22/05/2026
ڈاکٹر کی فیس اور ہسپتال کے چارجز پر اعتراض
غلط فہمی یا نظام کا قصور؟
معاشرہ ڈاکٹر بننے پر مٹھائی بانٹتا ہے،
مگر ڈاکٹر بننے کے بعد اسی کی فیس پر سوال اٹھاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ صرف فیس نہیں…
بلکہ پورا نظام، معاشرتی دباؤ اور عوامی نفسیات مل کر یہ رویہ پیدا کرتے ہیں۔
لوگ موبائل، گاڑی اور کپڑوں کو “چوائس” سمجھتے ہیں،
مگر علاج کو “حق” سمجھتے ہیں۔
اور جب یہ حق مہنگا لگتا ہے تو غصہ ڈاکٹر پر نکلتا ہے۔
مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ:
ڈاکٹر کی فیس چند منٹ کی گفتگو کی قیمت نہیں ہوتی،
بلکہ برسوں کی تعلیم،
جاگتی راتوں،
ذہنی دباؤ،
اور ایک انسانی جان کی ذمہ داری کا معاوضہ ہوتی ہے۔
ایک وکیل کیس ہارے تو پیسہ جاتا ہے…
مگر ڈاکٹر کی غلطی جان لے سکتی ہے۔
بدقسمتی سے چند غیر ذمہ دار لوگوں کی لالچ اور بدتمیزی نے پورے شعبے پر عدم اعتماد بڑھایا،
جبکہ ہزاروں ڈاکٹر آج بھی رات 2 بجے ایمرجنسی میں زندگیاں بچا رہے ہوتے ہیں۔
اسلام بھی اعتدال سکھاتا ہے:
✔ علم اور علاج دونوں عظیم خدمت ہیں
✔ محنت کی جائز اجرت لینا حرام نہیں
✔ غیر ضروری ٹیسٹ اور دوائیاں خیانت ہیں
✔ اور مہارت کو مفت سمجھنا بھی ناانصافی ہے
اصل مسئلہ یہ ہے کہ:
لوگ ڈاکٹر کی فیس سے زیادہ
نظامِ صحت کی ناانصافی سے تنگ ہیں۔
جب سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر نہ ہو،
دوائی نہ ہو،
اور سہولت نہ ہو…
تو غصہ پرائیویٹ ڈاکٹر پر نکلتا ہے۔
حل صرف تنقید نہیں:
• حکومت نظام بہتر کرے
• ڈاکٹر شفافیت اور اخلاق اپنائیں
• عوام ڈاکٹر کی محنت کو سمجھیں
• میڈیا مثبت مثالیں بھی دکھائے
اگر ہم اچھے، ایماندار اور انسان دوست ڈاکٹر چاہتے ہیں،
تو ہمیں ڈاکٹر کی محنت کی عزت بھی کرنی ہوگی
اور نظامِ صحت کو بہتر بھی بنانا ہوگا۔
ورنہ اچھے لوگ یہ پیشہ چھوڑ دیں گے،
اور باقی صرف وہ رہ جائیں گے
جو خدمت نہیں، صرف پیسہ دیکھتے ہیں۔