HomeoPathic Dr Mohammad Amjad Malik

HomeoPathic Dr Mohammad Amjad Malik Welcome to the official Page of Dr Mohammad Amjad Malik,Dr Mohammad Amjad Malik is One of Gujranwala Premier Specialist harble& Homeopathy Consultant .

Thanks for messaging NOT TREATMENT PAGE ONLY Medical INFORMATION PAGE ﺻﺮﻑ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺗﯽ ﭘﯿﺞ ﮬﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻋﻼﺝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺳﮯ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮﯾﮟ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﯽ ﻭ ﻧﺎﺻﺮ ﮨﻮ

سی سیکشن سے جڑے مراحل کو آپ اس تصویر میں بخوبی دیکھ سکتے ہیں ڈاکٹر بچے کو ماں کے پیٹ سے باہر لانے کے لیے ان ۔ 6 ۔ تہوں ک...
02/08/2026

سی سیکشن سے جڑے مراحل کو آپ اس تصویر میں بخوبی دیکھ سکتے ہیں ڈاکٹر بچے کو ماں کے پیٹ سے باہر لانے کے لیے ان ۔ 6 ۔ تہوں کو ترتیب سے کھولتے ہیں مگر یاد رکھیں کہ اس آپریشن میں پیٹ کے سیدھے مسلز کو کاٹا نہیں جاتا بیچ سے الگ کیا جاتا ھے۔،۔ سی سیکشن میں ڈاکٹروں کی اعلی ترین مہارت باریک بینی اور تجرںہ ساتھ متاثرہ خواتین کا صبر اور جذبہ اس عمل کو بخوبی خیر کامیاب کرتا ھے۔

ایک سوال اور اس کا جواب محترم، ٹانگوں میں خون جمنا (جسے طبی زبان میں DVT - Deep Vein Thrombosis کہا جا سکتا ہے) ایک انتہ...
30/07/2026

ایک سوال اور اس کا جواب
محترم، ٹانگوں میں خون جمنا (جسے طبی زبان میں DVT - Deep Vein Thrombosis کہا جا سکتا ہے) ایک انتہائی حساس اور سنگین معاملہ ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں ہومیوپیتھی یا کسی بھی طریقہ علاج میں خود سے (Self-medication) دوا دینا شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

​اگر یہ خون کا لوتھڑا (Clot) اپنی جگہ سے ہل کر پھیپھڑوں یا دل کی طرف چلا جائے تو یہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس حالت کو معمولی مت سمجھیں۔

​فوری اور سب سے اہم مشورہ:

​آپ بغیر کسی تاخیر کے ابو کو اپنے قریبی کسی اچھے کارڈیالوجسٹ (ماہرِ امراضِ قلب) یا ویسکولر سرجن (Vascular Surgeon) کے پاس لے کر جائیں۔

​ڈاکٹر سب سے پہلے ان کی ٹانگ کا ڈوپلر الٹراساؤنڈ (Doppler Ultrasound) کروائیں گے تاکہ خون جمنے کی اصل جگہ اور شدت کا پتہ لگایا جا سکے، اور فوری طور پر خون پتلا کرنے والے انجکشن یا ادویات (Blood Thinners) شروع کی جا سکیں جو اس وقت ان کی زندگی بچانے کے لیے سب سے ضروری ہیں۔

​ہومیوپیتھک نقطہ نظر:

​ہومیوپیتھی میں خون کے لوتھڑوں کو گھلانے اور دورانِ خون کو بہتر کرنے کے لیے Lachesis، Hamamelis، اور Crotalus Horridus جیسی گہری ادویات موجود ہیں، لیکن یہ صرف اور صرف اس وقت معاون (Supportive) علاج کے طور پر دی جا سکتی ہیں جب مریض ہسپتال میں ماہر ڈاکٹر کی زیرِ نگرانی ہو اور اس کی ایمرجنسی صورتحال قابو میں ہو۔

​فی الحال ان باتوں کا خیال رکھیں:

​ٹانگ کی مالش بالکل نہ کریں: اکثر لوگ درد سمجھ کر ٹانگ دبانا یا مالش کرنا شروع کر دیتے ہیں، اس حالت میں مالش کرنے سے وہ لوتھڑا اپنی جگہ سے ہل کر جسم کے دوسرے حصوں میں جا سکتا ہے، جو کہ خطرناک ہے۔

​حرکت میں احتیاط: جب تک ڈاکٹر معائنہ نہ کر لے، ابو کو زیادہ چلنے پھرنے یا ٹانگ پر وزن ڈالنے سے روکیں۔

​آپ فوری طور پر انہیں کسی بڑے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ یا کسی مستند کارڈیالوجسٹ کے پاس لے جائیں۔ اللہ پاک ابو کو کامل شفائے عاجلہ عطا فرمائے۔ آمین۔

سونگھنے یا اگر ہم درست اصطلاح کا استعمال کریں تو حس شامہ بہت ہی راست احساس ہے جس میں ہم اصل میں سونگھنے والی چیز کے بہت ...
27/07/2026

سونگھنے یا اگر ہم درست اصطلاح کا استعمال کریں تو حس شامہ بہت ہی راست احساس ہے جس میں ہم اصل میں سونگھنے والی چیز کے بہت ہی خرد بینی ٹکڑے سانس کے ساتھ اندر لیتے ہیں۔ یہ ٹکڑے ہمارے حس شامہ سرحلمہ، ناک کے سوراخ میں موجود ایک لیس دار جھلی، سے ٹکراتے ہیں، جو دسیوں لاکھوں حس شامہ کے وصول کردہ عصبانی خلیات پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان میں سے ہر حساسیہ خلیہ چھوٹے بال کی طرح کی ساخت سے گھیرا ہوا ہوتا ہے، جس کو ابداب کہتے ہیں یہ بو سے تعامل کرتا ہے اور حس شامہ کے اعصاب کو اشارے بھیجتا ہے جو اس سے حاصل کردہ اطلاعات کو دماغ میں بھیجتے ہیں تاکہ وہاں اسے بطور بو شناخت کیا جا سکے۔ انسان لگ بھگ 10,000 سے زیادہ بو کی شناخت کر سکتا ہے اور کوئی بھی دو فرد کسی بھی چیز کو سونگھ کر ایک جیسا احساس محسوس نہیں کر سکتے۔
سونگھنے کے بارے میں پانچ اہم حقائق

1۔ خواتین بہتر سونگھتی ہیں
تواتر کے ساتھ تجربوں میں ثابت ہوا ہے کہ خواتین کے سونگھنے کی صلاحیت مردوں سے کہیں زیادہ بہتر ہے، اور تحقیق بتاتی ہے کہ خواتین اپنے بچے کی بو کو اس کے پیدا ہونے کے بعد چند دنوں میں پہچاننے لگتی ہیں۔

2 ۔بو ذائقے کو متاثر کرتی ہے
انسانی ناک اصل میں ذائقے کو محسوس کرنے کا اصل عضو ہے۔ ذوقی کلیاں صرف میٹھے ، کھٹے ، کڑوے اور نمکین کی شناخت کر سکتی ہیں، اس کے لئے باقی ہر چیز بو سے سمجھی جاتی ہے!

3 ۔اندھے لوگ بہتر سونگھ نہیں سکتے
یہ تصور عام ہے کہ اندھے لوگ بینا لوگوں سے زیادہ بہتر طور پر سونگھ سکتے ہیں۔ تاہم یہ کبھی بھی ثابت نہیں ہوا اور اکثر کی جانے والی تحقیقات اس حقیقت کی تردید کرتی ہیں۔

4۔ سونگھنے کی صلاحیت بچپن کے بعد بہتر نہیں ہوتی
تقریباً آٹھ برس کی عمر تک سونگھنے کی صلاحیت اپنے پورے جوبن پر آ جاتی ہے۔ سونگھنے کی صلاحیت بڑھتی عمر کے ساتھ کم ہوتی ہے۔

5۔ سونگھنے کا احساس پورے دن بہتر ہوتا رہتا ہے
جب آپ صبح اٹھتے ہیں تو آپ کے سونگھنے کی حس شام کے مقابلے میں کہیں کم ہوتی ہے۔
غلام محمد غلام

26/07/2026
22/07/2026

*Today's talk*
Dear Homoeopaths,
ہم ساری زندگی،سرکس کے ہاتھی کی طرح،ایک باریک سی رسی کے ساتھ،ذہنی طور پر بندھے رہتے ہیں۔ہم غور نہیں کرتے،ابزرو نہیں کرتے،تحقیق نہیں کرتے،تجربہ نہیں کرتے۔بس،جو کسی نے لکھ دیا،بیان کر دیا۔اس پر من وعن عمل شروع۔ہم میں سے اکثر بربیرس ولگیرس،چیلیڈونیم کے سلسلے میں،مدرٹنکچر سے اوپر نہیں جاتے،لیکن میں نے پتہ اور گردے کی پتھری کے درد میں،بربیرس 30،200،1m اور اسی طرح چیلیڈونیم 200،1m اور cm سے شاندار اور فوری رزلٹس لیے ہیں(الحمداللہ).اسی طرح اسکروفولیریا نوڈوسا کو آپ بریسٹ ٹیومر میں،مدرٹنکچر میں استعمال کرواتے ہونگے،لیکن کل ہی میرے ایک دوست ڈاکٹر فون پر 200 پوٹینسی میں اس کے بہترین رزلٹ بتا رہے تھے۔میرے جیسا نالاٸق ہومیوپیتھ،ہینیمن اعظم کو سیلیوٹ پیش کرتا ہے کہ انھوں نے بیمار انسانیت کے لیے،ہومیوپیتھی جیسا فطری طریقہ علاج دریافت کیا۔لیکن،کیا 250 سال پہلے عظیم ہینیمن آپ کو مزید تحقیق یا تجربات سے روک گٸے تھے،کہ آپ نے لکیر کا فقیر بنے رہنا ہے،مزید غور وفکر،تحقیق یا تجربات نہیں کرنے،لکیر سے آگے نہیں جانا،وقت کے ساتھ نہیں چلنا؟مجھے افسوس ہوتا ہے،جب میں بہ ظاہر بہت پڑھے لکھے اور اعلی ڈگریوں والے ہومیوپیتھس کو بند ذہنی سے کام لیتے دیکھتا ہوں،جنھوں نے سوچ کے دروازے اپنے اوپر بند کیے ہوۓ ہیں۔
مطالعہ کریں،ابزرو کریں،تحقیق یعنی غور وفکر کریں اور پھر تجربہ کریں،یہی کامیابی کا راستہ ہے.
(Saeed Sahu)

01/07/2026

پچھلی عمرے درد نکلی تے لوکی آکھن چُک
اصل گل محمد بخشا وچوں گئی اے مُک
😳😳😳😳😳😳

28/06/2026

میں بھی پچاس سال کی عمر عبور کر چکا ہوں...
(اگر آپ 45/50 سال کے ہوچکے ہیں تو ڈاکٹر فواد فاروق صاحب کی یہ تحریر آپ کے لیے اہم ہے)
ایک زمانہ تھا جب پچاس سال کی عمر کا تصور ہی بڑھاپے کا احساس دلاتا تھا۔ لیکن آج جب خود اس مرحلے پر کھڑا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ بڑھاپا عمر کا نہیں، سوچ کا نام ہے۔ اگر جسم متحرک ہو، ذہن مصروف ہو اور زندگی کا کوئی مقصد باقی ہو تو عمر صرف کیلنڈر کے صفحات پر بڑھتی ہے، انسان کے اندر نہیں۔

بطور معالج روزانہ درجنوں مریضوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ بیماریوں کا علاج کرتے کرتے ایک بات بہت شدت سے محسوس کی ہے کہ انسان کو صرف دل، گردے یا پھیپھڑوں کی بیماری نہیں توڑتی، بعض اوقات بےمقصدی، تنہائی اور دوسروں پر مکمل انحصار بھی انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

ہماری پوری زندگی تعلیم، ملازمت، بچوں کی پرورش، گھر بنانے اور ذمہ داریاں نبھانے میں گزر جاتی ہے، مگر افسوس کہ ہم اس دور کی تیاری نہیں کرتے جو ریٹائرمنٹ کے بعد شروع ہوتا ہے۔ حالانکہ ریٹائرمنٹ ملازمت سے ہوتی ہے، زندگی سے نہیں۔

اگر آپ پچاس سال کی عمر عبور کر چکے ہیں تو آج ہی اپنے آنے والے برسوں کی منصوبہ بندی شروع کر دیں۔ ورزش کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں، پیدل چلیں، جسم کو متحرک رکھیں، کوئی مشغلہ اپنائیں، کتابوں سے دوستی کریں، سفر کریں، سماجی خدمت کریں یا کوئی ایسا ہنر سیکھیں جو آپ کو ہر صبح بستر سے اٹھنے کی ایک نئی وجہ دے۔

اسی طرح اپنی مالی خودمختاری کو بھی محفوظ رکھیے۔ جہاں تک ممکن ہو، اپنے فیصلے خود کیجیے، اپنے معاملات خود سنبھالیے اور اپنی زندگی کا اختیار اپنے ہاتھ میں رکھیے۔ خودمختاری صرف معاشی نہیں ہوتی، ذہنی اور جذباتی خودمختاری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

اگر شریکِ حیات ساتھ ہیں تو یہ زندگی کی سب سے قیمتی نعمت ہے۔ برسوں کی مصروفیات کے بعد شاید اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ وہ لمحے گزاریں جنہیں زندگی کی دوڑ میں پیچھے چھوڑ آئے تھے۔

اور اگر قسمت نے آپ سے آپ کا شریکِ حیات چھین لیا ہے تو صرف اس لیے کہ معاشرہ کیا کہے گا، باقی زندگی تنہائی میں گزار دینا ضروری نہیں۔ انسان کو صرف روٹی اور دوا نہیں چاہیے، اسے ایک ہمراز، ایک ہم سفر، ایک ایسا شخص بھی چاہیے جس سے وہ دن بھر کی باتیں کر سکے، جس کے ساتھ چائے کا ایک کپ بانٹ سکے، جو خاموشیوں کی زبان بھی سمجھتا ہو۔

اگر والد یا والدہ اپنی مرضی سے دوبارہ شادی کرنا چاہیں تو میرے نزدیک اولاد کا فرض یہ نہیں کہ وہ سماج کے خوف سے اس راستے میں رکاوٹ بنے، بلکہ ان کے وقار، سکون اور خوشی کا خیال رکھے۔ زندگی کے آخری برس تنہائی کی سزا نہیں ہونے چاہیے۔ ایک باوقار رفاقت کسی بھی عمر میں زندگی کو نئی روشنی دے سکتی ہے۔

اور میری نوجوان نسل سے بھی ایک درخواست ہے۔

والدین کی خدمت صرف یہ نہیں کہ بیماری میں انہیں اسپتال لے جائیں یا دوائیں خرید دیں۔ اصل خدمت تو یہ ہے کہ انہیں اس مقام تک پہنچنے ہی نہ دیں جہاں وہ ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے آپ کے محتاج ہو جائیں۔ انہیں ورزش کی ترغیب دیں، صحت مند طرزِ زندگی اپنانے میں ان کا ساتھ دیں، ان کی مالی منصوبہ بندی میں مدد کریں، ان کے فیصلوں کا احترام کریں، انہیں سماجی طور پر متحرک رکھیں اور سب سے بڑھ کر ان کی خودمختاری کو محفوظ رکھیں۔

میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بے شمار ایسے بزرگ دیکھے ہیں جنہیں بیماری سے زیادہ اپنی بےاختیاری نے توڑا۔ جب انسان چل سکتا ہو مگر اجازت مانگے، خرچ کر سکتا ہو مگر جیب خالی ہو، فیصلہ کر سکتا ہو مگر اختیار کسی اور کے ہاتھ میں ہو، تو اصل تکلیف بیماری نہیں، بےبسی ہوتی ہے۔

ہمیں اپنے والدین کے لیے صرف لمبی عمر کی دعا نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ایسی عمر کی دعا کرنی چاہیے جو صحت مند ہو، باوقار ہو، خودمختار ہو اور خوشیوں سے بھرپور ہو۔ اور یہی تیاری ہمیں اپنی زندگی کے لیے بھی آج سے کرنی چاہیے۔

آخر میں صرف اتنا کہوں گا...

بڑھاپا عمر کا نام نہیں، بےاختیاری کا نام ہے۔ اور جوانی صرف چہرے کی تازگی نہیں، بلکہ مقصد، حرکت، خودمختاری اور امید کا نام ہے۔ اگر ہم نے آج سے اس کی تیاری کر لی، تو ریٹائرمنٹ ہماری زندگی کا اختتام نہیں بلکہ شاید اس کا سب سے خوبصورت باب ثابت ہو۔

ڈاکٹر فواد فاروق

Address

G. T. Road. Gujranwala
Gujranwala

Opening Hours

09:00 - 17:00

Telephone

+923006437077

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when HomeoPathic Dr Mohammad Amjad Malik posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category