Dr-Sufyan Shabbir

Dr-Sufyan Shabbir Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr-Sufyan Shabbir, Doctor, Doctor Sufyan Shabbir Gulbarg Town Opposite Ladies Park Fort Abbas Cholistan District Bhawalnagar Division Bahwalpur South Punjab Pakistan South Asia, Fort Abbas.

MBBS | FCPS Ortho(Bone & Joint)Surgeon | Skin Aesthetician | +923407361183 | Fortabbas | Diyar E Sakoon Founder in Cholistan Desert | Humanitarian | Social Welfare Activist | Philanthropist | Educationist | Traveller | Explorer | Artist | Healthcare |

نیوروبین انجکشن: فوائد، نقصانات اور احتیاطآج کل کی مصروف زندگی اور غیر متوازن خوراک کی وجہ سے جسم میں کمزوری اور پٹھوں ک...
13/07/2026

نیوروبین انجکشن: فوائد، نقصانات اور احتیاط

آج کل کی مصروف زندگی اور غیر متوازن خوراک کی وجہ سے جسم میں کمزوری اور پٹھوں کا درد ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ ایسی صورتحال میں نیوروبین انجکشن (Neurobion Injection) کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر وٹامن بی کمپلیکس (خصوصاً وٹامن B1، B6، اور B12) کا مجموعہ ہے، جو ہمارے اعصابی نظام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
آئیے اس کے فوائد اور ممکنہ نقصانات کو آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں۔

نیوروبین انجکشن کے اہم فوائد

اعصابی کمزوری کا خاتمہ: یہ انجکشن پٹھوں کی شدید کمزوری، ہاتھوں اور پاؤں کا سن ہونا، اور سوئیاں چبھنے کے احساس کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

خون کی کمی کا علاج: اس میں موجود وٹامن B12 جسم میں خون کے سرخ خلیات (Red Blood Cells) بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جس سے انیمیا (خون کی کمی) دور ہوتی ہے۔

جسمانی توانائی میں اضافہ: یہ خوراک کو طاقت میں تبدیل کرنے کے عمل کو تیز کرتا ہے، جس سے سستی اور دائمی تھکن کا خاتمہ ہوتا ہے۔

ممکنہ نقصانات اور سائیڈ ایفیکٹس

اگرچہ یہ ایک وٹامن انجکشن ہے، لیکن بغیر عارضہ یا ڈاکٹر کے مشورے کے اس کا بے جا استعمال کچھ مسائل کا سبب بن سکتا ہے:

جلد کے مسائل: کچھ لوگوں میں اس کے استعمال سے جلد پر الرجی، خارش یا دانے نکل سکتے ہیں۔

معدے کی خرابی: بعض اوقات مریض کو متلی، الٹی، یا پیٹ میں مروڑ کی شکایت ہو سکتی ہے۔

دیگر علامات: ضرورت سے زیادہ یا غلط خوراک لینے سے دل کی دھڑکن کا تیز ہونا یا بار بار پیشاب آنے کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔

> اہم مشورہ: شوگر (Diabetes) کے مریضوں اور گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کو یہ انجکشن ہمیشہ ڈاکٹر کی سخت نگرانی میں لگوانا چاہیے۔ خود سے انجکشن لگانے سے گریز کریں۔

طبی مشورے اور بہترین علاج کے لیے تشریف لائیں:

ڈاکٹر سفیان شبیر (آرتھوپیڈک سرجن و جنرل فزیشن)

کلینک کا پتا: فورٹ عباس پولی کلینک، نزد ڈی ایس پی آفس، فورٹ عباس

*رابطہ نمبر:

03455236206
03407361183

پین کلرز (Painkillers) کا بے جا استعمال: عارضی سکون یا مستقل بیماری؟ہمارے معاشرے میں ایک بہت ہی خطرناک رجحان عام ہو چکا ...
13/07/2026

پین کلرز (Painkillers) کا بے جا استعمال: عارضی سکون یا مستقل بیماری؟
ہمارے معاشرے میں ایک بہت ہی خطرناک رجحان عام ہو چکا ہے— جب بھی جسم میں کہیں درد ہو، ہم ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے بجائے خود ہی میڈیکل اسٹور سے پین کلر خرید کر کھا لیتے ہیں۔ سر درد ہو، کمر کا جھٹکا ہو، یا جوڑوں کا پرانا درد، پین کلرز کو ٹافیوں کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ تصویر میں عام استعمال ہونے والی 5 بڑی پین کلرز دکھائی گئی ہیں، جن کا کام درد کو عارضی طور پر دبانا ہوتا ہے۔ لیکن بطور آرتھوپیڈک سرجن، میں آپ کو یہ بتانا فرض سمجھتا ہوں کہ یہ عارضی سکون آپ کے جسم کو اندر سے کتنا کھوکھلا کر رہا ہے۔
آئیے ان عام ادویات کے اصل مقصد اور ان کے بے جا استعمال کے نقصانات کو سمجھتے ہیں:

1. Diclofenac (ڈائیکلوفینک): یہ عام طور پر جوڑوں اور پٹھوں کے شدید درد کے لیے دی جاتی ہے۔ لیکن اس کا مسلسل استعمال آپ کے معدے میں زخم (Ulcers) اور تیزابیت کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے۔

2. Ibuprofen (آئیبوپروفین): سوجن اور جسم کے عام درد کے لیے استعمال ہونے والی یہ دوا اگر طویل عرصے تک بغیر مشورے کے کھائی جائے، تو یہ بلڈ پریشر کو بڑھاتی ہے اور دل کے امراض کا خطرہ پیدا کرتی ہے۔

3. Paracetamol (پیراسیٹامول): ہلکے درد اور بخار کی یہ ایک عام دوا ہے۔ اگرچہ یہ محفوظ سمجھی جاتی ہے، لیکن اس کی حد سے زیادہ خوراک (Overdose) براہ راست آپ کے جگر (Liver) کو فیل کر سکتی ہے۔

4. Aceclofenac (ایسیکلوفینک): (Arthritis) اور کمر کے شدید درد میں دی جانے والی یہ گولی گردوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے اگر اسے روزمرہ کا معمول بنا لیا جائے۔

5. Mefenamic Acid (میفینامک ایسڈ): یہ دانت کے درد یا خواتین میں مخصوص دنوں کے درد کے لیے استعمال ہوتی ہے، مگر اس کا خود سے کثرت سے استعمال آنتوں اور معدے کے نظام کو شدید متاثر کرتا ہے۔
یاد رکھیں، پین کلر کبھی بھی بیماری کا علاج نہیں ہوتی، یہ صرف درد کے سگنل کو چند گھنٹوں کے لیے دماغ تک جانے سے روکتی ہے۔ اصل بیماری وہیں موجود رہتی ہے اور وقت کے ساتھ مزید سنگین ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر ہڈیوں اور جوڑوں کے درد میں، جب تک آپ درد کی اصل وجہ (جیسے مہروں کا دبنا یا گریس کا کم ہونا) کا علاج نہیں کریں گے، گولیاں کھا کر آپ صرف اپنے گردے اور جگر خراب کریں گے۔
ایک دردناک سچائی— جو آپ کو سوچنے پر مجبور کر دے گی!
میرے پاس کلینک پر کئی ایسے مریض آتے ہیں جو سالہا سال سے جوڑوں کے درد کے لیے خود سے پین کلرز کھا رہے ہوتے ہیں۔ جب وہ آتے ہیں، تو جوڑ تو ٹھیک نہیں ہوتے، لیکن وہ اپنے گردے اس حد تک خراب کر چکے ہوتے ہیں کہ بات ڈائیلیسز تک پہنچ جاتی ہے۔ صرف ایک گولی کا شارٹ کٹ آپ کی زندگی کو محتاج بنا سکتا ہے۔
اگر آپ اپنے والدین، اپنے بچوں اور اپنی فیملی سے سچی محبت کرتے ہیں، تو آج ہی یہ عہد کریں کہ اپنے گھر میں پین کلرز کا خود سے استعمال بالکل بند کریں گے۔ اس پیغام کو صدقہ جاریہ سمجھ کر اپنے تمام پیاروں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ آپ کا ایک شیئر کسی ماں کے لخت جگر یا کسی گھر کے سربراہ کو عمر بھر کی معذوری اور گردوں کے فیل ہونے سے بچا سکتا ہے۔ صحت کے اس سفر میں ہمارے ساتھ جڑنے اور ایسی مزید مخلصانہ طبی معلومات کے لیے ہمارے پیج کو لازمی فالو کریں۔
ڈاکٹر سفیان شبیر
(ارتھوپیڈک سرجن و جنرل فزیشن)

کلینک کا نام: فورٹ عباس پولی کلینک

پتہ: نزد ڈی ایس پی آفس، فورٹ عباس

رابطہ نمبر:
0345-5236206
03407361183

چھوٹے بچوں کے لیے ملٹی وٹامنز: کیا یہ واقعی ضروری ہیں؟جب بات بچوں کی صحت کی ہو، تو ہر ماں باپ کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان...
12/07/2026

چھوٹے بچوں کے لیے ملٹی وٹامنز: کیا یہ واقعی ضروری ہیں؟

جب بات بچوں کی صحت کی ہو، تو ہر ماں باپ کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ صحت مند، چست اور توانا رہے۔ اکثر والدین کلینک میں آ کر ایک مشترکہ سوال پوچھتے ہیں: "ڈاکٹر صاحب! میرا بچہ ٹھیک سے کھانا نہیں کھاتا، کیا میں اسے کوئی اچھا سا ملٹی وٹامن سیرپ (Multivitamin Syrup) شروع کروا دوں؟"
آج کل مارکیٹ میں رنگ برنگے اور مختلف ذائقوں والے بچوں کے وٹامنز کی بھرماڑ ہے، جس کی وجہ سے والدین اکثر الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آئیے آج اس بات کو گہرائی سے سمجھتے ہیں کہ چھوٹے بچوں کو ملٹی وٹامنز کی ضرورت کب ہوتی ہے اور کب نہیں، اور اس حوالے سے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

کیا ہر بچے کو ملٹی وٹامن کی ضرورت ہوتی ہے؟

سیدھا اور سادہ جواب ہے: جی نہیں!
اگر آپ کا بچہ ضدی نہیں ہے، وہ گھر کا بنا ہوا تازہ کھانا، پھل، سبزیاں، دودھ اور گوشت متوازن مقدار میں لے رہا ہے، تو اسے کسی بیرونی وٹامن یا سپلیمنٹ کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ قدرتی غذا سے ملنے والے وٹامنز بچے کا جسم زیادہ بہتر طریقے سے جذب کرتا ہے۔

ملٹی وٹامنز کب ضروری ہو جاتے ہیں؟

کچھ مخصوص حالات ایسے ہوتے ہیں جہاں ڈاکٹر کی ہدایت پر بچوں کو ملٹی وٹامنز دینا لازمی ہو جاتا ہے، جیسے کہ:

بہت زیادہ چنیدہ خوراک کھانا (Picky Eaters): وہ بچے جو کھانے پینے میں بہت نخرے کرتے ہیں اور کئی کئی دن تک صرف ایک ہی طرح کی چیز (جیسے صرف چپس یا صرف دودھ) پر گزارا کرتے ہیں، ان میں غذائی اجزا کی کمی کا خطرہ ہوتا ہے۔

وٹامن ڈی کی کمی (Vitamin D): نیو بورن (نوزائیدہ) اور چھوٹے بچوں کو ماں کے دودھ سے وٹامن ڈی پوری مقدار میں نہیں مل پاتا۔ اس لیے ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ڈاکٹر اکثر شروع ہی سے وٹامن ڈی کے ڈراپس تجویز کرتے ہیں۔

خون کی کمی (Anemia): اگر بچہ سست رہتا ہو، رنگت پیلی ہو اور وہ مٹی یا چاک کھاتا ہو، تو یہ آئرن (Iron) کی کمی کی علامت ہو سکتی ہے، جس کے لیے آئرن سپلیمنٹ ضروری ہوتا ہے۔

بار بار بیمار ہونا: جن بچوں کی قوتِ مدافعت (Immunity) کمزور ہوتی ہے اور وہ جلدی جلدی نزلہ، زکام یا پیٹ کے انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں، انہیں صحت یابی کے لیے وٹامنز دیے جاتے ہیں۔

والدین کے لیے چند انتہائی اہم احتیاطی تدابیر

اگر آپ اپنے بچے کو کوئی بھی وٹامن سیرپ دے رہے ہیں، تو درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں:

1. خود سے دوا شروع نہ کریں: کبھی بھی اشتہارات دیکھ کر یا کسی رشتہ دار کے مشورے پر بچے کو خود سے ملٹی وٹامن نہ دیں۔ وٹامنز کی زیادتی (خصوصاً وٹامن A، D، E اور K) بچے کے جگر اور گردوں پر بوجھ ڈال سکتی ہے۔

2. وٹامنز کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں: چونکہ یہ سیرپ یا گمیز (Gummies) میٹھی اور خوشبودار ہوتی ہیں، اس لیے بچے انہیں کینڈی سمجھ کر زیادہ مقدار میں پی سکتے ہیں، جو کہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

3. غذا کا متبادل نہ سمجھیں: یاد رکھیں، ملٹی وٹامن صرف ایک "سپلیمنٹ" ہے، یہ اچھے اور صحت مند کھانے کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ بچے کی اصل توجہ دودھ، پھلوں اور متوازن غذا پر ہی ہونی چاہیے۔
اگر آپ کا بچہ کمزور محسوس ہوتا ہے، اس کی گروتھ (نشوونما) ٹھیک سے نہیں ہو رہی، یا آپ اس کی ڈائٹ کے حوالے سے پریشان ہیں، تو کسی بھی قسم کا سیرپ شروع کروانے سے پہلے ایک بار تفصیلی معائنہ لازمی کروائیں۔
بہترین طبی مشورے اور رہنمائی کے لیے تشریف لائیں:

ڈاکٹر سفیان شبیر (آرتھوپیڈک سرجن و جنرل فزیشن)

کلینک کا پتا: فورٹ عباس پولی کلینک، نزد ڈی ایس پی آفس, فورٹ عباس

رابطہ نمبر:
0345-5236206
03407361183

ناک کی ہڈی کا ٹیڑھا پن (Deviated Septum): وجوہات، علامات اور علاجہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ سانس کی دائمی بيماریوں، بار...
11/07/2026

ناک کی ہڈی کا ٹیڑھا پن (Deviated Septum): وجوہات، علامات اور علاج

ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ سانس کی دائمی بيماریوں، بار بار نزلہ زکام ہونے یا خراٹوں کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ اکثر لوگ اسے عام الرجی سمجھ کر سالہا سال دوائیاں کھاتے رہتے ہیں، لیکن اصل مسئلہ ناک کے اندرونی ڈھانچے میں ہوتا ہے، جسے طبی زبان میں "ناک کی ہڈی کا ٹیڑھا پن" (Deviated Septum) کہا جاتا ہے۔
ناک کے درمیان میں ایک پردہ یا ہڈی ہوتی ہے جو دونوں نتھنوں کو برابر حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ جب یہ ہڈی کسی ایک طرف جھک جاتی ہے، تو ایک طرف کا راستہ تنگ ہو جاتا ہے، جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

ناک کی ہڈی ٹیڑھی ہونے کی وجوہات

یہ مسئلہ دو بڑی وجوہات کی بنا پر ہو سکتا ہے:

1. پیدائشی وجہ: کچھ بچوں میں یہ نقص پیدائشی طور پر ہوتا ہے یا ماں کے پیٹ میں ہی ہڈی کی نشوونما درست نہیں ہو پاتی۔

2. چوٹ لگنا: بچپن میں کھیلتے ہوئے، کسی حادثے یا لڑائی کے دوران ناک پر لگنے والی چوٹ اس ہڈی کو اپنی جگہ سے ہٹا دیتی ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید واضح ہو جاتی ہے۔

عام علامات جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے

اگر ناک کی ہڈی زیادہ ٹیڑھی ہو تو درج ذیل علامات سامنے آتی ہیں:

سانس لینے میں دشواری: خصوصاً رات کو سوتے وقت ایک طرف سے ناک بالکل بند محسوس ہوتی ہے۔

بار بار نزلہ اور سائنس (Sinus) کا انفیکشن: ناک کا پانی بلاک ہونے کی وجہ سے جراثیم پیدا ہوتے ہیں جو بار بار انفیکشن کا سبب بنتے ہیں۔

خراٹے اور منہ سے سانس لینا: ہوا کا راستہ بند ہونے کی وجہ سے مریض نیند میں اونچے خراٹے لیتا ہے اور مجبوراؐ منہ سے سانس لیتا ہے، جس سے گلا خشک رہتا ہے۔

سر اور چہرے کا درد: بندش کی وجہ سے آنکھوں کے اوپر اور پیشانی پر مستقل بھاری پن یا درد رہتا ہے۔

علاج اور حل

معمولی ٹیڑھے پن کو اینٹی الرجی دوائیوں اور نیزل اسپرے (Nasal Sprays) سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے تاکہ سوزش کم ہو۔ لیکن اگر ہڈی زیادہ ٹیڑھی ہو اور سانس لینا محال ہو جائے، تو اس کا مستقل حل ایک سادہ اور محفوظ سرجری ہے جسے سیپٹوپلاسٹی (Septoplasty) کہتے ہیں۔ اس سرجری کے بعد مریض کی زندگی بدل جاتی ہے اور وہ پرسکون نیند اور سانس لے سکتا ہے۔
اگر آپ یا آپ کا بچہ مستقل نزلہ، زکام، سانس کی بندش یا ناک کی ہڈی کے مسئلے سے پریشان ہے، تو دیر نہ کریں۔ درست تشخیص اور بہترین طبی مشورے کے لیے آج ہی تشریف لائیں:

ڈاکٹر سفیان شبیر (آرتھوپیڈک سرجن و جنرل فزیشن)

کلینک کا پتا: فورٹ عباس پولی کلینک، نزد ڈی ایس پی آفس، فورٹ عباس

رابطہ نمبر:
0345-5236206
03407361183

10/07/2026

TB to Free Medical Camp at Diyar-e-Sakoon Fortabbas Cholistan Desert South Punjab Pakistan South Asia 🇵🇰

صبح کی سیر (Morning Walk): جوڑوں اور ہڈیوں کی صحت کا قدرتی نسخہبطور آرتھوپیڈک سرجن، روزانہ میرے پاس کلینک میں ایسے بہت س...
10/07/2026

صبح کی سیر (Morning Walk): جوڑوں اور ہڈیوں کی صحت کا قدرتی نسخہ

بطور آرتھوپیڈک سرجن، روزانہ میرے پاس کلینک میں ایسے بہت سے مریض آتے ہیں جو گھٹنوں کے درد، کمر کی جکڑن یا جوڑوں کی سوزش کی شکایت کرتے ہیں۔ جب میں ان سے ان کے لائف اسٹائل کے بارے میں پوچھتا ہوں، تو اکثر کا جواب ہوتا ہے کہ "ڈاکٹر صاحب! مصروفیات کی وجہ سے ورزش کا وقت ہی نہیں ملتا۔"
آج میں اپنے اس آرٹیکل کے ذریعے آپ کو ایک ایسا آسان اور بالکل مفت نسخہ بتانے جا رہا ہوں جو آپ کی ہڈیوں اور جوڑوں کو تاحیات مضبوط رکھ سکتا ہے، اور وہ ہے: روزانہ صبح کی سیر (Morning Walk)۔
آئیے جانتے ہیں کہ صبح کی سیر آپ کے آرتھوپیڈک ہیلتھ (ہڈیوں اور جوڑوں کی صحت) کے لیے کیوں اتنی ضروری ہے۔

جوڑوں اور ہڈیوں کے لیے مارننگ واک کے حیرت انگیز فوائد

جوڑوں کی لچک میں اضافہ (Joint Lubrication): ہمارے جوڑوں کے درمیان ایک قدرتی مائع (Synovial Fluid) ہوتا ہے جو انہیں رگڑ سے بچاتا ہے۔ جب آپ صبح واک کرتے ہیں، تو یہ مائع جوڑوں میں بہتر طریقے سے کام کرتا ہے، جس سے گھٹنوں اور ٹخنوں کی جکڑن ختم ہوتی ہے۔

پٹھوں کی مضبوطی: واک کرنے سے ہماری ٹانگوں، کولہوں اور کمر کے پٹھے (Muscles) مضبوط ہوتے ہیں۔ جب پٹھے مضبوط ہوں گے، تو ہڈیوں اور جوڑوں پر بوجھ کم پڑے گا، جس سے درد میں خود بخود کمی آ جائے گی۔

گھٹیا (Arthritis) کے درد سے نجات: اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ جوڑوں کے درد میں آرام کرنا چاہیے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہلکی واک کرنے سے جوڑوں کی سوزش کم ہوتی ہے اور ہڈیاں متحرک رہتی ہیں۔

وزن کا کنٹرول: جسم کا زائد وزن سب سے پہلے ہمارے گھٹنوں اور کمر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ صبح کی سیر وزن کو کنٹرول میں رکھتی ہے، جس سے آپ کے گھٹنے طویل عرصے تک عارضوں سے محفوظ رہتے ہیں۔

میری طرف سے چند ضروری احتیاطی تدابیر

اگر آپ جوڑوں کے درد کا شکار ہیں یا پہلی بار سیر شروع کر رہے ہیں، تو ان باتوں کا لازمی خیال رکھیں:

1. بہترین جوتوں کا انتخاب: ہمیشہ نرم، آرام دہ اور اچھے سول (Sole) والے جاگنگ شوز پہنیں تاکہ آپ کے ٹخنوں اور گھٹنوں پر جھٹکا نہ لگے۔

2. ہلکی شروعات کریں: پہلے دن ہی تیز دوڑنے سے گریز کریں۔ پہلے 5 سے 10 منٹ عام رفتار سے چلیں (Warm-up)، پھر تھوڑی تیز واک کریں اور آخری چند منٹ دوبارہ رفتار آہستہ کر دیں۔

3. اپنی حد پہچانیں: اگر واک کے دوران گھٹنوں یا کمر میں شدید درد محسوس ہو، تو فوراً رک جائیں اور اپنے معالج سے مشورہ کریں۔
میرا پیغام:
دوائیاں اپنی جگہ اثر کرتی ہیں، لیکن ایک صحت مند طرزِ زندگی کا کوئی متبادل نہیں۔ آج ہی سے سستی چھوڑیں، صبح جلدی اٹھنے کی عادت ڈالیں اور اپنے جوڑوں کو ایک نئی زندگی دیں۔
اگر آپ ہڈیوں، جوڑوں کے پرانے درد، مہروں کی تکلیف یا کسی بھی آرتھوپیڈک مسئلے سے پریشان ہیں، تو آپ معائنے کے لیے میرے کلینک تشریف لا سکتے ہیں:

ڈاکٹر سفیان شبیر (آرتھوپیڈک سرجن و جنرل فزیشن)

کلینک کا پتا: فورٹ عباس پولی کلینک، نزد ڈی ایس پی آفس، فورٹ عباس

رابطہ نمبر:
0345-5236206
03407361183

09/07/2026

Kunnath

ڈیہائیڈریشن (پانی کی کمی) کیا ہے اور اس کی علامات کیا ہیں؟شدید گرمی کے موسم میں جسم کو سب سے بڑا خطرہ ڈیہائیڈریشن (Dehyd...
09/07/2026

ڈیہائیڈریشن (پانی کی کمی) کیا ہے اور اس کی علامات کیا ہیں؟

شدید گرمی کے موسم میں جسم کو سب سے بڑا خطرہ ڈیہائیڈریشن (Dehydration) یعنی پانی کی کمی سے ہوتا ہے۔ ہمارا جسم 60 فیصد سے زیادہ پانی پر مشتمل ہے، جو خون کی گردش، ہاضمے اور درجہ حرارت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ جب ہم پانی پیتے کم ہیں اور پسینے یا الٹی کی صورت میں جسم سے پانی زیادہ نکل جاتا ہے، تو جسم ڈیہائیڈریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔
آئیے اس کی اہم علامات اور اس سے بچنے کا طریقہ جانتے ہیں۔

ڈیہائیڈریشن کی نمایاں علامات

جسم میں پانی کی کمی کو ان علامات سے آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے:

شدید پیاس اور منہ کا سوکھنا: یہ جسم کا پہلا سگنل ہوتا ہے کہ اسے پانی کی فوری ضرورت ہے۔

پیشاب کا رنگ تبدیل ہونا: اگر پیشاب کا رنگ گہرا زرد (Dark Yellow) ہو اور مقدار کم ہو، تو یہ شدید ڈیہائیڈریشن کی علامت ہے۔ صحت مند جسم میں یہ بالکل ہلکا زرد یا شفاف ہوتا ہے۔

چکر آنا اور سر درد: پانی کی کمی سے دماغ تک خون کی رسائی متاثر ہوتی ہے، جس سے سر بھاری رہتا ہے اور آنکھوں کے آگے اندھیرا آتا ہے۔

شدید تھکن اور سستی: پٹھے کمزور پڑ جاتے ہیں اور انسان بلاوجہ تھکن محسوس کرتا ہے۔

بچاؤ اور حل

اس سے بچنے کا واحد حل یہ ہے کہ دن میں کم از کم 8 سے 12 گلاس پانی لازمی پیئیں۔ دھوپ میں نکلتے وقت پانی کی بوتل ساتھ رکھیں اور چائے یا کافی کا استعمال کم کریں، کیونکہ یہ جسم سے پانی کو مزید خارج کرتی ہیں۔

> خطرے کی گھنٹی: اگر چکر آنے کے ساتھ الٹیاں شروع ہو جائیں یا نبض تیز ہو، تو اسے معمولی نہ سمجھیں؛ یہ ہیٹ اسٹروک کی شروعات ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر سفیان شبیر (آرتھوپیڈک سرجن و جنرل فزیشن)

کلینک کا پتا: فورٹ عباس پولی کلینک، نزد ڈی ایس پی آفس، فورٹ عباس

رابطہ نمبر:
0345-5236206

نیوروبین انجکشن: فوائد، نقصانات اور احتیاطآج کل کی مصروف زندگی اور غیر متوازن خوراک کی وجہ سے جسم میں کمزوری اور پٹھوں ک...
07/07/2026

نیوروبین انجکشن: فوائد، نقصانات اور احتیاط

آج کل کی مصروف زندگی اور غیر متوازن خوراک کی وجہ سے جسم میں کمزوری اور پٹھوں کا درد ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ ایسی صورتحال میں نیوروبین انجکشن (Neurobion Injection) کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر وٹامن بی کمپلیکس (خصوصاً وٹامن B1، B6، اور B12) کا مجموعہ ہے، جو ہمارے اعصابی نظام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
آئیے اس کے فوائد اور ممکنہ نقصانات کو آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں۔

نیوروبین انجکشن کے اہم فوائد

اعصابی کمزوری کا خاتمہ: یہ انجکشن پٹھوں کی شدید کمزوری، ہاتھوں اور پاؤں کا سن ہونا، اور سوئیاں چبھنے کے احساس کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

خون کی کمی کا علاج: اس میں موجود وٹامن B12 جسم میں خون کے سرخ خلیات (Red Blood Cells) بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جس سے انیمیا (خون کی کمی) دور ہوتی ہے۔

جسمانی توانائی میں اضافہ: یہ خوراک کو طاقت میں تبدیل کرنے کے عمل کو تیز کرتا ہے، جس سے سستی اور دائمی تھکن کا خاتمہ ہوتا ہے۔

ممکنہ نقصانات اور سائیڈ ایفیکٹس

اگرچہ یہ ایک وٹامن انجکشن ہے، لیکن بغیر عارضہ یا ڈاکٹر کے مشورے کے اس کا بے جا استعمال کچھ مسائل کا سبب بن سکتا ہے:

جلد کے مسائل: کچھ لوگوں میں اس کے استعمال سے جلد پر الرجی، خارش یا دانے نکل سکتے ہیں۔

معدے کی خرابی: بعض اوقات مریض کو متلی، الٹی، یا پیٹ میں مروڑ کی شکایت ہو سکتی ہے۔

دیگر علامات: ضرورت سے زیادہ یا غلط خوراک لینے سے دل کی دھڑکن کا تیز ہونا یا بار بار پیشاب آنے کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔

> اہم مشورہ: شوگر (Diabetes) کے مریضوں اور گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کو یہ انجکشن ہمیشہ ڈاکٹر کی سخت نگرانی میں لگوانا چاہیے۔ خود سے انجکشن لگانے سے گریز کریں۔

طبی مشورے اور بہترین علاج کے لیے تشریف لائیں:

ڈاکٹر سفیان شبیر (آرتھوپیڈک سرجن و جنرل فزیشن)

کلینک کا پتا: فورٹ عباس پولی کلینک، نزد ڈی ایس پی آفس، فورٹ عباس

*رابطہ نمبر:

0345-5236206

Address

Doctor Sufyan Shabbir Gulbarg Town Opposite Ladies Park Fort Abbas Cholistan District Bhawalnagar Division Bahwalpur South Punjab Pakistan South Asia
Fort Abbas
62020

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr-Sufyan Shabbir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr-Sufyan Shabbir:

Shortcuts

Share