Dr Muhammad Arslan Child Specialist

Dr Muhammad Arslan Child Specialist Paediatrician Azlan Medicare Hospital Chakwal

25/05/2026
چکوال کے گرِد و نواح میں گندم کی کَٹائی زوروں پر ہے اور جگہ جگہ تھریشر بھی لگے ہیں- اِس موسم میں سانس کی الرجی میں مبتلا...
09/05/2026

چکوال کے گرِد و نواح میں گندم کی کَٹائی زوروں پر ہے اور جگہ جگہ تھریشر بھی لگے ہیں- اِس موسم میں سانس کی الرجی میں مبتلا بچے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بچے جیسے باہر سے معصوم ہوتے ہیں ویسے ہی اِن کا مدافعتی نظام بھی معصوم ہوتا ہے-

� گندم کی کٹائی اور تھریشر کا موسم
اور بچوں میں سانس کی الرجی 🤧

گندم کی کٹائی اور تھریشر کے دوران فضا میں اُڑنے والی گرد، بھوسہ اور باریک ذرات بچوں میں سانس کی الرجی، کھانسی اور دمہ کی علامات کو بڑھا سکتے ہیں۔

⚠️ عام علامات:
▪️ بار بار چھینکیں آنا
▪️ ناک بہنا یا بند ہونا
▪️ سانس لینے میں دشواری
▪️ کھانسی اور سینے میں جکڑن
▪️ آنکھوں میں خارش یا پانی آنا

✅ احتیاطی تدابیر:
✔️ بچوں کو تھریشر اور گرد والی جگہوں سے دور رکھیں
✔️ باہر جاتے وقت ماسک کا استعمال کریں
✔️ گھر کی صفائی اور ہوا کی آمدورفت بہتر رکھیں
✔️ الرجی یا دمہ کے مریض بچوں کی ادویات باقاعدگی سے استعمال کروائیں
✔️ علامات بڑھنے پر فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں

👨‍⚕️ ڈاکٹر محمد ارسلان
چائلڈ سپیشلسٹ

📞 03125671606
🏥 اذلان میڈی کئیر ہسپتال
نزد IDC لیب، گلبرگ ٹاؤن، راولپنڈی روڈ، چکوال

بچوں میں سانس روکنے کے دورے(Breath holding spell)سانس روکنے کے دورے بچوں میں ایک عام مسئلہ ہے۔ یہ خاص طور پر 6 ماہ سے 5 ...
06/05/2026

بچوں میں سانس روکنے کے دورے
(Breath holding spell)

سانس روکنے کے دورے بچوں میں ایک عام مسئلہ ہے۔ یہ خاص طور پر 6 ماہ سے 5 سال کی عمر کے بچوں میں دیکھا جاتا ہے۔ یہ دورے اکثر بچے کے غصے، رونے یا کسی چوٹ کے فوری ردعمل کے دوران ہوتے ہیں۔ والدین کے لیے بچے کی یہ حالت بہت خوفناک ہوتی ہے، کیونکہ بچہ اچانک سے روتے روتے سانس روک لیتا ہے اور کبھی کبھار جھٹکے یا مختصر بے ہوشی کے ساتھ نیلا یا سفید پڑ جاتا ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں یہ دورے خطرناک نہیں ہوتے اور وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں، لیکن صحیح معلومات اور نگرانی بہت ضروری ہے۔

نیلا ہونے والے دورے سب سے عام ہیں اور یہ زیادہ تر بچے کے شدید رونے یا غصے کے فوری ردعمل کے دوران آتے ہیں۔ اس دوران بچہ روتے روتے اچانک سانس روک لیتا ہے، اور اس کے چہرے، ہونٹ یا انگلیاں نیلے پڑ سکتے ہیں۔ بعض اوقات دل کی دھڑکن سست ہو جاتی ہے، اور بچے کو جھٹکے یا دورہ نما حرکتیں محسوس ہو سکتی ہیں۔ یہ دورے عموماً چند سیکنڈ سے ایک یا دو منٹ تک رہتے ہیں۔ نیلا ہونے والے دورے کی شدت بچے کے جذبات اور سانس روکنے کی مدت پر منحصر ہوتی ہے۔ جیسے ہی بچہ سانس لینا شروع کرتا ہے، رنگ نارمل ہو جاتا ہے، دل کی دھڑکن معمول پر آ جاتی ہے اور بچہ خود بخود ہوش میں آ جاتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کو سکون دیں اور خوفزدہ نہ ہوں، کیونکہ والدین کے پرسکون رویے سے بچے کی حالت جلد بہتر ہو جاتی ہے۔

سفید ہونے والے دورے نسبتاً کم ہوتے ہیں اور عموماً کسی اچانک درد یا چوٹ کے فوری ردعمل میں آتے ہیں۔ اس میں بچے کا چہرہ عارضی طور پر سفید یا پیلا پڑ جاتا ہے کیونکہ دماغ تک خون کی مقدار کم ہو جاتی ہے، اور بعض اوقات بچے کو مختصر بے ہوشی محسوس ہوتی ہے۔ یہ دورے عموماً چند سیکنڈ میں ختم ہو جاتے ہیں اور زیادہ تر صورتوں میں بچوں کے دل یا دماغ میں کوئی مستقل مسئلہ نہیں ہوتا۔

سانس روکنے کے دورے اکثر ایک خاندان کے مختلف افراد میں بھی دیکھے جاتے ہیں۔ اگر والدین یا بہن بھائی کو بچپن میں ایسے دورے پڑے ہوں، تو بچے میں یہ ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ تر بچوں میں یہ دورے 1 سے 3 سال کی عمر میں زیادہ عام ہیں اور جیسے جیسے دماغ کی گروتھ ہوتی ہے ، یہ دورے خود بخود کم ہو جاتے ہیں۔

زیادہ تر بچوں میں سانس روکنے کے دورے کے لیے کوئی مخصوص دوا یا علاج ضروری نہیں ہوتا۔ اصل مقصد بچے کی دورے کے دوران اور بعد کے وقت میں حفاظت اور والدین کو صحیح فرسٹ ایڈ کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔ بہت کم صورتوں میں ڈاکٹر کچھ مخصوص ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں، جیسے EEG کا ٹیسٹ یا دل کی جانچ ECG ، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ دورے دماغ یا دل کے کسی مسئلے کی وجہ سے تو نہیں آ رہے۔ یہ ٹیسٹ صرف ان بچوں میں کیے جاتے ہیں جن میں دورے طویل دورانیہ کے ہوں، یا بار بار آئیں۔

دورے کے دوران والدین کو چاہیے کہ بچے کو محفوظ جگہ پر رکھیں، سخت یا نوکیلی چیزیں ہٹا دیں، بچے کو ایک طرف لٹا دیں تاکہ سانس کی نالی بلاک نہ ہو اور بچے کو جھٹکے لگنے سے بچائیں۔ بچے کے منہ میں کبھی بھی کچھ نہ ڈالیں۔ زیادہ تر دورے چند سیکنڈ سے ایک یا دو منٹ میں ختم ہو جاتے ہیں اور بچہ خود بخود ہوش میں آ جاتا ہے۔ والدین کا پرسکون رویہ بچے کے جلد بہتر ہونے میں مددگار ہوتا ہے۔

بعض بچوں میں آئرن کی کمی یا غذائی کمی کے باعث سانس روکنے کے دورے زیادہ بار بار آ سکتے ہیں۔ اچھی اور متوازن غذا، مکمل ویکسینیشن، اور بیماریوں سے بچاؤ ان دوروں کے امکانات کو کم کر سکتے ہیں۔ آئرن کی کمی دماغ اور اعصابی نظام کی فعالیت پر اثر ڈال سکتی ہے، جس سے بچے بار بار سانس روکنے کے دورے محسوس کر سکتے ہیں۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سانس روکنے کے دورے زیادہ تر بچوں میں خطرناک نہیں ہوتے اور وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں۔ والدین کو صرف سکون، درست معلومات اور صحیح نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر دورے بہت طویل ہوں، بار بار آئیں، بچے کے ہوش میں دیر تک نہ آئیں، یا بچے کو سانس لینے میں مشکل ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔

صحیح معلومات، والدین کا پرسکون رویہ، فرسٹ ایڈ کے اصولوں کی جانکاری اور باقاعدہ طبی مشاورت بچوں کی حفاظت اور والدین کے اطمینان کے لیے نہایت اہم ہیں۔

ڈاکٹر محمد ارسلان
کنسلٹنٹ چائلڈ سپیشلسٹ
اذلان میڈی کئیر ہاسپٹل چکوال
برائے رابطہ 03125671606

🩸 بچوں میں خون کی کمی (انیمیا)بچوں میں خون کی کمی ایک عام لیکن اہم مسئلہ ہے جسے نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔❗ خون ک...
26/04/2026

🩸 بچوں میں خون کی کمی (انیمیا)

بچوں میں خون کی کمی ایک عام لیکن اہم مسئلہ ہے جسے نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

❗ خون کی کمی کیا ہے؟

جب بچے کے جسم میں ہیموگلوبن (Hemoglobin) کی مقدار کم ہو جائے تو اسے خون کی کمی کہا جاتا ہے۔



⚠️ علامات (Symptoms)

* بچے کا رنگ پیلا پڑ جانا
* کمزوری اور تھکن
* بھوک کم لگنا
* چکر آنا
* دل کی دھڑکن تیز ہونا
* پڑھائی یا کھیل میں کم دلچسپی



🧠 وجوہات (Causes)

* آئرن (Iron) کی کمی
* غیر متوازن غذا
* کیڑے (Worms)
* بار بار انفیکشن
* پیدائشی بیماریاں



🍎 بچاؤ اور علاج (Prevention & Treatment)

* بچوں کو متوازن غذا دیں (سبز سبزیاں، گوشت، دالیں، انڈا)
* آئرن سے بھرپور غذائیں شامل کریں
* ڈاکٹر کے مشورے سے آئرن سپلیمنٹ دیں
* صفائی کا خیال رکھیں
* بروقت چیک اپ کروائیں



📌 اہم پیغام

اگر آپ کے بچے میں اوپر دی گئی علامات موجود ہوں تو فوری طور پر کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔



👨‍⚕️ ڈاکٹر محمد ارسلان
MBBS, MD Paediatrics
Consultant Child Specialist
🏥 Azlan Medicare Hospital, Chakwal
📞 03125671606

World Hemophilia Day – Awareness Saves Precious TimeBleeding disorders like hemophilia often go unnoticed until complica...
17/04/2026

World Hemophilia Day – Awareness Saves Precious Time

Bleeding disorders like hemophilia often go unnoticed until complications arise. Early awareness can make a life-changing difference—especially for children.

Hemophilia is a condition where blood doesn’t clot properly, leading to prolonged bleeding, joint damage, and serious health risks if left untreated. In Pakistan, limited awareness and delayed diagnosis still remain major challenges

At Azlan Medicare Hospital Chakwal, we believe that timely diagnosis, expert pediatric care, and continuous monitoring can protect your child’s future.

Watch out for early signs:
• Easy bruising
• Frequent nosebleeds
• Joint pain or swelling
• Prolonged bleeding from minor cuts

With specialized pediatric care and compassionate support, we’re here to guide families every step of the way.

Because awareness today can prevent complications tomorrow.
📍 Azlan Medicare Hospital Near IDC lab Gulburg Town Rawalpindi Road Chakwal
📞 03125671606

🩸 بچوں میں خون کی کمی (Anemia)اکثر والدین اسے معمولی کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں…لیکن بعض اوقات یہی مسئلہ کسی ب...
14/04/2026

🩸 بچوں میں خون کی کمی (Anemia)
اکثر والدین اسے معمولی کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں…
لیکن بعض اوقات یہی مسئلہ کسی بڑی بیماری کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

⚠️ عام علامات:
• بچہ کمزور اور سست لگے
• چہرہ اور ہونٹ پیلے پڑ جائیں
• بھوک کم ہو جانا
• کھیلتے ہوئے جلد تھک جانا
• سانس تیز چلنا یا دل کی دھڑکن بڑھنا
🔍 عام وجوہات:
• خوراک میں آئرن (Iron) کی کمی
• دودھ زیادہ اور ٹھوس غذا کم لینا
• پیٹ کے کیڑے (Worms)
• بار بار انفیکشن
🚨 خطرناک وجوہات (جنہیں نظر انداز نہ کریں):
• پیدائشی خون کی بیماریاں جیسے Thalassemia
• خون کا مسلسل ضائع ہونا
• جسم میں خون بننے کا مسئلہ (Bone marrow disorders)
👉 اگر بچے میں بار بار شدید کمزوری ہو، یا خاندان میں ایسی بیماری ہو تو فوراً چیک کروائیں۔

✅ کیا کرنا چاہیے؟
• خون کا ٹیسٹ (CBC) کروائیں
• آئرن سے بھرپور غذا دیں: گوشت، انڈہ، سبز پتوں والی سبزیاں
• چائے/کافی بچوں کو نہ دیں (Iron absorption کم کرتی ہیں)
• ڈاکٹر کے مشورے سے آئرن سپلیمنٹ استعمال کریں
💡 یاد رکھیں:
ہر خون کی کمی صرف خوراک کی وجہ سے نہیں ہوتی…
کبھی کبھی اس کے پیچھے بڑی بیماری چھپی ہوتی ہے۔
📌 اگر آپ کے بچے میں یہ علامات ہیں تو بروقت تشخیص بہت ضروری ہے۔

بچوں سے متعلق مکمل رہنمائی .. تشخیص سے علاج تک۔

ڈاکٹر محمد ارسلان
ماہرِ امراضِ اطفال و نوزائیدہ

کلینک: اذلان میڈی کئیر ہسپتال چکوال
رابطہ نمبر:03125671606

آج  ایک نوزائیدہ بچے کا معائنہ کیا، جس کی کمر پر پیدائیشی پھوڑا تھا،بچے کی ٹانگوں میں بھی حرکت نہین اور تھی اور سر کا سا...
14/04/2026

آج ایک نوزائیدہ بچے کا معائنہ کیا، جس کی کمر پر پیدائیشی پھوڑا تھا،بچے کی ٹانگوں میں بھی حرکت نہین اور تھی اور سر کا سائز بھی زیادہ تھا جو الٹراساونڈ پر سر میں پانی بتایا گیا تھا ۔ ان تمام مسائل کو ہم نیورل ٹیوب ڈیفیکٹ کہتے ہیں اور اسکی ایک اھم وجہ حاملہ عورت میں فولک ایسڈ کی کمی ہے۔ والدین سے جب پوچھا گیا تو پتا چلا کہ ماں نے حمل کے دوران فولک ایسڈ کا استعمال نہیں کیا تھا۔
فولک ایسڈ کی کمی بچے میں نیورل ٹیوب ڈیفیکٹس پیدا کرنے کا ایک اہم سبب بن سکتی ہے۔

نیورل ٹیوب حمل کے ابتدائی ہفتوں میں بنتی ہے اور یہ دماغ، ریڑھ کی ہڈی اور حرام مغز کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اگر یہ ٹیوب صحیح طریقے سے بند نہ ہو تو بچے میں شدید نقائص پیدا ہو سکتے ہیں، جیسے کمر پر پھوڑا، سر میں پانی کا جمع ہونا، پاؤں یا نچلے دھڑ میں معذوری، اور بعض صورتوں میں پیشاب یا پاخانے کے کنٹرول میں مسائل۔ یہ نقائص اکثر مستقل نوعیت کے ہوتے ہیں اور بچے میں زندگی بھر کی معزوری کروا سکتے ہیں۔

یہ تمام والدین کے لیے ایک اہم پیغام ہے کیونکہ ہمارے ملک میں کئی حاملہ خواتین حمل کے ابتدائی ہفتوں میں فولک ایسڈ کا استعمال نہیں کرتیں، یا انہیں اس کی اہمیت کا علم نہیں ہوتا۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ہر حاملہ عورت کو حمل کے پہلے تین مہینوں میں روزانہ فولک ایسڈ لینا چاہیے تاکہ بچے کی نیورل ٹیوب کی مناسب تشکیل ہو سکے۔ اگر ماں کے سابقہ بچے میں نیورل ٹیوب ڈیفیکٹ ہوا ہو تو خوراک بڑھا کر چار ملی گرام کر کے حمل کی منصوبہ بندی سے پہلے شروع کرنی چاہیے۔ فولک ایسڈ کے استعمال کا آغاز حمل ٹیسٹ پوزیٹیو آنے کے انتظار سے پہلے کرنا ضروری ہے کیونکہ نیورل ٹیوب کا بننا حمل کے پہلے مہینے میں مکمل ہوجاتا ہے، اور اس وقت تک حمل کے ٹیسٹ سے حمل کنفرم نہی ہو تا ۔

مزید رہنمائی کے لیے والدین کو چاہیے کہ وہ حمل کے دوران متوازن غذا استعمال کریں، جیسے سبز پتوں والی سبزیاں، دالیں، انڈے اور دیگر وٹامن B9 سے بھرپور غذائیں۔ فولک ایسڈ کے استعمال کے لیے ہمیشہ ڈاکٹر یا چائلڈ نیورولوجسٹ کی رہنمائی لیں اور کسی بھی دوا یا سپلیمنٹ کے استعمال سے پہلے مشورہ ضروری ہے۔ بروقت احتیاط، صحیح معلومات اور مناسب رہنمائی بچے کی زندگی اور صحت میں نمایاں فرق ڈال سکتی ہے۔ نیورل ٹیوب ڈیفیکٹس کے زیادہ تر کیسز ابتدائی احتیاط اور فولک ایسڈ کے استعمال سے روکے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد ارسلان
کنسلٹنٹ چائلڈ سپیشلسٹ
اذلان میڈی کئیر ہسپتال، چکوال
برائے رابطہ 03125671606

12/04/2026
یہ دو بچے ہیں، ہم عمر اور ایک ہی جیسا کھانا کھانے والے، مگر جسامت میں مختلف۔ نہ تو پہلے بچے کو موٹاپا ہے اور نہ ہی دوسرا...
13/08/2025

یہ دو بچے ہیں، ہم عمر اور ایک ہی جیسا کھانا کھانے والے، مگر جسامت میں مختلف۔ نہ تو پہلے بچے کو موٹاپا ہے اور نہ ہی دوسرا بچہ غذائیت کی کمی کا شکار ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ ہر بچے کی نشوونما کا اپنا ایک منفرد انداز اور رفتار ہوتی ہے۔ والدین کے لیے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اپنے بیٹے یا بیٹی کی گروتھ کا موازنہ کسی دوسرے بچے سے کرنا درست نہیں۔ ہر بچہ اپنے جسمانی، ذہنی اور جذباتی پہلوؤں میں الگ ہوتا ہے، اور اسی لیے اس کی بڑھوتری کا انداز بھی مختلف ہو سکتا ہے۔ بچوں کو پیار، توجہ اور صحت مند ماحول دینا ہی ان کی متوازن نشوونما کے لیے سب سے اہم ہے۔ یاد رکھیں، ہر بچہ منفرد ہوتا ہے۔ ❤
ڈاکٹر محمد ارسلان
چائیلڈ سپیشلسٹ

Address

Azlan Medicare Hospital Near IDC Lab Gulburg Town Rawalpindi Road Chakwal
Chakwal
48800

Opening Hours

Monday 10:00 - 18:00
Tuesday 10:00 - 18:00
Wednesday 10:00 - 18:00
Thursday 10:00 - 18:00
Friday 10:00 - 17:00
Saturday 10:00 - 18:00
Sunday 09:00 - 12:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Muhammad Arslan Child Specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category