06/12/2024
پریس ریلیز ۔ینگ ڈاکٹر ایسوسییشن دیامر مورخہ 6 دسمبر 2024 بمقام ڈاکٹرز ہاسٹل آر ایچ کیو اسپتال چلاس
بموقت رات سات بجے
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن دیامر ،پاکستان میڈیکل اسیوسی ایشن دیامر پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن دیامر کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا
اجلاس میں آج کا کے دن اسپتال ہزا کے احاطے میں اسپتال کی زمین پر جابرانہ قبضے کی کوشش کے دوران ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور پی ایم اے کے نمائیندہ وفد کے ساتھ ہونے والے غیر مہزب اور توہین آمیز روئے کے خلاف بھرپور انداز میں احتجاج رکارڈ کیا گیا۔۔۔
واقعہ یوں ہے کہ اسپتال کے احاطے میں ایک لائو لشکر اور جم غفیر کی موجودگی کے پیش نظر ینگ ڈاکٹرز ایسی ایشن دیامر اور پی ایم اے کا وفد جائے وقوع پر پہنچا۔۔۔
وہاں پہ چیف جسٹس پورے جلال میں فرما رہے تھے کہ زمین تو ہماری ہے اور ہم اٹھا کہ ہی رہنگے
ہم نے شائیستہ اور مہزب انداز میں ان سے گزارش کی کہ حضور آپ اور محافظوں کے لئے زمینوں کی کیا کمی ہے،جہاں ہاتھ رکھ دے وہی لکیریں کھنچ جاتی ہے ،اس احاطے میں ایک پی ایس ڈی پی پراجیکٹ تین سو بسترو کا اسپتال شروعات تعمیر کے آخری مراحل میں ہے اور ایسے پروجیکٹس سالوں بعد آتے ہیں،اور عوامی مفادات کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس لئے آپ کہیں اور اپنے لئے زمین لے لیں۔۔۔۔انکا رویہ نسبتا عین انسانی تھا مگر ساتھ کھڑے ایک شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ایک نامعقول شخص جو بعد میں جج ہی ثابت ہوئے انہوں نے تکبرانا اور فرعونہ لہجے میں گرجتے ہوئے کہا کہ ہم" چھوٹے ملازمین کو جوتی کی نوک پہ رکھتے ہیں"یہ جملہ ایک پڑھے لکھے طبقے کے لئے گالی سے کم نہیں ہے اور بدقسمتی سے ہم بھی اس سیگمنٹ میں ہی آتے ہیں
ہم نے انسے انکے روئے کی شدید الفاظ میں مخالفت کی اور انکو کہ دیا کہ اب" تم تیر آزمائو ہم جگر آزمائنگے". اور ہمیں سمجھ آگیی کہ کیوں اس وقت عدلیہ 140 ویں نمبر پر ہے۔
فی الحال ہم نے مشترکہ یہ فیصلہ کیا ہے کہ کل بروز ہفتہ 7 دسمبر 2024 سے اسپتال ہزا تمام او پی ڈی سروسس سے مکمل ہڑتال کا اعلان کرتے ہیں اور ان نام نہاد عدلیہ کے بڑوں سے اسعداع کرتے ہیں کہ فی الفور اسپتال آکر معافی مانگے ہم مرکزی قیادت کی مشاورت سے ہڑتال کے دائرہ کار کو گلگت بلتستان کے تمام اضلاع تک وسعت دینگے۔
ڈاکٹر محمد مشتاق مرکزی ترجمان ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن گلگت بلتستان ۔