ شعبہ ہے، جہاں پوری کوشش اور بہترین طبی نگہداشت کے باوجود بھی بعض اوقات ایسے نتائج سامنے آ جاتے ہیں جنہیں روکنا ممکن نہیں ہوتا۔

بدقسمتی سے اس ہسپتال میں بھی ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، جس کے بعد اس واقعے اور ہسپتال کی ساکھ کو سوشل میڈیا پر حد سے زیادہ اچھالا گیا۔

حالانکہ اس بچے کو ایک سنگین موروثی بیماری لاحق تھی، جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی پیچیدہ تھی اور جس میں علاج کے امکانات بھی انتہائی محدود تھے۔

ایسے واقعے میں سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری تھا کہ بچے کی اصل بیماری کیا تھی، اس کی شدت کتنی تھی، علاج کے امکانات کیا تھے اور طبی طور پر جو کچھ کیا گیا، وہ مقررہ اصولوں کے مطابق تھا یا نہیں۔

اگر کسی قسم کی غفلت ثابت ہوتی تو یقیناً ذمہ دار کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی۔

لیکن تحقیقات سے پہلے پورے ہسپتال کو سوشل میڈیا پر مجرم بنا دینا انصاف نہیں۔

میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ میرے اس دوست نے یہ ہسپتال کتنے اخلاص، محنت، وقت اور قربانی سے قائم کیا اور چلا رہا ہے۔ بنوں جیسے علاقے میں نوزائیدہ بچوں کے لیے ایک خصوصی ادارہ قائم کرنا اور اسے چلانا آسان کام نہیں۔

ایک ایسے ادارے کی برسوں کی محنت اور خدمت کو ایک ناخوشگوار واقعے کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر چند لمحوں میں مشکوک بنا دینا صرف ادارے کو نقصان نہیں پہنچاتا، بلکہ ان لوگوں کے دل بھی توڑ دیتا ہے جو اخلاص کے ساتھ عوام کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں۔

اس لیے میری گزارش بہت سادہ ہے:

واقعہ ہو تو تحقیقات ہوں۔
غلطی ثابت ہو تو احتساب ہو۔
غفلت ثابت ہو تو سزا ہو۔
لیکن تحقیقات سے پہلے الزام، کردار کشی اور سوشل میڈیا پر تماشا نہ بنایا جائے۔

ہمیں نہ ڈاکٹر کو اندھا تحفظ دینا چاہیے اور نہ ہر واقعے کا ذمہ دار ڈاکٹر کو بنا دینا چاہیے۔

مریض کے حقِ انصاف کے ساتھ ڈاکٹر، نرسنگ اسٹاف، پیرا میڈیکل اسٹاف اور ہسپتال کے حقِ انصاف کو بھی ملحوظِ خاطر رکھنا ہوگا۔

ہمیں جذبات نہیں، انصاف چاہیے۔
الزام نہیں، تحقیق چاہیے۔
شور نہیں، حقیقت چاہیے۔

کیونکہ ایک ذمہ دار معاشرہ صرف مریض کے حق کی حفاظت نہیں کرتا، بلکہ
ان لوگوں کی عزت اور حوصلے
کی بھی حفاظت کرتا ہے جو ہر روز مریضوں کی جان بچانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر سید فیض الرحمان شاہ

16/09/2026

کبھی کبھی وہ انسان کو اُن تمام سہاروں، خواہشوں، تعلقوں، غرور، توقعات اور محبتوں سے بھی پاک کرتا ہے جو اس کے اور بندے کے درمیان دیوار بن چکی ہوتی ہیں۔ وہ ایک ایک کرکے وہ چیزیں چھین لیتا ہے جنہیں ہم اپنی زندگی سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ وہ صرف آزمائش ہوتی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہماری دنیا بکھر رہی ہے، ہمارے خواب ٹوٹ رہے ہیں، ہماری دعائیں رد ہو رہی ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ہمارے دل کو خالی کر رہا ہوتا ہے تاکہ اس میں اپنی محبت، اپنا سکون اور اپنا نور بھر سکے۔

انسان اکثر اپنے رب سے محبت کا دعویٰ تو کرتا ہے، مگر اس کے دل میں اللہ سے زیادہ جگہ کسی انسان، کسی خواہش، کسی مقام، کسی رشتے یا کسی خواب نے لے رکھی ہوتی ہے۔ پھر اللہ اپنے بندے کو چھوڑتا نہیں، بلکہ محبت سے اس کی تربیت کرتا ہے۔ کبھی کسی عزیز کی جدائی، کبھی کسی خواب کا ٹوٹ جانا، کبھی کسی دعا کا دیر سے قبول ہونا، کبھی مسلسل آزمائشیں۔۔۔ یہ سب ہمیشہ سزا نہیں ہوتیں، کئی بار یہ اللہ کی محبت کا انداز ہوتی ہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر یہ پردے باقی رہے تو اس کا بندہ کبھی اس تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکے گا۔

وہ تمہیں تم سے بھی جدا کرتا ہے۔ تمہارے غرور سے، تمہارے نفس سے، تمہاری انا سے، تمہارے اس یقین سے کہ سب کچھ تمہارے اختیار میں ہے۔ وہ تمہیں اس مقام پر لے آتا ہے جہاں تمہارے پاس صرف ایک دروازہ رہ جاتا ہے، اور وہ دروازہ اسی کا ہوتا ہے۔ جب ساری آوازیں خاموش ہو جائیں، سارے سہارے ٹوٹ جائیں، سارے راستے بند ہو جائیں، تب انسان پہلی بار پورے یقین سے کہتا ہے: "یا اللہ! میرے پاس تیرے سوا کوئی نہیں۔"

اور شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بندہ حقیقت میں پاک ہونا شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ اب اس کے دل میں اللہ کے سوا کوئی شریک نہیں رہتا۔ اب اس کی امید صرف اللہ سے ہوتی ہے، اس کا خوف کا مرکز صرف اللہ ہوتا ہے، اس کی جو محبت کا مرکز صرف اللہ ہوتا ہے۔ یہی وہ پاکیزگی ہے جو وضو سے نہیں، آنسوؤں سے ملتی ہے؛ جو الفاظ سے نہیں، صبر سے پیدا ہوتی ہے؛ جو خوشیوں سے نہیں، آزمائشوں سے حاصل ہوتی ہے۔

اس لیے اگر کبھی زندگی تم سے وہ چیز چھین لے جسے تم اپنی سب سے بڑی خوشی سمجھتے تھے، تو فوراً یہ نہ سمجھو کہ اللہ تم سے ناراض ہے۔ ممکن ہے وہ تمہیں کسی نقصان سے نہیں، بلکہ اپنے سوا پر اس چیز سے پاک کر رہا ہو جو تمہارے اور اس کے درمیان حائل ہو چکی تھی۔ کیونکہ جب اللہ کسی بندے سے خاص محبت کرتا ہے تو وہ اسے دنیا کے سہاروں پر نہیں چھوڑتا، بلکہ اسے اپنے سہارے کا عادی بنا دیتا ہے

10/09/2026

جو سلطنت بنائی ہے، اس کی باگ ڈور خود سنبھالیں

ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا سفر کسی بڑی آسائش یا وسیع وسائل سے نہیں، بلکہ صفر سے شروع کیا۔ کسی نے ایک چھوٹی سی دکان سے قدم اٹھایا، کسی نے معمولی کاروبار سے، اور کسی نے ایک مختصر سے ادارے سے۔

پھر یہی چھوٹی سی ابتدا، برسوں کی محنت، صبر، تجربے، قربانی اور مخلص لوگوں کے ساتھ سے ایک مضبوط کاروبار، ایک وسیع ادارے اور بالآخر ایک ایسی سلطنت میں بدل گئی، جسے بنانے میں صرف سرمایہ نہیں بلکہ ایک پوری زندگی لگ گئی۔

وہ لوگ جنہوں نے یہ سفر شروع کیا تھا، شاید آج بھی وہ ابتدائی دن نہیں بھولے ہوں گے۔ وہ دن جب وسائل کم تھے، راستے دشوار تھے، فیصلے مشکل تھے اور کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔ مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ایک ایک قدم اٹھایا، ایک ایک رشتہ بنایا، ایک ایک تجربے سے سیکھا اور اپنی چھوٹی سی دنیا کو آہستہ آہستہ وسعت دیتے گئے۔

مگر عجیب بات یہ ہے کہ اکثر سلطنتیں باہر کے دشمنوں سے نہیں، اندر کی بے احتیاطیوں سے کمزور ہوتی ہیں۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس سلطنت کے وارث بڑے ہونے لگتے ہیں اور انہیں اختیار ملنا شروع ہوتا ہے۔ انہیں وہ چیزیں اکثر تیار حالت میں ملتی ہیں جن کے لیے ان کے بڑوں نے اپنی جوانی، اپنا سکون اور اپنی زندگی کے بہترین سال صرف کیے ہوتے ہیں۔

انہیں منزل نظر آتی ہے، مگر راستے کی گرد نہیں۔
انہیں عمارت نظر آتی ہے، مگر بنیاد میں رکھا ہوا پسینہ نہیں۔
انہیں کامیابی نظر آتی ہے، مگر اس کامیابی کے پیچھے چھپی ہوئی ناکامیاں نظر نہیں آتیں۔

اور پھر سوال اٹھنے لگتے ہیں:

یہ فیصلہ کیوں کیا؟
فلاں شخص سے تعلق کیوں رکھا؟
فلاں کو ساتھ کیوں رکھا؟
اس سے ملاقات کیوں کی؟
یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا گیا؟

بظاہر یہ معمولی سوالات ہوتے ہیں، مگر جب یہی رویہ مستقل مزاجی اختیار کر لے تو آہستہ آہستہ وہ لوگ دل برداشتہ ہونے لگتے ہیں جو اس سفر کے پہلے دن سے ساتھ کھڑے تھے۔

وہ دوست جو مشکل وقت میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہا تھا۔
وہ ساتھی جس نے اس وقت ساتھ دیا تھا جب کامیابی کا کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا تھا۔
وہ رفیق جس نے مشکل گھڑی میں ہاتھ نہیں چھوڑا تھا۔

یہ لوگ صرف ملازم یا کاروباری ساتھی نہیں ہوتے؛ یہ اس سفر کی تاریخ کا حصہ ہوتے ہیں۔

یاد رکھیے، سلطنت صرف اینٹوں، عمارتوں، دکانوں، زمینوں اور دولت سے نہیں بنتی؛ سلطنت اعتماد، تجربے، تعلقات اور مخلص انسانوں سے بنتی ہے۔

اگر نئی نسل یا نئے ذمہ دار افراد ان خاموش ستونوں کی قدر نہ کریں تو عمارت بظاہر قائم رہتے ہوئے بھی اندر سے کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں اس کی مثالیں کم نہیں۔ کوئی شخص معمولی کاروبار سے آغاز کرتا ہے، برسوں کی محنت سے اسے وسعت دیتا ہے، مگر بعد میں آنے والے وارث پرانے تجربہ کار ساتھیوں کو غیر ضروری سمجھنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو کاروبار برسوں میں مضبوط ہوا تھا، وہ چند غلط فیصلوں اور تعلقات کی کمزوری سے آہستہ آہستہ زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔

اسی طرح کوئی شخص ایک چھوٹے سے تعلیمی یا سماجی ادارے کی بنیاد رکھتا ہے اور اسے اپنی محنت سے ایک بڑے نظام میں تبدیل کر دیتا ہے، مگر بعد میں غیر ضروری مداخلت، باہمی بداعتمادی اور مخلص رفقاء سے دوری اس پورے نظام کو متاثر کر دیتی ہے۔

اصل مسئلہ اولاد یا چھوٹے بھائیوں کا آگے آنا نہیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انہیں اختیار دیتے وقت تجربے، اہلیت اور ذمہ داری کو نظر انداز کر دیا جائے۔

اسی لیے میں ان تمام والدین، بڑے بھائیوں اور خاندان کے ان افراد سے مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی زندگی میں کوئی کاروبار، ادارہ یا نظام اپنے خون پسینے سے قائم کیا ہے:

اپنے وارثوں سے محبت ضرور کریں، انہیں آگے بڑھنے کا موقع بھی دیں، لیکن ہر فیصلہ صرف رشتے کی بنیاد پر قبول نہ کریں۔ ہر فیصلے کو عقل، تجربے اور حالات کے ترازو میں تولیں۔

اگر آپ کے وارث، خواہ وہ اولاد ہو یا چھوٹے بھائی، آپ کے کاروبار یا نظام میں شامل ہوں تو انہیں اختیار دینے کے ساتھ ساتھ اس اختیار کی ذمہ داری بھی سمجھائیں۔

انہیں یہ بھی بتائیں کہ یہ کاروبار صرف آج کی آمدنی کا نام نہیں؛ اس کے پیچھے کل کی محرومیاں، قربانیاں، تعلقات اور مخلص لوگوں کی برسوں کی وفاداری شامل ہے۔

اور اپنے ان مخلص دوستوں اور ساتھیوں کو ہرگز نظر انداز نہ کریں جو آپ کے سفر کے آغاز سے آپ کے ساتھ رہے ہیں۔ صرف اس لیے کسی مخلص شخص کو اپنے سے دور نہ کریں کہ کوئی نیا آنے والا اسے پسند نہیں کرتا۔

رشتے خون سے بنتے ہیں، لیکن سلطنتیں اعتماد سے قائم رہتی ہیں۔

ایک آخری گزارش

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب تک آپ حیات ہیں، اپنی بنائی ہوئی سلطنت کی باگ ڈور خود سنبھالیں۔

اپنے وارثوں کو تیار کریں، انہیں سکھائیں، انہیں تجربہ دیں، انہیں ذمہ داریاں دیں اور ان کی صلاحیت کو آزمائیں۔ انہیں اپنے قریب رکھیں، لیکن اپنی زندگی بھر کی محنت کا اختیار صرف رشتے کی بنیاد پر کسی کے حوالے نہ کریں۔

کیونکہ یاد رکھیے:

آپ نے صرف ایک کاروبار نہیں بنایا، آپ نے اپنی زندگی کے قیمتی سال اس میں دفن کیے ہیں۔

آپ نے وہ دن دیکھے ہیں جو شاید آپ کے وارثوں نے کبھی دیکھے ہی نہیں۔
آپ نے وہ محرومیاں برداشت کی ہیں جن کا انہیں اندازہ بھی نہیں۔
آپ نے ان لوگوں کو ساتھ جوڑا ہے جنہوں نے آپ کے مشکل وقت میں آپ کا ہاتھ تھاما تھا۔
آپ نے ایک ایسی بنیاد رکھی ہے جس پر آج کئی لوگوں کے گھر، روزگار اور مستقبل قائم ہیں۔

اس لیے اپنی زندگی کی اس محنت کو صرف اس لیے کمزور نہ ہونے دیں کہ آپ نے اختیار محبت میں دے دیا۔

اپنے وارثوں کو سلطنت ضرور دیں، مگر اس سے پہلے انہیں سلطنت کی قدر کرنا سکھائیں۔

اور اپنے ان مخلص ساتھیوں کو کبھی نہ بھولیں جنہوں نے آپ کے ساتھ اس وقت سفر شروع کیا تھا جب آپ کے پاس صرف ایک خواب تھا۔

کیونکہ آخر میں انسان کے پاس صرف دولت نہیں رہتی، اس کے پاس اس کی بنائی ہوئی یادیں، اس کے مخلص لوگ اور اس کے پیچھے چھوڑا ہوا نظام رہ جاتا ہے۔

اگر آپ نے ایک عمر لگا کر کچھ بنایا ہے تو اسے اپنی آنکھوں کے سامنے بکھرتا ہوا نہ دیکھیں۔

اپنی سلطنت کی حفاظت خود کریں۔
اپنے مخلص لوگوں کو اپنے ساتھ رکھیں۔
اپنے وارثوں کو محبت سے تیار کریں۔
اور اختیار انہیں دیں جو اس اختیار کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہوں۔

کیونکہ سلطنت بنانا شاید ایک عمر لے لے،
مگر اسے بکھرنے میں کبھی کبھی چند غلط فیصلے ہی کافی ہوتے ہیں۔

اور شاید اس سے بڑھ کر انسان کے لیے کوئی دکھ نہیں کہ جس چیز کو اس نے اپنی پوری زندگی خونِ جگر سے سینچا ہو، وہ اس کی آنکھوں کے سامنے اپنے ہی لوگوں کی ناسمجھی سے اجڑ جائے۔

تحریر: ڈاکٹر سید فیض الرحمٰن شاہ

Address

Bannu

Telephone

+923002068288

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Syed Faiz ur Rehman Shah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category