Dr. Muhammad Ghayas

Directions Contact the practice

Dr. Muhammad Ghayas Muhammad Ghayas is a Muslim religious scholar and a former president of Jamiat.

07/10/2026

اعلیٰ مناصب اور عہدوں کی خاندانوں میں منتقلی اور رشتہ داری کا پہلو: تاریخِ نبوت، اسلامی تاریخ، دینی تعلیمات اور معاصر نقطۂ نظرکا جائزہ: تحریر: ڈاکٹر محمد غیاث
اسلام میں مناصب پر فائز ہونا اور دنیاوی و اُخروی فضیلت کی بنیاد اصولی طور پر ایمان تقویٰ، پاکیزہ کردار اور بلند اخلاق پر قائم ہے۔تاہم، اگر دینی اور اخلاقی معیار پورا ہو تو خاندان یا نسب کی بنیاد پر مناصب کی منتقلی میں شرعی طور پر کوئی مانع یا حرج واقع نہیں ہوتا۔اس حقیقت کو فہمِ دین کے درج ذیل بنیادی نکات اور تاریخی شواہد سے سمجھا جا سکتا ہے:
۱. اشرفِ مخلوقات اور سلسلۂ انبیاء (ابراہیمی النسب):
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی تمام مخلوقات میں سے "خلافتِ ارضی" کا عظیم تاج صرف انسان یعنی حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد (بنی آدم) کے سر سجایا۔ اسی طرح یہ سنّتِ الٰہی رہی ہے کہ ہر قوم میں نبی اسی قوم ہی میں سے مبعوث کیا گیا، جیسا کہ خود نبیِ امی، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی اپنی قوم "امیین" میں مبعوث فرمایا گیا۔ تاریخی تصریحات کے مطابق،تقریبا پانچ انبیاءِ کرام کے علاوہ تمام کے تمام انبیاء و رُسل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل اور خاندان سے مبعوث کیے گئے۔ یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ نبوت جیسے مقدس ترین منصبی سلسلے کو اللہ تعالیٰ نے ایک بابرکت خاندان میں جاری رکھا، اگرچہ بالآخر انسانوں کا آخری نسبی رشتہ حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام پر ہی جڑجاتا ہے۔
۲. خلافتِ راشدہ اور قربِ نبوی:
عہدِ رسالت کے بعد قائم ہونے والی خلافتِ راشدہ اگرچہ موروثی بنیادوں پر قائم نہیں ہوئی تھی، لیکن چاروں خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دیگر اکابرین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات سے انتہائی قریب ترین رشتہ داری، قرابت اور نیابت کا شرف حاصل تھا: حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے "سسر" ہونے کا عظیم اعزاز حاصل ہوا (ام المؤمنین حضرت عائشہ اور ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کے وسائط سے)۔حضرت عثمان غنی اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے "داماد" ہونے کا بابرکت اعزاز حاصل ہوا (حضرت عثمان ذو النورین کو دو صاحبزادیوں اور حضرت علی کو سیدۃ النساء کی زوجیت کا شرف ملا)۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے "سالے" (برادرِ نسبتی) ہونے کا اعزاز حاصل ہوا (ام المؤمنین حضرت امِ حبیبہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے)۔
۳. ساداتِ اہل بیت کا اُخروی مقام:
سیادت و قیادت کی یہی نسبت اُخروی اور جنتی مناصب میں بھی بدرجۂ اتم جلوہ گر ہے۔ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو جنت کی تمام خواتین کی سردار(سیدۃ) ہونے کا مژدہ سنایا گیا، جبکہ آپ کے فرزندِ دلبند امام حسن اور امام حسین علیہما السلام جنت کے تمام جوانوں کے سردار کے عالی مقام پر فائز ہیں۔یہ عالی مرتبت مناصب محض نسبی بنیادوں پر نہیں ہیں، بلکہ یہ ذواتِ مقدسات بذاتِ خود زہد، تقویٰ، قربانی اور رفعتِ کردار کے اس اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھیں، جہاں انسانیت کا سر بوسۂ فلک ہوتا ہے۔ لہٰذا، دینی معیار، کردار اور اہلیت کی موجودگی میں نسب یا خاندانی انتساب کسی منصب کے لیے رکاوٹ کے بجائے ایک تکمیلی حسن ثابت ہوتا ہے۔
۴۔تاریخی تسلسل اور موروثی و خاندانی منہج:
اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اقتدار اور قیادت کا یہ خاندانی و موروثی تسلسل صدیوں پر محیط نظر آتا ہے:خلافتِ راشدہ کے بعد بنو امیہ کے دور میں انتقالِ اقتدار کا سلسلہ تقریباً ۹۰ سال ایک ہی خاندان میں وراثت کے ذریعے جاری رہا۔بنو امیہ کے مقابل میں بنو عباس کا خاندان سامنے آیا اور اقتدار بنو عباس میں منتقل ہوا، جہاں یہ سلسلہ تقریباً پانچ سو سال تک قائم رہا۔بعد ازاں یہ عظیم الشان منصبی تسلسل عثمانی خاندان (سلطنتِ عثمانیہ) کی طرف منتقل ہوا اور چھ صدیوں سے زائد پر یہ قائم رہا۔یہی موروثی اور خاندانی طریقہ کار مسلمانوں کی دوسری بڑی تاریخی طاقت مغلیہ سلطنت میں بھی جاری رہا، جہاں وراثت کے ذریعے ایک ہی خاندان میں اختیارات منتقل ہوتے رہے۔صرف حکومتی ایوان ہی نہیں، بلکہ مساجد، مدارس، خانقاہوں اور تمام اجتماعی و دینی اداروں میں بھی یہی خاندانی و موروثی منہج اور روایت قائم رہی—بلکہ تا حال یہ سلسلہ کسی نہ کسی صورت جاری ہے۔
۵۔افرنگی نظام (جمہوریت) کی آمد اور زوالِ امت:
انتقالِ اقتدار کے اس تمدنی اور خاندانی منہج کو بالاخر مغرب (افرنگ) کی شیطانی سازش اور جمہوریت کے ذریعے برباد کر دیا گیا۔ مغرب نے "جمہوریت" نامی شطرنج اور زہر کو اس قوم میں انجیکٹ (Inject) کیا:
۱. اس مسموم فکری زہر کے نتیجے میں ہندوؤں کا تو فاقہ و فلاح ہوئی، لیکن مسلمان ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔
۲. اسی جمہوری اور سیاسی زہر نے آگے چل کر برصغیر کے مسلمانوں کو مزید تقسیم کیا اور بالاخر پاکستان کے دو ٹکڑے کر دیے، اور یہ جمہوری ڈرامہ آج تک جاری ہے۔
۳. ستم ظریفی اور تماشا یہ ہے کہ نہ تو اس معاشرے میں وہ اسلامی اور روایتی خاندانی منہج باقی رہا اور نہ ہی وہ مسموم مغربی جمہوری منہج اپنی اصلیت میں قائم ہو سکا۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے مذہبی سیاسی فرقوں نے آغاز میں اس جمہوری زہر کو "حالتِ اضطرار" قرار دے کر قبول کیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ خود اس ڈرامے، کھیل اور فلم کے اہم کھلاڑی اور بھرپور اداکار سیاسی فرقےبن گئے۔اس صورتِ حال اور المناک سادگی پر میر تقی میرؔ کا یہ شعر صادق آتا ہے:
میرؔ کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے لیے
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
اللہ تعالیٰ تمام انسانوں پر رحم فرمائے، ان کے انسانی ضمیر کو بیدار فرمائے، اور دنیا کو امن، عدل،اسلام اور انسانی ہمدردی کی راہ پر گامزن فرمائے۔ آمین۔(جاری ہے)

04/10/2026

جماعت اور امت کے اجتماعی مستقبل کا سوال:تحریر:ڈاکٹرمحمد غیاث
(محمدوقاص خان صاحب کی تازہ تحریر کے جواب میں)
محترم محمدوقاص خان صاحب نے جس کشادہ دلی سے سوالات کا جواب دیا ہے، یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مکالمہ اپنی نوعیت میں علمی اور مفید رہا۔ ان کی تحریر کے بیشتر اصولی نکات — وسیلہ اور مقصد کا فرق، اجتہاد کا احترام نہ کہ تقدیس، نتیجہ اور شرعی صحت کا امتیاز، اور نظرثانی کے حق کا اعتراف — سے کوئی اختلاف نہیں۔ یہ اصول درست ہیں۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اصول، جب جماعتِ اسلامی کے ٹھوس عملی وجود پر لاگو کیے جائیں، وہی نتیجہ دیتے ہیں جو محمدوقاص خان صاحب کی تحریر میں فرض کرلیا گیا ہے؟ یہ وضاحت پہلے ہی کردینا ضروری ہے کہ یہ گفتگو کسی شخصی(جناب وقاص خان صاحب) اختلاف کی بنا پر نہیں، بلکہ اس جماعت کے اس عملی، میدانی، قابلِ مشاہدہ وجود کے بارے میں ہے جو کتابوں میں نہیں بلکہ باہر موجود ہے، جسے سمجھنے کا ایک طویل عملی تجربہ بھی اس بحث کے پس منظرمیں شامل ہے۔
۱۔ اصول اور اطلاق میں فرق:
محمدوقاص خان صاحب کا بنیادی موقف یہ ہے کہ نتائج صرف ایک معیار ہیں، واحد معیار نہیں، اور کسی اجتہاد کے غلط ثابت ہونے کے لیے اس کے مقدمات، اصولی استدلال یا تنظیمی صورت کا مقصد سے متصادم ہونا ثابت کرنا ہوگا۔ یہ معیار بجا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ معیار درست ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا یہ معیار جماعتِ اسلامی کے معاملے میں پہلے سے پورا ہوچکا ہے یا نہیں۔عرض یہ ہے کہ یہ معیار پورا ہوچکا ہے — اور اس کا ثبوت محض ’’مطلوبہ سیاسی نتائج نہ ملنے‘‘ سے نہیں بلکہ ایک واضح، قابلِ تعریف اور قابلِ مشاہدہ تبدیلی سے ملتا ہے: جماعت کا، وقت کے ساتھ، ایک جماعتی وجود سے ایک سیاسی و مذہبی فرقے میں ڈھل جانا اب روز روشن کی طرح عیاں ہوچکا ہے۔
۲۔ فرقہ کی تعریف اور اس کا اطلاق:
محمدوقاص خان صاحب نے اپنی پہلی تحریر میں خود فرقہ کی یہ تعریف دی تھی: ’’فرقہ واریت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی گروہ اپنی جماعتی شناخت کو حق و باطل کا قطعی معیار بنادے، دوسروں کو امت سے خارج سمجھے اور اپنی جماعت کو نجات کا واحد راستہ قرار دے۔ ‘‘ یہ تعریف اصولی طور پر درست ہے، اور اسی معیار پر پرکھنا ضروری ہے کہ کیا یہ وصف جماعتِ اسلامی کے عملی طرزِ عمل پر صادق آتا ہے۔حل صرف جماعت اسلامی کا نعرہ اب اس فرقے کے اندر ایک سنجیدہ صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
فرقے کی کوئی بھی علمی تعریف لیجیے — خواہ وہ عقائد میں تفرد ہو، یا تنظیمی اطاعت کو دینی وفاداری کا معیار بنا لینا ہو، یا اندرونی تنقید و احتساب کا عملاً ناممکن ہوجانا ہو، یا گروہی بقا کو امتی مفاد پر مقدم کرلینا ہو — یہ سب علامات، طویل تنظیمی مشاہدے کی بنیاد پر، جماعت کے موجودہ عملی ڈھانچے میں بیک وقت پائی جاتی ہیں۔ یہ محض نظریاتی دعویٰ نہیں بلکہ ۲۲ سالہ شعوری وابستگی، ۱۴ سالہ مرکزی ذمہ داریوں، اور مرکزی شوریٰ کی مختلف حیثیتوں میں حصہ لینے کے دوران حاصل ہونے والا مشاہداتی، پالیسی سطح کا تجربہ ہے — صرف کتابی تنقید نہیں ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جو ﴿أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ﴾ کی روشنی میں پہلے بیان کیا جاچکا ہے: جس جماعت نے اقامتِ دین کو اپنا مقصد بنایا، وہی جماعت، تدریجاً، اسی تفرقے کی ایک متعین صورت بن گئی جس سے یہ آیت منع کرتی ہے۔ اور جب سبب (استعماری دور کی مخصوص سیاسی ضرورت) بدل گیا، تو مقصد (اقامتِ دین) بھی اسی جماعتی بقا کے سوال میں تحلیل ہوگیا — اور یہی وہ ربط ہے جس کا مطالبہ محمدوقاص خان صاحب نے کیا تھا: نہ کہ ’’نتائج خراب ہیں‘‘، بلکہ ’’تنظیمی صورت خود مقصد سے متصادم ہوچکی ہے۔‘‘

۳۔ ۱۹۵۷ء ایک غیر معمولی موڑ:
یہ بات کہ جماعت ۱۹۵۷ء سے لے کر آج تک ایک مذہبی سیاسی فرقے کی صورت اختیار کرچکی ہے، محض ایک نقطہ نظر نہیں بلکہ ایک تاریخی مشاہدہ ہے ، لیکن اس کے پیچھے جو اصولی نکتہ ہے وہ نہایت اہم ہے: جب کوئی تحریک، جس کا آغاز ایک وسیع دعوتی و اصلاحی مقصد سے ہوا ہو، رفتہ رفتہ انتخابی و پارلیمانی سیاست کے اندر اپنی بقا کی جنگ لڑنے لگے، تو اس کی ترجیحات، اس کی حکمتِ عملی، اور بالآخر اس کی داخلی نفسیات بھی اسی سیاسی بقا کے گرد گھومنے لگتی ہے۔ مولانا مودودی خود ساری زندگی جس مغربی طرز کی، مفاد پرست، اقتدار پر مرکوز سیاست کے خلاف برسرِ پیکار رتھے، بالآخر وہی طرزِ عمل، مختلف درجے میں، خود جماعت کے اندر سرایت کرگیا۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں — تاریخ میں بیشتر اصلاحی تحریکیں اسی داخلی تضاد کا شکار ہوئی ہیں — مگر اسے تسلیم کرنا ہی مستقبل میں کامیابی کا پہلا قدم ہے۔
۴۔ مولانا مودودی کا علمی مقام: احترام، مگر امتیازی حیثیت نہیں:
محمدوقاص خان صاحب سے اس نکتے پر مکمل اتفاق ہے کہ مولانا مودودی کا اجتہاد وحی نہیں۔ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ عرض ہے کہ مولانا مودودی کا علمی کام قرآن و سنت کے بعد، خلفائے راشدین سے تاحال گزرنے والے جملہ فقہاء و مجتہدین کے علمی و تاریخی اثاثے کا ایک حصہ ہے — نہ کم، نہ زیادہ۔ جس طرح امام ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒ یا شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے اجتہادات سے بوقتِ ضرورت اور بقدرِ ضرورت استفادہ کیا جاتا ہے، بغیر اس کے کہ ان میں سے کسی ایک کی مکمل تصور اور طریقہ کار کو حتمی اور تاحیات لازم مان لیا جائے، بالکل اسی اصول پر مولانا مودودی کے اجتہاد سے بھی استفادہ ہونا چاہیے — نہ اسے مکمل رد کرکے، نہ اسے مکمل اور دائمی طور پر اپناکر ایسا کرنا ضروری ہے۔
۵۔ نتائج کا سوال: مولانا مودودی کا اپنا معیار:
یہاں ایک اہم تاریخی حوالہ قابلِ غور ہے: مولانا مودودی نے خود ’’تجدید و احیائے دین‘‘ میں ماضی کی اصلاحی و دعوتی تحریکوں کا تجزیہ کرکے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ کون سی تحریک کن اسباب کی بنا پر کامیاب یا ناکام ہوئی۔ گویا نتائج کے تجزیے کو خود مولانا مودودی نے ایک معتبر علمی طریقہ تسلیم کیا۔ اگر یہ معیار ماضی کی تحریکوں پر لاگو کرنا جائز تھا تو وہی معیار خود جماعتِ اسلامی کے اپنے تقریباً پچاسی سالہ تجربے پر لاگو کرنا بھی اتنا ہی جائز، بلکہ اصولی طور پر لازم ہے۔ نیز یہ بھی ایک اہم تاریخی حقیقت ہے کہ ابتدا میں جماعت کے قیام کے وقت نہ کوئی تفصیلی تنظیمی فلسفہ پیش کیا گیا تھا، نہ طریقہ کار اور نتائج کا کوئی حتمی یا مکمل خاکہ پیش ہوا تھا — بنیادی مقصد محض دعوتِ دین کے لیے ایک نظام کا قیام تھا، اور منہج، نتائج اور مزید تفصیلات بعد میں وقت کے ساتھ متعین ہوتی رہیں۔ اگر منہج خود ابتدا میں حتمی طور پر طے شدہ نہیں تھا بلکہ بتدریج تشکیل پایا، تو عصر حاضر میں کوئی متبادل پیش کرنے کے لئے بھی شرائط پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
۶۔ عدمِ آمادگی خود ایک دلیل ہے:
محمدوقاص خان صاحب کا یہ مطالبہ بجا ہے کہ تنقید کے ساتھ ساتھ ایک قابلِ عمل متبادل بھی پیش کیا جائے۔ اس کے جواب میں عرض ہے کہ ایک متبادل خاکہ ہمارے پاس موجود ہے، تاہم اس کی ذمہ داری کسی ایک فرد پر نہیں، اور نہ اسے حتمی سمجھا جاتا ہے — یہ ایک اجتماعی علمی کاوش کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ایک بنیادی حقیقت کا اعتراف ضروری ہے: جماعت کی موجودہ قیادت اور نظام اپنے ڈھانچے یا منہج میں کسی بنیادی تبدیلی کے لیے سرے سے آمادہ نہیں، اور اس تحریر میں پیش کی گئی گزارشات کو بھی وہی قیادت، غالب امکان کے مطابق، ’’دانش گردی‘‘ قرار دے گی۔ یہی عدمِ آمادگی، درحقیقت، خود اس دعوے کی سب سے مضبوط دلیل ہے کہ تنظیمی وسیلہ اب مقصد پر غالب آچکا ہے: ایک زندہ، مقصد پر مبنی اجتہادی تحریک ہمیشہ نظرثانی کے لیے کھلی رہتی ہے؛ جو تحریک بنیادی ڈھانچے پر نظرثانی کے امکان ہی کو خطرہ سمجھے، وہ اپنی تعریف کے مطابق خود کو مقصد کی جگہ رکھ چکی ہوتی ہے۔
خلاصہ:
اس جواب کا حاصل یہ ہے:کہ محمدوقاص خان صاحب کے بیان کردہ اصول — مقصد و وسیلہ کا فرق، اجتہاد کا احترام نہ کہ تقدیس، نتیجہ اور شرعی صحت کا امتیاز — سب درست ہیں، اور یہی اصول اس نتیجے کی بنیاد ہیں کہ جماعتِ اسلامی، طویل عملی مشاہدے کی روشنی میں، اپنے ہی بیان کردہ معیار پر فرقے کی تعریف پوری کرچکی ہے۔ اکیسویں صدی کے مسلمانوں کے مسائل کے حل میں اس کی ناکامی کا اعتراف اس لیے ضروری ہے کہ امتِ مسلمہ کے دین کے ساتھ مخلص افراد کے انسانی، مالی اور وقتی وسائل، جب تک یہ حقیقت تسلیم نہیں کی جاتی، اسی طرح صرف بلکہ ضائع ہوتے رہیں گے۔ موجودہ طریقہ منزل تک پہنچانے کے لیے کافی نہیں — اس ادراک سے شعور اور یکسوئی کے ساتھ گزرنا، اور پھر مل کر ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا﴾ کی حقیقی، امت گیر صورت کی طرف بڑھنا، وقت کا تقاضا ہے۔ جو اس احتساب کے لیے تیار نہیں، وہ دراصل امت کے وسیع مفاد کے بجائے اپنے مخصوص گروہی وجود کی بقا کا محافظ بن چکا ہے۔
پیغام:
ہمارے پاس ایک متبادل خاکہ موجود ہے، لیکن میں اسے حتمی نہیں سمجھتا اور نہ اس کی تشکیل کو صرف اپنی ذمہ داری قرار دیتا ہوں۔ یہ امت کے اہل علم، مخلص افراد اور اجتماعی بصیرت کا کام ہے۔ البتہ جب تک موجودہ منہج کی بنیادی ناکامیوں کو تسلیم کرکے سنجیدہ نظرثانی نہیں کی جائے گی، امت کے انسانی، مالی اور وقتی وسائل اسی ڈھانچے میں صرف بلکہ ضائع ہوتے رہیں گے، جبکہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔میری گزارش صرف یہ ہے کہ ہم جماعت کی بقا کو امت کی بقا، تنظیمی وفاداری کو دینی وفاداری اور ایک تاریخی اجتہاد کو دین کا واحد معاصرمنہج نہ سمجھیں۔ ہمیں شعوری طور پر ’’لا الٰہ‘‘ کے تقاضوں کے مطابق ہر غیر الٰہی تقدیس اور جماعتی عصبیت سے نجات حاصل کرکے، ’’الا اللہ‘‘ کی بنیاد پر اعتصام بحبل اللہ اور حقیقی اجتماعیت کی طرف بڑھنا ہوگا۔ اصل سوال کسی جماعت کو بچانا نہیں، بلکہ دین کے مقاصد اور امت کے اجتماعی مستقبل کے لیے زیادہ درست، مؤثر اور وسیع تر راستہ اختیار کرنا ہے۔

محترم! ہماری یہ گفتگو شخصی نہیں، بنیادی طور پر جماعتی اور عملی تناظر میں ہے؛ یعنی جماعت اسلامی کی کتابی تعبیر نہیں، بلکہ اس کی موجودہ عملی صورت ہمارا موضوع ہے۔جہاں تک دلائل کا تعلق ہے، میری پیدائش ایک تحریکی گھرانے میں ہوئی، میں ۲۲ سال تک شعوری طور پر جماعت سے وابستہ رہا، ۱۴ سال مرکزی ذمہ داریوں پر فائز رہا اور مرکزی شوریٰ میں بھی مختلف حیثیتوں سے ۱۴ سال کام کیا۔ اس لیے میرے پاس محض تاثرات نہیں، بلکہ طویل عملی تجربے، مشاہدات اور متعدد پالیسی فیصلوں کی بنیاد پر استدلال کے لیے مواد موجود ہے۔
جماعت سازی کے شرعی جواز پر آپ اور محترم ڈاکٹر محمد امین سے میرا کوئی بنیادی اختلاف نہیں رہا۔ میرا سوال جماعت سازی کے جواز سے آگے بڑھ کر جماعت اسلامی کی موجودہ فکری، تنظیمی اور سیاسی صورت کا ہے۔ میری رائے میں ۱۹۵۷ء کے بعد جماعت بتدریج ایک مذہبی سیاسی فرقے اور گروہ کی صورت اختیار کرچکی ہے، جس میں جماعتی شناخت اور بقا، امت کے وسیع تر مفاد پر غالب آگئی ہے۔ یوں مولانا مودودی جس فرقہ واریت کے خلاف زندگی بھر جدوجہد کرتے رہے، جماعت خود اسی رجحان کا شکار ہوگئی۔مولانا مودودی کے علمی کام سے استفادے کے بارے میں میرا اصول واضح ہے: قرآن و سنت کے بعد خلفائے راشدین سے لے کر تمام فقہاء، مجتہدین اور مفکرین امت کا علمی و تاریخی سرمایہ ہیں۔ مولانا مودودی کا کام بھی اسی ذخیرے میں ایک اہم اضافہ ہے؛ نہ اسے وحی کا درجہ حاصل ہے، نہ اسے تنقید اور نظرثانی سے بالاتر قرار دیا جاسکتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ جماعت اسلامی اکیسویں صدی کے مسلم معاشرے کے مسائل حل کرنے میں اپنی موجودہ صورت اور منہج کے ساتھ ناکام رہی ہے۔ یہ محض نتائج کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے فکری مقدمات، تنظیمی ساخت، سیاسی حکمت عملی اور مقصد و وسیلہ کے تعلق کا بھی سوال ہے۔ مولانا مودودی نے اپنے زمانے میں ایک نئے اجتہادی تجربے کی بنیاد رکھی تھی؛ لہٰذا بعد کے اہل علم کو بھی حالات کے مطابق اس پر نظرثانی اور متبادل منہج پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔
ہمارے پاس ایک متبادل خاکہ موجود ہے، لیکن میں اسے حتمی نہیں سمجھتا اور نہ اس کی تشکیل کو صرف اپنی ذمہ داری قرار دیتا ہوں۔ یہ امت کے اہل علم، مخلص افراد اور اجتماعی بصیرت کا کام ہے۔ البتہ جب تک موجودہ منہج کی بنیادی ناکامیوں کو تسلیم کرکے سنجیدہ نظرثانی نہیں کی جائے گی، امت کے انسانی، مالی اور وقتی وسائل اسی ڈھانچے میں صرف ہوتے رہیں گے، جبکہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔میری گزارش صرف یہ ہے کہ ہم جماعت کی بقا کو امت کی بقا، تنظیمی وفاداری کو دینی وفاداری اور ایک تاریخی اجتہاد کو دین کا واحد منہج نہ سمجھیں۔ ہمیں شعوری طور پر ’’لا الٰہ‘‘ کے تقاضوں کے مطابق ہر غیر الٰہی تقدیس اور جماعتی عصبیت سے نجات حاصل کرکے، ’’الا اللہ‘‘ کی بنیاد پر اعتصام بحبل اللہ اور حقیقی اجتماعیت کی طرف بڑھنا ہوگا۔ اصل سوال کسی جماعت کو بچانا نہیں، بلکہ دین کے مقاصد اور امت کے اجتماعی مستقبل کے لیے زیادہ درست، مؤثر اور وسیع تر راستہ اختیار کرنا ہے۔

04/10/2026

ڈاکٹر محمد غیاث صاحب نے میرے دو مضامین — ’’جماعت سازی: بدعت یا اجتہاد؟‘‘ اور ’’جواب الجواب: جماعت سازی، اقامتِ دین اور جمہوری طریقۂ کار‘‘ — کے تناظر میں جو سوالات اٹھائے ہیں، وہ میرے نزدیک قابلِ توجہ ہیں۔
خاص طور پر اس لیے کہ ہماری گفتگو اب اس ابتدائی سوال سے آگے بڑھ چکی ہے کہ ’’جماعت سازی فی نفسہٖ بدعت ہے یا نہیں؟‘‘میں اپنی سابقہ تحریروں میں یہ واضح کرچکا ہوں کہ:نئی تنظیمی صورت کا عہدِ نبوی میں موجود نہ ہونا اسے ازخود بدعتِ شرعیہ نہیں بناتا؛ جماعت سازی ایک اجتہادی و تنظیمی معاملہ ہوسکتا ہے؛ اور کسی اجتہاد کے سیاسی نتائج مطلوبہ نہ نکلنے سے اس کا شرعی بطلان خود بخود ثابت نہیں ہوتا۔ڈاکٹر غیاث صاحب اب اس کے بعد کا سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر یہ ایک اجتہادی وسیلہ ہے تو کیا اسے ہمیشہ اسی تاریخی صورت میں باقی رہنا چاہیے؟یہ سوال بجا ہے۔
لیکن اس کا جواب بھی اسی اصولی تفریق کے ساتھ دینا ہوگا جس پر ہماری سابقہ بحث قائم ہے:اقامتِ دین مقصد ہے، جماعت وسیلہ ہے؛ وسیلہ قابلِ احترام ہوسکتا ہے مگر معصوم نہیں؛ اجتہاد قابلِ قدر ہوسکتا ہے مگر وحی نہیں؛ اور تاریخی تجربہ قابلِ مطالعہ ہے مگر بذاتِ خود شرعی نص نہیں۔اسی اصول کی روشنی میں ان کے سوالات کا جواب پیش ہے۔۱۔ اگر موجودہ تنظیمی و سیاسی طریقہ درست ہے تو اس کی دعوتی، فکری اور سیاسی سمت کمزور کیوں ہوئی؟یہ سوال بظاہر بہت وزنی ہے، لیکن اس میں ایک مقدمہ پہلے سے شامل ہے: یہ کہ کسی طریقۂ کار کی طویل مدت میں مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہ ہونا اس کے بنیادی اجتہاد کے غلط ہونے کی دلیل ہے۔میری سابقہ تحریر کا اصل نکتہ یہی تھا کہ اس ربط کو ثابت کرنا ضروری ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ کسی اجتہاد کے نتائج غیر اہم ہیں۔ بالکل اہم ہیں۔لیکن نتیجہ اور شرعی صحت ایک ہی چیز نہیں۔کسی سیاسی یا اجتماعی تحریک کے نتائج پر اس کے نظریے کے علاوہ بے شمار عوامل اثر انداز ہوتے ہیں: زمانے کا سیاسی ماحول، ریاستی ڈھانچہ، معاشرتی مزاج، مخالف قوتیں، عالمی حالات، قیادت کے فیصلے، تنظیمی کمزوریاں، کارکنوں کی صلاحیت اور بہت کچھ۔اس لیے اگر کسی اجتہادی طریقے کے نتائج مطلوبہ نہ نکلیں تو اس سے یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ:کیا اس طریقے کی حکمتِ عملی، ترجیحات یا تنظیمی ساخت پر نظرثانی کی ضرورت ہے؟لیکن یہ نتیجہ فوراً نہیں نکلتا کہ:اس لیے وہ اجتہاد شرعاً باطل تھا۔یہی فرق میری پہلی اور دوسری تحریر کا بنیادی نکتہ ہے۔اور جہاں تک ان تبدیلیوں کا تعلق ہے جنہیں غیاث صاحب نے کبھی ’’سیکولر‘‘ سمجھے جانے والے اعمال کے بعد میں ’’اسلامی‘‘ قرار دیے جانے کے تناظر میں اٹھایا ہے، تو یہاں بھی میرے خیال میں جذباتی فیصلہ کرنے کے بجائے ہر معاملے کو الگ دیکھنا چاہیے۔اگر کوئی چیز واقعی پہلے اصولاً ناجائز سمجھی گئی اور بعد میں محض جماعتی ضرورت کے تحت جائز قرار دے دی گئی تو یہ تنقید کا موضوع ہوسکتی ہے۔لیکن ہر پالیسی تبدیلی کو ’’نظریاتی انحراف‘‘ کہنا بھی درست نہیں۔اجتہاد میں حالات کے بدلنے سے حکمِ تطبیق بدل سکتا ہے؛ سوال یہ ہے کہ تبدیلی کی شرعی و اصولی بنیاد کیا ہے۔لہٰذا میں غیاث صاحب کے سوال کو یوں قبول کرتا ہوں:تاریخی تجربہ منہج کے ازسرِنو جائزے کا جواز ضرور پیدا کرسکتا ہے؛ لیکن خود بخود اس کے شرعی بطلان کا فیصلہ نہیں کرتا۔
۲۔ جب پہلے سے مذہبی جماعتیں موجود تھیں تو مولانا مودودی نے نئی جماعت کیوں بنائی؟یہ سوال دراصل مولانا مودودی کے اپنے اجتہاد کے دفاع سے زیادہ ان کے اجتہاد کی نوعیت سمجھنے کا سوال ہے۔میرے نزدیک اس کا جواب بہت سادہ ہے:مولانا مودودی نے موجودہ مذہبی جماعتوں کے وجود سے انکار کرکے جماعت نہیں بنائی تھی؛ انہوں نے اپنے زمانے کے حالات کے مطابق ایک مخصوص مقصد اور مخصوص منہج کے لیے ایک نئی تنظیمی صورت اختیار کی۔یہی تو اجتہاد ہے۔اگر موجودہ ادارے ہر زمانے کے ہر نئے مسئلے کے لیے کافی ہوتے تو اجتہاد، تجدید اور تنظیمِ نو کی ضرورت ہی نہ رہتی۔لیکن یہاں ایک اہم بات میں غیاث صاحب سے اتفاق کرتا ہوں:مولانا مودودی کے اس اقدام کو تاریخی ضرورت کے جواب میں ایک اجتہادی تجربہ سمجھا جائے تو پھر اس کی بعد کی نسلوں کو بھی اس کے اجتہادی ہونے کا حق تسلیم کرنا ہوگا۔یعنی اگر بیسویں صدی میں ایک عالم کو یہ حق تھا کہ وہ اپنے زمانے کے حالات دیکھ کر ایک نئی تنظیمی صورت اختیار کرے تو اکیسویں صدی کے اہلِ علم کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات میں اس طریقے کا جائزہ لیں۔البتہ یہاں ایک فرق ضروری ہے:نظرثانی کا حق اور غلط ثابت ہونے کا فیصلہ دو الگ چیزیں ہیں۔
کسی تاریخی اجتہاد پر نظرثانی کرنا اس کی توہین نہیں، اور کسی تاریخی اجتہاد کا احترام کرنا اسے ناقابلِ تنقید بنا دینا نہیں۔
۳۔ اگر بیسویں صدی کے مجتہدین کو نیا سیاسی طریقہ اختیار کرنے کا حق تھا تو اکیسویں صدی کے علماء کو متبادل طریقہ سوچنے کا حق کیوں نہیں؟میرے نزدیک اس سوال کا جواب صاف ہے: حق ہے۔میں نہ مولانا مودودی کو آخری مجتہد سمجھتا ہوں، نہ جماعت اسلامی کے موجودہ طریقۂ کار کو وحی کا درجہ دیتا ہوں۔مولانا مودودی نے اپنے زمانے کے حالات میں ایک اجتہادی جواب دیا۔ بعد کے اہلِ علم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پوچھیں:- کیا وہ حالات آج بھی موجود ہیں؟- کیا وہ سیاسی ڈھانچہ آج بھی وہی ہے؟- کیا وہ تنظیمی ترجیحات آج بھی مؤثر ہیں؟- کیا وہی انتخابی طریقہ آج بھی مناسب ہے؟- کیا دعوت، تربیت، تعلیم، سماجی خدمت اور سیاسی جدوجہد کے باہمی تناسب کو نئے سرے سے دیکھنے کی ضرورت ہے؟
- کیا اقامتِ دین کے مقصد کے لیے کوئی زیادہ مؤثر یا زیادہ وسیع اجتماعی طریقہ ممکن ہے؟یہ سب سوالات جائز ہیں۔بلکہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اجتہاد کو زندہ رکھنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہم سابقہ مجتہدین کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے اجتہاد کو وحی نہ بنائیں۔البتہ یہاں ایک اصول دونوں طرف یکساں ہونا چاہیے:جس طرح مولانا مودودی کے اجتہاد کو محض ’’نتائج‘‘ کی بنیاد پر باطل نہیں کہا جاسکتا، اسی طرح کوئی نیا متبادل بھی محض ’’نیا‘‘ ہونے کی وجہ سے درست نہیں مانا جاسکتا۔دلیل دونوں طرف درکار ہوگی۔
۴۔ ایک مخصوص انتخابی و تنظیمی طریقہ اسلامی نظام کے قیام کا واحد حقیقی راستہ کس بنیاد پر قرار دیا جاسکتا ہے؟اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ:اسلامی نظام کے قیام کے لیے صرف یہی ایک تنظیم، یہی ایک جماعتی ڈھانچہ اور یہی ایک انتخابی طریقہ شرعاً لازم ہے۔تو میرے علم میں اس دعوے کے لیے کوئی قطعی شرعی نص موجود نہیں۔میں نے اپنے دوسرے مضمون میں بھی بنیادی طور پر یہی بات عرض کی تھی کہ شوریٰ، نمائندگی، انتخاب اور حکومت کی تشکیل کے انتظامی طریقوں میں تاریخی تنوع موجود رہا ہے۔اس لیے کسی مخصوص جدید انتخابی فارم کو بذاتِ خود ’’اسلامی نظام کا واحد شرعی فارمولا‘‘ قرار دینے کے لیے مستقل دلیل چاہیے۔لیکن اس کے ساتھ ایک دوسری بات بھی واضح رہنی چاہیے:کسی ایک طریقے کے واحد شرعی ہونے کی نفی، ہر متبادل طریقے کی صحت کا ثبوت نہیں۔یعنی یہ کہنا:«’’یہ واحد راستہ نہیں‘‘» اور یہ کہنا:«’’اس کے علاوہ فلاں راستہ درست ہے‘‘»دو الگ دعوے ہیں۔پہلے دعوے کے لیے ایک دلیل کافی ہوسکتی ہے، دوسرے کے لیے مکمل متبادل منہج درکار ہوگا۔یہی وہ نکتہ ہے جس کی طرف غیاث صاحب خود بھی اشارہ کرتے ہیں کہ کسی موجودہ طریقۂ کار پر علمی تنقید اور اس کے متبادل نظام کی تشکیل دو الگ مراحل ہیں۔میرے نزدیک دونوں کام ہونے چاہییں۔
۵۔ اگر کوئی دوسرا عالم متبادل طریقہ پیش کرے تو پہلے اس کے دلائل کا علمی جائزہ کیوں نہ لیا جائے؟یہ سوال میں پورے طور پر قبول کرتا ہوں۔بلکہ میرے خیال میں یہی علمی رویہ ہونا چاہیے۔کسی متبادل منہج کو اس لیے مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ:’’یہ جماعت کے خلاف ہے۔اور نہ کسی نئے طریقے کو صرف اس لیے قبول کیا جاسکتا ہے کہ:’’موجودہ طریقہ مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا۔‘‘دونوں صورتوں میں تحقیق کا تقاضا ایک ہی ہے:دعویٰ → دلیل → اصول → تطبیق → نتائج۔اگر کوئی اہلِ علم یہ تجویز پیش کرتا ہے کہ اقامتِ دین کے لیے موجودہ جماعتی و انتخابی ڈھانچے کے بجائے کوئی وسیع تر اجتماعی، فکری، دعوتی، تعلیمی، سماجی یا سیاسی منہج اختیار کیا جائے تو اس کے دلائل کا علمی جائزہ ہونا چاہیے۔اور اگر کوئی شخص موجودہ منہج کا دفاع کرتا ہے تو اسے بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دلائل پیش کرے۔میری نظر میں اصل مسئلہ اختلاف نہیں؛ اختلاف کو دینی وفاداری کا امتحان بنا دینا مسئلہ ہے۔
۶۔ جماعت مقصد ہے یا وسیلہ؟ اگر وسیلہ ہے تو کیا اس کا تحفظ مقصد سے زیادہ اہم ہوسکتا ہے؟یہ شاید پوری بحث کا سب سے اہم سوال ہے۔میرا جواب بالکل واضح ہے:جماعت مقصد نہیں، وسیلہ ہے۔مقصد اللہ کی بندگی، دین کی اقامت، معروف کا فروغ، منکر کا ازالہ، عدل کا قیام اور انسانوں کی اصلاح ہے۔جماعت ان مقاصد کے حصول کا ایک اجتماعی ذریعہ ہے۔لیکن یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے:وسیلہ ہونا بے اہم ہونا نہیں ہے۔
ایک اچھا وسیلہ مقصد کے حصول میں انتہائی اہم ہوسکتا ہے۔ اسی لیے تنظیم، نظم، تربیت، شوریٰ، امارت، اطاعت اور اجتماعی نظم کی اپنی اہمیت ہے۔
لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وسیلہ اتنا اہم ہوجائے کہ وہ خود مقصد کی جگہ لے لے۔مثلاً اگر:- جماعت کی بقا دین کی مصلحت پر مقدم ہوجائے؛- جماعتی مفاد حق و انصاف پر غالب آجائے؛- تنظیمی اطاعت تنقید اور احتساب کو ختم کردے؛- جماعتی شناخت امت کی شناخت پر غالب آجائے؛- یا جماعت پر تنقید کو دین پر تنقید سمجھا جانے لگے؛تو پھر ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ کہیں وسیلہ مقصد کا قائم مقام تو نہیں ہوگیا۔غیاث صاحب نے بھی اپنی تحریر میں اسی خطرے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ایک تاریخی تنظیمی صورت رفتہ رفتہ مقصد کی جگہ لے سکتی ہے، حتیٰ کہ جماعت، قیادت اور اطاعت کو اقامتِ دین کے مترادف سمجھا جانے لگے۔میں اس اصول سے اتفاق کرتا ہوں۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جماعتی نظم لازماً اسی غلطی میں مبتلا ہے۔یہ ایک قابلِ تحقیق سوال ہے، پہلے سے ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔
۷۔ جب حالات بدل جائیں تو کیا تاریخی اجتہاد سے وابستگی ضروری رہتی ہے؟یہاں بھی میرا جواب دو حصوں میں ہے۔اگر ’’وابستگی‘‘ سے مراد یہ ہے کہ:«سابقہ مجتہد کا احترام کیا جائے، اس کی علمی کوشش کو سمجھا جائے، اس کی خدمات کا اعتراف کیا جائے اور اس کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جائے،»تو یقیناً یہ ضروری اور مفید ہے۔لیکن اگر ’’وابستگی‘‘ سے مراد یہ ہو کہ:«ایک مرتبہ اختیار کیا ہوا اجتہادی طریقہ حالات بدلنے کے باوجود ناقابلِ نظرثانی رہے،»تو میں اس اصول کو قبول نہیں کرتا۔اصول اور تطبیق میں فرق ہے۔قرآن و سنت کے قطعی اصول اپنی جگہ قائم رہتے ہیں، لیکن ان اصولوں کو بدلتے ہوئے حالات میں نافذ کرنے کی تدبیری صورتیں بدل سکتی ہیں۔مولانا مودودی کا اصل کارنامہ اگر ایک اجتہادی منہج پیش کرنا تھا تو اس منہج کی روح کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اگر ان کے زمانے میں ایک مخصوص تنظیمی صورت حالات کا جواب تھی تو یہ سوال بہرحال جائز رہے گا کہ آج کے حالات میں اسی صورت کو برقرار رکھنا کس دلیل سے ضروری ہے۔لیکن میں یہاں ایک بات ضرور کہوں گا:تاریخی تبدیلی کا مطلب لازماً سابقہ اجتہاد کی نفی نہیں۔ممکن ہے کہ بنیادی منہج برقرار رہے مگر اس کی تنظیمی شکل بدلے۔ممکن ہے کہ مقصد اور بنیادی اصول وہی رہیں مگر سیاسی حکمتِ عملی تبدیل ہوجائے۔ممکن ہے کہ جماعت کا وجود برقرار رہے مگر اس کی ترجیحات، تنظیمی ساخت یا انتخابی حکمتِ عملی میں اصلاح ہو۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں کوئی زیادہ وسیع اجتماعی صورت سامنے آئے۔اس لیے ’’یا موجودہ شکل، یا مکمل ترک‘‘ کی دوئی بھی ضروری نہیں۔
۸۔ کیا جماعت اسلامی کی تقریباً ۸۵ سالہ جدوجہد کے نتائج ’’دیوار پر لکھے ہوئے‘‘ نہیں؟ اگر نتائج معیار نہیں تو غلط راستے کی پہچان کیسے ہوگی؟
یہ سب سے مشکل سوال ہے اور شاید سب سے زیادہ سنجیدہ جواب کا متقاضی بھی۔میں ’’۸۵ سالہ تجربے‘‘ کو نظرانداز نہیں کرتا۔بلکہ میرے خیال میں اسے نظرانداز کرنا خود ایک غلطی ہوگی۔اتنے طویل تاریخی تجربے کے بعد یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے کہ:ہم کہاں پہنچے؟ کیا حاصل ہوا؟ کیا مطلوب تھا؟کیا غیر مطلوب نتائج نکلے؟ کہاں کامیابی ہوئی؟کہاں ناکامی ہوئی؟ کہاں نظریہ مسئلہ بنا؟کہاں حکمتِ عملی کا مسئلہ بنا ؟ کہاں تنظیمی ساخت کا مسئلہ بنا ؟ کہاں قیادت کا ؟ کہاں سیاسی ماحول کا ؟ اور کہاں شاید خود ہماری توقعات غیر حقیقی تھیں؟یہ تمام سوالات جائز ہیں۔لیکن میں ’’۸۵ سال گزر گئے، اس لیے راستہ غلط ثابت ہوگیا‘‘ کو بھی کافی دلیل نہیں سمجھتا۔کیونکہ اگر صرف مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ ہونا ہی غلطی کا قطعی معیار ہو تو دنیا کی بہت سی دینی، اصلاحی اور سیاسی کوششیں اپنی پوری مدت میں ناکام قرار پائیں گی۔نتائج معیار ہیں، مگر واحد معیار نہیں۔میرے نزدیک کسی اجتہادی منہج کو جانچنے کے کم از کم پانچ دائرے ہونے چاہییں:
۱۔ شرعی بنیادکیا اس منہج کے بنیادی تصورات قرآن و سنت کے قطعی اصولوں سے متصادم ہیں؟
۲۔ اجتہادی مقدمات
جن مفروضوں پر یہ منہج قائم کیا گیا تھا، کیا وہ مقدمات درست تھے؟
۳۔ مقصد اور وسیلہ
کیا وسیلہ واقعی مقصد کی خدمت کر رہا ہے یا آہستہ آہستہ خود مقصد بن رہا ہے؟
۴۔ تاریخی و عملی نتائج
طویل تجربے میں اس منہج نے کیا نتائج پیدا کیے؟ مطلوبہ، غیر مطلوبہ اور غیر متوقع — سب کو دیکھنا ہوگا۔
۵۔ قابلِ عمل متبادل
اگر کسی موجودہ طریقے کو تبدیل کرنے کی بات کی جارہی ہے تو متبادل کیا ہے؟ اس کی شرعی بنیاد کیا ہے؟ اس کی عملی ساخت کیا ہے؟ اور اس کے ممکنہ نقصانات کیا ہیں؟یہ آخری سوال بھی بہت اہم ہے۔صرف موجودہ طریقے کی خامیاں گنوانا متبادل منہج پیش نہیں کرتا۔لیکن دوسری طرف یہ کہنا بھی درست نہیں کہ:«’’جب تک مکمل متبادل تیار نہ ہو، موجودہ طریقے پر تنقید نہیں ہوسکتی۔‘‘»علمی تنقید اور متبادل نظام کی تشکیل دو الگ مرحلے ہیں۔ڈاکٹر غیاث صاحب کی تحریر میں بھی یہی فرق نمایاں کیا گیا ہے کہ کسی طریقے پر علمی نقد اور جامع متبادل نظام کی تشکیل الگ مراحل ہیں۔ایک بنیادی وضاحت: میں دراصل کس چیز پر سوال اٹھا رہا ہوں؟شاید اس پوری بحث میں سب سے زیادہ ضروری وضاحت یہی ہے۔میں جماعت اسلامی کے وجود کو دین کا مترادف نہیں سمجھتا۔میں جماعت اسلامی کو ’’الجماعۃ‘‘ نہیں سمجھتا۔میں مولانا مودودی کو معصوم نہیں سمجھتا۔میں ان کے اجتہادات کو وحی نہیں سمجھتا۔لیکن اسی طرح میں یہ بھی نہیں کہتا کہ:جماعت بنانا بدعت ہے۔یا:مولانا مودودی کا پورا کام باطل تھا۔یا:اسلامی نظام کے لیے سیاسی جدوجہد غیر ضروری ہے۔یا:انتخابات میں حصہ لینا بذاتِ خود غیر اسلامی ہے۔میری بحث اس سے کہیں زیادہ محدود اور اصولی ہے:
«ایک جائز اجتماعی مقصد کے لیے قائم کیا گیا ایک اجتہادی تنظیمی طریقہ جب ایک تاریخی مرحلے میں مفید ثابت ہو تو اسے اختیار کیا جاسکتا ہے؛ لیکن اسے دین کی واحد متعین تعبیر، اقامتِ دین کا واحد منہج یا تنقید سے بالاتر معیار نہیں بنایا جاسکتا۔»یہی میرے دونوں مضامین کا بنیادی حاصل ہے۔
ایک اور اہم فرق: اجتہاد کا احترام اور اجتہاد کی تقدیس ۔میرا خیال ہے کہ یہاں ہماری پوری بحث کا ایک مرکزی مغالطہ ختم ہوسکتا ہے۔
اجتہاد کا احترام کرنا چاہیے، اجتہاد کی تقدیس نہیں۔
مولانا مودودی نے اگر اپنے زمانے میں ایک نیا تنظیمی و سیاسی اجتہاد کیا تو یہ ان کا علمی حق تھا۔انہوں نے قرآن و سنت کے عمومی اصولوں کو سامنے رکھ کر اپنے زمانے کے مسئلے کا جواب تلاش کیا۔ہم اس سے اختلاف کرسکتے ہیں۔ہم اس کی اصلاح کرسکتے ہیں۔ہم اس کے بعض اجزا کو چھوڑ سکتے ہیں۔ہم بعض اجزا کو نئے حالات میں دوبارہ تشکیل دے سکتے ہیں۔اور اگر ہمیں کوئی بہتر دلیل ملے تو اس کے مقابلے میں ایک نیا اجتہاد بھی کرسکتے ہیں۔لیکن یہ سب کرتے ہوئے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے یہ تسلیم کیا جائے کہ وہ ایک اجتہادی کوشش تھی، نہ کہ وحی۔اور اگر وہ اجتہادی کوشش تھی تو اس کے ساتھ یہی اصول وابستہ ہوگا کہ بعد کے اہلِ علم بھی اس پر غور کرسکتے ہیں۔لیکن یہاں ایک سوال میں ڈاکٹر غیاث صاحب سے بھی کروں گا۔اگر ہم اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ جماعتی و سیاسی منہج ایک تاریخی اجتہاد ہے، تو پھر اس پر تنقید کا معیار بھی واضح ہونا چاہیے۔
صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ:’’اس سے مطلوبہ نتائج نہیں نکلے۔‘‘بلکہ ہمیں یہ دکھانا ہوگا کہ:- اس اجتہاد کا کون سا بنیادی مقدمہ غلط تھا؟- کون سا اصولی استدلال ناقص تھا؟- کون سی تنظیمی صورت مقصد سے متصادم ہوگئی؟- کون سا سیاسی طریقہ شرعی مقصد کے لیے ناموزوں ثابت ہوا؟
- اور اس کے مقابلے میں قابلِ عمل متبادل کیا ہے؟اسی طرح میری طرف سے بھی یہ دعویٰ کافی نہیں کہ:’’جماعت بنانا جائز ہے، لہٰذا موجودہ جماعتی منہج بھی درست ہے۔‘‘دونوں مقدمات الگ ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں مجھے لگتا ہے کہ ہماری بحث کو ’’جماعت بنانا جائز ہے یا نہیں‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’کون سا اجتماعی منہج، کن اصولوں کے تحت، کس مقصد کے لیے، کس تاریخی صورت میں زیادہ درست اور مؤثر ہوسکتا ہے؟‘‘ کے سوال تک پہنچنا چاہیے۔اور آخر میں شاید میری پوری پوزیشن کو ایک جملے میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے:«میں جماعت سازی کے جواز کا دفاع کرتے ہوئے جماعتی منہج کو دین نہیں بنا رہا، اور مولانا مودودی کے اجتہاد کا احترام کرتے ہوئے اسے وحی نہیں بنا رہا۔ اسی طرح میں اس منہج پر نظرثانی کا حق تسلیم کرتے ہوئے اس کے بطلان کا فیصلہ صرف سیاسی نتائج کی بنیاد پر بھی نہیں کرتا۔»میرے نزدیک اصل علمی کام یہ ہے کہ:مقصد کو وسیلے سے، نص کو اجتہاد سے، اجتہاد کو تنظیم سے، اور تنظیم کو دین سے الگ الگ رکھ کر دیکھا جائے۔جب یہ امتیاز قائم ہوجائے تو شاید ہماری پوری بحث زیادہ سنجیدہ، زیادہ منصفانہ اور زیادہ نتیجہ خیز ہوسکتی ہے۔
محمد وقاص خان

04/10/2026

اقامتِ دین سے سیاسی فرقے تک کا سفر: اجتہاد برائے قیامِ جماعت،ایک تدریجی سفراور منہجِ اقامتِ دین کا تنقیہی جائزہ:قسط 1/4تحریر:ڈاکٹر محمدغیاث
(پروفیسر ڈاکٹر محمد امین، وقاص خان صاحب اور ڈاکٹر محمد غیاث کے مابین ایک جاری علمی مکالمے کا پس منظر اور پیش منظر)
تمہید:پروفیسر ڈاکٹر محمد امین صاحب نے اپنے مجلے البرہان کے شمارۂ ستمبر میں میرے (محمد غیاث) مختصر مضمون کے ساتھ ’’دینِ اسلام میں جماعت سازی کی شرعی حیثیت‘‘ کے موضوع پر دوسرے مضمون کی دوسری قسط بھی شائع کی ہے۔ اس مکالمے کا آغاز چونکہ فیس بک سے ہوا تھا، اس لیے اس تازہ شمارے کے مضمون کے بعد حسبِ سابق وقاص خان صاحب کا مؤقف بھی بلا تامل سامنے آگیا ہے۔ اس علمی مکالمے میں ان کی دلچسپی بہرحال خوش آئند ہے۔ان کے سابقہ مؤقف کا جواب ڈاکٹر محمد امین صاحب دے چکے ہیں۔ اگر وقاص خان صاحب اپنا مضمون البرہان کے مطلوبہ فارمیٹ میں ارسال کرتے تو ممکن تھا کہ وہ بھی شائع ہوجاتا، یا اسے ترجمان القرآن میں پیش کیا جاسکتا تھا۔ بہرحال، ان کے فیس بک مضمون اور اٹھائے گئے سوالات کا جواب پروفیسر ڈاکٹر محمد امین صاحب دیں گے۔
چونکہ اس مکالمے کا آغاز میں نے کیا تھا اور اس موضوع پر میرا بھی مستقل علمی مؤقف ہے، اس لیے میں اپنا جواب بھی قارئین کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ یہ جواب چار حصوں پر مشتمل ہوگا: پہلے ان کے بنیادی مقدمے کا جائزہ لیا جائے گا، جس پر پورا مضمون قائم ہے،دوسرے اپنے گروہ کو عین حق اور قرآن کا تقاضا قرار دینے کے مؤقف پر گفتگو ہوگی،تیسرے ان کے سوالات کے جوابات نصوص کی روشنی میں دیے جائیں گے،اور چوتھے میں ان کے سامنے چند بنیادی سوالات پیش کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ اس موضوع پر ۱۲ مضامین پر مشتمل ’’معاصر تصوراتِ دین کا تنقیحی جائزہ‘‘ پہلے ہی مکمل کیا جاچکا ہے، جو بہت جلد کتابی صورت میں شائع ہوگا۔
علم کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اختلاف کو دشمنی نہ بننے دیا جائے، اور نہ ہی مصلحتاً اسے دبا دیا جائے۔ زیرِ نظر مضمون اسی روایت کی پیروی میں لکھا جارہا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے اپنی تحریروں میں دورِ حاضر کی دینی و سیاسی جماعت سازی پر اصولی سوالات اٹھائے۔ وقاص خان صاحب نے ان سوالات کا تفصیلی علمی جواب دیا، اور دو تحریوں میں اپنا مؤقف واضح کیا۔ اب میں اس مکالمے میں اپنی مستقل رائے پیش کر رہا ہوں — نہ کسی شخصیت کے خلاف، بلکہ ایک فکری مقدمے، اس کے مقدمات، اور اس کے عملی نتائج کے تنقیدی جائزے کے طور پر نظر قارئین کرتا ہوں۔
یہ ضروری وضاحت پیشگی درکار ہے کہ زیرِ نظر تجزیہ بنیادی طور پر وقاص خان صاحب کی دو تحریروں — ’’جماعت سازی: بدعت یا اجتہاد؟‘‘ اور ’’جواب الجواب‘‘ — پر مبنی ہے، جن میں پروفیسر ڈاکٹر محمد امین کے دلائل کا خاصا حصہ نقل و تلخیص کے ساتھ موجود ہے۔ لہٰذا جہاں پروفیسر ڈاکٹر محمد امین کا موقف براہِ راست ان کی اپنی عبارت سے نہیں بلکہ وقاص خان صاحب کے حوالے سے سامنے آیا ہے، وہاں یہ بات ملحوظ رکھی گئی ہے کہ اسے اسی احتیاط سے پیش کیا جائے، تاکہ کسی موقف کو اس کے اصل قائل سے زیادہ یا کم نہ بنایا جائے۔
حصہ اول: بنیادی مقدمہ اور فکری مغالطے کی نشان دہی:
وقاص خان صاحب کا مؤقف:وقاص خان صاحب کی پہلی تحریر کا بنیادی ستون یہ اصولی سوال ہےکہ:کیا کسی کام کا سابقہ تاریخ میں عین اسی صورت میں موجود نہ ہونا، اسے بدعتِ شرعیہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے؟ان کے نزدیک ’’عدمِ سابقہ‘‘ اور ’’حرمتِ شرعی‘‘ دو الگ چیزیں ہیں۔ وہ اس مقدمے کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ جدید دینی و سیاسی جماعت سازی — بالخصوص مولانا مودودی کا تنظیمی تصور — کو محض اس بنا پر بدعت قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس کی عین یہی شکل عہدِ نبوی یا صدرِ اول میں نہیں ملتی۔ وہ آیتِ ’’وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ‘‘، آیتِ نفر، حدیثِ امارت فی السفر، اور نبوی سرایا کی مثالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اجتماعی نظم، امارت اور تنظیم ،اسلام میں اجنبی تصورات نہیں ہے۔
جواب الجواب میں وہ ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں: چونکہ پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے (بہ زعمِ وقاص خان صاحب ) اپنی دوسری تحریر میں جماعت سازی کو ’’بدعت‘‘ کے بجائے ’’غلط اجتہاد‘‘ قرار دیا، اس لیے اصل دعویٰ ہی بدل گیا۔ اب سوال بدعت کا نہیں بلکہ ’’اجتہاد کی خطا‘‘ کا رہ جاتا ہے، اور خطا ثابت کرنے کے لیے سیاسی ناکامی کافی نہیں بلکہ نص یا اصولِ شریعت سے تصادم ثابت کرنا ہوگا۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد امین کا موقف:وقاص خان صاحب کی تحریروں کے آئینے میں دیکھا جائے تو پروفیسر ڈاکٹر محمد امین کا بنیادی مقدمہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن و سنت اور تقریباً ساڑھے تیرہ سو سالہ اسلامی تاریخ میں صحابہ، تابعین، ائمہ، محدثین اور فقہاء نے موجودہ مفہوم کی کوئی مستقل، دستوری، رکنیت یافتہ سیاسی و تبلیغی جماعت قائم نہیں کی۔ اس تاریخی مشاہدے کی بنیاد پر وہ جدید جماعتی تصور، خصوصاً اس کے سیاسی و انتخابی اطلاق، پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں، اور بعد ازاں اسے ایک ایسا اجتہاد قرار دیتے ہیں جو، ان کے نزدیک، تقریباً سو سالہ عملی تجربے کے بعد اپنے مطلوبہ نتائج پیدا کرنے میں ناکام رہا۔
یہاں دیانت داری کا تقاضا ہے کہ اس موقف کو کمزور کرکے پیش نہ کیا جائے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد امین کا اصل استدلال محض ’’نیا ہونا بدعت ہے‘‘ کی سادہ منطق پر کھڑا نہیں معلوم ہوتا، بلکہ اس میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ آیا اجتہاد کی بنیاد پرایک عارضی، حالات کے تحت وجود میں آنے والا تنظیمی ڈھانچہ رفتہ رفتہ خود کو دین کے ایک لازمی، تقریباً مقدس جزو کے درجے پر فائز کربیٹھا، جس پر تنقید کو دین پر تنقید سمجھا جانے لگا۔ محلِ نزاع کہاں ہے؟اب یہاں ایک بنیادی علمی سوال پیدا ہوتا ہے، جس کے تعین کے بغیر پوری بحث اپنے نشانے سے چوک سکتی ہے:کیا حقیقی اعتراض مطلقاً جماعت، تنظیم، ادارے یا اجتماعی نظم کے وجود پر ہے؟ یا اعتراض کسی مخصوص معاصر سیاسی و دعوتی منہج، اس کے نتائج، اور اس کے دینی خود شناسی پر ہے؟اگر غور کیا جائے تو دونوں فریقین کی بحث کا بڑا حصہ دراصل پہلے سوال پر مرکوز ہوگیا، جبکہ حقیقی محلِ نزاع دوسرے سوال میں پنہاں ہے۔ وقاص خان صاحب نے نہایت مضبوطی سے یہ ثابت کیا کہ اجتماعی نظم، امارت اور تنظیم فی نفسہٖ نہ بدعت ہیں نہ ممنوع — اور اس نکتے سے اختلاف کی کوئی معقول گنجائش نہیں۔ مدرسہ، جامعہ، دارالافتاء، رفاہی ادارہ — یہ سب نئی تنظیمی صورتیں ہیں جنہیں کوئی بدعت نہیں کہتا۔
مگر یہیں ایک باریک لیکن فیصلہ کن نکتہ نظر انداز ہوگیا کہ کسی عمل کو ’’بدعت‘‘ کہنا اور کسی مخصوص اجتہادی طریقے کو ’’غیر مؤثر، بلکہ اپنے ہی مقصد کے لیے نقصان دہ‘‘ قرار دینا ایک ہی دعویٰ نہیں۔ ادارہ سازی کے جواز اور کسی مخصوص ادارے کے طرزِ عمل، اس کے سیاسی نتائج اور اس کی دینی خود شناسی پر تنقید — یہ دو الگ میدان ہیں۔ اگر بحث محض ’’کیا جماعت بنانا جائز ہے؟‘‘ پر مرکوز رہے تو ایک زیادہ اہم سوال پسِ پشت چلا جاتا ہے: ’’کیا اس مخصوص جماعت نے، جس مقصد — اقامتِ دین — کے لیے خود کو منظم کیا، اسی مقصد کے حصول میں یا اس کے تصور میں کوئی داخلی نقص پیدا کرلیا؟‘‘
یہ فرق نمایاں کرنا ضروری ہے کیونکہ اگر محلِ نزاع درست طور پر متعین نہ کیا جائے تو مضبوط ترین دلائل بھی ایک غیر متعلقہ مقدمے کو ثابت کرتے رہ سکتے ہیں۔ وقاص خان صاحب کا ’’بدعت‘‘ کے خلاف دفاع اتنا ٹھوس ہے کہ وہ نگاہوں کو اس زیادہ نازک سوال سے ہٹا دیتا ہے کہ آیا جماعت سازی، اپنے حسنِ نیت کے باوجود، عملاً کسی ایسے راستے پر چل نکلی جو خود قرآن کی اسی روح سے متصادم ہوگیا جس کی بنیاد پر اسے قائم کیا گیا تھا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی تفصیل حصہ دوم میں پیش کی جائے گی۔(جاری ہے)
اقامتِ دین سے سیاسی فرقے تک کاسفر: اجتہاد برائے قیامِ جماعت ،ایک تدریجی سفراور منہجِ اقامتِ دین کا تنقیہی جائزہ:قسط 2/4تحریر:ڈاکٹر محمدغیاث
(پروفیسر ڈاکٹر محمد امین، وقاص خان صاحب اور ڈاکٹر محمد غیاث کے مابین ایک جاری علمی مکالمے کا پس منظر اور پیش منظر)
حصہ دوم: جماعت، اقامتِ دین اور ’’عین حق‘‘ ہونے کا دعویٰ:
قرآن مجید کی جن آیات کو اس بحث میں بنیاد بنایا گیا ہے، ان کا سیاق و مفہوم سمجھنا نہایت ضروری ہے، تاکہ ان سے وہی نتیجہ اخذ ہو جو وہ فی الواقع دیتی ہیں، نہ کہ وہ جو ہم انہیں دینا چاہتے ہیں۔﴿وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ﴾ (آلِ عمران: 104) — اس آیت میں بلاشبہ ایک اجتماعی فریضے کا ذکر ہے۔ لیکن غور کیا جائے تو یہاں ’’أُمَّة‘‘ سے مراد کوئی مخصوص دستوری، رکنیتی تنظیم نہیں بلکہ خیر کی دعوت اور امر بالمعروف پر قائم ایک عمومی وصف ہے جو پوری امت پر، یا امت کے کسی بھی طبقے پر، منطبق ہوسکتا ہے۔ اس آیت سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ فریضہ صرف ایک مخصوص تنظیم کے ذریعے، یا صرف ایک تنظیم کے ذریعے، ادا ہوسکتا ہے۔
﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾ (آلِ عمران: 103) اور ﴿أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ﴾ (الشوریٰ: 13) — دونوں آیات میں ایک ہی اصول دہرایا گیا ہے: اجتماعیت مطلوب ہے، مگر اس اجتماعیت کی شرط یہ ہے کہ وہ تفرقے کا ذریعہ نہ بنے۔ حبلِ اللہ کے ساتھ اعتصام اور دین کے قیام کا حکم انہی الفاظ کے ساتھ آیا ہے جو تفرقے کی نفی کرتے ہیں، گویا قرآن نے خود ان دونوں کو لازم و ملزوم بنایا ہے۔ اجتماعیت وہی مطلوب ہے جو تفرقے میں تبدیل نہ ہو۔﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ (آلِ عمران: 110) پوری امتِ مسلمہ کو خطاب ہے، کسی جزوی گروہ کو نہیں ہے ،للناس سے مراد امت اجابت ہے،یعنی اصل امت ایک ہی ہے اور وہ امت محمدی ہے۔ ﴿أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾ (النساء: 59) کا تعلق اطاعتِ حکومت و قیادت کے اصول سے ہے، جس کا اطلاق کسی ایک جماعتی امارت پر مخصوص کرنا ایک الگ استدلالی قدم ہے، جسے آیت کا لازمی مدلول نہیں کہا جاسکتا۔
اصولی فرق: تصور بمقابلہ تنظیم:
یہاں ایک نہایت اہم امتیاز قائم کرنا ضروری ہے، جسے دونوں طرف کی بحث نے پوری طرح روشن نہیں کیا۔اسلامی اجتماعی زندگی کا اصول — یعنی خیر کی دعوت، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، اقامتِ دین اور عدمِ تفرقہ کا حکم — ایک قطعی، مسلّم اور غیر متنازع قرآنی اصول ہے۔اس اصول کو نافذ کرنے کی کسی مخصوص تاریخی تنظیم کا طریقہ — یعنی ایک مخصوص دستور، رکنیت کا نظام، امارت کا طریقۂ انتخاب، تنظیمی درجہ بندی اور سیاسی حکمتِ عملی — ایک انسانی، تاریخی، اجتہادی اور اصلاح پذیر انتظام ہے۔
وقاص خان صاحب نے ان دونوں کو الگ کرنے کی کوشش تو کی ہے، مگر عملاً ان کی پوری تحریر میں یہ دونوں سطحیں ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں۔ جب بھی دوسری سطح (مخصوص تنظیم) پر اعتراض ہوتا ہے، تو جواب پہلی سطح (اصولِ اجتماعیت) کے دفاع سے دیا جاتا ہے۔ یہ ایک لطیف مغالطہ ہے،کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ خیر کے لیے مل کر کام کرنا غلط ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک مخصوص جماعت، اپنی تاریخی ساخت، اپنی مخصوص فقہی و سیاسی تعبیرات اور اپنی داخلی نفسیات کے ساتھ، اسی قرآنی اصول کی واحد یا حتمی شکل بن گئی؟
اگر ’’اقامتِ دین‘‘ ایک قرآنی مقصد ہے — اور یقیناً ہے — تو کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ ایک مخصوص جماعت، اپنے مخصوص دستور اور نظمِ اطاعت کے ساتھ، اس مقصد کی واحد یا حقیقی شرعی تعبیر بن جائے؟ یہ ایک ایسا استدلالی قدم ہے جسے قرآن کی مذکورہ آیات میں سے کوئی بھی براہِ راست ثابت نہیں کرتی۔ جب کوئی گروہ اپنی مخصوص تعبیر کو ’’عین اقامتِ دین‘‘ اور اپنی رکنیت کو گویا امت کے اصل حصے کے مترادف سمجھنے لگے، تو یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے لیے قرآن کی عمومی اجتماعیت والی آیات سے کہیں زیادہ مضبوط دلیل درکار ہوگی — اور یہی دلیل، فراہم کردہ مواد کی حد تک، پیش نہیں کی گئی۔
تفرقہ کا وہ رخ جو نظر انداز ہوا:
وقاص خان صاحب نے درست طور پر یہ فرق قائم کیا کہ جماعت سازی اور فرقہ سازی ایک چیز نہیں ’’فرقہ واریت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی گروہ اپنی جماعتی شناخت کو حق و باطل کا قطعی معیار بنادے، دوسروں کو امت یا حق سے خارج سمجھے اور اپنی جماعت کو نجات کا واحد یا عین حقیقی راستہ قرار دے۔‘‘ یہ تعریف بجا طور پر درست ہے۔ مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی معیار خود اس جماعتی تجربے پر لاگو کرکے دیکھا گیا جس کا دفاع کیا جارہا ہے؟
اگر ﴿وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ﴾ اور ﴿وَلَا تَفَرَّقُوا﴾ کو سنجیدگی سے لیا جائے تو یہ محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک معیار ہے جس پر ہر اجتماعی کوشش کو، بشمول اس کوشش کے جو خود اقامتِ دین کے نام پر برپا ہوئی، پرکھا جانا چاہیے۔ اور یہیں وہ نکتہ سامنے آتا ہے جو اس مکالمے میں تاحال براہِ راست زیرِ بحث نہیں آیا،جس تحریک نے اقامتِ دین کو اپنا نصب العین بنایا، اسی تحریک نے، وقت گزرنے کے ساتھ، عملاً خود کو ایک ایسے سیاسی و تنظیمی وجود میں ڈھال لیا جو دیگر دینی و سیاسی گروہوں کے مقابلے میں ایک الگ، متعین اور خود کفیل شناخت کا حامل ہوگیا — یعنی وہی چیز جسے ﴿وَلَا تَفَرَّقُوا﴾ روکنا چاہتی ہے۔ اقامتِ دین بجائے خود ایک وسیع، جامع اور پوری امت سے متعلق مقصد تھا۔ لیکن جب اس مقصد کے حصول کا سارا بوجھ ایک مخصوص تنظیمی سبب — یعنی ایک مخصوص جماعت کی رکنیت، دستور اور نظمِ اطاعت — پر ڈال دیا گیا، تو رفتہ رفتہ ’’اقامتِ دین‘‘ اور ’’اقامتِ جماعت‘‘ دو الگ الگ تصورات ہونے کے باوجود، عملی سطح پر ایک دوسرے میں مدغم ہوگئے۔ جماعت کی بقا، اس کی سیاسی کامیابی، اس کے دستور کی حرمت اور اس کی قیادت کی اطاعت — یہ سب گویا اقامتِ دین کے مترادف سمجھے جانے لگے، حالانکہ یہ سبب تھے، مقصد نہیں۔
اسی مقام پر ایک نہایت اہم منطقی نتیجہ برآمد ہوتا ہے: جب سبب — یعنی وہ مخصوص تاریخی، سیاسی اور تنظیمی صورتِ حال جس میں یہ جماعت وجود میں آئی — بدل گیا (نوآبادیاتی دور ختم ہوا، ریاستیں تبدیل ہوئیں، سیاسی نظام بدلے، عالمی و علاقائی حالات یکسر مختلف ہوگئے)، تو چونکہ مقصد کو سبب کے ساتھ اس قدر مضبوطی سے جوڑ دیا گیا تھا کہ دونوں تقریباً ایک ہی چیز بن چکے تھے، اس لیے سبب کی تبدیلی نے خود مقصد کو بھی ہوا میں معلق کردیا۔ اقامتِ دین، جو کبھی ایک وسیع اور بلند مقصد تھا، عملاً ایک مخصوص جماعت کی بقا اور سیاسی حیثیت کے سوال میں سکڑ گیا۔ اور جب وہ جماعت اپنے مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہ کرسکی، تو یوں محسوس ہونے لگا جیسے خود اقامتِ دین کا تصور ہی ناکام ہوگیا — حالانکہ حقیقت میں جو چیز ناکام ہوئی وہ ایک مخصوص تنظیمی وسیلہ تھا، مقصد نہیں۔ یہ الجھاؤ خود اسی مغالطے کی ایک نئی صورت ہے جس کی نشان دہی وقاص خان صاحب نے دوسروں کے حق میں کی — کہ سبب اور مسبب، وسیلہ اور مقصد کو ایک نہ سمجھا جائے — مگر جسے اپنی ہی جماعت کے تناظر میں لاگو کرنا رہ گیا۔
اسی کے ساتھ ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ﴾ میں مذکور امت کا وسیع تصور بھی، عملی سطح پر، ایک تنگ دائرے میں محدود ہوگیا۔ ’’امت‘‘ جو پوری امتِ مسلمہ کو محیط ایک قرآنی حقیقت ہے، رفتہ رفتہ جماعتی نفسیات میں ’’ہماری جماعت کے ارکان اور ہمدرد‘‘ تک سکڑتی محسوس ہوئی — نہ بطور کسی رسمی عقیدے کے، بلکہ بطور اس عملی رویے کے جو یہ طے کرتا ہے کہ کس کی رائے، کس کی قربانی اور کس کی دینی خدمت کو ترجیحی وزن دیا جائے۔ یہ رجحان ٹھیک اسی خطرے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس سے ﴿وَلَا تَفَرَّقُوا﴾ خبردار کرتی ہے: کہ خیر کے نام پر قائم ہونے والا اجتماع خود ایک نئی تفریق کی بنیاد نہ بن جائے۔جیسا کہ جماعت اب ایک مضبوط سیاسی فرقہ بن چکی ہے۔اسلام میں صرف مسلکی فرقہ واریت ممنوع نہیں ہے بلکہ سیاسی فرقہ واریت سمیت ہر قسم کی فرقہ واریت ممنوع ہے۔
یہ کہنا مقصود نہیں کہ ایسا کسی بد نیتی سے ہوا، یا یہ کہ اس جماعت کے کارکنان کی محنت اور اخلاص میں کوئی کمی تھی۔ بلکہ نکتہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسا ساختیاتی خطرہ ہے جو کسی بھی ایسی تحریک کو لاحق ہوسکتا ہے جو ایک وسیع دینی مقصد کو ایک متعین، محدود اور خود مختار تنظیمی ڈھانچے سے مشروط کردے۔ اور یہی وہ داخلی تضاد ہے جسے محض ’’بدعت‘‘ یا ’’جواز‘‘ کی بحث سے نہیں سمجھا جاسکتا۔(جاری ہے)
اقامتِ دین سے سیاسی فرقے تک کا سفر: اجتہاد برائے قیامِ جماعت ،ایک تدریجی سفراور منہجِ اقامتِ دین کا تنقیہی جائزہ:قسط 3/4تحریر:ڈاکٹر محمدغیاث
(پروفیسر ڈاکٹر محمد امین، وقاص خان صاحب اور ڈاکٹر محمد غیاث کے مابین ایک جاری علمی مکالمے کا پس منظر اور پیش منظر)
حصہ سوم: وقاص خان صاحب کے سوالات — مؤقف اور جواب:
۱۔ جدید مستقل سیاسی/دعوتی تنظیم کی تاریخی مثال:
وقاص خان صاحب کا مؤقف: بنو عباس کی تحریک، محمد نفسِ زکیہ کی علوی تحریک، عثمانیوں کا قبائلی اتحاد، اور برصغیر میں سید احمد شہید کی تحریک — یہ سب اجتماعی سیاسی جدوجہد کی مثالیں ہیں، لہٰذا یہ کہنا کہ اسلامی تاریخ میں اجتماعی نظم کے ذریعے سیاسی تبدیلی کی کوئی مثال نہیں ملتی، تاریخ کے خلاف ہے۔
جواب: یہ تاریخی حوالے، جس حد تک وہ درست ہیں، محض اس بات کے شاہد ہیں کہ مسلم تاریخ میں طاقت کی منتقلی، بغاوت، یا اقتدار کے حصول کے لیے منظم کوششیں ہوتی رہی ہیں — یہ ایک عمومی انسانی و سیاسی حقیقت ہے جس سے کسی تہذیب کی تاریخ خالی نہیں۔ مگر پروفیسر ڈاکٹر محمد امین کا اصل نکتہ، جیسا کہ سمجھ آتا ہے، محض ’’منظم سیاسی کوشش‘‘ کے وجود سے متعلق نہیں تھا، بلکہ اس مخصوص جدید ماڈل سے متعلق تھا جس میں ایک باقاعدہ تحریری دستور، رسمی رکنیت، نظریاتی تربیتی نظام، اور ایک مستقل و مسلسل ادارہ جاتی وجود ایک ہی وقت میں جمع ہوں، اور یہ سب ایک جامع نظریاتی و دینی بیانیے کے ساتھ مربوط ہوں۔ بنو عباس کی دعوتی تحریک ہو یا سید احمد شہید کی جدوجہد، یہ عارضی، ہدف کے حصول تک محدود تحریکیں تھیں، جو کامیابی یا ناکامی کے بعد اپنی اصل شکل میں باقی نہیں رہیں۔ اس کے برعکس جدید جماعتی ماڈل کی امتیازی خصوصیت اس کی نظریاتی و ادارہ جاتی مستقل مزاجی ہے، جو تاریخی مثالوں سے اسی معیار پر ثابت نہیں ہوتی جس معیار پر اسے پیش کیا جارہا ہے۔
۲۔ جماعت سازی اور بدعت کا مسئلہ
وقاص خان صاحب کا مؤقف: بدعت وہی ہے جو دین کا حصہ یا تقربِ الٰہی کا ذریعہ سمجھی جائے۔ محض نئی تنظیمی صورت بدعت نہیں۔
جواب: اس اصول سے اتفاق بجا ہے۔ تاہم یہاں یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اگر کسی جماعتی نظم کی رکنیت، اطاعتِ امیر اور تنظیمی وابستگی کو — عملی سطح پر، چاہے رسمی عقیدے کے طور پر نہ صحیح — دین کی تکمیل یا اجرِ عظیم کے حصول کا ذریعہ سمجھ لیا جائے، تو کیا یہ اسی حد سے تجاوز نہیں جہاں ایک انتظامی وسیلہ رفتہ رفتہ شبہِ تقرب کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے؟ اصل سوال یہ نہیں کہ تنظیم بنانا بدعت ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا تنظیم کو وہ درجہ دے دیا گیا جو صرف ایک وسیلے کو حاصل ہونا چاہیے تھا۔
۳۔ جدید تنظیم کو محض جدید ہونے کی وجہ سے رد کرنا:
وقاص خان صاحب کا مؤقف: مدرسہ، جامعہ، دارالافتاء وغیرہ سب جدید ادارے ہیں، انہیں محض جدت کی بنا پر بدعت نہیں کہا جاتا۔
جواب: یہ استدلال درست ہے، مگر اس کا اطلاق ایک اہم فرق کو نظر انداز کرتا ہے: مدرسہ یا دارالافتاء اپنی حیثیت میں خدماتی ادارے ہیں جو دین کے ایک متعین پہلو (تعلیم، فتویٰ) کی خدمت کرتے ہیں اور کسی متبادل مکمل نظامِ حیات یا سیاسی وفاداری کے دعوے دار نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس ایک ایسی جماعت جو دین کے مکمل سیاسی و اجتماعی نفاذ کا دعویٰ رکھتی ہو، اور جس کی رکنیت ایک جامع نظریاتی وابستگی کا تقاضا کرے، اپنی نوعیت میں مدرسے سے مختلف ہے۔ لہٰذا محض ادارہ سازی کے اصول سے استدلال کرکے اس فرق کو حل شدہ سمجھ لینا ایک عجلت پسندانہ قیاس ہے۔
۴۔ مولانا مودودی کے جمہوری و انتخابی طریقۂ کار کا تصور، اور ۵۔ حاکمیتِ الٰہیہ بمقابلہ عوامی حاکمیت:
وقاص خان صاحب کا مؤقف: مولانا مودودی نے مغربی جمہوریت کے فلسفۂ حاکمیت کو رد کیا، مگر انتخاب، شوریٰ اور نمائندگی کو بطور وسیلہ ’’تھیو ڈیموکریسی‘‘ کے تحت اپنایا۔ وسیلہ قبول کرنا پورے فلسفے کو قبول کرنا نہیں۔
جواب: اصولی طور پر یہ فرق — فلسفۂ حاکمیت اور طریقۂ کار کا فرق — درست اور معقول ہے۔ کوئی بھی صاحبِ علم اس بات سے اختلاف نہیں کرے گا کہ شوریٰ، نمائندگی اور احتساب کا اصول اسلام میں اجنبی نہیں۔ سوال مگر یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض تصوراتی سطح پر یہ فرق قائم رکھنا کافی ہے، یا عملی سیاست کے میدان میں یہ فرق دھندلا جاتا ہے؟ جب ایک جماعت جدید ریاستی جمہوری نظام کے اندر رہ کر انتخابات لڑتی، مخلوط حکومتیں بناتی، اور اسی نظام کے اصولوں پر اپنی سیاسی حکمتِ عملی استوار کرتی ہے، تو محض نظریاتی سطح پر ’’حاکمیتِ الٰہیہ‘‘ کا اعلان اس عملی مصالحت کے اثرات کو زائل نہیں کرتا۔ یہ ایک قابلِ بحث سوال ہے کہ آیا نظریے اور عمل کے درمیان یہ فاصلہ خود اجتہاد کے اندر کوئی داخلی تناؤ پیدا کرتا ہے، جس کا حل محض اصطلاحی توضیح (تھیو ڈیموکریسی) سے نہیں ہوتا۔
۶۔ انتخابات، شوریٰ اور نمائندگی کو ذریعہ سمجھنے کا تصور:
وقاص خان صاحب کا مؤقف: یہ محض انتظامی وسائل ہیں، انہیں فلسفۂ حاکمیت سے خلط نہیں کیا جاسکتا۔
جواب: اس اصول سے اتفاق کے باوجود یہ عرض ہے کہ کوئی بھی وسیلہ، طویل عرصے تک، ایک مخصوص سیاسی و سماجی ماحول میں استعمال ہونے کے بعد، محض غیر جانب دار آلہ نہیں رہتا بلکہ اپنے اندر ایک مخصوص سیاسی نفسیات، مصلحتیں اور وابستگیاں پیدا کرلیتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’یہ صرف وسیلہ ہے‘‘؛ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کیا اس وسیلے کے طویل استعمال نے خود مقصد کی تفہیم کو متاثر کیا۔
۷۔ اسلامی نظام کے قیام کے لیے کوئی ایک مقررہ سیاسی فارمولا نہ ہونے کا دعویٰ، اور ۸۔ خلفائے راشدین کے انتخاب کے مختلف طریقوں سے استدلال:
وقاص خان صاحب کا مؤقف: حضرت ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کے انتخاب کے طریقے مختلف تھے، جو ظاہر کرتا ہے کہ شریعت نے ایک جامد فارمولا مقرر نہیں کیا، لہٰذا حکومت سازی کا طریقہ اجتہاد کے دائرے میں ہے۔
جواب: یہ تاریخی مشاہدہ درست ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکالنا معقول ہے کہ حکومت سازی کا کوئی ایک متعین طریقہ شریعت میں مقرر نہیں۔ لیکن اسی اصول کو مستقل مزاجی سے لاگو کیا جائے تو یہ بھی ماننا ہوگا کہ جس طرح خلفائے راشدین نے اپنے اپنے دور کے حالات کے مطابق مختلف طریقے اپنائے، اسی طرح ایک صدی پرانے اجتہادی طریقۂ کار سے چمٹے رہنا بھی اسی اصول کے منافی ہوگا جس کی دلیل خود پیش کی جارہی ہے۔ تنوع کی دلیل، اگر درست تسلیم کی جائے، تو یہ تقاضا بھی کرتی ہے کہ نئے حالات کے مطابق نئے طریقوں پر غور کیا جائے، نہ کہ ایک مخصوص بیسویں صدی کے اجتہاد کو حتمی مان لیا جائے۔
۹۔ اجتہادی طریقۂ کار اور اس کی صحت و خطا:
وقاص خان صاحب کا مؤقف: اجتہاد کی خطا ثابت کرنے کے لیے نص یا اصولِ شریعت سے تصادم ضروری ہے، محض سیاسی ناکامی کافی نہیں۔
جواب: اصولی طور پر یہ معیار درست ہے۔ مگر اجتہاد کی صحت کا اندازہ صرف نص سے تصادم کی عدم موجودگی سے نہیں لگایا جاتا، بلکہ اس کے مقاصدِ شریعت (مقاصدِ کلیہ) سے موافقت سے بھی لگایا جاتا ہے۔ اگر کوئی اجتہادی طریقہ، طویل عرصے کے عملی تجربے کے بعد، بجائے اتحادِ امت کے تفریق کا باعث بننے لگے، یا بجائے دین کے وسیع تصور کے ایک محدود جماعتی تشخص کو فروغ دینے لگے، تو یہ اس اجتہاد کی مقصدی سطح پر خرابی کی طرف اشارہ کرتا ہے — چاہے کسی خاص نص سے اس کا براہِ راست تصادم ثابت نہ بھی ہو۔ فقہی اصول ’’الوسائل لها حكم المقاصد‘‘ (وسائل کا حکم مقاصد کے تابع ہوتا ہے) یہیں لاگو ہوتا ہے: اگر وسیلہ مقصد کو نقصان پہنچانے لگے تو خود وسیلے پر نظرثانی واجب ہوجاتی ہے۔
۱۰۔ اگر موجودہ انتخابی طریقہ قابلِ اعتراض ہے تو متبادل کیا ہے؟:
وقاص خان صاحب کا مؤقف: اگر شریعت نے کوئی متعین صورت مقرر نہیں کی تو یہ اجتہاد کا میدان ہے، اور محض جدید ہونے کی بنا پر اسے غیر اسلامی کہنا مغالطہ ہے۔
جواب: یہ سوال بجا ہے، مگر اس کا جواب یہ نہیں کہ چونکہ فی الحال کوئی مکمل متبادل تجویز نہیں کیا گیا، اس لیے موجودہ طریقے پر تنقید ساقط ہوجاتی ہے۔ علمی تنقید اور متبادل نظام کی تجویز دو الگ مراحل ہیں۔ کسی طریقۂ کار کی خامیوں کی نشان دہی کرنا، خواہ فی الحال کوئی جامع متبادل موجود نہ ہو، بذاتِ خود ایک جائز اور ضروری علمی عمل ہے، جیسا کہ طب میں کسی دوا کے مضر اثرات کی نشان دہی، متبادل دوا کی عدم دستیابی کے باوجود، بجائے خود اہم ہوتی ہے۔
۱۱۔ استعمار، مغربی سیاسی فکر اور بیسویں صدی کی مسلم سیاسی تحریکوں کا تاریخی پس منظر:
وقاص خان صاحب کا مؤقف: بیسویں صدی کی اسلامی تحریکوں نے استعمار، تہذیبی مغلوبیت اور سیکولر قوم پرستی کے ماحول میں محدود وسائل کے باوجود اسلامی فکر کو زندہ رکھا۔
جواب: اس تاریخی خدمت کا اعتراف بجا ہے، اور اس سے انکار مقصود نہیں۔ لیکن یہاں ایک منہجی سوال باقی رہ جاتا ہےکہ کیا وہ تنظیمی سانچہ جو استعماری دور کے مخصوص تہذیبی مقابلے کی ضرورت کے تحت تشکیل پایا — یعنی مغربی سیاسی جماعتوں کے طرزِ تنظیم، دستور اور نظریاتی ڈسپلن کی ایک اسلامی نقل — خود اسی مقابلے کی نفسیات سے پوری طرح آزاد رہ سکا؟ کیا ممکن نہیں کہ استعمار کا مقابلہ کرنے کے شوق میں استعماری دور کے تنظیمی آلات (جدید سیاسی پارٹی کا ماڈل) کو، شعوری یا غیر شعوری طور پر، اختیار کرلیا گیا ہو، جو بذاتِ خود ایک مغربی سیاسی تصور کا اسلامی روپ ہے؟ یہ سوال تاریخی تحقیق کا متقاضی ہے اور اسے حتمی دعوے کے بجائے ایک قابلِ غور امکان کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔
۱۲۔ موجودہ جماعتی سیاست کے نتائج اور اس کے منہج پر تنقیدی جائزہ، اور ۱۳۔ ’’بیسویں صدی کی بندوق سے اکیسویں صدی کی جنگ‘‘:
وقاص خان صاحب کی تحریروں میں یہ استعارہ براہِ راست نہیں آیا، مگر ان کا مجموعی موقف اسی کے قریب ہے: بیسویں صدی کی تحریکوں کی سیاسی ناکامی کو ان کے اجتہاد کے بطلان کی دلیل نہ بنایا جائے کیونکہ حالات نے ساتھ نہیں دیا۔
جواب: یہاں میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اصل مسئلہ ’’حالات کے ساتھ نہ دینے‘‘ کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ بیسویں صدی کے حالات کے تحت جو ہتھیار (یعنی جدید سیاسی جماعت، مغربی طرز کا دستور، پارلیمانی انتخابی حکمتِ عملی) تیار کیا گیا، وہ اکیسویں صدی کے یکسر مختلف سیاسی، سماجی اور تکنیکی منظرنامے میں اسی تاثیر سے کارگر نہیں رہ سکتا جس کی توقع کی گئی تھی۔ بیسویں صدی کی بندوق سے اکیسویں صدی کی جنگ نہیں لڑی جاسکتی — یہ استعارہ اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ کسی اجتہاد کی معقولیت اپنے دور میں مسلّم ہونے کے باوجود، بدلے ہوئے حالات میں اسی شکل میں باقی رکھنا خود اجتہاد کی روح کے خلاف ہے۔ اجتہاد کی امانت یہ نہیں کہ ایک زمانے کے اجتہاد کو ابدی حیثیت دے دی جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہر دور اپنے حالات کے مطابق نیا اجتہاد کرے۔
۱۴۔ میرا اصل اختلاف:
یہ امر واضح رہے کہ میرا بنیادی اختلاف ’’اقامتِ دین‘‘ کے مقصد سے نہیں۔ یہ ایک قرآنی، مسلّم اور بلند مقصد ہے جس سے کسی صاحبِ ایمان کو انکار نہیں ہوسکتا۔ اختلاف اس مخصوص تصور اور معاصر منہج سے ہے جس نے اس عظیم مقصد کو ایک محدود، جماعتی، سیاسی و انتخابی سانچے میں ڈھال کر، غیر ارادی طور پر، خود اسی تفرقے کی ایک صورت پیدا کردی جس سے قرآن نے منع فرمایا ہے۔(جاری ہے)
اقامتِ دین سے سیاسی فرقے تک کا سفر: اجتہاد برائے قیامِ جماعت ،ایک تدریجی سفراور منہجِ اقامتِ دین کا تنقیہی جائزہ:قسط 4/4تحریر:ڈاکٹر محمدغیاث
(پروفیسر ڈاکٹر محمد امین، وقاص خان صاحب اور ڈاکٹر محمد غیاث کے مابین ایک جاری علمی مکالمے کا پس منظر اور پیش منظر)
حصہ چہارم: وقاص خان صاحب کے سامنے چند بنیادی سوالات:
نہایت ا حترام اور خیرخواہی کے ساتھ، درج ذیل سوالات علمی مکالمے کے تسلسل کے لیے پیش کیے جاتے ہیں:
۱۔ اگر موجودہ جماعتی و سیاسی منہج درست اور قرآن کے تقاضے کا بہترین عملی اظہار ہے، تو اس کی دعوتی، فکری اور سیاسی سمت مسلسل کمزور کیوں ہورہی ہے،جن اعمال کو سیکولر کہا جارہا تھا وہ ساری چیزیں اب کس بنیاد پرعین اسلام کے مطابق ہوگئیں؟یاد رہے میں اس کی مادی ناکامی پر سوال نہیں اٹھا رہا ہوں۔
۲۔مولانا کے دور میں ثواب دارین کے حصول کے لئے کئی مذہبی جماعتیں موجود تھیں،تو کیا مولانا نے اس جماعت کوثواب دارین کے حصول کے لئے بنائی یا اس کا مقصد کوئی منفرد تھا،اگر کسی اجتہادی طریقے کے نتائج مطلوبہ مقاصد پیدا نہ ہو، تو کیا اس طریقے پر ازسرِ نو غور کرنا علمی دیانت نہیں،جس کا عملا تصور بھی ممکن نہیں ہے؟
۳۔ اگر بیسویں صدی کے مجتہدین کو ماضی کے برعکس اپنے زمانے کے حالات کے مطابق نیا سیاسی منہج اختیار کرنے کا حق تھا اور ان کے اس حق پر سوال اٹھانا مولانا کے نزدیک عملا درست نہیں سمجھا جاتا تھا، تو اکیسویں صدی کے اہلِ علم کو بیسویں صدی کے اس ناقابل عمل اور ناکام ماڈل کے مقابل میں نئے حالات کے مطابق متبادل منہج پر غور کرنے کا حق کیوں نہ ہوگا؟
۴۔ ایک مخصوص انتخابی و جماعتی طریقۂ کار کو کس بنیاد پر اسلامی نظام کے قیام کا واحد اور عین حق و حقیقی قابلِ قبول راستہ سمجھا جائے؟
۵۔ اگر کوئی دوسرا اہلِ علم متبادل منہج پیش کرے، تو اسے رد کرنے سے پہلے اس کے دلائل کا علمی جائزہ کیوں نہ لیا جائے؟
۶۔ کیا جماعت مقصد ہے یا وسیلہ؟ اور اگر وسیلہ ہے، تو کیا وسیلے کی حفاظت مقصد سے زیادہ اہم ہوسکتی ہے؟
۷۔ کیا کسی تاریخی اجتہاد سے وابستگی اس وقت بھی لازم رہتی ہے جب حالات، سیاسی ساخت اور اجتماعی ضروریات بنیادی طور پر تبدیل ہوچکی ہوں؟ جماعت کے ۸۵ سالہ جدوجہد کے نتائج نوشتہ دیوار نہیں ہے؟ کیا نتائج کے سوا اور کونسا طریقہ ہے جس کے ذریعے سے آپ کو بتایا جائے کہ آپ غلط راستے پر ہے؟
۸۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ ایک جماعت، اپنے قیام کے وقت نیک نیتی سے اقامتِ دین کے حصول کے لیے وجود میں آنے کے باوجود، وقت کے ساتھ خود ایک ایسی سیاسی و تنظیمی شناخت یعنی سیاسی فرقہ بن جائے جسے ﴿وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ﴾ کی روح سے ہم آہنگ کرنا مشکل ہو؟
خلاصۂ بحث:
اس پورے مکالمے کا محلِ نزاع دراصل ’’کیا جماعت بنانا جائز ہے؟‘‘ نہیں بلکہ یہ ہے کہ ’’کیا ایک مخصوص معاصر جماعتی منہج، اپنے تاریخی تجربے کی روشنی میں، اسی مقصد — اقامتِ دین — کی خدمت کرتا رہا جس کے لیے وہ وجود میں آیا تھا، یا وقت کے ساتھ خود مقصد اور وسیلے کے فرق کو دھندلا بیٹھا؟‘‘بنیادی فکری مغالطہ یہ ہے کہ ’’بدعت‘‘ کے خلاف دفاع کو ’’منہج کی درستی‘‘ کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جائے۔ جماعت سازی بدعت نہیں — اس پر اتفاق ممکن ہے۔ لیکن اس اتفاق سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ کوئی مخصوص جماعتی منہج، اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ، بذاتِ خود درست بھی ہے ۔اسی طرح جب کسی جماعت کامنہج غلط ثابت ہوا تواس کام یعنی جماعت سازی کی شرعی حیثیت(جو اجتہاد کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی) پر سوال اٹھاکر اس کو ایک منصوص دائرے میں رکھنے کی صورت کو علمی طور پر چیلنج کرنے میں کیا حرج ہے؟اور اس موضوع کو زیر بحث لانے کی بنیاد پر اس کو حکم الٰہی کے دائرے سےباہر مکالمے کے موضوع بنانے میں کیا حرج ہے؟لہذا یہاں منہج متعدی ہے،اصل کام کی طرف جو جماعت سازی ہے۔یعنی جماعت سازی کا غلط ہونا خود اس کےغلط سیکولر منہج نے ثابت کیا ہے،جو اب وہ خوش نما نعرہ اس کے ۱۹۵۷ میں اختیار کردہ طریقہ کار کی وجہ سے ایک سیاسی فرقے کی صورت میں موجود ہے۔
جماعت اور جماعتی منہج کا فرق، مقصد اور وسیلے کا فرق، اجتہاد اور نص کا فرق — یہ سب وہ امتیازات ہیں جن کے بغیر یہ بحث حقیقی نتیجے تک نہیں پہنچ سکتی۔ اور سب سے اہم یہ کہ بیسویں اور اکیسویں صدی کے حالات کا فرق ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اجتہاد ایک زندہ، متحرک اور از سرِ نو جائزے کا محتاج عمل ہے، نہ کہ ایک ایسا سرمایہ جسے ایک بار حاصل کرکے ابد تک محفوظ کرلیا جائے۔
میرا بنیادی موقف یہ ہے کہ اقامتِ دین کا قرآنی مقصد نہ کہ ایک مخصوص تصور، اپنی پوری وسعت اور عظمت کے ساتھ ہر دور کے اہلِ ایمان پر واجب ہے۔ لیکن جب اس وسیع مقصد کو ایک محدود جماعتی سانچے (سیاسی فرقے) سے اس قدر مشروط کردیا جائے کہ دونوں عملاً ایک ہی چیز بن جائیں، تو خطرہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ سبب کی تبدیلی کے ساتھ خود مقصد بھی معلق ہوجائے، اور امت کا وسیع تصور ایک تنگ جماعتی دائرے میں سمٹ کر رہ جائے — جو بعینہٖ اس تفرقے کی ایک صورت ہے جس سے قرآن نے خبردار فرمایا۔
یہ گفتگو کسی کی شکست یا فتح کے لیے نہیں، بلکہ اس امید کے ساتھ آگے بڑھائی جارہی ہے کہ امتِ مسلمہ، اپنی صفوں میں ہونے والے مخلصانہ اختلافات کو، تعصب کے بجائے تدبر کے ساتھ برتنا سیکھے، اور اقامتِ دین کے حقیقی، وسیع اور ہمہ گیر تصور کو کسی ایک تنظیمی شکل کی قید سے آزاد رکھتے ہوئے، عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق از سرِ نو زندہ کرے۔ یہ مکالمہ یہاں ختم نہیں ہوتا،یہ ایک زیادہ سنجیدہ، وسیع اور تعمیری علمی گفتگو کی طرف دعوت ہے۔برائے مزید مطالعہ: تین اہم ماخذ سامنے رکھے جا سکتے ہیں:اتحادِ امت —مولانا گوہر رحمنؒ،دعوتی اورانتخابی مخمصہ(جماعت اسلامی کی حکمت عملی،تجزیہ و تجویز ذمہ داران جمات کے مطالعے کے لئے"—ڈاکٹر اختر حسین عزمی ،مقالاتِ اصلاحی —مولانا امین احسن اصلاحیؒ۔

Address

Peshawar Rd، Near Hajj Complex،, I-14
Islamabad
46000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Muhammad Ghayas posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Muhammad Ghayas:

Shortcuts

Share

Category