Dr Subhan Ullah

Dr Subhan Ullah Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr Subhan Ullah, Mental Health Service, Faisalabad.

ڈاکٹر سبحان انصاری
اسسٹنٹ پروفیسر سائیکائٹری/ ماہر نفسیات
(کلینک: فیصل آباد ،گوجرہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ)
سرگودھا کلینک Novocare Hospital
رابطہ نمبر 03004489579
Psychiatry and Psychology Clinic
تمام قسم کی نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے تشریف لائیں

5 گھنٹے کی اڑان اور صرف ایک بار پر ہلایا: دنیا کے سب سے وزنی اڑنے والے پرندے کا حیران کن راز! 🦅💨🏔️جنوبی امریکہ کے پہاڑی ...
31/08/2026

5 گھنٹے کی اڑان اور صرف ایک بار پر ہلایا: دنیا کے سب سے وزنی اڑنے والے پرندے کا حیران کن راز! 🦅💨🏔️

جنوبی امریکہ کے پہاڑی سلسلے اینڈیز (Andes) میں پایا جانے والا اینڈین کونڈور (Andean Condor) سائنسی دنیا میں اپنی بے مثال اڑان اور وزنی جسامت کے باعث حیرت کا باعث بنا ہوا ہے۔
اس عظیم الجثہ پرندے کے اہم حقائق:

حیران کن جسامت: اس پرندے کا وزن 15 کلوگرام تک ہوتا ہے، جبکہ اس کے کھلے ہوئے پروں کا پھیلاؤ 3 میٹر (تقریباً 10 فٹ) تک پہنچتا ہے، جو اسے دنیا کا سب سے وزنی اڑنے والا پرندہ بناتا ہے۔

5 گھنٹے میں صرف 1 بار پر ہلایا: سائنسدانوں نے جب اس پرندے پر جدید سینسرز لگا کر تحقیق کی تو سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ یہ 5 گھنٹے مسلسل اڑنے کے دوران صرف ایک بار اپنے پر ہلاتا (Flap) ہے۔

ہوا کی لہروں کا ماہر: یہ پرندہ پر ہلانے کی طاقت ضائع کرنے کے بجائے پہاڑوں سے اٹھنے والی گرم ہوا کی لہروں (Thermal Drafts) پر تیرتا ہے اور بغیر تھکے ایک دن میں 200 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر لیتا ہے۔

توانائی کی بچت کی اعلیٰ مثال: اینڈین کونڈور اپنی اڑان کا 99 فیصد وقت صرف ہوا میں پھسلتے (Gliding) ہوئے گزارتا ہے، جو پرندوں کی دنیا میں توانائی کی بچت (Energy Efficiency) کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔


(Source):
(Proceedings of the National Academy of Sciences & Wildlife Biology Reports)

Would you believe this is handmade? 👀
31/08/2026

Would you believe this is handmade? 👀

30/08/2026

Dr Subhan Clinic: نفسیات کلینک فیصل آباد
ھم مختلف قسم کی ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کا علاج کر تے ہیں ھم نفسیاتی طریقہ علاج اور ادویات کے ذریعے بیماریوں کا علاج کر تے ہیں
اگر آپ گبھراہٹ بے چینی اعصابی کمزوری سر دررد مرگی کے دوروں، ڈپریشن، بائ پولر ڈس آرڈر، یا شیزو فرینیا یا کسی بھی نفسیاتی مسائل کا شکار ہوں
تو رابطہ نمبر پر رجوع کریں
0300-4489579

We offer comprehensive Assessment and management of different Types of Psychosocial and Psychiatric disorders.

Heslth 360 Clinic Satyana Road
Faisalsbad.
drsubhan.com
[21/08, 13:07] Dr Subhan Clinic: اگر اپ نے Appointment بک کروانی ھے یا آپ کسی قسم کی معلومات چاہتے ہیں یا کلینک پر علاج کروانے کے لے رابطہ کریں
Please contact +92 300 4489579.

30/08/2026

🇵🇰🇦🇹 بلاول بھٹو کی آسٹرین شہزادی سے شادی؟
سوشل میڈیا پر گزشتہ دو دن سے ایک دلچسپ خبر تیزی سے گردش کر رہی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مبینہ طور پر آسٹریا کے سابق شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سے شادی کرنے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ شادی آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں متوقع ہے اور جس خاتون کا نام اس حوالے سے سامنے آ رہا ہے، وہ گلوریا فان ہیبسبرگ (Gloria von Habsburg) ہیں۔ افواہ کو اس وقت مزید ہوا ملی جب صدر آصف علی زرداری کے آسٹریا کے دورے اور بلاول بھٹو کی آسٹریا میں موجودگی سے متعلق خبریں اور پرانی ویڈیوز دوبارہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔ تاہم ابھی تک اس شادی یا منگنی کا کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، اس لیے فی الحال اسے ایک گردش کرتی ہوئی خبر ہی سمجھنا چاہیے۔

لیکن اس افواہ میں جس خاتون کا نام لیا جا رہا ہے، ان کی اپنی کہانی اتنی دلچسپ ہے کہ شادی کی خبر سے قطع نظر ان کا تعارف ہی ایک مکمل تاریخی داستان بن جاتا ہے۔ گلوریا فان ہیبسبرگ 15 اکتوبر 1999 کو پیدا ہوئیں اور ان کا تعلق یورپ کے قدیم ترین شاہی خاندانوں میں شمار ہونے والے ہیبسبرگ-لورین خاندان سے ہے۔ ان کے والد کارل فان ہیبسبرگ ہیں، جو سابق آسٹریائی شاہی خاندان کے سربراہ ہیں، جبکہ ان کی والدہ فرانسسکا تھائسن-بورنی میسا ایک معروف آرٹ کلیکٹر، کیوریٹر اور فلاحی شخصیت ہیں۔ یعنی گلوریا کی پیدائش ہی ایسے خاندان میں ہوئی جہاں ایک طرف یورپی سلطنتوں کی تاریخ تھی اور دوسری طرف دولت، صنعت اور فنونِ لطیفہ کی دنیا۔

گلوریا کے والد کارل فان ہیبسبرگ کی اپنی شناخت بھی معمولی نہیں۔ وہ اوٹو فان ہیبسبرگ کے بیٹے ہیں، اور اوٹو وہ شخص تھے جنہوں نے ایک ختم ہو چکی سلطنت کی آخری شاہی نسل کو جدید یورپ میں زندہ رکھا۔ اوٹو 1912 میں پیدا ہوئے تھے اور وہ آسٹریا کے آخری شہنشاہ کارل اول اور ان کی اہلیہ ملکہ زیتا آف بوربن-پارما کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ سلطنت ان کی آنکھوں کے سامنے ختم ہوئی، لیکن شاہی خاندان کی نسل آگے چلتی رہی، یہاں تک کہ اوٹو کے بیٹے کارل اور پھر ان کی بیٹی گلوریا اسی خاندانی سلسلے کا حصہ بنے۔

اوٹو فان ہیبسبرگ کی زندگی دراصل ایک ختم ہوتی ہوئی سلطنت سے جدید یورپ تک کے سفر کی کہانی ہے۔ وہ اس خاندان میں پیدا ہوئے جس کے پاس کبھی وسطی یورپ کے وسیع علاقوں پر حکمرانی تھی، لیکن بچپن ہی میں ان کے خاندان کو سلطنت سے محروم ہونا پڑا۔ بعد میں اوٹو نے سیاست، یورپی اتحاد اور عوامی زندگی میں اپنا کردار ادا کیا اور کئی دہائیوں تک ہیبسبرگ خاندان کی سب سے نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے رہے۔ 1951 میں انہوں نے شہزادی ریجینا آف سیکس-مائننگن سے شادی کی اور ان کے سات بچے ہوئے، جن میں ایک بیٹا کارل فان ہیبسبرگ تھا، جو آگے چل کر گلوریا کا والد بنا۔

اب اس خاندان کی سب سے اہم شخصیت تک پہنچتے ہیں، یعنی شہنشاہ کارل اول۔ 1887 میں پیدا ہونے والے کارل اول نے 1916 میں اپنے چچا شہنشاہ فرانز جوزف اول کی وفات کے بعد آسٹریا کا تخت سنبھالا۔ وہ آسٹریا کے آخری شہنشاہ اور ہنگری کے بادشاہ تھے۔ مگر ان کے سر پر تاج زیادہ عرصہ نہ رہ سکا، کیونکہ دنیا پہلی جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں سے گزر رہی تھی اور یورپ کی پرانی بادشاہتیں ایک ایک کرکے بکھر رہی تھیں۔ 1918 میں آسٹریا کی بادشاہت کا عملی خاتمہ ہوگیا اور کارل اول کو اپنے خاندان سمیت جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔

کارل اول کی اہلیہ زیتا آف بوربن-پارما بھی خود ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ وہ اٹلی کے قریب واقع قدیم یورپی شاہی و شاہزادہ خاندان بوربن-پارما سے تعلق رکھتی تھیں۔ کارل اور زیتا کی شادی 1911 میں ہوئی اور ان کے ہاں آٹھ بچے پیدا ہوئے۔ ان میں سب سے بڑا بیٹا اوٹو تھا، جو بعد میں اپنے والد کی ختم ہو چکی سلطنت کا وارث تو نہ بن سکا، لیکن ہیبسبرگ خاندان کی تاریخی شناخت کو کئی دہائیوں تک اپنے نام کے ساتھ آگے لے کر چلا۔

کارل اول کی زندگی کا اختتام بھی کسی شاہی داستان سے کم نہیں تھا۔ سلطنت کھو جانے کے بعد وہ جلاوطنی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے اور 1922 میں پرتگال کے جزیرے مادیرا میں صرف 34 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ ان کے پاس نہ سلطنت رہی، نہ تخت، نہ وہ سیاسی طاقت جس کے ساتھ کبھی ہیبسبرگ نام جڑا ہوا تھا، لیکن ان کے خاندان کی اگلی نسلیں یورپ میں زندہ رہیں۔ آج گلوریا فان ہیبسبرگ اسی سلسلے کی ایک جدید نسل ہیں۔

اگر اس پورے شاہی خاندان کو صرف چار ناموں میں سمجھنا ہو تو کہانی بہت آسان ہوجاتی ہے: شہنشاہ کارل اول → ان کے بیٹے اوٹو فان ہیبسبرگ → ان کے بیٹے کارل فان ہیبسبرگ → ان کی بیٹی گلوریا فان ہیبسبرگ۔ یعنی سوشل میڈیا پر جس خاتون کو ’’آسٹرین شہزادی‘‘ کہا جا رہا ہے، وہ واقعی آسٹریا کے آخری شہنشاہ کارل اول کی پڑپوتی ہیں۔ البتہ ’’شہزادی‘‘ کا لفظ یہاں تاریخی اور خاندانی نسبت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ آسٹریا میں بادشاہت ختم ہو چکی ہے اور آج وہاں کوئی باقاعدہ شاہی حکومت موجود نہیں۔

لیکن گلوریا کی والدہ کی طرف جائیں تو کہانی اچانک ایک اور دنیا میں داخل ہوجاتی ہے۔ ان کی والدہ فرانسسکا تھائسن-بورنی میسا کا تعلق یورپ کے انتہائی دولت مند صنعتی اور آرٹ کلیکشن سے وابستہ خاندان سے ہے۔ فرانسسکا کے والد بارون ہانس ہائنرش تھائسن-بورنی میسا دنیا کے بڑے صنعتی ارب پتیوں اور نجی آرٹ کلیکٹرز میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے زندگی بھر فن پارے جمع کیے اور ان کا شاندار آرٹ کلیکشن بعد میں اسپین کے شہر میڈرڈ کے مشہور تھائسن-بورنی میسا میوزیم سے جا ملا، جو آج دنیا کے معروف آرٹ میوزیمز میں شمار ہوتا ہے۔

فرانسسکا کی والدہ، یعنی گلوریا کی نانی، فیونا کیمبل-والٹر بھی اپنے زمانے کی غیر معمولی شخصیت تھیں۔ نیوزی لینڈ میں پیدا ہونے والی فیونا نے 1950 کی دہائی میں ماڈلنگ کی دنیا میں خاص مقام بنایا اور Vogue اور Life جیسے معروف رسالوں کے لیے کام کیا۔ وہ اس دور کے مشہور فوٹوگرافروں کے کیمرے کے سامنے نظر آئیں اور یورپی اعلیٰ معاشرے کا حصہ بن گئیں۔ 1956 میں ان کی شادی بارون ہانس ہائنرش تھائسن-بورنی میسا سے ہوئی، اور یوں ایک طرف برطانوی اشرافیہ اور فیشن کی دنیا، جبکہ دوسری طرف یورپ کی دولت اور صنعت، ایک ہی خاندان میں آ ملے۔

فیونا کے والد، یعنی گلوریا کے پردادا ریئر ایڈمرل کیتھ میک نیل کیمبل-والٹر، برطانوی رائل نیوی کے اعلیٰ افسر تھے اور برطانیہ کے بادشاہ جارج ششم کے ایڈ-ڈی-کیمپ بھی رہ چکے تھے۔ اس طرح گلوریا کے خاندانی درخت کو اگر دونوں طرف سے دیکھا جائے تو ایک طرف آسٹریا کے آخری شہنشاہ اور صدیوں پرانا ہیبسبرگ شاہی خاندان کھڑا نظر آتا ہے، جبکہ دوسری طرف برطانوی اشرافیہ، صنعت، ارب پتی آرٹ کلیکٹرز اور فیشن کی دنیا سے جڑے خاندان کی داستان ملتی ہے۔

یوں سوشل میڈیا پر جس ’’آسٹرین شہزادی‘‘ کا نام بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، وہ محض کسی یورپی اشرافیہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون نہیں۔ ان کے والد سابق آسٹریائی شاہی خاندان کے موجودہ سربراہ ہیں، ان کے دادا اوٹو فان ہیبسبرگ تھے، ان کے پردادا آسٹریا کے آخری شہنشاہ کارل اول تھے، جبکہ والدہ کی طرف سے ان کا تعلق مشہور تھائسن-بورنی میسا صنعتی اور آرٹ کلیکٹر خاندان سے ہے۔ گویا ان کے خاندانی درخت میں یورپ کی سلطنت، اشرافیہ، صنعت، فنونِ لطیفہ اور اعلیٰ معاشرہ سب ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں۔

اور اب آتے ہیں اس پوری کہانی کے سب سے دلچسپ حصے پر۔ کیا واقعی بلاول بھٹو زرداری اسی خاندان کی گلوریا فان ہیبسبرگ سے شادی کرنے والے ہیں؟ فی الحال اس سوال کا کوئی حتمی جواب موجود نہیں۔ سوشل میڈیا پر خبر ضرور گردش کر رہی ہے، مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی ہیں، مگر جب تک بلاول بھٹو زرداری، ان کے خاندان یا پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے باقاعدہ اعلان نہیں ہوتا، اسے ایک تصدیق شدہ شادی کے بجائے ایک دلچسپ شاہی افواہ ہی سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔

کیونکہ ابھی کہانی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر واقعی آسٹریا کے اس شاہی خاندان کی شہزادی کا ہاتھ کسی کے ہاتھ میں آنے والا ہے، تو آخر وہ شخص کون ہوگا؟

----



Would you try making a clay portrait like this? 👀👇
30/08/2026

Would you try making a clay portrait like this? 👀👇

30/08/2026
27/08/2026

سانحہ پمز پر ایک بین

یہ بات کب کی سمجھ آ گٸی تھی رندوں کو
کہ مردہ لوگ کہاں جینے دیں گے زندوں کو

جنازے اٹھیں گے بچوں کے راکھ سے فرحت
ذرا بھی رحم نہیں آۓ گا درندوں کو
فرحت عباس شاہ

مئی 2011 میں، 27 سالہ Michelina Lewandowska پر اس کے گھر Huddersfield، England میں اس کے منگیتر Marcin Kasprzak نے اپنے ...
27/08/2026

مئی 2011 میں، 27 سالہ Michelina Lewandowska پر اس کے گھر Huddersfield، England میں اس کے منگیتر Marcin Kasprzak نے اپنے دوست Patryk Borys کی مدد سے حملہ کیا۔ Michelina کو باندھ کر، منہ بند کر کے زبردستی ایک گتے کے کمپیوٹر باکس میں ڈالا گیا اور پھر کار میں ڈال کر دیہی علاقے میں لے جایا گیا۔

ان افراد نے سیل شدہ باکس کو جنگل والے علاقے میں مٹی کے نیچے دفن کر دیا اور Michelina کو زیر زمین چھوڑ دیا۔ اندر پھنسے ہوئے، اسے وہ ہیرے کی منگنی کی انگوٹھی یاد آئی جو Kasprzak نے اسے دی تھی۔ اس نے انگوٹھی کا استعمال ٹیپ اور بندھنوں کو کاٹنے کے لیے کیا، پھر گتے کے ڈبے کو پھاڑ کر اسے ڈھانپنے والی مٹی کو ہٹا دیا۔

Michelina زندہ باہر نکلی اور قریبی سڑک تک پہنچی، جہاں وہ مدد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ Kasprzak اور Borys کو بعد میں قتل کی کوشش کا مجرم قرار دیا گیا۔ اس شخص کی طرف سے Michelina کو دی گئی منگنی کی انگوٹھی جس نے اسے مارنے کی کوشش کی تھی، بالآخر وہ آلہ بن گئی جس سے وہ فرار ہوئی۔

26/08/2026

منافقت کی سیاہی کو دور کرتے ہوئے
میں بجھ گئی ہوں یہاں صبحِ نور کرتے ہوئے

یہ لوگ فہم و فراست سے ماورا ہیں ابھی
میں تھک نہ جاؤں انہیں باشعور کرتے ہوئے

مرے مزاج کی سختی سے تُو نہیں واقف
تُو گر پڑے گا مجھے چُور چُور کرتے ہوئے

امیرِ شہر کو فرعون ہی نہ کردیں لوگ
یہ ہاتھ باندھے ہوئے ، " جی حضور" کرتے ہوئے

وہی انا پہ مری ، قہقہے لگاتا ہے
پسند آئی جسے میں غرور کرتے ہوئے

مری تو جان پہ بن آئی دشتِ وحشت میں
یہ چند مِیل کا رستہ عبور کرتے ہوئے

میں آفتاب سے کم روشنی نہیں رکھتی
کبھی تُو دیکھنا مجھ کو ظہور کرتے ہوئے

کومل جوئیہ

Address

Faisalabad
36000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Subhan Ullah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Subhan Ullah:

Shortcuts

Share