08/08/2026
سابق ایم ایس ڈاکٹرسہیل انجم بٹ کوموجودہ ایم ایس سمیت مقدمہ سے باعزت ڈسچارج کرکے بری کردیاگیا۔۔پی ایم اے کاجشن پھولوں کی پتیاں نچھاورکیں۔۔
اللہ کاشکراداکرتاہوں جس نے مجھے امتحان سے باعزت نکالا۔ڈاکٹرسہیل انجم بٹ
ایک طرف دجالی فتنہ سوشل میڈیا… اور دوسری طرف بغیر تحقیق کے فیصلے!
سوشل میڈیا پر آج کل نہ جانے کب، کہاں اور کس کی پگڑی اچھال دی جائے، کچھ معلوم نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ کسی شخص کے خلاف الزام سامنے آتے ہی سوشل میڈیا خود ہی عدالت بنتا ہے، خود ہی تفتیش کرتا ہے اور خود ہی فیصلہ بھی سنا دیتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر واقعی کوئی جعلسازی یا جرم ثابت ہوتا ہے تو اس کی شفاف، غیر جانب دار اور مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ڈاکٹر صاحب کو بھی اپنا مؤقف پیش کرنے، صفائی دینے اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
جب تک کسی مجاز عدالت یا متعلقہ قانونی فورم سے جرم ثابت نہیں ہوتا، کسی شخص کو مجرم قرار دینا انصاف نہیں بلکہ کردار کشی ہے۔
اور اگر تحقیقات کے نتیجے میں واقعی کوئی جرم ثابت ہوتا ہے تو پھر سوال صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
اس پورے سسٹم اور چین آف کمانڈ کو بھی دیکھا جائے کہ اس شخص کی تقرری، تصدیق، ؟
اگر کہیں غفلت، ملی بھگت یا جعلسازی ہوئی ہے تو قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے، نہ کہ صرف ایک شخص کو نشانہ بنایا جائے۔
میڈیا ٹرائل نہیں، مکمل تحقیقات چاہیے۔
سوشل میڈیا کا فیصلہ نہیں، قانون کا فیصلہ چاہیے۔
الزام نہیں، ثبوت چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر—انصاف چاہیے۔
゚viralシfypシ゚ #نہیں #جرم ゚viralシ