Sabri Quintessence Wellness HUB

Sabri Quintessence Wellness HUB SABRI QUINTESSENCE WELLNESS HUB
(Homeopathic, Natural Nutrition, Dietary Prevention & Spiritual Healing)
03494143244
Dr.Allamah Majid Hussain Sabri

04/06/2026

Case Taking in Chronic Disease ( Part 3 ) by Majid Hussain Sabri Homoeopath

04/06/2026

کامیاب کیس(طبی روداد): جلدی مرض (سورائسز) کے ایک دیرینہ مریض کی کاسٹیکم کے ذریعے نمایاں اور معجزاتی بحالی
ادارہِ تحقیق و علاج: صابری کوئنٹسینس ویلنس ہب
معالجِ ذمہ دار: ڈاکٹر ماجد حسین صابری
۱. مریض کا پس منظر اور ابتدائی احوال
یہ طبی و مشاہداتی روداد کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے سن رسیدہ مریض کی ہے جن کی عمر تقریباً ۷۴ سے ۷۵ برس ہے۔ رازداری کے پختہ اور اخلاقی اصولوں کے تحت مریض کا نام مخفی رکھا گیا ہے۔ جب یہ محترم ہمارے پاس تشریف لائے تو چھلکے دار جلدی مرض (سورائسز) ان کے لیے ایک پرانا، تھکا دینے والا اور مستقل اذیت ناک مسئلہ بن چکا تھا۔ برسوں سے اس موذی مرض نے ان کے جسم اور روزمرہ کی زندگی پر اپنی گرفت مضبوط کر رکھی تھی۔
انہوں نے اس مصیبت سے نجات پانے کے لیے ملک کے متعدد نامور معالجین، مختلف طریقہ ہائے علاج اور کئی تدابیر کا سہارا لیا، مگر ہر بار وقتی سکون کے بعد مرض پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ دوبارہ سر اٹھا لیتا تھا۔ یہ وہ مایوس کن کیفیت ہوتی ہے جہاں مریض صرف ایک ظاہری جسمانی بیماری سے نہیں لڑ رہا ہوتا، بلکہ وہ اندرونی طور پر مایوسی، شدید ذہنی تھکن، بے اعتمادی اور ٹوٹے ہوئے حوصلے سے بھی نبردآزما ہوتا ہے۔
۲. سماجی رابطہ گاہ اور علامات کا تفصیلی جائزہ
ان کا ہم سے رابطہ ایک غیر رسمی مگر نہایت مؤثر ذریعے یعنی سماجی رابطہ گاہ کے مرہونِ منت ہوا۔ چونکہ ہمارا یہ پختہ طبی نظریہ ہے کہ مریض محض کسی ایک جلدی یا ظاہری خرابی کا حامل فرد نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے مزاج، نفسیات، عادات، طرزِ گفتگو، اندازِ فکر اور مجموعی جسمانی کیفیت کے ساتھ ایک مکمل حیاتیاتی وحدت ہے، اس لیے ہم نے کسی سرسری اندازے یا سطحی علامات پر اکتفا نہیں کیا۔
مریض کا تقریباً ایک گھنٹے پر محیط تفصیلی معائنہ اور "اخذِ علامات" کا عمل مکمل کیا گیا۔ اس طویل نشست کے دوران نہ صرف ان کی ظاہری جسمانی علامات کو غور سے سنا گیا، بلکہ مریض کے لہجے، جواب دینے کے اچھوتے طریقے، پرانی بیماریوں کے مابعد اثرات، نفسیاتی رجحانات، اندرونی بے چینی، قوتِ برداشت، غصہ، صبر، روزمرہ کی عادات اور مجموعی کردار کو بھی گہری بصیرت کے ساتھ پرکھا گیا۔
۳. کاسٹیکم (Causticum) کا انتخابی فلسفہ اور مزاجی مماثلت
اسی گہرے مشاہدے کے دوران ایک نہایت لطیف اور اہم علمی نکتہ سامنے آیا۔ اس سے پہلے ہمارے ہاں اس جلدی مرض کے جتنے بھی مریض شفایاب ہوئے تھے، ان میں ایک نمایاں قدرِ مشترک موجود تھی؛ ان سب کا مزاج، ان کی علامتی ساخت، ان کا طرزِ اظہار اور ان کا اندرونی و بیرونی ردِ عمل ہومیوپیتھی کی عظیم اور گہرے اثرات رکھنے والی دوا کاسٹیکم (Causticum) کے مزاج سے کامل مماثلت رکھتا تھا۔
زیرِ نظر مریض کے اندر بھی وہی رنگ، وہی کیفیت، وہی نفسیاتی جھکاؤ اور وہی علامتی ترتیب دیکھی گئی۔ گویا شفا کی پرانی داستان ایک نئے جسم، ایک نئے مزاج اور ایک نئے امتحان کے ساتھ ہمارے سامنے دوبارہ زندہ ہو گئی۔
۴. طریقۂ علاج اور مرحلہ وار دوا کی ترتیب
ان تمام گہرے مشاہدات اور علامات کے مجموعے کو سامنے رکھتے ہوئے، خالص معالجانہ اصولوں کے تحت مریض کے لیے کاسٹیکم کا انتخاب کیا گیا۔
• پہلا مرحلہ: سب سے پہلے مریض کو کاسٹیکم 200 کا ایک منظم نصابِ دوا تجویز کیا گیا۔
• دوسرا مرحلہ: جب مریض کی مجموعی کیفیت، علامات کی تبدیلی کی رفتار اور بدن کے حیاتیاتی ردِ عمل کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، تو علاج کی سمت کو مزید پختہ کرنے اور اندرونی خلیاتی سطح پر دوا کے اثر کو گہرا کرنے کے لیے کاسٹیکم 1M (ایک ہزار طاقت) استعمال کروائی گئی۔
اس پورے معالجے کے دوران اندھا دھند یا لکیر کی فقیری کرتے ہوئے دوا نہیں دی گئی، بلکہ مریض کے وجود میں رونما ہونے والی چھوٹی سے چھوٹی تبدیلی کی مسلسل نگرانی کی گئی، جسم کے اندرونی اشاروں کو سمجھا گیا، اور شفا کے قوانین کے مطابق مرحلہ وار آگے بڑھا گیا۔
۵. نتائج، شفایابی اور معاشرتی اثرات
الحمدللہ، علامات کے عین مطابق کی گئی یہ سائنسی و طبی کوشش انتہائی حوصلہ افزا اور بابرکت ثابت ہوئی۔ مریض کی حالت میں حیرت انگیز اور واضح بہتری آنا شروع ہو گئی۔ جلد کی تکلیف، شدید خارش، خشکی، سوزش اور مرض کی عمومی گرفت رفتہ رفتہ دم توڑنے لگی۔ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ مرض تقریباً 80فیصد تک ختم ہو چکا ہے، اور مریض خود اس زبردست جسمانی و ذہنی تبدیلی پر انتہائی مطمئن اور خوش ہیں۔
ایک دیرینہ اور مایوس مریض جب دوبارہ مکمل اعتماد کے ساتھ اپنے معالج کی طرف لوٹتا ہے، علاج پر رضامندی ظاہر کرتا ہے اور اپنی تندرستی کا اعتراف کرتا ہے، تو یہ معالج کی ساری محنت کا حقیقی صلہ بن جاتا ہے۔ یہ کامیابی محض ایک انفرادی واقعے کی کامیابی نہیں ہے، بلکہ یہ ہومیوپیتھک اصولوں، مشاہدے، تجربے اور خدمتِ خلق کی ایک زندہ اور معتبر سند ہے۔
سب سے زیادہ مسرت انگیز پہلو یہ ہے کہ محترم مریض نے نہ صرف خود دلی اطمینان کا اظہار کیا، بلکہ اپنے حلقہ احباب اور خاندان کے دیگر ضرورت مند افراد کو بھی ہمارے پاس علاج کے لیے بھیجا (حوالہ دیا)۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی شفا صرف بیماری کو عارضی طور پر دبانے کا نام نہیں، بلکہ مریض کے دل میں اعتماد کا چراغ روشن کرنے اور اسے امید کی ایک نئی زندگی دینے کا نام ہے۔
۶. طبی حاصلِ کلام اور اصولی باریک بینی
اس کامیاب معالجے سے ہومیوپیتھی کا یہ سنہری قانون ایک بار پھر روزِ روشن کی طرح واضح ہوتا ہے کہ سورائسز جیسی پیچیدہ، مادی اور ضدی بیماریوں میں محض ظاہری جلدی علامات یا بیماری کے نام کو دیکھ کر دوا دینا سراسر ناکامی کا باعث بنتا ہے۔ اصل معالجانہ فن مریض کی مجموعی شخصیت، اس کے پوشیدہ میازمی رجحانات اور اس کے نفسیاتی سانچے کو پڑھنے میں ہے۔
بعض اوقات ایک ہی نام کی بیماری مختلف انسانوں میں بالکل مختلف مزاج رکھتی ہے، اور کبھی ایک ہی دوا کئی مریضوں میں اس لیے بار بار کامیاب ہوتی ہے کیونکہ ان کے اندرونی مزاج کا سانچہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہومیوپیتھی کی گہرائی، اس کی باریک بینی اور اس کے آفاقی مشاہداتی اصول اپنی پوری قوت سے جلوہ گر ہوتے ہیں۔ دوا کا انتخاب محض نام کی بنیاد پر نہیں، بلکہ پوری شخصیت کی علامتی ساخت کو سمجھ کر ہی ممکن ہے۔
شکرانۂ نعمت و دعا
ہم اللہ رب العزت کے بے پایاں فضل و کرم اور احسانِ عظیم پر دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں کہ اس نے اس بزرگ مریض کو اس موذی تکلیف سے نجات اور افاقہ عطا فرمایا، ان کے لیے آسانی پیدا کی، اور ہمیں اس شفا کا وسیلہ بنایا۔
دل سے دعا ہے کہ اللہ رب العالمین ان کو کامل اور عاجل تندرستیِ قائمہ عطا فرمائے، ان کی باقی ماندہ تکالیف کو بھی جڑ سے دور فرما دے، اور ہمیں ہمیشہ اخلاص، علم، حکمت، دیانت اور خالص خدمتِ خلق کے ساتھ اپنے اس عظیم طبی مشن پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
رپورٹ و تدوین: ڈاکٹر ماجد حسین صابری سرپرستِ اعلیٰ: صابری کوئنٹسینس ویلنس ہب مصنف: صابری مٹیریا میڈیکا و فلسفۂ کامیابی ---

03/06/2026

جسمانی کمزوری کا علاج ، عضلاتی درد اور اعصاب کی نقاہت کا علاج:
اسباب، عادات کا بگاڑ اور علمِ غذا کے تحت مکمل بحالی کا آسان لائحہ عمل
# # مقدمہ اور پس منظر
انسانی جسم اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ایک خوبصورت شاہکار اور مقدس امانت ہے۔ شریعتِ اسلامی اور طب کا یہ بنیادی اصول ہے کہ تندرستی کا دارومدار جسم کے اندرونی نظام کی برابری پر ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں جسمانی کمزوری، پٹھوں کا کھنچاؤ، اعصابی درد اور ہر وقت کی تھکن ایک عام مسئلہ بن چکی ہے۔
لوگ اس کمزوری کو دور کرنے کے لیے عارضی طور پر درد روکنے والی دوائیوں اور بازار سے ملنے والے نقلی کیمیائی ٹیکوں کا سہارا لیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کمزوری ہمارے اپنے پگڑے ہوئے طرزِ زندگی، ناقص غذا، سستی اور روزمرہ کی غلط عادات کا نتیجہ ہے۔ یہ مقالہ انتہائی آسان زبان میں یہ واضح کرے گا کہ کس طرح محض ایک بری عادت انسان کو بیمار رکھتی ہے اور علمِ غذا پر عمل کر کے کیسے دوبارہ چاق و چوبند اور طاقتور بنا جا سکتا ہے۔
# # باب اول: ایک بری عادت کا قانون اور عادات کی اصلاح
انسانی صحت کو تباہ کرنے کے لیے بہت زیادہ برائیوں کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ **صرف ایک بری عادت ہی انسان کے پورے ہاضمے اور مدافعت کے نظام کو برباد کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔**
# # # ۱۔ صبح کی غلط عادات
* **خالی پیٹ چائے اور بسکٹ کا نقصان:** بہت سے لوگوں کو صبح اٹھتے ہی خالی پیٹ چائے اور بسکٹ کھانے کی لت ہوتی ہے۔ رات بھر کے آرام کے بعد معدے کو نرم غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ خالی پیٹ چائے اور میدہ معدے میں تیزابیت کا طوفان کھڑا کر دیتے ہیں، جس سے دن بھر کی غذا جزوِ بدن نہیں بنتی۔
* **ناشتہ نہ کرنا یا تاخیر سے کرنا:** جو لوگ صبح کا ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں، ان کا جسم اندرونی دباؤ کا شکار ہو کر پٹھوں کو پگھلانا شروع کر دیتا ہے، جس سے مستقل سستی پیدا ہوتی ہے۔
* **بھاری ناشتہ:** صبح کے وقت چائے کے ساتھ دو دو بھاری پراٹھے یا بازار کی ڈبل روٹی کھانا سستی لاتا ہے اور جگر پر بوجھ بڑھاتا ہے۔
# # # ۲۔ عصر اور شام کی عادات
شام کے وقت تلی ہوئی بازاری چیزیں (سموسے، پکوڑے) کھانے سے خون کی نالیاں تنگ ہوتی ہیں اور دل کی طاقت کمزور پڑتی ہے۔
# # # ۳۔ سستی اور غیر فعال زندگی
سارا دن کرسی یا بستر پر گزارنا جسم کو زنگ لگا دیتا ہے۔ اس سے ہڈیاں کمزور اور پٹھے ڈھیلے ہو جاتے ہیں۔
> **حل:** اپنی زندگی کا جائزہ لیں اور اس ایک بری عادت کو پہچانیں جو آپ کو بیمار کر رہی ہے۔ اسے چھوڑنے کا پکا ارادہ کریں۔ اس بارے میں انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور معلوماتی ویڈیوز سے رہنمائی حاصل کریں اور اس بری عادت کی جگہ کوئی اچھی عادت اپنائیں۔
>
# # باب دوم: علمِ غذا اور صابری غذائی اصول
جسمانی کمزوری کو دور کرنے کے لیے خوراک کو ہی دوا بنانا ہوگا تاکہ خلیات کی اندرونی مرمت ہو سکے۔
# # # ۱۔ لحمیات (پروٹین) میں ۲۵ فیصد اضافہ
پٹھے، اعصاب اور ہڈیاں سب لحمیات کے محتاج ہیں۔ کمزوری دور کرنے کے لیے:
* اپنی روزمرہ خوراک میں **لحمیات کی مقدار کو ۲۵ فیصد تک بڑھا دیں**۔
* اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ روزانہ صبح ناشتے کے فوراً بعد **دو عدد دیسی ابلے ہوئے انڈے** لازمی کھائیں۔
* ہفتے میں دو سے تین مرتبہ **مچھلی** کھانے کی عادت بنائیں۔ قدرتی ماحول کی مچھلی پٹھوں کو لوہے کی طرح مضبوط بناتی ہے۔
# # # ۲۔ صحت بخش چکنائی میں ۲۵ فیصد اضافہ
دماغ اور اعصاب کی طاقت کے لیے اچھی چکنائی بہت ضروری ہے۔
* اپنی غذا میں بہترین چکنائی کی مقدار **۲۵ فیصد تک زیادہ کریں**۔
* بازاری گھی اور سستے تیلوں کو کچن سے نکال دیں اور ان کی جگہ **خالص زیتون کا تیل** یا دیسی گھی استعمال کریں۔
* خشک میوہ جات میں **اخروٹ** کو لازمی شامل کریں۔ یہ دماغی اور اعصابی کمزوری کو جڑ سے ختم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ **سفید تل** کا استعمال کریں جو ہڈیوں کو طاقت دیتے ہیں۔
# # # ۳۔ ڈیری اور پھلوں کا استعمال
* روزانہ **آدھا کلو خالص دودھ** اور **ایک پاؤ سے آدھا کلو تازہ دہی** کا استعمال لازمی کریں۔ دہی ہاضمے کو ٹھیک کرتا ہے اور دودھ ہڈیوں کو سونا بناتا ہے۔
* روزانہ کم از کم **آدھا پاؤ کوئی سا بھی تازہ اور موسمی پھل** ضرور کھائیں۔
# # # ۴۔ شہد، کھجور اور ہلدی کے فوائد
* اپنی غذا میں **شہد** اور **کھجور** کو لازمی شامل کریں۔ کھجور خون کی کمی کو دور کرتی ہے اور شہد جسم کو فوری طاقت دیتا ہے۔
* گھر کے سالن میں خالص **ہلدی** لازمی ڈالیں۔ ہلدی جسم کے اندرونی دردوں، جوڑوں کی تکلیف اور اعصابی سوزش کا بہترین علاج ہے۔
# # باب سوم: بازاری اشیاء سے پرہیز اور طباخی کے اصول
جب تک ہم نقصان دہ چیزیں کھانا نہیں چھوڑیں گے، اچھی غذا اثر نہیں کرے گی۔
# # # ۱۔ ان چیزوں کا مکمل بائیکاٹ کریں
* بازاری گھی، ڈالڈا اور سستے کوکنگ آئل۔
* ڈبہ پیک بازاری چیزیں اور کیمیکل والے نقلی جوس۔
* ہر قسم کی تلی ہوئی اور بازاری فاسٹ فوڈ اشیاء مثلاً برگر، شوارما اور پیزا۔ یہ صرف پیٹ بھرتے ہیں، جسم کو طاقت نہیں دیتے۔
* بوتلیں، کولڈ ڈرنکس اور سفید چینی۔ یہ ہڈیوں کو پگھلا دیتی ہیں۔
# # # ۲۔ قدرتی شربت اور روایتی مشروبات
* بوتلوں کی جگہ گھر میں **املی اور آلو بخارے کا قدرتی شربت** بنا کر پیئیں۔
* پنجاب کا روایتی **کوٹا یا گھوٹا** (بادام، خسخاش اور چار مغز کو مٹی کے برتن میں رگڑ کر بنایا گیا مشروب) پینے کی عادت ڈالیں۔ یہ اعصاب کے لیے آبِ حیات ہے۔
# # # ۳۔ نمک، مرچ اور چاولوں میں احتیاط
* سالن میں بہت زیادہ تیز مصالحے، تیز سرخ مرچ اور نمک ڈالنے سے گریز کریں۔ مصالحے ہمیشہ ہلکے رکھیں تاکہ معدہ خراب نہ ہو۔
* روزانہ کثرت سے چاول کھانے سے پرہیز کریں۔ چاولوں کی زیادتی پٹھوں کو ڈھیلا کرتی ہے۔
# # باب چہارم: وقت کی پابندی، ہاضمے کا قانون اور ورزش
# # # ۱۔ کھانے کے اوقات اور پانی کا سنہری قانون
* تینوں وقت کا کھانا اپنے مقررہ وقت پر کھائیں۔ کھانے میں دیر کرنا ہاضمے کو تباہ کرتا ہے۔
* رات کا کھانا ہرگز دیر سے نہ کھائیں، بلکہ مغرب کے فوراً بعد یا رات جلدی کھانے کی عادت ڈالیں۔
* **سب سے ضروری قانون:** کھانا کھانے کے فوراً بعد یا کھانے کے بیچ میں پانی پینا ہاضمے کو روک دیتا ہے۔ اصول بنا لیں کہ **کھانا کھانے کے بعد ڈیڑھ گھنٹے تک پانی یا کوئی بھی شربت پینا سخت منع ہے**۔
# # # ۲۔ ورزش گاہ جانا اور نیند کا نظم
* یہ مت سوچیں کہ کمزوری میں ورزش نہیں کرنی چاہیے۔ **ورزش گاہ (جم) لازمی جائیں**۔ ہلکی یا بھاری ورزش کرنے سے ہی کھائی گئی غذا پٹھوں کو لگتی ہے۔
* **نیند لازمی پوری کریں:** رات کو دیر تک جاگنا اور موبائل کا استعمال اعصاب کو سکھا دیتا ہے۔ رات کو جلدی سوئیں اور ۷ سے ۸ گھنٹے کی بھرپور نیند لیں۔
# # باب پنجم: علمِ غذا کا مطالعہ
تندرست رہنے کے لیے صحت کا علم ہونا ضروری ہے۔ **علمِ غذا (نیوٹریشن سائنس) پر کوئی بھی بہترین اور آسان کتاب خرید کر لازمی پڑھیں**۔ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ جسم کو کس چیز کی ضرورت ہے اور اس علم کے مطابق اپنی روزمرہ کی خوراک کو ٹھیک کریں۔
# # خلاصہ کلام
جسمانی کمزوری کوئی ایسا حادثہ نہیں جو ٹھیک نہ ہو سکے۔ اگر آپ ایک تندرست اور کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اپنی زندگی سے **"صرف ایک بری عادت"** کو آج ہی نکال باہر پھینکیں۔ کچن سے بازاری گھی اور تیز مصالحے ختم کریں۔ انڈے، مچھلی، دودھ، دہی، زیتون، شہد، کھجور اور اخروٹ کو اپنی غذا کا حصہ بنائیں۔ کھانے کے بعد ڈیڑھ گھنٹے تک پانی نہ پیئیں اور ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔ صحت ادویات میں نہیں بلکہ ایک بہترین اور منظم طرزِ زندگی میں چھپی ہے۔
**تحریر و تحقیق:**
**ڈاکٹر ماجد حسین صابری**
*سرپرستِ اعلیٰ: صابری کوئنٹسینس ویلنس ہب*
*مصنف: صابری مٹیریا میڈیکا و فلسفۂ کامیابی*

02/06/2026

Case Taking in Chronic Disease ( Part 1 ) by Majid Hussain Sabri Homoeopath

02/06/2026

نہانے سے تھکاوٹ ختم ہوجاتی ہے۔ صبح شام نہایا کریں۔

01/06/2026

Homeopathic Medicine in Hindi _ 37 Acute Homoeopathy Medicines for Acute Disease

01/06/2026

کامیاب کیس الرجی کا سلفر سے
کامیاب کیس: الرجی کا جو ہومیوپیتھی شہنشاہ دوا "سلفر" سےشفایاب ہوا ہے۔
مقدمہ: ہومیوپیتھک اصولِ شفا اور کلینیکل مسرت
الحمد للہ، میں آپ سے ایک کامیابی کیس شیئر کرنے لگا ہوں۔ اس میں سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے۔ پڑھیں اور شیئر کریں۔ جب ایک معالج کے پاس ایسا مریض آئے جو سالہا سال سے شدید جسمانی اور ذہنی تکلیف میں مبتلا ہو، جس نے مروجہ طب کے تمام دروازے کھٹکھٹائے ہوں اور ہر جگہ سے ناامیدی ملی ہو، تو ایسے مزمن (Chronic) کیس میں جب ہومیوپیتھک قوانین کے تحت مریض کو مستقل شفا ملتی ہے، تو وہ معالج کے لیے سجدہ شکر اور دلی مسرت کا باعث بنتی ہے۔ زیرِ نظر کیس ایک ایسے ہی مریض کا ہے جو اپنی شدید الرجی اور جلدی پیتھالوجی کی وجہ سے معاشرتی زندگی سے کٹ چکا تھا، مگر اللہ رب العزت نے ہمارے ادارے کے ذریعے اسے ایک نئی اور صحت مند زندگی عطا فرمائی۔
باب اول: مریض کا پس منظر اور ہسٹری (Patient Profile & History)
تقریباً دو ہفتے قبل ہمارے پاس ایک مریض نے رابطہ کیا۔ اس مریض کا نام سلیمان ہے۔ سلیمان صاحب خود ہمیں نہیں جانتے تھے، بلکہ ان کے ایک مخلص دوست ہمارے پرانے شناسا اور ادارے کے معتمد تھے۔ انھی دوست کے ریفرنس اور وسیلے سے سلیمان صاحب نے اپنی شدید تکلیف کا تفصیلی احوال ہمیں بتایا۔
۱۔ پیشے کے اثرات (Occupational Hazards)
مریض پیشہ کے لحاظ سے ایک ڈرائیور ہے۔ ڈرائیونگ ایک ایسا کام ہے جس میں انسان کو طویل گھنٹوں تک ایک ہی جگہ بیٹھنا پڑتا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں گاڑی کے اندر کی تپش، انجن کی گرمی، اور مسلسل بیٹھے رہنے سے جسم (خصوصاً کمر اور کولہوں کے حصے) میں شدید پسینہ اور حرارت جمع ہوتی ہے۔ یہ ماحول جلدی امراض اور الرجی کے لیے ایک بہترین آماجگاہ فراہم کرتا ہے۔
۲۔ مرض کی طوالت اور سابقہ علاج (Chronicity)
سلیمان صاحب اس شدید الرجی اور خارش کے عارضے میں پچھلے ۴ سالوں سے مسلسل مبتلا تھے۔ اس دوران انہوں نے ملک کے نامور ایلوپیتھک ڈاکٹروں، ماہرینِ جلد (Dermatologists) اور نامی گرامی حکیموں سے مہنگے اور طویل علاج کروائے۔ جب تک وہ کوئی الرجی کی گولی یا مسکن دوا کھاتے، خارش دبی رہتی، مگر جیسے ہی دوا کا اثر ختم ہوتا، پیتھالوجی پہلے سے زیادہ شدید ہو کر ابھرتی۔
باب دوم: علامات کا تجزیہ اور پیتھالوجیکل حالت (Symptom Analysis)
کیس کی تفصیلی انٹیکنگ (Case Taking) کے دوران درج ذیل کلینیکل اور پیتھالوجیکل حقائق سامنے آئے:
۱۔ ظاہری علامات (Objective Symptoms)
مریض نے جب اپنی متاثرہ جلد کی تصویر شیئر کی، تو پیتھالوجی بالکل واضح تھی۔ ان کی کمر پر شدید قسم کے سرخ رنگ کے دانے (Red Eruptions) ابھرے ہوئے تھے، جن میں مستقل سوزش اور سرخی (Inflammation & Erythema) موجود تھی۔
۲۔ خارش اور جلن (Subjective Symptoms)
ان دانوں پر سارا دن اور خاص طور پر رات کے وقت شدید قسم کی خارش ہوتی تھی۔ خارش اس حد تک ناقابلِ برداشت تھی کہ مریض کا کسی بھی محفل یا سماجی تقریب میں بیٹھنا محال ہو چکا تھا۔ لوگوں کے سامنے بار بار کمر کھجانے کی وجہ سے وہ شدید ذہنی کوفت اور معاشرتی تنہائی کا شکار ہو چکے تھے۔
۳۔ علامات میں اضافہ (Aggravation factors)
• گرمی سے اضافہ: گرمی کا موسم، دھوپ میں جانا، یا گاڑی کے اندر کا گرم ماحول ان کی خارش اور دانوں کو یکدم بھڑکا دیتا تھا۔
• گرم غذاؤں سے اضافہ: گرم مزاج رکھنے والی غذائیں اور خاص طور پر بڑا گوشت (Beef) کھانے سے الرجی کی شدت ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ جاتی تھی۔ چونکہ بڑا گوشت ہائی کولیسٹرول کا حامل ہوتا ہے اور جگر پر دباؤ بڑھاتا ہے، اس لیے یہ مریض کے خون میں حدت اور جلدی تشنج کو تیز کرنے کا سبب بن رہا تھا۔
باب سوم: ہومیوپیتھک فلسفہ اور ادویات کا انتخاب (Remedy Selection)
مریض کی تمام علامات کو جب ہومیوپیتھک اصولوں کے تحت پرکھا گیا، تو یہ تمام کیفیات ہومیوپیتھی کی مایہ ناز اور جلدی امراض کی شہنشاہ دوا سلفر (Sulphur) کے ساتھ ۱۰۰٪ مماثلت رکھتی تھیں۔ سلفر کا مریض بنیادی طور پر گرم مزاج (Hot Patient) ہوتا ہے، اسے گرمی سے نفرت ہوتی ہے، گرمی اور گرم غذاؤں سے اس کی جلدی علامات بڑھتی ہیں، اور اس کے دانے سرخی مائل ہوتے ہیں۔
چونکہ مریض ڈرائیور تھا، گوشت خور تھا، اور اس کے اندر کولیسٹرول کی زیادتی کے واضح اثرات تھے، اس لیے جگر کے فعل کو درست کرنے اور میٹابولزم کو تیز کرنے کے لیے معاون دوا کے طور پر چلیڈونیم (Chelidonium) کا انتخاب بھی کیا گیا۔
ابتدائی نسخہ اور اس کا نتیجہ:
شروع میں، میں نے ہومیوپیتھک دوا سلفر ۲۰۰ (Sulphur 200) اور ساتھ میں چلیڈونیم ۲۰۰ (Chelidonium 200) تجویز کی۔
• نتیجہ: تقریباً ایک سے ڈیڑھ ہفتے کے استعمال کے بعد مریض کا دوبارہ فیڈ بیک آیا۔ مریض کا کہنا تھا کہ "ڈاکٹر صاحب! آرام تو ہے، لیکن وہ تسلی بخش آرام نہیں ہے جس کی مجھے امید تھی، بس تھوڑا بہت فرق پڑا ہے۔"
باب چہارم: پوٹینسی کا انتخاب اور کلینیکل بریک تھرو (The Potency Breakthrough)
یہاں پر ہومیوپیتھک سائنس کا وہ سنہرا اصول سامنے آتا ہے جو ایک عام معالج اور ریسرچر معالج کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے۔
اہم کلینیکل نکتہ: بعض اوقات کلینیکل پریکٹس میں آپ کی دوا کا انتخاب (Remedy Selection) بالکل ۱۰۰٪ درست ہوتا ہے، مگر دوا کی طاقت یا پوٹینسی (Potency) مریض کی بیماری کی میازمیٹک گہرائی سے کم ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں دوا عارضی یا معمولی فائدہ تو دیتی ہے مگر مکمل شفایابی نہیں ہو پاتی۔
جب میں نے دیکھا کہ علامات بالکل سلفر کی ہیں مگر ۲۰۰ طاقت اثر نہیں کر رہی، تو میں نے اصولی فیصلہ کرتے ہوئے دوا کی پوٹینسی کو بڑھا دیا۔ میں نے سلفر اور چلیڈونیم دونوں کو 1M (ون ایم / ۱۰۰۰ طاقت) میں تبدیل کر دیا۔
معجزاتی شفایابی (The Miraculous Result):
پوٹینسی بڑھاتے ہی دوا نے خلیاتی سطح پر اپنا گہرا اثر دکھایا۔ الحمدللہ، ابھی حال ہی میں مریض سلیمان صاحب کا میسج موصول ہوا، مریض کا دل خوشی سے باغ باغ تھا اور وہ تہہ دل سے دعائیں دے رہا تھا۔ نہ صرف مریض، بلکہ جس دوست کے ریفرنس اور وسیلے سے وہ ہمارے پاس آیا تھا، وہ دوست بھی مریض کی کایا پلٹتے دیکھ کر حیران ہے اور ادارے کو بے شمار دعائیں دے رہا ہے۔ ۴ سال کی پرانی الرجی، جس پر لاکھوں روپے لٹائے جا چکے تھے، اللہ کے فضل سے چند ہی دنوں میں جڑ سے ختم ہو گئی۔
باب پنجم: موجودہ حالت اور غذائی مینیجمنٹ (Dietary Management)
سلیمان صاحب ابھی ہمارے پاس زیرِ علاج ہیں تاکہ ان کے خون اور میازمی پس منظر کی مکمل صفائی کی جا سکے۔ ان کی مستقل صحت کے لیے درج ذیل غذائی پلان پر سختی سے عمل کروایا جا رہا ہے:
• مکمل پابندی (Banned Items): ہائی کولیسٹرول والی اشیاء، بڑا گوشت (Beef)، تیز مصالحے دار اور تمام گرم مزاج اشیاء اگلے کچھ ماہ کے لیے مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں۔
• شاملِ خوراک اشیاء (Allowed Diet): جسم اور جگر کی حدت کو کم کرنے کے لیے ان کی روزمرہ خوراک میں دودھ، دہی، سیب، اور تازہ سلاد کو لازمی طور پر شامل کیا گیا ہے تاکہ نظامِ ہضم پرسکون رہے اور کولیسٹرول کا لیول طبعی حد کے اندر واپس آ سکے۔
باب ششم: صابری مٹیریا میڈیکا کے قوانین اور رہنمائی
ہومیوپیتھک معالجین اور عام قارئین کے لیے یہ بات ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ گرمیوں کے موسم میں جو گرمی دانے (Heat Rashes) نکلتے ہیں، جو خالصتاً گرمی کی وجہ سے ہوں، گرم چیزیں کھانے سے بڑھتے ہوں، رنگت میں سرخ ہوں اور ان پر شدید خارش ہو، ان کی سب سے بڑی اور یقینی دوا سلفر ہی ہے۔
• بچوں کے لیے: عام طور پر سلفر ۲۰۰ طاقت میں بہترین کام کرتی ہے۔
• بڑوں کے لیے: مزمن اور گہرے کیسز میں سلفر 1M (ون ایم) طاقت میں شفا کا باعث بنتی ہے۔
⚠️ اہم انتباہ (Warning)
سلفر ایک انتہائی گہرا اثر رکھنے والی اینٹی سورک (Anti-psoric) دوا ہے۔ اس لیے کسی بھی ماہر ہومیوپیتھ کی نگرانی کے بغیر ہومیوپیتھک دوائیاں ہرگز استعمال نہ کریں۔ ادویات کی باریکیوں، ان کے میازمیٹک اثرات اور پوٹینسی کے درست قوانین کو سمجھنے کے لیے میری تصنیف "صابری مٹیریا میڈیکا" پڑھنے کے بعد ہی ہومیوپیتھک دوائیاں استعمال کریں، خود سے ادویات استعمال کرنے (Self-Medication) سے سخت پرہیز کریں۔
اختتامیہ
ہم اللہ رب العزت کے لاکھ لاکھ شکر گزار ہیں کہ اس نے اپنے ایک بندے کو اتنی شدید اور پرانی تکلیف سے ہمارے ادارے کے ذریعے شفا عطا فرمائی۔ جب کوئی مریض اتنے سالوں سے بھٹکنے کے بعد ہم پر اعتماد کرتا ہے اور اللہ اس اعتماد کو بحال رکھتا ہے، تو یہی ہمارے مشن کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
SABRI QUINTESSENCE WELLNESSHUB مستند ہومیوپیتھک ریسرچ اور اصولی میازمیٹک علاج کا عالمی مرکز 📞 رابطہ نمبر: 03494143244
SABRI QUINTESSENCE WELLNESSHUB
ڈاکٹر علامہ ماجد حسین صابری گجرات
ڈاکٹر علامہ محمد صدیق قادری اسلام آباد
‏31‏/05‏/2026

31/05/2026
30/05/2026

بالوں کی خشکی اور سکری (Dandruff) – پیتھالوجی، ایپی ڈیمیولوجی، اور کثیر الجہتی ہومیوپیتھک مینی فیسٹ
و
# # مقدمہ اور اصولی کائناتی پس منظر
بالوں کی خشکی اور سکری، جسے طبی اصطلاح میں **Pityriasis Capitis** یا عام زبان میں **Dandruff** کہا جاتا ہے، کھوپڑی (Scalp) کی جلد کا ایک انتہائی عام، دائمی اور بار بار عود کر آنے والا (Chronic and Relapsing) عارضہ ہے۔ عالمی سطح پر پائے جانے والے جلدی مسائل میں یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد خلل ہے جو دنیا کی کل آبادی کے تقریباً **50%** حصے کو متاثر کرتا ہے۔
تاہم، جدید میڈیکل سائنس جہاں اسے محض ایک سطحی، مقامی یا فنگل انفیکشن قرار دے کر بیرونی شیمپوز تک محدود رکھتی ہے، وہاں ہومیوپیتھی کا آفاقی فلسفہ ایک بالکل مختلف اور گہرا سائنسی نظریہ پیش کرتا ہے۔ ہومیوپیتھک اصولوں کے مطابق: **"خشکی بذاتِ خود کوئی آزاد بیماری نہیں ہے، بلکہ یہ جسم کے اندرونی نظام میں جاری کسی گہری اور پوشیدہ پیتھالوجی یا بیماری کا بیرونی اظہار (Symptom) ہے۔"** مادیت پسندانہ طریقہ علاج صرف علامت کو دبانے (Suppress) کی کوشش کرتا ہے، جبکہ ایک حاذق اور ماہر ہومیوپیتھک طبیب کا فرض ہے کہ وہ مریض کا مکمل کیس نوٹ کرے؛ یہ معلوم کرے کہ یہ مسئلہ کب سے ہے، اس کے پیچھے کون سی بنیادی اندرونی بیماری کارفرما ہے، اس کا اصل سبب (Causa Morbi) کیا ہے، اور مریض کی انفرادی علامات کی کائینٹکس کیا ہیں؟ جب جسم کی اصل اندرونی بیماری کا صحیح ہومیوپیتھک اصولوں کے تحت علاج کیا جاتا ہے، تو سر کی خشکی جیسی ثانوی علامات خود بخود، مستقل اور مستقل طور پر ختم ہو جاتی ہیں۔
# # باب اول: کلینیکل پریکٹس اور مشاہدات (The Sabri Clinical Triad)
طویل کلینیکل تجربات، باریک بین ابزرویشنز اور مریضوں کے کامیاب ترین علاج کے بعد، سر کی خشکی کے پیچھے تین بنیادی داخلی اسباب اور ان کا حتمی ہومیوپیتھک حل درج ذیل خطوط پر ثابت شدہ ہے:
```
[ سر کی دائمی خشکی (Dandruff) ]

┌─────────────────────────────────┼────────────────────────────────┐
▼ ▼ ▼
[ دماغی عارضہ: ڈپریشن ] [ داخلی پیتھالوجی: ٹائیفائیڈ ] [ میازمیٹک بگاڑ: سائیکوسس ]
│ │ │
▼ ▼ ▼
(Natrum Muriaticum) (Bryonia Alba) (Thuja Occidentalis)

```
# # # ۱۔ اعصابی و نفسیاتی سبب: ڈپریشن اور موروثی اثرات
کلینیکل پریکٹس میں یہ بات سب سے زیادہ مشاہدے میں آئی ہے کہ سر کی ضدی خشکی کے پیچھے انسانی دماغ کی ایک خاص بیماری یعنی **ڈپریشن (Depression)** کارفرما ہوتی ہے۔ یہ ڈپریشن موروثی (Genetic) طور پر والدین کی طرف سے بھی منتقل ہو سکتا ہے اور زندگی کے ناسازگار و بوڑھے حالات، صدمات یا شدید ذہنی تناؤ کی وجہ سے بھی جنم لے سکتا ہے۔ دماغی اعصاب کا یہ بگاڑ جلد کی غذائیت اور اسکن بیریئر کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔
* **دوا کا انتخاب اور پروٹوکول:** اس مخصوص کیفیت کے لیے **Natrum Muriaticum (نیٹرم میور)** مایہ ناز اور سب سے زیادہ مؤثر دوا ثابت ہوئی ہے۔ اس دوا کو مریض کی حالت کے مطابق صحیح پوٹینسی (Potency) میں، درست وقت پر اور مناسب وقفے (Interventions) کے ساتھ استعمال کروانا، اور بوقتِ ضرورت اس کی پوٹینسی کو بتدریج بڑھانا (Escalation) جادوئی نتائج دیتا ہے، جیسا کہ **"صابری مٹیریل میڈیکا"** میں اس کی کلینیکل تفصیلات اور مینیجمنٹ کو بڑی تفسیر سے بیان کیا گیا ہے۔
# # # ۲۔ پیتھالوجیکل سبب: ٹائیفائیڈ بخار اور داخلی پیاس
دوسرے نمبر پر، بے شمار کیسز میں سر کی شدید اور ضدی خشکی کا بنیادی سبب جسم میں ماضی یا حال میں موجود **ٹائیفائیڈ بخار (Typhoid Fever)** یا اس کے دبے ہوئے اثرات ہوتے ہیں۔ ٹائیفائیڈ کا زہر جسم کے اندرونی سیال اور رطوبتوں کو خشک کر دیتا ہے، جس کی واضح ترین مثال ہومیوپیتھی کی مایہ ناز دوا **Bryonia Alba (برائی اونیا)** کے کلینیکل دائرہ کار میں ملتی ہے۔
* **کلینیکل پیتھالوجی:** یہ ایک انتہائی خشک قسم کا بخار اور کیفیت ہوتی ہے، جہاں جسم کی تمام میوکس ممبرینز خشک ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ مریض کا پاخانہ بھی شدید خشکی کے باعث بالکل مینگنی کی طرح سخت اور سیاہ آتا ہے۔ جب ٹائیفائیڈ کے پس منظر کے ساتھ سر میں شدید، پاؤڈر نما یا چھلکوں والی خشکی موجود ہو، تو **برائی اونیا** جسم کے داخلی پانی کے توازن کو درست کر کے اس علامت کا جڑ سے خاتمہ کر دیتی ہے۔
# # # ۳۔ میازمیٹک سبب: سائیکوسس زہر کا غلبہ
تیسرا بڑا اور گہرا سبب **سائیکوسس میازمیٹک زہر (Sycotic Miasm)** ہے، جہاں جلد کے خلیات کی غیر طبعی اوور گروتھ اور چکن، مومی چھلکے بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔
* **دوا کا انتخاب:** اس میازمیٹک بگاڑ کو ختم کرنے کے لیے **Thuja Occidentalis (تھوجا)** کائناتِ ہومیوپیتھی کی سب سے بڑی اور مجرب دوا ہے۔ تھوجا کس طرح سیلولر لیول پر جا کر اس میازمیٹک رکاوٹ کو دور کرتی ہے، اس کی مکمل کلینیکل ڈیٹیل، باریکی اور فلاسفی کو **"صابری مٹیریل میڈیکا"** میں تفصیل کے ساتھ احاطہ تحریر میں لایا گیا ہے۔
# # باب دوم: نیوٹراسیوٹیکل تھراپی اور اندرونی تری کا اصول (Internal Hydration & Lipids)
اکثر مریضوں میں یہ ایک مسلمہ اور مجرب عمل ثابت ہوا ہے کہ بیرونی طور پر بالوں کو اینٹی فنگل یا کیمیکل شیمپوز سے دھونے کی بجائے اگر جسم کو اندرونی طور پر ضروری نیوٹرسیوٹیکلز فراہم کر دیے جائیں، تو جلد کا طبعی بیریئر خود بخود چکنائی اور تری پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے، جس سے بیرونی شیمپوز کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔
# # # ۱۔ اومیگا-3 اور وٹامن بی-12 کی بحالی
جسم میں فیٹی ایسڈز اور اعصابی وٹامنز کی کمی کھوپڑی کی جلد کو بنجر بنا دیتی ہے۔ اس کے حل کے لیے خوراک میں درج ذیل تبدیلیوں کو لازمی نافذ کرنا چاہیے:
* **مچھلی (Fish) کا استعمال:** یہ اومیگا-3 فیٹی ایسڈز (Omega-3 Fatty Acids) کا زبردست قدرتی ذریعہ ہے جو جلد کے خلیات کی لچک اور تری کو اندر سے بحال کرتا ہے۔
* **خالص دودھ (Milk):** یہ وٹامن بی-12 (Vitamin B12) اور دیگر اہم معدنیات کا بہترین منبع ہے جو اعصاب کو طاقت دیتا ہے۔
* **طلائی اصول (برائے استعمال):** کلینیکل اور غذائی اصول کے مطابق **دودھ اور مچھلی کو ہمیشہ علیحدہ علیحدہ اوقات میں استعمال کرنا چاہیے**، ان دونوں کا ایک ہی وقت میں اکٹھے استعمال سختی سے ممنوع ہے۔
* **خالص زیتون کا تیل (Olive Oil):** اپنی روزمرہ غذا میں زیتون کے تیل کو شامل کریں، یہ اندرونی طور پر سسٹمک انفلیمیشن کو ختم کر کے کھوپڑی کی مائیکرو سرکولیشن کو درست کرتا ہے۔
# # باب سوم: بیرونی حفاظت اور ذہنی صحت (Topical Care & Mental Hygiene)
اندرونی ادویات کے ساتھ ساتھ کھوپڑی کی مقامی جلد کی حفاظت اور اعصابی ریلیکسیشن کے لیے درج ذیل اصولوں پر عمل کرنا ناگزیر ہے:
# # # ۱۔ گری اور آملے کے تیل کا مساج
کیمیکل لوشنز کی بجائے فطری نباتیاتی آئلز کا استعمال کھوپڑی کے مائیکرو بائیوم کو محفوظ رکھتا ہے:
* سر پر لگانے کے لیے سب سے بہترین اور مجرب تیل **کوکونٹ آئل (گری کا تیل)** ہے۔
* اگر کسی وجہ سے اچھی کوالٹی کا گری کا تیل میسر نہ ہو، تو اس کا بہترین متبادل خالص **آملے کا تیل** ہے، جسے باقاعدگی سے سر کی جلد پر لگانا چاہیے۔
# # # ۲۔ دماغی تھکاوٹ سے بچاؤ
چونکہ جلد کا اعصاب سے براہِ راست تعلق ہے، اس لیے مریض کو **بہت زیادہ دماغی تھکاوٹ (Cognitive Exhaustion)**، بے خوابی اور ذہنی اوور لوڈنگ سے بچنا چاہیے۔ دماغ جتنا پرسکون رہے گا، کھوپڑی کی جلد اتنی ہی صحت مند رہے گی۔ بوقتِ ضرورت صفائی کے مقصد کے لیے کسی ماہر ڈاکٹر کے مشورے سے ایک اچھا اور مائلڈ (Mild) شیمپو عارضی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
# # حتمی کلینیکل مینی فیسٹو (The Final Therapeutic Manifesto)
سر کی دائمی خشکی کا مستقل اور سو فیصد کامیاب حل یہ ہے کہ مریض کسی بھی قسم کی خود ادویاتی (Self-Medication) یا بازاری اشتہاری شیمپوز کے چکر میں پڑ کر اپنے بالوں اور جلد کو مستقل تباہ کرنے کی بجائے:
1. کسی **ماہر، قابل، اور مشہور ہومیوپیتھک معالج** سے رابطہ کریں۔
2. اپنا مکمل کیس، خاندانی پس منظر، ذہنی علامات اور اندرونی بیماریوں کی ہسٹری تفسیل سے سامنے رکھ کر **درست تشخیص (Constitutional Diagnosis)** کروائیں۔
3. تشخیص کے مطابق تجویز کردہ ہومیوپیتھک دوا (جیسے نیٹرم میور، برائی اونیا یا تھوجا) کو صابری مٹیریل میڈیکا کے بتائے گئے پوٹینسی رولز کے مطابق باقاعدگی سے استعمال کریں۔
4. بتائی گئی نیوٹرسیوٹیکل غذاؤں (دودھ، مچھلی، زیتون کا تیل، گری کا تیل) کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
یہ جامع اور سائنسی لائحہ عمل نہ صرف سر کی خشکی کا خاتمہ کرتا ہے، بلکہ جسم کو اندرونی طور پر دیگر تمام بڑی بیماریوں سے پاک کر کے حقیقی صحتِ کاملہ عطا کرتا ہے۔
# # پریمیم انگلش ہیش ٹیگز (English Hashtags for Clinical Branding & Reach)

Address

Gujrat

Opening Hours

Monday 09:00 - 15:00
Tuesday 09:00 - 15:00
Wednesday 09:00 - 15:00
Thursday 09:00 - 15:00
Saturday 09:00 - 15:00
Sunday 09:00 - 15:00

Telephone

+923494143244

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sabri Quintessence Wellness HUB posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Sabri Quintessence Wellness HUB:

Shortcuts

Share