MNHC Devi gujar khan Rawalpindi

MNHC Devi gujar khan Rawalpindi Doctors life

الحمدللہ! ❤️الحمدللہ، میریم نواز ہیلتھ کلینک (MNHC) دیوی میں 100 کامیاب نارمل ڈلیوریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ اس کامیابی پر ڈپ...
17/07/2026

الحمدللہ! ❤️

الحمدللہ، میریم نواز ہیلتھ کلینک (MNHC) دیوی میں 100 کامیاب نارمل ڈلیوریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ اس کامیابی پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، گوجر خان کی جانب سے تعریفی خط (Appreciation Letter) موصول ہوا، جس پر ہم اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ادا کرتے ہیں۔

یہ کامیابی ہماری پوری ٹیم کی محنت، لگن اور علاقے کے عوام کے اعتماد کا نتیجہ ہے۔ تقریباً 20 سال بعد اس مرکز میں دوبارہ محفوظ نارمل ڈلیوری کی سہولت بحال ہوئی، اور الحمدللہ اب تک 100 ماؤں نے محفوظ نارمل ڈلیوری کے ذریعے اپنے بچوں کو جنم دیا ہے۔

🌸 ہر شادی شدہ جوڑے کے لیے ایک اہم پیغام

اگر آپ بچے کی پلاننگ کر رہے ہیں تو حمل ٹھہرنے سے پہلے ہی فولک ایسڈ روزانہ لینا شروع کریں۔

حمل ٹھہرنے کے بعد:

پہلے 3 ماہ: روزانہ فولک ایسڈ استعمال کریں۔

اس کے بعد بچے کی پیدائش تک: روزانہ آئرن اور فولک ایسڈ استعمال کریں۔

اگر خون کی کمی (انیمیا) ہو تو ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق آئرن کی مقدار بڑھائی جاتی ہے۔

بچے کی پیدائش کے بعد بھی کم از کم 3 ماہ تک آئرن اور فولک ایسڈ ضرور استعمال کریں۔

یہ دوائیں کیوں ضروری ہیں؟

ماں میں خون کی کمی سے بچاتی ہیں۔

کمزوری، چکر اور تھکن کو کم کرتی ہیں۔

بچے کی دماغی اور جسمانی نشوونما میں مدد دیتی ہیں۔

کم وزن اور قبل از وقت پیدائش کے خطرے کو کم کرتی ہیں۔

جیسے ہی حمل کا علم ہو، فوراً اپنے قریبی مریم نواز ہیلتھ کلینک یا سرکاری صحت مرکز سے رجوع کریں اور مفت معائنہ، آئرن، فولک ایسڈ اور دیگر ضروری ادویات لینا شروع کریں۔ حمل کے دوران باقاعدہ چیک اپ کروائیں اور خون کی کمی ہرگز نہ ہونے دیں۔

Health Manager: Dr Ahmad Leghari
MNHC Devi, Gujar Khan, Rawalpindi

مریم نواز ہیلتھ کلینک، بیول کے لیے اسٹاف درکار ہے۔دلچسپی رکھنے والے امیدوار اپنی CV اشتہار میں دیے گئے رابطہ نمبر پر واٹ...
06/07/2026

مریم نواز ہیلتھ کلینک، بیول کے لیے اسٹاف درکار ہے۔

دلچسپی رکھنے والے امیدوار اپنی CV اشتہار میں دیے گئے رابطہ نمبر پر واٹس ایپ کر دیں۔

شکریہ۔

Job opportunity Lhv/cmw Dispenser At meryam nawaz health clanic Syed kisraan gujar khan Rawalpindi
03/07/2026

Job opportunity
Lhv/cmw
Dispenser
At meryam nawaz health clanic Syed kisraan gujar khan Rawalpindi

ہر مشکل ڈلیوری ڈاکٹر کی غفلت نہیں ہوتی... حقیقت جاننا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔الحمدللہ! جون 2026 کے دوران مریم نواز ہیلتھ ...
03/07/2026

ہر مشکل ڈلیوری ڈاکٹر کی غفلت نہیں ہوتی... حقیقت جاننا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

الحمدللہ! جون 2026 کے دوران مریم نواز ہیلتھ کلینکس، گوجر خان میں 196 کامیاب نارمل ڈلیوریاں ہوئیں۔ یہ ان ڈاکٹرز، سٹاف نرسز اور مڈوائفز کی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہے جنہیں حکومتِ پنجاب نے باقاعدہ تربیت اور قابلیت کی بنیاد پر تعینات کیا ہے۔ اس نظام سے پہلے انہی میں سے تقریباً 90 فیصد نارمل ڈلیوریاں نجی ہسپتالوں میں ہوتی تھیں۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جب بھی کوئی IUFD (رحمِ مادر میں بچے کی وفات) یا Stillbirth (مردہ پیدائش) کا واقعہ پیش آتا ہے تو اکثر بغیر حقائق جانے فوراً یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ "ڈاکٹر کی غفلت تھی"۔ حقیقت یہ ہے کہ طب میں ہر ناخوشگوار نتیجہ غفلت کی وجہ سے نہیں ہوتا۔

طبی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اوسطاً ہر 100 پیدائشوں میں تقریباً 3 سے 4 بچوں کی مردہ پیدائش (Stillbirth) ہو سکتی ہے۔ ان میں سے بہت سے کیسز ایسی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں جنہیں بروقت علاج کے باوجود بھی ہمیشہ روکا نہیں جا سکتا۔

ان پیچیدگیوں میں Cord Prolapse (نال کا بچے سے پہلے باہر آ جانا)، Placental Abruption (نال کا وقت سے پہلے الگ ہو جانا)، شدید پری ایکلیمپسیا، رحم کا پھٹ جانا (Uterine Rupture)، بچے کی اچانک دل کی دھڑکن بند ہو جانا، شدید انفیکشن، قبل از وقت پیدائش، پیدائشی نقائص (Congenital Anomalies)، اور بعض موروثی بیماریاں شامل ہیں۔ بعض اوقات تمام احتیاط، بروقت علاج اور بہترین طبی سہولیات کے باوجود بھی قدرت ایسے امتحان لے آتی ہے جس پر کسی انسان کا اختیار نہیں ہوتا۔

یقیناً اگر کسی جگہ واقعی غفلت ثابت ہو تو قانون اور محکمۂ صحت کے مطابق مکمل کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن بغیر تحقیقات کے ڈاکٹرز اور طبی عملے پر الزامات لگانا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ان لوگوں کی حوصلہ شکنی بھی ہے جو دن رات ماؤں اور نومولود بچوں کی جان بچانے کے لیے اپنی پوری صلاحیت سے کام کر رہے ہیں۔

آئیے طبی حقائق کو سمجھیں، افواہوں سے گریز کریں، اور حاملہ خواتین کی بروقت رجسٹریشن، باقاعدہ چیک اپ اور تربیت یافتہ طبی عملے کی نگرانی میں محفوظ زچگی کو فروغ دیں۔ ایک باشعور معاشرہ ہی ماں اور بچے دونوں کی بہتر حفاظت کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر احمد لغاری
Health Manager
Maryam Nawaz Health Clinic (MNHC), Devi, Gujar Khan, Rawalpindi

قد نہیں بڑھ رہا تھا… مگر میری سوچ ضرور بڑھ گئی! 😄آج او پی ڈی میں ایک دلچسپ واقعہ ہوا۔دروازہ کھلتے ہی ایک اماں جی دور سے ...
30/06/2026

قد نہیں بڑھ رہا تھا… مگر میری سوچ ضرور بڑھ گئی! 😄

آج او پی ڈی میں ایک دلچسپ واقعہ ہوا۔

دروازہ کھلتے ہی ایک اماں جی دور سے آواز لگاتے ہوئے آئیں:

"ڈاکٹر صاحب! پہلے والے مریض کو جلدی فارغ کریں، میرے بچے کو دیکھ لیں، پھر اس نے پیپر دینے جانا ہے۔"

میں نے دل ہی دل میں سوچا، یا اللہ خیر! شاید بچہ واقعی کسی ایمرجنسی میں ہے، تبھی تو امتحان والے دن اسپتال لے آئی ہیں۔ ویسے بھی ان دنوں پنجاب میں ایف ایس سی فرسٹ ایئر کے امتحانات چل رہے ہیں، جو طالب علموں کی زندگی کا ایک اہم مرحلہ ہوتے ہیں۔

میں نے جلدی جلدی پہلے مریضوں کو فارغ کیا اور بچے کو سامنے بٹھایا۔

میں نے پوچھا:
"جی اماں جی، کیا مسئلہ ہے؟"

بڑے اطمینان سے بولیں:

"ڈاکٹر صاحب... اس کا قد نہیں بڑھ رہا۔"

میں نے ایک لمحے کے لیے اماں جی کو دیکھا، پھر بچے کو، پھر گھڑی کو...

دل میں آیا کہوں، اماں جی! یہ ایسی کون سی ایمرجنسی تھی جو پیپر والے دن ہی یاد آئی؟ 😄

میں نے پوچھا:
"آج امتحان ہے نا؟"

بولیں:
"جی، شام کو ہے۔"

میں نے کہا:
"تو اسے گھر جا کر پڑھنے دیں۔"

فوراً بولیں:

"نہیں نہیں ڈاکٹر صاحب، میں تو خود اسپتال آ رہی تھی، سوچا اسے بھی ساتھ لے آؤں، ویسے ہی دکھا دوں۔" 😂

ایسے واقعات ڈاکٹر کی مصروف زندگی میں بے اختیار مسکراہٹ بکھیر دیتے ہیں۔

لیکن اسی لمحے مجھے اپنا زمانہ یاد آگیا...

میں تو میٹرک سے ہی ہوسٹل میں تھا۔ ایف ایس سی کے بعد میڈیکل کالج کے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کر رہا تھا۔ امتحان میں شاید صرف دس، گیارہ دن باقی تھے کہ میری دادی اماں کا انتقال ہوگیا۔

غم تو بہت تھا، لیکن دل کے کسی کونے میں یہ بھی تھا کہ چلو... چند دن کے لیے گھر جانے کا موقع مل جائے گا۔ ہوسٹل کی زندگی، مسلسل پڑھائی، گھر کی یاد اور ڈی جی خان کی گرمی... سب سے تھوڑی دیر کی ہی سہی، مگر چھٹی مل جائے گی۔

میں نے بڑے بھائی کو فون کیا اور کہا:

"میں گھر آ رہا ہوں۔"

ادھر سے فوراً جواب آیا:

"تمہاری زندگی کا سب سے اہم امتحان صرف چند دن بعد ہے۔ اگر تم جنازے پر نہ بھی آئے تو کوئی ناراض نہیں ہوگا، نہ جنازہ رکے گا، نہ فاتحہ۔ خاموشی سے کمرے میں بیٹھو، کتاب کھولو اور صرف اپنے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرو۔"

اس وقت ان کی بات بہت سخت لگی تھی...

لیکن آج، ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے روز سینکڑوں بچوں اور والدین کو دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ بعض اوقات مستقبل کے لیے وقتی جذبات پر قابو پانا ہی سب سے بڑا فیصلہ ہوتا ہے۔

آج کچھ والدین امتحان والے دن بھی بچوں کو ایسے کاموں میں مصروف رکھتے ہیں جو چند دن بعد بھی ہو سکتے ہیں، جبکہ کچھ والدین اور بڑے بہن بھائی اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اپنے جذبات تک قربان کر دیتے ہیں۔

وقت گزر جاتا ہے...

مگر بڑے لوگوں کی بعض سخت باتوں کی اصل مٹھاس بہت بعد میں سمجھ آتی ہے۔

25/06/2026

تباہ تھیوے، تباہ تھیوے جِہندا محمدؐ دی آل دے نال ویر ہووے
ساڈا پیو ماں دی دین بچ گئے، علیؑ دے پتراں دی خیر ہووے!

الحمدللہ! ایک اور سنگِ میل کی جانب سفر...ضلع راولپنڈی، تحصیل گوجرخان، مریم نواز ہیلتھ کلینک دیوی کی تعمیراتی سرگرمیاں تی...
24/06/2026

الحمدللہ! ایک اور سنگِ میل کی جانب سفر...

ضلع راولپنڈی، تحصیل گوجرخان، مریم نواز ہیلتھ کلینک دیوی کی تعمیراتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ ان شاء اللہ آئندہ 2 تا 3 ماہ میں یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا اور علاقے کے عوام کو معیاری، بروقت اور بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تیار ہوگا۔

یہ منصوبہ حکومتِ پنجاب کے صحت عامہ کے وژن کی عملی تعبیر ہے، جس کا مقصد بنیادی طبی سہولیات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔

بطور ہیلتھ منیجر، ڈاکٹر احمد لغاری اس منصوبے کی پیش رفت کو دیکھ کر بے حد خوشی اور اطمینان محسوس کر رہا ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو کامیاب فرمائے اور اسے علاقے کے لوگوں کے لیے صحت، سہولت اور امید کا ذریعہ بنائے۔

آپ سب کی دعاؤں اور نیک تمناؤں کے طلبگار ہیں۔

🏥✨

"ڈاکٹر صاحب، بزرگاں واسطے کھانسی آلی شربت دے دیو..." 😄آج ایک مریض آیا اور آتے ہی بولا:"ڈاکٹر صاحب، کھانسی والی شربت لکھ ...
23/06/2026

"ڈاکٹر صاحب، بزرگاں واسطے کھانسی آلی شربت دے دیو..." 😄

آج ایک مریض آیا اور آتے ہی بولا:
"ڈاکٹر صاحب، کھانسی والی شربت لکھ دیں۔"

معائنہ کیا، سینہ بالکل صاف، نہ کھانسی، نہ ویز، نہ کوئی اور مسئلہ۔ میں نے الرجی کی دوا لکھ دی۔

کچھ دیر بعد صاحب دوبارہ تشریف لے آئے:
"ڈاکٹر صاحب، کھانسی والی شربت تو رہ گئی!"

میں نے پیار سے بٹھایا اور کہا:
"سچ سچ بتاؤ، شربت کیوں چاہیے؟"

کہنے لگا:
"وہ اصل میں گھر ایک بزرگ کے لیے چاہیے تھی..." 😂

ایسے نمونے روز آتے ہیں۔
کبھی بچے کے لیے ویز والی شربت چاہیے ہوتی ہے تو خود مریض بن کر آ جاتے ہیں، کبھی کسی اور کے لیے دوا چاہیے ہوتی ہے۔

بھائیو! ہم صرف بیماریوں کی کتابیں نہیں پڑھتے، اس کرسی تک پہنچنے میں برسوں لگتے ہیں۔ مریض دروازے سے اندر داخل ہوتا ہے تو اکثر اندازہ ہو جاتا ہے کہ واقعی بیمار ہے یا صرف شربت کا انتظام کرنے آیا ہے۔ 😄

اور ایک بات یاد رکھیں:
اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ سامنے بیٹھے ڈاکٹر کو چکمہ دے لیں گے تو یہ کام اتنا آسان نہیں۔ ڈاکٹر کو اپنی "پسندیدہ دوا" مت بتائیں، اپنا مسئلہ بتائیں۔ پھر اسے فیصلہ کرنے دیں کہ آپ کو گولی چاہیے، شربت چاہیے، انجیکشن چاہیے یا صرف تسلی کی دو باتیں۔

کیونکہ بعض اوقات مریض کو دوا سے زیادہ شربت کی خواہش ہوتی ہے... اور بعض اوقات شربت گھر کے کسی اور فرد کو! 😅

لہٰذا ڈاکٹر کے پاس آئیں تو بیماری بتائیں، میڈیکل اسٹور کی شاپنگ لسٹ نہیں۔ 😄

11/04/2026

ایک چیز نوٹ کی ہے آپ لوگوں نے ؟
جب سے جنگ سٹارٹ ہے پاکستان میں بی ایل اے ٹی ٹی پی کوئی دہشت گردی حملے نہیں ہو رہے
یہی بات ایک دوست سے پوچھا کہتا ہے حملے کروانے والے فلحال مذکرات میں مصروف ہیں ۔
سندھ طاس معاہدہ بحال کروایا ؟
کشمیر کا مسلہ حل کیا ؟
بڑے ہے مذکرات کرانے والے کباب میں ہڈی

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MNHC Devi gujar khan Rawalpindi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category