CARE Hospital chakwal

CARE Hospital chakwal providing gynaecological, ultrasound,and paediatric services.

21/04/2026

🩺 پہلا trimester (1 سے 3 مہینے)
✔️ شروع میں کروانے والے ٹیسٹ:
Blood Group & Rh typing (ماں + باپ)
Indirect Coombs Test (ICT)
CBC (خون کی کمی چیک کرنے کیلئے)
Urine test
Hepatitis B, C, HIV screening
Thyroid test (اگر ضرورت ہو)
✔️ کیا کرنا ہے:
ڈاکٹر کے پاس رجسٹریشن کروائیں
فولک ایسڈ شروع کریں
اگر ICT negative ہو تو بس follow-up کریں
🩺 دوسرا trimester (4 سے 6 مہینے)
✔️ 4–5 مہینے:
Ultrasound (anomaly scan)
CBC repeat
✔️ 24–28 ہفتے:
Indirect Coombs Test (ICT) دوبارہ
اگر ابھی بھی negative ہو 👉
💉 Anti-D (Rhogam) injection لگایا جاتا ہے (28 ہفتے پر)
🩺 تیسرا trimester (7 سے 9 مہینے)
✔️ 7–8 مہینے:
Ultrasound (baby growth)
Blood pressure اور sugar چیک
✔️ 9واں مہینہ:
ہفتہ وار چیک اپ
Delivery plan بنائیں
👶 Delivery کے بعد (بہت اہم)
✔️ بچے کا blood group چیک ہوگا
اگر بچہ Rh positive ہو 👉
💉 72 گھنٹوں کے اندر Anti-D injection لازمی
اگر بچہ Rh negative ہو 👉
injection کی ضرورت نہیں
⚠️ خاص حالات میں فوراً Anti-D لگتا ہے:
اگر حمل کے دوران یہ ہو:
bleeding
miscarriage
abortion
injury یا گرنا
amniocentesis test
👉 ان سب صورتوں میں فوراً injection لگوانا ضروری ہوتا ہے
🟢 یاد رکھنے والی اہم باتیں:
ہر مہینے ڈاکٹر کو دکھائیں
ICT test بہت اہم ہے
Anti-D injection miss نہ کریں
زیادہ تر cases میں سب کچھ بالکل ٹھیک رہتا ہے 👍

12/04/2026

آٹزم (Autism) کیا ہے؟
آٹزم جسے طبی زبان میں Autism Spectrum Disorder (ASD) کہا جاتا ہے، ایک نیورو ڈیولپمنٹل (دماغی نشوونما سے متعلق) کیفیت ہے۔ اس میں بچے کی سماجی میل جول، بات چیت (communication)، اور رویے (behavior) متاثر ہوتے ہیں۔ یہ ایک “اسپیکٹرم” ہے یعنی ہر بچے میں شدت اور علامات مختلف ہو سکتی ہیں۔
آٹزم کی علامات
عام طور پر 1–3 سال کی عمر میں ظاہر ہوتی ہیں:
1. سماجی مسائل
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کرنا
نام پکارنے پر ردِعمل کم دینا
دوسروں کے ساتھ کھیلنے میں دلچسپی کم
2. زبان اور بات چیت
بولنے میں تاخیر یا نہ بولنا
ایک ہی لفظ یا جملہ بار بار دہرانا
اشاروں (gesture) کا کم استعمال
3. رویے
ایک ہی حرکت بار بار کرنا (ہاتھ ہلانا، گھومنا)
روٹین بدلنے پر غصہ یا بے چینی
خاص چیزوں میں غیر معمولی دلچسپی
آٹزم کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
آٹزم کا کوئی ایک خون یا لیب ٹیسٹ نہیں ہوتا۔ تشخیص ماہر ڈاکٹر (پیدیاٹریشن، چائلڈ سائیکاٹرسٹ، یا ڈیولپمنٹل اسپیشلسٹ) کرتے ہیں۔
تشخیص کے مراحل:
Developmental Screening
18 اور 24 ماہ میں بچوں کی سکریننگ (مثلاً M-CHAT)
Detailed Assessment
بچے کے رویے، بات چیت، اور کھیل کا مشاہدہ
والدین سے مکمل ہسٹری
معیاری ٹیسٹ
ADOS (Autism Diagnostic Observation Schedule)
DSM-5 criteria کے مطابق تشخیص
آٹزم کا علاج کیا ہے؟
آٹزم کا مکمل “علاج” نہیں، لیکن جلدی مداخلت (Early Intervention) سے بچے میں بہت بہتری آ سکتی ہے۔
1. Behavioral Therapy
Applied Behavior Analysis (ABA)
سب سے مؤثر طریقہ، بچے کو نئی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں
2. Speech Therapy
بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت بہتر کرنے کے لیے
3. Occupational Therapy
روزمرہ کے کام، موٹر اسکلز اور سینسری مسائل کے لیے
4. Special Education
بچے کی ضرورت کے مطابق تعلیمی پروگرام
5. ادویات (اگر ضرورت ہو)
غصہ، hyperactivity یا نیند کے مسائل کے لیے ڈاکٹر دوا دے سکتا ہے
👨‍👩‍👧‍👦 والدین کے لیے رہنمائی (Urdu Guidance)
❤️ 1. جلدی پہچان کریں
اگر بچہ 1.5–2 سال تک نہیں بول رہا یا سوشل رسپانس کم ہے تو فوراً ڈاکٹر کو دکھائیں
🧠 2. جلدی تھراپی شروع کریں
جتنی جلدی therapy شروع ہوگی، اتنا بہتر outcome ہوگا
🗣️ 3. بچے سے بات کریں
بار بار simple الفاظ استعمال کریں
آنکھوں میں دیکھ کر بات کریں
🎯 4. سادہ ہدایات دیں
ایک وقت میں ایک ہدایت دیں
repetition بہت ضروری ہے
📵 5. اسکرین ٹائم کم کریں
موبائل/ٹی وی کم سے کم رکھیں
🎲 6. کھیل کے ذریعے سکھائیں
interactive games کھیلیں
بچے کو شامل کریں
🧘 7. صبر اور مستقل مزاجی
بہت patience کی ضرورت ہوتی ہے
چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو سراہیں
👩‍⚕️ 8. Follow-up ضروری ہے
regular ڈاکٹر اور therapist کے پاس جائیں
اہم بات
آٹزم والدین کی غلطی نہیں ہے
بروقت علاج سے بچے نارمل زندگی کے بہت قریب آ سکتے ہیں

20/03/2026
11/11/2025

Care Hospital is seeking clinical assistants for its pediatric indoor department. Walk-in interviews are scheduled from Monday to Saturday, 3 to 6 pm.

01/10/2025

نوزائیدہ بچوں کو عام طور پر 6 مہینے تک صرف ماں کا دودھ یا فارمولہ دودھ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جب بچہ بیٹھنے لگے اور نگلنے کی صلاحیت بہتر ہو جائے تو وی نِنگ (Weaning) یعنی دودھ کے ساتھ ساتھ ٹھوس غذا دینا شروع کی جاتی ہے۔

یہاں پاکستانی بچوں کے لیے آسان اور گھریلو وی نِنگ فوڈز کی فہرست دی جا رہی ہے:

---

🥣 پہلے 6–8 مہینے میں

چاول کا دلیہ (Kheer جیسا بغیر چینی کا)

دلیہ/اوٹس نرم پکا ہوا

دال کا پانی یا پتلی دال (ہلکی اور بغیر مرچ مصالحہ کے)

آلو کا بھرتا (اُبال کر میش کیا ہوا)

کیلا میش کر کے

سیب یا ناشپاتی اُبال کر پیوری بنا لیں

---

🥗 8–10 مہینے میں

نرم سبزیوں کی پیوری (گاجر، کدو، آلو، مٹر)

انڈے کی زردی اُبلا ہوا (سفیدی بعد میں)

کھچڑی (چاول + دال) بغیر مرچ کے

سوپ (چکن یا سبزی)

نرم روٹی کا ٹکڑا دودھ یا شوربے میں بھگو کر

---

🍲 10–12 مہینے میں

چکن یا مچھلی کا نرم بھرتا (ہڈی اور کانٹے نکال کر)

دال اور چاول کی نرم کھچڑی

نرم پکے پھل کے ٹکڑے (کیلا، آم، پپیتا)

نرم چپاتی کے چھوٹے ٹکڑے سبزی یا دال کے ساتھ

دہی (بغیر نمک و چینی کے)

---

✅ احتیاطی باتیں

1. نمک، مرچ اور مصالحے نہ ڈالیں۔

2. شہد ایک سال سے پہلے نہ دیں (انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے)۔

3. ہر نئی غذا ایک وقت میں دیں اور 2–3 دن دیکھیں کہ الرجی تو نہیں ہو رہی۔

4. کھانے کے ساتھ ساتھ ماں کا دودھ یا فارمولا جاری رکھیں۔

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Haris Ali, Assad Zaib, Muhammad Ayaz Chaudhary, Abdul Was...
13/09/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Haris Ali, Assad Zaib, Muhammad Ayaz Chaudhary, Abdul Wasey, Akash Qamar, Muhammad Waqas, Qari Ali Raza, Imran Malik

12/09/2025

سروائیکل کینسر کیا ہے؟

سروائیکل کینسر رحم کے نچلے حصے (سروکس) میں ہونے والا کینسر ہے، جو بچہ دانی کو اندام نہانی (va**na) سے جوڑتا ہے۔

بنیادی وجہ

اس کی سب سے عام وجہ ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) کا انفیکشن ہے، خاص طور پر HPV کی کچھ اقسام جیسے 16 اور 18۔

اکثر اوقات یہ وائرس خود ہی ختم ہو جاتا ہے، لیکن اگر یہ لمبے عرصے تک موجود رہے تو سروکس کے خلیوں میں خطرناک تبدیلیاں لا سکتا ہے جو وقت کے ساتھ کینسر میں بدل سکتی ہیں۔

خطرے کے عوامل

کم عمری میں شادی یا جنسی تعلقات

زیادہ جنسی پارٹنرز

سگریٹ نوشی

کمزور مدافعتی نظام (مثال: ایچ آئی وی)

باقاعدہ اسکریننگ نہ کروانا

---

بچاؤ (Prevention)

1. ویکسینیشن (ٹیکہ لگوانا)

HPV ویکسین (جیسے Gardasil یا Cervarix) کینسر پیدا کرنے والے وائرس سے حفاظت دیتی ہے۔

یہ ویکسین سب سے مؤثر 9 سے 14 سال کی عمر میں ہے، خاص طور پر لڑکیوں کے لیے۔

26 سال کی عمر تک بھی لگائی جا سکتی ہے، اور کچھ ممالک میں خطرے کی صورت میں 45 سال تک بھی تجویز کی جاتی ہے۔

ویکسین کینسر اور اس کی ابتدائی خطرناک تبدیلیوں کے امکانات کو بہت حد تک کم کر دیتی ہے۔

2. اسکریننگ

پاپ اسمئیر (Pap smear) اور HPV ٹیسٹ سروکس کے خلیوں میں ابتدائی تبدیلیوں کو پہچان سکتے ہیں۔

ہر عورت کو 21 سال کی عمر کے بعد سے باقاعدگی سے ٹیسٹ کروانا چاہیے۔

3. طرزِ زندگی میں احتیاط

محفوظ جنسی تعلقات (کنڈوم کا استعمال)

سگریٹ نوشی سے پرہیز

صحت مند طرزِ زندگی اور مدافعتی نظام کو مضبوط رکھنا

---

✅ خلاصہ: سروائیکل کینسر کی سب سے بڑی وجہ HPV ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے سب سے مؤثر طریقہ HPV ویکسینیشن اور باقاعدہ اسکریننگ ہے۔

HPV ویکسین کا شیڈول

💉 1. اگر عمر 9 سے 14 سال ہے

صرف 2 خوراکیں کافی ہیں۔

پہلی خوراک (Day 0) → پھر دوسری خوراک 6 سے 12 ماہ بعد۔

💉 2. اگر عمر 15 سال یا اس سے زیادہ ہے

3 خوراکیں لگتی ہیں۔

پہلی خوراک (Day 0) → دوسری خوراک 1 سے 2 ماہ بعد → تیسری خوراک 6 ماہ بعد۔

💉 3. 26 سال تک

یہ ویکسین مؤثر رہتی ہے اور تجویز کی جاتی ہے۔

💉 4. 27 سے 45 سال تک

کچھ صورتوں میں، اگر عورت یا مرد کو HPV انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہو تو ڈاکٹر مشورے کے بعد ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

---

⚠️ اہم باتیں

ویکسین صرف بچاؤ (prevention) کے لیے ہے، علاج کے لیے نہیں۔

ویکسین کے باوجود بھی باقاعدہ پاپ اسمئیر/HPV ٹیسٹ کروانا ضروری ہے۔

مردوں کے لیے بھی HPV ویکسین دستیاب ہے تاکہ وہ بھی وائرس سے بچ سکیں اور دوسروں کو متاثر نا کریں

12/09/2025

فلو ویکسین کے فوائد اور نقصانات

✅ فوائد (Pros)

1. بیماری سے حفاظت: فلو ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

2. شدید بیماری سے بچاؤ: اگر فلو ہو بھی جائے تو شدت کم ہوتی ہے اور پیچیدگیاں (نمونیا وغیرہ) کم ہوتی ہیں۔

3. کمزور مریضوں کا تحفظ: بچوں، بوڑھوں، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں (دمہ، شوگر، دل کے مریض) والے افراد کو زیادہ فائدہ۔

4. پھیلاؤ کم ہوتا ہے: ویکسین لینے والے دوسروں کو کم متاثر کرتے ہیں۔

5. ہسپتال داخلے میں کمی: ویکسین ہسپتال میں داخل ہونے کے خطرات کو کم کرتی ہے۔

---

⚠️ نقصانات (Cons)

1. ہر بار نئی لگتی ہے: فلو وائرس بدلتا رہتا ہے اس لیے ہر سال ویکسین لگوانی پڑتی ہے۔

2. 100% مؤثر نہیں: ویکسین لینے کے باوجود بھی فلو ہو سکتا ہے، لیکن عموماً ہلکا ہوتا ہے۔

3. عارضی سائیڈ ایفیکٹس:

ٹیکہ لگنے کی جگہ درد یا سوجن

ہلکا بخار یا تھکن

جسم میں درد

4. نایاب مگر ممکنہ الرجی: بعض افراد کو شدید الرجی ہو سکتی ہے (انتہائی کم کیسز میں)۔

---

📌 اہم بات: زیادہ تر ماہرین صحت بچوں، بوڑھوں اور دائمی بیماریوں والے افراد کو انفلوئنزا ویکسین ہر سال لگوانے کی سفارش کرتے ہیں۔

05/09/2025

سانس کی نالی کی الرجی کو کونسے چیزیں بڑھاتی ہیں اور انہیں کیسے کنٹرول کیا جائے؟

سانس کی نالی کی الرجی (Respiratory Allergy) کئی وجوہات سے بڑھ سکتی ہے۔ یہ زیادہ تر نزلہ، کھانسی، سانس پھولنا، یا چھینکوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ ذیل میں وہ عوامل درج ہیں جو الرجی کو بڑھاتے ہیں اور ان سے بچاؤ یا کنٹرول کے طریقے:

الرجی بڑھانے والے عوامل:

1. دھول مٹی (Dust & Dust Mites) – گھر یا بستر کی گرد الرجی کو زیادہ کرتی ہے۔

2. پولن (Pollen) – بہار اور خزاں کے موسم میں پھولوں اور گھاس کا پولن الرجی کو بڑھاتا ہے۔

3. دھواں اور آلودگی – سگریٹ کا دھواں، گاڑیوں کا دھواں اور فضائی آلودگی الرجی کو بگاڑ دیتے ہیں۔

4. جانوروں کے بال اور جلد کے ذرات (Pet dander)۔

5. تیز خوشبوئیں یا کیمیکل سپرے – پرفیوم، ایئر فریشر یا صفائی کے کیمیکلز۔

6. نمی اور پھپھوندی (Moisture & Mold) – نم جگہوں پر پیدا ہونے والی پھپھوندی الرجی بڑھاتی ہے۔

7. موسم کی اچانک تبدیلی – خاص طور پر ٹھنڈی ہوا یا سردی۔

8. تیز مصالحہ دار یا ٹھنڈی چیزیں کھانا – بعض افراد میں یہ بھی الرجی کو ابھار سکتا ہے۔

---

الرجی کو کنٹرول کرنے کے طریقے:

✅ گھر کو روزانہ صاف کریں اور دھول کم سے کم کریں۔
✅ بیڈ شیٹس اور پردے گرم پانی سے باقاعدگی سے دھوئیں۔
✅ پولن کے موسم میں کھڑکیاں بند رکھیں اور باہر کم نکلیں۔
✅ سگریٹ کے دھوئیں اور آلودگی سے بچیں۔
✅ ایئر پیوریفائر یا ماسک کا استعمال کریں۔
✅ نمی اور پھپھوندی سے بچنے کے لیے گھر کو ہوادار رکھیں۔
✅ جانوروں کو بیڈروم سے دور رکھیں۔
✅ ڈاکٹر کے مشورے سے اینٹی الرجی دوائیاں (اینٹی ہسٹامین یا انہیلر) استعمال کریں۔

---

📌 اگر الرجی بہت زیادہ بڑھ جائے یا سانس لینے میں شدید دشواری ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

05/09/2025

بچے کا مٹی کھانا
جی بالکل! اس مسئلے کو طبی زبان میں پیکا (Pica) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک عادت ہے جس میں بچہ مٹی، چاک، دیوار کی پلستر، صابن، کاغذ یا دیگر غیر غذائی چیزیں کھاتا ہے۔ یہ اکثر 1 سے 6 سال کی عمر کے بچوں میں دیکھا جاتا ہے۔

---

بچوں کے مٹی کھانے کی وجوہات

1. خون کی کمی (آئرن کی کمی / انیمیا)

آئرن اور دیگر منرلز کی کمی کی وجہ سے بچے مٹی یا چاک کھانے لگتے ہیں۔

2. وٹامن اور منرلز کی کمی

کیلشیم، زنک اور دیگر غذائی اجزاء کی کمی سے بھی یہ عادت پڑ سکتی ہے۔

3. بھوک یا غذائی قلت

جب بچے کو مناسب خوراک نہ ملے تو وہ مٹی وغیرہ کھانے لگتا ہے۔

4. نفسیاتی وجوہات

توجہ کی کمی، ذہنی دباؤ یا بوریت کی وجہ سے بچے غیر غذائی چیزیں کھا سکتے ہیں۔

5. عادت یا تجسس

کچھ بچے کھیلتے کھیلتے مٹی کھانے کی عادت ڈال لیتے ہیں۔

---

مٹی کھانے کے نقصانات

پیٹ کے کیڑے پڑ سکتے ہیں۔

دست یا قے کی شکایت ہو سکتی ہے۔

معدہ اور آنتوں میں انفیکشن ہو سکتا ہے۔

جسم میں مٹی کے جراثیم اور زہریلے مادے داخل ہو سکتے ہیں۔

خون کی کمی اور کمزوری مزید بڑھ سکتی ہے۔

---

علاج اور احتیاطی تدابیر

1. خون کا ٹیسٹ کروائیں

بچے کا ہیموگلوبن، آئرن، کیلشیم اور دیگر وٹامنز چیک کروائیں۔

2. آئرن اور وٹامن سپلیمنٹس

ڈاکٹر کے مشورے سے آئرن اور ملٹی وٹامنز دیں۔

3. متوازن غذا دیں

سبز پتوں والی سبزیاں، گوشت، دالیں، انڈہ، دودھ، دہی اور پھل کھلائیں۔

کیلشیم اور آئرن والی غذاؤں پر زور دیں۔

4. بچے کو مصروف رکھیں

کھیلوں، کہانیوں یا تعلیمی سرگرمیوں میں بچے کو مشغول رکھیں تاکہ مٹی کھانے کی عادت کم ہو۔

5. صفائی کا خیال رکھیں

جہاں بچہ کھیلتا ہے وہاں کی مٹی اور گردوغبار صاف رکھیں تاکہ اگر بچہ مٹی منہ میں ڈالے تو نقصان کم سے کم ہو۔

6. پیار اور توجہ دیں

اکثر یہ عادت توجہ کی کمی سے بھی پیدا ہوتی ہے، اس لئے بچے کے ساتھ وقت گزارنا ضروری ہے۔

---

👉 اگر بچہ بار بار مٹی یا دوسری غیر غذائی چیزیں کھا رہا ہے تو یہ محض عادت نہیں بلکہ طبی مسئلہ ہے، اس لیے ڈاکٹر سے لازمی رجوع کریں۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کے ساتھ ایسی غذاؤں کی فہرست بھی دوں جو خاص طور پر مٹی کھانے والے بچوں کے لئے فائدہ مند ہوں؟

31/08/2025

آٹزم (Autism Spectrum Disorder – ASD) ایک نیورو ڈویلپمنٹل ڈس آرڈر ہے جس میں بچے یا فرد کے رویے، سیکھنے اور میل جول کے طریقے مختلف ہوتے ہیں۔ اس کی علامات (Symptoms) ہر بچے میں مختلف شدت کے ساتھ ظاہر ہوسکتی ہیں۔

اہم علامات:

1. سماجی تعلقات (Social Interaction) میں مشکلات

دوسروں سے آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات نہ کرنا یا کم کرنا

مسکرانے، اشاروں یا چہرے کے تاثرات کو سمجھنے میں مشکل

ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلنے یا تعلق بنانے میں دلچسپی کم ہونا

نام پکارنے پر جواب نہ دینا

2. زبان اور بات چیت (Communication) میں مشکلات

بولنے میں تاخیر یا بالکل نہ بولنا

غیر معمولی طریقے سے الفاظ دہرانا (Echolalia)

گفتگو کو جاری رکھنے میں مشکل

ہاتھ کے اشارے یا باڈی لینگویج کم استعمال کرنا

3. رویوں میں تکرار اور سختی (Repetitive Behaviors & Restricted Interests)

ایک ہی کام بار بار کرنا (جھولنا، ہاتھ ہلانا، لائن بنانا وغیرہ)

ایک ہی چیز یا موضوع میں حد سے زیادہ دلچسپی لینا

معمولات (Routine) میں تبدیلی برداشت نہ کر پانا

کھلونوں کو مخصوص انداز میں ترتیب دینا

4. حساسیت (Sensory Issues)

آواز، روشنی، خوشبو یا لمس کے بارے میں حد سے زیادہ حساس ہونا

بعض اوقات بالکل ردعمل نہ دینا

کھانے پینے میں بہت زیادہ چناؤ

---

اضافی علامات:

ذہنی نشوونما میں فرق (کچھ بچے سست جبکہ کچھ بہت تیز ذہانت والے ہوتے ہیں)

Hyperactivity یا بالکل خاموش رہنا

Self-injury (خود کو نقصان پہنچانا، سر مارنا وغیرہ)

---

کچھ بچے ان میں سے ہلکی جبکہ کچھ بچے شدید علامات دکھاتے ہیں، اسی لیے اسے “spectrum” کہا جاتا ہے۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کے لیے ابتدائی عمر (2–3 سال) میں پہچانے جانے والی علامات بھی الگ سے لکھ دوں؟

زم ٹزم کی ابتدائی عمر (2–3 سال) میں پہچانی جانے والی علامات:

👶 سماجی تعلقات میں

نام لینے پر جواب نہ دینا یا نظر نہ ملانا

ماں باپ یا دوسرے لوگوں کے ساتھ کھیلنے میں دلچسپی کم

اشارہ نہ کرنا (مثلاً کسی چیز کی طرف انگلی سے اشارہ نہ کرنا)

مسکرانے یا خوشی دکھانے میں کمی

🗣️ زبان اور بات چیت میں

بولنے میں تاخیر (2–3 سال کی عمر میں بھی جملے نہ بول پانا)

ایک ہی لفظ یا جملہ بار بار دہرانا (Echoing)

ہاتھ کے اشاروں (ہاتھ ہلانا، الوداع کہنا) کا استعمال نہ کرنا

دوسروں کو کچھ دکھانے یا بات کرنے میں دلچسپی نہ لینا

🔁 رویے اور دلچسپیاں

کھلونوں کو غیر معمولی انداز میں لگانا (سیدھی لائن میں یا بار بار گھمانا)

ایک ہی حرکت بار بار کرنا (جھولنا، ہاتھ ہلانا)

معمول بدلنے پر شدید غصہ یا پریشانی

کسی خاص آواز، لائٹ یا حرکت میں حد سے زیادہ دلچسپی

👂 حسی (Sensory) فرق

اونچی آواز یا شور سے کان بند کر لینا

روشنی یا پنکھے کی حرکت کو دیر تک گھورنا

کچھ بچوں کو چھونے یا گود میں لینے پر مزاحمت

Address

Chakwal
48800

Telephone

+923227480175

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when CARE Hospital chakwal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to CARE Hospital chakwal:

Share

Category