07/10/2026
اعلیٰ مناصب اور عہدوں کی خاندانوں میں منتقلی اور رشتہ داری کا پہلو: تاریخِ نبوت، اسلامی تاریخ، دینی تعلیمات اور معاصر نقطۂ نظرکا جائزہ: تحریر: ڈاکٹر محمد غیاث
اسلام میں مناصب پر فائز ہونا اور دنیاوی و اُخروی فضیلت کی بنیاد اصولی طور پر ایمان تقویٰ، پاکیزہ کردار اور بلند اخلاق پر قائم ہے۔تاہم، اگر دینی اور اخلاقی معیار پورا ہو تو خاندان یا نسب کی بنیاد پر مناصب کی منتقلی میں شرعی طور پر کوئی مانع یا حرج واقع نہیں ہوتا۔اس حقیقت کو فہمِ دین کے درج ذیل بنیادی نکات اور تاریخی شواہد سے سمجھا جا سکتا ہے:
۱. اشرفِ مخلوقات اور سلسلۂ انبیاء (ابراہیمی النسب):
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی تمام مخلوقات میں سے "خلافتِ ارضی" کا عظیم تاج صرف انسان یعنی حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد (بنی آدم) کے سر سجایا۔ اسی طرح یہ سنّتِ الٰہی رہی ہے کہ ہر قوم میں نبی اسی قوم ہی میں سے مبعوث کیا گیا، جیسا کہ خود نبیِ امی، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی اپنی قوم "امیین" میں مبعوث فرمایا گیا۔ تاریخی تصریحات کے مطابق،تقریبا پانچ انبیاءِ کرام کے علاوہ تمام کے تمام انبیاء و رُسل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل اور خاندان سے مبعوث کیے گئے۔ یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ نبوت جیسے مقدس ترین منصبی سلسلے کو اللہ تعالیٰ نے ایک بابرکت خاندان میں جاری رکھا، اگرچہ بالآخر انسانوں کا آخری نسبی رشتہ حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام پر ہی جڑجاتا ہے۔
۲. خلافتِ راشدہ اور قربِ نبوی:
عہدِ رسالت کے بعد قائم ہونے والی خلافتِ راشدہ اگرچہ موروثی بنیادوں پر قائم نہیں ہوئی تھی، لیکن چاروں خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دیگر اکابرین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات سے انتہائی قریب ترین رشتہ داری، قرابت اور نیابت کا شرف حاصل تھا: حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے "سسر" ہونے کا عظیم اعزاز حاصل ہوا (ام المؤمنین حضرت عائشہ اور ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کے وسائط سے)۔حضرت عثمان غنی اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے "داماد" ہونے کا بابرکت اعزاز حاصل ہوا (حضرت عثمان ذو النورین کو دو صاحبزادیوں اور حضرت علی کو سیدۃ النساء کی زوجیت کا شرف ملا)۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے "سالے" (برادرِ نسبتی) ہونے کا اعزاز حاصل ہوا (ام المؤمنین حضرت امِ حبیبہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے)۔
۳. ساداتِ اہل بیت کا اُخروی مقام:
سیادت و قیادت کی یہی نسبت اُخروی اور جنتی مناصب میں بھی بدرجۂ اتم جلوہ گر ہے۔ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو جنت کی تمام خواتین کی سردار(سیدۃ) ہونے کا مژدہ سنایا گیا، جبکہ آپ کے فرزندِ دلبند امام حسن اور امام حسین علیہما السلام جنت کے تمام جوانوں کے سردار کے عالی مقام پر فائز ہیں۔یہ عالی مرتبت مناصب محض نسبی بنیادوں پر نہیں ہیں، بلکہ یہ ذواتِ مقدسات بذاتِ خود زہد، تقویٰ، قربانی اور رفعتِ کردار کے اس اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھیں، جہاں انسانیت کا سر بوسۂ فلک ہوتا ہے۔ لہٰذا، دینی معیار، کردار اور اہلیت کی موجودگی میں نسب یا خاندانی انتساب کسی منصب کے لیے رکاوٹ کے بجائے ایک تکمیلی حسن ثابت ہوتا ہے۔
۴۔تاریخی تسلسل اور موروثی و خاندانی منہج:
اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اقتدار اور قیادت کا یہ خاندانی و موروثی تسلسل صدیوں پر محیط نظر آتا ہے:خلافتِ راشدہ کے بعد بنو امیہ کے دور میں انتقالِ اقتدار کا سلسلہ تقریباً ۹۰ سال ایک ہی خاندان میں وراثت کے ذریعے جاری رہا۔بنو امیہ کے مقابل میں بنو عباس کا خاندان سامنے آیا اور اقتدار بنو عباس میں منتقل ہوا، جہاں یہ سلسلہ تقریباً پانچ سو سال تک قائم رہا۔بعد ازاں یہ عظیم الشان منصبی تسلسل عثمانی خاندان (سلطنتِ عثمانیہ) کی طرف منتقل ہوا اور چھ صدیوں سے زائد پر یہ قائم رہا۔یہی موروثی اور خاندانی طریقہ کار مسلمانوں کی دوسری بڑی تاریخی طاقت مغلیہ سلطنت میں بھی جاری رہا، جہاں وراثت کے ذریعے ایک ہی خاندان میں اختیارات منتقل ہوتے رہے۔صرف حکومتی ایوان ہی نہیں، بلکہ مساجد، مدارس، خانقاہوں اور تمام اجتماعی و دینی اداروں میں بھی یہی خاندانی و موروثی منہج اور روایت قائم رہی—بلکہ تا حال یہ سلسلہ کسی نہ کسی صورت جاری ہے۔
۵۔افرنگی نظام (جمہوریت) کی آمد اور زوالِ امت:
انتقالِ اقتدار کے اس تمدنی اور خاندانی منہج کو بالاخر مغرب (افرنگ) کی شیطانی سازش اور جمہوریت کے ذریعے برباد کر دیا گیا۔ مغرب نے "جمہوریت" نامی شطرنج اور زہر کو اس قوم میں انجیکٹ (Inject) کیا:
۱. اس مسموم فکری زہر کے نتیجے میں ہندوؤں کا تو فاقہ و فلاح ہوئی، لیکن مسلمان ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔
۲. اسی جمہوری اور سیاسی زہر نے آگے چل کر برصغیر کے مسلمانوں کو مزید تقسیم کیا اور بالاخر پاکستان کے دو ٹکڑے کر دیے، اور یہ جمہوری ڈرامہ آج تک جاری ہے۔
۳. ستم ظریفی اور تماشا یہ ہے کہ نہ تو اس معاشرے میں وہ اسلامی اور روایتی خاندانی منہج باقی رہا اور نہ ہی وہ مسموم مغربی جمہوری منہج اپنی اصلیت میں قائم ہو سکا۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے مذہبی سیاسی فرقوں نے آغاز میں اس جمہوری زہر کو "حالتِ اضطرار" قرار دے کر قبول کیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ خود اس ڈرامے، کھیل اور فلم کے اہم کھلاڑی اور بھرپور اداکار سیاسی فرقےبن گئے۔اس صورتِ حال اور المناک سادگی پر میر تقی میرؔ کا یہ شعر صادق آتا ہے:
میرؔ کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے لیے
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
اللہ تعالیٰ تمام انسانوں پر رحم فرمائے، ان کے انسانی ضمیر کو بیدار فرمائے، اور دنیا کو امن، عدل،اسلام اور انسانی ہمدردی کی راہ پر گامزن فرمائے۔ آمین۔(جاری ہے)