07/06/2026
:
شدید گرمی اور بچوں کی صحت
موجودہ شدید گرمی کی لہر میں نوزائیدہ بچے، شیر خوار بچے اور پانچ سال سے کم عمر بچے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔ بچوں کا جسم بالغ افراد کی نسبت درجہ حرارت کو مؤثر طریقے سے کنٹرول نہیں کر سکتا، اس لیے شدید گرمی ان میں پانی کی کمی (Dehydration)، ہیٹ ایگزاسشن (Heat Exhaustion)، ہیٹ سٹروک (Heat Stroke)، قے، دست، بخار اور دیگر سنگین طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔
❌ چھ ماہ سے کم عمر بچوں کو بلا ضرورت دھوپ میں ہرگز نہ لے جائیں۔
❌ نوزائیدہ بچوں کو بند کمروں، بغیر ہوا والی جگہوں یا پارک کی گئی گاڑی میں چند منٹ کے لیے بھی اکیلا نہ چھوڑیں۔
❌ بچوں کو ضرورت سے زیادہ کپڑے، کمبل یا موٹے ملبوسات نہ پہنائیں، کیونکہ اس سے جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔
❌ بخار، قے، دست یا پانی کی کمی کی علامات کو معمولی سمجھ کر خود علاج نہ کریں۔
✅ دودھ پیتے بچوں کو بار بار ماں کا دودھ پلائیں، کیونکہ ماں کا دودھ نہ صرف بہترین غذا بلکہ گرمی میں پانی اور قوتِ مدافعت کا بھی اہم ذریعہ ہے۔
✅ بچوں کو ہلکے، ڈھیلے اور سوتی کپڑے پہنائیں اور گھر میں مناسب ٹھنڈک اور ہوا کی آمدورفت یقینی بنائیں۔
⚠️ **فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں اگر بچہ:**
• دودھ یا غذا لینے سے انکار کرے۔
• غیر معمولی سستی، غنودگی یا کمزوری کا شکار ہو۔
• بار بار قے یا دست کر رہا ہو۔
• پیشاب کی مقدار واضح طور پر کم ہو جائے۔
• تیز بخار یا جسم کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بڑھ جائے۔
• سانس تیز چلنے لگے یا بچہ شدید بے چین نظر آئے۔
• آنکھیں دھنسی ہوئی محسوس ہوں یا ہونٹ خشک ہو جائیں۔
یاد رکھیں! بچوں میں پانی کی کمی اور ہیٹ سٹروک چند گھنٹوں میں خطرناک صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ گرمی کو ہرگز معمولی نہ سمجھیں۔ والدین کی بروقت احتیاط، مناسب نگہداشت اور فوری طبی مشورہ بچے کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر آزادی فاروق چائلڈ سپیشلسٹ
نور کلینک مکان 312 بلاک D3 پنجاب ہاؤسنگ سوسائٹی ستیانہ روڈ فیصل آباد