08/05/2026
Well Explained.
"دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک"
تحریر: ڈاکٹر فضل منان۔
"ایک ڈاکٹر کیسے بنتا ہے"!؟
حالیہ دنوں میں ایک فارماسسٹ صاحب نے کمنٹ میں لکھا:
"ہم بھی فارما کے ساتھ فزیالوجی، اناٹومی، سرجری، میڈیسن وغیرہ پڑھتے ہیں، اس لیے ہمیں بھی کلینیکل تجربہ حاصل ہے جیسے ڈاکٹرز کو ہے۔"
آج میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ڈاکٹر کیسے بنتا ہے۔ کیا یہ صرف کتابیں پڑھنے کا نام ہے، یا کلینیکل تجربہ، فیلڈ ورک اور بے شمار قربانیاں بھی اس سفر کا حصہ ہیں؟
ڈاکٹر کسی یونیورسٹی کے چکا چوند ماحول میں نہیں پڑھتا، جہاں دل کرے تو کلاس لے لو اور دل نہ کرے تو چھوڑ دو۔ جہاں پاس یا فیل ایک ہی استاد کے ہاتھ میں ہو اور صرف ایک شخص کو خوش کرنا کافی ہو۔ جہاں کلاسیں کم اور عیاشیاں زیادہ ہوں۔
بلکہ ڈاکٹر ایک ایسے ادارے میں پڑھتا ہے جہاں داخلہ لینا جتنا مشکل ہے، اتنا ہی کامیابی سے نکلنا بھی۔ یہاں 80 فیصد حاضری لازمی ہے۔ تیسرے سال سے روزانہ وارڈ میں جانا، مریض کی ہسٹری لینا، جسمانی معائنہ کرنا اور سینئرز کے سامنے پریزنٹ کرنا معمول بن جاتا ہے۔
امتحان کی تیاری کے لیے 24 گھنٹوں میں سے 18-18 گھنٹے کتابوں کے ساتھ گزرتے ہیں۔ امتحان اپنے کالج کے اساتذہ نہیں لیتے، بلکہ ملک بھر سے آئے ایکسٹرنل ایگزامینرز لیتے ہیں۔ ہر پروف میں OSPE، OSCE اور لانگ کیس سٹیشنز ہوتے ہیں جہاں عملی مہارت، تشخیص اور فیصلہ سازی کو پرکھا جاتا ہےاور یو ایم بی بی ایس کا سفر تمام ہوتا ہے لیکن منزل ابھی ملی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد ایک سال کا ہاوس جاب شروع ہوتا ہے۔
اس ایک سال میں ڈاکٹر تمام وارڈز میں باری باری روٹیشن کرتا ہے۔ سینیئر ڈاکٹرز کی نگرانی میں مریضوں کی تشخیص، دواؤں کی خوراک، سائیڈ ایفیکٹس اور ڈرگ انٹریکشنز کو خود دیکھتا ہے۔ 36، 48 گھنٹے مسلسل وارڈ میں گزارنا، راتوں کو ایمرجنسی سنبھالنا، اور بیڈ سائیڈ راؤنڈز میں کلینیکل ڈسکشن سننا روز کا کام ہے۔
اور یوں ایک سال بعد ہی وہ صرف ایمرجنسی علاج، بلڈ پریشر اور عام بیماریوں کے علاج کے قابل ہوجاتا ہے۔
مگر یہاں سفر ختم نہیں ہوتا۔ اب سپیشلائزیشن کا دروازہ کھٹکتا ہے، جو 5 سال کا صبر آزما اور کٹھن مرحلہ ہے۔ ایک ٹرینی ڈاکٹر 24 گھنٹے وارڈ کے لیے دستیاب ہوتا ہے۔ رات ہو، دن ہو، عید ہو یا شادی بیاہ، وہ ہسپتال میں موجود ہوتا ہے۔ اس دوران وہ اپنی ذاتی زندگی، آرام اور خاندانی تقریبات کو مریض کی ضرورت پر قربان کر دیتا ہے۔ اسی لیے آپ ایک ڈاکٹر کو گاؤں میں، جنازے میں، شادی میں، ہر جگہ مریض کی نبض دیکھتے ہوئے پائیں گے۔
سپیشلائزیشن کے امتحانات کسی بھی امتحان سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ خاص طور پر *پارٹ-II ایگزٹ ایگزام*، جس میں نمبرات کا کوئی کھیل نہیں ہوتا۔ آپ کو بورڈ آف ایگزامینرز Board of Examiners کو مطمئن کرنا ہوتا ہے ، اور وہ بھی آپ کے اپنے ہسپتال یا صوبے کے نہیں، بلکہ دوسرے صوبوں کے 15-20 سینئر کنسلٹنٹس ہوتے ہیں۔ وہ آپ کے علم، فہم، رویے، گفتگو اور مریض کے ساتھ ہم آہنگی کو گھنٹوں پرکھ کر پاس یا فیل کا فیصلہ کرتے ہیں۔
ان تمام مراحل سے گزر کر ایک ڈاکٹر سپیشلسٹ بنتا ہے — جو مرض کی تشخیص بھی کرتا ہے اور دوا بھی تجویز کرتا ہے۔
کتابی علم صرف بنیاد ہے۔ اصل تربیت وارڈز، ایمرجنسی، آپریشن تھیٹر اور مریض کے بستر کے پاس ہوتی ہے۔
اب اگر کسی یونیورسٹی کے پر اسائیش ماحول سے فارغ االتحصیل فارماسسٹ خود کو ڈاکٹر کے برابر سمجھے تو شاید اس کو Ilussions ہے۔
کیونکہ۔۔
"دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک"
Dr Mia fazal Manan
GS provincial Doctors association kpk.