HomeoPathic Dr Mohammad Amjad Malik

Call Directions

HomeoPathic Dr Mohammad Amjad Malik Welcome to the official Page of Dr Mohammad Amjad Malik,Dr Mohammad Amjad Malik is One of Gujranwala Premier Specialist harble& Homeopathy Consultant .

Thanks for messaging NOT TREATMENT PAGE ONLY Medical INFORMATION PAGE ﺻﺮﻑ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺗﯽ ﭘﯿﺞ ﮬﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻋﻼﺝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺳﮯ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮﯾﮟ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﯽ ﻭ ﻧﺎﺻﺮ ﮨﻮ

05/10/2026
اسٹوما بیگ کیا ہے اسٹوما بیگ (Stoma Bag / Ostomy Bag) ایک طبی تھیلی (pouch) ہوتی ہے جو جسم کے فضلات (پاخانہ یا پیشاب) کو...
03/10/2026

اسٹوما بیگ کیا ہے
اسٹوما بیگ (Stoma Bag / Ostomy Bag) ایک طبی تھیلی (pouch) ہوتی ہے جو جسم کے فضلات (پاخانہ یا پیشاب) کو جمع کرنے کے لیے پیٹ کے باہر لگائی جاتی ہے۔
​جب کسی بیماری یا سرجری کی وجہ سے معدے، آنتوں یا مثانے کا قدرتی راستہ کام نہیں کر پاتا، تو سرجن آپریشن کے ذریعے پیٹ کی دیوار پر ایک چھوٹا سا سوراخ بناتے ہیں جسے اسٹوما (Stoma) کہا جاتا ہے۔ اس سوراخ کے ذریعے جسم کا فضلا باہر نکلتا ہے اور اسٹوما بیگ میں جمع ہوتا ہے۔
یہ کب استعمال ہوتا ہے؟
​اسٹوما بیگ عارضی یا مستقل بنیادوں پر ان حالات میں استعمال ہوتا ہے:
​آنتوں کا کینسر (Colon / Re**al Cancer)
​آنتوں کی سوزش یا بیماریاں (جیسے Crohn's disease یا Ulcerative colitis)
​مثانے کی بیماریاں یا کینسر
​پیٹ کی شدید چوٹ یا آنتوں کا بلاک ہونا
​اس کی بنیادی اقسام:
​کولوسٹومی بیگ (Colostomy): بڑی آنت کے حصے سے فضلہ جمع کرنے کے لیے۔
​الیوسٹومی بیگ (Ileostomy): چھوٹی آنت کے حصے سے فضلہ جمع کرنے کے لیے۔
​یوروسٹومی بیگ (Urostomy): پیشاب کو جمع کرنے کے لیے۔
​یہ بیگ واٹر پروف اور بدبو سے محفوظ (odor-proof) ہوتے ہیں اور کپڑوں کے اندر آسانی سے چھپ جاتے ہیں تاکہ مریض عام زندگی گزار سکے۔

01/10/2026

1. لیکوئیڈ میں صرف پانی پئیں۔ سوڈا، جوس اور چینی والی کافی سے جان چھڑائیں۔
2. ناشتے میں 40 گرام پروٹین لیں ورنہ دوپہر کے بعد بھوک دماغ پر سوار ہو جائے گی اور جو سامنے آیا کھا جاؤ گے۔

3. روزانہ کم از کم 6,000 قدم چلیں۔
اس سے زیادہ چلنا اور اچھا ہے مگر 6,000 قدم کم از کم ٹارگٹ رکھیں۔
4. ہر کھانے کے بعد 10 منٹ چہل قدمی کریں۔
5. ہر کھانے کے ساتھ پروٹین ضرور لیں۔
6. صبح کی دھوپ میں 10 منٹ باہر گزاریں۔
یہ جسم کی اندرونی گھڑی کو ترتیب دینے میں مدد دیتی ہے اور رات کو نیند آسان ہو سکتی ہے۔

7. صبح اور شام کا ایک معمول بنائیں۔ یہ آپ کے پورے دن کو پٹڑی پر رکھنے میں مدد دے گا۔
8. بار بار کی چٹخارے دار سنیکنگ ختم کریں۔
کھانا اتنا مناسب رکھیں کہ اگلے کھانے تک پیٹ ساتھ دے سارا دن کچھ نہ کچھ چبانے کی ضرورت نہ پڑے۔
9. رات کے کھانے کے بعد کچن بند۔ لائٹ آف، دروازہ بند۔
10. ٹھنڈے اور اندھیرے کمرے میں 7 سے 9 گھنٹے کی نیند لیں۔
11. موبائل کو بیڈ روم سے باہر رکھیں۔
12. ہفتے میں تین دن اسٹرینتھ ٹریننگ کریں۔
13. کیلنڈر میں ضروری ٹائم فکس کریں جیسے کوئی ضروری میٹنگ ہو۔
14. ایک ہی اسٹرینتھ ٹریننگ پلان کو کافی عرصہ جاری رکھیں تاکہ اس میں بہتری لا سکیں۔ ہر ہفتے ایکسرسائز بدلنے کا شوق چھوڑ دیں۔
15. اپنا کم از کم ٹارگٹ ضرور رکھیں
کم از کم وہ ہے جو حالات جیسے بھی ہوں، آپ نے ضرور کرنا ہے۔ مکمل وہ ہے جو آپ تب کریں گے جب زندگی پلان کے مطابق چل رہی ہو۔ یوں ایک مشکل ہفتہ پورا پلان چھوڑنے کا بہانہ نہیں بنے گا۔
16. سیڑھیاں استعمال کریں۔ ہر منزل مفت کی ورزش ہے۔
17. گاڑی دروازے سے ذرا دور پارک کریں۔
18. بات کرو تو چلتے پھرتے کرو۔ فون کالز بیٹھ کر کرنے کے بجائے چلتے یا کھڑے ہو کر کریں۔
19. ایک بار کھانا پکائیں اور اسے دو یا تین بار کھائیں۔
20. ویک اینڈ شروع ہونے سے پہلے اس کا پلان بنا لیں۔
ہفتہ اور اتوار کو بھی آپ کی عادتیں گنی جاتی ہیں۔
21. ہر جمعہ اور پیر کو اپنا وزن چیک کریں۔ دیکھیں لائف سٹائل نے کیا اثر ڈالا۔
22. ڈائٹ بہتر کرنے کے لیے سوموار کا انتظار مت کریں۔ اپنا اگلا کھانا آج ہی درست کریں۔
Ali Qaisrani

ڈیلیوری کی تاریخ کیسے معلوم کرتے ہیں؟ | LMP فارمولا اور حمل کا حساب سمجھیں 👶📅کیا آپ کو معلوم ہے کہ ڈاکٹرز متوقع تاریخِ پ...
30/09/2026

ڈیلیوری کی تاریخ کیسے معلوم کرتے ہیں؟ | LMP فارمولا اور حمل کا حساب سمجھیں 👶📅
کیا آپ کو معلوم ہے کہ ڈاکٹرز متوقع تاریخِ پیدائش (EDD) کیسے طے کرتے ہیں؟
نیگلز رول (Naegle's Rule) کے ذریعے صرف اپنی آخری ماہواری (LMP) کی تاریخ سے ڈیلیوری کا وقت معلوم کرنا بے حد آسان ہے۔ مکمل طریقہ اور آسان مثال اس پوسٹ میں دیکھیں!
#حمل #صحت

پاکستان میں عموما لوگ بہت زیادہ سہل ہیں۔ سوائے ان مزدوروں کے جو مزدوری کر رہے ہیں اور سخت جان ہیں۔ لیکن جسے موقع ملتا ہے...
30/09/2026

پاکستان میں عموما لوگ بہت زیادہ سہل ہیں۔
سوائے ان مزدوروں کے جو مزدوری کر رہے ہیں اور سخت جان ہیں۔ لیکن جسے موقع ملتا ہے وہ آرام پرستی کو ترجیح دیتا ہے۔ نتیجہ بیماریوں کی صورت میں نکلتا ہے۔
اگر تو آپ کے جینٹکس اچھے ہیں باڈی ٹائپ بہتر ہے تو آپ شاید پچاس سال نکال لیں۔ اس کے بعد اگر ایکٹو لائف سٹائل نہیں ہو گا تو بیماریاں آپ کی راہ دیکھیں گی
حل دو ہیں
پہلا بہت آسان۔ اور سب لوگ وہی کرتے ہیں۔
گولیاں کھائیں اور مست زندگی گزاریں۔ آخری وقت اگر عمر زیادہ ہو جائے تو ہسپتالوں کے بل بھرتے قبر میں اتر جائیں
حل نمبر دو
اچھا کھائیں
اور اسے ورزش کے زریعے جلائیں۔
ایسے میں 90% بیماریاں آپ سے دور بھاگیں گی
جسم کے جوڑ ایکٹو ہوں گے
پٹھے حرکت کی وجہ سے جان میں ہوں گے۔
لیکن سوال اٹھتا ہے کہ زندگی تو گزر گئی آرام و سکون کے ساتھ
پیٹ کے گرد ٹائر بن چکا ہے۔
ٹھوڑی ڈبل ہو گئی ہے۔
کھڑے ہو کے جھکنے کی کوشش کرتے موت نظر آتی ہے۔
زندگی گزر گئی اکڑوں بیٹھے۔
کھڑے ہو کے اعضائے زیریں نظر نہیں آتے۔
تو شروع کہاں سے کریں۔
ایسے شخص کا پہلا ہدف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ پہلے ہی دن ایک گھنٹہ ورزش کرے۔
پہلا ہدف صرف یہ ہونا چاہیے کہ جسم کو دوبارہ حرکت کا عادی بنایا جائے۔

کیونکہ ہمارا جسم بھی ایک مشین کی طرح ہے۔ اگر اسے کئی سال استعمال نہ کیا جائے تو پہلے دن پوری رفتار سے چلانے کے بجائے آہستہ آہستہ دوبارہ چلانا پڑتا ہے۔
پہلا مرحلہ موبلٹی اور مومنٹ۔
پہلے ایک ہفتے کو ہم حمومنٹ ویک سمجھ سکتے ہیں۔
اس دوران کوئی بھاری ورزش، دوڑ، سخت کارڈیو یا ہیوی ویٹ ٹریننگ ضروری نہیں۔
دن میں چند مرتبہ تھوڑی دیر کے لیے اٹھیں۔
مثلاً صبح پانچ سے دس منٹ ہلکی واک، دوپہر کو پانچ سے دس منٹ دوبارہ واک اور شام کو پانچ سے دس منٹ واک۔
اگر باہر چلنا مشکل ہو تو گھر کے اندر ہی آہستہ آہستہ چلنا شروع کریں۔
اس کے ساتھ روزانہ پانچ سے دس منٹ کی بہت ہلکی موومنٹ کریں۔
کندھے گھمائیں، بازو ہلائیں، ٹخنوں کو حرکت دیں، گھٹنوں کو آہستہ موڑیں، کرسی سے اٹھیں اور بیٹھیں اور ہلکی اسٹریچنگ کریں۔
اس مرحلے میں مقصد کیلوریز جلانا یا پسینہ نکالنا نہیں بلکہ جوڑوں، پٹھوں، توازن اور جسم کو دوبارہ حرکت کا عادی بنانا ہے۔
اور ایک بہت اہم بات۔

ایک گھنٹہ مسلسل بیٹھنے کے بجائے بار بار اٹھ کر تھوڑی دیر چلنا زیادہ فائدہ مند ہے۔
دوسرا مرحلہ: واک کریں اور پراپر کریں۔
جب ایک دو ہفتے ہلکی واک آسان محسوس ہونے لگے اور اگلے دن غیر معمولی درد یا شدید تھکن نہ ہو تو واک کو آہستہ آہستہ بڑھائیں۔

مثلاً پہلے ہفتے دس منٹ، پھر پندرہ منٹ، پھر بیس منٹ اور آہستہ آہستہ تیس منٹ تک لے جائیں۔
یہ کوئی لازمی شیڈول نہیں ہے۔ ہر انسان کی عمر، بیماری، جسمانی حالت اور برداشت مختلف ہوتی ہے۔

یہاں ایک اصول یاد رکھیں
پہلے دورانیہ بڑھائیں، پھر رفتار۔
یعنی پہلے دس سے بیس منٹ تک آرام سے چلنے کے قابل بنیں، اس کے بعد رفتار تیز کرنے کا سوچیں۔
شروع میں ایسی رفتار مناسب ہے جس میں آپ آرام سے بات کر سکیں۔

تیسری سٹیج : جسم کو طاقت دینا
صرف واک کافی نہیں۔
لمبے عرصے تک غیر فعال رہنے والے شخص کےسکز بھی کمزور ہوتے ہیں، اس لیے انہیں دوبارہ مضبوط کرنا ضروری ہے۔

لیکن یہاں بھی جلد بازی نہیں کرنی۔

شروع میں جم کی مشینیں یا بھاری ڈمبلز ضروری نہیں۔

گھر میں ہی چند آسان ورزشیں شروع کی جا سکتی ہیں۔

کرسی سے اٹھنا بیٹھنا

کرسی کے سامنے یا اوپر کھڑے ہو کر آہستہ سے بیٹھیں اور دوبارہ کھڑے ہو جائیں۔
شروع میں پانچ مرتبہ بھی کافی ہے۔
دیوار کے سہارے پش اپ یا گٹھنوں کے بل لیٹ کے پش اپ
دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر ہاتھ دیوار پر رکھیں، جسم کو آہستہ آگے لے جائیں اور پھر واپس دھکیلیں۔
شروع میں پانچ سے دس مرتبہ کافی ہے۔
پنجوں کے بل اٹھنا
کرسی یا کسی مضبوط چیز کا سہارا لے کر پنجوں کے بل اوپر جائیں اور آہستہ واپس نیچے آئیں۔ تاکہ پنڈلی مضبوط ہو۔

بیٹھ کر ٹانگ سیدھی کرنا

کرسی پر بیٹھ کر ایک ٹانگ سیدھی کریں، چند لمحے روکیں اور پھر واپس نیچے لائیں۔

ہر ٹانگ سے پانچ سے دس مرتبہ۔ یعنی گٹھوں کی حرکت بڑھانا
شروع میں ہفتے میں دو دن ایسی ہلکی طاقت والی ورزش کافی ہے۔
اصل چیز ورزش نہیں، آہستہ آہستہ بہتری ہے
موبلٹی ورک اور ریکوری ساتھ ساتھ۔
سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ آدمی پہلے دن جوش میں آ کر بہت زیادہ ورزش کر لیتا ہے۔
اگلے دن پورا جسم درد کرتا ہے۔ پھر تین چار دن آرام کا پروگرام بنتا ہے اورپھر دوبارہ ورزش شروع نہیں ہوتی
پھر درد۔ پھر وقفہ۔ پھر تاحیات وقفہ
یہ طریقہ زیادہ دیر نہیں چلتا۔

اس کے بجائے اصول یہ ہونا چاہیے:

چھوٹے سے سٹارٹ
جسم کو عادت لگے گی
ایکٹوٹی میں تھوڑا اضافہ
دوبارہ عادت اور تھوڑا اضافہ

اگر آج آپ دس منٹ آرام سے چل سکتے ہیں تو ضروری نہیں کہ کل بیس منٹ چلیں۔

کچھ دن وہی دس منٹ کریں۔

جب دس منٹ آسان محسوس ہونے لگیں تو بارہ یا پندرہ منٹ کریں۔

پھر آہستہ آہستہ بیس منٹ تک جائیں۔

رزسٹنس ٹریننگ کی پہلے ریپس بڑھائیں، پھر وزن بڑھائیں۔
ایک آسان اصول یاد رکھیں:
پہلے باقاعدگی، پھر دورانیہ، پھر شدت۔
یعنی پہلے جسم کو باقاعدگی سے حرکت دینے کا عادی بنائیں۔

پھر ورزش کی ڈیوریشن بڑھائیں۔
اور آخر میں رفتار یا وزن بڑھائیں۔
جو شخص آج بالکل ورزش نہیں کرتا، اسے پہلے دن ایک گھنٹہ ورزش کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس کے لیے پانچ دس منٹ کی واک بھی ایک کامیابی ہے۔

کیونکہ مقصد یہ نہیں کہ آپ ایک دن بہت زیادہ ورزش کر لیں۔

مقصد یہ ہے کہ آپ سالوں تک باقاعدگی سے حرکت کرتے رہیں۔

اور اگر کوئی شکل سیریس بیمار ہو تو ایسے شخص کو باقاعدہ ورزش شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا فزیوتھراپسٹ سے اپنا جائزہ ضرور کروانا چاہیے، خاص طور پر اگر دل، پھیپھڑوں، بلڈ پریشر، شوگر، جوڑوں یا کسی دوسری دائمی بیماری کا مسئلہ ہو۔
کیونکہ ایسے جسم کو توڑنے کی نہیں، دوبارہ تربیت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

جسم مضبوط کرنے کے لئے سالہا سال درکار ہوتے ہیں۔
تحریر انعام رحمن صاحب

مہذب مغرب اور ’’تشریف‘‘ کے عجیب قصے!(پوسٹ صرف بالغ افراد کے لیے)دنیا کو تہذیب، ترقی، آزادی اور جدیدیت کے لیکچر دینے والے...
29/09/2026

مہذب مغرب اور ’’تشریف‘‘ کے عجیب قصے!
(پوسٹ صرف بالغ افراد کے لیے)
دنیا کو تہذیب، ترقی، آزادی اور جدیدیت کے لیکچر دینے والے ’’مہذب مغرب‘‘ سے متعلق ایک ایسی طبی تحقیق سامنے آئی ہے کہ پڑھ کر آدمی سوچنے لگے: ترقی واقعی کہاں تک پہنچ گئی ہے؟ یعنی ’’وہاں‘‘ تک۔ جی ہاں! ’’وہاں‘‘ تک۔
امریکی جرنل آف ایمرجنسی میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق امریکا میں ہر سال تقریباً 4 ہزار افراد ایسی اشیا کے باعث اسپتال کے ہنگامی شعبوں تک پہنچتے ہیں جو ان کی تشریف میں پھنس جاتی ہیں۔
جی ہاں، تشریف میں!
جسم کا وہی حصہ، جسے عام طور پر بیٹھنے کے لیے استعمال فرمایا جاتا ہے۔ سمجھ گئے ناں! 😐
تحقیق میں ایسے واقعات بھی ریکارڈ ہوئے جن میں بعض مردوں کی تشریف میں گاڑیوں کی چابیاں اور یو ایس بی کیبلیں پھنس گئیں، جبکہ بعض خواتین کو صابن کی ٹکیاں اور چمچ وغیرہ نکلوانے کے لیے طبی امداد لینا پڑی۔
اور معاملہ صرف اتنا ہی نہیں۔ ڈاکٹروں نے شیشے کی گیندیں، بوتلیں اور دوسری عجیب و غریب اشیا بھی ’’تشریف‘‘ سے برآمد کیں۔ تحقیق کے مطابق ملنے والی اشیا میں نصف سے زیادہ جنسی نوعیت کی تھیں۔ یعنی جس حصے کو قدرت نے بیٹھنے کے لیے بنایا، جدید تہذیب نے وہاں بھی ’’تجربات‘‘ شروع کر دیئے! 🤦‍♂‍
تحقیق میں امریکا کے 15 سال سے زائد عمر کے افراد کے 885 نوعیت کے کیسز کا جائزہ لیا گیا، جن کی بنیاد پر 2012ء سے 2021ء کے دوران پورے ملک میں ایسے تقریباً 38,948 ہنگامی طبی دوروں کا تخمینہ لگایا گیا۔ یعنی اوسطاً تقریباً 4 ہزار کیسز سالانہ۔
ایک دوسرے طبی جریدے نے ایک ایسے شخص کا واقعہ بھی رپورٹ کیا جس کی تشریف میں ڈی اوڈورنٹ کا ڈبہ پھنس گیا اور اسے نکالنے کے لیے ہنگامی آپریشن کرنا پڑا۔
لیکن شاید سب سے حیران کن واقعہ 2022ء میں فرانس میں پیش آیا، جہاں ایک عمر رسیدہ شخص اسپتال پہنچا تو ڈاکٹروں نے دیکھا کہ اس کی تشریف میں پہلی جنگ عظیم کا توپ کا گولہ پھنسا ہوا ہے!
صورتحال ایسی بنی کہ اسپتال کے ایک حصے کو احتیاطاً خالی کرانا پڑا، کیونکہ خدشہ تھا کہ کہیں دوران آپریشن گولہ پھٹ نہ جاوے۔
سوچیے! جس چیز کو انسان اپنی پوری زندگی شرم، حیا اور پردے کے دائرے میں رکھتا ہے، جدید آزادی نے اسے بھی تجربہ گاہ بنا دیا۔
یہاں مسئلہ کسی ایک فرد کا نہیں، بلکہ اس سوچ کا ہے جو آزادی کو حدود سے بے نیاز اور خواہش نفس کو اخلاق سے بالاتر سمجھ کر فرد کو جو چاہے کرنے کی مکمل آزادی دیتی ہے۔ جب حیا، فطرت اور اخلاقی حدود کمزور پڑ جائیں اور انسان وحی کی تعلیم سے دور، نبوی تعلیمات سے بے بہرہ ہوجائے تو وہ تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود بھی ایسی ایسی حرکتیں کرسکتا ہے جن پر خود طب کی دنیا کو ہنگامی شعبے قائم کرنا پڑیں۔
اور پھر خود سولائزڈ ہونے کا دعویٰ کرکے دنیا کو تہذیب کا سبق بھی دیا جاتا ہے!
مغرب کی ترقی کا ایک عجیب باب یہ بھی ہے، جہاں سائنس مریخ تک پہنچ گئی، مگر جنسی بے راہ روی کی تمام حدود پامال ہونے کے باعث بعض لوگوں کی ’’تشریف‘‘ اب بھی ڈاکٹروں کے لیے تحقیق کا موضوع بنی ہوئی ہے! 😐
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
منقول

انسانی جسم کے مختلف اعضاء کی کارکردگی اور ان کی صفائی کا براہِ راست تعلق ہماری روزمرہ کی خوراک سے ہے۔ قدرتی اینٹی آکسیڈن...
28/09/2026

انسانی جسم کے مختلف اعضاء کی کارکردگی اور ان کی صفائی کا براہِ راست تعلق ہماری روزمرہ کی خوراک سے ہے۔ قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامنز اور فائبر سے بھرپور غذائیں اندرونی اعضاء کو زہریلے مادوں (Toxins) سے پاک رکھنے، خون کی گردش کو رواں بنانے اور جسمانی قوت کو اندر سے مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں (جسمانی اعضاء کو اندر سے صاف اور مضبوط بنانے والی غذائیں)لہسن (Lahsun): شریانوں کو صاف کرتا ہے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھتا ہے۔ پالک (Palak): خون کو صاف کرتی ہے اور آئرن کی مقدار بڑھاتی ہے۔ سیب (Saib): کولون (بڑی آنت) کو صاف کرتا ہے اور فائبر فراہم کرتا ہے۔ انگور (Angoor): ہارٹ (دل) کو صاف اور مضبوط کرتا ہے۔ بیریز (Berries): برین (دماغ) کو صاف رکھتی ہیں اور اعصابی صحت بہتر بناتی ہیں۔ گاجر (Gajar): آنتوں کو صاف کرتی ہے اور وٹامن A فراہم کرتی ہے۔ پپیتا (Papita): نظامِ ہاضمہ کو صاف کرتا ہے اور انزائمز کے ذریعے ہضم کو آسان بناتا ہے۔

لاپرواہی سے زیادہ ریپس لگانے کے مقابلے میں، دھیان اور بہترین طریقے سے کی گئی ورزش ہمیشہ زیادہ فائدہ دیتی ہے۔ جب آپ کا مق...
26/09/2026

لاپرواہی سے زیادہ ریپس لگانے کے مقابلے میں، دھیان اور بہترین طریقے سے کی گئی ورزش ہمیشہ زیادہ فائدہ دیتی ہے۔ جب آپ کا مقصد صرف گنتی پوری کرنا نہیں بلکہ پٹھوں (muscles) پر دباؤ ڈالنا ہوتا ہے، تو آپ کی ٹریننگ کا رزلٹ بدل جاتا ہے۔ورزش کو آرام سے اور درست طریقے سے کرنے کے چند بڑے فائدے یہ ہیں:پٹھوں پر زیادہ دیر دباؤ (Time Under Tension): پٹھے گنتی سے نہیں بلکہ دباؤ سے بنتے ہیں۔ جب آپ وزن کو آہستہ اور کنٹرول کے ساتھ نیچے لاتے ہیں، تو پٹھوں کو زیادہ دیر کام کرنا پڑتا ہے جس سے وہ مضبوط اور بڑے ہوتے ہیں۔جھٹکے (Momentum) کا خاتمہ: جب آپ جلد بازی کرتے ہیں، تو آپ پٹھوں کے بجائے جھٹکے اور جسم کی حرکت کا استعمال کر کے وزن اٹھاتے ہیں۔ آرام سے کرنے سے سارا کام صرف آپ کے پٹھے کرتے ہیں۔دماغ اور پٹھوں کا تعلق (Mind-Muscle Connection): آہستہ ورزش کرنے سے آپ کا دماغ اس پٹھے کو بہتر طور پر محسوس کر پاتا ہے جس کی آپ ٹریننگ کر رہے ہوتے ہیں۔ اس سے پٹھے زیادہ ایکٹو ہوتے ہیں۔چوٹ سے بچاؤ: جلد بازی میں فارم خراب ہوتی ہے جس سے جوڑوں پر برا اثر پڑتا ہے اور چوٹ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بہترین پوسچر آپ کو محفوظ رکھتا ہے۔اگلی بار ورک آؤٹ میں اسے کیسے اپنائیں؟اپنی ورزش میں ٹیمپو (Tempo) کا اصول اپنائیں: وزن کو 2 سے 3 سیکنڈ لگا کر آرام سے نیچے لائیں، نیچے ایک سیکنڈ کا وقفہ لیں تاکہ جھٹکا ختم ہو، اور پھر کنٹرول کے ساتھ وزن اوپر اٹھائیں۔

کبھی آپ نے غوروفکر کی ہے ۔؟کہ انسانی جسم کے یہ پارٹس جسم سے باہر کیوں لٹکے رہتے ہیں۔جی ہاں کیونکہ قدرت نے انہی خصیتین کو...
26/09/2026

کبھی آپ نے غوروفکر کی ہے ۔؟
کہ انسانی جسم کے یہ پارٹس جسم سے باہر کیوں لٹکے رہتے ہیں۔
جی ہاں کیونکہ قدرت نے انہی خصیتین کو افزائش نسل کا اہم حصہ بنایا ہے۔ خصیتین مرد کے جسم کا وہ حصہ جہاں جراثیم (اسپرم جنم لیتے ہیں) یہی پر ٹیسٹوسٹیرون ہارمونز بھی پائے جاتے ہیں جو مرد کے وقار کو بُلند کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مرد کی آواز میں بھاری پن
مرد کے جسم میں فاضل بال
سیکس کرنے کی خواہش
افزائش نسل کیلئے اسپرم
یہ سب مرد کے اسی حصے سے تعلق رکھتے ہیں۔

انسانی جسم سے انکے باہر ہونے کی سب سے خاص وجہ... انسانی جسم کا درجہ حرارت 37/38 c گریڈ تک ہوتا ہے۔
جب کہ کروڑوں جراثیم کو زندہ رہنے کیلئے اس سے کم درجہ حرارت درکار ہوتا ہے۔
جبھی قدرت نے اسے باقاعدہ طور پر ایسی جگہ بنایا ہے ۔ جہاں انسان اسے ہوا دار اور ٹھنڈ فراہم کرسکے...

سردیوں میں جب موسم کا درجہ حرارت کم ہوجاتا ہے تو یہ سکڑ کر جسم کی حرارت کے قریب چلے جاتے ہیں۔
اور گرمی کے موسم میں جس انہیں نارمل ٹمپریچر درکار ہوتا ہے تو یہ جسم سے دور ہوکر لٹک جاتے ہیں۔

بہت سے مرد انہیں پروٹیکٹ کرنے کیلئے انڈر گارمینٹس یوز کرتے ہیں۔
شاید یہ طریقہ کار انکی حفاظت کا نہیں بلکہ انہیں نقصان پہنچاتا ہے۔
میری حالیہ ایک پوسٹ سے ایک دوست نے رابطہ کیا یہ میرے پاس ایک ہے۔
کیا واقعی مجھے اس ہی کیوجہ سے اولاد نہیں ہورہی...؟
بعد میں پتہ چلا کہ بچپن میں ایک ایکسیڈنٹ میں ایک ضائع ہوگیا تھا۔

جی ٹیسٹیز میں اسپرم نشو نما پاتے ہیں اگر ٹیسٹیز میں پرابلم ہو تو آپ بے اولاد ہوسکتے ہیں۔

کوشش کیجئے کہ کفرٹ زون فراہم کیا جائے ۔ انہیں آزاد رکھا جائے ۔
ایک صحت مند مرد کی زندگی میں نفس (آلہ تناسل) سے کئی زیادہ اہمیت انکی ہے۔

خاص موقعوں پر دوران ورزش، رننگ آپ انڈر وئیر کا استعمال کیجئے ۔لیکن خاص طور پر نیند کرتے وقت انہیں آزاد رکھا جائے...

Address

G. T. Road. Gujranwala
Gujranwala

Opening Hours

09:00 - 17:00

Telephone

+923006437077

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when HomeoPathic Dr Mohammad Amjad Malik posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category