22/08/2026
وزن کم نہ ہونے میں تھائیرائیڈ کا کردار کیا واقعی وجہ صرف میٹابولزم ہے؟
جب صحت کے متعلق پوسٹ کرتی ہوں تو مختلف سوالات پوچھے جاتے ہیں میں ہوسٹ کرنا مناسب سمجھتی ہوں
جب وزن کم کرنے کی بات کی جاتی ہے تو اکثر ہم فوراً کیلوریز کاؤنٹ خوراک اور ورزش کی طرف چلے جاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے جسم کا وزن صرف اس بات سے طے نہیں ہوتا کہ ہم کتنا کھا رہے ہیں جسم کے اندر ہونے والے بہت سے قدرتی نظام خاص طور پر میٹابولزم اور ہارمونز بھی وزن کے بڑھنے اور کم ہونے میں اثر انداز ہوتے ہیں
انہی میں سے ایک اہم نظام تھائیرائیڈ گلینڈ کا ہے اس پر بھی تفصیل پوسٹ کر چکی ہوں
تھائیرائیڈ ہماری گردن کے اگلے حصے میں موجود ایک چھوٹا سا غدود ہے اس کا اثر پورے جسم پر ہوتا ہے یہ ایسے ہارمونز بناتا ہے جو جسم کے میٹابولزم توانائی کے استعمال دل کی دھڑکن جسم کے درجہ حرارت اور بہت سے دوسرے افعال کو پر کام کرتا ہے
جب تھائیرائیڈ ہارمون کم بننے لگے تو جسم کے کام کرنے کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اسے ہائپوتھائیرائیڈزم کہا جاتا ہے ایسی صورت میں بعض لوگوں کے لیے وزن کم کرنا معمول سے زیادہ مشکل ہو جاتا ہے کبھی وزن بڑھنے لگتا ہے کبھی کوشش کے باوجود وزن ایک ہی جگہ رکا رہتا ہے اور بعض اوقات جسم میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے بھی وزن بڑھا ہوا محسوس ہو سکتا ہے
لیکن یہاں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہےہر وہ شخص جس کا وزن کم نہیں ہو رہا ضروری نہیں کہ اسے تھائیرائیڈ کا مسئلہ ہو اس طرح بعض اوقات ہم وزن کے رک جانے کو صرف کمزور میٹابولزم سمجھ لیتے ہیں جبکہ اس کے پیچھے نیند کی کمی مسلسل ذہنی دباؤ جسمانی سرگرمی کی کمی خوراک کا غیر متوازن ہونا انسولین رسسٹنس عمر کے ساتھ آنے والی ہارمونی تبدیلیاں یا دوسری وجوہات بھی ہوتی ہیں
اسی لیے صرف وزن بڑھتا دیکھ کر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ تھائیرائیڈ فنکشن کمزور ہے
البتہ اگر وزن بڑھنے یا کم نہ ہونے کے ساتھ ساتھ مسلسل تھکن ہر وقت سستی سردی زیادہ لگنا قبض جلد کا خشک ہونا بالوں کا زیادہ جھڑنا چہرے یا جسم پر سوجن جیسا پن پٹھوں میں کمزوری یا درد اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکل برین فوگی جیسی علامات بھی موجود ہوں تو تھائیرائیڈ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے
خاص طور پر وہ خواتین جنہیں محسوس ہو کہ وہ اپنی خوراک اور روزمرہ معمول پر توجہ دینے کے باوجود وزن کم نہیں کر پا رہیں انہیں اپنے ڈاکٹر سے تھائیرائیڈ کے بارے میں ضرور بات کرنی چاہیے
ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ کبھی کبھی انسان کو کئی ایسی علامات محسوس ہو رہی ہوتی ہیں جو تھائیرائیڈ سے ملتی جلتی ہیں لیکن صرف علامات کی بنیاد پر تشخیص ممکن نہیں دوسری طرف بعض لوگوں میں مسئلہ موجود ہونے کے باوجود علامات بہت واضح نہیں ہوتیں اسی لیے خون کے ٹیسٹ اہم ہو جاتے ہیں
عام طور پر تھائیرائیڈ کی ابتدائی جانچ کے لیے THS ٹیسٹ کیا جاتا ہے اگر ضرورت ہو تو اس کے ساتھ T4 بھی دیکھا جاتا ہے بعض حالات میں ڈاکٹر اینٹی ٹی پی او جیسے ٹیسٹ بھی تجویز کر سکتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں جسم کا مدافعتی نظام تھائیرائیڈ کو متاثر تو نہیں کر رہا
تھائیرائیڈ کا مسئلہ صرف وزن کی وجہ نہیں ہوتا بلکہ اگر یہ واقعی موجود ہو اور مناسب طریقے سے قابو میں نہ ہو تو جسم کی توانائی دل کی دھڑکن ہاضمہ ذہنی کیفیت اور صحت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے
اس لیے اگر آپ کا وزن مسلسل بڑھ رہا ہے، وزن کم کرنا غیر معمولی طور پر مشکل ہو گیا ہے اور ساتھ میں تھائیرائیڈ سے ملتی جلتی کئی علامات بھی موجود ہیں تو صرف سخت ڈائٹ شروع کرنے کے بجائے پہلے یہ جاننا زیادہ سمجھداری ہے کہ جسم کے اندر اصل میں problem کیا چل رہا
اور سب سے اہم بات۔۔۔۔۔۔ تھائیرائیڈ کی دوا خود سے شروع کرنا بند کرنا یا اس کی مقدار خود سے تبدیل کرنا درست نہیں ہے یہ مقرہ وقت پر لیتے ہیں
تھائیرائڈ لیول کو مینٹین رکھنے میں آپکا خود کا فایدہ ہے
میں اس بات کو سمجھانے میں کتنا کامیاب ہوئی ہوں یہ آپ مجھے بتائیں گے
اس بیماری سے جو ڈیمج ہوتا اس صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ہماری پروڈکٹ تھائیرائڈ فرینڈلی ہے جو سیلینم رچ ہے
ام عبدالھادی ✍️
𝗛𝗘𝗥𝗕𝗔𝗟 𝗕𝗟𝗜𝗦𝗦 2