06/06/2026
پانچ سال کا ماہرِ معاشیات اور ایک ادھوری خواہش
آج صبح نماز کے بعد جاگنگ اور ورزش سے فارغ ہو کر میں باہر کھلی فضا میں سائے تلے بیٹھا تھا موبائل ہاتھ میں، کچھ سکرولنگ چل رہی تھی، ہوا میں ابھی تازگی تھی، ذہن سکون میں تھا۔ یہ میری روٹین ہے، اور محمد زاویان میرا ساڑھے پانچ سالہ بیٹا یہ جانتا ہے۔ اس لیے وہ بھی اٹھ کر باہر آ گیا۔ بغیر بلائے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے بابا باہر ہی ملیں گے۔
اس نے آتے ہی پوچھا: بابا، آج کون سا دن ہے؟
میں نے کہا Saturday۔
اس نے ایک لمحہ سوچا پھر کہا بابا، ہم روز اٹھتے ہیں، اسکول جاتے ہیں، پڑھتے ہیں، کھیلتے ہیں، کھاتے ہیں اور سو جاتے ہیں... اور اب تو اسکول سے 90 دن کی چھٹیاں بھی ہو گئی۔
میں مسکرایا۔ یہ observation تھی ایک بچے کی سادہ، معصوم observation۔
پھر اچانک جیسے کوئی بات دل میں پک رہی تھی اور اب باہر نکلی اس نے کہا
بابا، مجھے بھی ایک شاپ بنا دو، یا پیٹرول پمپ لے دو میں بھی پیسے کماؤں گا۔
میں نے موبائل ایک طرف رکھا اور ذرا سیدھا ہو گیا۔ بظاہر یہ سمجھ داری والی باتیں لگتی ہیں لیکن میں ٹھہرا نا سمجھ انسان مجھے یہ سوچ نامکمل لگی ۔
یہ خواہش ادھوری کیوں لگی؟
پیسہ اہم ہے بالکل ہے۔ کام کرنا ضروری ہے یہ بھی سچ ہے۔ اور یہ خواہش کہ میں بھی کچھ کروں، میں بھی کماؤں یہ فطری ہے، بلکہ خوش آئند ہے۔
لیکن جس انداز میں بات آئی شاپ بنا دو، پمپ لے دو اس میں محنت نہیں تھی، ہنر نہیں تھا، راستہ نہیں تھا۔ صرف نتیجہ تھا۔
اور یہی وہ سوچ ہے جسے ماہرینِ نفسیات Extrinsic Motivation کہتے ہیں یعنی اندر سے نہیں، باہر سے ملنے والی چیز کی طرف دوڑنا۔ پیسہ، شہرت، چیزیں۔
جبکہ جو انسان واقعی کامیاب ہوتے ہیں، وہ Intrinsic Motivation سے چلتے ہیں یعنی اندر سے جلنے والی لگن، کسی کام کو سیکھنے اور بہتر کرنے کی خواہش۔
میں نے زاویان سے پوچھا..
شاپ والا پیسے کیسے کماتا ہے؟
اس نے کہا ہم جب چیز لینے جاتے ہیں، چیزیں لیتے ہیں، پیسے دیتے ہیں۔
لیکن وہ چیزیں کہاں سے آئیں؟ جواب آیا اللہ نے دی کیوں کہ سب کچھ اللہ نے بنایا۔ لیکن یہ چیزیں اللہ نے کسی اور کو دی تھی اس پاس کیسے آئی۔۔
خریدی ہوں گی؟ ایک سوالیہ جواب أیا
تو پہلے اس نے پیسے لگائے، پھر محنت کی، پھر کمایا یعنی پہلے دینا پڑتا ہے، پھر ملتا ہے۔
خاموشی۔ سوچنے والی خاموشی۔
پھر میں نے پوچھا یٹرول پمپ والا وہ صبح کتنے بجے آتا ہے؟"
جلدی؟
بہت جلدی۔ دھوپ میں بھی، سردی میں بھی، بارش میں بھی۔ تو کیا صرف پمپ ہونے سے پیسے آتے ہیں؟
اس نے خود کہا نہیں. کام کرنا پڑتا ہے۔
وہ نقظہ وہ لمحہ جو میں چاہتا تھا آ گیا تھا۔
بچپن میں ہم جو سیکھتے ہیں، وہ صرف باتیں نہیں ہوتیں وہ Mental Models بنتے ہیں۔ دنیا کو دیکھنے کے طریقے۔ اور یہ طریقے پھر ساری زندگی ہمارے فیصلوں میں جھلکتے ہیں۔ آپ بچوں کو معاشرے اور دنیا کو جس نظریے سے دیکھنا سکھاؤ گے یا وہ ارد گرد سے سیکھے گا وہ زندگی بھر اسی کے مطابق چلے گا
ماہرِ نفسیات Carol Dweck نے کہا تھا
"In a fixed mindset, students believe their basic abilities are simply fixed. But in a growth mindset, students believe their abilities can be developed through dedication and hard work."
"ایک محدود ذہنیت میں، طلباء یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی بنیادی صلاحیتیں جو ہیں سو ہیں — بدل نہیں سکتیں۔ لیکن ایک ترقی پذیر ذہنیت میں، طلباء یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کی صلاحیتیں لگن اور محنت سے نکھاری اور بڑھائی جا سکتی ہیں۔"
زاویان کو میں نے آج ایک پمپ یا شاپ کا خواب نہیں دیا بلکہ ایک سوچ دینے کی کوشش کی کہ پہلے خود کو بناؤ، پھر دنیا خود آتی ہے۔
پیسہ برا نہیں لیکن صرف پیسہ کافی نہیں
میں نے زاویان سے کہا پیسہ ضروری ہے، بیٹا میں نہیں کہتا نہیں۔ لیکن پیسہ آتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ جو نہیں جاتا وہ ہے تمہارا نام، تمہارا کردار، تمہاری محنت کی عادت۔ یہ کوئی نہیں چھین سکتا۔ گو کہ اس کے سامنے یہ فکری چیزیں ابھی مشکل ہیں لیکن اس کی آواز اور صدا اس کے کانوں تک چلی گی۔
ماہرِ نفسیات Abraham Maslow نے ضروریاتِ انسانی کا جو نقشہ بنایا اس میں سب سے اوپر Self-Actualization ہے یعنی وہ مقام جہاں انسان اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ جیتا ہے۔ وہاں پہنچنے کے لیے صرف پیسہ نہیں مقصد چاہیے، ہنر چاہیے، کردار چاہیے۔
آخر میں میں نے پوچھا فو ابھی بھلا کیا کرنا ہے؟
اس نے کہا پڑھنا؟
اور؟
وہ مسکرایا کھیلنا بھی! پلے لینڈ بھی جانا ہے۔
میں اس سمجھ داری والے جواب سے زیادہ اس جواب سے مطمعن ہوا کیوں کہ یہ اس کی دنیا کے مطابق تھا اور اس کی ذہنی صحت کی علامت بھی۔ زاویان کے سلکی بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے کہاں بالکل۔ ابھی خوب کھیلو یہ بھی تربیت ہے۔ لیکن دل میں یہ رکھو کہ بڑے ہو کر وہ بنوں گا جس پر بابا کو فخر ہو۔ اور سب سے پہلے خود کو۔
وہ اندر بھاگ گیا۔ شاید کھیلنے۔
لیکن میں دیر تک وہیں بیٹھا رہا موبائل ایک طرف پڑا تھا، سکرولنگ بھول چکی تھی، لیکن دل میں ایک گرماہٹ۔ ایک ہلچل تھی۔
آپ کے گھر میں بھی کوئی زاویان ہوگا جو اچانک ایسے سوال پوچھتا ہے جن کا جواب دینے سے پہلے آپ کو خود سوچنا پڑتا ہے۔
وہی لمحے اصل تربیت کے لمحے ہوتے ہیں۔
اپنے بچوں کو پیسے کا خواب نہیں محنت کی عادت دیں۔ انسانیت کا درس دیں، دنیا کی حقیقت دکھائیں ناکہ جو دنیا میں نظر آ رہا باقی سب خود آتا ہے۔
Psychology with Aftab Ahmad