Psychology with Aftab Ahmad

Psychology with Aftab Ahmad Clinical Psychologist | Mental Health, Therapy & Career Counseling | Helping people heal, manage stress, and grow personally & professionally.

Promoting emotional resilience and mental health awareness across Pakistan and beyond.

06/06/2026

پانچ سال کا ماہرِ معاشیات اور ایک ادھوری خواہش
آج صبح نماز کے بعد جاگنگ اور ورزش سے فارغ ہو کر میں باہر کھلی فضا میں سائے تلے بیٹھا تھا موبائل ہاتھ میں، کچھ سکرولنگ چل رہی تھی، ہوا میں ابھی تازگی تھی، ذہن سکون میں تھا۔ یہ میری روٹین ہے، اور محمد زاویان میرا ساڑھے پانچ سالہ بیٹا یہ جانتا ہے۔ اس لیے وہ بھی اٹھ کر باہر آ گیا۔ بغیر بلائے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے بابا باہر ہی ملیں گے۔
اس نے آتے ہی پوچھا: بابا، آج کون سا دن ہے؟
میں نے کہا Saturday۔
اس نے ایک لمحہ سوچا پھر کہا بابا، ہم روز اٹھتے ہیں، اسکول جاتے ہیں، پڑھتے ہیں، کھیلتے ہیں، کھاتے ہیں اور سو جاتے ہیں... اور اب تو اسکول سے 90 دن کی چھٹیاں بھی ہو گئی۔
میں مسکرایا۔ یہ observation تھی ایک بچے کی سادہ، معصوم observation۔
پھر اچانک جیسے کوئی بات دل میں پک رہی تھی اور اب باہر نکلی اس نے کہا
بابا، مجھے بھی ایک شاپ بنا دو، یا پیٹرول پمپ لے دو میں بھی پیسے کماؤں گا۔
میں نے موبائل ایک طرف رکھا اور ذرا سیدھا ہو گیا۔ بظاہر یہ سمجھ داری والی باتیں لگتی ہیں لیکن میں ٹھہرا نا سمجھ انسان مجھے یہ سوچ نامکمل لگی ۔
یہ خواہش ادھوری کیوں لگی؟
پیسہ اہم ہے بالکل ہے۔ کام کرنا ضروری ہے یہ بھی سچ ہے۔ اور یہ خواہش کہ میں بھی کچھ کروں، میں بھی کماؤں یہ فطری ہے، بلکہ خوش آئند ہے۔
لیکن جس انداز میں بات آئی شاپ بنا دو، پمپ لے دو اس میں محنت نہیں تھی، ہنر نہیں تھا، راستہ نہیں تھا۔ صرف نتیجہ تھا۔
اور یہی وہ سوچ ہے جسے ماہرینِ نفسیات Extrinsic Motivation کہتے ہیں یعنی اندر سے نہیں، باہر سے ملنے والی چیز کی طرف دوڑنا۔ پیسہ، شہرت، چیزیں۔
جبکہ جو انسان واقعی کامیاب ہوتے ہیں، وہ Intrinsic Motivation سے چلتے ہیں یعنی اندر سے جلنے والی لگن، کسی کام کو سیکھنے اور بہتر کرنے کی خواہش۔
میں نے زاویان سے پوچھا..
شاپ والا پیسے کیسے کماتا ہے؟
اس نے کہا ہم جب چیز لینے جاتے ہیں، چیزیں لیتے ہیں، پیسے دیتے ہیں۔
لیکن وہ چیزیں کہاں سے آئیں؟ جواب آیا اللہ نے دی کیوں کہ سب کچھ اللہ نے بنایا۔ لیکن یہ چیزیں اللہ نے کسی اور کو دی تھی اس پاس کیسے آئی۔۔
خریدی ہوں گی؟ ایک سوالیہ جواب أیا
تو پہلے اس نے پیسے لگائے، پھر محنت کی، پھر کمایا یعنی پہلے دینا پڑتا ہے، پھر ملتا ہے۔
خاموشی۔ سوچنے والی خاموشی۔
پھر میں نے پوچھا یٹرول پمپ والا وہ صبح کتنے بجے آتا ہے؟"
جلدی؟
بہت جلدی۔ دھوپ میں بھی، سردی میں بھی، بارش میں بھی۔ تو کیا صرف پمپ ہونے سے پیسے آتے ہیں؟
اس نے خود کہا نہیں. کام کرنا پڑتا ہے۔
وہ نقظہ وہ لمحہ جو میں چاہتا تھا آ گیا تھا۔
بچپن میں ہم جو سیکھتے ہیں، وہ صرف باتیں نہیں ہوتیں وہ Mental Models بنتے ہیں۔ دنیا کو دیکھنے کے طریقے۔ اور یہ طریقے پھر ساری زندگی ہمارے فیصلوں میں جھلکتے ہیں۔ آپ بچوں کو معاشرے اور دنیا کو جس نظریے سے دیکھنا سکھاؤ گے یا وہ ارد گرد سے سیکھے گا وہ زندگی بھر اسی کے مطابق چلے گا
ماہرِ نفسیات Carol Dweck نے کہا تھا
"In a fixed mindset, students believe their basic abilities are simply fixed. But in a growth mindset, students believe their abilities can be developed through dedication and hard work."
"ایک محدود ذہنیت میں، طلباء یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی بنیادی صلاحیتیں جو ہیں سو ہیں — بدل نہیں سکتیں۔ لیکن ایک ترقی پذیر ذہنیت میں، طلباء یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کی صلاحیتیں لگن اور محنت سے نکھاری اور بڑھائی جا سکتی ہیں۔"
زاویان کو میں نے آج ایک پمپ یا شاپ کا خواب نہیں دیا بلکہ ایک سوچ دینے کی کوشش کی کہ پہلے خود کو بناؤ، پھر دنیا خود آتی ہے۔
پیسہ برا نہیں لیکن صرف پیسہ کافی نہیں
میں نے زاویان سے کہا پیسہ ضروری ہے، بیٹا میں نہیں کہتا نہیں۔ لیکن پیسہ آتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ جو نہیں جاتا وہ ہے تمہارا نام، تمہارا کردار، تمہاری محنت کی عادت۔ یہ کوئی نہیں چھین سکتا۔ گو کہ اس کے سامنے یہ فکری چیزیں ابھی مشکل ہیں لیکن اس کی آواز اور صدا اس کے کانوں تک چلی گی۔
ماہرِ نفسیات Abraham Maslow نے ضروریاتِ انسانی کا جو نقشہ بنایا اس میں سب سے اوپر Self-Actualization ہے یعنی وہ مقام جہاں انسان اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ جیتا ہے۔ وہاں پہنچنے کے لیے صرف پیسہ نہیں مقصد چاہیے، ہنر چاہیے، کردار چاہیے۔
آخر میں میں نے پوچھا فو ابھی بھلا کیا کرنا ہے؟
اس نے کہا پڑھنا؟
اور؟
وہ مسکرایا کھیلنا بھی! پلے لینڈ بھی جانا ہے۔
میں اس سمجھ داری والے جواب سے زیادہ اس جواب سے مطمعن ہوا کیوں کہ یہ اس کی دنیا کے مطابق تھا اور اس کی ذہنی صحت کی علامت بھی۔ زاویان کے سلکی بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے کہاں بالکل۔ ابھی خوب کھیلو یہ بھی تربیت ہے۔ لیکن دل میں یہ رکھو کہ بڑے ہو کر وہ بنوں گا جس پر بابا کو فخر ہو۔ اور سب سے پہلے خود کو۔
وہ اندر بھاگ گیا۔ شاید کھیلنے۔
لیکن میں دیر تک وہیں بیٹھا رہا موبائل ایک طرف پڑا تھا، سکرولنگ بھول چکی تھی، لیکن دل میں ایک گرماہٹ۔ ایک ہلچل تھی۔
آپ کے گھر میں بھی کوئی زاویان ہوگا جو اچانک ایسے سوال پوچھتا ہے جن کا جواب دینے سے پہلے آپ کو خود سوچنا پڑتا ہے۔
وہی لمحے اصل تربیت کے لمحے ہوتے ہیں۔
اپنے بچوں کو پیسے کا خواب نہیں محنت کی عادت دیں۔ انسانیت کا درس دیں، دنیا کی حقیقت دکھائیں ناکہ جو دنیا میں نظر آ رہا باقی سب خود آتا ہے۔
Psychology with Aftab Ahmad

02/06/2026
02/06/2026

بچے صرف تصویریں نہی بناتے وہ اپنے اندر کی دنیا ہمارے سامنے رکھتے ہیں۔ بچوں کو سمجھنے کیلیے ان کی ڈرائنگز کی تخلیقی سوچ کو سمجھیں۔

01/06/2026

گھر کی چھت تلے ٹوٹتا وجود
کتنی عجیب بات ہے نا آپ نے Master کیا، MS کیا، شاید PhD بھی۔ آپ کسی اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں، یا کسی اچھی position پر ہیں۔ آپ کے الفاظ میں تہذیب ہے، آواز میں اعتماد ہے، معاشرے میں آپ کی پہچان ہے، عزت ہے، لوگ آپ کا احترام کرتے ہیں۔
لیکن جیسے ہی آپ گھر کی دہلیز پار کرتے ہیں سب کچھ بدل جاتا ہے۔
گھر میں کوئی ایک فرد ہے باپ، بھائی، شوہر، ماں، بہن یا بیوی جو الفاظ کے چناؤ میں بہت برا ہے۔ جو نہ ڈھنگ سے بولتا ہے، نہ ڈھنگ سے برتاؤ کرتا ہے۔ اور آپ جو باہر کبھی آپا نہیں کھوتے گھر میں کبھی temper کھو بیٹھتے ہیں، کبھی پریشان ہو جاتے ہیں، کبھی depressed، کبھی anxious۔
یہ تضاد آپ کو اندر سے disturb کرتا ہے۔ آپ کا وجود کمزور پڑتا ہے۔ Energy low ہوتی ہے۔
ماہرینِ نفسیات اس کیفیت کو Cognitive Dissonance کہتے ہیں۔
یعنی آپ کے اندر دو الگ الگ دنیائیں ہیں جو ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔ باہر کی دنیا آپ کو "قابل، تہذیب یافتہ، قابلِ احترام" کہتی ہے۔ گھر کی دنیا آپ کو وہ نہیں سمجھتی جو آپ ہیں۔ یہ ٹکراؤ صرف ذہنی نہیں یہ روح کو تھکاتا ہے۔
اس کے ساتھ ایک اور نفسیاتی عمل ہوتا ہے جسے Emotional Labor کہتے ہیں۔
باہر آپ ہر وقت اپنے جذبات کو manage کرتے ہیں یہ محنت ہے، نظر نہ آنے والی محنت۔ جب آپ گھر پہنچتے ہیں تو یہ emotional tank خالی ہوتا ہے۔ اور جب گھر میں بھی وہی محنت مانگی جائے تو انسان ٹوٹ جاتا ہے۔
نفسیات میں ایسے افراد کو Emotionally Dysregulated کہا جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ برے انسان ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے کبھی سیکھا ہی نہیں کہ اپنے جذبات کو صحت مند طریقے سے ظاہر کریں۔ شاید انہوں نے وہی دیکھا جو انہیں دکھایا گیا غصہ، لاپرواہی، بے رخی۔
لیکن اس کا بوجھ آپ کیوں اٹھائیں؟
جب بار بار یہی ہو تو نفسیاتی طور پر تین چیزیں ہوتی ہیں
پہلی Identity Fragmentation: آپ کو خود نہیں پتہ کہ آپ "اصل میں" کون ہیں باہر والے آپ، یا گھر والے؟
دوسری Chronic Stress Response: جسم مسلسل alert mode میں رہتا ہے۔ نیند متاثر ہوتی ہے، توانائی گھٹتی ہے، چھوٹی باتوں پر بڑا ردِعمل آتا ہے۔
تیسری Self-Esteem Erosion: آہستہ آہستہ آپ خود سے پوچھنے لگتے ہیں کیا واقعی میں اتنا قابل ہوں؟ تو گھر میں یہ حال کیوں؟
اب آپ نے کرنا کیا ہے؟
پہلا قدم خود کو سمجھیں، قصوروار نہ ٹھہرائیں۔ آپ کا گھر میں آپا کھونا کمزوری نہیں یہ ایک تھکے ہوئے انسان کا فطری ردِعمل ہے۔
دوسرا قدم Boundaries سیکھیں۔ Boundary کا مطلب دیوار نہیں اس کا مطلب ہے کہ آپ طے کریں کہ آپ کے ساتھ کیا قابلِ قبول ہے اور کیا نہیں۔
تیسرا قدم Emotional Detachment سیکھیں۔ اس فرد کی باتوں کو ذاتی طور پر نہ لیں۔ یہ ان کا مسئلہ ہے، آپ کی کمی نہیں۔
چوتھا قدم Recovery Space بنائیں۔ کچھ وقت صرف اپنا جہاں آپ صرف آپ ہوں، کوئی role نہیں، کوئی توقع نہیں۔
ایک پرانی بات ہے
جو شخص باہر پوری دنیا کو روشنی دیتا ہے، وہ گھر میں اندھیرے میں بیٹھا ہوتا ہے۔
یہ اس لیے نہیں کہ وہ کمزور ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ اسے کبھی کسی نے نہیں پوچھا۔
تم ٹھیک ہو؟
آج میں آپ سے پوچھتا ہوں کیا آپ ٹھیک ہیں؟
اگر آپ کا جواب جی اللہ کا شکر ہے۔ تو پھر لوگوں کیلیے آسانیاں پیدا کیجیے اللہ کا مزید شکر ادا کیجیے اور آجزی اپنائییے
اگر نہیں تو یاد رکھیں، مدد مانگنا سب سے بڑی طاقت ہے۔
Psychology with Aftab Ahmad

26/05/2026
قبرستان کی  خاموش صبح اس دفعہ عید سے تین دن پہلے ہی گاؤں آ گئے  محمد زاویان آفتاب اور محمد اذہان آفتاب کے اسرار پر ساڑھے...
26/05/2026

قبرستان کی خاموش صبح
اس دفعہ عید سے تین دن پہلے ہی گاؤں آ گئے محمد زاویان آفتاب اور محمد اذہان آفتاب کے اسرار پر ساڑھے پانچ سال اور ساڑھے تین سال کے یہ دو چھوٹے مسافر اپنے بابا کو گاؤں کھینچ لائے۔ اور حقیقت میں خود کا دل بھی چاہتا تھا۔
گاؤں میں میرا معمول پرانا ہے۔ فجر کی نماز کے بعد مارننگ واک اور قدم خود بخود اس طرف مڑ جاتے ہیں جہاں دادا ابو آرام فرما ہیں، جہاں ماموں جان ہیں، چاچو ہیں، مامی اور خالہ ہیں اور وہ دوسرے بزرگ بھی جن کی خاموشی ایک تربیت ہے۔
پہلے چاند رات کو آتے تو بس عید کی صبح ایک بار حاضری ہوتی تھی۔ اس دفعہ تین دن سے روز جا رہا ہوں۔ اور ہر بار کچھ نہ کچھ اندر بدل کر واپس آتا ہوں۔
صبح کی اس خاموشی میں، ان بزرگوں کی صحبت میں، اللہ سے جو دعا نکلتی ہے وہ دل کی گہرائی سے نکلتی ہے۔ نہ الفاظ کی تلاش ہوتی ہے، نہ کوئی دکھاوا بس ایک سکون اور زندگی کی اصل حقیقت سامنے آ جاتی ہے۔
نفسیات میں ایک concept ہے جسے Mortality Salience کہتے ہیں یعنی جب انسان کو اپنی موت کا شعوری احساس ہو۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ یہ احساس انسان کو اندر سے بدل دیتا ہے۔ تکبر پگھلتا ہے، ترجیحات بدلتی ہیں، دوسروں کے ساتھ سلوک نرم ہوتا ہے اور انسان وہ کام کرنے لگتا ہے جو اسے واقعی کرنے چاہییں۔
چودہ سو سال پہلے نبی کریم ﷺ نے یہی بات ایک جملے میں کہہ دی تھی:
زُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْآخِرَةَ
قبروں کی زیارت کرو، کیونکہ یہ تمہیں آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔
(سنن ابن ماجہ: ١٥٧١ — صحیح)
آج کی نفسیات جو لیبارٹریوں میں ثابت کر رہی ہے، اسلام نے وہ صدیوں پہلے عمل میں دے دیا تھا۔
ان قبروں کے درمیان کھڑے ہو کر ایک سوال دل میں ابھرتا ہے یہ سب جو یہاں سو رہے ہیں، کیا انہیں پتہ تھا کہ یہ ان کا آخری دن ہے؟ کیا وہ بھی ایسے ہی سوچتے تھے جیسے ہم سوچتے ہیں کہ ابھی وقت ہے، ابھی توبہ کر لیں گے، ابھی نماز شروع کر لیں گے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ
ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔
(سورۃ آل عمران: ١٨٥)
یہ آیت کسی ایک انسان کے لیے نہیں یہ میرے لیے ہے، آپ کے لیے ہے، ہر اس شخص کے لیے ہے جو آج زندہ ہے اور یہ سطریں پڑھ رہا ہے۔
قبرستان میں کھڑے ہو کر دنیا چھوٹی لگتی ہے۔ نہ رتبہ یاد رہتا ہے، نہ دولت، نہ وہ جھگڑے جن پر ہم نے رشتے توڑے۔ صرف یہ سوچ رہ جاتی ہے کہ میں نے کیا کیا اور کیا کرنا چاہیے تھا۔
یہی انسان کی اصل حقیقت ہے مٹی سے آیا اور مٹی میں جانا ہے۔ درمیان میں جو وقت ملا، وہی اصل امتحان ہے۔ نفسیات اسے self-awareness کہتی ہے، اسلام اسے فکرِ آخرت کہتا ہے مگر منزل دونوں کی ایک ہی ہے انسان اپنی اصل پہچانے۔
اللہ ہمارے تمام مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں اس وقت سے پہلے جاگنے کی توفیق دے جب جاگنے کا وقت نہ رہے۔ آمین۔
Psychology with Aftab Ahmad

25/05/2026

دل تھام کے پڑھئے!
عمران سے ملاقات کرکے جب میں نے انکی زبانی انکی داستان سنی تو واللہ میں خود پر قابو نہیں رکھ پایا تھا،رات بھر مجھے ان دو ننھے منے بہن بھائی پر گزرے وقت کی داستان سن کر بہت رویا۔
یہ سال 2009 کی بات ہے،نیچے جو تحریر کاپی کی ہے یہ عمران کا لکھا ہوا ہے:
"میرا نام عمران ھے اور میری بہن کا نام لا ئبہ(اصل نام اسماء) ھے
ھم دونوں جب گھر سے نکلے تھے تب میری عمر چار۔ بہن چھ سال کی تھی۔
ہمارے گھر میں ماں باپ کے درمیان کوئ جھگرا ہوا،ماں ھم دونوں کو لیکر گھر سے نکل گئ ۔
تب رات زیادہ ہونے کی وجہ سے ھم فت پاتھ پر ہی سو گئے۔
جب آدھی رات میں آنکھ کھلی تو ماں نہیں تھی،میں اور بہن روتے روتے ڈرتے سہمتے سوگئے۔
صبح اٹھ کر پھر رونے لگے ۔
وہاں تین آدمی أئے انہوں نے ہمے ناشتہ کروایا ۔
ایک آدمی ھم دونوں کو اپنے گھر لے گیا،انہوں نے کئ روز ہمیں اپنے پاس رکھا ۔
ایک دن ایک بندہ آیا اور ان سے بولا یہ دونوں بچے مجھے دیں دے آپ،پھر وہ ہمیں اپنے ساتھ لیکر اپنے گھر لے آیا۔
وہ ہم پر ظ*لم کرتا اور گھر کے کام کرواتا تھا۔
جسکی وجہ سے ایک خاتون نے ہمیں کورنگی کے ایک شیلٹر میں داخل کرادیا ۔
مجھے تب اپنا نام بھی سہی سے یاد نہیں تھا ۔
میری بہن کہتی کہ اس نام اسماء ھے اور والد کا نام برھان ہے ۔
مجھے بس اتنا یاد ھے کہ ہمارے ابو ہمیشہ ٹوپی اور شلوارکمیز پہنے تھے ۔
کبھی کبھی یاد آتا ہے ٹرین میں صفر بھی کیا ہے۔
اور سمندر بھی گئے ہیں ۔
ابھی میرا نام عمران اور میری بہن کا نام لائبہ رکھا ھے
بہن کا کہنا ہے کہ ہمارے بھائ بہن یا کزن بھی ہیں
وہ ہمارے گھر آتے رہتے تھے۔ مجھے کنفرم نہیں ہے کہ میرا نام شیلٹر مے رکھا ہے یا یہی اصلی نام ہے۔ اسماء نے کہا ہے کہ گھر میں بھی یہی نام ہے۔"
یہ دلخراش داستان جب عمران کے ساتھ بیٹھ کر انکی زبانی سنیں تھی تو میں بالکل ساکت ہوگیا تھا اور میں سب کچھ بھول گیا اور ان بہنوں پر گزرے حالات کے سوچ میں بالکل گم گیا۔
اور عمران نے جب یہ بتایا کہ "بہن سے ملنے جاتا ہوں تو وہ بہت ہی حسرت کے ساتھ کہتی ہے بھائی گھر کا کچھ کرو نا""تو ایسے لگا جیسے کسی نے وار کردیا ہو دل پر۔
اگر کراچی کے دوست اس پوسٹ کو پورے شہر میں پھیلا دیں تو یہ دو بہن بھائی اپنے خاندان کے پاس پہنچ سکتے ہیں۔انکی زندگیاں سنور سکتی ہیں۔
خدارا اس پوسٹ کو ملک بھر میں عام کریں تاکہ دو پھول جیسے بہن بھائی اپنوں سے ملیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

24 may 2026

Address

Faisalabad
38000

Opening Hours

Monday 10:00 - 19:00
Tuesday 10:00 - 19:00
Wednesday 10:00 - 19:00
Thursday 10:00 - 19:00
Friday 10:00 - 19:00
Saturday 10:00 - 19:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Psychology with Aftab Ahmad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Psychology with Aftab Ahmad:

Shortcuts

Share