03/07/2026
ہر مشکل ڈلیوری ڈاکٹر کی غفلت نہیں ہوتی... حقیقت جاننا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
الحمدللہ! جون 2026 کے دوران مریم نواز ہیلتھ کلینکس، گوجر خان میں 196 کامیاب نارمل ڈلیوریاں ہوئیں۔ یہ ان ڈاکٹرز، سٹاف نرسز اور مڈوائفز کی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہے جنہیں حکومتِ پنجاب نے باقاعدہ تربیت اور قابلیت کی بنیاد پر تعینات کیا ہے۔ اس نظام سے پہلے انہی میں سے تقریباً 90 فیصد نارمل ڈلیوریاں نجی ہسپتالوں میں ہوتی تھیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جب بھی کوئی IUFD (رحمِ مادر میں بچے کی وفات) یا Stillbirth (مردہ پیدائش) کا واقعہ پیش آتا ہے تو اکثر بغیر حقائق جانے فوراً یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ "ڈاکٹر کی غفلت تھی"۔ حقیقت یہ ہے کہ طب میں ہر ناخوشگوار نتیجہ غفلت کی وجہ سے نہیں ہوتا۔
طبی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اوسطاً ہر 100 پیدائشوں میں تقریباً 3 سے 4 بچوں کی مردہ پیدائش (Stillbirth) ہو سکتی ہے۔ ان میں سے بہت سے کیسز ایسی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں جنہیں بروقت علاج کے باوجود بھی ہمیشہ روکا نہیں جا سکتا۔
ان پیچیدگیوں میں Cord Prolapse (نال کا بچے سے پہلے باہر آ جانا)، Placental Abruption (نال کا وقت سے پہلے الگ ہو جانا)، شدید پری ایکلیمپسیا، رحم کا پھٹ جانا (Uterine Rupture)، بچے کی اچانک دل کی دھڑکن بند ہو جانا، شدید انفیکشن، قبل از وقت پیدائش، پیدائشی نقائص (Congenital Anomalies)، اور بعض موروثی بیماریاں شامل ہیں۔ بعض اوقات تمام احتیاط، بروقت علاج اور بہترین طبی سہولیات کے باوجود بھی قدرت ایسے امتحان لے آتی ہے جس پر کسی انسان کا اختیار نہیں ہوتا۔
یقیناً اگر کسی جگہ واقعی غفلت ثابت ہو تو قانون اور محکمۂ صحت کے مطابق مکمل کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن بغیر تحقیقات کے ڈاکٹرز اور طبی عملے پر الزامات لگانا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ان لوگوں کی حوصلہ شکنی بھی ہے جو دن رات ماؤں اور نومولود بچوں کی جان بچانے کے لیے اپنی پوری صلاحیت سے کام کر رہے ہیں۔
آئیے طبی حقائق کو سمجھیں، افواہوں سے گریز کریں، اور حاملہ خواتین کی بروقت رجسٹریشن، باقاعدہ چیک اپ اور تربیت یافتہ طبی عملے کی نگرانی میں محفوظ زچگی کو فروغ دیں۔ ایک باشعور معاشرہ ہی ماں اور بچے دونوں کی بہتر حفاظت کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر احمد لغاری
Health Manager
Maryam Nawaz Health Clinic (MNHC), Devi, Gujar Khan, Rawalpindi