Family care Homoeo clinic

Family care Homoeo clinic Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Family care Homoeo clinic, Medical Center, Gala Abdullah Place Near Race course Road Gujranwala, Gujranwala.

تربوز ایک لذیذ اور غذائیت سے بھرپور پھل ہے، جو گرمیوں میں خاص طور پر پسند کیا جاتا ہے۔ اس کے کئی فوائد ہیں، خاص طور پر م...
15/04/2025

تربوز ایک لذیذ اور غذائیت سے بھرپور پھل ہے، جو گرمیوں میں خاص طور پر پسند کیا جاتا ہے۔ اس کے کئی فوائد ہیں، خاص طور پر مردانہ طاقت کے حوالے سے بھی، جن میں درج ذیل نکات شامل ہیں:
تربوز کے عمومی فوائد:
1. جسم کو پانی فراہم کرتا ہے: تربوز میں تقریباً 92٪ پانی ہوتا ہے، جو جسم میں پانی کی کمی پوری کرتا ہے۔
2. دل کی صحت بہتر کرتا ہے: اس میں موجود لائکوپین (Lycopene) دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
3. بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے: تربوز میں سیٹرولین (Citrulline) نامی امینو ایسڈ پایا جاتا ہے، جو خون کی نالیوں کو کھولنے اور بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
4. وزن کم کرنے میں مددگار: کم کیلوریز والا پھل ہے، اس لیے وزن کم کرنے والوں کے لیے بہترین ہے۔
تربوز اور مردانہ طاقت:
1. قدرتی ویاگرا (Natural Vi**ra):
تربوز میں موجود Citrulline نائٹرک آکسائیڈ کی پیداوار کو بڑھاتا ہے، جو خون کی نالیوں کو ریلیکس کرتا ہے اور دورانِ خون بہتر کرتا ہے۔ یہ عمل عضو تناسل میں خون کی روانی بڑھا کر قوتِ باہ میں بہتری لا سکتا ہے۔
2. جنسی قوت میں اضافہ:
بہتر دورانِ خون مردوں کی جنسی صحت کو تقویت دیتا ہے، اور جنسی کمزوری (erectile dysfunction) میں بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
3. ٹیسٹوسٹیرون ہارمون میں بہتری:
تربوز میں اینٹی آکسیڈنٹس اور وٹامنز موجود ہوتے ہیں جو مردوں کے ہارمونی توازن کو بہتر کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
استعمال کا طریقہ:
روزانہ ایک پیالی یا 1–2 کپ تربوز دن میں کھائیں، خاص طور پر خالی پیٹ یا دوپہر میں۔
تربوز کا جوس بھی فائدہ مند ہے، مگر بغیر چینی کے استعمال کریں۔
تربوز کے بیج بھی زنک اور میگنیشیم سے بھرپور ہوتے ہیں، جو جنسی طاقت کے لیے مفید ہیں۔
مزید معلومات و علاج کے لئے رابطہ کریں
03006425638

*کیا آپ کو سائنوسائٹس ھے۔۔۔؟   بغیر آپریشن علاج کیلئے کیا کریں؟*اگر آپ نے کبھی چہرے میں دباؤ، ناک بند، منہ سے سانس لینے ...
21/01/2025

*کیا آپ کو سائنوسائٹس ھے۔۔۔؟ بغیر آپریشن علاج کیلئے کیا کریں؟*

اگر آپ نے کبھی چہرے میں دباؤ، ناک بند، منہ سے سانس لینے یا مسلسل سر درد جیسی پریشان کن حالت کا سامنا کیا ھے، تو شاید آپ کو سائنوسائٹس ھو چکا ھو۔۔۔
آئیے سمجھتے ھیں:
یہ کیوں ھوتا ھے؟
اس کا علاج کیسے کیا جائے؟
سائنوسائٹس کیا ہے؟
سائنوسائٹس دراصل سائنوسز کی سوزش یا انفیکشن ھے۔۔۔
سائنوسز ھوا سے بھرے ھوئے خالی خانے ھیں جو ماتھے، گالوں اور آنکھوں کے ارد گرد پائے جاتے ھیں، یہ خانے بلغم کو صاف کرنے کیلئے ناک کے ذریعے باھر نکالتے ھیں، جس سے ناک صاف اور صحت مند رھتی ھے۔۔۔
جب یہ خانے بلاک ھو جائیں یا بھر جائیں تو یہ جراثیم کی افزائش کیلئے موزوں ماحول فراھم کرتے ھیں، جس سے سائنوسائٹس ھوتا ھے۔۔۔
سائنوسائٹس کی اقسام
مدت کے لحاظ سے، سائنوسائٹس کو درج ذیل اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ھے:

*ایکیوٹ (Acute):*
چار ھفتوں سے کم وقت تک رھتا ھے۔۔۔
عام طور پر وائرل انفیکشن جیسے نزلہ زکام کی وجہ سے ھوتا ھے۔۔۔
*سب-ایکیوٹ (Sub-Acute):*
چار سے بارہ ھفتوں تک جاری رھتا ھے۔۔۔
عام طور پر حل نہ ھونے والے ایکیوٹ انفیکشن کی وجہ سے ھوتا ھے۔۔۔
*کرونک سائنوسائٹس (Chronic):*
12 ہفتے یا اس سے زیادہ وقت تک رھتا ھے۔۔۔
زیادہ تر بیکٹیریا انفیکشن کی وجہ سے ھوتا ھے۔۔۔
*ریکَرِنٹ سائنوسائٹس (Recurrent):*
سال میں کم از کم چار بار سائنوسائٹس ھونے کی حالت۔۔۔
*سائنوسائٹس کی وجوھات*
سب سے عام وجہ وائرل انفیکشن ھے۔۔۔
دیگر وجوھات میں شامل ھیں:
بیکٹیریا انفیکشن
فنگل انفیکشن
الرجی
ساختی مسائل
دھواں، آلودگی یا کیمیکل جیسے ماحولیاتی عناصر۔۔۔

*علامات۔۔۔*
سائنوسائٹس کی عام علامات درج ذیل ہیں:

آنکھوں، ماتھے یا گالوں کے ارد گرد درد یا دباؤ
ناک سے سانس لینے میں دشواری
موٹی، زرد یا سبز ناک کی رطوبت
شدید سر درد
سونگھنے کی حس کا کم یا ختم ھو جانا
کھانسی
بخار
کمزوری۔۔۔

*کن لوگوں کو زیادہ خطرہ ھے؟*
جنہیں قدرتی طور پر الرجی ھو،
دمہ کے مریض،
جن کی ناک میں پولپس ھوں۔۔۔
جن کا سیپٹم (ناک کا درمیان والا حصہ) ٹیڑھا ھو۔۔۔
کمزور قوت مدافعت والے افراد۔۔۔
سگریٹ نوشی کرنے والے۔۔۔

*علاج کے طریقے*

ھلکے کیسز کیلئے:
بھاپ لیں تاکہ بلغم نرم ھو جائے۔۔۔
سالائن اسپرے (نمکین پانی کا محلول) استعمال کریں۔۔۔
چہرے کے درد کیلئے گرم کمپریس استعمال کریں۔۔۔
پانی زیادہ پئیں تاکہ بلغم پتلا ھو۔۔۔

*ڈاکٹر کو کب دکھائیں؟*
اگر علامات 10 دن سے زیادہ رھیں۔۔۔
بخار کے ساتھ آنکھوں کی سوجن ھو۔۔۔
بار بار انفیکشن کا سامنا ھو۔۔۔
یاد رکھیں، سائنوسائٹس کا بروقت علاج آسان ھے اور اسے اچھی صفائی اور ماحولیاتی عناصر سے بچ کر روکا جا سکتا ھے۔۔۔
پانی زیادہ پئیں
ھوا کو نم رکھیں
صحت مند رھیں۔۔۔ !

*بچاؤ کے طریقے*
پانی کا زیادہ استعمال
ھوا کو نم رکھنے کیلئے ھیمیڈیفائر کا استعمال
دھواں، کیمیکل اور آلودگی سے پرھیز۔۔۔
صابن اور پانی سے ھاتھ دھونا۔۔۔
زیادہ دیر تک ڈی کنجسٹنٹس کے استعمال سے گریز۔۔۔
الرجی کو اینٹی ھسٹامینز کے ذریعے کنٹرول کریں۔۔۔

*بغیر آپریشن ھومیوپیتھک علاج۔۔۔*
سائنوسائٹس (Sinusitis) کا ھومیوپیتھک علاج مریض کی علامات اور حالت کے مطابق مختلف ھو سکتا ھے۔۔۔ ھومیوپیتھی میں علاج انفرادی نوعیت پر مبنی ھوتا ھے، اس لیے کسی بھی دوا کو لینے سے پہلے ماھر ھومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ھے۔۔۔
تاھم درج ذیل ھومیوپیتھک ادویات عام طور پر سائنوسائٹس کے علاج کیلئے علامات کے مطابق استعمال کی جا سکتی ھیں:
1. Kali Bichromicum
2. Pulsatilla
3. Silicea
4. Hepar Sulphur
5. Mercurius Solubilis
6. Belladonna
7. Lemna Minor ETC...

*اگر علامات برقرار رھیں:*
تو ماھر ھومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔۔۔

مردانہ نظام تولید..منی کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟بلوغت کے بعد خصیئوں میں مسلسل بننے والی رطوبت کو منی یا سیمن کہا جاتا ہے۔ یہ پیدا ہو...
27/12/2022

مردانہ نظام تولید..

منی کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟
بلوغت کے بعد خصیئوں میں مسلسل بننے والی رطوبت کو منی یا سیمن کہا جاتا ہے۔ یہ پیدا ہوکر سیمینل ویسلز seminal vessels میں جمع ہوتی رہتی ہے اور بوقت انزال خارج ہوجاتی ہے۔
یہ ایک سفیدی مائل گاڑھی رطوبت ہے اس کی مخصوص بو ہوتی ہے جسے seminal odour کہتے ہیں۔ یہ رطوبت ہلکی الکلائین ہوتی ہے۔ اس رطوبت کے دو حصے ہوتے ہیں۔
اول سیال مواد۔ liqour seminalis یہ انڈے کی سفیدی کی طرح شفاف ہوتی ہے۔
دوئم۔ دانے دار مواد۔ granules seminal یہ چھوٹے چھوٹے دانے نما ذرات ہوتے ہیں۔ ان کے اندر کرم منی پائے جاتے ہیں۔
انزال کے وقت ایک تندرست مرد کی منی دو سے پانچ ملی لیٹر ہوتی ہے۔ مادہ تولید میں۔ درجہ ذیل اجزاء پائے جاتے ہیں۔
1۔ سیرم
2۔ البیومن
3۔ گلیسیتھن
4۔ کولیسٹرین
5۔ البیومی نینیٹ
6۔ روغنی اجزاء۔

مادہ تولید میں سب سے اہم جزو حونیات منی s***ms ہے۔

منی کی اقسام۔۔۔۔۔
مباشرت کے دوران خارج ہونے والی رطوبت کو چار اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔

1۔ ناقص منی۔
اس میں گاڑھا پن اور حونیات منی کم ہوتے ہیں۔ ایسی منی کپڑے پر خشک ہونے کے بعد اکڑاو پیدا نہیں کرتی۔

2۔ خون آمیز منی۔
سرخی پائی جاتی ہے۔ منی میں خون شامل ہونے کی وجہ احتلام۔ جلن۔ اغلام بازی۔ اور کثرت مباشرت کی وجہ سے متعلقہ اعضاء اور نالیوں کی سوزش و ورم ہونا ہے۔ کثرت مباشرت سے منی کی تھیلی منی سے خالی ہوجاتی ہے۔ اور خصیئوں کو منی تیار کرنے کا وقت نہیں ملتا تو منی کے ساتھ خون خارج ہونے لگتا ہے۔
3۔ بیکار منی۔
یہ منی پتلی۔ پانی جیسی اور کپڑے پر فورا خشک ہوجاتی پے۔ اس منی میں پس سیلز بھی پائے جاتے ہیں۔

بہترین منی۔
یہ منی کی وہ قسم ہے جو ایک تندرست انسان کے عضو سے خارج ہوتی ہے۔ ایسی منی کپڑے پر دیر سے خشک ہوتی ہے۔ اور گاڑھی ہوتی ہے۔ یہ کپڑے کو اکڑا دیتی ہے۔

چند غلط فہمیوں کا ازالہ

عموما نوجوان منی سے متعلق کچھ مغالطوں کا شکار رہتے ہیں۔ ذیل میں چند عام غلط فہمیاں اور ان کی حقیقت پیش کی جاتی ہے۔

1۔ ایک صحت مند مرد کا مادہ تولید کپڑے پر گرنے کے بعد دیر سے خشک ہوتا ہے اور کپڑے میں سختی پیدا کرتا ہے۔

2۔ اخراج منی کی مقدار اور گاڑھے پن کا عضو تناسل کی ایستادگی پر قطعا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

3۔ عموما لوگوں کو مغالطہ ہے کہ منی کا ایک قطرہ خون کے ستر یا سو قطروں کے برابر ہوتا ہے۔ یہ قیاس بےبنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ منی کی قدر و قیمت اتنی ہی ہے جتنی کہ لعاب دہن کی۔ دونوں کا بدل فوری طور پر پیدا ہوجاتا ہے۔

4۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ج**ع کے بعد عورت کے اندر منی ٹھہرتی نہیں اور خارج ہوجاتی ہے جبکہ ج**ع کے بعد عضو تناسل کو باہر نکالا جائے تو ف*ج vegina کی اگلی پچھلی دیواریں ملنے سے منی کی کچھ مقدار ف*ج سے باہر نکل آتی ہے لیکن ف*ج کے بالائی حصے میں پہنچی ہوئی منی اندر ہی چپک جاتی ہے۔

5۔ پروسٹیٹ گلینڈ کے آپریشن کے بعد کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ج**ع کے بعد منی مثانے میں چلی جاتی ہے۔ ایسے مریضوں میں یہ کیفیت retrograde ej*******on کہلاتی ہے۔ جو کہ عموما آپریشن کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ دراصل آپریشن کے دوران پیشاب کی نالی کے پچھلے حصے کا اندرونی عضلہ internal sphincter مجروح ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے منی کی تھیلیوں سے آنے والی اخراجی نالیوں کا رخ پیشاب کی نالی کے بیرونی سوراخ کی سمت ہونے کے بجائے مثانے کی طرف ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں جنسی تعلق برقرار رکھنے سے خارج شدہ منی مثانے سے پیشاب کرتے وقت باہر خارج ہوجاتی ہے۔

کرم منی۔۔۔ S***mmatozoa

کرم منی یا سپرم 0.05cm لمبا ہوتا ہے۔ یہ تولیدی خلیات منی کے اندر پائے جاتے ہیں۔ اور منی کا دانے دار حصہ ہوتے ہیں۔ یہ خصیئوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس نطفے یا کرم کی شکل مینڈک کے لاروا سے بہت ملتی ہے۔ یہ نطفے اس قدر چھوٹے ہوتے ہیں کہ اگر 500 ملین سپرمز کو ایک قطار میں سر اور دم ملا کر کھڑا کردیا جائے تو صرف ایک انچ لمبی لکیر بنتی ہے۔ یہ بلوغت کی عمر سے بننا شروع ہوتے ہیں۔ اور مرتے دم تک بنتے رہتے ہیں۔ سپرم فیرس ٹیوبلز میں پیدا ہوتے ہیں ان کے پیدا ہونے کا عمل follicle stimulating harmone اور testosterone کے زیر اثر تکمیل پاتا ہے۔ سپرم جب تیار ہوجاتے ہیں۔ تو انزال کی صورت خارج ہوجاتے ہیں۔ اگر سپرم خارج نہ ہوں تو دوبارہ ری جنریٹ ہوکر جسم میں تونائی کا باعث بنتے ہیں۔ مرد کے مباشرت کرنے سے یہ بڑی تعداد میں خارج ہوجاتے ہیں ایک وقت کے انزال میں ان کی تعداد دو سے پانچ سو ملین ہوتی ہے۔
ہر سپرم کے تین حصے ہوتے ہیں۔
1۔ سر Head اس کی مدد سے سپرم بیضہ میں داخل ہونے کیلیئے راستہ بناتا ہے۔ اس کا سر نیزے کی شکل کا ہوتا ہے
2۔ جسم۔ body
یہ سپرم کا درمیانی حصہ ہے جو جسم کہلاتا ہے۔ اس حصے سے حاصل کردہ توانائی کی وجہ سے سپرم کی دم حرکت کرتی ہے۔ اور سپرم تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔
3۔ دم۔ Tail
دم کی حرکت سے سپرم تیرتا ہے اور بیضہ میں چھید کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

کرم منی s***m کے افعال۔۔۔۔
1۔ یہ اندام نہانی میں خارج ہونے کے ڈیڑھ منٹ بعد رحم تک پہنچ جاتے ہیں۔
2۔ سپرم کی نارمل رفتار دو سے تین ملی میٹر فی منٹ ہوتی ہے۔
3۔ یہ عورت کے بیضہ سے مل کر زائیگوٹ بناتے ہیں۔ اور حمل قرار پاتا ہے۔
4۔ سپرم کو پختہ ہونے میں تقریبا دس ہفتے لگ جاتے ہیں۔
5۔ ہر جرثومہ میں 23 کروموسومز پائے جاتے ہیں مگر صرف ایک جرثومہ بچہ بناتا ہے۔
6۔ ایک خصیئہ 1500 سپرمز فی سیکنڈ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ذہنی پریشانی اور ٹینشن کا شکار شخص میں یہ شرح نہایت کم ہوجاتی ہے۔
7۔ ایک صحت مند بالغ مرد ایک دن میں تقریبا 500 ملین سپرمز پیدا کرتا ہے۔
8۔ سپرمز کی زندگی تقرئبا 72 گھنٹے ہوتی ہے۔ اگر اندام نہانی کا ماحول تیزابی ہوتو اس کی زندگی فقط چھے گھنٹے رہ جاتی ہے۔

مرد کے کرم منی s***ms کا صحت مند ہونا صحت مند اولاد کی بنیادی شرط ہے۔ اگر مرد تمباکو نوشی شراب نوشی۔ تھکن کا شکار۔ وائرسی امراض میں مبتلاء ہوتو سپرمز نہایت کمزور ہوتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ قدرتی اور تازہ غذائیں کھانے والے جوڑوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تندرست اور توانا پائے گئے ہیں۔ بچے کی پلاننگ کیلیئے یہ بھی ضروری ہے کہ والدین کیفین ملے مشروبات اور ایسی چیزیں نہ کھائیں پیئیں جو جسمانی اور ذہنی طور پر ضرر رسان اثرات کی حامل ہوں۔ خیال رہے کہ کرم منی مرد کی صحت کا آئینہ ہوتا ہے۔ صحت اچھی ہوگی تو کرم منی بھی صحت مند و تندرست ہونگے۔ کیفین ملی اشیاء کا استعمال سپرمز کو کمزور کردیتا ہے۔

منی کا لیبارٹری تجزیہ۔۔۔۔
Semen Analysis

سیمن اینالائسز یعنی منی کا لیبارٹری تجزیہ مردانہ بانجھ پن کا پتہ لگانے والا بنیادی ٹیسٹ ہے۔ کسی تشخیص سے پہلے یہ ٹیسٹ کرلینا ضروری ہے۔ اس ٹیسٹ کیلیئے مرد کو ہاتھ کے زریعے اپنا مادہ منویہ نکالنا پڑتا ہے اس مادے کا آدھے گھنٹے کے اندر اندر لیبارٹری ٹیسٹ کرلیا جاتا ہے۔ ایک نوجوان مرد کی منی کے سپرمز کی طبعی مقدار و تعداد ذیل ہوگی۔ ۔۔

منی کی طبعی مقدار Normal values...

1۔ مقدار volume
اس کی نارمل مقدار 1.5 سے 5 ملی لیٹر تک ہوتی ہے۔ نارمل سے زیادہ یا کم مقدار اثرانداز ہوتی ہے۔

2۔ لیس دار viscosity
نارمل منی انڈیلی جائے تو قطرہ قطرہ گرتی ہے۔ زیادہ گاڑھی یا پتلی منی نامل تصور نہیں کی جاتی۔

3۔ مائع حالت۔ liquification
تازہ منی دس سے پندرہ منٹ میں مائع حالت میں تبدیل ہوجاتی ہے یا زیادہ سے زیادہ تیس منٹ تک منی کو مائع میں تبدیل ہوجانا چاہیئے۔

4۔ مائیکروسکوپک معائنہ Microscopic Exam
اس معائنہ میں سپرم کی تعداد اور حرکت نوٹ کی جاتی ہے۔ جو کہ درج زیل ہے۔
تعداد. S***m count
نارمل سپرم کی تعداد 60 تا 120 ملین فی ملی لیٹر ہوتی ہے اس سے کم سپرم کی تعداد ہو تو اولیگو سپرمیا oligos***mia کہتے ہیں جبکہ سپرم کی تعداد سرے سے موجود ہی نہ ہو تو ایزو سپرمیا azoos***mia کہا جاتا ہے

طبعی حرکت.. motality
نارمل حالت میں سپرم کا حرکت کرنا ضروری ہوتا ہے عمومی طور پر 60 تا80 فیصد سپرم حرکت کرنے چاہیے اگر سپرم کی حرکت 60 فیصد سے کم ہو تو یہ صحت مندی کی علامت نہیں ہے

طبعی شکل.. shape
نارمل منی میں 20 تا 30فیصد سے کم سپرم کی شکل نارمل سے مختلف ہوتی ہے اس سے زیادہ مقدار میں نارمل سے مختلف شکلیں بانجھ پن کا باعث ہو سکتی ہیں۔

خون کے سفید و سرخ زرات. WBC & RBC.......
نارمل منی میں خون کے سفید و سرخ زرات موجود نہین ہوتے اگر یہ موجود ہوں تو انفیکشن کی نشانی ہے۔ ایسی صورت میں حسب علامات سوزش و ورم کے لئے ادویہ کا استمعال ضروری ہوتا ہے۔

عموما شادی کے ایک دو سال بعد تک حمل نہ ٹھہرے تو میاں بیوی دونوں کے ٹیسٹ کرا لینے چاہیئے تاکہ کسی کمی کمزوری کے ظاہر ہونے پر فوری علاج کرایا جا سکے اکثر مرد اپنا ٹیسٹ کرانے سے کتراتے ہیں حالانکہ مردانہ ٹیسٹ نہایت آسان ہوتا ہے عمومی طور پر منی کا تجزیہ درج ذیل کفیات مین معاون ثابت ہوتا ہے..

اپنی صحت کے بارے میں معلومات یا مشورے کے لیے رابطہ نمبر03006425638

27/12/2022
02/05/2022

تمام اہل اسلام کو اور تمام ہومیوپیتھس کو عیدالفطر مبارک.

Fruits for diabetic patients.Stay healthy, stay safe.  care Homoeo clinic  #
08/08/2021

Fruits for diabetic patients.
Stay healthy, stay safe.
care Homoeo clinic #

Bandal of thanks Dr Nadeem ullah sh sb &Dr Naeem ullah sh sb Allah shafi Homoeopathic store Grw
05/07/2021

Bandal of thanks Dr Nadeem ullah sh sb &Dr Naeem ullah sh sb Allah shafi Homoeopathic store Grw

Thanks Paul Brooks Homoeo Labs Karachi
18/06/2021

Thanks Paul Brooks Homoeo Labs Karachi

25/02/2021

میڈیکل ٹپ . . . . . . . . . . . . .
Homeopath Dr M Razzaq

آج کل میڈیا کا دور ہے ۔ ہر کوئی انٹرنیٹ سے لنک ہے ۔ ہر بچہ جوان اور بوڑھے موبائل استعمال کرتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے روز بروز دیگر مسائل کی طرح آنکھوں کے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ مسلسل موبائل استعمال کرنے کی وجہ سے دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ نظر تیزی سے کمزور ہوتی جا رہی ہے بالخصوص بچوں کے اندر یہ مرض تیزی سے سے بڑھ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے بچے اکثر سر درد کی شکایت کرتے ہیں ۔ بالخصوص پڑھتے ہوئے بچے سر درد کی شکایت کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے پڑھائی میں کمزور بھی ہو رہے ہیں اور والدین دڑادڑ بچوں کو سر درد کی دوائیں کھلا رہے ہیں جس کا مسلسل استعمال چھوٹی عمر میں بچوں کو معدے کا مریض بنا رہا ہے۔ وقتی افاقہ کے بعد جب بچے دوبارہ سر درد کی شکایت کرتے ہیں تو والدین پریشان ہو کر ڈاکٹروں کے پاس دوڑتے ہیں اور ڈاکٹر چیک اپ کے بعد عینک لگانے کا مشورہ دیتے ہیں اور پھر ساری عمر مختلف نمبر کی عینک لگانی پڑتی ہے جو ایک علیحدہ عذاب بن جاتی ہے ۔ اس مرض کی مختلف وجوہات اور بھی ہیں: مثلا ۔۔۔ ١ ۔خون کی کمی
٢ ۔ بیکری کی اشیاء ۳۔ ناقص غذا کا استعمال وغیرہ وغیرہ۔
اگر ہم تھوڑی سی کوشش کریں تو اس مرض سے جان چھڑا سکتے ہیں ۔
حل: موبائل کا مسلسل استعمال بالخصوص اندھیرے میں کبھی بھی نہ کریں۔ اگر کرنا بھی ہو تو روشنی میں کیوں اندھیرے میں جب اچانک آنکھوں پر روشنی پڑتی ہے تو قدرت کی لگائی گئی آنکھ میں بیٹریوں کو کافی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس کا اندازہ ہر ایک کو بہتر پتا ہے کہ جب ہم اچانک دھوپ سے اٹھ کر اندھیرے کمرے میں جاتے ہیں یا اکثر رات کو جاگ کر ٹائم دیکھتے ہیں تو کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔؟؟
دس سیکنڈ تک کچھ نظر نہیں آتا کیوں کہ آنکھ اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے میں وہ وقت لیتی ہے جو اسے قدرت نے دیا ہوتا ہے۔ اگر ہم ایسا کرتے رہے تو یہ تحفہ عمر کے کسی بھی حصے میں ہم سے چھن سکتا ہے ۔ اس کا حل یہ ہے کہ دس سیکنڈ تک ہم آنکھ کو نارمل روشنی یا اندھیرے میں آدھی یا آہستہ آہستہ کھولیں۔اس طرح آنکھ خود قدرتی طور پر اپنے آپ کو ایڈجسٹ کر لے گی اور نقصان بھی نہیں ہوگا نظر بھی تندرست رہے گی ۔
حل نمبر دو
۱۔روزانہ صرف دو کھجور لے
۲۔ تین بادام رات کو پانی میں ڈال کر صبح چھلکا اتار کر کھا لیں ۔
۳۔ عرق گلاب آنکھ میں ڈال لیں۔ ۴۔ ایک کپ دودھ روزانہ
۵۔ بچوں کی جنک فوڈ بند کر دیں۔
۶۔ روز رات کو آنکھ میں سرما لگا لے ویسے بھی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔
۷۔ ہر فرض نماز کے بعد سات دفعہ آنکھ پر ہاتھ رکھ کر" یا نور" پڑھ لیں ۔
انشاء اللہ اگر ہم یہ احتیاط کریں تو بھی ہم نظر کی کمزوری سے بچ سکتے ہیں ۔
اس کے علاوہ اگر کسی کو کوئی بھی زیادہ مسئلہ ہو تو اپنے کسی قریبی اچھے ڈاکٹر کو ضرور چیک کروائیں تاکہ آپ کا مرض شروع ہی سے پکڑا جا سکے اور زیادہ نہ بڑھے ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ علاج ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔
علامات کے مطابق روٹا, جیلسیمیم ،کو نیم کا استعمال اور آنکھوں میں ڈالنے کے لیے سنریر یا مدرٹنکچر کا ڈسٹلڈ واٹر کا محلول بنا کر دن میں تین دفعہ آنکھوں میں ڈال لیں۔۔۔۔۔

قبض۔ کی تعریف۔1-یہ مرض عام ہے اس مرض سے ہر ایک باخوبی واقف ہے۔اس مرض میں پاخانہ خشک سیاہی مائل، متعفن مقدار میں تھوڑا او...
14/12/2020

قبض۔ کی تعریف۔
1-
یہ مرض عام ہے اس مرض سے ہر ایک باخوبی واقف ہے۔اس مرض میں پاخانہ خشک سیاہی مائل، متعفن مقدار میں تھوڑا اور بڑی مشکل سے خارج ہوتا ہے اور بہت دیر لگتی ہے۔ بعض اوقات رفع حاجت کے وقت زیادہ زور لگانے اور سخت براز کی وجہ سے خون یا آ نوں بھی آ جاتی ہے۔شکم میں کم و بیش نفع ہو جاتا ہے۔کیونکہ پاخانے کا زیادہ عرصہ تک انتڑیوں میں رکے رہنے کی وجہ سے شکم میں متعفن ریح پیدا ہو جاتی ہے۔مریض سست رہتا ہے ۔اکثر سر درد کی شکایت رہتی ہے ، مزاج چڑچڑا ہو جاتا ہے اور دل زیادہ ڈھڑکتا ہے۔قبض کو طب میں آ م الامراض بھی کہا جاتا ہے۔

قبض کی وجوہات۔
ثقیل اغذیہ کا کھانا، میدہ والی چیزیں یا زیادہ خشک غذا کا کھانا اور سبزیاں نہ کھانا،تازہ ہوا میں ہوا خوری نہ کرنا،چائے زیادہ پینااور کثرت حقہ نوشی کرنا،بئیر یا شراب کا بکثرت استعمال،تر اشیاء کا زیادہ استعمال، بعض اوقات اپنے معمول پر پاخانہ نہ پھرنا،کمر میں پیٹی یا کمر بند کو کس کر باندھنا،نیز بعض امراض مثلاً بواسیر،موٹاپا،بعض عصبی امراض نیز بعض امراض رحم یہ سب اس کے اسباب ہیں۔ اکثر بار بار جلاب لینے سے بھی آ نتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔اور وہ اپنا فعل بخوبی سر انجام نہی دے سکتیں۔

جو اشخاص دماغی محنت بہت کرتے ہیں اور ورزش یا سیر کم کرتے ہیں۔ان کی انتڑیوں کے پٹھے کمزور پڑ کر دائمی قبض کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔
مستورات بہ نسبت مردوں کے اس مرض کی زیادہ شکار ہوتیں ہیں۔ خصوصاً حاملہ مستورات کو قبض زیادہ ہوا کرتی ہے۔اور اکثر یہ بھی دیکھنے میں آ یا ہے کہ دائمی قبض کی وجہ سے مستورات کے رحم اپنی جگہ سے ٹل جاتے ہیں۔

قبض اور اس کا ہومیوپیتھک علاج۔
قبض کے لئیے ہومیوپیتھک میں بہت اچھی اچھی ادویات موجود

NUX VOM, BRYONIA, HYDRASTIS, ANAC, O***M, SULPH, LYCOPODIUM, PLUMBUM MET, PHOS, ALUMINA, COLLINOSONIA,

DR.M Razzaq Grw

05/11/2020

Poly Cystic Overy Syndrome (PCOS)
پولی سسٹک اووری سینڈروم

تعریف۔۔۔۔۔۔۔۔۔PCOS وہ مرض ہے جس میں عورتوں کا ایسٹروجن اور پروجیسٹرون ہارمون کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ اور خواتین کی بیضہ دانیوں میں سسٹ بننے لگتے ہیں۔ PCOS کی وجہ سے خواتین کے ماہانہ نظام۔ حمل کی صلاحیت۔ دل کے فعل اور ظاہری حسن و جمال پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اور علاج نہ ہونے کی صورت ذیابیطس۔ امراض قلب اور بے اولادی جیسے گھمبیر مسائل جنم لیتے ہیں۔

ہارمون کیا ہیں۔ اور PCOS میں کیا واقع ہوتاہے۔؟؟؟
ہارمون ہمارے اینڈوکرائین سسٹم سے اخراج پانے والی کیمیائی رطوبات ہیں جو بشمول جسمانی گروتھ اور توانائی پیدا کرنے کے دیگر بہت سے جسمانی عوامل کو چلانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض ہارمون دیگر ہارمونز کے اجراء کا باعث بھی ہوتے ہیں۔ سائنسدان ابھی تک ہارمونز کے غیر متوازن ہونے کے اسباب سے کلی آگاھی حاصل نہیں کر پائے۔ ایک ہارمون کی کمی بیشی دوسرے ہارمون کی پیدائش پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اور دوسرا ہارمون کسی تیسرے ہارمون کی پیدائش پر اثرانداز ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جنسی ہارمون کا غیر متوازن ہونا اس میں زنانہ بیضہ دانی عموما معمولی مقدار میں مردانہ ہارمون اینڈروجن پیدا کرتی ہے۔ لیکن PCOS میں رفتہ رفتہ اووری سے مردانہ ہارمون کی پیدائش بڑھ جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ہر ماہ بیضوں کا اخراج متاثر ہوتا ہے۔ چہرے پر ایکنی اور جسم پر بالوں کی پیدائش غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔
جسم میں انسولین کے انجذاب کا مسلہ پیدا ہوسکتا ہے اسے انسولین کی مزاحمت کہا جاتا ہے۔ جب انسولین خلیات میں نہ جذب ہوسکے تو خون میں گلوکوز کی مقدار جمع ہوکر بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح ذیابیطس پیدا ہونے کا خطرہ درپیش ہوتا ہے۔

پی سی او ایس کے اسباب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہرین ابھی تک PCOS کے اسباب مکمل طور پر نہیں جان پائے مگر اس مرض میں وراثتی خلل Genetic disorder کے شواہد ملے ہیں۔ PCOS کا مرض خاندان میں وراثتا منتقل ہوسکتا ہے اگر کسی خاندان کی دیگر خواتین میں PCOS ۔ ماہانہ نظام کی خرابی۔ یا شوگر پائی جاتی ہے تو اس خاندان کی باقی خواتین کو بھی اس مرض میں مبتلاء ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ PCOS ماں یا باپ دونوں اطراف سے اولاد میں منتقل ہوسکتا ہے۔

علامات۔۔۔۔۔
اس مرض کی علامات شروع میں کافی ہلکی اور غیر واضح ہوتی ہیں۔ لیکن کچھ خاص علامات سے اس مرض کی پہچان کی جاسکتی ہے۔

1۔ ایکنی۔ چہرے کے سرخ دانے جن میں بعد ازاں پیپ پڑجاتی ہے اور گاہے پیپ خشک ہوکر کیل بن جاتے ہیں۔ ان کو دبانے سے کیلوں کی جگہہ پر سیاہ داغ بھی بن جاتے ہیں۔

2۔ لیکیوریا۔۔۔۔ شروع میں پانی جیسی رطوبت خارج ہوتی ہے لیکن بعد میں یہ رطوبت گاڑھی ہوکر سفید یا زرد رنگ کا جما ہوا بدبودار مواد تھکوں کی صورت بھی اختیار کرلیتا ہے۔

3۔ مینسز کا بگاڑ۔۔۔۔۔۔۔
شروع میں مینسز درد کے ساتھ اور کم آتے ہیں۔ عموما خون سیاھی مائل لوتھڑوں کی صورت آتا ہے۔ رفتہ رفتہ مینسز کم ہوتے جاتے ہیں۔ ان کا درمیانی وقفہ بڑھتا جاتا ہے۔ یعنی سال کے بارہ ماہ میں صرف 9 بار مینسز ہونا۔ پھر یہ وقفہ بڑھتا جاتا ہے اور بالآخر مینسز بند ہوجاتے ہیں۔

4۔ وزن بڑھنا۔۔۔
مینسز کم ہونے کے ساتھ ساتھ عورت کا وزن بڑھنے لگتا ہے۔ جسم میں چربی پیٹ۔ کولہے وغیرہ پر جمنے لگتی ہے۔

5۔ جسم اور چہرے پر غیر ضروری بال آنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ خواتین کے چہرے پر موٹے گھنے اور سیاہ بال نکل آتے ہیں۔ جو بڑھتے بڑھتے پیٹ اور پشت پر بھی نمودار ہوجاتے ہیں۔ جبکہ سر کے بال کمزور ہوکر گرنے لگتے ہیں۔

6۔ بےاولادی۔۔۔۔۔۔
مینسز میں بےقائدگی اور اوورین سسٹ کی وجہ سے بیضوں کا اخراج متاثر ہوکر حاملہ ہونے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔ لیکن سسٹ کی موجودگی میں بھی پچاس فیصد حمل کے چانس ہوتے ہیں۔

اناٹومی و فزیالوجی
بیضہ دانی Overy۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کی تعداد دو ہوتی ہے۔ اور شکل میں بیضوی بادام جیسی ہوتی ہیں۔ لمبائی ڈیڑھ انچ۔ چوڑائی پونا انچ۔ موٹائی آدھا انچ اور وزن دو سے تین گرام ہے جو سن یاس میں ایک سے ڈیڑھ گرام رہ جاتا ہے۔
یہ گلٹیاں مردوں کے خصیوں سے مشابہہ ہوتی ہیں۔ ان میں ریت کے دانوں کی طرح آپس میں ملے ہوئے بیشمار بلبلے سے پائے جاتے ہیں۔ انہی بلبلوں کے اندر ovam یعنی بیضہ پائے جاتے ہیں۔
جب حیض آنے لگتا ہے تو یہ بلبلے پک کر پھٹتے ہیں اور ان سے بیضہ نکل کر قاذف نالی میں آجاتا ہے۔ اگر وہاں مرد کا سپرم اس بیضہ کو چھید کر اس میں داخل ہوجائے تو حمل قرار پاتا ہے۔ پھر یہی باردار بیضہ رحم میں جاکر اس کی دیواروں کے ساتھ چپک جاتا ہے۔

قاذفین نالیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دو عدد باریک نالیاں ہوتی ہیں۔ جو بیضہ کو اووری سے رحم تک پہچنے کا راستہ فراہم کرتی ہیں۔ انہیں نل یا نلے بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی کمبائی 4-6 انچ تک ہوتی ہے۔ قاذف نالی کا اندرونی حصہ بہت تنگ ہوتا ہے۔ گویا بال بھی نہیں گزر سکتا۔ اس کا ایک سرا رحم کی بالائی طرف اور دوسرا صفاق کے جوف پہ کھلتا ہے۔ بالائی حصہ شہنائی کی مانند پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ جس کے سرے پر جھالر کی طرح بہت سے زوائد ہوتے ہیں۔ ان کو فیمبریا کہتے ہیں۔ ان زوائد میں سے ایک خصیتہ الرحم سے متصل رہتا ہے۔ یہ اس وقت مبیض کا خاص کر احاطہ کرتا ہے جب بیضہ خصیتہ الرحم سے گر کر اس میں آتا ہے۔

اوورین سسٹ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
سسٹ بیضہ دانی میں پائی جانے والی پانی کی تھیلیوں کو کہتے ہیں۔ یہ مرض پندرہ سے چالیس سال کی خواتین میں پایا جاتا ہے۔ اووری میں قشری سوزش کی وجہ سے جو اووم انمیچور رہ جاتا ہے۔ وہ وہیں رک جاتا ہے۔ حالانکہ اسے حیض کے ساتھ خارج ہونا چاہیئے تھا۔ یہی فولیکلز سوج ہوکر سسٹ کی صورت اختیار کرجاتے ہیں۔

تشخیص۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔۔ سب سے پہلے ماہانہ ایام کی حالت و کیفیت پوچھی جاتی ہے۔ نیز دیگر امراض کی ہسٹری معلوم کی جاتی ہے۔
2۔ جسمانی معائنہ سے بلڈپریشر معلوم کیا جاتا ہے۔ کیونکہ PCOS کی مریضائیں شروع میں قشری عضلاتی سوزش کی وجہ سے فشار الدم قوی والی ہوتی ہیں۔ انہیں غصہ کافی آتا ہے۔ بلڈ پریشر کی وجہ کولیسٹرول ہوتا ہے۔ لیکن بعد میں ضعف سے ان کی تحریک قشری اعصابی میں بدل جاتی ہے اور غصہ مسلسل نہیں رہتا۔ اس وقت قلب و عضلات میں تحلیل شروع ہوچکی ہوتی ہے۔ کچھ مریضاوں میں PCOS کے باوجود غصہ نہیں ہوتا کیونکہ ان کا بلڈ پریشر کم رہنے لگتا ہے۔
3۔ مریضہ کا قد اور وزن چیک کیا جائے۔ کیوں کہ موٹاپے کا آج کل سب سے بڑا سبب PCOS ہے۔ زیادہ وزن والی مریضہ قشری اعصابی میں چل رہی ہوتی ہے۔ چونکہ قشری اعصابی مریضہ کے عضلات میں ضعف ہوتا ہے۔ اس لیئے انہیں جسمانی دردیں اور پٹھوں میں کھچاو بھی رہتا ہے۔

4۔ مزید علامات جاننے کیلیئے درج زیل ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں۔

اول۔۔۔۔ لپڈز پروفائل
اس ٹیسٹ میں کولیسٹرول۔ ٹرائی گلیسرائیڈ۔ HDL. LDL اور VLDL شامل ہیں۔
دوم۔۔۔۔۔LFT
اس میں ALT ALP AST اور سیرم بلیروبن سے جگر کی کیفیت و سوزش اور اینزائمز کی مقدار معلوم ہوتی ہے
سوئم۔۔۔۔۔۔۔RFT
اس ٹیسٹ میں بلڈ یوریا۔ سیرم کریٹینائین۔ اور سیرم یورک ایسڈ کی صورت حال معلوم ہوتی ہے۔
چہارم۔۔۔۔۔ CBC
اگر اندرونی انفیکشنز بن چکے ہوں تو اس ٹیسٹ سے بلڈ سیلز کی مقدار و تعداد معلوم ہوتی ہے۔

5۔ ایبڈومینل الٹراساونڈ۔۔۔۔۔۔۔
اس ٹسٹ میں اندرونی اعضاء گردے کی پتھری کا سائز ۔ گردے کا سائز۔ پتے کی پتھریوں کا پتہ چلتا ہے۔ نیز بیضہ دانی کی سسٹ کی اقسام اور سائز کا علم ہوتا ہے۔ جگر اور طحال کا سائز معلوم ہوتا ہے۔ الغرض یہ ٹیسٹ بہت ضروری اور تشخیص میں معاون ہے۔

6۔ ہارمونل ٹیسٹ۔۔۔
ان ٹیسٹس کے زریعے ہارمونز کے ان بیلینس ہونے کا تخمینہ حاصل ہوتا ہے۔ ان کے مطالعے سے تھائی رائیڈ کے مسائل معلوم ہوتے ہیں۔

7۔ بلڈ شوگر اور انسولین ٹیسٹ۔

علاج بالنظریہ مفرد اعضاء اربعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پی سی او ایس کے علاج میں دوائی اور جراحت کے علاوہ تین بنیادی امور کی پابندی بہت ضروری ہے۔
1۔ باقائدہ ورزش۔۔۔۔۔۔۔
صحت مندانہ سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے۔ سحر خیزی۔ پیدل چلنا بہترین عادات ہیں۔

2۔ باپرہیز کھانا۔۔۔۔۔۔۔۔
گوشت ہر قسم۔ چکنائیاں۔ انڈے۔ بیکری آئیٹمز۔ کیفین والی اغذیہ۔ پیزے۔ برگر۔ شوارمے۔ پیپسی۔ کولے۔ چاہے۔ فاسٹ فوڈ۔ مرغن اغذیہ۔ مرچ مصالحے وغیرہ سے پرہیز ضروری ہے۔ ریض کو اغذیہ معالج کی ہدایت کے مطابق لینی چاہیئیں۔

3۔ وزن پہ قابو رکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چکنائیوں پہ کنٹرول۔ مناسب ورزش وغیرہ سے خود کو سمارٹ رکھنا بہت ضروری ہے۔
4۔ حقہ۔ سگریٹ وغیرہ خواتین میں اینڈروجن ہارمون کا لیول بڑھادیتے ہیں جس کی وجہ سے PCOS تیزی سے بڑھتا ہے۔۔۔

Address

Gala Abdullah Place Near Race Course Road Gujranwala
Gujranwala
03006425638

Telephone

03006425638

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Family care Homoeo clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category