Hakeem Faisal Gulyanvi

Hakeem Faisal Gulyanvi The purpose of this page is to spread awareness about health and healthy Food.

]]]/جگر کی چربی کی علامات کیا ہیں؟/[[[ جگر کی چربی، جسے فیٹی لیور (Fatty Liver) کہا جاتا ہے، شروع میں اکثر خاموش رہتی ہے...
08/08/2026

]]]/جگر کی چربی کی علامات کیا ہیں؟/[[[


جگر کی چربی، جسے فیٹی لیور (Fatty Liver) کہا جاتا ہے، شروع میں اکثر خاموش رہتی ہے۔ بہت سے لوگوں کو اس کا پتا الٹراساؤنڈ (Ultrasound)، جگر کے ٹیسٹ یا عام چیک اَپ کے دوران چلتا ہے۔ اس لیے درد یا تکلیف کا انتظار کرنا درست نہیں۔

؟
مسلسل تھکن، جسمانی سستی، پیٹ کے دائیں اوپری حصے میں بھاری پن، بدہضمی، بھوک کی کمی، گیس، پیٹ کا بڑھنا، وزن میں اضافہ، نیند کی خرابی اور طبیعت کا بوجھل رہنا فیٹی لیور کے اشارے ہو سکتے ہیں۔ یہ علامات ہر مریض میں لازمی نہیں ہوتیں، مگر مسلسل رہیں تو توجہ ضروری ہے۔


پیٹ کا بڑھنا صرف موٹاپا نہیں، بلکہ اندرونی چربی کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔ اندرونی چربی جگر، شوگر، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے بڑھتا ہوا پیٹ جسم کی طرف سے خطرے کی گھنٹی سمجھیں۔


کبھی مریض کو کوئی خاص تکلیف نہیں ہوتی، مگر الٹراساؤنڈ میں جگر پر چربی ظاہر ہو جاتی ہے۔ خون کے ٹیسٹ میں جگر کے خامرے یعنی ALT، AST، GGT، چکنائی یعنی ٹرائی گلیسرائیڈز (Triglycerides)، فاسٹنگ شوگر (Fasting Sugar) یا کولیسٹرول (Cholesterol) بڑھا ہوا آ سکتا ہے۔ اس لیے فیٹی لیور کو صرف علامات سے نہیں، ٹیسٹ سے بھی سمجھنا چاہیے۔


طب یونانی میں جگر کو بدن کا نہایت اہم عضو سمجھا جاتا ہے۔ بسیار خوری، مرغن غذا، خراب ہضم، کم حرکت، نیند کی خرابی اور غلط عادات جگر کو متاثر کرتی ہیں۔ جب غذا درست طور پر ہضم نہ ہو اور بدن میں حرکت کم ہو تو سستی، بھاری پن، چربی اور جگر کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

؟
جن افراد کا وزن زیادہ ہو، پیٹ نکلا ہوا ہو، شوگر یا پری شوگر (Prediabetes) ہو، کولیسٹرول یا ٹرائی گلیسرائیڈز زیادہ ہوں، بلڈ پریشر بڑھتا ہو، خاندان میں شوگر یا جگر کے مسائل ہوں، یا روزانہ جسمانی حرکت کم ہو، انہیں خاص طور پر محتاط رہنا چاہیے۔


اگر آنکھوں یا جلد میں پیلاہٹ ہو، پیٹ یا پاؤں پر سوجن ہو، وزن تیزی سے کم ہو، شدید کمزوری ہو، خون کی الٹی ہو، پاخانہ کالا آئے، بھوک بالکل ختم ہو جائے یا جگر کے ٹیسٹ مسلسل خراب رہیں تو فوراً مستند معالج یا ماہرِ امراضِ جگر سے رجوع کریں۔


1: میٹھے مشروبات، کولڈ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس مکمل ترک کریں۔
2: فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی اشیاء اور مرغن غذا سے پرہیز کریں۔
3: بیکری آئٹمز، زیادہ چینی اور بازاری سنیکس بند کریں۔
4: روزانہ کم از کم 30 منٹ واک کو معمول بنائیں۔
5: رات کا کھانا ہلکا اور جلدی کھائیں۔
6: وزن اور خاص طور پر پیٹ کی چربی کم کریں۔
7: شوگر، بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور جگر کے ٹیسٹ کرواتے رہیں۔
8: خود سے قہوہ، سپلیمنٹ یا دوائیں شروع نہ کریں۔


فیٹی لیور ہمیشہ درد سے ظاہر نہیں ہوتا۔ یہ خاموشی سے جگر، شوگر، وزن، کولیسٹرول اور دل کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے غذا درست کریں، واک شروع کریں، وزن کم کریں، نیند بہتر بنائیں اور بروقت ٹیسٹ کروائیں۔

، عادت اور درست تشخیص ضروری ہے۔

#حکیم ڈاکٹر فیصل غوث
پی ایچ ڈی اسلامک سکالر
فاضل طب یونانی و ہومیو
#حکمت #معدہ #ہاضمہ #شوگر #کولیسٹرول #واک

)]]   ؟ [[( فیٹی لیور کا مطلب ہے کہ جگر میں معمول سے زیادہ چربی جمع ہو جائے۔ جگر بدن کا اہم عضو ہے، یہ غذا، چربی، شوگر، ...
07/08/2026

)]] ؟ [[(


فیٹی لیور کا مطلب ہے کہ جگر میں معمول سے زیادہ چربی جمع ہو جائے۔ جگر بدن کا اہم عضو ہے، یہ غذا، چربی، شوگر، خون کی صفائی اور توانائی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب جگر میں چربی بڑھنے لگے تو یہ صرف جگر کا مسئلہ نہیں، بلکہ خراب طرزِ زندگی کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔


فیٹی لیور شروع میں اکثر خاموش رہتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو اس کا پتا الٹراساؤنڈ، جگر کے ٹیسٹ یا عام چیک اَپ کے دوران چلتا ہے۔ اس لیے اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

؟
پیٹ کی چربی، وزن بڑھنا، شوگر، کولیسٹرول، بلڈ پریشر، کم حرکت، فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات، زیادہ چینی، رات دیر سے کھانا، نیند کی کمی اور بے ترتیب معمولات فیٹی لیور کے عام اسباب میں شامل ہیں۔

؟
زیادہ وزن اور پیٹ کی چربی فیٹی لیور کے بڑے اسباب ہیں، مگر یہ صرف موٹے لوگوں کو نہیں ہوتا۔ بعض دبلے افراد میں بھی غلط غذا، کم حرکت، شوگر، کولیسٹرول یا خاندانی رجحان کی وجہ سے فیٹی لیور ہو سکتا ہے۔


طب یونانی میں جگر کو بدن کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ کھانا، مرغن غذا، خراب ہضم، کم حرکت، نیند کی خرابی اور بے اعتدال عادات جگر کو متاثر کر سکتی ہیں۔ جگر کی اصلاح کے لیے غذا، ہضم، مزاج، نیند اور حرکت کی درستگی ضروری ہے۔


فیٹی لیور میں صرف قہوہ، کیپسول یا سپلیمنٹ کافی نہیں ہوتے۔ اگر غذا غلط ہو، وزن بڑھ رہا ہو، واک نہ ہو، میٹھے مشروبات جاری رہیں اور نیند خراب ہو تو پائیدار فائدہ نہیں ہوتا۔ جگر کو وقتی نسخے سے زیادہ درست عادات کی ضرورت ہے۔


1: روزانہ واک کو معمول بنائیں۔
2: میٹھے مشروبات اور کولڈ ڈرنکس چھوڑ دیں ۔
3: فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی اور مرغن غذا کم سے کم استعمال کریں۔
4: رات کا کھانا ہلکا اور جلدی کھائیں۔
5: وزن اور پیٹ کی چربی کم کرنے کی کوشش کریں۔
6: شوگر، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول چیک کرواتے رہیں۔
7: نیند پوری کریں اور مسلسل بیٹھنے سے بچیں۔
8: خود سے سپلیمنٹ یا دوائیں شروع نہ کریں، مستند معالج سے مشورہ کریں۔

؟
اگر الٹراساؤنڈ میں فیٹی لیور آئے، جگر کے ٹیسٹ خراب ہوں، آنکھوں یا جلد میں پیلاہٹ ہو، پیٹ میں سوجن ہو، وزن تیزی سے کم ہو، شدید کمزوری ہو یا شوگر کنٹرول میں نہ ہو تو مستند معالج سے رجوع کریں۔


فیٹی لیور جسم کا ایک اہم پیغام ہے کہ غذا، وزن، واک، نیند اور عادات پر توجہ دی جائے۔ جگر کو سپلیمنٹ سے پہلے سادہ غذا، روزانہ واک اور درست طرزِ زندگی دیں۔

، عادت اور درست تشخیص ضروری ہے۔

حکیم ڈاکٹر فیصل غوث


#صحت #حکمت #واک #شوگر #کولیسٹرول

][ ویپ اور ہمارا معاشرہ: فیشن کے نام پر صحت کا نقصان ][ آج کل ہمارے معاشرے میں ویپ، ای سگریٹ اور خوشبودار فلیور والی ویپ...
04/08/2026

][ ویپ اور ہمارا معاشرہ: فیشن کے نام پر صحت کا نقصان ][


آج کل ہمارے معاشرے میں ویپ، ای سگریٹ اور خوشبودار فلیور والی ویپ ڈیوائسز کا استعمال بچوں، طلبہ اور نوجوانوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بہت سے بچے اسے فیشن، اسٹائل، دوستوں کے دباؤ یا تجسس کی وجہ سے استعمال کرتے ہیں، حالانکہ یہ عادت صحت کے لیے نقصان دہ اور نشہ آور ہو سکتی ہے۔

؟
ویپ ایک برقی آلہ ہے جس میں موجود لیکوئڈ گرم ہو کر دھوئیں جیسی بھاپ بناتا ہے۔ اس لیکوئڈ میں نکوٹین، خوشبودار اجزا اور مختلف کیمیائی مادے شامل ہو سکتے ہیں، جو پھیپھڑوں، دل، دماغ اور اعصابی نظام پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ نکوٹین نشہ آور مادہ ہے، خاص طور پر کم عمر بچوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔


آم، اسٹرابیری، منٹ، چاکلیٹ اور کینڈی جیسے فلیور بچوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ خوشبو اور ذائقہ کسی چیز کے محفوظ ہونے کی دلیل نہیں۔ یہ فلیور عادت کو آسان بناتے ہیں، مگر اندر موجود نکوٹین اور کیمیائی اجزا بدن کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔


کم عمر بچوں کا دماغ ابھی نشوونما کے مرحلے میں ہوتا ہے۔ نکوٹین توجہ، یادداشت، سیکھنے، مزاج اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ نوجوانی میں اس کا استعمال آئندہ نشہ آور عادات کے خطرے کو بھی بڑھا سکتا ہے۔


ویپ کا دھواں صرف پانی کی بھاپ نہیں ہوتا۔ اس میں باریک ذرات اور نقصان دہ کیمیائی مادے شامل ہو سکتے ہیں جو پھیپھڑوں میں جا کر سانس، کھانسی، سینے کی جکڑن اور دل کی دھڑکن جیسے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ مسلسل استعمال پھیپھڑوں اور دل کے لیے نقصان دہ بن سکتا ہے۔


ویپ کی عادت بچوں میں بے چینی، چڑچڑاپن، توجہ کی کمی، نیند کی خرابی اور پڑھائی میں کمزوری پیدا کر سکتی ہے۔ جب بچہ نکوٹین کا عادی ہونے لگتا ہے تو کچھ دیر استعمال نہ کرنے پر بے آرامی، غصہ، سر درد یا دوبارہ ویپ لینے کی شدید طلب محسوس ہو سکتی ہے۔


طب یونانی میں صحت کے لیے پاکیزہ ہوا، درست غذا، معتدل مزاج، اچھا ہضم، مناسب نیند، حرکت اور بدن کے فطری نظام کی حفاظت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ پھیپھڑوں میں مصنوعی دھواں، کیمیائی اجزا اور نشہ آور مادے داخل کرنا بدن کے مزاج، سانس، دل، دماغ اور قوت مدافعت کے لیے نقصان دہ عادت بن سکتا ہے۔


1: بچے کے پاس قلم نما یا چھوٹی برقی ڈیوائس ہونا۔
2: کمرے، کپڑوں یا بیگ میں میٹھی خوشبو آنا۔
3: بار بار تنہائی یا باتھ روم میں جانا۔
4: اچانک کھانسی، گلا خشک رہنا یا سانس بھاری ہونا۔
5: چڑچڑاپن، بے چینی یا نیند کی خرابی۔
6: جیب خرچ کا غیر معمولی استعمال۔
7: پڑھائی، توجہ یا مزاج میں واضح تبدیلی۔


1: بچوں کو ڈانٹنے کے بجائے محبت سے سمجھائیں۔
2: انہیں واضح کریں کہ ویپ محفوظ چیز نہیں۔
3: فلیور اور فیشن کے دھوکے سے آگاہ کریں۔
4: اسکول، کالج اور دوستوں کے ماحول پر نظر رکھیں۔
5: گھر میں سگریٹ یا ویپ کو معمول کی چیز نہ بنائیں۔
6: بچوں کو کھیل، ورزش اور مثبت مصروفیات دیں۔
7: اگر عادت بن چکی ہو تو شرمندہ کرنے کے بجائے معالج یا ماہر مشیر سے رہنمائی لیں۔

؟
اگر بچے کو مسلسل کھانسی، سانس میں دشواری، سینے میں درد، دل کی دھڑکن تیز ہونا، شدید بے چینی، چکر، نیند کی خرابی، پڑھائی میں اچانک کمی یا ویپ چھوڑنے پر شدید بے قراری ہو تو اسے معمولی نہ سمجھیں اور مستند معالج سے رجوع کریں۔


ویپ فیشن، اسٹائل یا محفوظ تفریح نہیں۔ یہ بچوں اور نوجوانوں کو نکوٹین کی عادت، پھیپھڑوں، دل، دماغ، نیند اور تعلیم کے نقصان کی طرف لے جا سکتی ہے۔ بچوں کو ویپ سے بچانا والدین، اساتذہ، معالجین اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

، عادت اور درست تشخیص ضروری ہے۔

حکیم ڈاکٹر فیصل غوث
پی ایچ ڈی اسلامک سکالر
#ویپ #ویپنگ **ng #نکوٹین

=]]   [[= معدہ درست ہو تو غذا صحیح ہضم ہوتی ہے، بدن کو طاقت ملتی ہے، جگر کو سہارا ملتا ہے اور طبیعت ہلکی رہتی ہے۔ لیکن ج...
03/08/2026

=]] [[=


معدہ درست ہو تو غذا صحیح ہضم ہوتی ہے، بدن کو طاقت ملتی ہے، جگر کو سہارا ملتا ہے اور طبیعت ہلکی رہتی ہے۔ لیکن جب معدہ خراب ہو جائے تو گیس، قبض، تیزابیت، بدہضمی، بھاری پن، منہ کا کڑوا ہونا اور جسمانی سستی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

1:
بے وقت کھانا معدہ کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ کبھی بہت دیر سے کھانا، کبھی بہت زیادہ کھا لینا، اور کبھی خالی پیٹ رہنا بدہضمی، گیس اور تیزابیت کا سبب بن سکتا ہے۔ کوشش کریں کہ کھانے کے اوقات مناسب اور مستقل ہوں۔

2:
معدہ کو سب سے زیادہ نقصان ضرورت سے زیادہ کھانے سے ہوتا ہے۔ کھانا ہمیشہ اتنا کھائیں کہ جسم کو توانائی ملے، مگر معدہ پر بوجھ نہ پڑے۔ بسیار خوری بدہضمی، بھاری پن، نیند کی خرابی اور وزن بڑھنے کا سبب بن سکتی ہے۔

3:
فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس، زیادہ مرچ مصالحہ، تلی ہوئی اشیاء، زیادہ چائے اور زیادہ میٹھا معدہ کو کمزور کر سکتے ہیں۔ سادہ گھر کا کھانا، سبزیاں، دالیں، پھل، فائبر والی غذا اور مناسب پانی معدہ کے لیے بہتر ہیں۔

4: ً_بعد_نہ_سوئیں
کھانے کے بعد معدہ کو ہضم کے لیے وقت چاہیے۔ فوراً لیٹنے سے تیزابیت، کھٹی ڈکاریں، گیس، سینے کی جلن اور نیند کی خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔ کھانے کے بعد ہلکی چہل قدمی کریں اور رات کا کھانا سونے سے دو سے تین گھنٹے پہلے کھائیں۔

5:
صرف غذا ہی کافی نہیں، جسمانی حرکت، مکمل نیند اور ذہنی سکون بھی معدہ کی صحت کے لیے ضروری ہیں۔ مسلسل بیٹھے رہنا، نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ ہاضمہ کو خراب کر سکتے ہیں۔ روزانہ ہلکی واک، مناسب آرام اور مثبت معمولات اپنائیں۔


طب یونانی میں معدہ، ہضم، غذا، مزاج، نیند، حرکت اور اخراج کو صحت کے بنیادی اصولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس لیے معدہ کی اصلاح صرف دوا سے نہیں، بلکہ غذا، وقت، مقدار، حرکت اور عادات کی اصلاح سے شروع ہوتی ہے۔

؟
اگر معدہ کی تکلیف مسلسل رہے، وزن کم ہو، پاخانہ میں خون آئے، مسلسل قے ہو، شدید درد ہو، نگلنے میں دشواری ہو یا تیزابیت بار بار ہو تو خود علاجی کے بجائے مستند معالج سے رجوع کریں۔


معدہ کی اصلاح کے لیے پانچ باتیں یاد رکھیں: وقت پر کھانا، کم اور معتدل کھانا، سادہ غذا، کھانے کے بعد فوراً نہ سونا، اور روزانہ حرکت و سکون کا خیال رکھنا۔ معدہ درست ہو تو صحت بہتر ہوتی ہے۔

، عادت اور درست تشخیص ضروری ہے۔


پی ایچ ڈی اسلامک سکالر
#معدہ #ہاضمہ #بدہضمی #گیس #قبض #تیزابیت #صحت #حکمت #واک #نیند

)]  [( ہمارے معاشرے میں چائے روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ صبح اٹھتے ہی چائے، کام کے دوران چائے، مہمان کے ساتھ چا...
01/08/2026

)] [(


ہمارے معاشرے میں چائے روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ صبح اٹھتے ہی چائے، کام کے دوران چائے، مہمان کے ساتھ چائے، اور بعض لوگ تو دن میں کئی کئی کپ چائے پیتے ہیں۔ اعتدال میں چائے بعض افراد کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتی، مگر زیادہ چائے معدہ، نیند، بھوک اور ہاضمہ کو متاثر کر سکتی ہے۔


خالی پیٹ چائے پینا بہت سے لوگوں میں تیزابیت، سینے کی جلن، کھٹی ڈکاریں، گیس، معدہ کی بے آرامی اور بھوک کی کمی پیدا کر سکتا ہے۔ صبح ناشتہ کیے بغیر صرف چائے پینے سے جسم کو حقیقی غذا نہیں ملتی، بلکہ وقتی چستی محسوس ہوتی ہے۔


زیادہ چائے پینے سے بعض افراد میں بدہضمی، پیٹ کا بھاری پن، قبض، گیس اور اپھارہ بڑھ سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر چائے زیادہ پتی، زیادہ چینی، بار بار اور کھانے کے فوراً بعد پی جائے تو معدہ پر بوجھ بڑھ سکتا ہے۔


چائے میں زیادہ چینی وزن، شوگر، جگر کی چربی اور سستی کے مسائل کو بڑھا سکتی ہے۔ جو لوگ دن میں کئی کپ میٹھی چائے پیتے ہیں، وہ لاشعوری طور پر روزانہ کافی مقدار میں چینی استعمال کر لیتے ہیں۔


چائے میں کیفین پائی جاتی ہے، جو دماغ کو وقتی طور پر چست کرتی ہے۔ اگر شام یا رات کو زیادہ چائے پی جائے تو نیند دیر سے آ سکتی ہے، نیند ہلکی ہو سکتی ہے اور صبح اٹھتے وقت جسم بوجھل محسوس ہو سکتا ہے۔


طب یونانی میں غذا، مشروبات، مزاج، ہضم اور وقتِ استعمال کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ ہر چیز ہر مزاج اور ہر وقت کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔ چائے اگر اعتدال میں ہو تو بعض افراد کو موافق آ سکتی ہے، مگر کثرت، خالی پیٹ استعمال، زیادہ چینی اور بے وقت استعمال معدہ کو کمزور کر سکتا ہے۔


1: خالی پیٹ چائے پینے سے پرہیز کریں۔
2: دن میں چائے کی مقدار محدود رکھیں۔
3: زیادہ پتی اور زیادہ چینی کم کریں۔
4: کھانے کے فوراً بعد چائے نہ پئیں۔
5: رات دیر سے چائے پینے سے بچیں۔
6: چائے کے ساتھ پانی پینے کی عادت بھی رکھیں۔
7: چائے کو ناشتہ یا غذا کا بدل نہ بنائیں۔

؟
اگر چائے پینے کے بعد تیزابیت، سینے کی جلن، دل کی دھڑکن، بے چینی، نیند کی خرابی، گیس، قبض یا معدہ کی تکلیف بڑھتی ہو تو چائے کی مقدار کم کریں اور ضرورت ہو تو مستند معالج سے مشورہ کریں۔


چائے خود مسئلہ نہیں، مسئلہ اس کا بے وقت، زیادہ اور غلط استعمال ہے۔ چائے کو عادت نہیں، اعتدال کے ساتھ استعمال کریں کیونکہ معدہ کی حفاظت صحت کی بنیاد ہے۔

،عادت اور درست تشخیص ضروری ہے۔

حکیم ڈاکٹر فیصل غوث
پی ایچ ڈی اسلامک سکالر
#چائے #معدہ #ہاضمہ #بدہضمی #گیس #اپھارہ #قبض #تیزابیت #نیند #کیفین #صحت #حکمت

)] پانی کھانے سے پہلے یا بعد؟ [( #پانی صحت کی بنیادی ضرورت ہےپانی بدن کی زندگی، ہضم، خون کی روانی، گردوں کی صفائی، جسمان...
30/07/2026

)] پانی کھانے سے پہلے یا بعد؟ [(

#پانی صحت کی بنیادی ضرورت ہے
پانی بدن کی زندگی، ہضم، خون کی روانی، گردوں کی صفائی، جسمانی حرارت کے توازن اور مجموعی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ لیکن پانی پینے کا وقت، مقدار اور طریقہ بھی اہم ہے، خاص طور پر کھانے کے ساتھ۔

#کھانے سے پہلے پانی
کھانے سے کچھ دیر پہلے مناسب مقدار میں پانی پینا مفید ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو پانی کم پیتے ہیں۔ اس سے جسم میں خشکی کم ہوتی ہے، معدہ بہتر طور پر غذا قبول کرتا ہے اور بعض افراد میں ضرورت سے زیادہ کھانے کی عادت بھی کم ہو سکتی ہے۔

#کھانے کے دوران پانی
کھانے کے دوران بہت زیادہ پانی پینا بعض لوگوں میں معدہ کا بوجھ، گیس، اپھارہ اور بدہضمی بڑھا سکتا ہے۔ اگر ضرورت ہو تو چند گھونٹ پانی پی لیا جائے، مگر کھانے کے ساتھ بار بار زیادہ پانی پینے کی عادت مناسب نہیں۔

#کھانے کے فوراً بعد پانی
کھانے کے فوراً بعد بہت زیادہ ٹھنڈا پانی یا کولڈ ڈرنک پینا معدہ اور ہضم پر بوجھ ڈال سکتا ہے۔ اس سے بعض افراد میں بدہضمی، گیس، پیٹ کا بھاری پن اور تیزابیت بڑھ سکتی ہے۔ بہتر ہے کہ کھانے کے بعد کچھ وقفہ رکھا جائے، پھر حسبِ ضرورت پانی پیا جائے۔

#طب یونانی کی روشنی میں
طب یونانی میں پانی، غذا، ہضم، مزاج اور وقتِ استعمال کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ غذا کے فوراً بعد بہت زیادہ پانی، خاص طور پر ٹھنڈا پانی، ہضم کو کمزور کر سکتا ہے۔ معتدل مقدار، مناسب وقت اور بدن کی ضرورت کے مطابق پانی پینا صحت کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے۔

#پانی پینے کے آسان اصول
1: دن بھر مناسب مقدار میں پانی پئیں۔
2: شدید پیاس لگنے تک پانی کو مؤخر نہ کریں۔
3: کھانے کے دوران ضرورت ہو تو چند گھونٹ پانی پی سکتے ہیں۔
4: کھانے کے فوراً بعد بہت زیادہ پانی یا ٹھنڈی بوتل سے پرہیز کریں۔
5: بہت زیادہ ٹھنڈا پانی، خاص طور پر کھانے کے ساتھ، کم استعمال کریں۔
6: گرمی، پسینہ، ورزش اور بخار میں پانی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔
7: گردہ، دل یا دیگر خاص بیماریوں میں پانی کی مقدار معالج کے مشورے سے رکھیں۔

؟
اگر کسی کو گردوں کی بیماری، دل کی کمزوری، سوجن، پیشاب کم آنا، سانس پھولنا یا ڈاکٹر کی طرف سے پانی محدود کرنے کی ہدایت ہو تو وہ اپنی مرضی سے پانی زیادہ نہ پئے، بلکہ معالج کے مشورے پر عمل کرے۔


پانی صحت کے لیے ضروری ہے، مگر ہر وقت اور ہر مقدار میں نہیں۔ کھانے کے ساتھ پانی اعتدال سے پئیں، بہت زیادہ ٹھنڈا پانی اور کولڈ ڈرنکس سے بچیں، اور بدن کی ضرورت کے مطابق پانی استعمال کریں۔

@) دوا سے پہلے غذا، عادت اور درست تشخیص ضروری ہے۔(@

#حکیم ڈاکٹر فیصل غوث
#پی ایچ ڈی اسلامک سکالر
#فاضل طب یونانی و ہومیوپیتھی
#پانی #صحت #معدہ #ہاضمہ #بدہضمی #گیس #اپھارہ #تیزابیت #حکمت

]]] کھانے کے فوراً بعد سونا کیوں نقصان دہ ہے؟ [[[**یہ عادت عام مگر نقصان دہ ہےآج کل بہت سے لوگ رات کا کھانا دیر سے کھاتے...
29/07/2026

]]] کھانے کے فوراً بعد سونا کیوں نقصان دہ ہے؟ [[[

**یہ عادت عام مگر نقصان دہ ہے
آج کل بہت سے لوگ رات کا کھانا دیر سے کھاتے ہیں اور کھانے کے فوراً بعد لیٹ جاتے ہیں یا سو جاتے ہیں۔ بظاہر یہ معمولی عادت محسوس ہوتی ہے، لیکن یہ معدہ، ہاضمہ، تیزابیت، نیند، وزن اور جگر پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

**معدہ پر اثر
کھانے کے بعد معدہ کو غذا ہضم کرنے کے لیے وقت چاہیے ہوتا ہے۔ جب انسان فوراً لیٹ جائے تو غذا کا ہضم متاثر ہو سکتا ہے، جس سے بدہضمی، گیس، اپھارہ، کھٹی ڈکاریں، پیٹ کا بھاری پن اور سینے کی جلن پیدا ہو سکتی ہے۔

**تیزابیت کیوں بڑھتی ہے؟
کھانے کے فوراً بعد لیٹنے سے معدہ کا تیزابی مواد اوپر کی طرف آ سکتا ہے، جس سے گلے میں جلن، سینے میں جلن، کھٹی ڈکاریں، منہ کا کڑوا پن، خشک کھانسی اور رات کی بے آرامی محسوس ہو سکتی ہے۔ بعض لوگ اسے دل کی گھبراہٹ سمجھتے ہیں، حالانکہ وجہ معدہ کی تیزابیت بھی ہو سکتی ہے۔

**نیند اور وزن پر اثر
بھرا ہوا معدہ بدن کو مکمل آرام نہیں لینے دیتا۔ نیند گہری نہیں آتی، صبح سر بھاری محسوس ہوتا ہے اور دن بھر سستی رہتی ہے۔ اگر یہ عادت مسلسل رہے تو وزن بڑھنے، پیٹ نکلنے، شوگر کے خطرے اور جگر پر بوجھ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

**طب یونانی کی روشنی میں
طب یونانی میں غذا، ہضم، وقتِ غذا، حرکت اور نیند کو صحت کے اہم اصولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کھانے کے فوراً بعد سونا ہضم کے عمل کو کمزور کر سکتا ہے، اس لیے غذا کے بعد مناسب وقفہ اور ہلکی حرکت کو صحت کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے۔

**آسان احتیاطی اصول
1: رات کا کھانا ہلکا رکھیں۔
2: سونے سے کم از کم دو سے تین گھنٹے پہلے کھانا کھا لیں۔
3: کھانے کے فوراً بعد لیٹنے کے بجائے ہلکی چہل قدمی کریں۔
4: رات کو فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس، زیادہ میٹھا اور مرغن غذا کم کریں۔
5: کھانا آہستہ اور اچھی طرح چبا کر کھائیں۔
6: دیر رات چائے یا کافی سے پرہیز کریں۔
7: مسلسل تیزابیت ہو تو خود علاجی نہ کریں۔

**کب معالج سے رجوع کریں؟
اگر کھانے کے بعد مسلسل سینے میں جلن، گلے میں جلن، قے، وزن میں کمی، پاخانہ میں خون، شدید پیٹ درد، نگلنے میں دشواری یا رات کو بار بار کھانسی ہو تو مستند معالج سے رجوع کریں۔

**آخری بات
کھانے کے فوراً بعد سونا صرف ایک عادت نہیں، بلکہ معدہ اور ہضم کے لیے بوجھ بن سکتا ہے۔ رات کا کھانا جلدی، ہلکا اور اعتدال کے ساتھ کھائیں، تاکہ معدہ بھی پرسکون رہے اور نیند بھی بہتر ہو۔

@)دوا سے پہلے غذا، عادت اور درست تشخیص ضروری ہے۔(@

حکیم ڈاکٹر فیصل غوث
پی ایچ ڈی اسلامک سکالر
ً_بعد_سونا #معدہ #ہاضمہ #بدہضمی #گیس #اپھارہ #تیزابیت #نیند #وزن #موٹاپا #جگر #شوگر #صحت #حکمت #واک

>[ تیزابیت کا اصل سبب کیا ہے؟ ]<** تیزابیت معمولی بات نہیںتیزابیت، سینے کی جلن، کھٹی ڈکاریں، گلے میں جلن، منہ کا کڑوا ہو...
27/07/2026

>[ تیزابیت کا اصل سبب کیا ہے؟ ]<

** تیزابیت معمولی بات نہیں
تیزابیت، سینے کی جلن، کھٹی ڈکاریں، گلے میں جلن، منہ کا کڑوا ہونا، کھانے کے بعد بھاری پن اور رات کو بے سکونی آج کل بہت عام مسئلہ بن چکا ہے۔ اکثر لوگ وقتی سکون کے لیے سوڈا، ٹھنڈی بوتل، قہوہ یا انٹی ایسڈ استعمال کر لیتے ہیں، مگر اصل وجہ پر توجہ نہیں دیتے۔

** تیزابیت کی عام وجوہات
تیزابیت عموماً دیر سے کھانا، زیادہ کھانا، مرغن اور مصالحہ دار غذا، فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس، زیادہ چائے، خالی پیٹ رہنا، کھانے کے فوراً بعد لیٹ جانا، موٹاپا، قبض، ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور بے ترتیب طرزِ زندگی کی وجہ سے پیدا ہو سکتی ہے۔

***طب یونانی کی روشنی میں
طب یونانی میں معدہ، ہضم، غذا، مزاج اور وقتِ غذا کو صحت کے اہم اصولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جب معدہ کمزور ہو، غذا دیر سے ہضم ہو، کھانے کا وقت غلط ہو، مقدار زیادہ ہو یا بدن میں بے اعتدالی پیدا ہو جائے تو تیزابیت، جلن، ڈکار اور بدہضمی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اس لیے تیزابیت کا علاج صرف وقتی دوا نہیں، بلکہ غذا، وقت اور عادات کی اصلاح سے شروع ہوتا ہے۔

** تیزابیت کے ممکنہ اثرات
مسلسل تیزابیت سے گلے کی جلن، کھانسی، بدبودار سانس، نیند کی خرابی، معدہ کی سوزش، بھوک کی کمی، سینے میں جلن اور مزاج میں چڑچڑاپن پیدا ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات تیزابیت کی وجہ سے دل گھبرانے یا سینے میں دباؤ جیسی کیفیت بھی محسوس ہو سکتی ہے۔

** تیزابیت سے بچاؤ کے آسان اصول
1: کھانا وقت پر اور اعتدال سے کھائیں۔
2: رات کا کھانا ہلکا اور جلدی کھائیں۔
3: کھانے کے فوراً بعد لیٹنے سے پرہیز کریں۔
4: فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس، زیادہ مرچ مصالحہ اور تلی ہوئی اشیاء کم کریں۔
5: چائے، کافی اور بہت زیادہ میٹھا کم استعمال کریں۔
6: قبض کو نظر انداز نہ کریں۔
7: روزانہ ہلکی چہل قدمی کریں۔
8: ذہنی دباؤ کم کریں اور نیند پوری کریں۔

** کب معالج سے رجوع کریں؟
اگر تیزابیت مسلسل رہے، سینے میں شدید درد ہو، قے آئے، وزن کم ہو، پاخانہ میں خون آئے، گلے میں مسلسل جلن رہے، نگلنے میں دشواری ہو یا رات کو بار بار تکلیف ہو تو خود علاج کے بجائے مستند معالج سے رجوع کریں۔

** آخری بات
تیزابیت صرف معدہ کی جلن نہیں، بلکہ غذا، وقت، ہضم، قبض، ذہنی دباؤ اور طرزِ زندگی کی بے اعتدالی کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔ معدہ کو سکون دیں، غذا کو سادہ رکھیں اور عادات درست کریں۔

])دوا سے پہلے غذا، عادت اور درست تشخیص ضروری ہے۔([

حکیم ڈاکٹر فیصل غوث
پی ایچ ڈی اسلامک سکالر
#تیزابیت #معدہ #ہاضمہ #بدہضمی #گیس #اپھارہ #قبض #صحت #حکمت #واک

]] گیس اور اپھارہ کیوں ہوتا ہے؟ [[** گیس معمولی مسئلہ نہیںگیس، اپھارہ، پیٹ کا بھاری پن، بار بار ڈکار آنا، پیٹ میں آوازیں...
25/07/2026

]] گیس اور اپھارہ کیوں ہوتا ہے؟ [[

** گیس معمولی مسئلہ نہیں
گیس، اپھارہ، پیٹ کا بھاری پن، بار بار ڈکار آنا، پیٹ میں آوازیں آنا اور کھانے کے بعد بے آرامی آج کل بہت عام مسئلہ بن چکا ہے۔ اکثر لوگ اسے معمولی سمجھ کر چورن، قہوہ، سوڈا یا وقتی دوا استعمال کر لیتے ہیں، مگر اصل وجہ پر توجہ نہیں دیتے۔

**گیس کی عام وجوہات
گیس اور اپھارہ عموماً بدہضمی، جلدی جلدی کھانے، زیادہ کھانے، کھانے کے فوراً بعد لیٹنے، فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس، زیادہ چائے، مرغن غذا، مصالحہ دار کھانوں، قبض، کم پانی، کم حرکت اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے پیدا ہو سکتے ہیں۔

**طب یونانی کی روشنی میں
طب یونانی میں معدہ، ہضم، غذا، مزاج اور اخراج کو صحت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ جب غذا صحیح طرح ہضم نہ ہو، معدہ کمزور ہو، قبض موجود ہو، یا جسم میں حرکت کم ہو تو غذا معدہ اور آنتوں میں ٹھہر کر گیس، اپھارہ اور بھاری پن پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے گیس کا علاج صرف وقتی سکون نہیں، بلکہ ہضم، غذا اور عادات کی اصلاح سے شروع ہوتا ہے۔

**گیس کے ممکنہ اثرات
مسلسل گیس اور اپھارہ سے پیٹ بھاری رہتا ہے، بھوک کم ہو سکتی ہے، بدہضمی بڑھ سکتی ہے، سینے میں جلن ہو سکتی ہے، دل گھبرانے جیسی کیفیت محسوس ہو سکتی ہے، سر بھاری رہ سکتا ہے اور طبیعت میں چڑچڑاپن پیدا ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات گیس کا دباؤ سینے یا پسلیوں میں درد جیسا احساس بھی دے سکتا ہے۔

**گیس سے بچاؤ کے آسان اصول
1: کھانا آرام سے اور اچھی طرح چبا کر کھائیں۔
2: ضرورت سے زیادہ کھانے سے بچیں۔
3: فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس اور زیادہ چکنائی کم کریں۔
4: رات کا کھانا ہلکا اور جلدی کھائیں۔
5: کھانے کے فوراً بعد لیٹنے کے بجائے ہلکی چہل قدمی کریں۔
6: قبض کو نظر انداز نہ کریں۔
7: روزانہ مناسب پانی پئیں اور جسم کو حرکت دیں۔
8: ذہنی دباؤ کم کریں اور نیند پوری کریں۔

**کب معالج سے رجوع کریں؟
اگر گیس کے ساتھ شدید پیٹ درد، مسلسل قے، وزن میں کمی، پاخانہ میں خون، شدید تیزابیت، بھوک ختم ہونا، نگلنے میں دشواری یا سینے میں مسلسل درد ہو تو خود علاج کے بجائے مستند معالج سے رجوع کریں۔

**آخری بات
گیس اور اپھارہ صرف پیٹ کی ہوا نہیں، بلکہ ہضم، غذا، قبض، ذہنی دباؤ اور طرزِ زندگی کی خرابی کا اشارہ بھی ہو سکتے ہیں۔ معدہ کو درست کریں، غذا کو سادہ رکھیں، وقت پر کھائیں اور جسم کو حرکت دیں۔

>)دوا سے پہلے غذا، عادت اور درست تشخیص ضروری ہے۔(<

**حکیم ڈاکٹر فیصل غوث
پی ایچ ڈی اسلامک سکالر
#گیس #اپھارہ #ڈکار #معدہ #ہاضمہ #بدہضمی #تیزابیت #قبض #صحت #حکمت #واک #ورزش #نیند

)]] قبض کیوں ہوتی ہے؟[[(**قبض معمولی مسئلہ نہیںقبض کو اکثر لوگ معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ معدہ اور...
23/07/2026

)]] قبض کیوں ہوتی ہے؟[[(

**قبض معمولی مسئلہ نہیں
قبض کو اکثر لوگ معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ معدہ اور آنتوں کے نظام کی خرابی کی اہم علامت ہے۔ اگر پاخانہ دیر سے آئے، سخت ہو، زور لگانا پڑے، پیٹ بھاری رہے، گیس بنے یا طبیعت بوجھل محسوس ہو تو یہ قبض کی علامات ہو سکتی ہیں۔

**قبض کی عام وجوہات
قبض کی بڑی وجوہات میں پانی کم پینا، فائبر والی غذا کم کھانا، سبزیاں اور پھل کم استعمال کرنا، مسلسل بیٹھے رہنا، ورزش نہ کرنا، رات دیر سے کھانا، فاسٹ فوڈ، زیادہ چائے، ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور وقت پر بیت الخلا نہ جانا شامل ہیں۔

** طب یونانی کی روشنی میں
طب یونانی میں ہضم، غذا، مزاج، حرکت اور اخراج کو صحت کے بنیادی اصولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جب غذا درست نہ ہو، ہضم کمزور ہو، بدن میں خشکی بڑھے، حرکت کم ہو اور اخراج کا نظام متاثر ہو جائے تو قبض پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لیے قبض کا علاج صرف وقتی دوا نہیں، بلکہ غذا، پانی، حرکت اور عادات کی اصلاح سے شروع ہوتا ہے۔

** قبض کے ممکنہ اثرات
مسلسل قبض سے پیٹ میں بوجھ، گیس، بدہضمی، سر درد، منہ کا کڑوا پن، چڑچڑاپن، بھوک کی کمی، بواسیر اور جسمانی سستی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے قبض کو معمولی سمجھ کر مسلسل برداشت نہیں کرنا چاہیے۔

**قبض سے بچاؤ کے آسان اصول
1: روزانہ مناسب مقدار میں پانی پئیں۔
2: سبزیاں، پھل، دالیں اور فائبر والی غذا استعمال کریں۔
3: فاسٹ فوڈ، زیادہ چائے، کولڈ ڈرنکس اور بازاری غذا کم کریں۔
4: روزانہ کم از کم 20 سے 30 منٹ واک کریں۔
5: رات کا کھانا ہلکا اور جلدی کھائیں۔
6: بیت الخلا کی حاجت کو نہ روکیں۔
7: نیند پوری کریں اور ذہنی دباؤ کم کریں۔

**کب معالج سے رجوع کریں؟
اگر قبض مسلسل رہے، پاخانہ میں خون آئے، وزن کم ہو، شدید پیٹ درد ہو، قے آئے، بھوک ختم ہو جائے، یا اچانک قبض بہت زیادہ بڑھ جائے تو خود علاج کے بجائے مستند معالج سے رجوع کریں۔

**آخری بات
قبض صرف پاخانہ رکنے کا نام نہیں، بلکہ بدن کے نظامِ ہضم اور اخراج کی خرابی کا اشارہ ہے۔ غذا درست کریں، پانی مناسب پئیں، جسم کو حرکت دیں اور عادات بدلیں؛ کیونکہ معدہ اور آنتوں کی اصلاح صحت کی بنیاد ہے۔

* ))دوا سے پہلے غذا، عادت اور درست تشخیص ضروری ہے۔((

**حکیم ڈاکٹر فیصل غوث
#قبض #معدہ #ہاضمہ #بدہضمی #گیس #بواسیر #صحت #حکمت #سبزیاں #پھل #واک #ورزش #نیند

Address

عوامی انقلابی دواخانہ بالمقابل البسی سی این جی جلالپورجٹاں شہر(گجرات)
Guliana

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923338505020

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakeem Faisal Gulyanvi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Hakeem Faisal Gulyanvi:

Shortcuts

Share