Spiritual Healer روحانی طبیب

Call Directions

Spiritual Healer روحانی طبیب Are you upset ? Are you unemployed ? Have you been tired of your life ? How Can We Help You !

Feel Free To Inbox Financial & Spiritual support

We Are Always Open For Sad Souls especially Depression & Anxiety...

22/08/2026

*سیرت النبی ﷺ*🌴

*قسط نمبر 03*

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم اس دنیا میں تشریف لائے تو آپ کی آنول نال کٹی ہوئی تھی۔{آنول نال کو بچے پیدا ہونے کے بعد دایہ کاٹتی ہے۔}
آپ ختنہ شدہ پیدا ہوئے۔عبدالمطلب یہ دیکھ کر بےحد حیران ہوئے اور خوش بھی۔وہ کہا کرتے تھے، میرا بیٹا نرالی شان کا ہوگا۔{الہدایہ}
آپ کی پیدائش سے پہلے مکّہ کے لوگ خشک سالی اور قحط کا شکار تھے۔لیکن جونہی آپ کے دنیا میں تشریف لانے کا وقت قریب آیا۔بارشیں شروع ہوگئیں ، خشک سالی دور ہوگئی۔درخت ہرے بھرے ہوگئے اور پھلوں سے لد گئے۔زمین پر سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگا۔
پیدائش کے وقت آپ اپنے ہاتھوں پر جھکے ہوئے تھے۔سر آسمان کی طرف تھا۔ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے تھے۔مطلب یہ کہ سجدے کی سی حالت میں تھے۔{طبقات}
آپ کی مٹھی بند تھی اور شہادت کی انگلی اٹھی ہوئی تھی۔جیسا کہ ہم نماز میں اٹھاتے ہیں ۔
حضور انور ﷺ فرماتے ہیں :
"جب میری والدہ نے مجھے جنم دیا تو ان سے ایک نور نکلا۔اس نور سے شام کے محلات جگمگا اٹھے۔" ( طبقات )
آپ ﷺ کی والدہ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں :
"محمد( ﷺ )کی پیدائش کے وقت ظاہر ہونے والے نور کی روشنی میں مجھے بصری میں چلنے والے اونٹوں کی گردنیں تک نظر آئیں ۔"
علامہ سہلی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جب آپ پیدا ہوئے تو آپ نے اللہ کی تعریف کی۔ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں :
"اللہ اکبر کبیرا والحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا ۔
"اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اللہ تعالیٰ کی بےحد تعریف ہے اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں ۔"
آپ کی ولادت کس دن ہوئی؟ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ پیر کا دن تھا۔آپ صبح فجر طلوع ہونے کے وقت دنیا میں تشریف لائے۔
تاریخ پیدائش کے سلسلے میں بہت سے قول ہیں ۔ایک روایت کے مطابق 12 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔ایک روایت 8 ربیع الاول کی ہے، ایک روایت 2 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔اس سلسلے میں اور بھی بہت سی روایات ہیں ۔زیادہ تر مورخین کا خیال ہے کہ آپ 8 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔تقویم کے طریقہ کے حساب سے جب تاریخ نکالی گئی تو 9 ربیع الاول نکلی۔مطلب یہ کہ اس بارے میں بالکل صیح بات کسی کو معلوم نہیں ۔اس پر سب کا اتفاق ہے کہ مہینہ ربیع الاول کا تھا اور دن پیر کا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کو پیر کے دن ہی نبوت ملی۔پیر کے روز ہی آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پیر کے روز ہی آپ کی وفات ہوئی۔
آپ عام الفیل میں پیدا ہوئے۔یعنی ہاتھیوں والے سال میں ۔اس سال کو ہاتھیوں والا سال اس لیے کہا جاتا ہے کہ ابرہہ نے ہاتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تھی۔

*سیرت النبیﷺ کی اگلی قسط جلدی حاصل کرنے کے لیے رئیکٹ کریں* ❤️

آپ کی پیدائش اس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد ہوئی تھی -
واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ
ابرہہ یمن کا عیسائی حاکم تھا - حج کے دنوں میں اس نے دیکھا کہ لوگ بیت اللہ کا حج کرنے جاتے ہیں - اس نے اپنے لوگوں سے پوچھا :
" یہ لوگ کہاں جاتے ہیں "
اسے جواب ملا:
" بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جاتے ہیں "
اس نے پوچھا:
" بیت اللہ کس چیز کا بنا ہوا ہے"
اسے بتایا گیا :
" پتھروں کا ہے "
اس نے پوچھا :
" اس کا لباس کیا "
بتایا گیا
" ہمارے ہاں سے جو دھاری دار کپڑا جاتا ہے اس سے اس کی پوشاک تیار ہوتی ہے "
ابرہہ عیسائی تھا - ساری بات سن کر اس نے کہا ":
"مسیح کی قسم! میں تم لوگوں کے لیے اس سے اچھا گھر تعمیر کروں گا "
اس طرح اس نے سرخ " سفید " زرد " اور سیاہ پتھروں سے ایک گھر بنوایا - سونے اور چاندی سے اس کو سجایا اس میں کئی دروازے رکھوائے اس میں سونے کے پترے جڑوائے - اس کے درمیان میں جواہر لگوائے - اس مکان میں ایک بڑا سا یاقوت لگوایا - پردے لگوائے " وہاں خوشبوئیں سلگانے کا انتظام کیا - اس کی دیواروں پر اس قدر مشک ملا جاتا تھا کہ وہ سیاہ رنگ کی ہوگئیں - یہاں تک کہ جواہر بھی نظر نہیں آتے تھے۔
پھر لوگوں سے کہا:
" اب تمہیں بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جانے کی ضرورت نہیں رہی, میں نے یہیں تمہارے لیے بیت اللہ بنوادیا ہے لہٰذا اب تم اس کا طواف کرو "
اس طرح کچھ قبائل کئی سال تک اس کا حج کرتے رہے - اس میں اعتکاف کرتے رہے - حج والے مناسک بھی یہیں ادا کرتے رہے -
عرب کے ایک شخص نفیل خشمی سے یہ بات برداشت نا ہوسکی - وہ اس مصنوعی خانۂ کعبہ کے خلاف دل ہی دل میں کڑھتا رہا -آخر اس نے دل میں ٹھان لی کہ وہ ابرہہ کی اس عمارت کو گندہ کرکے چھوڑے گا -پھر ایک رات اس نے چوری چھپے بہت سی گندگی اس میں ڈال دی -ابرہہ کو معلوم ہوا تو سخت غضب ناک ہوا کہنے لگا :
"یہ کاروائی کسی عرب نے اپنے کعبہ کے لیے کی ہے , میں اسے ڈھادوں گا اس کا ایک ایک پتھر توڑدوں گا "
اس نے شام و حبشہ کو یہ تفصیلات لکھ دیں , اس سے درخواست کی کہ وہ اپنا ہاتھی بھیج دے - اس ہاتھی کا نام محمود تھا - یہ اس قدر بڑا تھا کہ اتنا بڑا ہاتھی روئے زمین پر دیکھنے میں نہیں آیا تھا - جب ہاتھی اس کے پاس پہنچ گیا تو وہ اپنی فوج لیکر نکلا اور مکہ کا رخ کیا - یہ لشکر جب مکہ کے قرب و جوار میں پہنچا تو ابرہہ نے فوج کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے جانور لوٹ لیے جائیں - اس کے حکم پر فوجیوں نے جانور پکڑ لیے - ان میں عبدالمطلِّب کے اونٹ بھی تھے -

*سیرت النبیﷺ کی اگلی قسط جلدی حاصل کرنے کے لیے رئیکٹ کریں* ❤️

نفیل بھی اس لشکر میں ابرہہ کے ساتھ موجود تھا اور یہ عبدالمطلِّب کا دوست تھا - عبدالمطلِّب اس سے ملے - اونٹوں کے سلسلے میں بات کی - نفیل نے ابرہہ سے کہا :
" قریش کا سردار عبدالمطلِّب ملنا چاہتا ہے یہ شخص تمام عرب کا سردار ہے " شرف اور بزرگی اسے حاصل ہے - لوگوں میں اس کا بہت بڑا اثر ہے -لوگوں کو اچھے اچھے گھوڑے دیتا ہے, انہیں عطیات دیتا ہے, کھانا کھلاتا ہے- "
یہ گویا عبدالمطلِّب کا تعارف تھا - ابرہہ نے انہیں ملاقات کے لیے بلالیا - ابرہہ نے ان سے پوچھا
" بتائیے آپ کیا چاہتے ہیں ؟"
انہوں نے جواب دیا :
" میں چاہتا ہوں میرے اونٹ مجھے واپس مل جائیں "
ان کی بات سن کر ابرہہ بہت حیران ہوا - اس نے کہا :
" مجھے تو بتایا گیا تھا کہ آپ عرب کے سردار ہے " بہت عِزّت اور بزرگی کے مالک ہیں " لیکن لگتا ہے مجھ سے غلط بیانی کی گئی ہے- کیونکہ میرا خیال تھا آپ مجھ سے بیت اللہ کے بارے میں بات کریں گے جس کو میں گرانے آیا ہوں اور جس کے ساتھ آپ سب کی عِزّت وابستہ ہے - لیکن آپ نے تو سرے سے اس کی بات ہی نہیں کی اور اپنے اونٹوں کا رونا لیکر بیٹھ گئے - یہ کیا بات ہوئی "
اس کی بات سن کر عبدالمطلِّب بولے
"آپ میرے اونٹ مجھے واپس دے دیں بیت اللہ کے ساتھ جو چاہیں کریں " اس لیے کہ اس گھر کا ایک پروردگار ہے - وہ خود ہی اس کی حفاظت کرے گا - مجھے اس کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں "
ان کی بات سن کر ابرہہ نے حکم دیا :
"ان کے اونٹ واپس دے دیے جائیں "
جب انہیں ان کے اونٹ واپس مل گئے " تو انھوں نے ان کے سموں پر چمڑے چڑھا دیے - ان پر نشان لگادیے - انہیں قربانی کے لیے وقف کرکے حرم میں چھوڑ دیا تاکہ پھر کوئی انہیں پکڑ لے تو حرم کا پروردگار اس پر غضب ناک ہو -
پھر عبدالمطلِّب حِرا پہاڑ پر چڑھ گئے - ان کے ساتھ ان کے کچھ دوست تھے - انہوں نے اللہ سے درخواست کی :
"اے اللہ! انسان اپنے سامان کی حفاظت کرتا ہے، تو اپنے سامان کی حفاظت کر۔"
ادھر سے ابرہہ اپنا لشکر لے کر آگے بڑھا۔وہ خود ہاتھی پر سوار لشکر کے درمیان موجود تھا۔ایسے میں اس کے ہاتھی نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ہاتھی بانوں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ اٹھا۔انہوں نے اس کے سر پر ضربیں لگائیں ۔آنکس چبھوئے مگر وہ کھڑا نہ ہوا۔کچھ سوچ کر انہوں نے اس کا رخ یمن کی طرف کیا تو وہ فوراً اس طرف چلنے لگا۔اس کا رخ پھر مکہ کی طرف کیا گیا تو پھر رک گیا۔ہاتھی بانوں نے یہ تجربہ بار بار کیا۔آخر ابرہہ نے حکم دیا، ہاتھی کو شراب پلائی جائے تاکہ نشے میں اسے کچھ ہوش نہ رہ جائے اور ہم اسے مکہ کی طرف آگے بڑھاسکیں ۔چنانچہ اسے شراب پلائی گئی، لیکن اس پر اس کا بھی اثر نہ ہوا۔

☆☆☆
جاری ہے ۔۔۔۔۔!

*مصنف : عبداللہ فارانی*
*کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم*

*سیرت النبیﷺ کی اگلی قسط جلدی حاصل کرنے کے لیے رئیکٹ کریں* ❤️

20/04/2026

میری پیاری فریلانسر بہنوں، لڑکے تنگ کر رہے ہیں ناں؟

میں جانتی ہوں۔ جہاں آج آپ ہیں، میں بھی وہاں کھڑی تھی۔ لڑکوں کا تنگ کرنا، غلط باتیں کر دینا، کلائنٹ بن کر ٹھڑک جھاڑنا، اور پریشان کرنا کچھ تنگ سوچ کے مردوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔

لڑکیاں اگر فزیکل بزنس کریں، جاب کریں، یا آنلائن کام کریں۔ پردے میں رہ کر کریں یا پردے کے بغیر کریں۔ چھوٹی بچیاں ہوں یا پختہ عمر کی خواتین۔ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ۔ یہ سب کے ساتھ کبھی نہ کبھی یا آئے دن ہوتا رہتا ہے۔

میں جانتی ہوں ڈر لگتا ہے، آپ سہم جاتی ہو، رونا آتا ہے۔ مگر اگر آج خودمختار نہیں ہوگی۔ اپنے آپ کو فنانشلی سٹرونگ نہیں بناؤں گی تو ایسے کئی مردوں کا گھر سے باہر جا کر ہر روز سامنا کرنا پڑے گا ابھی تو گھر میں محفوظ ہو۔
تو چلو، اس مسئلے کا حل مل کر نکالتے ہیں:

1. اپنے آپ کو گھر سے سب سے پہلے مضبوط کریں۔ آپ کی فیملی آپ کی محفوظ ترین پناہ گاہ ہے۔ اپنی فیملی کو اپنے کام میں شامل رکھیں۔ انہیں باخبر رکھیں۔ آپ کن کلائنٹس کے ساتھ کس نوعیت کا کام کر رہی ہیں، ضرور بتائیں!
آپ کے گھر والوں کا آپ پر اعتماد آپ کو سارے مسئلوں سے بچا لے گا۔

2۔ وقت کے ساتھ پتہ چل جاتا ہے کہ کلائنٹ سنجیدہ ہے یا نہیں! کبھی بھی ڈائیرکٹ کال پر مت جائیں۔ کال سے پہلے تمام بنیادی معلومات لیں۔ اگر کلائنٹ معلومات ہی نہیں دے رہا اور کال کی ضد کیے جا رہا ہے تو اگنور کردیں۔ سنجیدہ کلائنٹ ایک ہی میسج میں معلومات دے دیتے ہیں۔

3۔ کلائنٹ سے سنجیدہ لہجے میں بات کریں۔ کلائنٹ فرینک ہونے کی کوشش کرے تب بھی اس کی بات کو اگنور کریں۔ ذاتی معلومات دینے سے پرہیز کریں۔ کلائنٹ کو اس سے کوئی سرو کار نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کا گھر کہاں ہے، آپ کے کتنے بہن بھائی ہیں، آپ کے ابو کیا کرتے ہیں، آپ کی شادی ہوگئی ہے یا نہیں( کچھ کلائنٹس شادی کا پوچھ لیتے ہیں کہ اگر بچوں والی ہے تو کام کو کیسے ٹائم دے گی اگر کام لمبے عرصے کا ہو تبھی کلائنٹ پوچھتا ہے).

4۔ اپنی باؤنڈریز بنائیں۔ کلائنٹ پر واضح کردیں کہ میں رات کے وقت میسر نہیں ہوتی۔ دن میں کام کرتی ہوں۔ میرے کام کے گھنٹے یہ ہیں۔ تاکہ اسے پتہ ہو کہ آپ ایک اچھے گھر سے تعلق رکھتی ہیں اور آپ کسی شارٹ کٹ کی تلاش میں نہیں ہیں۔ آپ کو پیسے سے بڑھ کر اپنی عزت اور رزق حلال کی خواہش ہے۔

5۔ اگر کوئی گرا ہوا آدمی آپ کے پیچھے پڑ جائے تو فوراً اپنے گھر والوں کو بتائیں۔ کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا اگر آپ حق پر ہیں۔

6۔ سائبر کرائم میں رپورٹ کریں۔ کالز ریکارڈ کرلیں۔ چیٹ کے سکرین شاٹس لے لیں۔ اور ہرگز نہ گھبرائیں۔

7۔ آجکل فون نمبر سے تفصیل نکلوانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ آپ کے گھر والے خود بھی ڈھونڈ سکتے ہیں کہ کون ہے اور کس کھیت کی مولی ہے۔ایسے لوگ عموماً کمزور اور ڈرپوک ہوتے ہیں۔ یہ بس ڈرانا دھمکانا جانتے ہیں۔ کچھ کر نہیں سکتے۔

8. بلاک کا آپشن ہر جگہ موجود ہے۔پہلی فرصت میں بلاک کرتی جائیں۔

9. ایکسپوز کریں۔ ایسے لوگوں کو جب اپنی عزت کی پرواہ نہیں تو آپ بھی مت کریں۔ چاہے جو بھی ہو۔ سرعام اس کی تصویر، فون نمبر اور پروفائل لنک کے ساتھ ایکسپوز کردیں۔ غلطی اسکی ہے، آپکی نہیں! ہمت رکھیں۔

10. شادی کے لارے لگوانے والوں کو پہلی فرصت میں بلاک کریں۔ اچھے گھر کا مرد یوں جانے پہچانے بغیر پہلے میسج میں پروپوز نہیں کرتا بس تکہ لگاتا ہے، پھنسی تو پھنسی نہیں تو کوئی اور سہی!
ایسا مرد نہ آپ کی عزت کرتا ہے، ناں ہی اس کی اپنی عزت ہوتی ہے۔

اگر آپ تحسین کی ان سب باتوں کو پلوں سے آج باندھ لیں گی تو آپ کبھی اس حوالے سے پریشان نہیں ہوں گی۔ کچھ دن پہلے ایک فیمیل فری لانسر نے مجھ سے یہی سوال پوچھا تھا کہ آپ ایسے لوگوں کو کیسے ہینڈل کرتی ہیں تو میں نے سوچا پوسٹ بھی کردوں تا کہ سب کی مدد ہو جائے۔۔

اچھی لگی تو پوسٹ شیئر کردیں۔ ہوسکتا ہے کسی بچی کیلئے آسانی آپ کی وجہ سے پیدا ہو جائے۔
نام کے ساتھ شیئر کرنے کی سب کو کھلی اجازت ہے۔

❤️
20/04/2026

❤️

01/04/2026

*برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی مسنون دعا*
انسان خطاؤں اور برائیوں میں گھرا رہتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھایا کہ ہم ہر وقت اس کی پناہ طلب کریں۔ نبی کریم ﷺ کی یہ ایک جامع دعا ہے۔
*لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اس مسنون دعا کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں اور ہر برائی سے اللہ کی پناہ مانگتے رہیں۔*

01/04/2026

*آواز دی خزاں نے کہ تو بھی نظر میں ہے*
ایک شخص اپنی اہلیہ کے ساتھ عمدہ کھانے پر بیٹھا تھا کہ فقیر نے خیرات کی صدا لگائی، فقیر کی یہ آواز اسے بہت بُری لگی، اسے جھڑک کر دروازہ سے دھتکار دیا۔
بے چارہ سائل فقیر تھا ، صدا لگا کر چل دیا۔
گردش دوراں دیکھئے کہ دھتکارنے والا یہ مال دار شخص خود فقیر ہو گیا، مال و دولت جاتا رہا، بیوی کو طلاق دے دی، اس کی بیوی نے کسی اور سے نکاح کر لیا، یہ دونوں میاں بیوی ایک دن عمدہ کھانا کھارہے تھے کہ ایک فقیر نے صدالگائی، شوہر نے کہا ” یہ کھانا اسے دے آؤ وہ کھانا دے کر واپس ہوئی تو رونے لگی، میاں نے وجہ پوچھی تو کہا ” فقیر میر ا سابقہ شوہر تھا، اس حالت میں اسے دیکھ کر رونا آیا اور سائل کو جھڑکنے کا سابقہ قصہ اسے سنایا، اس کا شوہر بولا ” بخدا وہ فقیر میں ہی تھا۔

*پژ مردگئ گُل پر جب ہنسنے لگی کَلی*
*آواز دی خزاں نے، تو بھی نظر میں ہے*

(المستطرف، ص: ۱۳۳)

01/04/2026

*ماہ شوال کی برکات*

*ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ماہ شوال میں نکاح فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میری رخصتی بھی ماہ شوال میں ہوئی۔ رسول اللہ صلی السلام کی ازواج مطہرات میں سے وہ کون سی زوجہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے زیادہ عزیز تر ہو؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس بات کو مستحب سمجھتی تھیں کہ ان کے خاندان کی عورتوں کی ماہ شوال میں رخصتی ہو ۔*
(صحیح مسلم: 3548 باب اسْتِحْبَابِ التَّزَوُّحِ وَالتَّزْوِيجِ فِي شَوَّالٍ وَاسْتِحْبَابِ الدُّخُولِ فِيهِ)

اماں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ کوئی مہینہ یا دن منحوس نہیں ، تمام مہینے اور ایام با برکت ہیں۔ اگر ماہ شوال منحوس ہوتا (جیسا کہ بعض لوگوں کا اعتقاد ہے ) تو اس ماہ میں شادی و رخصتی کے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں محبوب تر زوجہ نہ بنتی اور نہ ہی مجھے یہ فضل و کمال ملتا۔
یہ مہینہ بڑی فضیلت و برکت والا ہے اور میں یہ پسند کرتی ہوں کہ میرے خاندان کی عورتوں کی رخصتی بھی اسی ماہ میں ہو۔

01/04/2026
18/03/2026

سجدے کی حالت میں دماغ کا جائزہ لیا تو فائدوں نے سائنسدانوں کی آنکھیں کھول دیں
جب نمازی سجدے میں جاتا ہے تو اسکا سر نیچے زمین کو چھو رہا ہوتا ہے اور دھڑ ذرا اونچا ہوتا ہے۔ ہمارے تو ایمان کا حصہ ہے کہ اس حالت میں انسان اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ مگر کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ سجدے میں جانے کے صرف روحانی ہی نہیں بلکہ جسمانی فائدے بھی ہیں۔ جب انسان اس حالت میں ہوتا ہے تو اسکا دماغ کچھ حیرت انگیز کام کرتا ہے۔ عام طور پر جب ہم کھڑے ہوتے ہیں تو دل کو دماغ کی طرف خون پہنچانے کےلئے اضافی زور لگانا پڑتا ہے۔ لیکن جب سجدے کی حالت میں سر نیچے کو ہوتا ہے تو کشش ثقل کی وجہ سے دماغ اور سرکی طرف خون کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے۔ جس سے دماغ کے سامنے والے حصے کو تازہ آکسیجن سے بھرپور خون پہنچتا ہے۔ یہی وہ حصہ ہے جو انسان کی نہ صرف شخصیت بناتا ہے بلکہ اسے فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے ساتھ ہی ساتھ دباؤ اور تناؤ بھی کم کرتا ہے۔ یوں نماز میں رب کے سامنے اپنا سر جھکانے سے آپ اعصابی نظام کو ری فریش کرتے ہو اور دماغ کو صحت مند بناتے ہو۔ شائد اسی لئے ہم سجدے میں تسبیح کرتے ہیں کہ "پاک ہے میرا رب جو سب سے اعلیٰ ہے"

Address

Islamabad

Telephone

+923000339352

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Spiritual Healer روحانی طبیب posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share