Ahmad Health Care Homeopathic Clanic

Ahmad Health Care Homeopathic Clanic Homeopathy is Health and Healing

30/10/2022

سوزاک

اسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

💥💥💥💥💥💥💥سوزاک کیا ہے؟؟ 💥💥💥💥💥💥💥💥

👈👈سوزاک (Gonorrhoea) ایک جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماری ہے۔ جو کہ Neisseria Gonorrhoea Bacterium نامی بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے۔

👈👈سوزاک (Gonorrhoea) جنسی طور پر مُنتقل ہونے والی بیماری (ایس۔ٹی۔ڈی) (Sexual Transmitted Disease) ہے جو مردوں اور عورتوں کے تولیدی اعضاء(Sexual Parts) کو متاثر کرتی ہے۔ یہ بہت تکلیف دہ مرض ہے۔

💥💥💥💥💥💥سوزاک کیسے لگ سکتا ہے؟💥💥💥💥💥💥💥

⭐ایسی جگہ پر پیشاب کرنے سے جہاں اسی ہی مرض کے مریض نے پیشاب کیا ہو
⭐ج**ع اور اح**ام ناقص الانزال کے سبب بھی یہ مسلہ ہو سکتا ہے
⭐کسی ایسے شخص جو پہلے سے سوزاک کا مریض ہو اُس کے ساتھ ف*ج (Vagina)، مقعد (Anus)، یا منہ کے راستے جنسی فعل سر انجام دینے پر آپ بھی سوزاک جیسے مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
⭐بازاروں عورت سے ج**ع کرنے سے۔
⭐حیض والی عورت سے ج**ع کرنے سے۔
⭐لواطت سے۔
⭐شراب کا بکثرت استعمال کرنے سے۔
⭐گرم مصالحہ جات اور تیز اشیاء کا استعمال کرنے سے۔
⭐بعض اوقات ایسے شخض سے بھی سوزاک ہو سکتا ہے جس میں خود سوزاک کی کوئی علامات موجود نہ ہوں۔
⭐بچے کو جنم دینے کے دوران ماں سے بچے کو سوزاک ہو سکتا ہے۔ تب بچے کو آنکھ کا شدید انفیکشن ہو سکتا ہے حتیٰ کہ بچہ اندھا بھی ہو سکتا ہے۔
⭐آپ کو پبلک ٹوائلٹ، پبلک پلیسز پر جانے یا دوسرے لوگوں سے عام ملاقات سے گونوریا ہو سکتا۔

👈👈👈👈👈سوزاک جسم کے کن حصوں پر اثر انداز ہوتا ہےاور اس کی علامات کیا ہیں؟👉👉👉👉👉

سوزاک انسان کے گلے
، مقعد،
پیشاب کی نالی
، سرویکس (بچے دانی کی گردن)،
عضوِ تناسل
، فیلوپین ٹیوبز
اور آنکھوں میں انفیکشن کرسکتا ہے
۔ اس مرض میں پیشاب کی نالی میں جلن، سوزش ورم اور زخم ہو جاتے ہیں اور ریشہ پڑ جاتا ہے
۔عام طور پر سوزاک کا زخم شرمگاہ کے اگلے حصے میں ہوا کرتا ہے
لیکن کبھی کبھی غدہ قدامیہ تک جا پہنچتا ہے۔
پیشاب کرتے وقت جلن اور شدید درد ہو تا ہے
، مرض کی شدت کے باعث پیشاب کی نالی تنگ ہو جاتی ہے
اور بعض اوقات خون ملا پیشاب بھی آنے لگتا ہے۔
عضوِ تناسل میں سوجن بھی ہو سکتی ہے۔
نالی کی شدید جلن کی وجہ سے کپڑے کا چھو جانا بھی ناقابلِ برداشت ہوتا ہے
۔ سوزاک کا مریض ٹانگیں پھیلا کر چلنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

اگر سوزاک کا علاج بروقت نہ کروایا جائے تو یہ جلد اور جوڑوں میں انفیکشن کر سکتا ہے۔میننجائٹس یعنی گردن توڑ بخار بھی ہو سکتا ہے ۔ مردوں اور عورتوں کو سوزاک کی وجہ سے شدید انفیکشن ہو سکتا ہے اور وہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو سکتے ہیں۔

سوزاک کے مریض کو چاہیئے کہ جلد سے جلد اپنے قریبی ڈاکٹر سے رابطہ کرے اور اپنا بروقت علاج کروائے تا کہ مستقبل میں آنے والے مسائل سے بچ سکے۔

اگر پشاب رک رک کر آرہا ہو تو یہ نسخہ استعمال کروائے یعنی اگر سوزاک کا شروع ہو تو بھی یہ وقتی طور پر روکنے کے لیے یعنی سوزاک کو کنٹرول کرنے کے لیے ہیں

ھوالشافی
نسخہ نمبر 1
📍تخم خربوزہ
📍تخم خیارین
📍گوکھرو
📍مغز کدو
📍قلمی شورہ
📍دال کلتھی
📍سر پھوکہ
یہ سب ادویہ 3 گرام لیکر 2 گلاس پانی میں بھیگوں کر پکائیں جب پانی 1 گلاس رہ جائے تو تو اتار کر چھان لے اور اس کو دو حصوں میں تقسیم کرلیں اور صبح شام دیں 5 دن استعمال کرواتے رہے لیکن روانہ تازہ بنائے اور تازہ پلائیں اور مکمل علاج معالجے کے لیے رابطہ کریں اپنے کسی قریبی معالج سے رابطہ کریں اور جلد سے جلد اس کا علاج کروائیں

30/10/2022

مفاد عامہ اور میڈیکل سٹوڈنٹس کے لئے
پیش خدمت ہے

انسانی جسم: پاک ہے خدا، خالق، خالق، فوٹوگرافر
1: ہڈیوں کی تعداد: 206
2: پٹھوں کی تعداد: 639
3: گردے کی تعداد: 2
4: دودھ کے دانتوں کی تعداد: 20
5: پسلیوں کی تعداد: 24 (12 جوڑے)
6: دل کے چیمبرز کی تعداد: 4
7: سب سے بڑی شریان: شہ رگ
8: نارمل بلڈ پریشر: 120/80 ایم ایم ایچ جی
9: خون کا پی ایچ: 7.4
10: ریڑھ کی ہڈی میں ریڑھ کی ہڈی کی تعداد: 33
11: گردن میں ریڑھ کی ہڈی کی تعداد: 7
12: درمیانی کان میں ہڈیوں کی تعداد: 6
13: چہرے پر ہڈیوں کی تعداد: 14
14: کھوپڑی میں ہڈیوں کی تعداد: 22
15: سینے میں ہڈیوں کی تعداد: 25
16: بازو میں ہڈیوں کی تعداد: 6
17: انسانی بازو میں پٹھوں کی تعداد: 72
19: قدیم ترین رکن: چمڑا
20: سب سے بڑی خوراک: جگر
21: سب سے بڑا خلیہ: مادہ بیضہ
22: سب سے چھوٹا خلیہ: سپرم سیل
23: سب سے چھوٹی ہڈی: درمیانی کان کی رکاب
24: پہلا ٹرانسپلانٹ شدہ عضو: ایک گردہ
25: پتلی آنت کی اوسط لمبائی: 7 میٹر
26: بڑی آنت کی اوسط لمبائی: 1.5 میٹر
27: نوزائیدہ بچے کا اوسط وزن: 3 کلوگرام
28: ایک منٹ میں دل کی دھڑکن: 72 بار
29: جسمانی درجہ حرارت: 37 °C
30: خون کا اوسط حجم: 4 سے 5 لیٹر
31: خون کے سرخ خلیوں کی عمر: 120 دن
32: سفید خون کے خلیات کی عمر: 10 سے 15 دن
33: حمل کی مدت: 280 دن (40 ہفتے)
34: انسانی پاؤں کی ہڈیوں کی تعداد: 33
35: ہر کلائی میں ہڈیوں کی تعداد: 8
36: ہاتھ کی ہڈیوں کی تعداد: 27
37: سب سے بڑا اینڈوکرائن غدود: تھائرائڈ گلینڈ
38: سب سے بڑا لمفیٹک عضو: تللی
40: سب سے بڑی اور مضبوط ہڈی: فیمر
41: سب سے چھوٹا پٹھوں: سٹیپیڈیئس (درمیانی کان)
41: کروموسوم نمبر: 46 (23 جوڑے)
42: نوزائیدہ بچے کی ہڈیوں کی تعداد: 306
43: خون کی واسکاسیٹی: 4.5 سے 5.5 تک
44: یونیورسل ڈونر بلڈ گروپ: O
45: یونیورسل ریسیور بلڈ گروپ: AB
46: سب سے بڑا leukocyte: monocyte
47: سب سے چھوٹی leukocyte: lymphocyte
48: خون کے سرخ خلیات کی تعداد میں اضافے کو پولی گلوبولی کہتے ہیں۔
49: جسم کا بلڈ بینک ہے: تللی
50: زندگی کے دریا کو خون کہا جاتا ہے۔
51: عام خون میں کولیسٹرول کی سطح: 100 ملی گرام/ڈی ایل
52: خون کا مائع حصہ ہے: پلازما
تُو پاک ہے، اے رب، تو کتنا عظیم ہے۔
(اللہ نے سب کچھ کامل بنایا)

28/10/2022
28/10/2022

Arsencum Album

08/09/2018

آج اپنے ھومیو ڈاکٹرز کو
ھومیو علاج کرنے کا ایک
اسان اور نیا طریقہ بتا رہا ھوں اگرچہ یہ ھومیو کے فلسفہ اور اصولوں سے ہٹ کر ہے پھر بھی 99% کامیاب ہے اور اسے ھومیو ڈاکٹر جو علامات اور میازم کو اب تک سمجھنے سے قاصر ہیں ان کے لیئئ ھومیو میڈیسن سے کسی بھی مریض کا علاج کرنا بہت ہی اسان ھو جائے گا اور وہ اپنے پاوں پر کھڑے ھونے کے قابل ھو جائیں گے۔
1۔ اکثرمریض ڈاکٹر کے پاس اس وقت آتا ہے جب اس کے جسم میں کوئی درد ھوتا سب پہلے آپ درد کی صرف 3 سے 4 میڈیسن لیں۔ مثلن
آرنیکا درد کی بہت بڑی دوا ہے۔ برائے راست چھوٹ ھو یا بلواستہ۔ یہ کام کرے گی اور 1x سے لے کر cm تک جو بھی دیں کام کرے گی۔
اسی طرح۔بیلا ڈونہ۔ جہاں۔ سرخی۔گرمی۔درد ھو بیلا کام کرے گی۔
اسی طرح۔بارئیونیا۔ پیاس زیادہ اور حرکت سے درد۔رسٹاکس۔ہائیپریکم۔گوشت یا نرو کٹ جانے سے درد
میگ فاس6۔ ہر درد۔کینتھرس۔بربرس۔گردہ درد۔
اپنڈیکس۔کےلیئے۔ائرسٹینکس۔پتہ درد ڈائیسکوریہ وغیرہ
2۔ بخار۔کے لیئے۔ ABBG یعنی۔ایکونائیٹم۔بیلاڈونا۔برائیونیا۔ جیلسیمیم۔اور اگر جراثیم سے ھو تو پائیروجینیم۔اگر پیپ ھو تو۔ کالی میورکالی سلف۔مرکسال۔اور انتہاء کی بدبو ھو تو سلیشیا۔سورانیم یہ اینٹی بائیوٹک کی طرح کام کرے گی۔
3۔اگر جگر یعنی لیور کا مسلہ ھو تو نیٹرم سلف۔چیلیڈونیم۔کارڈوس۔ پوڈوفائیلم کام کرے گی کوئی بھی پوٹینسی استعمال کریں۔
4۔اگر تلی کا کوئی مسلہ ھو تو سی اونتھس۔چائنا سلف۔ ہی کافی۔
5۔چھاتی پھیپھڑے کا مسلہ ھو تو برائیونیا بیسیلینم ہی کافی
موٹی عورتوں کی زنانہ بیماریاں۔ پلسٹیلا ۔سیمیسیفیگا بہت پتلی لڑکی عورت سیپیا مناسب ہو گی۔
6۔مردانہ طاقت کے لیئے۔ایگنس کاسٹس۔ڈامیانا۔کلاڈیم۔یوہبینیم۔ٹرائبیولس۔جنسنگ۔اور ایسڈفاس
7۔بوڑھے مردوں میں کونیم اور لائیکو بہت اعلی ہیں۔
8۔جلدی امراض میں۔سلفر۔مزیریم۔نیٹرم سلف کافی۔
9۔دل کے امراض۔ سپائیجیلیا۔ڈیجیٹیلس۔برائٹامیور
10۔نیند بی پی کیلئے۔ پیسی فلورا۔کوفیا کروڈا۔ راویلفیا۔
11۔قبض کے کیلیئے۔برائیونیا۔ایلومینا۔ہائیڈراسٹس۔ اوپیم ہی بہت ہیں۔ بوسیر کیئے۔ ایسکولپ ہپ۔ہمامیلس۔پی اونیا۔کولنسونیا۔
12۔موشن ھوں۔لیلیم ٹگریکم۔کرچی۔مرکسال۔خونی پیچش کلیئے مرک کار۔ایلوز بہت ھونگی۔
13۔
متلی قے ۔ آرسینک۔فاسفورس۔ایپیکاک۔ بچے دود الٹیں۔ایتھیوزا۔
داڑھ درد۔ پلاٹینگو میجر Q. کریازوٹم 200
14۔کان درد۔کیمومیلا۔میولین آئل۔
15۔ آنکھ اور نظر کیلئے۔یوفرزیا۔کالی فاس
16۔ٹانسلز کیئے۔ مرکسال۔برائیٹا کارب۔بیلاڈونا۔فائیٹولاکا بیری۔
20۔پیٹ درد۔ میگ فاس۔کولوسینتھ۔پوڈوفائیلم۔کیمومیلا۔
21۔لیکوریا کیلئے۔کریازوٹم۔ایلومینا۔مرکسال۔پلسٹیلا بہت ہیں۔
چہرے کیلئے۔بربرس ایکویفولیم۔ریڈیم بروم۔لیڈم۔گریفائیٹس۔مرکسال اور بیلا۔

طلبہ یہ مختصر نسخہ جات نوٹ کر کے زبانی یاد کریں ۔ جب مشکل پیش آئے مجھ سے بات کرلیں۔ ہر ممکن مدد کروں گا۔ انشااللہ۔ بیجا تنگ نہ کریں پلیز۔
یہ نسخہ جات نئے طلبہ کے کی سہولت کے لئے ہیں سینئر ڈاکٹر اپنے تجربہ اور ھومیو قانون کے مطابق ہی پریکٹس کریں۔بیجا تنقید سے پرہیز کریں ۔پلیز۔
ھومیو کی عمدہ معلومات کیلئے میرا گروپ جوائن کر لیں۔
ھومیو طلبہ کی مدد کیلیئے ہر وقت کوشاں۔

06/09/2018

لو بلڈ پریشر (Hypotension) اور ھومیوپیتھی:
خون کا دباؤ یا بلڈ پریشر دو قسم کا ھوتا ھے - اوپر والا جسے سسٹول (systole) کہا جاتا ھے اور نیچے والے کو ڈائی سٹول (diastole) کے نام سے پکارا جاتا ھے
لو بلڈ پریشر میں خون کے دباؤ میں کمی واقع ھوجاتی ھے۔ لو بلڈ پریشر بھی بعض اوقات موت کا باعث بن جاتا ھے
جب بلڈ پریشر ضروری سطح سے نیچے گرتا ھے تو اس کی رسد دماغ کی طرف کم ھونے لگتی ھے دماغ کی طرف خون کی رسد کم ھونے سے مطلوبہ آکسیجن کی مقدار میں تعطل پیدا ھو جاتا ھے ایسی حالت میں لیٹتے وقت مریض یا مریضہ کو تکیہ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے
یاد رھے اگر دماغ چند سیکنڈ تک آکسیجن سے محروم ہو جائے تو بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے اور اگر یہ محرومی منٹوں میں بدل جائے تو دماغ مردہ ہو جاتا ہے۔ دماغ چوں کہ پورے جسمِ انسانی کے افعال کنٹرول کرتا ہے یوں پورا جسم ہی موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔
لو بلڈ پریشر میں مبتلا افراد سب سے پہلے تو اپنا Lipid profile چیک کروائیں۔ مفید اور نقصان دہ کولیسٹرول کے تناسب کا جائزہ لیں۔کسی ماہر معالج سے مشورہ کریں اور اس کی ہدایات پرعمل پیرا ہوں۔ خون گاڑھا ہونے کا مطلب صرف بلڈ پریشر ہائی ہونا ہی نہیں ہوتا بلکہ خون گاڑھا ہونے کی صورت میں بلڈ پریشر لو بھی ہوا کرتا ہے۔
بلڈ پریشر لو ہونے کی ایک عام وجہ غذائی کمی، خون میں آئرن کی مطلوبہ مقدار کا نہ ہونا اور خون کا زیادہ بہہ جانا بھی ہوسکتا ہے بطورِ گھریلو علاج اور احتیاط آپ توانائی سے بھرپور لیکن چکنائی سے پاک غذاؤں کا استعمال فوری شروع کر دیں
ایسی تمام غذائیں جو کولیسٹرول پیدا کرنے اور خون کو گاڑھا بنانے کا سبب بنتی ہوں، انہیں فوراً ترک کر دینا چا ہیے۔ علاوہ ازیں جسم میں کولیسٹرول کی اضافی مقدار کو گھٹانے اور خون پتلا کرنے کے اسباب اختیار کرنے چاہئیں ۔ کولیسٹرول کم کرنے میں لہسن لیموں کا رس فائدہ کرتا ھے، کالی مرچ بھی خون پتلا کرتی ہے، اسے بطورِ چٹنی بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مرچ سیاہ، ادرک، پودینہ، لہسن اور سبز دھنیا کی مناسب مقدار کو باہم پیسٹ بنا کر رکھیں اور دہی ملا کر بطورِ چٹنی استعمال کریں پیاز، چقندر اور ٹماٹر کو بطورِ سلاد دن میں ایک بار ضرور کھائیں، قدرتی خوردنی نمک کا استعمال کیا جائے
فارمی مرغیوں کا گوشت، چکنائی، تلی ہوئی غذائیں، مکھن، گھی، پنیر بالائی ملا دودھ اور بیکری مصنوعات و کولا مشروبات سے مکمل اجتناب برتیں، سگریٹ و چائے نوشی ترک کردی جائے
ھومیوپیتھک علاج.
لو بلڈ پریشر کو معمول پر لانے کے لئےمریض کو ہر پندرہ منٹ بعد کیمفر 1 ایکس 1x camphur کی تین خوراکیں دی جانی چاہئیں.
دل کے محرک کے طور پر ایمرجنسی میں کیمفر بڑی تسلی بخش دوا ہے
بلڈپریشر کی کمی کے تمام مریضوں میں بلڈپریشر بڑھانے کے لئے کاربوویج کو بہت مفید پایا گیا ہے اس دواسے چالیس40 درجہ کے سسٹولک بلڈ پریشر کو 90-100 تک بڑھایا جا سکتا ہے جس سے ٹھنڈے پڑھے ہوئے مریضوں کے جسم میں حرارت پیدا ہو جاتی ہے
وریٹرم ورائیڈ 1 سے 6 طاقت تک سسٹولک اور ڈایا سسٹولک دونوں قسم کے گرے ہوئے بلڈپریشرکوبڑھادیتی ہے
اگر بلڈپریشر کم ہونے کی وجہ سےمرہض کی صحت روزبروز گرنا شروع ہو جائےتو ٹیوبرکولینم tubercolinum بطورانٹر کرنٹ ریمیڈی دینے سے مریض کی صحت بحال ہونا شروع ہوجاتی ہے.
بلڈپریشر کی کمی میں چائنا 30 کیکٹس 30 کریٹیگس 30 تینوں ادویات بہت مفید ثابت ہوتی ہیں
جلسی میم (Gelsemium 30) صبح دوپہر رات ایک گلاس پانی میں ملا کر ناشتے اور کھانے سے قبل روزانہ استعمال کرتے سے لوبلڈ پریشر ٹھیک ہو جاتا ہے
لو بلڈ پریشر میں انکے علاوہ بھی بہت سی ادویات استعمال ہوتی ہیں. دوا کی سیلیکشن میں ہمیشہ مریض کی تمام علامات کو مدنظر رکھا جاتا ہے.
Homeo Dr.Qamar zaman
0300-7478224
Hafizabad

19/06/2018

چند ادویات کی مرکزی علامات:
ایپس میلیفیکا۔
گرمی سے تکلیف۔سردی سے آرام۔ڈنگ دار اور جلندار درد اور سوجن۔
آرسینکم البم۔
شدید بے چینی۔گھونٹ پانی۔سردی سے تکلیف۔گرمی سے آرام۔
آرم ٹرائفیلم۔
ناک منہ سے تیزابی پانی بہنا
آرم میٹ
خود کشی کا خیال۔
آرنیکا
جلد پر نیلے داغ۔اور چوٹ کا سا درد۔
آئرس ورسیکالر۔
منہ یا مقعد سے کھٹی تیزابی جلندار رطوبت
آئیوڈم۔
کھان سے آرام۔مستقل بھول۔گرم مجازی
ابراٹینم
بچوں میں سوکڑا۔ ٹانگوں کی طرف سے
آیپی کاک
متلی۔متلی۔متلی ہر تکلیف میں۔
آرٹیکا یورینس
ہر مرض میں دھپڑ۔ چپاکی۔
آرجینٹم میٹ
آرام اور سردی سے تکلیف بڑھنا اور چلنے پھرنے اور گرمی سے آرام۔چھاتی کی کمزوری۔
آرجینٹم نائیٹ۔
میٹھی اشیا کی خوائش۔دماغی ڈر۔ اور گرم مزاجی۔
اگنیشیا
غم کے بد اثرات۔لمبی سانس مارنا۔غیر متوقع اور تعجب خیز علامتیں۔
اگارکس
غیرآختیاری حرکات۔اور سردی سے تکلیف کا بڑھنا۔
الٹرس فیری نوسا
ہر وقت تھکاوٹ۔اور شدید قبض
اوپیم
پیشاب اور پاخانہ کی بندش۔غنودگی اور خراٹے۔ڈر۔
اوگزالک ایسڈ
تکلیف کا خیال آتے ہی تکلیف کا پیدا ہو جانا یا بڑھ جانا
ایپوسائینم
جسم میں کہیں پانی پڑنا اور سردی سے اضافہ
ایتھوزا
بچوں میں بغیر پیاس قے ہیضہ۔اور کمزوری
ایسافوٹیڈا
بدبو دار ریاح جو معدہ سے اٹھے۔ ہڈیوں کے آتشی زخم
ایسکیولس ہیپ۔
کمر کے نیچلے حصہ میں مستقل درد جسے چلنے سے اضافہ ھو
ایسیٹک ایسڈ۔
شدیدجلندار پیاس اور بکثرت پیشاب
ایکٹیاری سی موسا(سیمی سی فیوگا)
رحم کی خرابی۔بائی کے درد۔ سرد موسم میں میں تکلیف کا بڑھنا
ایکونائیٹم۔
موت کا شدید خوف۔ اور ہر تکلیف کا ابتدائی علاج
ایکینیشا
خون کا زہریلا پن اور تمام جسم میں درد
ایگنس کاسٹس
سوزاک کے بد اثرات کی وجہ سے نامردی۔
ایلوز
مقعد کی فالجی کیفیت۔و بواسیر
ایلم سیپا
ناک اور منہ سے تیزابی پانی آنا
ایلومن
پتھر کی طرح سخت پخانہ۔
آرسینکم آیوڈم۔
زرد یا سبزی مائل تیزابی۔ رطوبت نزلہ اور بلغم ۔ جلن اور بھوک ۔
الینتھس
مختلف امراض میں خون کا زہریلا پن۔انتہائی نقاہت اور جلد کا نیلا پن۔
ایمبراگریسیا۔
مخصوس ہسٹیریا کی علامات۔خاص طور پر عورتوں میں۔
ایمونیم کارب۔
نہانے دھونے سے تکالیف کا بڑھنا۔دل کی کمزوری۔خشک زکام۔اور تیزابی رطوبات۔
ایمونیم میور۔
بھربرے خشک پاخانے۔۔پٹھوں میں سکڑن کا احساس۔ اورکندھوں کے درمیان سردی کا احساس۔
اینٹی مونیم ٹارٹ۔
کمزور مریض میں پھپھڑوں میں کھڑکھڑاہٹ والی کھانسی۔
اینٹی مونیم کروڈم۔
تمام امراض میں سب دواوں سے زیادہ سفید زبان۔
ایناکارڈیم۔
حافظہ کی کمزوری اور کھانا کھانے سے آرام۔ اور خالی پیٹ تکلیف میں اضافہ۔

18/06/2018

*نبض*

علم نبض طب قدیم میں ابتداء ہی سے تشخیص کا روح رواں رہا ہے اور اب بھی علم نبض تشخیص کے جدید وقدیم طبی آلات ووسائل وذرائع پر فوقیت رکھتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نبض صرف حرکت قلب کا اظہار کرتی ہے مگر ایسا کہنا درست نہیں، فن نبض پر دسترس رکھنے والے نبض دیکھ کر مرض پہچان لیتے ہیں۔ مریض کی علامات وحالات کو تفصیل سے بیان کر دیتے ہیں۔
سائنس کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ قوت سے حرکت اور حرکت سے حرارت پیدا ہوتی ہے۔ یہی نظام زندگی میں راوں دواں ہے۔ نبض کے ذریعے بھی ہم مریض کے جسم میں یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس وقت اس کے جسم میں قوت کی زیادتی ہے یا حرکت کی زیادتی ہے یا حرارت کی زیادتی ہے یا ان میں کس کس کی کمی ہے اسی کے تحت نبض کی باقی جنسیں بھی پرکھی جا سکتی ہیں۔ جن کا اس مقالہ میں تفصیلاً ذکر ہوگا۔ نبض کی حقیت کو جانچنے کے لیے اس قدر جان لینا ضرروی ہے کہ نبض روح کے ظروف وقلب وشرائین کی حرکت کا نام ہے کہ نسیم کو جذب کرکے روح کو ٹھنڈک پہنچائی جائے اور فضلات دخانیہ کو خارج کیا جائے اس کا ہر نبضہ (ٹھو کر یاقرع) دو حرکتوں اور دو سیکونوں سے مرکب ہوتا ہے کیونکہ ہر ایک بنضہ انسباط اور انقباص سے مرکب ہوتا ہے یہ دونوں حرکتیں ایک دوسرے سے متضاد ہیں اور ہر دو حرکتوں کے درمیان سکون کا ہونا ضروری ہے۔
نبض دیکھنے کا طریقہ
طبیب اپنی چاروں انگلیاں مریض کی کلائی کے اس طرف رکھے، جس طرف کلائی کا انگوٹھا ہے، اور شہادت کی انگلی پہنچے کی ہڈی کے ساتھ نیچے کی طرف اور پھر شریان کا مشاہد ہ کریں ۔
اجناس نبض
نبض کی دس اجناس ہیں
1۔مقدار
2۔قرع نبض
3۔زمانہ حرکت
4۔قوام آلہ
5۔زمانہ سکون
6۔مقدارِرطوبت
7۔شریان کی
8۔وزنِ حرکت
9۔استوا واختلا ف نبض
10۔نظم نبض
مقدار
i۔طویل
یہ وہ نبض ہے جس کی لمبائی معتدل و تندرست شخص کی نبض سے نسبتاً لمبائی میں زیادہ ہویعنی اگریہ چارانگلیوں تک یا ان سے میں بھی طویل ہوتو اسے ہم طویل نبض کہیں گے اوریادرکھیں طویل نبض حرارت کی زیادتی کوظاہر کرتی ہے اگر اس کی لمبائی دو انگلیوں تک ہی رہے تو یہ معتدل ہوگی ۔ اوریہ دوانگلیوں سے کم ہوتو یہ قیصر ہوگی اورقیصر نبض حرارت کی کمی کوظاہر کرتی ہے ۔طویل غدی نبض ہے اور قصیر اعصابی ۔
iiعریض
چوڑی نبض جوکہ انگلی کے نصف پور سے زیادہ ہورطوبت کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے جوکہ نصف پور ہو معتدل ہوگی اورجس کی چوڑائی نصف پور سے کم ہوگی رطوبت کی کمی کا اظہار کرے گی ۔تنگ نبض کو ضیق کہا جاتا ہے ۔عریض نبض اعصابی ہو گی اور ضیق نبض غدی ہو گی ۔
iiiشرف (بلند)
جونبض بلندی میں زیادہ محسوس ہوایسی نبض حرکت کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے جودرمیان میںہوگی معتدل اورجو نبض نیچی ہوگی اسے منحفض کہتے ہیں ۔ یہ حرکت کی کمی پر دلالت کرتی ہے۔
چاروں انگلیوں کو نبض پر آہستہ سے رکھیں یعنی دبائو نہ ڈالیں ۔ اگر نبض انگلیوں کوبلا دبائو چھونے لگے توایسی نبض مشرف ہوگی اوراگر نبض محسوس نہ ہوتو پھر انگلیوں کو دباتے جائیں اورجائزہ لیتے جائیں اگرنبض درمیان میں محسوس ہوتو یہ معتدل ہوگی اوراگرانگلیاں کلائی پردبانے سے نبض کا احساس کلائی کی ہڈی کے پاس اخیر میں جاکر ہوتو یہ نبض منخفض ہے جوکہ حرکت کی کمی کا اظہارکرتی ہے مشرف نبض عضلاتی اورمنخفض اعصابی ہوگی۔
قرغ نبض -- ٹھوکر نبض
اس میں نبض کی ٹھوکر کوجانچا جاتا ہے چاروں انگلیاں نبض پر رکھ کر غور کریں آہستہ آہستہ انگلیوں کودبائیں اگرنبض انگلیوں کوسختی سے اوپرکی طرف دھکیل رہی ہے توایسی نبض قوی کہلاتی ہے یعنی ذرا زور سے ٹھوکر لگانے والی نبض ہی قوی ہے یہ نبض قوت حیوانی کے قوی ہونے کوظاہر کرتی ہے اوراگر یہ دبائو درمیانہ سا ہو تومعتدل ہوگی ۔اورجونبض دبانے سے آسانی کے ساتھ دب جائے تویہ نبض ضعیف کہلاتی ہے یعنی قوت حیوانی میں صغف کا اظہار ہے قوی عضلاتی ہوگی اورضعیف اگرعریض بھی ہوتو اعصابی ہوگی اورضیق ہوتو غدی ہوگی۔
زمانہ حرکت
اس کی بھی تین ہی اقسام ہیں سریع ۔ متعدل ۔ بطی ۔
سریع نبض وہ ہوتی ہے جس کی حرکت تھوڑی مدت میں ختم ہوجاتی ہے یہ اس بات پردلالت کرتی ہے کہ قلب کو سوئے سردنسیم یعنی اوکسیجن بہت حاجت ہے جسم میں دخان (کاربانک ایسڈ گیس ) کی زیادتی ہے۔
اگر بطی ہے صاف ظاہر ہے کہ قلب کو ہوائے سرد کی حاجت نہیں۔ سریع یعنی تیزتر نبض عضلاتی ہوتی ہے اوربطی(سست) نبض اگرعریض ہوگی تواعصابی ہوگی اورضیق ہوگی توغدی ہوگی بطی سے مراد نبض کی سستی ہے۔
قوام آلہ -- شریان کی سختی ونرمی
اسے بھی تین اقسام میں بیان کیاگیاہے صلب ، معتدل اورلین ،
صلب وہ نبض ہے جسکو انگلیوں سے دبانے میں سختی کااظہار ہویہ بدن کی خشکی کودلالت کرتی ہے ایسی نبض ہمیشہ عضلاتی ہوتی ہے۔
لین نبض صلب کے مخالف ہوتی ہے یعنی نرم ہوتی ہے ایسی نبض رطوبت کی زیادتی پردلالت کرتی ہے یعنی ایسی نبض اعصابی ہوگی ۔
اورمعتدل اعتدل رطوبت کا اظہار ہے۔
زمانہ سکون
اس کو بھی تین اقسام میں بیان کیاجاتا ہے متواتر ، تفاوت، معتدل ۔
متواترنبض وہ ہے جس میں وہ زمانہ تھوڑا ہوجو دو ٹھوکروں کے درمیان محسوس ہوتاہے ۔ یہ نبض قوت حیوانی کے ضعف کی دلیل ہے قوت حیوانی میں ضعف یاتوحرارت کی زیادتی کی وجہ سے ہوگا یاپھر رطوبت کی زیادتی سے ہوگا۔عموماً ایسی نبض اگر ضیق ہو تَو غدی ہوگی یاپھر اگرعریض ہو تَواعصابی بھی ہوسکتی ہے ۔
نبض دیکھتے وقت اس بات کوخاص طور پر مدنظر رکھیں کہ کتنی دیر کے بعدٹھوکر آکرانگلیوں کو لگتی ہے اورپھر دوسری ٹھوکر کے بعد درمیانی وقفہ کومدنظررکھیں ۔ پس یہی زمانہ سکون ایسازمانہ ہے کہ جس میں شر یان کی حرکت بہت کم محسوس ہوبلکہ بعض اوقات اسکی حرکت محسوس ہی نہیں ہوتی اورایسا معلوم ہوتا ہے کہ نبض انگلیوں کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے۔
مقدارِ رطوبت
نبض پرانگلیاں رکھ کر جانچنے کی کوشش کریں اس کی صورت یہ ہوگی جیساکہ پانی سے بھری ہوئی ٹیوب کے اند رپانی کی مقدار کااندازہ لگایاجائے کہ ٹیوب کے اند ر پانی اس کے جوف کے اندازے سے زیادہ ہے یاکم بالکل اسی طرح نبض ضرورت سے زیادہ پھولی ہوگی اوردبانے سے اس کا اندازہ پوری طرح ہوسکے گا اگر ممتلی ہوتو اس میں ضرورت سے زیادہ خون اورروح ہوگی جوکہ صحت کے لئے مضرہے اسی طرح اگرنبض خالی ہوگی توخون اورروح کی کمی کی علامت ہے کمزوری کی دلیل ہے اس لئے ممتلی یعنی خون و روح سے بھری ہوئی نبض عضلاتی ہوگی خالی ممتلی کے متضاد ہوگی جوکہ اعصابی ہوگی ۔
شریان کی کیفیت
نبض کی اس قسم سے جسم کی حرارت وبرودت (گرمی وسردی )کوپرکھا جاتاہے اس کوجانچنا بہت آسان ہے اگرنبض چھونے سے حرارت زیادہ محسوس ہوتویہ نبض حارہوگی، گرمی پر دلالت کریگی اورگرم نبض عموماً طویل اور ضیق بھی ہوتی ہے ۔ اگرنبض پرہاتھ رکھنے سے مریض کاجسم سرد محسوس ہوتویہ نبض باردہوگی جوکہ اعصابی عضلاتی کی دلیل ہے۔
وزن حرکت
یہ نبض حرکت کے وزن کے اعتبارسے ہے جس سے ہم معلوم کرتے ہیں کہ نبض کازمانہ حرکت اورزمانہ سکون مساوی ہے۔
اگریہ زمانہ سکون مساوی ہے تو نبض انقباص وانسباط(پھیلنا اورسکٹرنا)کے لحاظ سے حالت معتدل میں ہوگی اسے جیدالوزن کہاجاتا ہے
ایسی نبض جسکا انقباض وانسباط مساوی نہ ہوبلکہ دونوں میں کمی بیشی پائی جائے یہ نبض صحت کی خرابی کی دلیل ہے۔ اگر دل میںیہ سکیڑ دل کی شریانوں کی بندش کی وجہ سے ہوتو ایسی نبض عضلاتی ہوگی ۔اگریہ ضعف قلب کی وجہ سے ہے توایسی نبض غدی ہوگی اوراگریہ تسکین قلب کی وجہ سے ہے توایسی نبض اعصابی ہوگی۔ ان باتوں کومدنظر رکھنا طبیب کی مہارت ہے۔ ایسی نبض کوخارج الوزن کانام دیا گیا ہے۔
اگر نبض عمرکے مطابق اپنی حرکت وسکون کے وقت کوصحیح ظاہر نہ کرے یعنی بچے ، جوان ،بوڑھے کی نبض کے اوزان ان کی اپنی عمر کے مطابق نہ ہوں تویہ ردی الوزن کہلائے گی۔ اس میں نبض کی انقباضی اورانبساطی صورت کوجانچا جاتاہے۔ نبض جب پھیلے تواس کوحرکت انسباطی کہتے ہیں اورجب اپنے اند ر سکڑے تواسے حرکت انقباص کہتے ہیں ۔ان دونوں کے زمانوں کافرق ہی اسکا وزن کہلاتاہے۔
ایسی نبض پرکھتے وقت عمر کوخاص طور پرمدنظر رکھیں ایسی نبض کوحتمی نبض قرار دینے کے لئے نبض کی دیگراقسام کے مدنظر حکم لگائیں۔
استوا واختلاف نبض
اسکی صرف دوہی اقسام ہیں مستوی اورمختلف ۔
مستوی نبض وہ ہے جس کی تمام اجزاء تمام باتوں میں باقی نبض کے مشابہ ہوں یہ نبض بدن کی اچھی حالت ہونے کی علامت ہے ۔
نبض مختلف وہ نبض ہے جومستوی کے مخالف ہواوراس کے برعکس پردلالت کرے ۔
جانچنے کے لئے نبض پرہاتھ رکھیں جس قدر نبض کی اجناس اوپر بیان کی گئی ہیں کیا یہ ان کے اعتبار سے معتدل ہے اگران میں ربط قائم ہے اورمعتدل حیثیت رکھتی ہیں تووہ مستوی ہے ورنہ مختلف۔
مرکب نبض کی اقسام
تعریف
مرکب نبض اس نبض کو کہتے ہیں جس میں چند مفرد نبضیں مل کرایک حالت پیداکردیں۔ اس سلسلہ میں اطباء نے نبض کی چند مرکب صورتیں بیان کی ہیں ، جن سے جسم انسان کی بعض حالتوں پر خاص طورپر روشنی پڑتی ہے اورخاص امراض میں نبض کی جومرکب کیفیت پیدا ہوتی ہے، ان کااظہارہوتا ہے۔ ان کافائدہ یہ ہے کہ ایک معالج آسانی کے ساتھ متقدمین اطباء اکرام کے تجربات ومشاہدات سے مستفید ہوسکتاہے ۔
وہ چندمرکب نبضیں درج ذیل ہیں
1۔ نبض عظیم
وہ نبض جوطول وعرض وشرف میں زیادہ ہوایسی نبض قوت کی زیادتی کااظہار کرتی ہے اسے ہم عضلاتی یاوموی کہیں گے جونبض تینوں اعتبارسے صغیر ہوگی وہ قوت کی کمی کااظہا ر ہے اوروہ اعصابی نبض ہوگی۔
2۔ نبض غلیظ
غلیظ وہ نبض ہے جوصرف چوڑائی اوربلندی میں زیادہ ہوایسی نبض عضلاتی اعصابی ہوگی۔
3۔نبض غزالی
وہ نبض ہے جوانگلی کے پوروں کوایک ٹھوکر لگانے کے بعد دوسری ٹھوکر ایسی جلدی لگائے کہ اس کا لوٹنا اورسکون کرنا محسوس نہ ہو یہ نبض اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ترویج نسیم کی جسم میں زیادہ ضرورت ہے۔ غزالی کے معنی بچہ ہرن ہیں۔ یہاں اس کی مشابہت چال کی تیزی کی وجہ سے دی گئی ہے ایسی نبض عضلاتی ہوگی۔
4۔موجی نبض
ایسی نبض جس میں شریانوں کے اجزاء باوجودہونے کے مختلف ہوتے ہیں کہیں سے عظیم کہیں سے صغیر کہیں سے بلند اورکہیں سے پست کہیں سے چوڑی اورکہیں سے تنگ گویا اس میں موجیں (لہریں) پیدا ہورہی ہیں جوایک دوسرے کے پیچھے آرہی ہیں ایسی نبض رطوبت کی زیادتی پردلالت کرتی ہے قانون مفر د اعضا ء میں ایسی نبض اعصابی غدی ہوگی۔
5نبض دودی
)کیڑے کی رفتار کی مانند ) یہ نبض بلندی میں نبض موجی کے مانند ہوتی ہے لیکن عریض اورممتلی نہیں ہوتی یہ نبض موجی کے مشابہ ہوتی ہے لیکن اس کی موجیں ضعیف ہوتی ہیں گویااس کے خلاف صغیر ہوتی ہے ایسی نبض قوت کے ساقط ہونے پردلالت کرتی ہے لیکن سقو ط قوت پورے طورپرنہیں ہوتا اس نبض کودودی اس لئے کہتے ہیں کہ یہ حرکت میں اس کیڑے کے مشابہ ہوتی ہے جس کے بہت سے پائوں ہوتے ہیں ایسی نبض غدی اعصابی ہوگی بوجہ تحلیل نبض میں ضعف پیداہوتاہے۔
6نبض ممتلی
یہ وہ نبض ہے جونہایت ہی صغیر اورمتواتر ہوتی ہے ایسی نبض اکثر قوت کے کامل طور پرساخط کے ہوجانے اورقربت الموت کے وقت ہوتی ہے یہ نبض دودی کے مشابہ ہوتی ہے لیکن اس سے زیادہ صغیر اورمتواتر ہوتی ہے یہ اعصابی غدی کی انتہائی صورت ہوگی۔
7۔نبض منشاری
(آرے کے دندانوں کی مانند)
یہ وہ نبض ہے جوبہت مشرف ،صلب،متواتراورسریع ہوتی ہے اسکی ٹھوکر اوربلندی میں اختلاف ہوتاہے یعنی بعض اجزا سختی سے ٹھوکر لگاتے ہیں بعض نرمی سے اوربعض زیادہ بلندہوتے ہیں اوربعض پست گویا ایسامحسوس ہوتاہے کہ اس نبض کے بعض اجزاء نیچے اترتے وقت بعض انگلیوں کوٹھوکر ماردیتے ہیں ۔یعنی ایک پورے کوجس بلندی سے ٹھوکر لگاتے ہیں اس سے کم دوسرے پورے کو یہ نبض اس امر کوظاہر کرتی ہے کہ کسی عضومیں ورم پیدا ہوگیا ہے خاص طور پر پھیپھڑوں اورعضلات میں صاف ظاہر ہے کہ یہ عضلاتی اعصابی تحریک کی بگڑی ہوئی نبض ہے ۔
نبض ذنب الفار،نبض ذولفترہ ،نبض واقع فی الوسط،نبض مسلی ،مرتعش اورملتوی وغیرہ بھی بیان کی جاتی ہیں، جن سے کسی مزاج کی واضح پہچان مشکل ہے، اس لئے ان کوچھوڑدیاگیاہے۔طبِ قدیم کے تحت نبض کا بیان صرف اس لئے لکھ دیا ہے کہ طبِ قدیم کے اطبا ء بھی اس سے استفا دہ کر سکیں ۔ ساتھ ساتھ تجدیدِ طب کے مطا بق ان کی نشاندہی بھی کر دی گئی ہے کہ تجدیدِ طب کے بھی اس سے مستفیض ہو سکیں ۔
نبض کے با رے تجدیدِ طب کی رہنما ئی مکمل اور کا فی ہے ۔ مجددطب حکیم انقلاب نے علم النبض پر بھی انتہائی محنت کے ساتھ تجدید کی اپنے تجربات ومشاہدات کی روشنی میں نبض کوانتہائی آسان کرتے ہوئے اسے بھی اعضائے ریئسہ دل ودماغ وجگر کے ساتھ مخصوص کردیا جوکہ فنِ طب میں ایک بہت بڑا کمال و انقلاب ہے۔ اس اعتبار سے قانون مفرداعضا میں مفردنبض کی اقسام صرف تین ہیں، جنہیں اعصابی نبض ،عضلاتی نبض،اورغدی نبض سے موسوم کیاگیا ہے۔ پھرہر ایک مرکب نبض کی اقسام کوانہیںاعضاء رئیسہ کے باہمی تعلق کے مدنظر چھ(۶)اقسام میں تقسیم کردیاہے،جوکہ بالترتیب درج ذیل مقرر ہیں
1۔اعصابی عضلاتی 2۔عضلاتی اعصابی
3۔عضلاتی غدی 4۔غدی عضلاتی
5۔غدی اعصابی 6۔اعصابی غدی
اب پہلے مفردنبض کی شناخت ووضاحت کوبیان کیاجاتاہے۔
اعصابی نبض
ایسی نبض جوقیصر ہومنخفض ہو،عریض ہو،لین ہو، بطی ہو اعصابی کہلاتی ہے ۔ انگلیوں کوزورسے دبانے سے کلائی کے پاس محسوس ہوگی۔ یہ جسم میں بلغم اور رطوبت کی زیادتی کی علامت ہوگی۔
عضلاتی نبض
جب ہاتھ مریض کی کلائی پر آہستہ سے رکھا جائے، نبض اوپرہی بلندی پرمحسوس ہو، ساتھ ہی ساتھ صلب ہو اورسریع ہو اورقوی ہوتوایسی نبض عضلاتی نبض کہلاتی ہے۔ ایسی نبض جسم میں خشکی ،ریاح ،سوداوربواسیری زہرکااظہار کرتی ہے ۔
غدی نبض
مریض کی نبض پرہاتھ رکھیں اورآہستہ آہستہ انگلیوں کردباتے جائیں۔ اگرنبض درمیاں میں واقع ہوتویہ غدی نبض ہوگی۔ ایسی نبض طویل ہوگی ،ضیق ہوگی۔یہ جسم میں حرارت اورصفراء کی زیادتی کا اظہار ہے۔ حرار ت سے جسم میں لاغری وکمزوری کی علامات ہوں گی ۔یادرکھیں ،جب طویل نبض مشر ف بھی اورقوی بھی ہوتوعضلاتی ہوگی۔
خصوصی نوٹ
نبض بالکل اوپربلندی پرعضلاتی ،بالکل کلائی کے پاس پست اعصابی اور درمیان میں غدی ہوگی۔
مرکب نبض
قانون مفرد اعصا میں مرکب نبض کو چھ تحاریک کے ساتھ مخصوص کردیاگیاہے جو کہ درج ذیل ہیں
1. اعصابی عضلاتی
جو نبض پہلی انگلی کے نیچے حرکت کرے اورباقی انگلیوں کے نیچے حرکت نہ کرے ، اعصابی عضلاتی ہوگی۔یہ نبض گہرائی میں ہوگی ۔بعض اوقات فقرالدم کی وجہ سے دل بے چین ہو تو تیزی سے حرکت کرتی محسوس ہوگی مگردبانے سے فوراََدب جائے گی جیسا کہ نبض میں حرکت ہے ہی نہیں۔ عام حالات میں اعصابی عضلاتی نبض سست ہوتی ہے ۔
اس کی تشخیصی علامات یہ ہیں ـ ـ
منہ کاذائقہ پھیکا ،جسم پھولا ہوا ہونا شہوت کم ،دل کاڈوبنا ،رطوبت کا کثرت سے اخراج ،پیشاب زیادہ آنا اور اس کارنگ سفید ہونا ،ناخنوں کی سفیدی اہم علامات ہیں۔
2. ضلاتی اعصابی
اگر نبض پہلی اوردوسری انگلی کے نیچے حرکت کرے اور باقی انگلیوں کے نیچے حرکت نہ کرے تو یہ نبض عضلاتی اعصابی ہوگی ۔مقامی طورپر مشرف ہوگی قدرے موٹائی میں ہوگی۔ ریاح سے پرہونے کی وجہ سے ذرا تیز بھی ہوگی ۔ رطوبت کااثر اگرباقی ہوتو سست وعریض بھی ہوسکتی ہے۔
تشخیصی علامات
چہرہ سیاہی مائل اور اس پرداغ دھبے ،چہرہ پچکا ہوا،اگر کولسٹرول بڑھ گیا تو جسم پھولا ہوا کاربن کی زیادتی ،ترش ڈکار ،جسم میں ریاح اور خشکی و سردی پائی جائے گی۔
3. عضلاتی غدی
اگر نبض پہلی دوسری اورتیسری انگلی تک حرکت کرے اور چوتھی انگلی کے نیچے حرکت نہ کرے تویہ نبص عضلاتی غدی ہوگی۔مشرف ہوگی یعنی مقامی طوپر بالکل اوپر ہوگی۔ حرکت میں تیز اورتنی ہوئی ہوگی۔ یاررکھیں نبض، اگرچہ چار انگلیوں تک بھی حرکت کرے، اگروہ ساتھ ساتھ صلب بھی ہواورمشرف وسریع بھی ہوتو عضلاتی غدی شدید ہوں۔
تشخیصی علامات
عضلات وقلب میں سکیٹر ،فشار الدم ،ریاح کا غلبہ ،اختلاج قلب ،جسم کی رنگت سرخی مائل جسم وجلد پر خشکی اورنیند کی کمی ہوگی۔
4. غدی عضلاتی
اگرنبض چارانگلیوں تک حرکت کرے لیکن وہ مقامی طورپرمشرف اورمنحفض کے درمیان واقع ہو ضیق بھی ہوتوایسی نبض غدی عضلاتی ہوتی ہے۔
تشخیصی علامات
جسم زرد ،پیلا ،ڈھیلا ۔ہاتھ پائوں چہرے پرورم۔یرقان،پیشاب میں جلن ، جگروغدداورغشائے مخاطی میں پہلے سوزش وورم اور بالا خر سکیٹرشروع ہوجانا۔
5. غدی اعصابی
اگرمقامی طورپرغدی نبض کا رجوع منخفض کی طرف ہوجائے تویہ غدی اعصابی ہوگی یہ نبض رطوبت کی وجہ سے غدی عضلاتی سے قدرے موٹی ہوگی اور سست ہوگی۔
تشخیصی علامات
جگرکی مشینی تحریک ہے۔ آنتوں میں مڑور،پیچش ،پیشا ب میں جلن،عسرالطمت ، نلوں میں درد،بلڈپریشراورخفقان وغیرہ کی علامات ہوںگی۔
6. اعصابی غدی
اگرنبض منخفض ہوجائے،عریض ہوجائے، قصیر ہوجائے تو ایسی نبض اعصابی غدی ہوگی انتہائی دبانے سے ملے گی ۔
تشخیصی علامات
جسم پھولا ہوا،چربی کی کثرت ،بار بارپیشاب کاآنا۔
بعض اطباء نے ہرنبض کے ساتھ علامات کی بڑی طویل فہرست لکھ کردی ہے جسکی کہ ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارے قانون مفرد اعضاء میں تو ہر تحریک کی جداگانہ علامات کو سرسے لیکر پائوں تک وضاحت وتفصیل کے ساتھ بیان کردیا گیاہے مثلاََجس طبیب کو اعصابی عضلاتی علامات معلوم ہیں تووہ بخوبی جانتاہے کہ اعصابی عضلاتی نبض کی کیا کیا علامات ہیں اسی طرح دیگر تمام تحاریک کی نبض سے علامات کی تطبیق خود بخود پیدا ہوگئی ہے ۔ان کا یہاں پہ بیان کر نا ایک تو طوالت کا باعث ہوگا ۔اوردوسر ا نفس مضمون سے دوری کاباعث ہوگا ۔
مرداور عورت کی نبض میں فرق
عورت کی نبض کبھی عضلاتی نہیں ہوتی کیونکہ عضلاتی نبض سے خصیتہ الرحم میں اور دیگر غدو میںسکون ہوکر جسم اوربچے کو مکمل غذا نہیں ملتی اگرعورت کی نبض عضلاتی ہوجائے تو اس کو یاحمل ہوگا یااس میں مرد انہ اوصاف پید اہوجائیں گے جیسے آج کل کی تہذیب میں لڑکیاں گیند بلا وغیرہ کھیلتی ہیں یا اس قسم کے دیگر کھیل کھیلتی ہیں یاجن میں شرم وحیاء کم ہوجاتاہے ۔ اس طرح جن عورتوں کے رحم میں رسولی ہوتی ہے ان کی نبض بھی عضلاتی ہوجاتی ہے اورورم کی نبض کا عضلاتی ہونا ضروری ہے۔
اہمیت نبض
جولوگ نبض شناسی سے آگاہ ہیں اور پوری دسترس رکھتے ہیں ان کے لیے نبض دیکھ کر امراض کابیا ن کردینا بلکہ ان کی تفصیلات کاظاہر کردینا کوئی مشکل بات نہیں ۔ ایک نبض شناس معالج نہ صرف اس فن پرپوری دسترس حاصل کرلیتا ہے بلکہ وہ بڑی عزت ووقار کا مالک بن جاتاہے یہ کہنا سراسرغلط ہے کہ نبض سے صرف قلب کی حرکا ت ہی کا پتہ چلتاہے بلکہ اس میں خون کے دبائو خون کی رطوبت اورخون کی حرارت کا بھی علم ہوتا ہے ہرحال میں دل کی حرکات بدل جاتی ہیں جس کے ساتھ نبض کی حرکات اس کے جسم اور اس کے مقام میں بھی تبدیلیاں واقع ہوجاتی ہیں جس سے انسانی جسم کے حالات پر حکم لگایا جا سکتا ہے۔
راز کی بات
دل ایک عضلاتی عضو ہے مگر اس پردوعددپردے چڑھے ہوئے ہیں دل کے اوپرکا پردہ غشائے مخاطی اور غدی ہے اوراس کے اوپربلغمی اوراعصابی پردہ ہوتاہے۔جوشریانیں دل اوراس کے دونوں پردوںکو غذا پہنچاتی ہیں ۔ان میں تحریک یاسوزش سے تیزی آجاتی ہے جس کا اثر حرکات قلب اور فعال شرائین پر پڑتاہے جس سے ان میں خون کے دبائو خون کی رطوبت اور خون کی حرارت میں کمی بیشی ظاہر ہوجاتی ہے۔
یہ راز اچھی طرح ذہین نشین کرلیں کہ
1. شریان میں خون کا دبائو قلب کی تحریک سے پید اہوتا ہے جو اس کی ذاتی اور عضلاتی تحریک ہے۔
2. خون کی رطوبت میں زیادتی دل کے بلغمی اعصابی پردے میں تحریک سے ہوتی ہے ۔
3. خون کی حرارت قلب کے غشائی غدی پردے میں تحریک سے پید اہوتی ہے اس طرح دل کے ساتھ اعصاب ودماغ اورجگر وغددکے افعال کاعلم ہوجاتا ہے ۔
یہ وہ راز ہے جس کو دنیائے طب میں حکیم انقلاب نے پہلی بارظاہر کیا۔ اس سے نبض کے علم میں بے انتہا آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں۔
تشخیص کے چند اہم نکات
(۱)حرکات جسم کی زیادتی سے تکلیف
جسم کے بعض امراض وعلامات میں ذرا بھی اِدھر اُدھر حرکت کی جائے توان میں تکلیف پیدا ہو جاتی ہے یاشد ت ہوجاتی ہے ایسی صورت میں عضلات وقلب میں سوزش ہوتی ہے حرکت سے جسم میں خشکی پیدا ہوتی ہے۔
(۲)آرام کی صورت میں تکلیف
جب آرام کیاجائے توتکلیف جسم بڑھ جاتی ہے اورطبیعت حرکت کرنے سے آرام پاتی ہے ایسی صورت میں اعصاب ودماغ میں سوزش وتیزی ہوتی ہے۔آرام سے جسم میں رطوبت کی زیادتی ہوجاٹی ہے
(۳)خون آنا
اگرمعدے سے لے کراوپرکی طرف سرتک کسی مخرج سے خارج ہوتویہ عضلاتی اعصابی تحریک ہوگی اوراگرجگر سے لے کرپائوں تک کسی مخرج یامجریٰ سے خارج ہوتویہ عضلاتی غدی تحریک ہوگی ۔
ضرور ی نوٹ
تشخیص الامراض میں عضلاتی اعصابی اورعضلاتی غدی یاغدی عضلاتی اورغدی اعصابی وغیرہ تحریکات میں فرق اگروقتی طور پرمعلوم نہ ہوسکے توکسی قسم کافکر کئے بغیر اصول علاج کے تحت عضو مسکن میں تحریک پیداکردینا کافی وشافی ویقینی علاج ہے۔
تشخیص کی مروجہ خامیاں
طب یونانی وطب اسلامی میں تشخیص کاپیمانہ نبض وقارورہ ہے ملک بھر کے لاکھوں مطب کا چکر لگالیں گنتی کے چند مطب ملیں گے جن کو چلانے والے اطباء نبض وقارورہ سے تشخیص کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اورنہ ہی یہ علم اب طبیہ کالجوںمیں پوری توجہ سے پڑھا یاجاتا ہے شاید ہی ملک کا کوئی طبی ادارہ نبض وقارورہ سے اعضاء کے غیر طبعی افعال اور اخلاط کی کمی بیشی کی پہچان پردسترس کی تعلیم دیتا ہو ۔اب تک تو طب یونانی کا ایسا کوئی ادارہ دیکھا نہیں ،دیکھنے کی خواہش ضرور ہے۔اعتراف ِحقیقت بھی حسن اخلاق کی اصل ہے قانون مفر د اعضاء کے اداروں سے تعلیم وتربیت یافتہ اطباء نبض وقارورہ سے تشخیص پر کافی حدتک دسترس رکھتے ہیں۔
اس طرح مذاکرہ ،دال تعرف ماتقدم جوکہ مریض و معالج میں اعتماد کی روح رواں ہیں مگر اس دور کے معالجین ان حقائق سے دور کا واسطہ بھی نہیں رکھتے۔ مریض نے جس علامت کا نام لیا اسی کو مرض قرار دے کر بنے بنائے مجربات کا بنڈل اس کے ہاتھ میں تھما دیاجاتا ہے۔
اگرکوئی ادارہ تشخیص کا دعویٰ بھی کرتاہے اس کی تشخیص کا جوانداز ہے، ا س پربھی ذرا غور کریں۔ تمام طریقہ بائے علاج میں پیٹ میں نفخ ہو یا قے ،بھوک کی شدت ہو یا بھوک بند ،تبخیرہویا ہچکی بس یہی کہا جائے گا کہ پیٹ میں خرابی ہے ان علامات میں اعضائے غذایہ کی بہت کم تشخیص کی جائے گی۔ اگر کسی اہل فن نے پیٹ کی خرابی میں معدہ ،امعاء ،جگر،طحال اور لبلبہ کی تشخیص کربھی لی تو اس کو بہت بڑا کمال خیال کیاجائے گا۔لیکن اس امر کی طرف کسی کادھیان نہیں جائے گا کہ معدہ امعاء وغیرہ خودمرکب اعضاء ہیں اور ان میں بھی اپنی جگہ پرعضلات ، اعصاب اور غددواقع ہیں مگر یہاں پربھی صرف معدہ کومریض کہا جاتا ہے جو ایک مرکب عضوہے ۔یہاں پر بھی معدہ کے مفرد اعضاء کی طرف دھیان نہیں دیا جاتا حالانکہ معدہ کے ہر مفرد عضو کی علاما ت بالکل مختلف اور جدا جدا ہیں مگر تشخیص ہے کہ کلی عضو کی کی جارہی ہے اورعلاج بھی کلی طور پر معد ہ کا کیا جارہا ہے نتیجہ اکثر صفر نکلتا ہے ناکام ہوکر نئی مرض ایجاد کردی جاتی ہے ایک نئی مرض معلوم کرنے کا کارنامہ شما ر کرلیا جاتاہے۔
فاعلم، جب معدہ کے اعصاب میں سوزش ہوتی ہے تو اس کی صورتیں اورعلامات معدہ کے عضلات کی سوزشوں سے بالکل جد اہوتی ہیں اسی طرح جب معدہ کے غدو میں سوزش ہوتی ہے تو اس کی علامات ان دونوں مفرد اعضاء کی سوزشوں سے بالکل الگ الگ ہوتی ہیں پھر سب کو صرف معدہ کی سوزش شمار کرنا تشخیص اور علاج میں کسی قدر الجھنیں پیداکردیتا ہے یہی وجہ ہے کہ یورپ ،امریکہ کو بھی علاج میں ناکامیاں ہوتی ہیں اوروہ پریشان اور بے چین ہیں اوراس وقت تک ہمیشہ ناکام رہیں گے جب تک کہ علاج اور امراض میں کسی مرکب عضو کی بجائے مفرد عضو کو سامنے نہیں رکھیں گے ۔امراض میں مفرد اعضاء کو مدنظر رکھنا مجد دطب حکیم انقلاب المعالج دوست محمد صابر ملتانی کی جدید تحقیق اور عالمگیر کارنامہ ہے مجدد طب کا یہ نظریہ مفرد اعضا ء (Simple organ theory) فطر ت اور قانون قدرت سے مطابقت رکھتا ہے۔
اس سے نہ صرف تشخیص میں آسانیاں پید اہوگئی ہیں بلکہ ہر مرض کا علاج یقینی صورت میں سامنے آگیاہے۔ اس کاسب سے بڑ ا فائدہ یہ ہے کہ مرکب عضومیں جس قدر امراض پیداہوتے ہیں ان کی جدا جد اصورتیں سامنے آجاتی ہیں۔ ہرصورت میں ایک دوسرے سے ان کی علامات جدا ہیں ،جن سے فوراََ یہ پتہ چل جاتا ہے کہ اس عضو کا کون سا حصہ بیمار ہے پھر صرف اسی حصہ کا آسانی سے علاج ہوسکتا ہے۔
اب ٹی بی ہی کو لیجئے کہ یہ کوئی بیماری نہیں ہے یہ تو اصل بیماری کی ایک علامت ہے ۔انسان میں آخرکونسا پرزہ خراب ہے جب معالج کو پتہ تک ہی نہیں کہ کون سا پرزہ خراب ہے توہ کیسے ٹھیک کرے گا انسانی جسم بھی تو ایک مشین ہے اس میں بھی تو پرزے ہیں جب یہ مشین خراب ہوتی ہے تودراصل کوئی پرزہ ہی توخراب ہوجاتاہے اسی طرح شوگر ،بلڈپریشر وغیرہ کوئی امراض نہیں بلکہ کسی نہ کسی پرزے کی خرابی کی علامات ہیں ۔ اس لئے صحیح اور کامیاب معالج وہی ہوگا جوصرف علامات کی بنیا دپر علاج کرنے کی بجائے اجزائے خون ،دوران خون اور افعال الاعضاء کے بگاڑ کو سمجھ کر تشخیص وعلاج کرے گا ۔ اس کی ایک دوائی ہی سر سے لے کر پائوں تک کی تکلیف دہ علامات کو ختم کردے گی۔ انشااللہ

Address

Gujranwala
52111

Telephone

+923007478224

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahmad Health Care Homeopathic Clanic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category