12/06/2026
جسم میں یورک ایسڈ کا بڑھنا ایک ایسا تکلیف دہ مسئلہ ہے جو انسان کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ جب خون میں یورک ایسڈ کی مقدار حد سے تجاوز کر جائے تو یہ باریک کرسٹلز یا سوئیوں کی شکل اختیار کر کے ہمارے جوڑوں میں بیٹھنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ بیماری عام طور پر "گٹھیا" ، " گاوٹ/Gout" یا "Hyperuricemia" کہلاتی ہے، جس کا اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جوڑوں کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہے۔
یہ کیوں ہوتا ہے؟ (وجوہات)
ہمارے جسم میں یورک ایسڈ اس وقت بنتا ہے جب جسم 'پیورین' (Purine) نامی کیمیکل کو توڑتا ہے۔ عام طور پر گردے اسے خون سے فلٹر کر کے پیشاب کے راستے جسم سے باہر نکال دیتے ہیں۔ لیکن جب ہم ایسی غذاؤں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں جن میں پیورین زیادہ ہو—جیسے بڑا گوشت (بیف)، مچھلی، دالیں، سبز پتوں والی سبزیاں جیسے میتھی ، ساگ پالک، اور خاص طور پر کولڈ ڈرنکس، زیادہ میٹھا یا بیکری کی اشیاء—تو جسم میں یورک ایسڈ ضرورت سے زیادہ بننے لگتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ گردے کسی خرابی کی وجہ سے اسے درست طریقے سے جسم سے باہر نکالنے میں ناکام ہو رہے ہوں۔
علامات کیا ہیں؟
اس کی سب سے بڑی اور واضع علامت پیر کے انگوٹھے، ٹخنوں، گھٹنوں یا ہاتھوں کے جوڑوں میں اچانک اور شدید درد ہونا ہے۔ اکثر یہ درد رات کے وقت یا صبح اٹھتے ہی محسوس ہوتا ہے۔ متاثرہ جوڑ سرخ ہو جاتا ہے، اس میں شدید سوجن آ جاتی ہے اور وہ چھونے سے بھی بہت زیادہ گرم محسوس ہوتا ہے۔ اگر یورک ایسڈ طویل عرصے تک بڑھا رہے تو یہ جوڑوں کی شکل بگاڑنے کے ساتھ ساتھ گردوں میں پتھری کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ (احتیاط اور علاج)
یورک ایسڈ کو قابو میں رکھنے کے لیے طرزِ زندگی اور خوراک میں تبدیلی سب سے اہم ہے۔ روزانہ کم از کم 10 سے 12 گلاس پانی پیئیں تاکہ وافر مقدار میں یورک ایسڈ پیشاب کے راستے خارج ہو سکے۔ بڑے گوشت اور تیز مصالحے دار کھانوں سے سخت پرہیز کریں۔ اپنی خوراک میں تازہ پھل، سبزیاں اور کم چکنائی والے دودھ یا دہی کا استعمال بڑھائیں۔ لیموں پانی اور وٹامن سی سے بھرپور چیزیں بھی اس کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ وزن کو قابو میں رکھیں اور روزانہ ہلکی واک کی عادت بنائیں۔ اگر درد مستقل رہے تو فوراً ماہر آرتھوپیڈک سے رجوع کریں تاکہ ہڈیوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
ڈاکٹر محمد سفیان شبیر۔
آرتھو پیڈک سرجن و جنرل فزیشن۔