Psychology services

Psychology services I am Dr. Sahira. If you have problems in your daily routine life like family problems, learning prob

02/06/2025
07/12/2024

بطور سائیکالوجسٹ ہم سے کہا جاتا ہے کہ سائیکالوجی کا تو سکوپ ہی نہیں ہے، یا کوئی پوچھ لے کہ سائیکالوجسٹ کرتے کیا ہیں تو ہمارے پاس رٹا رٹایا جواب ہوتا ہے کہ وہ پاگلوں کو ٹھیک کرتے ہیں یا نشے والوں کو ٹھیک کرتے ہیں یا سپیشل بچوں پر کام کرتے ہیں

کیا کبھی اس گراؤنڈ سے باہر نکل کر بھی سوچا ہے بطور سائیکالوجسٹ ڈیلی لائف میں کہاں کہاں ہماری اشد ضرورت ہوتی ہے جسکو اتنا نارملائز کر دیا گیا ہے کہ وہ بیسکس جب خراب ہوتی ہیں تو بڑے ذہنی مسائل کو جنم دیتی ہیں۔
کلاس روم میں جس بچے کے ساتھ ہوٹنگ ہو رہی ہو اور وہ جواب دینے کی بجائے رونے یا گالیاں نکالنے پر مجبور ہو اسکو بھی سائیکالوجسٹ کی ضرورت ہوتی ہے

اک دوست جو دوستوں کی محفل میں بیٹھ کر ہمیشہ اپنی انسلٹ کروا کر اندر کی اندر کڑتا ہے اسکو اچھے انداز میں جواب دینے کا ہنر سیکھانے کے لیے اک سائیکالوجسٹ کی ضرورت ہوتی ہے

اک بچہ جو اچھا گا سکتا ہے صرف سوسائٹی کے پریشر سے وہ نہ گا رہا ہو اسکو اک سائیکالوجسٹ کی ضرورت ہوتی ہے

اک بوڑھا جسکو سب یہ کہہ کر پھینک دیتے ہیں کہ اب اپکی آواز نہ آئے, یا آپ کا تو اب دماغ خراب ہو گیا ہے اسکو آپکی ضرورت ہے

اک عورت جو روز اپنے شوہر سے کچھ کہنا چاہتی ہے مگر کہہ نہیں پاتی اسکو سائیکالوجسٹ کی ضرورت ہوتی ہے

اک لڑکی جو اک اچھی سپیکر بن سکتی ہے مگر اسکو وہاں روک دیا جاتا ہے اسکو اک سائیکالوجسٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔

اک عورت جو اپنے غلط فیصلوں پر نادم ہے مگر کسی کو کچھ بتا نہیں سکتی اسکے ایموشنز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے اک سائیکالوجسٹ کی ضرورت ہے

اک بچہ جسکو کلاس اور گھر پر شرارتی بچہ سمجھ کر ہمیشہ دھتکارا جاتا ہے اسکو اک سائیکالوجسٹ کی ضرورت ہوتی ہے

میٹرک میں اک کئیریر کونسلر کے طور پر سائیکالوجسٹ کا بہت اہم رول ہوتا ہے جس پر بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے اسکو ہمیشہ سے نظرانداز کیا جا رہا ہے،

کلالج میں سٹوڈنٹس کو انرجی چینلائزنگ کے لیے اک بہترین سائیکالوجسٹ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی انرجی کو پازیٹیو وے میں استمال کر سکے۔

بہت سے اور ایسی جگہیں جن کو ہم نے اتنا غیر اہم سمجھ لیا ہے یا ان کو اہمیت نہیں دیتے جہاں جہاں ہماری ضرورت ہے اسکو نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ بعد میں بڑے نفسیاتی ایشوز، یا اس شخص کی ابلیٹیز کو ویسٹ کر دیتے ہیں جسکا نقصان معاشرے پر ہوتا ہے اور اک سائیکالوجسٹ کی حثیت سے اگر وہ اس روح کے علاج کا دعویدار ہے تو اپنے اردگرد دیکھے، اور ایسے چھوٹے چھوٹے مسائل جو کل کو کسی بڑے ذہنی مسئلے کی وجہ بن سکتی ہیں انکو ہائی لائٹ کریں اور ان پر کام کرنے کا عزم کریں

20/10/2024

جو شخص غصے کی کیمسٹری کو سمجھتا ہو وہ بڑی آسانی سے غصہ کنٹرول کر سکتا ہے“
”ہمارے اندر سولہ کیمیکلز ہیں‘ یہ کیمیکلز ہمارے جذبات‘ ہمارے ایموشن بناتے ہیں‘ ہمارے ایموشن ہمارے موڈز طے کرتے ہیں اور یہ موڈز ہماری پرسنیلٹی بناتے ہیں“ ”ہمارے ہر ایموشن کا دورانیہ 12 منٹ ہوتا ہے“ ”مثلاً غصہ ایک جذبہ ہے‘ یہ جذبہ کیمیکل ری ایکشن سے پیدا ہوتا ہے‘مثلاً ہمارے جسم نے انسولین نہیں بنائی یا یہ ضرورت سے کم تھی‘ ہم نے ضرورت سے زیادہ نمک کھا لیا‘
ہماری نیند پوری نہیں ہوئی یا پھر ہم خالی پیٹ گھر سے باہر آ گئے‘ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟ ہمارے اندر کیمیکل ری ایکشن ہو گا‘ یہ ری ایکشن ہمارا بلڈ پریشر بڑھا دے گا اور یہ بلڈ پریشر ہمارے اندر غصے کا جذبہ پیدا کر دے گا‘ ہم بھڑک اٹھیں گے لیکن ہماری یہ بھڑکن صرف 12 منٹ طویل ہو گی‘ ہمارا جسم 12 منٹ بعد غصے کو بجھانے والے کیمیکل پیدا کر دے گا اور یوں ہم اگلے 15منٹوں میں کول ڈاؤن ہو جائیں گے چنانچہ ہم اگر غصے کے بارہ منٹوں کو مینیج کرنا سیکھ لیں تو پھر ہم غصے کی تباہ کاریوں سے بچ جائیں گے“
ہمارے چھ بیسک ایموشنز ہیں‘ غصہ‘ خوف‘ نفرت‘ حیرت‘ لطف(انجوائے) اور اداسی‘ ان تمام ایموشنز کی عمر صرف بارہ منٹ ہو تی ہے‘ ہمیں صرف بارہ منٹ کیلئے خوف آتا ہے‘ ہم صرف 12 منٹ قہقہے لگاتے ہیں‘ ہم صرف بارہ منٹ اداس ہوتے ہیں‘ ہمیں نفرت بھی صرف بارہ منٹ کیلئے ہوتی ہے‘ ہمیں بارہ منٹ غصہ آتا ہے اور ہم پر حیرت کا غلبہ بھی صرف 12 منٹ رہتا ہے‘
ہمارا جسم بارہ منٹ بعد ہمارے ہر جذبے کو نارمل کر دیتا ہے“ ”آپ ان جذبوں کو آگ کی طرح دیکھیں‘ آپ کے سامنے آگ پڑی ہے‘ آپ اگر اس آگ پر تھوڑا تھوڑا تیل ڈالتے رہیں گے‘ آپ اگر اس پر خشک لکڑیاں رکھتے رہیں گے تو کیا ہو گا ؟ یہ آگ پھیلتی چلی جائے گی‘ یہ بھڑکتی رہے گی‘
ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے جذبات کو بجھانے کی بجائے ان پر تیل اور لکڑیاں ڈالنے لگتے ہیں چنانچہ وہ جذبہ جس نے 12 منٹ میں نارمل ہو جانا تھا وہ دو دو‘ تین تین دن تک وسیع ہو جاتا ہے‘ ہم اگر دو تین دن میں بھی نہ سنبھلیں تو وہ جذبہ ہمارا طویل موڈ بن جاتا ہے اور یہ موڈ ہماری شخصیت‘ ہماری پرسنیلٹی بن جاتا ہے یوں لوگ ہمیں غصیل خان‘ اللہ دتہ اداس‘ ملک خوفزدہ‘ نفرت شاہ‘ میاں قہقہہ صاحب اور حیرت شاہ کہنا شروع کر دیتے ہیں“
وجہ صاف ظاہر ہے‘ جذبے نے بارہ منٹ کیلئے ان کے چہرے پر دستک دی لیکن انہوں نے اسے واپس نہیں جانے دیا اور یوں وہ جذبہ حیرت ہو‘ قہقہہ ہو‘ نفرت ہو‘ خوف ہو‘ اداسی ہو یا پھر غصہ ہو وہ ان کی شخصیت بن گیا‘ وہ ان کے چہرے پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے درج ہو گیا‘ یہ لوگ اگر وہ بارہ منٹ مینج کر لیتے تو یہ عمر بھر کی خرابی سے بچ جاتے‘ یہ کسی ایک جذبے کے غلام نہ بنتے‘ یہ اس کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہوتے“ ” لیکن ہم سب بارہ منٹ کے قیدی ہیں‘ ہم اگر کسی نہ کسی طرح یہ قید گزار لیں تو ہم لمبی قید سے بچ جاتے ہیں ورنہ یہ 12 منٹ ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتے“۔
جب بھی کسی جذبے کے غلبے میں آئیں تو میں سب سے پہلے اپنا منہ بند کر لیں زبان سے ایک لفظ نہیں بولیں میں قہقہہ لگانے کی بجائے صرف ہنسیں اور ہنستے ہنستے کوئی دوسرا کام شروع کر دیں ‘ خوف‘ غصے‘ اداسی اور لطف کے حملے میں واک کیلئے چلے جاییں
خاموش رہیں اور سونامی خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ خاموشی کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ وہ بہرحال پسپا ہو جاتاہے‘ آپ بھی خاموش رہ کر زندگی کے تمام طوفانوں کو شکست دے سکتے ھیں۔

11/10/2024

Exercise for feeling fresh

Alhamdulillah got membership of international society of substance use professionals
07/10/2024

Alhamdulillah got membership of international society of substance use professionals

Address

Haripur

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Psychology services posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category